Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 20,21)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 20,21)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
شاہ جی وہ چھوٹے خان—میرا مطلب ارمغان خان آئیں ہیں—بہرام شاہ جو امتثال کے حویلی داخل ہونے کے بعد ڈیرے پر آکر حساب کتاب دیکھ رہا تھا ملازم کے پیغام دینے پر رجسٹر بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا
آنے والا شخص کوئی عام تو نہیں تھا—جس قدر وہ شرارتی تھا اس قدر ہی وہ سب کا لاڈلا تھا—نجانے کیا کشش تھی اس مغرور شہزادے میں کہ سب اس کی جانب کھینچے چلے آتے تھے—اس کی شرارتی آنکھوں کی چمک اور چہرے کی معصومیت کسی کا بھی دل موم کر سکتی تھی—اور اپنی اس خوبی سے وہ باخوبی واقف تھا اور اس کا بھرپور فایدہ اٹھاتے وہ حویلی والوں کے ساتھ ساتھ گاؤں والوں کو بیوقوف بنا جاتا تھا— جبکہ کبھی ضرغام اور کبھی عائث اس کی معصوم شکل دیکھتے اس کی ہر ضد پوری کر دیتے تھے–—دشمنی کی دیوار کھڑی ہونے کے باجود بھی ان کا دل چھوٹے خان کے لیے اتنا ہی نرم تھا جتنا کہ اس ننھے سے وجود کو پہلی بار ہاتھوں میں لیتے وقت تھا—اور اب تو بہرام شاہ کو چھوٹا خان پہلے سے اور عزیز تر ہو گیا تھا—
بہرام شاہ کمرے سے نکل کر باہر گیٹ کی طرف آیا تھا ارمغان خان کو سفید شلوار کے ساتھ نیلا کرتا جس کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا تھا پہنے—آنکھوں پر سن گلاسز لگائے —جیپ کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے دیکھ ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“شکر ہے میری قسمت میں شرارتی مگر معصوم سالا لکھا ہے— ورنہ حدائق شاہ کو دیکھتے تو مجھے اس کے حال پر ترس ہی آتا ہے”— ارمغان خان کو اپنی جانب آتے دیکھ دل ہی دل میں شکر ادا کرتے ہوئے کہا اور قدم ارمغان خان کی جانب بڑھائے
“چھوٹے خان آج کیسے ہمارے غریب کھانے کو رونق بخشنے کا سوچ لیا”— ارمغان خان کو زور سے گلے لگاتے—پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے مسکراتے لہجے میں کہا تو ارمغان خان کا مدھم قہقہہ فضا میں گونجا
“ایسا غریب کھانا اللہ سب کے نصیب میں کرے”— سن گلاسز اتار کر ہاتھ میں پکڑتے شوخ لہجے میں کہا تو ارمغان خان کی جواب پر بہرام شاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا
“آمین—تم مجھے بتا دیتے یار کہ آنے والے ہو—تو پھر میں خان کے لحاظ سے کھانے میں اچھا سا انتظام کر لیتا”—- ارمغان خان کے کندھے پر بازو پھیلاتے اندر کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا
“آپ محبت سے جو بھی کھلا دیں گے یہ خان اپنی خوش قسمتی سمجھ کر کھا لے گا”—سینے پر ہاتھ رکھتے تھوڑا جھکتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے محبت سے ارمغان خان کے کندھے پر تھپکی دیتے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
بیس منٹ میں کھانے کا انتظام کرو— اور دنبہ لازمی ہو اس میں— تب تک چائے پانی بھیجو”— ملازم کو کھانے کا کہتے—بہرام شاہ مکمل ارمغان خان کی جانب متوجہ ہوا—جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے– صوفے کی پشت پر بایاں بازو پھیلائے—جبکہ دوسرے ہاتھ سے موبائل میں مصروف تھا–
“اور کیسی جا رہی ہے تمہاری ڈیوٹی”— بہرام شاہ کے پوچھنے پر ارمغان خان نے مسکراتے موبائل سامنے ٹیبل پر رکھا
“کیسی ڈیوٹی— ظلم ہو رہا ہے مجھ معصوم پر—غلطی ان دونوں آدمیوں کی تھی کی رات کے پچھلے پہر بائیک لیے گاؤں کی گلیوں میں گھوم رہے تھے— اور چہرے بھی چھپائے ہوئے تھے—تو ہو گئی غلط فہمی مجھے اور لگا دی میں نے انہیں دو تین—وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ وہ پہرہ دے رہے تھے— اب پچھلے پندرہ دن سے ڈیرے اور کھیتوں پر ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے داجی نے میری”—- چہرے پر معصومیت سجائے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ کو اپنا قہقہہ ضبط کرنا مشکل ہو گیا
مہینہ پہلے گاؤں میں کافی چوریاں ہونا شروع ہوگئی تھیں—ان میں سے ایک شخص جس کی چوری ہوئی اس کا کہنا تھا کہ تین نقاب پوشوں نے اسے کھیتوں کی جناب گھیر لیا تھا—تو تب ضرغام نے رات کے وقت گاؤں کی گلیوں اور کھیتوں کی جانب پہرادادوں کو تعینات کیا تھا— جس کے بعد چوری جیسا واقع دوبارا نہیں ہوا
“جہاں تک مجھے معلوم پڑا تھا—وہ بائیک والے تمہارے ہی تعینات کیے گئے آدمی تھے—اور انہیں دو تین نہیں اتنی لگی تھی کہ وہ دو ہفتے ہاسپٹل رہے تھے”— ہونٹوں پر مٹھی رکھ کر مسکراہٹ روکے سنجیدہ لہجے میں کہا تو ارمغان خان کی شکل ایسی ہوئی جیسے کڑوا بادام منہ میں ڈال لیا ہو
“ہاں تھے—لیکن اب بندے کو شکلیں بھول بھی تو جاتی ہیں—اور ویسے بھی میں نے بتایا نا انہوں نے منہ چھپائے ہوئے تھے—غصے اور اندھیرے میں کیا پتہ لگتا کہ کتنی لگ رہی — انہیں چھوڑیں یہ بتائیں کہ آپ آج کل زیادہ مصروف نہیں ہوگئے—میں پہلے بھی آیا تھا تب آپ شہر گئے ہوئے تھے—سب خیریت”—- وہ لڑنے جھگڑنے کہ بہانے ڈھونڈتا تھا مگر اتنا بھی ظالم نہیں تھا کہ اپنے شوق پیچھے کسی غریب کو ہاسپٹل پہنچا دے—ان دو آدمیوں نے کھیتوں میں کام کرتی عورت کے ساتھ بدتمیزی کی تھی—جس پر وہ عورت ڈیرے پر ارمغان خان کے پاس شکایت لے کر آئی تھی—اور گزارش کی تھی کہ یہ بات وہ کسی کو نا بتائے ورنہ اس کی بدنامی ہوگی— کیونکہ گاؤں میں ایسی باتوں کا بتنگڑ بنتے دیر نہیں لگتی تھی— اسی لیے ارمغان خان نے رات پہرہ دیتے وقت ان کی اچھی خاصی طبیعیت صاف کی تھی
انہیں چوروں پر نظر رکھنے کی زمہ داری دی گئی تھی مگر وہ تو عزتوں کے لٹیرے بننے جا رہے تھے—
“ہاں وہ چھوٹی نے شادی کے لیے ہاں کر دی ہے تو اسی سلسلے میں—لڑکا دور خاندان میں جاننے والوں میں ہی سے ہے—ایک سال پہلے بات چلی تھی تو میں نے لڑکے کے بارے میں انفارمیشن نکلوائی تھی لیکن وہ سال پہلے کی بات – یہاں سیکنڈز میں دنیا بدل جائے انسان بدلنے میں کونسا دیر لگتی—بس معلومات مل جائے تو نکاح کی رسم ہوگی”—– نظریں ارمغان خان کے چہرے پر ٹکائے سادہ لہجے میں بتایا مگر اپنی بات پر ارمغان خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ ابھی بہرام شاہ کچھ کہتا کہ موبائل پر میسج کی نوٹیفکیشن کی جانب متوجہ ہوگیا
جبکہ سلویٰ شاہ کی ہاں کے بارے میں سنتے ارمغان خان کو اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہوا— چہرہ غصے کی زیادتی کے باعث پل میں خون چھلکانے والا ہو گیا—
لاکھ کوشش کے باوجود بھی جب وہ خود پر ضبط نا کر پایا تو جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتے آنکھوں پر گلاسسز لگائے کہ بہرام شاہ ان آنکھوں کی سرخی دیکھ دل کا حال نا جان جائے—ٹیبل سے اپنا فون اٹھاتے وہ جھٹکے سے وہاں سے نکلنے کے لیے مڑا تھا
“کیا ہوا چھوٹے خان—یار بیٹھو تو صحیح کچھ دیر— کھانا آنے والا ہوگا”— ارمغان خان کو اٹھتے اور باہر کی جانب بڑھتے دیکھ بہرام شاہ نے موبائل رکھتے جلدی سے اس کی جانب بڑھتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے مٹھیاں بھنچتے گہری سانس لیتے خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کی
“لالا وہ ایک کام یاد آگیا—ضرغام لالا بھابھی کے ساتھ گئے ہوئے ہیں—اگر میں نے بھی کام نا کیا تو دیر ہو جائے گی— اور میں نہیں چاہتا دیر ہو”—- بہرام شاہ کو گلے لگاتے پراسرار لہجے میں کہتا بنا بہرام شاہ کی ایک بھی سنے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ بہرام شاہ نے پرسوچ نظروں سے دھول اڑاتی دور جاتی ارمغان خان کی جیپ کو دیکھا— گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے پلٹ کر قدم اندر کی جانب بڑھائے
“سالا اور بیوی دونوں ہی جذباتی ہیں”— منہ میں بڑبڑاتے صوفے پر ڈھے کر آنکھیں موند لیں—
________________
“اگر یہ بات یہاں سے باہر گئی کہ میں یہاں آیا تھا—یقین مانو جہاں نظر آئے وہی زندہ دفن کر دوں گا”—- جیپ کو سکول کی پچھلی گلی کے قریب روکتے—گارڈز کو سخت لہجے میں باور کرواتے— قدم سکول کے پیچھے بنے گراؤنڈ کی جانب بڑھائے
گراؤنڈ میں داخل ہو کر اردگرد نگاہ دوڑائی تو دور دور تک وہاں کوئی نہیں تھا—
کچھ قدم پیچھے ہو کر بھاگ کر جمپ لگاتے دیوار پھلانگتے وہ سکول میں داخل ہو چکا تھا
وہ گیٹ کی جانب سے اس لیے نہیں آیا کیونکہ وہاں کھڑے گارڈز بہرام شاہ کے وفادار تھے— دوسروں کو تو ڈرا دھمکا کر وہ چپ کر واسکتا تھا لیکن ان کے بارے میں جانتا تھا کہ وہ بہرام شاہ سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گے وہ اسے ضرور بتا دیں گے کہ ارمغان خان کو سکول آیا تھا—
لڑکیوں کے سکول میں اس کا کیا کام ہو سکتا تھا—وہ کوئی بہانہ بھی نہیں بنا سکتا تھا—
____________
ویسے تو سکول سے دو بجے چھٹی ہو جاتی تھی— لیکن اب بچوں کے مڈز ہونے والے تھے—تو بہت سارا کام تھا
جسے وہ حویلی لے جانے کی بجائے یہی ختم کر کہ جاتی تھی— کیونکہ ثمرین بیگم کا کہنا تھا کہ وہ سکول کا کام وہی ختم کر کہ آیا کرے— اور پھر حویلی جا کر اس کا ویسے بھی کام کرنے کا دل نہیں کرتا تھا—
اور اب ساڑھے تین کا وقت ہو رہا تھا—اور وہ آفس میں بیٹھی پیپرز کا شیڈول بنا رہی تھی کہ تبھی دھاڑ سے دروازا کھلنے پر اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑی ہوئی
نظریں سامنے اٹھی تو اپنے سامنے سرخ خون چھلکاتی آنکھوں سے خود کو قہر بھری نظروں سے گھورتے ارمغان خان کو دیکھتے دھک سے رہ گئی
غصے کی زیادتی سے پھولی سانسیں اور پٹھانی نقوش میں گھلی سرخی دیکھ سلویٰ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
سفید کلیوں والی فراک کے ساتھ گلابی دوپٹہ گلے میں پہنے— براؤن گھنے بالوں کو چٹیاں میں قید کیے جس کی آوارہ لٹیں چہرے کے گرد ہالہ کیے ہوئے تھیں—گرے آنکھوں میں خوف اور بے یقینی لیے وہ اپنے سامنے آتش فشاں بنے ارمغان خان کو دیکھتی پل کے لیے ساکت ہوئی تھی
“یی—یہ کک—کیا بدتمیزی ہے تم اندر کیسے ائے—دروازہ کیوں بند کر رہے ہو”—– ارمغان خان کو آفس کا دروازہ لاک کرتے دیکھ سلویٰ نے چلاتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے پلٹ کر قہر بھری نظروں سے سلویٰ شاہ کو دیکھا کہ سلویٰ کو ارمغان خان کی نظریں اپنے وجود سے آر پار ہوتی محسوس ہوئی
“تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی تھی سلویٰ شاہ— کہا بھی تھا کہ ایسا کچھ مت کرنا—تو پھر ہمت کیسے ہوئی تمہاری”—- دروازے سے آگے کچھ فاصلے پر پڑی چئیر کو اٹھاتے شیشے کے ٹیبل پر مارتے دھاڑتے ہوئے کہا تو آفس کی فضا میں دھماکے سی آواز گونجی جس میں سلویٰ شاہ کی چیخیں دب کر رہ گئیں
ہونٹوں پر ہاتھ رکھے— گرے آنکھوں میں آنسو لیے سلویٰ نے بے ساختہ قدم پیچھے لیے جبکہ ارمغان خان پل میں آفس کا نوشہ بگاڑ چکا تھا—
چئیر کو اٹھا کر دیواروں میں مارتا— شیلف پر سجی ٹرافیز کو نیچے گراتا سلویٰ کے اوسان خطا کر چکا تھا—
کانوں پر ہاتھ رکھتی دیوار سے ٹیک لگائے وہ پھٹی آنکھوں سے ارمغان خان کے جنونی روپ کو دیکھتی وہی بیٹھتی چلی گئی
جب توڑنے کے لیے کچھ نا بچا تو دیوار پر پوری شدت سے مکہ مارتے پلٹ کر خون آشام نظروں سے سلویٰ شاہ کو دیکھا—
جس پر سلویٰ شاہ کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی— وہ بدلہ لینے کے چکر میں خان کو چھیڑ تو چکی تھی—مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس سرے پھرے شخص سے الجھنے جا رہی ہے—اب زخمی شیر کی طرح دھاڑتے اور سب تباہ کرتے دیکھ سلویٰ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا—اسے کب یہ امید تھی کہ وہ اس طرح سامنے اجائے گا—وہ تو بس اسے تنگ کر رہی تھی—لیکن وہ تو جان لینے کے در پر آگیا تھا—جتنی بہادری تھی وہ ارمغان خان کی خون چھلکاتی آنکھیں دیکھ کر ہی ہوا ہو چکی تھی—
لمبے لمبے ڈنگ بھرتا کانچ کے ٹکروں کو پاؤں تلے روندتا وہ پل میں آتش فشاں بنا ٹیبل کے دوسری جانب سلویٰ شاہ کے سر پر آن پہنچا جسے محسوس کرتے سلویٰ شاہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں
مگر وہ جو اس وقت غصے میں پاگل ہو رہا تھا—اپنی محبت— سامنے والے کی خوبصورت معصوم صورت دیکھ کر بھی سنگ دل بنتا جھک کر سلویٰ شاہ کی گردن اپنی آہنی گرفت میں لیتا—جبکہ دوسرے دوسرے ہاتھ سے بازو کو دبوچے جھٹکے میں اپنے روبرو کھڑا کر چکا تھا-
“ہاں کیسے کی سلوی شاہ— کیسے کسی دوسرے کو مرد کو میری جگہ دینے کا سوچا”—- سلوی شاہ کی گردن پر دباؤ بڑھاتے— زخمی شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے کہا تو سلوی شاہ نے اپنی گردن چھڑواتے ہچکیوں سے روتے نفی میں سر ہلایا
“مم—مجھے تت-کلیف ہو رہی ہے سس—سانس نن—ہیں آ رہی ارم—غان پپ—پلیز”— بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپتے ارمغان خان کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹانے کی کوشش کرتے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا تو ارمغان خان نے گرفت سخت کرتے جھٹکے سے پلٹتے سلوی کو ٹیبل پر دھکا دیتے—اس کے سنبھلنے سے پہلے دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھتا سلویٰ شاہ پر جھک آیا
“تکلیف—تکلیف تو بہت چھوٹا سا لفظ ہے اس کے سامنے جو میں نے محسوس کیا ہے سلویٰ شاہ— اور یاد ہے نا میں نے کیا کہا تھا— محبوب آپ کا نا ہو تو خود کا بھی نہیں رہنا چاہئے”—- سلویٰ کے جبڑے کو ہاتھوں میں دبوچے پراسرار لہجے میں غراتے ہوئے کہا تو سلوی شاہ نے روتے ہوئے تڑپ کر ارمغان خان کو دیکھا
“نن—ہیں ارمغ—ان ایسا کک—کچھ نن—ہیں میری بات سنو”—- ارمغان خان کو پیچھے کی جانب دھکیلنے کی کوشش کرتے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہنے کی کوشش کی تو ارمغان خان نے اپنا ہاتھ سختی سے سلویٰ شاہ کے کپکپاتے ہونٹوں پر رکھ دیا
“ایک لفظ نہیں—ورنہ پل نہیں لگاؤں گا تمہاری جان لینے میں”— ہیزل ہنی خون چھلکاتی آنکھوں کو گرے آنسوؤں سے تر آنکھوں میں گاڑھتے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو سلویٰ شاہ کی آنکھوں سے لڑیوں کی مانند بہتے آنسو ارمغان خان کے ہاتھ پر ان ٹھہرے
“مجھے صرف اتنا جاننا ہے—میرے منع کرنے کے باوجود ہمت کیسے ہوئی کسی اور کے لیے ہاں کرنے کی— کیا سوچ کر ہاں کی تم نے سلوی شاہ”— دونوں بازوؤں سے تھام کر کھڑا کرتے—پلٹ کر دیوار سے پن کرتے دونوں ہاتھ اطراف میں رکھتے—سلوی کے چہرے پر جھکتے دبے ڈبے لہجے میں غرا کر کہا تو ارمغان خان کی دھاڑ سے سلویٰ کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے
آنسوؤں سے بھیگی خم دار پلکوں کی جھالر کو اٹھاتے بے بس نظروں سے خود پر جھکے ارمغان خان کو دیکھا جو سلویٰ کے دیکھنے پر چہرہ مزید قریب لے آیا تھا—کہ اب سلویٰ کو ارمغان خان کی غصے کی زیادتی سے تیز دہکتی سانسوں کی تپش اپنی سانسوں میں شامل ہوتی محسوس ہوئی تو سلویٰ نے چہرے کا رخ بدلنا چاہا جسے ارمغان خان ناکام بنا چکا تھا—
“یہ کبھی مت کرنا سلویٰ بی بی— اپنی غلطیوں میں کبھی غلطی سے بھی اس غلطی کو شامل نا کر لینا”— سلویٰ کے بالوں کو اپنی مٹھی میں دبوچے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو سلویٰ شاہ نے شکوہ کناہ نظروں سے ارمغان خان کو دیکھا
“تم مجھے تکلیف دے رہے ہو ارمغان خان— میں کبھی معاف نہیں کروں گی—اس کے لیے”— بھیگے لہجے میں چلا کر کہا تو ارمغان خان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
“یقین مانو اگر تم نے اگلے دو سیکنڈ میں میرے سوال کا جواب نہیں دیا تو میں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دینا کی ہر تکلیف سے آزاد کر دوں گا—اور قسم لے لو مجھے رتی برابر بھی افسوس نہیں ہوگا— تمہیں کسی اور ہوتا دیکھنے سے قبر میں اترتا دیکھنا میرے لیے کافی حد تک آسان ہوگا— اور پھر روز فجر کے بعد فاتحہ پڑھنے آیا کروں گا”—- انگھوٹے کے پوروں سے سلوی کے رخساروں سے آنسو چنتے سپاٹ لہجے میں کہا تو سلویٰ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی
“میں تمہیں تکلیف دینا چاہتی تھی—مم—مجھے پتہ تھا یہ بات تم تک پہنچے گی اور پھر تمہیں بھی وہی تکلیف ہوگی جو مجھے ہوئی تھی—تمہیں بھی پتہ چلے کہ محبوب کو کھو دینے کا احساس کس قدر جان لیوا ہوتا ہے”—- ارمغان خان کے کرتے کو مٹھیوں میں دبوچے چلاتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے اپنی جلتی آنکھوں کو پل کے لیے بند کر کہ کھول کر پھوٹ پھوٹ کر روتی سلویٰ شاہ کو دیکھا—
“تمہیں پتہ ہے اگر یہ بات تمہارے بھائی کی جگہ کوئی اور بتاتا تو ارمغان خان تمہارے پاس آنے سے پہلے اسے قبر میں اتار کر آتا”—- جذبات سے عاری لہجے میں کہتا وہ پل کے لیے سلوی شاہ کو ساکت کر گیا
“اپنے اس چھوٹے سے دماغ سے یہ غلط فہمی نکال دو کہ تم مجھے جیلس کرنے یا تکلیف دینے کے لیے ایسا کچھ کرو گی تو میں جلتا کرتا یا کمرے میں بیٹھا اس تکلیف پر روتا رہوں گا— تم نے آئندہ ایسا کیا تو میں اس دنیا کو آگ لگا دوں گا اور میری جان تمہیں اپنے ہاتھوں سے اس آگ میں جھونکوں گا— اندازہ تو تمہیں ویسے ہو گیا ہوگا”— آفس کی بکھری حالت کی طرف اشارہ کرتے قہقہہ لگا کر کہتا وہ سلویٰ کو کوئی جنونی ہی لگا
“اگر لوگ اس سر پھرا خان کہتے تو ٹھیک ہی کہتے تھے— وہ اس نام پر پورا اترتا تھا”
“تمہیں تو مجھ سے محبت ہے نا”— نظریں ارمغان خان کے خوبرو چہرے پر ٹکائے سپاٹ لہجے میں استفسار کیا تو ارمغان خان نے سنجیدہ نظروں سے سلویٰ شاہ کے چہرے کو دیکھا
اپنے ہاتھ دوبارا سے دیوار پر ٹکاتے گہری نظروں سے سلویٰ شاہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا—
“محبت— کس نے کہا مجھ تم سے محبت ہے—تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ ارمغان خان تم سے محبت کر سکتا ہے”—ارمغان خان کے کہنے پر سلویٰ نے حیرت سے اس کی آنکھوں میں دیکھا— اگر محبت نہیں تھی تو کیا وہ دشمنی کی وجہ سے یہ سب کر رہا تھا—
سلوی کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی—مگر ارمغان خان کے اگلے الفاظوں پر سلوی کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا
“جو ہر کوئی کر لے ارمغان خان وہ نہیں کرتا—محبت ارمغان خان کا معیار نہیں— تم جنون ہو ارمغان خان کا— عشق بن کر رگوں میں دوڑتی ہو— تمہاری ان کانچ سی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر میرا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے—اور جب تم ان ہونٹوں سے میرا نام لیتی ہو تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میرے کانوں میں رس گھول دیا گیا ہو— اور تمہارے وجود سے اٹھتی یہ خوشبو مجھے بہکنے پر مجبور کرتی ہے—تمہیں جب سے چھوا ہے تب سے میرا دل اس وجود کی نرماہٹوں میں جذب ہونے کے لیے پاگل ہو رہا ہے—تمہارا حسن مجھے اس قدر دیوانہ بنا رہا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دنیا کی ساری روایتوں کو توڑ کر تمہارے وجود کے پور پور کو اپنی محبت کی بارش سے بھگو کر مہکا دوں— تمہارے وجود پر اپنی جنونیت کی چھاپ اس طرح چھوڑوں کہ جسے دیکھ تمہیں میرے شدتیں کبھی نا بھولے–تمہارے قریب آؤ تو تم حیا سے مجھ میں سمٹتی جاؤ”—سرد لہجے میں کہتے لہجہ خود بی خود بوجھل ہوتا چلا گیا— گھمبیر لہجے میں سرگوشیاں کرتے وہ سلوی شاہ کی جان لبوں پر لے آیا تھا
“ارمغان پلیز— چپ کر جائیں—ورنہ میرا دل بند ہو جائے گا”— ارمغان خان کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے پیچھے کی جانب دھکا دیتے ہوئے کہا— تو ارمغان خان جو مدہوش سا آنکھیں بند کیے اپنے جذبات بتا رہا تھا اپنی بے اختیاری پر خجل ہوتا بالوں میں ہاتھ پھیرتے کچھ قدم کے فاصلے پر کھڑا ہو گیا
“جس طرح اس رشتے کے لیے حامی بھری ہیں نا اسی طرح اس رشتے سے انکار کرو گی”—- جزبات پر قابو پاتے سرد لہجے میں کہا تو سلویٰ شاہ نے نظریں اٹھا کر ارمغان خان کو دیکھا
وہ جو کچھ دیر پہلے اچھا خاصہ دھمکا چکا تھا اب اپنے اظہار کے بعد سلوی شاہ کو پھر سے شہہ دے چکا تھا
“مارنا ہے نا مار لو مگر میں انکار کسی صورت نہیں کروں گی”— ارمغان خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے آبرو آچکا کر کہا تو ارمغان خان نے جبڑے بھنچ کر خود پر قابو پایا
اتنا تو وہ جان گیا تھا کہ یہ بے خوفی اور ہمت کا مظاہرہ اس کی اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ہو رہا ہے—۔
تبھی الٹے قدم پیچھے ہوا تو سلوی نے نا سمجھی سے ارمغان خان کو دیکھا ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ ارمغان خان نے جھٹکے سے کمر پر بندھی پسٹل کو نکال کر اپنی کنپٹی پر رکھا جسے دیکھتے سلوی کے چہرے کی ہوائیاں پل میں آڑی تھی
“تم انکار نہیں کروں گی”—- آبرو آچکا کر سپاٹ لہجے میں کہا تو سلوی شاہ نے بے بسی سے اس سر پھرے شخص کو دیکھا—
ہیزل ہنی آنکھوں کو سلوی شاہ کی گرے آنکھوں میں گاڑھے ٹریگر پر دباؤ بڑھایا تو سلویٰ نے آگے بڑھتے ارمغان خان کے ہاتھوں سے پسٹل پکڑتے دور اچھالتے پوری شدت سے ارمغان خان کے گال پر تھپڑ رسید کیا تو آفس کی خاموش فضا میں ارمغان خان کا دلکش قہقہہ گونجا
“تم گھٹیا انسان— کبھی معاف نہیں کروں گی تمہاری اس گھٹیا حرکت کے لیے کبھی بھی نہیں سنا تم نے “— ہاتھوں میں سر گرائے زمین پر بیٹھتے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے کندھے آچکا کر معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے سلوی شاہ کو دیکھا
“تمہیں پتہ ہے ابادی میں روز بہ روز کیسے اضافہ ہو رہا ہے”— ارمغان خان کی بے تکی اور بے موقع بات پر سلوی شاہ نے حیرت سے سر اٹھا کر اپنے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ارمغان خان کو دیکھا— جو ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے شوخ نظروں سے سلوی کو دیکھ رہا تھا—
“یہاں بے بی پلینگ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی—روٹھنے منانے کے چکر میں ہی لائن لگ جاتی ہے—تم مجھے معاف نا کرنا—میں تمہیں مناتا رہوں گا— اور تمہارے ماننے کے چکر میں دیکھنا انشا اللہ ہماری بھی دو تین لائینز تو لگ ہی جائیں گی—اگر اللہ تمہیں زندگی دے تو ہم بعد میں پلینگ بھی کر لیں گے”— معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر کہتا سلوی کو اس وقت زہر سے بھی برا لگا تو ارمغان خان کی بکواس کا جواب دیے بغیر چہرے کا رخ بدلا تو ارمغان خان کی نظریں گلابی گالوں سے ہوتی دودھیاں گردن پر اپنی انگلیوں کے سرخ نشانات پر آئیں تو دل میں ملال بڑھا
“حویلی جاؤ— میرا ملازم یہ سب سیٹ کر دے گا—اینڈ”— سلوی کی کرسی سے چادر اٹھا کر لاتے سلوی کو بازو سے تھام کر اپنے روبرو کھڑے کرتے چادر اوڑھاتے نرم لہجے میں کہتے جملہ ادھورا چھوڑا تو سلوی نے شکوہ کناہ نظروں سے ارمغان خان کو دیکھا
“دوبارا ایسا مت کرنا سلویٰ—اس بار تو تم پر غصہ اتار لیا—کیونکہ محبت کا مان تھا—دوبارا ایسا کرو گی تو مجھے لگے گا تمہیں مجھ سے سچ میں محبت نہیں—میرے لفظوں احساسات کی کوئی اہمیت نہیں—پھر غصہ اتارنے شکوہ کرنے تمہارے پاس نہیں آؤ گا— بہت دور چلا جاؤں گا نا پلٹ کر آنے کے لیے”—- گردن پر موجود سرخ نشانوں پر ہاتھ کی پشت پھیرتے نظریں جھکائے سرگوشی نما لہجے میں کہتے بنا سلوی کو بولنے کا موقعہ دیے— سلوی کی کلائی تھامتے قدم باہر کی جانب بڑھا دیے
“ایم رئیلی سوری خان کی جان”—- آفس سے باہر نکلتے سلوی کو گیٹ سے کچھ فاصلے پر چھوڑتے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کرتا جھٹکے سے پلٹ کر دیوار پھلانگتا گراؤنڈ میں اتر گیا جبکہ سلوی شاہ نے بری طرح لب کچلتے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں سے بہتے سیال کو صاف کیا
_____________
حویلی میں اس وقت داجی اور پلوشہ کے علاؤہ کوئی نہیں تھا—سارے کام کاج کرنے کے بعد وہ بولائی بولائی سی حویلی میں پھر رہی تھی
داجی بھی دوپہر کا کھانا کھا کر سوچکے تھے—ضرغام اور عقیدت جنگل گئے تھے—ارمغان صبح سے کام کا کہہ کر نکلا ابھی تک نہیں لوٹا تھا— کشف اور مقدس بیگم کسی دوست سے ملنے گئیں ہوئیں تھیں اور امتثال تو شاپنگ ہر گئی تھی
اب حویلی میں اکیلے پاگلوں کی طرح پھرتے پلوشہ کو رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا کہ کیوں اس نے جانے سے انکار کیا
سیڑھیاں چڑھتے اپنے کمرے کی جانب جاتی وہ بس رو دینے کو تھی
بری طرح لب کچلتے— آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتے کمرے کے دروازے کے قریب پہنچ کر گہری سانس فضا کے سپرد کرتے سر جھٹک کر دروازہ کھولتے قدم اندر رکھے—
کمرے میں داخل ہوتے ہی نتھنوں سے جانی پہچانی خوشبو ٹکرائی تو پلوشہ نے چونک کر سر اٹھا کر اردگرد نگاہ دوڑائی
نگاہ دوڑاتے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کر کہ پلوشہ کو اپنا سانس سینے میں اٹکتا محسوس ہوا—درازاہ ہند ہونے کی آواز پر پلوشہ نے جھٹکے سے پلٹنا چاہا مگر پیچھے کھڑے وجود نے پھرتی سے آگے ہوتے پلوشہ کی بازوؤں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے—کمر پر اپنے ہاتھ میں قید کرتے دوسرا ہاتھ سختی سے پلوشہ خان کے ہونٹوں پر ثبت کیا تو اس قدر سخت گرفت پر پلوشہ خان بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ گئی
کچھ پل پہلے اپنے گرد پھیلی خوشبو کو محسوس کرتے دل دھڑک اٹھا تھا اب اس اچانک افتاد پر دہل گیا تھا— وہ سب کچھ بھلائے اپنی عزت کے کھو جانے کے احساس سے تڑپ اٹھی تھی
نیلی موٹی آنکھوں میں پل میں نمی اتری تھی—بری طرح جھپٹاتے وہ خود کو اس آہنی گرفت سے آزاد کروانے کی تگ ودو میں تھی جبکہ پلوشہ خان کی مزاحمت کو دیکھتے پیچھے کھڑے وجود کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
پلوشہ کا مزاحمت کرتا وجود ساکت تو تب ہوا جب پیچھے کھڑے وجود کی دہکتی سانسوں کی تپش کو اپنی کان کی لو پر محسوس کیا— ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ پیچھے کھڑے وجود نے نرمی سے اپنے ہونٹوں سے کان کی لو کو چھوتے اپنے دانتوں تلے دبایا تو کئی باغی آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے ہونٹوں پر رکھے ہاتھ پر گرے
پیچھے کھڑے وجود کے ہاتھ سرکتے ہوئے پیٹ پر آکر بندھے تو پلوشہ کو لگا وہ سانس نہیں لے پائی گی اپنے وجود میں ہمت مجتمع کرتے پوری طاقت لگا کر حصار کو توڑنا چاہا مگر گرفت پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوگئی
ہونٹوں کا جان لیوا لمس کان سے ہوتا گردن پر رقص کرنے لگا تو کمرے کی خاموش فضا میں پلوشہ خان کی ہچکیاں گونجنے لگی
“چھوڑو مجھے گھٹیاں انسان—میرے لالا تمہیں جان سے مار دیں گے”— ہاتھ پاؤں مارتے چلاتے ہوئے کہا تو پیچھے کھڑے وجود نے سیدھے ہوتے سخت نظروں سے اپنے حصار میں جھپٹاتی پلوشہ خان کو دیکھا
جو اب اپنے گرد لپٹے بازو پر جھک کر دانت گاڑھ چکی تھی—
اپنے پوری طاقت لگا کر بھی جب اس بازو کو ہٹا نا سکی تو اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کیے— پیچھے کھڑے شخص کا منہ نوچنا چاہا تو پیچھے کھڑے شخص نے اپنی گرفت اتنی سخت کی کہ پلوشہ کو اپنی ہڈیاں چٹختی محسوس ہوئی
“پپ—پلیز چھوڑ دو— تمہیں اللہ کا واسطہ مجھے چچ—چھوڑ دو مم—یں شش—شادی شدہ ہوں”—- پلوشہ خان کی آخری بات پر پیچھے کھڑے شخص نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے جھک کر کندھے پر ہلکے سے دانتوں کا دباؤ ڈالا تو پلوشہ اس گستاخی پر تڑپ اٹھی
“حدائقققق”—- اپنی بے بسی پر چیخ کر اس ستم گر کو پکارا تو پیچھے کھڑے شخص نے نے جھٹکے سے پلوشہ خان کا رخ بدلتے اسے اپنے سینے میں بھنچ لیا
“حکم مائے شائنگ سٹار”—- وہ جو اس اچانک افتاد پر بھونچکا رہ گئی تھی اپنے کانوں میں ہوئی سرگوشی کو سن اپنی جگہ منجمد ہوگئی
آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند چہرے کو بھگوتے گردن میں جذب ہونے لگے
کہ حدائق شاہ نے نرمی سے پلوشہ خان کو کندھوں سے تھام کر اپنے روبرو کرتے—پلوشہ کا خوبصورت آنسوؤں سے تر چہرہ ہاتھوں میں بھرا
“مجھے لگا میری بیوی میری آہٹ سے میری خوشبو سے مجھے پہچان لے گی—اسی لیے بس تھوڑا سا تنگ کرنے کا سوچا—مگر یہاں بیوی پہچاننے کی بجائے مجھے گھٹیاں جیسے القابات سے نوازتی اپنے بھائی کی دھمکی دینے لگ گئی— مجھے پکارنے میں تو بہت دیر کر دی—حالانکہ سب سے پہلا میرا ہی خیال”—- پلوشہ کے آنسوؤں کو اپنے ہونٹوں سے چنتے شکوہ کناہ لہجے میں کہتے شدت سے اپنے ہونٹ گال پر ثبت کرتے اپنی بات مکمل کرتا کہ پلوشہ نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھتے حدائق شاہ کو خود سے دور کیا—جس پر حدائق شاہ نے ناسمجھی سے پلوشہ کی جانب دیکھا ابھی وہ کچھ سمجھتا کہ پلوشہ کا ہاتھ بے اختیار اٹھا اور حدائق شاہ کے گال پر نشان چھوڑتا چلا گیا
مٹھیاں بھنچتے حدائق شاہ نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولتے سرخ آنکھوں سے اپنے سامنے تھر تھر کانپتی پلوشہ خان کو دیکھا
مسٹرڈ کلر کی فراک کے ساتھ—گلابی اتشی دوپٹہ لیے— چاکلیٹ براؤن بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں قید کیے جس کی کچھ لٹیں چہرے کے گرد لپٹی ہوئی تھیں—رونے کے باعث سفید رنگت میں سرخیاں گھلی ہوئی تھی—سمندر سی گہری نیلی آنکھوں میں خوف اور دکھ ہچکولے لے رہا تھا جسے دیکھ حدائق شاہ نے اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود کو کوسا اور قدم پلوشہ کی جانب بڑھائے جسے دیکھ پلوشہ نے اپنے قدم بے ساختہ پیچھے لیے
“آپ نے مم—مجھے ڈرا دیا مم—مجھے لگا کہ کک-کوئی اور ہے—مم—مجھے لل-لگا مم-میری عزت”— ہچکیوں سے روتی وہ حدائق شاہ کو ملال کی اتھا گہرائیوں میں دھکیل چکی تھی
ایک ہی جست میں پلوشہ کے قریب پہنچتے بازو سے تھامتے اپنے سینے میں بھنچ لیا
“ہششش—مائے شائنگ سٹار— ایسا کبھی بھی مت سوچنا—تمہارا شوہر ابھی زندہ ہے—حدائق شاہ کے ہوتے کسی کی بری نظر تم پر نہیں پر سکتی کجا کہ”—- ہچکیوں سے روتی پلوشہ خان کی پیٹھ سہلاتے سخت لہجے میں کہتے آخر میں جملہ ادھورا چھوڑتے جبڑے بھنچ کر اپنے سینے میں چھپی اپنی متاع جاں کو دیکھا
“اب اگر تم نے رونا بند نا کیا تو پھر میں اپنے طریقے سے چپ کرواؤں گا پھر چاہے ساری رات بیٹھ کر روتی رہنا”—- پلوشہ کو مسلسل روتے دیکھ تنبیہہ لہجے میں کہا تو پلوشہ نے اپنا سر مزید حدائق شاہ کے سینے میں چھپا لیا جس پر حدائق شاہ نے گھور کر پلوشہ خان کو دیکھا
“اب وہ اسے کیا بتاتی کہ یہ رونا کس بات کا ہے خوف تو تب ہی ختم ہو گیا تھا جب حدائق شاہ نے شدت سے خود میں چھپا لیا تھا—یہ رونا تو اپنی غلطی یاد کر کہ آرہا تگاص زندگی میں کسی سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی—اور آج جب کچھ کیا بھی تھا تو ڈائیریکٹ ہاتھ ہی اٹھایا تھا وہ بھی کسی اور پہ نہیں اپنے شوہر پر ہی— شرمندگی اس قدر تھی کہ دل چاہ رہا تھا کہ زمین پٹھے اور وہ اس میں سماں جائے— یا کوئی ایسا منتر پڑھے کہ وہ حدائق شاہ کی نظروں سے اوجھل ہو جائے”
“ہے—- میری طرف تو دیکھو یار”— پلوشہ کو کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کرتے نرم لہجے میں کہا تو پلوشہ نے بھیگی پلکوں کی جھالر اٹھا کر نم نگاہوں سے حدائق شاہ کی جذبے لٹاتی آنکھوں میں دیکھا
نظریں آنکھوں سے ہوتی بائیں گال پر آئی تو پلوشہ خان کے ہونٹوں سے بے ساختہ ہچکی نکلی— جس پر حدائق شاہ نے تاسف سے سر ہلایا
“تو یہ وجہ تھی چہرہ چھپانے کی”— ہاتھ پیچھے لے جا کر جوڑا کھولتے نرم لہجے میں استفسار کیا تو پلوشہ نے مجرموں کی طرح سر جھکا دیا
“ایم سوری شاہ— وہ میں ڈر گئی تھی”— اپنی کمر کے گرد لپیٹتے—حدائق شاہ کے بازوؤں پر ہاتھ رکھتے نم لہجے میں معافی مانگی تو حدائق شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
اور بنا پلوشہ کو سمجھنے کا موقع دیے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے جبکہ حدائق شاہ کے اس عمل پر پلوشہ خان کے چہرے میں حیا سے سرخیاں گھل گئیں— خمدار پلکیں حیا کے بوجھ سے رخساروں پر سایہ فگن ہوئی جنہیں دیکھ حدائق شاہ کے رگ و پے میں سکون کی لہر سرائیت کر گئی
“معاف تو میں کردوں– گا شاہ کی جان— لیکن یہ بات ہم دونوں میں رہنی چاہیے— اگر دشمنوں کو یہ بات پتہ چل گئی کہ حدائق شاہ بند کمرے میں بیوی سے تھپڑ کھاتا پھرتا ہے تو تمہارے شوہر کی عزت کا جنازہ نکل جانا ہے”— ذہن میں ضرغام خان کو لاتے دانت کچکچا کر کہا تو پلوشہ خان نے سعادت مند بیویوں کی طرح سر اثبات میں ہلایا تو حدائق شاہ نے مسکراتے ہوئے جھک کر عقیدت بھرا لمس پلوشہ خان کی سفید پیشانی پر چھوڑا
“غلطی کی ہے تو اس کا ازالہ نہیں کرنا”— دونوں ہاتھ تکیے پر پلوشہ خان کے اطراف میں رکھتے— پلوشہ خان کی جھکی نظروں کو دیکھ کر بوجھل لہجے میں کہا تو پلوشہ نے بے ساختہ نظریں اٹھا کر خود پر سایہ فگن ہوئے حدائق شاہ کو دیکھا
نیلی آنکھوں کا تصادم اس قدر زور آور تھا کہ دونوں کے دلوں کی دھڑکنیں منتشر ہوئیں تھیں
“سوری کیا تو میں نے”— کپکپاتے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے نظریں جھکائے مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے ہنکارہ بھرا
“اگر سوری کرنے سے میں معاف نا کروں تو پھر”—
“میں کان پکڑ لوں گی”— معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے حدائق شاہ کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے سر نفی میں ہلایا
“ازالہ کرو بیگم—شوہر کو دوسری ملاقات پر جہاں اپنے ان نازک ہونٹوں سے پیار کرنا چاہئے تھا وہاں آپ تھپڑ رسید کیا ہے اب ازالہ تو بنتا ہے”— پلوشہ کے کپکپاتے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتے—بائیں رخسار پر رکھتے شکوہ کناہ لہجے میں کہا تو پلوشہ نے نا سمجھی سے حدائق شاہ کو دیکھا-
جس پر حدائق شاہ نے معنی خیز نظریں پلوشہ کے گلابی پنکھڑیوں پر ٹکائے—انگھوٹھے کے پوروں سے چھوتے آنکھوں سے اشارہ کیا تو پلوشہ نے شرم و حیا سے گھبرا کر سر کو نفی پر جنبش دی
“میں معاف نہیں کروں گا”—سخت لہجے میں کہا تو پلوشہ نے سرعت سے کروٹ بدل کر چہرہ تکیے میں چھپا لیا
“میں ناراض ہو جاؤں گا”— گردن سے بال ہٹاتے کان میں ہلکے سے سرگوشی کی مگر پلوشہ کو ہنوز چہرہ تکیے میں چھپائے دیکھ جبڑے بھنچ کر فاصلہ قائم کیا
دل تو چاہا ابھی اپنے حصار میں لے کر ساری شدتیں اس نازک وجود پر انڈیل کر اسے باور کروادیں کہ حدائق شاہ کس قدر تڑپ رہا ہے اس ہجر میں—ان سانسوں کو قطرہ قطرہ خود میں انڈیل کر اپنی تشنگی کو مٹا لیں— مگر لاکھ چاہنے کے باوجود بھی حدائق شاہ یہ نہیں کر سکتا تھا—وہ جانتا تھا کہ وہ نازک ہے پھولوں سے بھی ذیادہ—وہ کبھی بھی اپنی جذبات کی رو میں بہہ کر اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا تھا—
“شاہ”— حدائق شاہ کو خود سے دور جاتے محسوس کر کہ پلوشہ نے جھٹکے سے رخ بدلتے تڑپ کر پکارا تو حدائق شاہ نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے پلوشہ خان کو دیکھا
بلیو جینز پر وائٹ شرٹ پہنے—ماتھے پر بکھرے چاکلیٹ براؤن بال— گہری نیلی آنکھوں میں شکوہ لیے—- استحاق بھری نظروں سے دیکھتا وہ پلوشہ کا دل بری طرح سے دھڑکا چکا تھا—
بیڈ سے پاؤں نیچے رکھتے— گلے میں لیے دوپٹے کے پلو کو انگلیوں پر لپیٹتے—نظریں جھکائے وہ سامنے آکر کھڑی ہوئی تو حدائق شاہ نے گہری سانس بھرتے ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں اڑسے
“کوئی خاص مقصد روکنے کا”— طنزیہ لہجے میں کہا تو پلوشہ نے جھکے سر کو اثبات میں ہلایا
“ارشاد”—حدائق شاہ کا طنزیہ لہجے پھر سے محسوس کر کہ پلوشہ نے نظریں اٹھا کر حدائق شاہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا
“ازالہ کرنا تھا نا”—دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے آبرو آچکا کر سر سے لے کر پاؤں تک بغور پلوشہ کو جائزہ لیے تو وہ پل میں سرخ پڑتی سٹپٹا کر دو قدم پیچھے ہوئی جسے دیکھتے حدائق شاہ نے جھٹکے سے پلٹ کر قدم دروازے کی جانب بڑھائے
ابھی وہ دو قدم سے آگے بڑھتا کہ پلوشہ خان بھاگ کر حدائق شاہ کے سامنے آئی— اس طرح سامنے آنے سے وہ آگے بڑھتے حدائق شاہ کے سینے سے زور سے ٹکرائی—ٹکر اس قدر زور آور تھی کہ پلوشہ کو اپنے آگے ستارے گھومتے نظر آئیں
“دیہان سے ابھی گرجاتی بیوقوف لڑکی”— بازو سے تھامے ڈپٹنے والے انداز میں کہا تو پلوشہ نے بنا کوئی جواب دیے اپنے پاؤں حدائق شاہ کے جوتوں پر رکھے تو حدائق شاہ نے خاموش نظروں سے پلوشہ خان کو دیکھا— جو اب التجائیہ نظروں سے حدائق شاہ کو جھکنے کہہ رہی تھی
جس پر حدائق شاہ نے خاموشی سے چہرے کو جھکایا تو پلوشہ نے ایڑیوں کو اٹھاتے— آنکھیں بند کرتے نرمی سے اپنے ہونٹ تھپڑ والی جگہ پر رکھے
پلوشہ کے نرم ہونٹوں کے لمس کو محسوس کرتے حدائق شاہ نے سرشار ہوتے پلوشہ کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیتے اوپر اٹھاتے خود میں بھنچ لیا
“اب ہٹیں — مجھے نیچے اتاریں حدائق”— حدائق شاہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ شرم سے سرخ پڑتی مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے مسکراتے سر نفی میں ہلاتے
بنا پلوشہ کو سمجھنے کا موقع دیے— اپنے دہکتے ہونٹ پلوشہ کے ہونٹوں پر رکھتے—اسے خود میں بھنچ لیا— قطرہ قطرہ پلوشہ کی ٹھنڈی سانسوں میں اپنی دہکتی سانسیں شامل کرتے—حدائق شاہ اس نازک وجود میں کھونے لگا تھا
قربت کے ان لمحات کا دورانیہ بڑھنے لگا تو—اپنے کندھوں پر پلوشہ کے نازک مکوں کے وار کو محسوس کرتے حدائق شاہ نے نرمی سے پلوشہ کے ہونٹوں کو آزاد کرتے— چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھر لیا
اپنی شدت سے سرخ پڑتے ہونٹوں کی نمی کو نرمی سے چنتے پلوشہ کو اپنے حصار میں قید کرتے—گال۔پلوشہ کے سر پر ٹکا دیا—
اپنے سینے پر پلوشہ کی تیز دھڑکنوں کے شور کو سنتے حدائق شاہ کے ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رینگ گئی
“تمہاری کبرڈ میں ویڈنگ ڈریس اور کچھ دوسرے ڈریسز رکھ دیے ہیں—ہماری رخصتی پر میں چاہتا ہوں تم وہی ڈریس پہنو—اور بالکل ویسے ہی تیار ہونا جیسا میں نے تمہیں اپنے خیالوں میں سوچا ہے—جیولری وغیرہ کل میں بھیج دوں گا “— پلوشہ کے ہاتھوں کو نرمی سے چھوتے کہا اور جھک کر اپنے تشنہ لب پلوشہ کے ماتھے پر رکھے
“چلو اب چلتا ہوں—ظالم سماج بھی آنے والا ہوگا—اور اپنی بیوی کے سامنے میں کسی سے لڑنا نہیں چاہتا”— پلوشہ کی ناک دباتے—ہاتھ تھامتے قدم دروازے کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو پلوشہ نے گھور کر حدائق شاہ کی پیٹھ کو دیکھا
“آپ کونسا ظالم سماج سے کم ثابت ہوئے ہیں”— عقیدت کو باہر لے جانے والی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے مسکرا کر سر جھٹکا
“مجھے لگتا وہ بھی کم تھا—آہنی بہن کے لیے وہی کوئی شہزادہ دیکھ کر شادی بھی کر دینی چاہئے تھی”— حدائق شاہ کے کہنے پر پلوشہ نے شکوہ کناہ نظروں سے دیکھا تو حدائق شاہ نے مسکراتے سر نفی میں ہلاتے نرمی سے پانے حصار میں لیتے—پیچھے ہو کر ایک بھرپور استحاق بھری نگاہ پلوشہ خان پر ڈالتے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ اپنے وجود سے اٹھتی ڈارک کلون کی خوشبو کو محسوس کرتے پلوشہ خان کے ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ رینگ گئی
Episode 21
کیا ہوا— کوئی پریشانی ہے کیا”— حوریہ کو خاموشی سے جیکٹ کی زپ بند کر کہ ہیلمٹ ٹھیک کرتے دیکھ صبغہ نے پوچھا تو حوریہ نے گہری سانس بھرتے صبغہ شاہ کے پریشان چہرے کو دیکھا
عائث خان صبح ہوتے ہی گھر سے چلا گیا تھا—جس پر حوریہ نے ملازمہ سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ عائث خان کہہ کر گیا تھا کہ وہ رات لیٹ گھر آئے گا—جسے سنتے حوریہ نے جھٹ سے صبغہ کو کال ملائی اور آدھے گھنٹے میں وہ اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ چکی تھیں
“عائث—صبغہ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں—عائث وہ نہیں جو وہ نظر آتے ہیں”—جنگل کے طرف جاتی سنسان سڑک پر خود سے فاصلے پر کھڑے کچھ لوگوں پر نگاہ ٹکائے جواب دیا تو صبغہ نے حیرت سے حوریہ شاہ کو دیکھا
“کیا مطلب ہے تمہارا—تمہیں کچھ کہا ہے اس نے کیا”— متفکر ہوتی سخت لہجے میں بولی تو حوریہ نے تلخی سے مسکراتے سر جھٹکا
“کہا ہی تو نہیں—وہ کچھ کہتا ہی نہیں صبغہ—اور جب کہتا ہے تب اس کے الفاظ اس کی آنکھوں کا ساتھ نہیں دیتے—میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ہے—وہ کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہے—میں اب تک جتنا عائث کو جان چکی ہوں وہ رشتوں کو کسی بیوقوفی کی نظر کرنے والوں میں سے نہیں ہے—تو پھر وہ کیسے میری جھجھک کو یا میرے ڈر کی وجہ سے اس رشتے کو آگے نہیں بڑھا رھا—کبھی جو وہ مجھ سے شکوہ کرتا ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہے—وہ شکوہ صرف اس کے لفظوں تک ہے– وہ خود بھی اس رشتے میں آگے نہیں بڑھ رہا—وہ مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے صبغہ اور مجھے ڈر ہے کہ کہی وہ بات جان جانا میری جان نا لے لیں”— بری طرح لب کچلتے— نم لہجے کو قابو پاتے ہوئے کہا تو صبغہ نے افسوس سے حوریہ شاہ کے معصوم چہرے کو دیکھا
“تم اس سے بات کر لو حوریہ”—کیا بات کر لو اس سے وجہ پوچھو گی تو وہ میری جھجھک کی وجہ پوچھے گا—تو کیا جواب دوں گی—وہ باتوں کو گھما پھرا کر دوسروں پر مدعہ ڈالنے میں ماہر ہے—وہ پل میں سب جان جائے گا”—
صبغہ کی بات کاٹتے جھنجھلائے لہجے میں کہا تو صبغہ نے آگے بڑھتے حوریہ کے دونوں کندھوں کو نرمی سے تھاما
“کیا اب تک کے عرصے میں—تمہیں ایک بار بھی عائث خان کے لہجے—اس کے رویے میں اپنے لیے محبت محسوس نہیں ہوئی”— صبغہ شاہ کے کہنے پر حوریہ کی آنکھوں کے سامنے وہ سب قربت بھرے لمحات گزر گئے
جب عائث خان کی بے تاثر آنکھوں میں محبت نظر آئی تھی—اس کے ہر لمس میں شدت اور محبت محسوس ہوئی تھی—عائث خان کا بہکنا اور محبت بھری سرگوشیوں میں کیا اظہار کانوں میں گونجا تھا— جس میں حوریہ کو کہی بھی کچھ بھی جھوٹ محسوس نہیں ہوا تھا—
حوریہ کی خاموشی کو محسوس کرتے صبغہ نے مسکرا کر اسے دیکھا
ابھی وہ اسے کچھ کہتی کہ چھوٹے سے قد کا موٹا سا آدمی چلتا ہوا ان کے پاس آیا
“ریس سٹارٹ ہونے والی ہے—تم تیار ہو حوریہ”— اپنے گلے میں پہنی چین کو انگلی سے گھماتے استفسار کیا تو صبغہ شاہ نے کوفت سے آنکھیں گھمائی—جبکہ حوریہ نے سر اثبات میں ہلایا
وہ اس دنیا میں تب داخل ہوئی تھی جب سب اس سے دور ہوگئے تھے—حدائق عقیدت اور بہرام جب اپنی اسٹیڈیز کے لیے بیرون ملک چلے گئے تھے—جب بالاج شاہ کی دھتکار ملی تھی جب اپنے ہی آئیڈل کے ہاتھوں وہ بری طرح رسوا ہوئی تھی—تب حوریہ شاہ اس موت کے دلدل میں اتری اور پھر کبھی پلٹ نا سکی تھی—اس بات کا شاید کبھی کسی کو پتہ نا چلتا وہ تو ایک بار صبغہ شہر حوریہ سے ملنے آئی تو وہ پٹیوں میں جکڑی زخموں سے چور وجود لیے حوریہ شاہ سے ملی تھی—جس پر صبغہ نے کافی واویلا مچایا حوریہ کو دھمکیاں دی کہ وہ حویلی میں سب کو بتا دے گی تب جا کر حوریہ شاہ نے اپنے اس راز میں صبغہ کو شامل کیا تھا—
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صبغہ حوریہ کو ان سب سے کافی دور لے ائی تھی—
“نیکسٹ ٹائم ایسا کچھ ہو– کوئی ریس وغیرہ ہو تو تم حوریہ کا نام ہم سے پوچھے بنا نہیں لکھو گے—ورنہ چمڑی ادھیڑ دوں گی تمہاری”— سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے صبغہ نے کھا جانے والے لہجے میں کہا تو اس شخص نے رحم بھری نظروں سے حوریہ کو دیکھا—
وہ کئی سالوں سے ان کے ساتھ تھا—وہ حوریہ کی یونی میں کلرک تھا—اور وہ بہت اچھی بائیک چلاتا تھا—جب حوریہ نے ان سب میں شامل ہونا چاہا تو اس سے ہی بائیک سکھی تھی اور وہی حوریہ کو اس دنیا میں متعارف کروانے والا شخص تھا—
“میرا قصور نہیں—جس شخص کے ساتھ ریس ہے اس نے خاص حوریہ کا ہی نام لیا تھا –اس کا کہنا تھا وہ مردوں سے پہلے جیت چکا ہے اب وہ کسی لڑکی سے جیتنا چاہتا ہے اور پھر لسٹ میں ٹاپ پر حوریہ کا ہی نام تھا—اسی لیے وہ شخص ہماری جان کا عذاب بن گیا تھا بہت سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا—اور سننے میں آیا ہے کہ وہ کافی امیر آدمی ہے—اس نے ہمیں دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ہم نے حوریہ کو اس ریس کے لیے نہیں منایا تو وہ پولیس کو بتا دے گا—کہ ہم یونی کے بچوں سے ریسنگ کرواتے ہیں”— رٹے رٹائے طوطے کی طرح ایک سانس میں بولتا وہ پل میں صبغہ کا دماغ گھما چکا تھا اسی لیے آگے بڑھتے جواب دینے کی بجائے وہ پوری شدت سے ہاتھ کا مکہ بناتی اس کے ناک پر رسید کر چکی تھی
“اس کی پولیس کی دھمکی سے ڈر گئے بیوقوف—کیا تم ہمیں نہیں جانتے تھے—جس پولیس کی دھمکی وہ دے کر گیا ہے وہ پولیس صبغہ شاہ کی انگلی کے اشارے پر چلتی ہے—صبغہ کے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہنے پر حوریہ نے تاسف سے سر ہلاتے جیکٹ کی جیب سے رومال نکال کر سامنے کھڑے مزمل نامی شخص کو ناک سے نکلتے خون کو صاف کرنے کے لیے دیا
“اسے چھوڑو مزمل—بتاؤ کب تک ریس سٹارٹ کرنی ہے—اور آگیا ہے کیا وہ شخص”—دائیں بازو میں ہیلمٹ کو لیتے استفسار کیا تو مزمل نے سر اثبات میں ہلایا
“ابھی آیا ہے—تم چلو تو سٹارٹ کریں نا”— اپنی ناک صاف کرتے بھرائے لہجے میں کہتے سر جھٹکتے قدم آگے کی جانب بڑھائے
“نام نہیں بتایا اس کا تم نے”—حوریہ نے کچھ یاد آنے پر پوچھا تو صبغہ نے بھی اپنے ساتھ ناک کو رومال سے صاف کرتے مزمل کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا
“ہمیں خود نہیں معلوم—پوچھنے پر اس نے بس یہی کہا کہ میری اوقات نہیں اس سے سوال کرنے کی کجا کہ اس کا نام پوچھو— لیکن وہ جتنی بار بھی آیا اس کی ہر جیکٹ پر اے کے لکھا تھا—اسی لیے میں نے لسٹ میں بھی اے کے ہی لکھ دیا”— مزمل کے جھنجھلائے لہجے پر کہنے حوریہ نے سرگوشی نما لہجے میں ان الفاظ کو دہرایا جبکہ صبغہ کی کھا جانے والی نظریں خود پر دیکھتے مزمل نے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے صبغہ سے فاصلہ قائم کیا
حوریہ کی جب جب بھی کوئی ریس ہوتی تھی تو صبغہ ساتھ ہی آتی تھی—اور جب تک حوریہ ریس جیت کر واپس نہیں آجاتی تھی تب تک مزمل کی دُرگت صبغہ کے ہاتھوں سے بنتی رہتی تھی— وہ لاکھ بچنے کی کوشش کرتا مگر صبغہ کسی نا کسی بات کا غصہ اس پر نکال دیتی تھی–
_________
یہ راستہ جنگل کی طرف جاتا ہے—اور آگے جا کر دائیں جانب جانے والی سڑک جنگل کے اطراف سے ہوتی واپس اسی جگہ پر آتی ہے—اور جو شخص سب سے پہلے جنگل کے اطراف سے ہوتا یہاں پہنچے گا وہ ونر ہوگا—
مزمل نے ہاتھ میں تھامے میپ پر بنے جنگل کے نقشے پر انگلی گھماتے ہوئے کہا تو حوریہ نے سر اثبات میں ہلایا
سڑک کے بیچوں بیچ دو بلیک ہیوی بائیکس پر وہ دونوں سوار تھے – بلیک پینٹ پر بلیک شرٹ کے اوپر وائٹ اینڈ بلیک کومبو کی جیکٹ پہنے—سر پر وائٹ اینڈ بلیک ہی ہیلمٹ باندھتی حوریہ سے کچھ فاصلے پر بلیک ہی ہیوی بائیک پر بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ جیکٹ اور بالکل حوریہ جیسا ہی ہیلمٹ پہنے اے کے سینے پر دونوں بازو لپیٹے مزمل کی بات ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا
جبکہ حوریہ کے بائیں جانب کھڑی صبغہ بغور اے کے کا جائزہ لے رہی تھی—ایک نظر حوریہ کو دیکھ نظریں پھر سے اے کے پر مرکوز کی ان دونوں کی بائیکس اور ڈریسنگ میں اگر کسی چیز کا فرق تھا تو صرف اتنا کہ اے کے کی جیکٹ کی بیک پر سیاہ الفاظ میں اے کے لکھا ہوا تھا—
“ون ، تو سٹارٹ”— تبھی مزمل کی آواز پر صبغہ نے چونک کر دیکھا— جو سرخ رنگ کے رومال کو گنتی کرتے نیچے پھینک چکا تھا— رومال کے نیچے گرتے ہی وہ دونوں اپنی بائیکس کو سٹارٹ کرتے — طوفان کی طرح پلک جھپکتے ہی وہاں سے غائب ہوئے تھے
جبکہ صبغہ کا دل بری طرح بے چین ہوا تھا
تبھی آگے بڑھتے— اپنی جانب پیٹھ کیے کھڑے مزمل کو پیچھے کالر سے پکڑ کر رخ اپنی جانب کیا—
“سچ بتاؤ مزمل کون تھا وہ شخص— کس کے ذریعے تم سے رابطہ کیا تھا اس نے—اور کیسے تم نے نام شکل دیکھے بنا حوریہ کے ساتھ اس کی ریس فیکس کر دی— ایک سیکنڈ میں سب اگل دو—ورنہ جان لے لوں گی”—- جھٹکے سے رخ اپنی جانب کرتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو اردگرد کھڑے اسٹوڈنٹ جو یہ ریس دیکھنے آئے تھے حیرےگ سے بھپری ہوئی شیرنی کی طرح دھاڑتی صبغہ شاہ کو دیکھنے لگے
“میں کچھ نہیں جانتا—میرا یقین کرو— وہ ایک میرے پرانے دوست کے ساتھ آیا تھا— اس نے ہی مجھے اس ریس کے لیے کہا— وہ بھروسے مند آدمی تھا تو”— تو گھٹیا انسان—بھروسے مند تھا تو— اگر حوریہ کو کچھ بھی ہوا جان لے لوں گی تمہاری”—- مزمل کے چہرے پر بے دریغ مکے برساتے دھاڑتے ہوئے کہا اور جھٹکے سے دھکا دیتے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں دبوچا
“ایک چیز—صرف ایک چیز مجھے اس شخص کے متعلق بتا دو—تا کہ میں تمہاری جان بخش دوں مزمل— ورنہ ابھی یہی زندہ گاڑھ دوں گی”— سرخ انگارا ہوتی کو آنکھوں کو سختی سے میچتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو مزمل نے جلدی سے قدم پیچھے لیتے اپنی جیب سے موبائل نکالا
“یہ—نن-نمبر ہے اس کا آنے سے پہلے اس نے کال کی تھی”— موبائل صبغہ کی جانب اچھالتے کپکپاتے لہجے میں کہا تو صبغہ نے جلدی سے موبائل تھامتے
اپنی براؤن جیکٹ سے موبائل نکالا اور تیز ہاتھوں سے مزمل کی سکرین پر شو ہوتے نمبر کو اپنے موبائل میں ٹائپ کیا
نمبر ٹائپ کرتے ہی وہ نمبر موبائل میں موجود پہلے کسی شخص کا دیکھ صبغہ کا دل دھک سے رہ گیا
اے کے—عائث وہ نہیں جو وہ نظر آتے ہیں” سرگوشی نما لہجے میں ہونٹوں نے جنبش کی تو کانوں میں حوریہ کے الفاظ گونجے ہوش میں آتے مزمل کا فون پوری قوت سے زمین پر مارا— ابھی وہ کچھ کہتی کہ ہاتھ میں تھاما موبائل گونجا
جس پر چمکتے نمبر کو دیکھ صبغہ نے جلدی سے اٹھاتے موبائل کان سے لگایا
“میم—سر بالاج کی آج بہت امپوڑٹنٹ میٹینگ تھی—لیکن وہ انہوں نے میٹینگ کینسل کر دی کہ انہیں کہی جانا ہے—میں نے نا کا پیچھا کیا تو وہ جنگل کی جانب اسی جگہ پر آرہے ہیں جہاں آپ اور حوریہ میڈم ہے”— موبائل پر گونجتی آواز کو سنتے صبغہ نے سختی سے ہونٹ بھںچے
اس نادر نامی شخص کو صبغہ نے بالاج شاہ پر نظر رکھنے کے لیے ہائر کیا تھا – وہ سب کا جاسوس جبکہ بالاج شاہ کا پرسنل سیکرٹری تھا
بالاج شاہ کے ہر پل پر نظر تھی صبغہ شاہ کی—اس لیے نہیں کہ وہ محبت کرتی تھی اس لیے کہ وہ لوٹ آیا تھا اور اب حوریہ سے ملنے کا سوچ رہا تھا—اور صبغہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اپنی جذباتی پن میں حوریہ یا عائث کا رشتہ خراب کرے—بنا جواب دیے کال بند کرتے
بھاگنے کے انداز میں قدم اپنی کار کی جانب بڑھائے
_________
حوریہ نے کوفت سے اپنے بائیں جانب سکون سے بائیک دوڑاتے اے کے کو دیکھا— حوریہ اس سے آگے بڑھتی تھی تو وہ لمحے میں اس کے برابر اجاتا تھا—مسئلہ اس کا برابر آنا نہیں تھا – مسئلہ یہ تھا کہ وہ شخص جان بوجھ کر آگے نہیں بڑھ رہا تھا—حوریہ جس جانب کو بائیک کا رخ کرتی وہ دوسری جانب سے اس کے برابر اجاتا اب حوریہ کو کوفت ہونے لگی تھی—عجیب سائیکو شخص تھا جو آگے بڑھنے کی بجائے اس کی بائیک کے آگے پیچھے ہوتا اس کے لیے آگے بڑھنا مشکل کر رہا تھا—
کوفت سے نظریں گھماتے حوریہ نے کچھ فاصلے پر موجود دو ٹرن دیکھے— جو ایک دائیں اور دوسرا بائیں جانب تھا—انہیں یہاں سے نہیں مڑنا تھا—لیکن وہ اس شخص سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہاں سے ٹرن کرنے کا سوچ چکی تھی—
جبکہ حوریہ کی بائیک کی سپیڈ سلو ہونے پر جیسے اے کے اس کی سوچ پر چکا تھا—اسی لیے ہیلمٹ میں چھپے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ رینگ گئی
ٹرن کے قریب پہنچنے سے پہلے وہ سپیڈ کم کر چکی تھی اسے امید نہیں تھی کہ وہ آگے بڑھے گا لیکن ٹرن کے قریب آتے وہ زن سے بائیک بھگا لے گیا جسے دیکھتے حوریہ نے بائیں جانب ٹرن لیتے سکوں کا سانس لیا
جبکہ حوریہ کے آگے بڑھتے وہ شخص اپنی بائیک سڑک سے کچی زمین پر نکالتا درختوں اور جھاڑیوں سے ہوتا— حوریہ خان کے برابر ا چکا تھا جس سے انجان حوریہ سکون سے ہواؤں سے باتیں کرتی آگے بڑھ رہی تھی
ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ سجائے گردن ترچھی کر کہ درختوں کے پار نظر آتی سڑک پر بائیک چلاتی حوریہ شاہ کو دیکھا
“مائے انوسنٹ گرل”— بائیک کی سپیڈ تیز کرتے—طوفان کی مانند وہ حوریہ کو پیچھے چھوڑتا آگے بڑھ گیا تھا
____________
وہ جو سنجیدہ نظریں سڑک پر ٹکائے بائیک چلانے پر مصروف تھی— اپنے سامنے سے آتی اے کے بائیک کو دیکھ کر چونکی—
ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ اے کے نے بائیک کو بیچ سڑک پر روکتے—گول دائرے میں گھمایا— جس پر حوریہ نے جلدی سے اپنی بائیک کا رخ موڑا— اتنی سپیڈ پر چلتے ایک دم سے رخ بدلتے—حوریہ نے بامشکل بائیک کو قابو کیا
جبکہ رخ بدلنے پر سامنے سے آتے بلیک لینڈ کروز کو دیکھتے حوریہ کو اپنا دماغ چکراتا محسوس ہوا
تبھی لینڈ کروزر میں بیٹھے شخص نے بروقت بریک لگایا
جبکہ اس افتاد پر حوریہ کا دل دھک سے رہ گیا تھا
بائیک روکتے—دونوں ہاتھ ہینڈل پر ٹکائے—سختی سے آنکھیں میچتے گہری سانس لیتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی
اب منظر کچھ ایسا تھا کہ جنگل کے بیچوں بیچ نکلتی سنسان سڑک پر ایک جانب لینڈ کروزر اور دوسری جانب ہیوی بائیک ایک جانب رخ کیے کھڑی تھی— جبکہ درمیان میں حوریہ کی بائیک جس کا رخ جنگل کی جانب تھا
خود کو پرسکون کرتے حوریہ نے جھٹکے سے ہیلمٹ اتارے پہلے بائیں جانب— کھا جانے والی نظروں سے اے کے کو دیکھا جو پرسکون سا کھڑا تھا—اے کے کو گھورنے کے بعد دائیں جانب گاڑی میں بیٹھی ہستی کو گھورا
کہ تبھی لینڈ کروزر کا دروازا کھلا
حوریہ کی نظریں جوتوں سے ہوتی—نیوی بلو کلر کے پینٹ کوٹ سے ہوتی چوڑی پشت پر آکر رکی — اس شخص نے بائیں ہاتھ سے دروازا بند کرتے چہرہ حوریہ کی جانب کیا تو حوریہ شاہ کی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیل گئی— گلابی چہرے کی رنگت پل میں آڑی تھی
“بب—بالاج”— ہونٹوں نے بے یقینی سے سرگوشی کی تو حوریہ کو اپنی ہی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی
کپکپاتے ہاتھوں کی گرفت بے ساختہ ہیلمٹ پر سخت ہوئی
کوٹ کے بٹن کو کھولتے—– عنابی ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ سجائے— رات سی گہری سیاہ آنکھوں کے حصار میں حوریہ کے معصوم ہوائیاں اڑے کو رکھے— مضبوط قدم لیتا وہ حوریہ کی جانب بڑھ رہا تھا—
جبکہ بالاج شاہ کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ حوریہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہو رہی تھی
حوریہ کے قریب آکر کھڑے ہوتے—بالاج شاہ نے اپنی سیاہ آنکھوں کو حوریہ کی گرے کانچ سی پھیلی آنکھوں میں گاڑھتے ونک کیا تو حوریہ کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی
“ہے ڈئیر کزن”–
حوریہ کی آنکھوں میں دیکھتے—اپنا دایاں ہاتھ حوریہ کے ہیلمٹ تھامے ہاتھوں کے قریب رکھتے—نرم لہجے میں سرگوشی کی تو حوریہ کی آنکھیں پل میں آنسوؤں سے لبالب بھر گئیں
دل تو میرا کر رہا ہے—ایک بھی سینکڈ ضائع کیے بغیر تمہارے اس نازک وجود کو اپنے پاؤں تلے روند دوں—اور پھر تمہارے ادھڑے جسم کو تمہارے ننھیال والوں کی حویلی کے آگے پھینک آو—پھر ولی خان کو اپنی چہیتی نواسی کے ناپاک ہوئے وجود پر دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دیکھو—جو قیامت ہمارے دلوں پر گزری تھی ایک بار پھر وہ ولی خان کی حویلی پر گزرے تو مزہ اجائے”—
افف حور کیوں ڈر رہی ہو یار – محبت کرتی ہو نا مجھ سے تو محبت اسی طرح ثابت کی جاتی ہے—یہ گریز اور شرم و حیا کا محبت میں کوئی کام نہیں—کم آن یار اٹس نارمل ناؤ آڈیز—
کانوں میں ماضی کے صور پونکتے الفاظ گونجے تو حوریہ نے چندھیائی آنکھوں سے بالاج شاہ کے چہرے کو دیکھا
آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھانے لگا—ہر منظر دھندھلا سا گیا—
تبھی اپنے بائیں جانب جانب حوریہ کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا—چکراتے سر کو جھٹکتے—گردن ترچھی کر کہ بائیں جانب دیکھا تو نظریں وائٹ جیکٹ—چہرے پر ان رکی تو حوریہ کو لگا وہ سچ میں مر جائے گی
پاؤں سے زمین نکلنا کسے کہتے تھے— آج حوریہ کو صحیح معنوں میں اس بات کا ادراک ہوا تھا— ساکت آنکھوں سے عائث خان کے سپاٹ چہرے کو دیکھتے حوریہ نے بامشکل سانس لینے کی کوشش کی
جبکہ عائث خان خون چھلکاتی نظروں سے بالاج شاہ کو دیکھ رہا تھا جو سب بھلائے
“نظریں ہٹاؤ”— عائث خان کی چنگاڑتی ہوئی آواز گونجی تو حوریہ نے سختی سے آنکھیں میچ لیں جبکہ بالاج شاہ نے چونک کر اپنے سامنے آتش فشاں بنے عائث خان کو دیکھا—
چہرے کی نرمی پل میں غائب ہوئی تھی—انکھوں میں نظر آتی نرمی نے لمحے میں رنگ بدلا تھا—
ابھی بالاج شاہ آگے بڑھتا کہ ٹائرز کی چراچرتی آواز پر پلٹ کر دیکھا
جہاں صبغہ شاہ تیزی سے گاڑی سے نکلتی ان کی جانب بڑھ رہی تھی
“ہے بالاج بہت برا کیا آپ نے—چیٹنگ سے جیتے ہیں آپ”— بھاگنے کے باعث پھولی سانسوں میں کہتی وہ آگے بڑھ کر بالاج شاہ کا بازو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام چکی تھی
جس پر بالاج شاہ نے خون چھلکاتی آنکھوں سے صبغہ شاہ کو دیکھا جسے وہ نظر انداز کرتی حوریہ کی جانب متوجہ ہوئی
جبکہ حوریہ کے لیے صبغہ کی آمد کسی فرشتے سے کم نہیں تھی—حوریہ کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے موت کے کنویں سے نکال لیا ہو—جیسے مرنے والے کو زندگی کی نوید سنا دی گئی ہو—
“وائفی چلو جلدی سے گھر چلتے ہیں—اب دیکھو شام بھی ہونے والی ہے تو پھر میرا ٹائم سٹارٹ ہو جانا ہے اور مجھے کوئی بہانا نہیں سننا آج”—حوریہ کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامے—شدت بھرا لمس دونوں گالوں پر چھوڑتے گھمبیر لہجے میں کہا تو اس قدر بے باکی پر حوریہ نے سٹپٹا کر دور ہونا چاہا—جس پر عائث خان نے حوریہ کو گھورتے اپنا بازو حوریہ کی کمر کے گرد لپیٹتے—جھٹکے سے بائیک سے نیچے اتارا
عائث خان کی اس بے باکی پر صبغہ نے پھٹی آنکھوں سے عائث خان کو گھورا اور نا محسوس انداز میں بالاج شاہ کا بازو چھوڑ کر فاصلہ قائم کیا
جبکہ خون چھلکاتی سیاہ آنکھوں سے عائث خان کو دیکھتے بالاج شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھینچتے اپنے اشتعال پر قابو پایا
“عع-عائث وہ مم—میں”—عائث خان کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں دیکھتے بھرائے لہجے میں کہنے کی کوشش کی تو عائث خان نے نظریں اٹھا کر خود کو دیکھتے بالاج شاہ کو دیکھتے اپنے دونوں ہاتھ حوریہ کی کمر پر ٹکاتے—اتنی سختی سے گرفت جمائی کہ حوریہ کو عائث خان کی انگلیاں اپنی جلد میں دھنستی محسوس ہوئی
نظریں بالاج شاہ سے ہوتی حوریہ کے کپکپاتے ہونٹوں پر آئیں تو عائث خان بنا حوریہ کو سمجھنے کا موقع دیے پوری شدت سے ان نازک پنکھڑیوں کو اپنی گرفت میں لے گیا
اس اچانک افتاد پر حوریہ حق دق سی پھٹی آنکھوں سے خود پر جھکے عائث خان کو دیکھتی ہوش میں آکر بن پانی میں مچھلی کی طرح جھٹپٹائی تو عائث خان نے دائیں ہاتھ کو حوریہ کے بالوں میں الجھاتے—شدت اختیار کی
جبکہ اس سر عام بے باکی کے مظاہرے پر صبغہ نے گلہ کھنکارتے نرمی سے بالاج شاہ کا بازو تھام کر چہرے کا رخ بدلا
“وہ اس کا شوہر ہے—اس پر اس قدر حق رکھتا ہے بالاج شاہ کے تم اسے روک بھی نہیں سکتے—وہ جہاں چاہے اس پر حق جتا سکتا ہے—لیکن تم تو اس سے بات کرنے کے لیے بھی اس کے شوہر کی اجازت کے پابند ہو— کیوں نہیں پیچھے ہو رہے بالاج – وہ خوش ہے اس کے ساتھ”— بالاج شاہ کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھتے تاسف بھرے لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے گردن ترچھی کر کہ صبغہ شاہ کو دیکھا
“حوریہ”— بالاج شاہ کے سخت لہجے میں پکارنے پر صبغہ نے افسوس بھری نگاہ بالاج پر ڈالتے اپنا ہاتھ بالاج کے بازو سے ہٹایا
عائث خان جو سب کچھ فراموش کیے حوریہ کے کپکپاتے وجود کو خود میں بھنچے—قطرہ قطرہ حوریہ کی سانسیں خود میں انڈیلنے میں مصروف تھا—بالاج شاہ کے پکارنے پر ضبط سے آنکھیں میچتا—حوریہ کے نچلے ہونٹ پر دانتوں کا دباؤ بڑھاتا جھٹکے میں پیچھے ہوا—جبکہ عائث خان کی شدت پر حوریہ کو منہ میں خون کا ذائقہ گھلتا محسوس ہوا
“اب اگر میری بیوی کا نام اپنی زبان پر لائے—یا اس لہجے میں اس سے دوبارا بات کی— تو یاد رکھنا بالاج شاہ اس دشمنی کو ذندہ رکھنے کے لیے تمہاری موت کافی ہوگی”—جھٹکےسے حوریہ کا رخ بدلتے اپنے حصار میں لے کر دایاں بازو حوریہ کے کندھے پر پھیلاتے ہوئے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو بالاج شاہ کی قہر بھری نظریں عائث خان سے ہوتی—حوریہ کے زخمی ہونٹ پر آئی—ہونٹ کے کنارے پر لگے خون کو دیکھتے بالاج شاہ کو اپنے دماغ کی شریانیں پھٹتی محسوس ہوئیں
“اور اس دشمنی کو قیامت تک قائم رہنے کے لیے تمہاری عبرتناک موت بھی کافی ہے عائث خان—اور حوریہ پر تم سے پہلے میرا حق ہے—اور یہ حق ہمیشہ رہے گا”— بالاج شاہ نے دبے ڈبے لہجے میں غرا کر کہا تو عائث خان کا میٹر پل میں گھوما تھا
حوریہ کو پیچھے کرتے وہ ایک ہی جست میں بالاج شاہ کے قریب پہنچتا—بالاج کے چہرے پر وار کر چکا تھا—
جس پر بالاج شاہ نے پلٹتے عائث خان کے پیٹ میں ٹانگ مارتے گردن سے پکڑنا چاہا تو عائث خان پیچھے کو پلٹتا اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹکاتا—دونوں پاؤں کو زمین سے اٹھا کر بالاج شاہ کے سینے پر مارتا کلا بازی لگا کر کھڑا ہو گیا تھا—
“عائثثث— نن—ہیں پلیز”— بالاج شاہ کو عائث کی جانب بڑھتے دیکھ حوریہ لمحے میں عائث خان کے سامنے آتی اس کے سینے سے لگی تو بالاج شاہ کا اٹھا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا
جبکہ اپنے سینے پر حوریہ کے تیزی سے دھڑکتے دل کو محسوس کرتے عائث خان نے خون چھلکاتی نظروں سے بالاج شاہ کو دیکھتے— حوریہ کو دونوں بازوؤں سے تھامتے—جھٹکے سے اپنے سامنے کرتے حوریہ کا بازو دبوچے قدم اپنی بائیک کی جانب بڑھائے
جبکہ بالاج شاہ خالی نظروں سے حوریہ کو خود سے دور جاتا دیکھ رہا تھا—حوریہ کا عائث کو بچانے کے لیے سامنے آنا نظروں کے آیا تو بالاج شاہ کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا سا محسوس ہوا—
گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تو بے جان ہوتے ہاتھ کو پہلو میں گراتے– گہری سانس لیتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی
صبغہ نے نم نگاہوں سے بالاج شاہ کو دیکھتے قدم اپنی کار کی جانب بڑھائے تو اپنی کلائی پر وحشت زدہ سی گرفت محسوس کر کہ حیرت سے گردن ترچھی کر کہ بالاج شاہ کو دیکھا جو قہر بھری نظروں سے صبغہ شاہ کو ہی دیکھ رہا تھا
جسے دیکھ صبغہ کو اندازہ ہو گیا کہ اب اس کی کلاس لگنا پکی ہے—حوریہ کی اس بات کے بارے میں کسی کو نا بتانے پر بالاج شاہ اسے کبھی نہیں بخشے گا تبھی چہرے پر مسکینت طاری کیے بالاج شاہ کو دیکھا جسے نظر انداز کرتے بالاج شاہ نے قدم اپنی لینڈ کروزر کی جانب بڑھائے
پٹکنے کے انداز میں صبغہ کو کار میں بٹھاتے خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا— بالاج شاہ کے چہرے پر چٹانوں سی سختی دیکھتے صبغہ نے دل ہی دل میں کلمہ پڑھتے دونوں پاؤں سیٹ پر اوپر کرتے اپنے بازو ان کے گرد لپیٹ لیے جس پر بالاج شاہ نے گھور کر صبغہ کو دیکھتے گاڑی سٹارٹ کی
____________
کیا آج سارا دن یہی گزارنے کا ارادہ ہے—- وہ صبح سے جنگل آئے ہوئے تھے اور چار بج رہے رہے تھے— شام ہونے والی تھی—پیدل چل چل کر اب تو عقیدت کے پاؤں بھی جواب دے چکے تھے—کھانے میں تو ضرغام خان درختوں سے پھل توڑ کر کھلاتا رہا تھا جس سے عقیدت کا تو پیٹ بھر گیا تھا مگر ضرغام خان کا گھومنے سے نہی بھرا تھا
وہ اب بھی صبح کی طرح فریش سا عقیدت کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتا جا رہا تھا جب عقیدت نے تھکے تھکے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے چونک کر گردن ترچھی کرتے عقیدت کو دیکھا جس کی سفید رنگت میں سرخیاں گھلی ہوئی تھیں—ماتھے ہر پسینے کی چمکتی بوندیں دیکھتے ضرغام خان کی نظریں سرکتی ہوئی گلابی ہونٹوں سے ہوتی گردن پر آئی جہاں پسینے کی چمکتی بوندوں کو دیکھ ضرغام خان کا دل بے ساختہ دھڑکا جبکہ ضرغام خان کی نظروں سے بے خبر عقیدت نے چادر کے پلوں کو اپنے چہرے پر پھیرتے گردن صاف کی تو ضرغام خان کا سر بے ساختہ نفی میں ہلا
“حد ہے صبح تک موسم اتنا اچھا تھا اور ابھی دیکھو کیسے حبس ہو رہی ہے”— کوفت بھرے لہجے میں کہتے اردگرد نگاہ دوڑائی تو نظریں پلٹ کر ضرغام خان کی لو دیتی نظروں سے ٹکرائیں جس پر عقیدت نے آبرو آچکا کر ضرغام خان کو دیکھا
“رہنے دیتی کیا ضرورت تھی”— ضرغام خان کے کہنے پر عقیدت نے نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا تو ضرغام خان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا تو عقیدت نے کندھے آچکا کر گہری سانس بھری
“کتنا گھومنا ہے اور ضرغام—تمہیں ذرا بھی میرا احساس ہے—صبح سے تم مجھے ان درختوں اور جھاڑیوں کو دکھانے کے لیے کبھی ادھر جاتے ہو اور کبھی ادھر—مجھے تو سب ایک جیسا ہی لگ رہا ہے—سب درخت بھی ایک جیسے ہی ہے اور تم ہر درخت کا ہر پودے کا الگ انٹرو دے رہے ہو جیسے میں نے رشتہ مانگنا ہے ان کا—تھک گئی ہوں میں”- ضرغام خان کے بازو سے سر ٹکائے تھکن ذدہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“یارِ من بس کچھ دیر—ایک خوبصورت منظر کی تلاش میں ہوں جسے دیکھتے تمہاری ساری تھکن اتر جائے گی—اگر تب بھی نا اتری تو خادم حاضر ہے—تمہاری ساری تھکن اپنے ہونٹوں سے سمیٹ لوں گا”—عقیدت میں بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرتے گھمبیر لہجے میں کہا تو عقیدت نے سر اٹھا کر ضرغام خان کو دیکھا—
عقیدت کی سرخ پڑتی آنکھوں میں دیکھتے ضرغام خان نے اپنا بایاں بازو عقیدت کی کمر کے گرد لپیٹتے—گھما کر عقیدت کی پشت کو درخت سے لگاتے اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کے اطراف میں رکھے—
“تو کیا خیال ہے یار من کمرے میں تو کچھ ہونا نہیں—یہاں جنگل میں ہی منگل کر کہ اپنی کہانی آگے بڑھائے”— ناک عقیدت کے گال پر ٹریس کرتے شوخ لہجے میں کہا تو عقیدت نے آنکھیں گھما کر ضرغام خان کو دیکھا
“جو کمرے میں نہیں ہو سکا وہ یہاں کیسے ہو جائے گا”—کندھے آچکا کر افسوس بھرے لہجے میں کہتے ضرغام خان کے کندھے پر نا نظر آنے والی گرد کو جھاڑا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا
“چیلنج کر رہی ہو خان کو”—عقیدت کے بالوں کو مٹھی میں بھرتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے مصنوعی سخت لہجے میں کہا تو عقیدت نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے مسکراہٹ روکی
“نہیں بس بتا رہی ہوں کہ اگر کمرے میں نہیں آپ کی چلی تو یہاں خاک چلے گی”— سبز نگینوں کو گول گول گھماتے چہرے پر معصومیت طاری کیے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“چلو پھر شروع کرتے ہیں — لیکن سوچ لو یہاں کی گرمی پہلے نہیں جھیلی جا رہی—خان کی جان لیوا قربت کیسے سہو گی”— عقیدت کے نچلے ہونٹ کو انگھوٹے اے سہلاتے بے باک لہجے میں کہا تو عقیدت کا چہرہ پل میں سرخ اناری ہوا
“خان کی بیوی ہوں—خان سے دل لگا کر نبھانا مشکل تھا— خان کے ہجر کو جھیلنا سوہان روح تھا—جب کہ اس کی قربت تو روحِ سکون ہے”— خود میں ہمت پیدا کرتے—ضرغام خان کی معنی خیز نظروں میں آںکھیں گاڑھے مضبوط لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ رینگ گئی
“اوکے سو لیٹس سٹارٹ دا منگل”— عقیدت کے کان کے قریب جھک کر خاموشی کرتے پیچھے ہو کر اپنی اجرک اتار کر درخت کی ٹہنی پر رکھتے رخ عقیدت کی جانب کیا
کرتے کے اوپری دو بٹن کھولتے—اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کی کمر پر ٹکائے تو عقیدت نے دھک دھک کرتے دل کو بامشکل قابو کرتے نظریں اٹھا کر ضرغام خان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس وقت عقیدت کا عکس صاف نظر آرہا تھا
ضرغام خان کی جذبے لٹاتی نظروں میں دیکھنا محال ہوا تو عقیدت نے نظریں جھکاتے سر ضرغام خان کے سینے پر ٹکا دیا—
ضرغام خان نے دائیں ہاتھ سے عقیدت کے گرد لپٹی چادر کو اتارتے اپنی اجرک کے قریب اچھالا اور شدت سے عقیدت کو خود میں بھنچتے درخت سے پن کیا
“ضض-ضرغام مم—میں سوچ رہی تھی کہ کک-کمرے میں ہی— ایہہ”— ضرغام خان کے ہونٹوں کے جان لیوا لمس کو اپنے کان کی لو پر محسوس کرتے کپکپاتے لہجے میں کہنا چاہا تو ضرغام خان نے اپنی انگلی عقیدت کے ہونٹوں پر رکھ دی اپنے کان پر بھیگا سا لمس محسوس کرتے وہ بات مکمل کرتی کہ ضرغام خان نے کان کی لو کو دانتوں تلے دباتے خاموش رہنے کی وارننگ دی تو عقیدت نے سختی سے آنکھیں میچ لیں
دہکتے ہونٹوں کا بھیگا لمس کان کی لو سے چہرے پر جا بجا محسوس کرتے عقیدت کی سانسیں پل میں بھاری ہوئی تھیں
عقیدت کو لگ رہا تھا کہ یہ آگ برساتا لمس آج سچ میں اسے جلا دے گا—ضرغام خان کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹاتے چہرہ ضرغام خان کی گردن میں چھپایا تو ضرغام خان نے جذبات سے سرخ پڑتی آنکھوں سے عقیدت کے کپکپاتے وجود کو دیکھا—
“یہ کیا ڈرامہ ہے اب عقیدت—خود تم جب چاہو قریب آؤ – اور میری تھوڑی سی قربت پر تم چہرہ چھپانے لگ جاتی ہو—آئی وانٹ ٹو سی یور فیس—میں اپنی قربت میں تمہارے چہرے پر آنے والے ہر رنگ کو دیکھنا چاہتا ہوں تمہاری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتا تمہاری روح میں شامل ہونا چاہتا ہوں”— عقیدت کی گردن میں بازو حائل کرتے چہرہ آپنے روبرو کرتے سخت لہجے میں کہا تو عقیدت نے بے بسی سے ضرغام خان کو دیکھا
وہ جتنی بھی بولڈ بنتی—لیکن ضرغام خان کی قربت اسے شرم سے چور کر دیتی تھی—اس کی بولڈنیس تب ہی چلتی تھی جب شیر سویا ہوا ہوتا تھا—جاگتے شیر کے جزبات چھیڑ کر وہ اپنی نازک جان کو مشکل میں نہیں ڈال سکتی تھی
“اب کہو بھی کچھ کہ بس گھورتی رہو گی”— عقیدت کے نچلے لب کو دانتوں تلے دباتے جھنجھلائے لہجے میں کہا تو عقیدت نے چونک کر ضرغام خان کو دیکھا
“تم ایسے کرتے ہو تو مجھے شرم آجاتی ہے”— دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو ضرغام خان کی گردن پر پھیرتے مدھم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے حیرت سے اپنی بے باک شیرنی کو دیکھا
“کیا مطلب ایسا کیا کرتا ہو جو تمہیں شرم آجاتی ہے”—لہجے میں حیرت زدہ لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت نے خفا نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا
لیکن ضرغام خان کی حیرت ابھی بھی ویسے ہی قائم تھی
“اب یہ بھی میں بتاؤں کہ کیا کرتے ہو—یہ جو بھی ٹھرک جھارتے ہو مجھے اس سے شرم آجاتی ہے”— عقیدت کے منہ بسور کر کہنے پر پہلے تو ضرغام خان نے حیرت سے عقیدت کو دیکھا اور پھر سمجھ آجانے پر جنگل کی پرسکون فضا میں ضرغام خان کا قہقہہ گونجا
پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہستے ضرغام خان کو اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا جبکہ عقیدت نے خود کے مزاق بنائے جانے پر خونخوار نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا اور خود وہاں سے جانا چاہا کہ تبھی ضرغام خان نے کلائی تھامتے عقیدت کو پھر سے درخت سے پن کیا
“اووو میلی موشوم بیوی—ابھی تو شرم آنے والے سین تک ہم پہ پہنچیں ہی نہیں—پہنچ بھی گئے تو خبردار جو تم نے مجھ سے نظریں چرائیں—میں نے کہا نا میں ہمارے قربت کے ہر ایک لمحے کو تمہاری آنکھوں میں دیکھنا چاہتا ہوں—تمہارے چہرے پر بکھرے اپنی قربت کے رنگوں کو اپنی آنکھوں میں قید کرنے چاہتا ہوں— مجھے تمہاری وہی شدتیں واپس چاہیے عقیدت جو تم مجھ پر لٹا چکی ہو—ایم رئیلی میسگ دم”— انگلیاں عقیدت کی انگلیوں سے الجھاتے سر کہ اوپر پن کرتے—گہری نظروں سے عقیدت کی آنکھوں میں جھانکا تو عقیدت نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے ضرغام خان کی آنکھوں میں دیکھا
جھک کر عقیدت کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے—انگلیوں پر گرفت سخت کی تو عقیدت نے گہری سانس لینی چاہی جسے ضرغام خان نے اپنی سانسوں میں قید کر لیا
ہاتھ عقیدت کے ہاتھوں سے سرکتے—کمر پر ریگنے لگے تو عقیدت نے کسمسا کر حصار توڑنا چاہا جس پر ضرغام خان کی گرفت ہونٹوں اور کمر پر سخت ہوتی چلی گئی
عقیدت کی بھاری ہوتی سانسوں کو محسوس کرتے ضرغام پیچھے ہوا تو عقیدت نے سر پیچھے ٹکاتے گہری سانسیں لیتے سانس ہموار کرنی چاہی ابھی وہ سنبھلی بھی نا تھی کہ ضرغام خان کے ہونٹوں کے دہکتے لمس کو تھوڑی سے گردن کا سفر طے کرنے پر کپکپا اٹھی اپنی گردن پر جا بجا ضرغام خان کے شدت بھرے بوسوں کے ساتھ دانتوں کے دباؤ کو محسوس کرتے عقیدت کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی اگر ضرغام خان نے ایک ہاتھ سے عقیدت کو سہارا نا دیا ہوتا تو وہ ضرور زمیں بوس ہو چکی ہوتی
“پینڈٹ کہا ہے تمہارا عقیدت”— عقیدت کی گردن پر ناک ٹریس کرتے کالر بون پر دانت گاڑھتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا
ضرغام خان کے سوال پر عقیدت کے گرد ان فسوں خیز لمحوں کا طلسم چھناکے سے ٹوٹا
ہاتھ بے ساختہ اپنی گردن پر آیا تو عقیدت کا دل کیا سر کسی دیوار میں مار لے
“وہ کک—کبرڈ میں”— خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے چہرہ اٹھا کر خونخوار نظروں سے عقیدت کو گھورا
“مم—میں نہیں چاہتی کہ وہ کھو جائے—اسی لیے سنبھال کر رکھ دیا”— وہ جواب ضرغام خان کو دے رہی تھی جبکہ دماغ پچھلے دنوں کے ہر لمحے پر غور کر رہا تھا—
آخری بار کب اس نے پینڈٹ پر لکھے ضرغام خان کے نام کو ہونٹوں سے چھوا تھا—کب کب—سوچتے سوچتے دھماکہ میں جھمکا سا ہوا—اس رات– سبز نگینوں میں چمک سی اتری جسے بغور دیکھتے ضرغام خان نے کچھ انچ کے فاصلے کو سمیٹتے ناک عقیدت کی ناک سے ملاتے گہری سانس بھری تو عقیدت نے چونک کر ضرغام خان کو دیکھا—
جو شکوہ کناہ نظروں سے عقیدت کو دیکھتا اپنے کرتے کی جیب سے پینڈٹ نکال کر عقیدت کے گلے میں پہنا رہا تھا—
پینڈٹ ضرغام کو اس رات درختوں کے پیچھے خون والی جگہ سے کچھ فاصلے پر ملا تھا—جسے ضرغام خان نے خاموشی سے اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا تھا—اسے یقین تھا کہ وہ خون کسی انسان کا ہی ہے لیکن پینڈٹ ملنے کے بعد ضرغام خان نے ارمغان خان کو ڈیرے چھوڑتے واپس آکر وہاں سے خون کے ہونے کے تمام ثبوت مٹا دیے تھے—اگر کوئی اور دیکھتا تو وہ پولیس کو شامل کرتا اور ضرغام خان اپنے جیتے جی یہ نہیں ہونے دے سکتا تھا—آہنی بیوی کو وہ اچھے سے جانتا تھا وہ ناحق یا دشمنی کی آڑ میں کسی کو قتل نہیں کرسکتی تھی—پھر وہ کون تھا جسے عقیدت ضرغام خان نے قتل کر دیا— یہ سوال وہ چاہ کر بھی عقیدت سے پوچھ نہیں پا رہا تھا—مگر اگر وہ یہ سمجھتی تھی کہ وہ اس سے بے خبر ہے تو یہ عقیدت شاہ کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی—وہ تو تب بھی اس کے پل پل کی خبر رکھتا تھا جب اسے زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا—اب تو وہ زندگی بن کر زندگی میں شامل ہو گئی تھی اب کیسے اس سے بے خبر رہ سکتا تھا—
وہ جانتا تھا کہ عقیدت حدائق اور بہرام کے ساتھ مل کر اپنے باپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے ثبوت تلاش کر رہی ہے—وہ جانتا تھا کہ وہ خان خاندان والوں پر ہر مشکوک شخص پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن میں مقدس بیگم بھی شامل ہے—اگر وہ چپ تھا تو صرف اور صرف عقیدت کے لیے—
اگر عقیدت اپنے باپ کو بے گناہ ثابت کر لیتی تھی تو اس سے بڑھ کر خوشی کی کیا بات ہو سکتی تھی—پھر دلوں میں رہ جانے والی کسک بھی ختم ہو جانی تھی—
لیکن اگر وہ ثابت نا کر پاتی تو ضرغام نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس کے سامنے شرمندہ ہو یا عقیدت کا سر جھکے—وہ بغیرت نہیں تھا کہ باپ کے قاتل کی بیٹی کو سینے سے لگا لیتا لیکن وہ دل میں ایمان رکھتا تھا—قتل کرنے اور ہونے والے تو مر گئے—بدلہ لینے والے بھی بدلہ لے کر مر گئے تو وہ کیوں کسی اور کے کیے کی سزا اسے دیتا—وہ کیوں مردوں کی جنگ میں عورت کو مہرہ بناتا
“حویلی کے پیچھے گرین ہاؤس سے ملا ہے مجھے—بالکل قدر نہیں ہے تمہیں میری دی گئی چیزوں کی— ان کی طرح ایک دن مجھے بھی کھو دو گی کیا”— ہاتھ کی پشت عقیدت کے چہرے پر پھیرتے نرم لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت نے تڑپ کر ضرغام خان کو دیکھا
آنکھیں پل میں لبالب پانیوں سے بھر گئیں
“میں تمہاری جان لے لوں گی ضرغام—آئندہ ایسی گھٹیا بکواس کی تو”— ضرغام خان کے بال مٹھیوں میں دبوچتے دانت ضرغام خان کی گردن پر گاڑھتے بھرائے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے قہقہہ لگاتے عقیدت کو خود میں بھنچ لیا
یہ بات اس نے عقیدت کا دیہان بھٹکانے کے لیے کی تھی—ورنہ وہ اس بارے میں سوچتی رہتی اور ضرغام کو یقین تھا کہ اسے یاد آجانا تھا کہ پینڈٹ کہا گر سکتا تھا—
“چلو باقی خون بعد میں پی لینا—ابھی آؤ تمہیں ایک خوبصورت منظر دیکھاؤ”— اتنا کڑوا خون کون پئیے دماغ نہیں خراب میرا”— ضرغام خان کے کہنے پر دوبدو ناک سکوڑ کر جواب دیا تو ضرغام خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے مسکراہٹ ضبط کی
آگے بڑھ کر اپنی اجرک اٹھا کر عقیدت کو تھمائی اور عقیدت کی چادر عقیدت کے کندھوں کے گرد پھیلاتے عقیدت کا ہاتھ تھاما
“اچھا کڑوا ہے— لیکن ایک پٹھانی نے کہا تھا کہ خان آپ کا خون بالکل آپ جیسا میٹھا ہوگا—مجھے لگتا ہے اسے ٹیسٹ کروانا پڑے گا کہ یہ میٹھا نہیں”— عقیدت کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتے پر سوچ لہجے میں کہا ابھی وہ بات مکمل کرتا کہ عقیدت نے اپنے بائیں ہاتھ میں ضرغام خان کے بال دبوچے
“تمہیں زندگی راس ہی نہیں خان— میرا دل کر رہا ہے کہ ایک ہی بار میں یہ جان لے لوں”— جھنجھلائے لہجے میں چلا کر کہا تو ضرغام خان نے پلٹتے جھٹکے سے عقیدت کو بانہوں میں اٹھاتے قدم آگے بڑھائے
“اب تو میرا بھی دل کرتا ہے کہ ایک ہی بار تم جان لے ہی لو—اپنی تو لینے نہیں دیتی یار میری ہی جان لے لو— مگر جان اس انداز میں لینا جا انداز میں خان جان لینے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں”—- عقیدت کے چہرے پر جھکتے زومعنی لہجے میں سرگوشی کی تو عقیدت کو لگا جسم کا سارا خون اس کے چہرے پر سمٹ آیا ہو—زبان تو جیسے تالو سے چپک چکی تھی—ضرغام خان کی لو دیتی نظروں سے بچنے کی خاطر آنکھیں موندتے سر ضرغام خان کے سینے سے ٹکا دیا
جسے دیکھتے ضرغام خان نے اپنے قدموں میں تیزی لاتے جلدی سے مطلوبہ جگہ پر پہنچنا چاہا
_______________
وہ سارے راستے یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوتی رہی تھی کہ اگر عائث خان یہ بات جانتا ہے تو اسے ضرور بالاج شاہ کے بارے میں بھی معلوم ہوگا—مگر دماغ اس بات کی نفی کر رہا تھا کہ اگر بالاج کے بارے میں معلوم ہوتا تو عائث خان اسے یوں زندہ چھوڑ کر نا اجاتا
وہ اپنے خیالوں سے تو تب چونکی جب عائث خان نے کمرے میں داخل ہوتے دھاڑ سے دروازا بند کرتے حوریہ شاہ کو بازو سے تھامے پٹکنے کے انداز میں بیڈ پر دھکا دیا
“عع-عائث—میں بب-تانے والی”— ابھی حوریہ بات مکمل کرتی کہ عائث خان نے بیڈ کے سامنے پڑے کانچ کے ٹیبل کو ٹھوکر رسید کرتے زمین بوس کیا تھا
“کب بتانے والی تھی تم—ہاں — کب بتانے والی تھی تم حوریہ— میں کاٹھ کا الو ہوں جو اتنے دنوں سے بکواس کر رہا ہوں کہ حوریہ اگر کچھ شئیر کرنا ہے تو کرو—لیکن نا حوریہ میڈم کی عقل میں کوئی بات آئے تو پھر نا”— حوریہ کی کنپٹی پر دو انگلیاں بجاتے سرد لہجے میں غرا کر کہا تو حوریہ کو اپنے رگ و پے میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس محسوس ہوئی
“اندازہ بھی ہے کس شخص کے ساتھ تمہاری ریس تھی – ایک گنڈے گے ساتھ—ایک ریپسٹ تھا وہ — اندازہ بھی ہے تمہیں کہ کیا کر سکتا تھا وہ تمہارے ساتھ— اگر میں یہ سب نا جان پاتا تو آج تم یو سر اٹھائے میرے سامنے نا کھڑی ہوتی—سر اٹھائے کیا زندہ بھی ہوتی یا”— دونوں بازوؤں سے جھنجھوڑتے دھاڑ کر کہتے— ہونٹ بھنچ کر اپنے اشتعال پر قابو پاتے حوریہ کو خود سے دور دھکیلا
“دل تو کر رہا ہے جان لے لوں تمہاری—اگر اس وجود میں میری جان نا بستی ہوتی تو جہاں سے لایا ہوں لانے کی بجائے وہی زندہ دفن کر آنا تھا”— سرد لہجے میں بڑبڑاتے جیکٹ اتار کر زور سے زمین پر مارتے گردن موڑ کر ہونٹوں پر مٹھیاں جمائے ہچکیوں سے روتی حوریہ شاہ کو
حوریہ کو دیکھتے آنکھوں کے سامنے بالاج شاہ کا چہرہ لہرایا تو عائث خان کو اپنا خون کھولتا محسوس ہوا
“آئندہ تم شاہ حویلی نہیں جاؤ گی—سمجھ آئی تمہیں—اگر وہ گھٹیا شخص مجھے پھر سے تمہارے آس پاس بھی دکھا—اگر اس کی نظروں میں تمہارے وجود کو دیکھا – تو یقیں مانو مائے انوسنٹ گرل اس کی تو آنکھیں نوچ کر زندہ درگور کروں گا—اور تمہارے آس وجود کو جلا کر بھسم کر دوں گا جو میرے علاؤہ کسی اور کی نگاہوں کا مرکز بنا تو— ایک ہی جست میں حوریہ کے قریب پہنچتے—سختی سے دونوں بازو کمر کے گرد لپیٹتے—سرد تھرتھرا دینے والے لہجے میں چلا کر کہا تو حوریہ نے ہچکیوں سے روتے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا جس پر عائث خان نے ہونٹ بھنچتے سرخ انگارا ہوتی نظروں سے حوریہ کے ہچکولے کھاتے وجود کو دیکھا—
دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے نرمی سے اپنے حصار میں لیتے—گہری سانس بھرتے آنکھیں موند لیں—
