Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 29,30)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 29,30)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
“بہت شوق ہے نا تمہیں مرنے کا—مجھ سے دور جانے کا—تو آج میں تمہیں اپنے انداز میں مار ہی دیتا ہوں— لیکن دور ہونے کی بجائے تمہیں خود سے اس قدر قریب تر کر لوں گا کہ تمہیں اپنا وجود ضرغام خان کی خوشبو سے مہکتا محسوس ہوگا— سانسیں تو تمہاری ہوگی—مگر ان میں خوشبو میری ہوگی”—- جھٹکے سے عقیدت کا رخ اپنی جانب کرتے چاقو نما آلے کو عقیدت کی تھوڑی تلے رکھ کر چہرہ اوپر کرتے—پراسرار لہجے—کہا تو عقیدت نے شکوہ کناہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا تھا—
“آگئی یاد بیوی کی”— نم آنکھیں ضرغام خان کی نیلی گہری آنکھوں میں گاڑھتے—اپنی تھوڑی پر رکھے چاقو کو جھٹکتے— تپے تپے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے جبڑے بھنچ کر عقیدت شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا تھا—
“ایک بیوی ہی تو ہے جو کبھی مجھے بھولتی نہیں—ہر وقت حواسوں پر سوار رہتی ہے”— انگھوٹھے کو خون کی لکیر پر پھیرتے سنجیدہ لہجے میں کہتے عقیدت شاہ کی آنکھوں میں جھانکا تو عقیدت نے ناک سکیڑتے چہرے کا رخ بدلا تھا—
“اسی لیے کل ساری رات بیوی کو بھلائے—اسے انتظار کی سولی پر لٹکائے—ڈیرے پر مصروف تھے”— ضرغام خان کے کالر کو دونوں مٹھیوں میں دبوچے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو ضرغام خان نے اپنا کالر تھامے عقیدت کے ہاتھوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے—جھٹکے سے کالر سے ہٹا کر گردن کے گرد لپیٹتے—اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کی کمر پر باندھے—
“چھوٹے خان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی—تمہیں کال کی تھی—ایک بار نہیں ہزار بار—مگر تمہارا فون بند جا رہا تھا—تم انتظار کی سولی پر لٹکتی رہی ہو تو رات میں نے بھی جاگتی آنکھوں میں گزاری ہے—تو اب بتاؤ کس بات کی زیادہ ناراضگی ہے—انتظار کرنے کی یا ہماری گولڈن نائٹ مس ہونے کی”—– جھک کر اپنے تشنہ لب گردن پر دیے کٹ پر رکھتے بوجھل لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت شاہ نے بری طرح لب کچلتے نظریں ضرغام خان کے نیلے کرتے کے بٹنوں پر ٹکا دیں
“فی الحال میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی کجا کہ اپنی ناراضگی کی وجہ بتاؤں”—- ہنوز نظریں جھکائے جواب دیا تو ضرغام خان نے سنجیدہ نظروں سے عقیدت کے جھکے سر کو دیکھا—
“کیا خود بھی آتنا ہی خوبصورت سجی تھی جیسے کمرہ سجایا تھا”—ماتھے اور چہرے پر آرہے بالوں کو اپنی انگلیوں سے کان کے پیچھے اڑست بات بدلتے شوخ لہجے میں سرگوشی کی تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا—
“جو بھی ہو اب اس بات کا فائدہ—چھوڑو مجھے واپس جانا ہے”— نروٹھے لہجے میں کہتے ضرغام خان کے بازو اپنی کمر سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے جھٹکا دیتے عقیدت کو خود کے قریب تر کرتے اپنے ہونٹ شدت سے عقیدت کے ماتھے پر ثبت کیے—
“تو اس وقت یہاں لینے کیا آئی تھی—مگر اب اگر تم اپنی مرضی سے آہی گئی ہو تو جاؤ گی ضرغام خان کی مرضی سے ہی”— عقیدت کے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑتے سخت لہجے میں کہا تو یہاں انے کی بات پر عقیدت نے سٹپٹا کر ضرغام خان کو دیکھا تھا—
“میں اس دن والی جگہ پر جانے کے لیے آئی تھی—فلحال میں تنہا رہنا چاہتی تھی کچھ وقت کے لیے”— نظریں ضرغام خان کی گہری بولتی آنکھوں میں گاڑھے جواب دیتے—نظریں اطراف میں گھمائی
“کچھ وقت نہیں—بہت زیادہ وقت اس تنہائی میں گزارنا ہے—لیکن تنہا نہیں اپنے تنہائی کے ساتھی کے ساتھ—میں اور تم—اس تنہائی میں گونجتی ایک دوسرے کی خاموشی سنے گے—تم میرے دھڑکنوں میں گونجتا اپنا نام سننا—میری آنکھوں میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھنا—اور میں تمہاری ہر بہکی بکھری سانس میں اپنی خوشبو شامل کرتا تمہاری روح تک اتر جاؤں گا—تمہارا پور پور اپنے لمس سے مہکاؤ گا—تم پاس ہوتی ہو تو مجھے ویسے ہی دنیا کا ہوش نہیں رہتا مگر آج سب سے دور— اس تنہائی میں—تمہاری ذات میں گم ہوتے دنیا بھلا دینا چاہتا ہوں—اگر کچھ یاد رکھنا ہے تو صرف ایک دوسرے کو—قربت کے ہر لمحے کو محسوس کرنا چاہتا ہوں—اس وجود کی گہرایوں میں اترتے میں تمہاری روح پر اپنی محبت کی چھاپ چھوڑنا چاہتا ہوں—آج تو موقع بھی ہے دستور بھی اور تنہائی بھی—تو تمہیں نہیں لگتا ہمیں اس تنہائی کا بغیر وقت ضائع کیے فائدہ اٹھا لینا چاہیئے”— ہونٹوں اور انگلیوں کے پوروں سے عقیدت کے چہرے کو چھوتے بوجھل خمار الود لہجے میں کہتے—جھکٹے میں جھک کر عقیدت کو اپنی بانہوں میں اٹھایا تو ضرغام خان کے طلسمی لمس اور جادوئی الفاظوں کے حصار سے نکلتے عقیدت نے جھٹپٹا کر نیچے اترنا چاہا—
“نن—ہیں ضرغام— حویلی چلتے ہیں نا ویسے بھی چھوٹے خان کی طبیعت ٹھیک نہیں”— ضرغام خان کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھرتے منت بھرے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے رکتے سنجیدہ نظروں سے عقیدت کو دیکھا—
“وہ اب بالکل ٹھیک ہے—وہ ٹھیک نا ہوتا تو ہم دونوں اس وقت یہاں نہیں اس کے پاس ہوتے—مگر اگر وجہ کوئی اور ہے تو تم مجھے سیدھے طریقے سے بتا دو—کیا تم ابھی تک مجھے قبول نہیں کر پائی—یا تم کرنا ہی نہیں چاہتی”— سپاٹ لہجے میں کہتا وہ عقیدت کو بوکھلا گیا تھا
“نن—ہیں وہ تو میں سوچ رہی تھی کہ ایسے کھلے میں— مم-یرا مطلب کوئی بھی آسکتا ہے”—اپنی انگلیاں آپس میں الجھاتے—نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دباتے منمنا کر کہا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا— اور پھر سر جھٹکتے قدم آگے بڑھائے
“پہلی بات یہ جنگل میرے علاقے میں آتا ہے—میری اجازت کے بغیر یہاں کوئی نہیں آ سکتا— اور بالفرض کوئی ا بھی جاتا ہے یا نا بھی آئے تو تمہیں لگتا ہے کہ ضرغام خان اپنی بیوی کے معاملے میں لاپرواہی برت سکتا ہے”— عقیدت کی آنکھوں پر اپنا لمس چھوڑتے شدت بھرے لہجے میں کہا تو عقیدت نے راہ فرار کا کوئی راستہ نا دیکھ گہری سانس بھرتے سر ضرغام خان کے سینے سے ٹکا دیا
_________
یہ وہی جگہ تھی جہاں اس دن ضرغام اسے لایا تھا—
جنگل کے بیچوں بیچ درختوں کے گول دائرے کے درمیان ایک چھوٹا سا تالاب تھا—جبکہ تالاب کے کنارے پر ایک کافی پرانا درخت تھا—جو بائیں جانب سے تالاب کی جانب جھکا ہو تھا—اس کی لمبی موٹی شاخیں تالاب کے پانی پر سایہ فگن تھی—کچھ لمبی پتلی ٹہنیاں تالاب کے پانی کو چھو رہی تھی— تالاب کے اردگرد رنگ برنگے پھول لگے ہوئے تھے—جبکہ پھولوں کے بعد کچی زمین سے کچھ فاصلے پر درخت موجود تھے—جو اطراف میں پھیلے ہوئے تھے—سبز پتو سے گھنے درخت اندر کی جانب کو جھکے ہوئے تھے—اور ہر درخت پر رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے گھونسلے پردوں کے لیے لٹکائے گئے تھے—
یہ پرسکون جگہ ضرغام خان کی فیورٹ تھی—وہ اکثر تنہا وقت گزارنے یہاں آتا تھا—اور جب ارمغان خان کو اس بارے میں پتہ چلا تو اس نے اس جگہ کی خوبصورتی میں اور اضافہ کر دیا تھا
ضرغام خان نے عقیدت کو نیچے اتارا تو عقیدت نے حیرت سے سامنے دیکھا تھا—
نظریں ارگرد گھمائی تو ضرغام خان کی حرکت پر ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
کیونکہ اردگرد جو درخت تالاب کے گرد گھیرا کیے ہوئے تھے—ان درختوں کے اطراف میں اب سیاہ رنگ کے درختوں کے سائز کے تمبو نما پردے کر دیے گئے تھے— جس سے چاروں اطراف سے اندر دیکھنا یا داخل ہونا ناممکن تھا—سوائے سامنے موجود ایک زپ سے جسے کھول کر اندر داخل ہوا جا سکتا تھا—
ضرغام خان نے نیچے جھکتے اس زپ کو کھولتے عقیدت کا ہاتھ تھامتے قدم اندر رکھے تھے—اندر آتے اس زپ کو اندر سے بند کیا تھا—اب اس کا باہر سے کھلنا نا ممکن تھا—
جبکہ عقیدت آنکھوں میں اشتیاق لیے تالاب کی جانب بڑھی تھی—جس کے پانی میں رنگ برنگے پھول بکھرے ہوئے تھے—اور چھوٹی چھوٹی گولڈن کلر کی ڈیکوریشن پلیٹس میں دیے رکھے ہوئے تھے—جب کے تالاب کے کنارے پر موجود درخت سے کچھ فاصلے پر چھوٹا سا ٹینٹ لگا ہوا تھا—
“کیسا لگا—میں کل کہ دن کو بہت یادگار بنانا چاہتا تھا—مگر خیر—تمہارے ساتھ گزرا ہر لمحہ میرے لیے یاد گار ہے—اور رات کل کہ ہو یا آج کی یہ بات اہمیت نہیں رکھتی—تمہارا میرے پاس ہونا یہ معنی رکھتا ہے”— عقیدت کی گردن سے بال ہٹاتے اپنی ٹھوڑی کندھے پر ٹکاتے—دونوں ہاتھ عقیدت کے پیٹ پر باندھتے سرگوشی کی تو عقیدت نے گردن ترچھی کرتے ضرغام خان کے پرسکون چہرے کو دیکھا تھا—
“یہ سب تم نے کیا ہے”—لہجے میں اشتیاق لیے استفسار کیا تو ضرغام خان نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا
“تمہیں شک ہے کوئی—تم مجھے کیا ان شوہروں میں سے سمجھتی ہو جو صرف پیار محبت کی باتیں کر سکتے ہیں— اگر میں اپنی بیوی سے اتنا کچھ ڈیمانڈ کرسکتا ہوں—تو کیا میں اس کے لیے یہ سب نہیں کر سکتا—بس یہ تمبو میں نے نہیں لگائے—لیکن ان کی وجہ سے کھپا بہت ہوں— کہی سے اتنے زیادہ سائز کے مل نہیں رہے تھے— جو ملتے تھے ان سے نظر آتا تھا—اور اگر مل جاتے تھے تو میرا دل راضی نہیں ہوتا تھا—پھر رستے میں کسی کی شادی ہو رہی تھی—تب میری نظر ان پر پڑی— تو پھر ایک دن کے آڈر پر یہ بلیک کلر میں بنوائے—اب تم مجھے پاگل مت سمجھنا—سمجھ بھی سکتی ہو—کیونکہ تمہارے معاملے میں تھوڑا پاگل ہوجاتا ہوں میں”— بازو سے تھام کر رخ اپنی جانب کرتے کندھے آچکا کر کہا تو عقیدت نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا
جبکہ دل ضرغام خان کی اتنی محبت و چاہت دیکھتے رب کے حضور سجدہ ریز ہوا تھا—تشکر بھری نظروں سے ضرغام خان کو دیکھتے آنکھوں میں نمی اتری تو ضرغام خان کے چہرے کے تاثرات پل میں بدلے تھے—
“مم—یں بہت محبت کرتی ہوں تم سے—ماضی میں کبھی جو میں تمہارے قریب چاہے مامی کی قسم توڑنے کے لیے آئی— مگر میرا دل جانتا تھا کہ”— دونوں ہاتھ ضرغام کی سینے پر رکھتے نم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے خاموشی سے انہیں اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا—
“مجھے اس بات میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی کہ میں تمہیں اپنی فیلنگز بتا رہی ہوں—میں اس وقت سچ میں تمہارا ساتھ چاہتی تھی—میں نفس کی کمزور نہیں ہوں— میں بس تمہیں کھونا نہیں چاہتی تھی—میں ہمارے رشتے کو مضبوط کر دینا چاہتی تھی کہ تم چاہ کر بھی مجھے چھوڑ نا سکو—اور یہ بات میں نا صرف تم سے بلکہ خود سے بھی چھپاتی رہی— میں اسے مامی کی قسم کا لبادہ اوڑھتی رہی ورنہ میرا دل حقیقت جانتا تھا—میں نے ماضی میں ہر وہ کام کیا جس کی وجہ سے تم میری جانب متوجہ ہو—چاہے غصے میں ہی—میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی—مگر اب مجھے لگتا ہے جیسے میں تمہاری اتنی شدتیں اور محبت سنبھال نہیں سکوں گی میں تمہیں کھو دوں گی—مجھے ڈر لگتا ہے ضرغام—کچھ بھی ہو جائے کچھ بھی میں تمہیں نہیں کھونا چاہتی—میرے پاس رہنا—بہت پاس—ہمیشہ”— نم لہجے میں اپنے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہتی وہ ضرغام خان کا دل بری طرح دھڑکا چکی تھی—
تبھی ضرغام خان نے بنا جواب دیے جھک کر عقیدت کے ہونٹوں کو اپنی سخت گرفت میں لیا تھا—
“دیے جلائیں”—ضرغام خان کے پیچھے ہونے اور خود کو والہانہ نظروں سے دیکھنے پر مدھم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے نظریں اوپر اٹھا کر ڈھلتی شام کو دیکھا
شام کو رات میں ڈھلتے دیکھ سر اثبات میں ہلاتے قدم ٹینٹ کی جانب بڑھائے وہاں سے ماچس کی ڈبی اٹھاتے—باہر آکر عقیدت کا ہاتھ تھامے قدم تالاب میں رکھے
____________
اپنی پیٹھ پر ضرغام خان کی گہری تپش زدہ نظروں کو محسوس کرتے عقیدت نے بری طرح ہاتھ مسلے تھے—
وہ تب سے ضرغام خان کی لو دیتی نظروں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی— دیے جلانے میں بھی وہ جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہی تھی— وہ جانتی تھی کہ فرار ممکن نہیں مگر آج وہ چاہ کر بھی ضرغام خان کی لو دیتی نظروں کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی—
“مجھے لگا یہ گہرا ہوگا—مگر یہ تو بالکل بھی گہرا”— کنارے کے قریب پہنچتے معنی خیز خاموشی سے تنگ آتے عقیدت نے نارمل لہجے میں کہا— ابھی وہ بات مکمل کرتی—کہ پیچھے سے آتے ضرغام خان نے بازو سے تھامتے جھٹکے سے رخ اپنی جانب کرتے عقیدت کی سانسوں سے اپنی سانسیں سلجھائیں تھیں
عقیدت کے پہنے بلیک لانگ کوٹ کو اتار کر دور اچھالتے—ایک بازو عقیدت کی گردن کے گرد لپیٹتے—دوسرے بازو سے کمر کو جکڑا تھا—
پوری شدت سے عقیدت کے ہونٹوں پر گرفت جماتے—وہ یونہی عقیدت کو تھامے—عقیدت کو پیچھے کو جھکاتے زمین پر لٹاتے اس پر جھک آیا تھا
اپنے سینے پر دھڑے عقیدت کے ہاتھوں میں اپنی انگلیاں پھنساتے وہ انہیں نیچے گیلی زمین پر لگا چکا تھا—
قطرہ قطرہ عقیدت کی ٹھنڈی سانسوں کو خود میں اتارتے—وہ ان کی مہک کو اپنی سانسوں میں محسوس کرتا بہکتا جا رہا تھا
عقیدت کی بکھری سانسوں کو محسوس کرتے وہ لمحے کے لیے پیچھے ہوتا دوبارا جھک چکا تھا—جبکہ ضرغام خان کی شدت پر عقیدت نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کی تھی—
“ایم سوری روحِ من— کیونکہ آج رات اس پاگل خان کی جنونی قربت تمہیں برداشت کرنی پڑے گی—تم پر چاہ کر بھی رحم نہیں کر پاؤں گا—کیونکہ تمہارے ہجر نے بہت تڑپایا ہے—ضرغام خان کے وجود کا ذرا ذرا تمہاری ہجر کی آگ میں جھلسا ہے—آج اگر یہ قربت نصیب ہوئی ہے تو جان لو کہ برسوں کی تشنگی ایک رات میں نہیں مٹنے والی—اس کے لیے تو بہت سی صدیاں درکار ہیں— مگر آج قربت کی پہلی بارش میں ضرغام خان پوری طرح بھیگ جانا چاہتا ہے—اس تشنگی کو مٹانے کے لیے تمہاری کسی مزاحمت کو خاطر میں نہیں لانے والا”— عقیدت کے کان کی لو کو دانتوں تلے دباتے جھک کر عقیدت کو اپنی بانہوں میں اٹھاتے ٹینٹ میں داخل ہوتے—
عقیدت کو نیچے رکھے سفید رنگ کے کشنز پر لٹاتے—پلٹ کر ٹینٹ کا پردہ گرایا
حیا سے سرخ تمتماتے چہرے کو اوپر اٹھاتے عقیدت نے ضرغام خان کو دیکھا تھا—جو اپنا کرتا اتارتے سیاہ رنگ کی بنیان کو اتار کر بھی نیچے پھینک چکا تھا—
عقیدت کی نظریں ضرغام خان کے چوڑے مضبوط سینے سے ہوتی سیکس پیک پر آئی تو عقیدت کو اپنا دل رکتا محسوس ہوا تھا—نظریں سرکتی ہوئی پھولے مسلز پر آئیں تو گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی—نظریں بازوؤں کی تنی رگوں سے ہوتی گردن کی ہڈی سے سرکتی ضرغام خان کے مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں پر آئی تو ان ہونٹوں کا دہکتا لمس یاد کرتے عقیدت کا دل دھک سے رہ گیا
نظریں بے ساختہ جھکی تھی کہ تبھی ضرغام خان نے عقیدت کے سامنے بیٹھتے جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا تھا
بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے وہ اس کی شرٹ کے اوپری بٹن کھولتا کندھے سے سرکا چکا تھا
“ضض-ضرغام ایک م-منٹ پلیز”—ضرغام خان کی زرا سی قربت پر سانسیں پل میں منتشر ہوئی تھی تبھی ضرغام خان کے سینے پر ہاتھ رکھتے—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے منمنا کر کہا تو ضرغام خان نے خمار الود نظروں سے عقیدت کو دیکھتے سر نفی میں ہلایا تھا—
“ایک منٹ بھی نہیں بیگم”— بوجھل خمار الود لہجے میں سرگوشی کرتے وہ عقیدت کو پیچھے کی جانب دھکا دیتے اس پر گھنی گھٹا کی طرح سایہ فگن ہوا تھا—
ضرغام خان کے دہکتے ہونٹوں کا لمس اپنے چہرے سے سرکتے گردن اور کندھے پر محسوس کرتے عقیدت کا پورا وجود لرز اٹھا تھا—جان تو تب ہوا ہوئی جب ضرغام خان نے شرٹ کو مزید کھسکاتے اپنے لب دل کے مقام پر رکھے تھے—ضرغام خان کے شدت بھرے لمس سے عقیدت کے ہونٹوں سے نکلتی سسکی ضرغام خان کی ہتھیلی کے نیچے دم توڑ چکی تھی—
ضرغام خان کے ہونٹوں کے جان لیوا لمس کو اپنے پیٹ اور بے باک ہاتھوں کے لمس کو اپنے وجود پر گردش کرتے محسوس کر تے عقیدت نے تڑپ کر اپنے دونوں ہاتھ ضرغام خان کے کندھوں پر رکھے تھے—
“ضض-ضرغام پلیز مجھے ڈر لگ رہا ہے—مم—یرا دل بند ہو جائے گا”— ناخن ضرغام خان کے کندھے پر گاڑھتے گہری سانسوں کے درمیان دبے دبے لہجے میں چیخ کر پکارا تو ضرغام خان نے سر اٹھاتے خمار الود نظروں سے عقیدت کی بند آنکھوں کو دیکھا— نظریں آنکھوں سے سرکتی خون چھلکاتے رخساروں سے ہوتی—گردن پر موجود سرخ نشانوں سے سرکتی دودھیاں پیٹ پر موجود اپنی شدتوں کے نشان پر آئیں تو ضرغام خان کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی
نظریں عقیدت کے بکھرے سراپے پر گاڑھتے—اپنا بازو عقیدت کی کمر کے گرد لپیٹتے—جھٹکے سے اٹھاتے اپنے سامنے بٹھایا تھا
“تمہیں میری شدتوں پر ڈر لگ رہا ہے—اور جو میں تمہارے دور جانے کے خیال سے ڈرتا رہا ہوں— تمہارا دل میری بے باکیوں پر بند ہو رہا ہے—جبکہ میرا دل تمہاری دوری پر بند ہوتا رہا ہے—اور یقین مانو تمہارا ڈر میرے ڈر کے آگے بے معنی ہے—اور تمہارا دل میرے لمس پر دھڑک تو سکتا ہے بند نہیں ہو سکتا—اب تم ایک لفظ نہیں کہو گی عقیدت—صرف خاموشی سے مجھے محسوس کرو گی”— گھمبیر لہجے میں کہتے آخر میں سخت لہجے میں کہتے اپنا ہاتھ عقیدت کے بالوں میں اڑستے شدت سے اس کے سرخ پڑتے ہونٹوں پر جھک آیا
عقیدت کے ناخنوں کو اپنی پیٹھ میں دھنستے محسوس کرتے ضرغام خان کی شدتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا
گزرتی رات میں عقیدت کی بکھری سانسوں اور سسکیوں کے مدھم شور میں ضرغام خان کی محبت بھری بےباک سرگوشیاں شامل ہوتی خاموش فضا میں رقص پیدا کر رہی تھیں—
جیسے جیسے رات گزر رہی تھی – ضرغام خان کی شدتوں میں اضافہ ہی ہوا تھا—ایک دوسرے کی قربت میں گم ہوتے وہ ایک دوسرے کی روح تک اتر گئے تھے—
___________
وہ دونوں جیسے ہی جنگل کے قریب پہنچے وہاں ضرغام خان کی جیپ دیکھ حدائق کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے
“مجھے نہیں لگتا اب مرجان آئے گا”—بہرام نے اطراف میں نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے کندھے اچکائے
“ہمیں ایک بار دیکھ آنا چاہیے”— حدائق شاہ نے موبائل کی سکرین پر نظر آتی عقیدت کی لوکیشن کو دیکھتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے سر نفی میں ہلایا
“ضرغام ضرور عقیدت کے پیچھے آیا ہوگا—ویسے بھی تم نے بتایا کہ کل رات وہ حویلی نہیں تھا اور عقیدت پریشان بھی تھی کیا پتہ اپنی بیوی کو منانے کی خاطر آیا ہو—تم نے کیوں جا کر ان کی ڈیٹ خراب کرنی ہے”— بہرام شاہ نے سرسری لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے ڈیٹ کے نام پر دانت کچکچائے
“ڈیٹ پر لے جانے کو اسے یہ جنگل ہی ملا تھا—وہاں کیا درختوں اور جن بھوتوں سے ملوانے لے کر گیا ہے”— بہرام کے گاڑی ریورس کرنے پر دانت پیس کر کہا تو بہرام شاہ نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی—
“میں کیا کہہ سکتا ہوں— تم پلوشہ کو ڈیٹ پر لے کر جاؤ تو جنگل میں جانا—کیا پتہ تمہیں پتہ چل جائے کہ وہ جنگل میں کیوں گیا”— کندھے اچکاتے جواب دیا
“میں اسے ایسی منہوس جگہ پر کیوں لاؤں گا—جہاں یا تو جانور دیکھنے کو ملے گے یا چاروں طرف درخت—نا یہاں دور دور تک بندہ نا بندے کی ذات—یہاں تو بندہ اکیلا ہو تو ویسے”— روانی میں بولتے ایک دم سے زبان کو بریک لگی تھی— ہونٹ سیٹی کی صورت میں واہ ہوئے تھے—چہرہ بہرام شاہ کی جانب کرتے حیرت سے اسے دیکھا تھا جس پر بہرام شاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا—
“نیور اینڈرایسٹیمیٹ یور سالا—خاص طور پر جب وہ خرافاتی دماغ کا مالک ہو اور ہو بھی خان”— حدائق شاہ کے کھلے منہ کی جانب دیکھتے آنکھ ونک کرتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے سٹپٹا کر سر نفی میں ہلاتے زیر لب ضرغام خان کو سلواتوں سے نوازا تھا—
__________
صبح نجانے کس پہر عقیدت کی آنکھ کھلی تھی—خود پر بوجھ محسوس کرتے عقیدت نے کسمسا کر پیچھے ہونا چاہا تھا—کہ تبھی ضرغام خان نے اپنا حصار تنگ کرتے عقیدت کو خود میں بھنچا تھا
آنکھیں کھولے وہ کچھ دیر تو غائب دماغی سے لیٹی رہی پھر نظریں اطراف سے ہوتی—خود کو گاؤ تکیے کی طرح دبوچ کر لیٹے ضرغام خان کو دیکھا—
جو چہرہ عقیدت کی گردن میں چھپائے—دونوں ٹانگوں سے عقیدت کی ٹانگوں کو لاک کیے— دونوں ہاتھ عقیدت کے گرد لپیٹے شاید گہری نیند سو رہا تھا—
آنکھوں کے پردے پر گزری رات کے خوبصورت مناظر لہرائے تو عقیدت کو اپنے وجود کا سارا خون چہرے پر سمٹتا محسوس ہوا—اپنے وجود سے اٹھتی ضرغام خان کی خوشبو کو محسوس کرتے پلکیں بری طرح لرزی تھی—
ابھی وہ اپنے خیالوں میں ہی گم تھی کہ ضرغام خان نے جھٹکا دیتے عقیدت کا رخ اپنی جانب کیا—
اس اچانک افتاد پر عقیدت نے بھونچکا کر اپنے دونوں ہاتھ ضرغام خان کے سینے پر رکھے تھے—
اب وہ دونوں کروٹ کے بل ایک دوسرے کے سامنے تھے
” مجھے نہیں اندازہ تھا کہ کوئی صبح اتنی خوبصورت اور روشن بھی ہو سکتی ہے”—عقیدت کے چہرے کے نقوش کو محبت سے چھوتے بھاری لہجے میں سرگوشی کی تو عقیدت کے ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ رینگ گئی
مگر ضرغام خان کا رویہ یاد آیا تو عقیدت نے جھٹکے سے پیچھے ہوتے خفا نظروں سے اسے دیکھا تھا
عقیدت کی انکھوں میں خفگی دیکھتے—ضرغام خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں میں دبایا تھا—
ضرغام خان کی شدتیں سہتی کس قدر اس کی نازک جان ہلکان ہوئی تھی—نیند سے بند ہوتی آنکھوں اور باہر پھیلتی روشنی کو محسوس کر کہ عقیدت نے کئی بار ضرغام خان کو رکنے کا بولا تھا—مگر اس نے کہا تھا کہ وہ نہیں سنے گا تو اس نے سچ میں نہیں سنی تھی—وہ دن چڑھے تک اپنی منمانیاں کرتا رہا تھا—ضرغام خان کی شدتوں پر کبھی تو عقیدت کی سانسیں رکتی اور کبھی منتشر ہوتی جان لبوں پر لے آتی—ضرغام خان کے جنونی روپ کو دیکھتی وہ اپنا آپ اس کے حوالے تو کر چکی تھی—مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ضرغام خان کی بڑھتی جنونیت کو محسوس کرتی وہ لرز اٹھتی مگر وہ انجان بنتا—عقیدت کے لمس میں گم ہوتا چلا گیا تھا— دل تھا کہ سیراب نہیں ہو رہا تھا—تشنگی تھی کہ ہر لمس پر بڑھتی جا رہی تھی
“بات مت کرنا مجھ سے”— نم لہجے میں کہتی جھٹکے سے رخ بدلا تو ضرغام خان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کھسک کر فاصلہ سمیٹا
“اگر بات نہیں کر سکتا تو پیار کر لو—کیونکہ تمہارے چہرے پر اپنی محبت کے رنگ دیکھ کر اب مجھے تم پر رات سے بھی زیادہ پیار آرہا ہے”— ایک بازو لپیٹ کر سر کے نیچے رکھتے دوسرا عقیدت کی کمر پر رکھتے آگے کو جھک کر سرگوشی کی تو عقیدت نے اپنی کہنی ضرغام خان کے پیٹ میں ماری
“ابھی بھی پیار کرنے کی کسر ہے—ساری رات تو جن کی طرح چمٹے رہے ہو مجھ سے—ایک پل کے لیے بھی تمہیں مجھ پر ترس نہیں آیا—ایک بار بھی تم نے میری نہیں سنی”— چہرہ ہنوز دوسری جانب کیے نم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے جھٹکے سے عقیدت کا رخ اپنی جانب کیا تھا
“اگر سمجھ نہیں آرہی کہ مجھے فیس کیسے کرنا ہے تو مجھ سے پوچھ لو—جیسے ساری رات تمہیں شرما کر خود میں سمٹنے پر مجبور کیا تھا ویسے ہی اب تمہیں مجھے فیس کیسے کرنا ہے وہ بھی بتا دوں گا—مگر ترس والی بات کر کہ مجھے گلٹی فیل کروانے کی ضرورت نہیں—میری محبت ایسی ہی ہے—شدت بھری جنونیت لیے—تمہیں صرف ایک رات نہیں ساری عمر مجھے ایسے ہی برداشت کرنا ہے— اور اگر میں جن کی طرح چمٹا رہا ہوں تو خود کے بارے میں کیا خیال ہے—مجھے تو ڈر تھا کہی تمہیں میرا خون کم ہی نا پڑ جائیں—ویمپائرز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے”— سخت لہجے میں کہتے—آخر میں افسوس بھرے لہجے میں کہتے اپنی گردن سینے—اور بازوؤں پر دانتوں کے گہرے نشانوں کی طرف اشارہ کیا تو عقیدت نے سرخ پڑتے—چہرہ جھکایا تھا—
“اب دیکھو میری طرف— میرا چمٹنا یاد ہے—مگر اپنے ناخنوں سے میری پیٹھ کھروچنا یاد نہیں”—جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتے اپنی پیٹھ دکھائی جہاں ناخنوں کے نشانوں کے ساتھ کندھوں سے نیچے پیٹھ تک بنی سرخ لکیریں دیکھتے عقیدت نے بری طرح ہونٹ کچلے تھے—
“وہ تو ایکشن کا ریکشن تھا”—عقیدت کے منمنا کر کہنے پر ضرغام خان نے گھور کر اپنے کرتے میں چھپی عقیدت شاہ کو گھورا تھا
“اب اس ریکشن کے سائیڈ ایفیکٹس کے لیے بھی ریڈی ہو جاؤ”—بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو سر کے اوپر پن کرتا—عقیدت کے گال پر جھکتے ہوئے بولا تو عقیدت نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں
اپنے چہرے پر ضرغام خان کی ہلکی بئیرڈ کی چھبن محسوس کرتے عقیدت کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا
“ضض-ضرغام سب پریشان ہہ—ہو رہے ہوگے”— ضرغام خان کو ایک بار پھر رات والے روپ میں واپس آتے دیکھ حلق تر کرتے مدھم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے چہرہ اٹھاتے عقیدت کی سرخ ڈوروں والی آنکھوں میں جھانکا
گزری رات کی قربت کا خمار لیے دونوں کی آنکھیں لمحے کے لیے ملی تو ضرغام خان نے جھک کر نرمی سے انہیں چھوا
“وہ پریشان ہے یا نہیں اس بات کو چھوڑو—تمہیں اس طرح اپنی بانہوں کے حصار میں دیکھ کر جو میرا دل بے ایمان ہو رہا ہے اس کے بارے میں سوچو”—- عقیدت کے نچلے ہونٹ کو اپنے انگھوٹھے سے سہلاتے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کرتا وہ ایک بار پھر عقیدت کے وجود پر جھکتا چلا گیا تھا—
اور رات کی طرح ایک بار پھر ساری مزاحمتیں ضرغام خان کی شدتوں کے آگے دم توڑ چکی تھیں
__________
“اب کمرے میں جا کر سوجانا— جتنی نیند پوری کرنی ہے میرے آنے تک کر لینا— کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم رات نیند نا پوری ہونے کا شکوہ کرو”—عقیدت کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر ہونٹوں سے لگاتے معنی خیز لہجے میں کہتے محبت پاش نظروں سے عقیدت کے نکھرے نکھرے چہرے کو دیکھا
“بہت احسان ہے آپ کا کہ آپ مجھے سونے کی اجازت دے رہے ہیں”—نروٹھے پن سے کہتے خان حویلی کے گیٹ کو دیکھا تھا—
اپنی منمانیاں کرنے کے بعد سب سے پہلے ملازم کو فون کرتے حویلی سے گاڑی منگوائی تھی—کیونکہ عقیدت کے چہرے پر پھوٹتی حیا کی لالی اور گزری رات کی کہانی بیان کرتے قربت کے رنگ دیکھ ضرغام خان کو ڈر تھا کہ اسے کہی اس کی ہی نظر نا لگ جائے
اور وہ عقیدت کو اس روپ میں بالکل بھی جیپ میں لے جانے کا روادار نہیں تھا—
گاڑی کے آتے ہی وہ دونوں وہاں سے نکلے تھے—
ڈھابے کے قریب پہنچتے ضرغام خان نے گاڑی روکتے وہاں سے کھانا لیا تھا—
عقیدت کی وجہ سے گاڑی میں ہی بیٹھ کر کھاتے وہ اس کے بعد بے مقصد شہر کی جانب جاتی سڑکوں پر گاڑی گھوماتا دوپہر تین بجے کے قریب عقیدت کو لیے حویلی پہنچا تھا—
اب وہ جا کر بہرام شاہ سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا—اسی لیے اندر جانے کی بجائے وہ گاڑی کو دروازے پر ہی روک چکا تھا—
“صرف سونے کی اجازت نہیں دے رہا— بلکہ رات کے پروگرام سے بھی آگاہ کر رہا ہوں”— عقیدت کے پھولے گلابی گالوں کو کھچتے ہوئے شوخ لہجے میں کہا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا تھا—
جس میں واقع کسی جن کی اتما ہی ا چکی تھی—
“فی امان اللہ”— ضرغام خان کو اپنے ہونٹوں پر جھکتے دیکھ جلدی سے دروازا کھول کر باہر نکلتے بلند آواز میں کہا تو ضرغام خان نے تیز نظروں سے عقیدت شاہ کے مسکراتے چہرے کو دیکھا تھا—
جو منہ کے ڈیزائن بناتی حویلی کے اندر جا چکی تھی— گاڑی سٹارٹ کرتے—سوچیں پھر سے عقیدت کی جانب گئیں تو ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رینگ گئی
گردن ترچھی کرتے حویلی کے بند ہوتے گیٹ کو دیکھتے ضرغام خان نے گاڑی ریورس کی تھی
___________
ابھی وہ شاہ حویلی کی جانب جا ہی رہا تھا کہ رستے میں سامنے سے آتی بہرام کی کار کو دیکھتے سائیڈ پر گاڑی روک چکا تھا—
ضرغام خان کو گاڑی سے نکلتے دیکھ بہرام نے اس کے قریب کار روکی تھی—
“السلام و علیکم—خیریت تم حویلی کی طرف جا رہے ہو”—باہر نکل کر ضرغام سے بغلگیر ہوتے ہوئے استفسار کیا تو ضرغام خان نے سلام کا جواب دیتے سر اثبات میں ہلایا
“ضروری بات کرنی تھی”—ضرغام خان کے سنجیدہ لہجے پر بہرام نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلاتے اسے اپنی کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا
“کوئی مسئلہ ہوا ہے کیا”— بہرام شاہ کے سوال پر ضرغام خان نے گہری سانس بھرتے نظریں بہرام شاہ کے چہرے پر ٹکائی
“میں جانتا ہوں کہ سلوی کی شادی ارمان شاہ سے نہیں ارمغان خان سے طہ کی ہے آپ نے— سلوی سے یہ بات کیوں چھپائی میں نہیں جانتا—مگر میں یہ بات اپنے بھائی سے نہیں چھپا سکتا”— ضرغام خان کے انکشاف کرنے پر بہرام شاہ کے عنابی ہونٹوں پر گہرا تبسم بکھر گیا—
جس دن وہ حویلی گئے تھے—حدائق کے جانے کے بعد ارمغان بھی ڈرائنگ روم سے چلا گیا تھا—تب بہرام شاہ نے داجی سے ارمغان اور سلوی کے لیے بات کی تھی—وہ دنیا کی خبر رکھنے والا اپنے سے جڑے رشتوں سے کیسے بے خبر رہ سکتا تھا—
“وہ دونوں پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کو—ارمغان خان کی آنکھوں میں محبت دیکھی تھی میں نے— انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ ہم پر یقین کر کہ اپنے دل کی بات بتائیں گے—مگر چھوٹے تو چھوٹے ہی ہوتے ہیں—زیادہ سمجھدار بن رہے تھے— سو اس کی چھوٹی سی سزا اور سرپرائز بھی کہہ سکتے ہو—ویسے واقف تو تم بھی تھے چھوٹے خان کے دل کے حال سے”—دائیں جانب موڑ کاٹتے مسکرا کر کہا تو ضرغام خان نے نظریں بہرام شاہ کے چہرے سے ہٹاتے سامنے سڑک پر مرکوز کی
“وہ بھائی نے میرا بیٹا ہے—وہ کب کیا چاہتا ہے کیا سوچ رہا ہے—کس بات پر غصہ ہوتا کس پر ناراض—کب تکلیف میں ہوتا ہے کب خوش—اس کی رگ رگ سے واقف ہوں— ابھی تو وہ اپنے دل کے حال سے واقف نہیں ہوا تھا کہ اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھتے میں سمجھ گیا تھا – میں بھی شاید انتظار میں ہی تھا—اور میرا انتظار پورا ہوگیا ہے—اور آج تک میں نے اسے ایسا کوئی سرپرائز نہیں دیا جس کے ملنے تک وہ تکلیف میں رہے—اور سزا دینے کا تو مر کر بھی نہیں سوچ سکتا—میں اسے بتا دوں گا باقی چاہے تم ساری دنیا کے لیے یہ بات سرپرائز رکھ سکتے ہو”—ضرغام خان کے سنجیدہ لہجے پر بہرام شاہ نے
سر ہلایا تھا—
“سزا سے میرا وہ مطلب نہیں تھا—
میں جانتا ہوں—لیکن جو بھی ہو مجھ میں حوصلہ نہیں ہے”—بہرام شاہ کی بات کاٹتے اس بار نرم لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا
“اوو گاڈ—یہ کیا ہوا ہے ضرغام”—بہرام شاہ کی نظر ضرغام خان کی کان کی سرخ لو اور گردن پر موجود نشانوں پر پڑی تو جھٹکے سے گاڑی روکتے حیرت سے استفسار کیا
جبکہ بہرام شاہ کے ایک دم سے پوچھنے پر ضرغام خان بری طرح گڑبڑایا تھا—
“کہاں—یار کچھ بھی نہیں ہے—ویسے ہی ہوگا کچھ”—اپنے کرتے کے کالر کو ٹھیک کرتے کان اور گردن پر ہاتھ پھیرتے مسکرا کر کہتے بات بدلنی چاہی مگر بہرام شاہ کو نفی میں سر ہلاتے دیکھ ضرغام خان کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار لیں
“ایسے کیسے ہو سکتا ہے—دیکھو کس قدر سرخ پڑ رہا کان—یہاں تو ایسے جیسے کسی چیز نے کاٹا ہو”—ضرغام خان کا ہاتھ زبردستی کان سے ہٹاتے جائزہ لیتے لہجے میں فکر سموئے کہا تو ضرغام خان کو اس وقت بہرام شاہ کی یہ فکر بھی اپنی عزت کی دشمن لگ رہی تھی
اس نے تو صرف رات بھر جگایا تھا—مگر اس کی بیوی نے خود کو تنگ کرنے اور جگانے کا بہت بری طرح بدلا لیا تھا—وہ لاکھ بے باک بے شرم صحیح اب اپنے سالے کو کیا بتاتا– کہ رات اس کی بیوی شوہر کے محبت کرنے پر ویمپائر بنی ہوئی تھی—
اگر یہی سوال بہرام کی جگہ حدائق کرتا تو اسے چڑانے کی خاطر شاید وہ جواب دے بھی دیتا—مگر بہرام شاہ سے وہ چاہے لاکھ فرینک ہو جاتا—وہ اس سے بڑا تھا—ایک جھجھک تھی جو آڑے آرہی تھی— جب لڑتا تھا—تب حق سمجھ کر لڑ جاتا تھا—مگر اب جو حالات بدلے تھے—وہ ایسا چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا—
“ہاں وہ کل جنگل گیا تھا—تو رات وہی رکنا پڑا—شاید کسی چیز نے کاٹ لیا ہو”—بہرام شاہ کو بیک سیٹ سے اپنا بیگ اٹھاتے اس میں سے فرسٹ ایڈ کٹ نکالتے دیکھ کہا تو بہرام شاہ نے تاسف سے سر ہلایا
“حد ہے لاپرواہی کی کوئی خطرناک چیز ہوئی—یہ ٹیوب لگا لو—یہ سرخی تو کم ہو—اور ابھی ہاسپٹل پہنچو حدائق کے پاس اور چیک کرواؤ اسے— میں نے کام سے نا جانا ہوتا تو میں خود تمہیں لے جاتا”—کار ضرغام خان کی کار کے پاس روکتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا
“کوئی بات نہیں میں خود چلا جاؤ گا—آپ جائیں خیر خیریت سے”—کار رکتے جلدی سے باہر نکلتے ہوئے کہا—جبکہ حدائق شاہ کا سوچتے آنکھوں میں چمک اتری تھی—
“چلو سالے صاحب کو بھی اپنے حال احوال سے۔ آگاہ کیا جائے”—گردن پر دائیں جانب موجود نشانوں پر دو انگلیوں کو پھیرتے بڑبڑا کر کہتے ہاتھ میں تھامی ٹیوب کو دیکھا تو چھن سے اپنی جنگلی بیوی کا چہرہ آنکھوں کے پردے پر لہرایا تھا—
“خیر تو آج تمہاری بھی نہیں بیگم”— کان کی لو کو چھوتے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا اور گاڑی میں بیٹھتے گاڑی کا رخ حدائق شاہ کے ہاسپٹل کی جانب کیا
Episode 30
وہ ابھی وارڈ سے راؤنڈ لگا کر اپنے آفس آیا ہی تھا کہ آفس کا دروازہ کھولتے نظریں سامنے اپنی رولنگ چئیر پر سکون سے بیٹھے ضرغام خان پر گئیں
جسے دیکھتے ہی حدائق شاہ کے چہرے کے زاویے بگڑے تھے—
“اوو سالا صاحب آئیں ہیں”— ہاتھ میں پکڑی فائل کو ٹیبل پر پٹکنے کے انداز میں رکھتے دانت پیستے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے مسکراتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے سر پر باندھے—پاؤں کی مدد سے چئیر تھوڑی پیچھے کھسکا کر دونوں ٹانگیں اٹھا کر سامنے ٹیبل پر رکھی جسے دیکھ حدائق شاہ کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا—
“کہاں وہ صدا کا صفائی اور سلیقہ مند انسان اور کہاں وہ جوتے سمیت پاؤں اوپر رکھ چکا تھا—
“جوتا اتارو یا پاؤں نیچے کرو ورنہ دوسری صورت میں— مجھے تمہاری ٹانگیں توڑنے میں بالکل بھی افسوس نہیں ہوگا”— ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر ٹیبل صاف کرتے—ضرغام خان کو گھورتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا جس کا اثر لیے بنا ضرغام خان نے اپنے پاؤں کو ٹیبل پر جھٹکا تو جوتے کے نیچے خشک ہوئی مٹی جھاڑنے کے باعث ٹیبل پر گری تو حدائق شاہ نے منہ کھولے خونخوار نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا تھا
اور پھر دانت پیستے آگے بڑھ کر ضرغام کی ٹانگوں کو ٹیبل سے اٹھاتے کرسی کو پیچھے کو دھکا دیتے ایک دم سے ٹانگوں کو چھوڑا تو ضرغام خان نے بامشکل خود کو گرنے سے بچاتے گھور کر حدائق شاہ کو دیکھا جو اب پھر سے ٹیبل صاف کرنے میں مصروف تھا—
“کمینے سالے—بہنوئی سے زیادہ یہ دو ٹکے کا ٹیبل عزیز ہے تمہیں”—اپنی جانب پیٹھ کیے کھڑے حدائق شاہ کو دیکھتے دانت پیستے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے گردن ترچھی کر کہ استہزائیہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا
“بس اس سے ہی اندازا لگا لو اپنی اہمیت کا”—ہونٹوں پردل جلا دینے والی مسکراہٹ سجائے طنزیہ کہا تو ضرغام خان کے ماتھے کے بلوں میں بے شمار اضافہ ہوا تھا—جسے دیکھ حدائق شاہ محفوظ ہوتا ٹشو ڈسٹ بین میں پھینکتا واشروم ہاتھ دھونے چلا گیا—
“اگر تمہارا ہو گیا ہے تو نکلو—بہت کام ہے مجھے”—ضرغام خان کے سر پر کھڑے ہوتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
“کام سے پہلے علاج کرو میرا—فلحال تمہارے علاوہ کسی پر یقین نہیں کر سکتا—اسی لیے مجبوری میں تمہارے پاس آیا ہوں”— چہرے پر دنیا جہاں کی سنجیدگی طاری کیے پاؤں جھلاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے ٹھٹھک کر ایک دم پریشان ہوتے ضرغام خان کو دیکھا تھا
“تمہارا علاج میں کیسے کر سکتا ہوں—میں ہارٹ سپیشلسٹ ہوں اور تمہارا دماغی مسئلہ ہے—کسی سائیکالوجسٹ کے پاس جاؤں یا دماغ کے ہاسپٹل میں—وہاں نہیں تو پاگل خانے میں ضرور تمہارا علاج ہو جائے گا”— ضرغام خان کا اس قدر سنجیدہ پن ہضم نا ہوا تو سر جھٹکتے— تیز لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے مٹھیاں بھنچتے سرخ آنکھوں سے حدائق شاہ کو دیکھا
” جو اپنی بہن کے شوہر کو اتنے آرام سے پاگل خانے بھیجنے کی بات کر رہا تھا—حالانکہ یہ مشورہ اسے اپنی بہن کو دینا چاہیے تھا
“تمہیں لگ رہا ہے میں مزاق کر رہا ہوں— یہ دیکھو—کس قدر زخمی ہوں میں— اگر میں کسی اور کہ پاس جاتا تو لوگ غلط مطلب لیتے—تم تو میرے سالے ہو تم سے کیا چھپانا اسی لیے تمہارے پاس چلا آیا”—اپنے کرتے کے اوپری دو بٹن کھولتے کرسی آگے کھسکاتے کان اور گردن حدائق شاہ کے سامنے کرتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ اس اچانک افتاد پر پل کے لیے بھونچکا رہ گیا پھر مٹھیاں بھنچتے—آنکھیں بند کر کہ گہری سانس لیتے
سر جھٹک کر جیسے ہی کان اور دائیں جانب گردن پر کاٹنے کے نشان دیکھے تو سرعت سے نظروں کا زاویہ بدلہ تھا—
وہ ڈاکٹر تھا اچھے سے کسی جانور اور انسان کے کاٹنے میں فرق کو جانتا تھا—اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کسی بھی شخص کی اتنی جرات نہیں کہ ضرغام خان کے سامنے آنکھیں اٹھا سکے کجا کہ اس طرح کرنا—
سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ پیچھے ہوتے—ضرغام خان کی کرسی کو پیچھے دھکیلا تھا
“تم نکلو گے یا میں نکالوں”—حدائق شاہ کے تپے تپے لہجے پر ضرغام خان نے منہ بسور کر اسے دیکھا تھا—
“علاج نہیں کرنا تو ویسے بتا دو—اس طرح کے ڈرامے کرنے کی کیا ضرورت ہے”—کرتے کے بٹن بند کرتے لہجے میں معصومیت طاری کیے کہا تو حدائق شاہ کا دل کیا یہ ٹیبل اٹھا کر ہی ضرغام خان کے سر پر مار دیں
“اچھا سنو—اگر شادی کے بعد بھی تم نے چوبیس سے اٹھارہ گھنٹے اس ہاسپٹل میں مریضوں کے ساتھ گزار کر میری بہن کو رات رات بھر انتظار کی سولی پر لٹکانہ ہے تو رخصتی بھول جاؤ”— کچھ یاد آنے پر ضرغام خان نے سرد لہجے میں کہا تھا— کیونکہ وہ نوٹ کر رہا تھا کہ حدائق شاہ جب سے آیا تھا—ہر وقت ہاسپٹل میں ہی پایا جاتا تھا—وہ اپنے معاملے میں بہت لاپرواہی برت رہا تھا—اٹھارہ گھنٹے تو کبھی بیس وہ دن رات ہاسپٹل کو سیٹ کرنے اور نئے آنے والے ڈاکٹرز کو یہاں ایڈجسٹ ہونے میں مدد کر رہا تھا— وہ صرف یہاں نہیں جب باہر تھا تب بھی وہ اپنے پروفیشن کو لے کر اتنا ہی جنونی تھا کہ اپنی ذات تک کو فراموش کر جاتا تھا— وہ اپنی ذات کو کے لیے ٹائم نہیں نکال پاتا تھا کجا کہ گھر والوں کے لیے اور ضرغام خان کو اب اس بات پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا—
کیا صرف ہاسپٹل میں وہی ایک ڈاکٹر ہے یا سب ڈاکٹرز کی زمہ داری بھی اس نے اٹھائی ہوئی ہے
“رخصتی تو میں مر کر بھی نہیں بھولنے والا—اگر مر بھی رہا ہوا تو تمہاری بہن کو رخصت کروا کر وہاں بھی ساتھ لے کر جاؤں گا—اور رہی بات انتظار کرنے کی تو اسے دیکھے بنا تو میرا لمحہ نہیں گزرتا کجا اتنے گھنٹے— اسے تو ہر وقت میں اپنے پاس آنکھوں کے سامنے رکھو گا—یہ دیکھو—یہ روم میں نے اس کے لیے ہی سیٹ کروایا ہے—وہ میرے ساتھ ہی ہاسپٹل آیا کریں گی اور ایک ساتھ ہی ہم واپس جایا کریں گے”—ضرغام خان کو جواب دیتے آگے بڑھ کر اپنی چئیر کے پیچھے بنے دروازے کو کھولتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے کرسی گھما کر پیچھے دیکھا تھا—
جہاں خوبصورتی سے ایک کمرے کو سیٹ کیا گیا تھا
“دماغ کھسک گیا ہے کیا جو خود تو چوبیس گھٹنے یہاں رہو گے اور میری بہن کو بھی یہاں رکھو گے”—اٹھ کر دروازا بند کرتے حدائق شاہ کے سامنے کھڑے ہوتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو حدائق شاہ نے کندھے آچکائے
“جہاں ہم وہاں ہماری بیگم— تم جب جنگل میں جانوروں اور بھوتوں کے بیچ میری بہن کو لے جا سکتے ہو تو میں کیا اپنی بیوی کو ہاسپٹل بھی نہیں لا سکتا—میں نے تمہیں کچھ کہا—نہیں نا تو بہتر ہے تم بھی اپنا منہ بند رکھو”—ہونٹوں پردل جلا دینے والا مسکراہٹ سجائے ضرغام خان کو سلگاتے ہوئے کہا اور آگے بڑھ کر ضرغام خان سے پہلے کرسی سنبھالی تو ضرغام خان نے گھور کر حدائق شاہ کو دیکھا تھا—
“بھاڑ میں جاؤ کمینے انسان—اور میری بات کان کھول کر سن لو— کچھ عرصے میں میری بیوی کا یہاں آنا جانا ہوگا – سمجھ تو تم گئے ہو گے کہ کیا کہنا چاہ رہا ہوں میں— میری بیوی کے آنے سے پہلے یہاں موجود تمام میل عملہ رفع دفع ہو جانا چاہیے—یہاں صرف فی میل ڈاکٹرز اور فی میل سٹاف ہی ہوگا—مردوں کے لیے کوئی اور انتظام کر لو”— ضرغام خان کے تحکمانہ لہجے پر حدائق شاہ دل ہی دل میں عش عش کر اٹھا – جبکہ ضرغام خان کی ذو معنی بات پر چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا—جس پر دل میں ضرغام خان کو دو سو سلواتوں سے نوازا تھا
“تم بھی کان کھول کر سن لو—ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا— تمہاری بیوی کے لیے یہاں ہر طرف فی میل عملہ ہائر کروں تو میری معصوم بیوی کا کیا ہوگا—وہ تو ایک دن میں ہی اپنا خون جلا بیٹھے گی—تمہیں کیوں لگتا ہے تمہاری اس فضول بات کی وجہ سے میں اپنی بیوی کو انسکیور فیل کرواؤں گا”—ضرغام خان کے تپے تپے چہرے کو دیکھتے کندھے آچکا کر کہتے سامنے پڑی فائل کھولی تو ضرغام خان نے کینہ توز نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھا تھا—
“بات تو تم میری مانو گے—ایسے نہیں تو ویسے ہی صحیح—ایک مہینہ ہے تقریباً—تب تک یہ سب ہو جانا چاہیے”— حدائق شاہ کی جانب جھکتے زومعنی لہجے میں کہتے آنکھ دبائی تو حدائق شاہ کا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا—مٹھیاں بھنچتے—لاکھ روکنے کی کوشش کے باجود وہ ضرغام خان کے چہرے پر دائیں جانب مکہ مار چکا تھا—جس پر ضرغام خان کا دلکش قہقہہ آفس میں گونجتا حدائق شاہ کا دل جلانے کا کام کر چکا تھا—
“سی یو سالا صاحب اوو سوری فیوچر ماموں”— دروازے کے قریب جاتے پلٹ کر کہا تو حدائق شاہ نے ٹیبل پر پڑے گلاس کو اٹھا کر ضرغام خان کی جانب پھینکا تھا مگر وہ اس سے پہلے ہی باہر نکلتا دروازا بند کر چکا تھا—گلاس بند دروازے سے ٹکرا کر اردگرد زمین پر بکھرا تو حدائق شاہ نے کوفت سے بکھرے ہوئے کانچ کے ٹکروں کو دیکھا تھا—
____________
ضرغام خان نے ارمغان کو سلوی شاہ سے شادی کے بارے میں بتا دیا تھا—جس پر وہ کافی دیر بے یقینی کی کیفیت میں رہا تھا
مگر یقین آتے ہی وہ خوشی سے ضرغام خان سے لپٹ گیا تھا
جبکہ دوسری جانب بہرام نے بھی شاہ حویلی میں سلوی اور ارمغان کی شادی کا اعلان کر دیا تھا—
جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا بلکہ سب خوش تھے اس فیصلے پر
دن کافی تیزی سے گزر رہے تھے دونوں جانب ہی شادی کی تیاریاں عروج پر تھی—
مگر جہاں وہ سب خوش تھے وہی سلوی ارمغان خان کا سامنہ کرنے کا سوچتی ہلکان ہو رہی تھی—
ارمغان خان کی باتیں یاد آتی تو دل کرتا خود کو کہی چھپا لیں
کیونکہ وہ اتنا تو جانتی تھی جو اس نے کہا ہے وہ ضرور کریں گا
___________
لفٹ کا دروازا کھلا تو بالآج شاہ نے قدم باہر رکھے—
چھ فٹ سے نکلتا قد—گہری سیاہ رات سی پراسرار آنکھیں—جیل سے سیٹ کیے گئے گھنے سیاہ بال— عنابی ہونٹ جو مونچھوں تلے سختی سے بھنچے ہوئے تھے— ہلکی بئیرڈ جو اس کے وجیہہ چہرے کو اور دلکش بناتی تھی—براون پینٹ کوٹ کے ساتھ لائٹ کریم کلر کی شرٹ پہنے— چہرے اور آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی طاری کیے- وہ لاپرواہ اپنی ذات میں گم کسی مغرور شہزادے کی طرح آگے بڑھتا جا رہا تھا– جبکہ اس پاس ٹیبل پر بیٹھے کام کرتے ورکرز اسے دیکھ اٹھ کر سلام کر رہے تھے اور پیچھے تیز قدموں سے چلتے اس کے گارڈز بالاج شاہ کے تیز قدموں کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کر رہے تھے—
—وہ اپنی زیر کر دینے والی شخصیت سے باخوبی واقف تھا—
خود پر اٹھنے والی ہر نگاہ کو وہ بہت اچھے سے پہچانتا تھا—تبھی سختی سے ہونٹ بھنچے سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیتے—بنا اردگرد دیکھے وہ آگے بڑھ رہا تھا
اس کے ہر قدم پر لڑکیاں اس پر دل ہارتی تھی—وجہ اس کی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ اس کا وہ اٹیٹیوڈ بھی تھا جو کسی کو اپنے سامنے ٹکنے نہیں دیتا تھا
کہ تبھی صبغہ شاہ اپنے آفس سے کو ورکر کے ساتھ باہر نکلی تو آگے بڑھتے بالآج شاہ کے قدم بے ساختہ تھمے تھے—گردن ترچھی کرتے دو قدم پیچھے لیتے اپنے دائیں جانب دیکھا— جہاں صبغہ شاہ ہاتھ میں فائل تھامے آفس کے دروازے کے باہر اپنے کوورکر کے ساتھ کھڑی بالآج شاہ کی جانب ہی دیکھ رہی تھی—
بالآج شاہ کے دیکھنے پر صبغہ کے مسکراہٹ پل میں تھمی تھی— اس بے رحم شاہ کا اس دن کا رویہ یاد آیا تو سختی سے ہونٹ بھنچتے نظروں کا زاویہ بدلہ تھا—
جبکہ صبغہ سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑے اسد نامی شخص نے مسکرا کر بالآج شاہ کو سلام کیا تھا
جس پر بالاج شاہ نے اسے قہر بھری نظروں سے دیکھا تو بچارا سٹپٹا کر رہ گیا
“مس صبغہ میرے آفس میں آئیں”— سخت تحکمانہ لہجے میں کہا تو صبغہ نے مٹھیاں بھینچی—فائل پر گرفت سخت ہوئی تھی
“سوری سر—آج ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے—اور ابھی کچھ پوائنٹس ہیں جو کلئیر نہیں ہوئے—میں آپ سے میٹینگ کے بعد ملتی ہوں”— صاف لفظوں میں انکار کرتی وہ اردگرد کام کرتے سٹاف کو حیران کر گئی تھی—
سب بالآج شاہ کے غصے سے واقف تھے— بالاج شاہ کو انکار کرنا تو بہت دور کی بات تھی وہ تو کام لیٹ یا غلط کرنے کا غلطی سے سوچ بھی نہیں سکتے تھے—وہ جانتے تھے کہ صبغہ بالآج شاہ کی کزن ہے مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آفس آورز میں وہ صبغہ شاہ کے ساتھ ساری رشتے داری بھلا دیتا تھا— اسے بھی باقی ورکرز کی طرح ہی ٹریٹ کرتا تھا—اپنے کام کو لے کر وہ بہت پروفیشنل ٹائپ انسان تھا—صبغہ نے بھی پہلے کبھی کام میں لاپرواہی نہیں برتی تھی—مگر اس کے صاف انکار نے سب کو واقع حیران کر دیا تھا—
جبکہ صبغہ شاہ کے انکار پر بالاج شاہ کی سیاہ آنکھوں میں خون اترا تھا—ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچتے صبغہ شاہ کو دیکھا— جو اپنے جوتے کی نوک کو زمین پر مارتی سر جھکائے زمین دیکھنے میں مصروف تھی جیسے اس سے بڑھ کر ضروری کام تو ہے ہی نہیں
“مینیجر— مینیجر”— بالآج شاہ کی کرخت گرجدار آواز گونجی تو سب نے دہل کر بالآج شاہ کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھا تھا—
جبکہ صبغہ کا دل بھی بری طرح دھڑکا تھا—بے ساختہ سر اٹھایا تو نظریں خود کو قہر بھری نظروں سے دیکھتے بالاج شاہ کی آنکھوں سے ٹکرائیں تو صبغہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
“جج—جی سر”—مینیجر سر پٹ دوڑتا ہوا آیا بالآج شاہ کے سامنے مؤدب انداز میں کھڑا ہوتا لڑکھڑاتے ہوئے بولا تو بالآج شاہ نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا تھا
“آج کے بعد اگر مس صبغہ شاہ نے کوئی میٹنگ اٹینڈ کی—یا انہیں تم میں سے کسی نے اپنی میٹنگ کا حصہ بنایا—تو وہ دن تم سب کا یہاں آخری دن ہوگا—یہ صرف اس میٹنگ میں ہوگی جس میں بالاج شاہ ہوگا—یا میں کہوں گا—سمجھ آئی میری بات”—اپنے ہاتھ کو مینجر کے کان کے پاس رکھتے—اسے ایک سائیڈ پر کرتے صبغہ شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو مینیجر نے جھٹ سر اثبات میں ہلایا تھا
جبکہ صبغہ نے دانت پیستے بالآج شاہ کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی—غصے میں بنا سوچے سمجھے ساتھ کھڑے لڑکے کا بازو تھام کر ہاتھ سامنے کرتے فائل پٹکنے کے انداز میں رکھتی وہ پلٹ کر جھٹکے سے دروازا کھولتی اندر غائب ہو گئی تھی
جبکہ صبغہ شاہ کے ہاتھوں سے انجانے میں ہوا دو سیکنڈ کا یہ عمل بالاج شاہ کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا
___________
سارا وقت وہ اپنے آفس میں ہی رہی تھی— بالآج شاہ پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا—
ہاں وہ فلحال اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی غصہ تھی ناراض تھی— مگر جھوٹ تو نہیں کہا تھا اس کی سچ میں میٹنگ تھی—
گہری سانس لیتے سامنے گھڑی پر وقت دیکھا جہاں شام کے پانچ بج رہے تھے— آفس کا آف ٹائم سات بجے کا تھا—اور وہ یہاں مزید بنا کسی کام کے اور نہیں بیٹھ سکتی تھی—کیونکہ وہ میٹنگ سے پہلے ہی اپنے حصے کا کام کر چکی تھی—
تبھی ٹیبل سے اپنا بیگ اٹھاتے—وہ آفس سے باہر نکلی تھی—
مگر باہر نکلتے – وہاں کسی کو بھی نا دیکھ صبغہ شاہ کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا—
لنچ ٹائم نہیں تھا جو سب یہاں نا ہوتے تو وہ حیران نہیں ہوتی—کیا وہ تب سے آفس میں اکیلی تھی—سب کہا گئے تھے—آفس کے موت سے سناٹے میں گونجتی گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز سنتے صبغہ کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے تھے—
تبھی تیز قدموں سے وہ لفٹ کی جانب بڑھی تھی—مگر لفٹ کو کھلتے نا دیکھ چہرے کی رنگت پل میں زرد ہوئی تھی—
کیا وہ جان بوجھ کر اسے سزا دینے کے لیے یہاں بند کر گیا تھا—بالآج شاہ کے بارے میں سوچتے آنکھوں میں نمی اتری تھی—
سیڑھیوں سے جانے کا سوچتی وہ دروازے کی جانب بڑھی تو اسے لاک دیکھ صبغہ کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا
بری طرح دروازے کو پیٹتی وہ گارڈز کو بلاتی تھک ہار کر وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی
چکراتے سر کو تھامتے—نظریں اٹھائی تو دماغ میں جھماکا سا ہوا—
جھٹکے سے اٹھ کر کوریڈور سے ہوتی بالآج شاہ کے آفس کے دروازے پر جا کر کھڑی ہوئی
گہری سانس بھرتے جھٹکے سے دروازا کھولا تو نظریں رولنگ چئیر کی پشت پر سر ٹکائے آنکھیں موندیں بالاج شاہ پر گئی تو صبغہ شاہ کا غصے کے باعث چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا—
“ہاؤ ڈئیر یو—بتمیز انسان ہمت بھی کیسے ہوئی میرے ساتھ اتنا گھٹیا مزاق کرنے کی— بتاؤ مجھے کیا سوچ کر یہ سب کیا تم نے”—آگے بڑھتے بالآج شاہ کے سامنے موجود ٹیبل پر پڑی چیزوں کو اٹھا اٹھا کر اردگرد زمین پر پٹکتے نم لہجے میں چلا کر کہا مگر بالآج شاہ کو ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھے دیکھ صبغہ نے آگے بڑھتے جھک کر بالآج شاہ کا کوٹ اپنی مٹھیوں میں دبوچا تھا جس پر بالآج شاہ نے جھٹکے سے اپنی آنکھیں واہ کی تھیں
“آواز نیچے—اگر دوبارا تمہاری آواز میرے سامنے اونچی ہوئی تو کئی فٹ نیچے زمین کے گاڑھ دوں گا”—سرد ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں کہا تو صبغہ کے ہاتھوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی
جسے بالآج شاہ نے باخوبی محسوس کیا تھا—
وائٹ ٹی شرٹ کے ساتھ لونگ گرے کوٹ جس پر چھوٹے چھوٹے سلور کلر کے دائرے بنے ہوئے تھے—ساتھ بلو جینز پہنے—شہد رنگ سٹریٹ بالوں کو کھلا چھوڑیں— چہرے پر لائٹ میک اپ اور شہد رنگ آنکھوں میں سرخی لیے وہ ایک پل کے لیے بالآج شاہ کے دل میں۔ تہلکا مچا چکی تھی
مگر صبغہ شاہ کا انکار اور حرکت یاد آئی تو صبح والا غصہ پھر عود آیا تھا
تبھی صبغہ کے دونوں ہاتھ اپنے شکنجے میں لیتے—آٹھ کر جھٹکے سے صبغہ کو اپنی سیٹ پر بٹھاتے اس کا منہ دبوچا تھا—
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے سامنے زبان درازی کرنے کی— کیا سوچ کر تم نے انکار کیا تھا مجھے—ہاں— تم یہاں انٹرن شپ پر کام کرنے والی ایک معمولی ایمپلائے ہو—جس کی میری نظر میں کوئی اوقات نہیں—جب چاہے تمہیں یہاں سے نکال سکتا ہوں— آئندہ اگر مجھے انکار کرنے کے بارے میں سوچا بھی تو جان لے لوں گا تمہاری”— صبغہ کے چہرے پر جھکتے پھنکارتے ہوئے کہا تو صبغہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچتے خود کو کرسی میں گم کرنے کی کوشش کی—اپنے چہرے پر بڑھتی گرفت پر ہونٹوں سے سسکی نکلی تو صبغہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے اپنی نم آنکھیں واہ کی
“میں چاہے یہاں ایک معمولی ایمپلائے ہوں یا باہر بالآج شاہ کی کزن—مگر ایک حوالہ ہر جگہ میرے ساتھ ہے اور وہ بالآج شاہ کی منکوحہ ہونے کا ہے—اور آپ کو بہتر پتہ ہوگا کہ بالاج شاہ کی منکوحہ کی کیا اوقات ہے”— سپاٹ لہجے میں کہتی وہ بالآج شاہ کو ساکت کر چکی تھی—
آنکھیں صبغہ شاہ کی نم آنکھوں میں گاڑھتے وہ کچھ لمحے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا اور پھر آفس کی خاموش فضا میں بالاج شاہ کا قہقہہ گونجا تھا—
جس پر صبغہ نے سر اٹھائے حیرت سے بالآج شاہ کو دیکھا تھا—
ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ وہ اسے دونوں بازوؤں سے تھامتے اپنے روبرو کھڑا کر چکا تھا
“صرف منکوحہ— نا نا—— تمہیں تو اپنی بیوی بھی بنانا ہے—اور پھر تمہیں ہر شب ان چاہی بیوی اور ایک ناچاہے وجود کا احساس بھی تو کروانا ہے—تب میں نہیں تم خود اپنی حیثیت کا اندازہ لگا لو گی میرے ہر عمل سے—سنا تو ہوگا لوگوں سے شاید دیکھا بھی ہو—مرد اپنی ناپسندیدہ بیویوں سے کیسے سلوک رواں رکھتے ہیں—تم میرے لیے صرف میرے دل بہلانے کا ساماں ہو سکتی ہو—اپنی پرانی محبت کو بھلانے کے لیے میں تمہارے وجود کی رنگینیوں میں روز کھو تو سکتا ہوں—مگر تمہارا کبھی ہو نہیں سکتا”— صبغہ کے دونوں بازو پشت پر باندھتے جھٹکے سے خود میں بھنچا—جبکہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو صبغہ کے چہرے پر پھیرتے سرگوشی نما لہجے میں زہر خند الفاظ صبغہ شاہ کے کانوں میں انڈیلتا اسے ساکت کر چکا تھا—
“یہ شہد رنگ جھیل سی آنکھیں—یہ تمہارے خوبصورت گال—یہ ہونٹ—اور یہ خوبصورت جسم آب میری ہی تو ملکیت ہے”—شہادت کی انگلی کو چہرے کے نقوش پر پھیرتا گردن سے ٹریس کرتے دل کے مقام پر ہاتھ روکتے—معنی خیز لہجے میں بولتے جھک کر صبغہ شاہ کی نم آنکھوں میں جھانکا تو کئی باغی آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے صبغہ کے رخسار پر بہتے گردن میں جذب ہونے لگے—
“چچچچ—اتنے بڑے بڑے محبت کے دعوے کرنے والی اتنی جلدی ہار گئی—تم تو بالآج شاہ کو تسخیر کرنا چاہتی تھی—اس کے دل پر راج کرنا چاہتی تھی—اسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کرنے کے دعوے کرتی تھی—تمہارا تو کہنا تھا کہ اس پتھر کو موم کر دو گی—مگر تم تو ابھی سے آنسوؤں کی ندیاں بہانے لگ گئی—یہ تو میرے صرف میرے آگ برساتے الفاظ ہیں—میری وہ قربت کیسے برداشت کرو گی جس میں تمہارا یہ نازک وجود دن رات جھسلنے والا ہے—کچھ آنسوں ہماری گولڈن نائٹ کے لیے بھی بچا کر رکھ لو”— صبغہ شاہ کے کپکپاتے ہونٹوں پر بے باک جسارت کرتے آنکھ دبا کر افسوس بھرے لہجے میں کہا تو صبغہ نے ہونٹ بھنچتے اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتے بالآج شاہ کی تمسخر اڑاتی آنکھوں میں دیکھا تھا
“تب—تب مجھے تم پر یقین تھا بالآج شاہ—مجھے یقین تھا کہ تمہاری عزت بن جاؤں گی تو محبت نا صحیح تم میری عزت کرو گے— مجھے لگا تم بھی ضرغام حدائق یا عائث لالا جیسے ہوگے جو اتنی دشمنی کے باجود بھی اپنی بیویوں کی حفاظت کرتے تھے ان کی عزت کرتے تھے—تم سے تو میری کوئی دشمنی بھی نہیں—تم عزت کر لو گے تو میں تمہیں محبت کرنے پر مجبور کر دوں گی—مگر مجھے احساس ہو گیا کہ میں غلط تھی—تمہارے لیے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ میں تمہاری عزت ہوں— تمہارے لیے تمہاری آنا اہمیت رکھتی ہے جسے میں نے ٹھیس پہنچائی—تمہیں تمہری مرضی کے خلاف خود کو اپنی زندگی میں شامل کرنے پر مجبور کیا—میں نے محبت کی ہے—میں ان چاہی بیوی ہوں اور اب اس کی جو بھی تم سزا دو مجھے فرق نہیں پڑتا—تم عزت بنا کر بے عزت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہو تو مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا”—نظریں بالاج شاہ کی شرٹ کے بٹنوں پر ٹکائے سپاٹ لہجے میں کہتی وہ بالآج شاہ کو لاجواب کر گئی تھی—
مگر پہلے کبھی اس نے صبغہ شاہ کے آگے ہار مانی تھی جو اب مان لیتا—ہاں—آنا ہی تو تھی—جو صبغہ شاہ کے دل دھڑکا دینے الفاظ کے بعد بھی جھکنے کو تیار نہیں تھی
“تقریر اچھی تھی—مگر تمہاری قسمت نہیں—ایسا ہی ایک لیکچر میری میٹنگ کے لیے بھی تیار کر دینا— بٹ اس میں ایموشنز نا ہو—اور اب تمہاری اتنی خوبصورت تقریر پر خراج تو بنتا ہے”— تمسخرانہ لہجے میں کہتے آخر میں جھک کر سرگوشی کی جس پر صبغہ نے جھٹکے سے دور ہونا چاہا—مگر بالآج شاہ نے سخت نظروں سے صبغہ کو گھورتے اسے خود میں بھنچا تھا—
دوسرے ہاتھ سے صبغہ کے منہ کو دبوچتے چہرہ اپنے چہرے کے حد درجہ قریب کیا کہ صبغہ کو بالآج شاہ کی دہکتی سانسوں سے اپنی جلد جھلستی محسوس ہوئی
سپاٹ نظروں سے صبغہ کو گھورتے— سیٹی کی شیپ میں واہ ہوئے گلابی ہونٹوں کو دیکھتے بالآج شاہ کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی
تبھی وہ ٹرانس کی کیفیت میں ان پر جھکا تھا—بالآج شاہ کے لمس میں اس دن سے بھی زیادہ وحشت محسوس کرتے صبغہ نے تڑپ کر دور ہونا چاہا—
مگر لمحہ بہ لمحہ ہونٹوں پر بڑھتی گرفت پر وہ سختی سے آنکھیں میچ گئیں
آفس کی خاموش معنی خیز فضا میں صبغہ کی اتھل پتھل ہوئی سانسوں کا شور رقص برپا کر رہا تھا—
جبکہ اپنے سینے پر صبغہ کی دھڑکنوں کے شور کو محسوس کرتے بالآج شاہ نے اسے سختی سے خود میں بھنچا تھا—
جبکہ لمس میں وحشت کی جگہ نرمی نے لے لی تھی—نرمی سے صبغہ کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دباتے وہ کبھی شدت اختیار کرتا—اور کبھی بے حد نرمی سے ہونٹوں کی نمی کو چن لیتا
اپنے سینے پر صبغہ کے مکوں کو محسوس کرتے—بالاج شاہ خواب سی کیفیت سے جاگا تھا— تبھی جھٹکے سے پیچھے ہوتا وہ قدم پیچھے لیتا کہ صبغہ شاہ سینے پر ہاتھ رکھ کر گہرے سانس بھرتی سر بالاج شاہ کے سینے پر ٹکا چکا تھی
جبکہ وہ صبغہ شاہ کی اس حرکت پر وہ بے حس و حرکت اپنی جگہ ساکت کھڑا تھا—
پہلو میں گرا ہاتھ بے ساختہ صبغہ کی پیٹھ پر گیا تھا—نرمی سے پیٹھ سہلاتے بالآج شاہ نے خمار آلود نظروں سے صبغہ شاہ کے بکھرے حلیے کو دیکھا تھا
تبھی صبغہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی—شکوہ کناہ سرخ آنکھوں سے بالاج شاہ کو دیکھتی وہ اپنے بال ٹھیک کرتی چہرے کا رخ بدل گئی تھی
جس پر بالآج شاہ نے گھور کر صبغہ کی پشت کو دیکھا تھا
“آئندہ مجھے انکار مت کرنا صبغہ—ورنہ اس بار تو میں تھا یہاں—اگلی بار کوئی نہیں ہوگا—سمجھ آئی کوئی نہیں ہوگا—اور آئندہ اگر میں نے تمہیں کسی مرد کے ساتھ فری ہوتے دیکھا— تو وہی زندہ گاڑھ دوں گا—بالآج شاہ کی عزت ہو تم—اور اپنی عزت کا تماشہ بنانے کی تمہیں بالکل اجازت نہیں دیتا—جس دن تمہاری وجہ سے میری عزت پر انگلی یا سوال اٹھا وہ دن تمہارا میری زندگی میں اور دنیا میں آخری دن ہوگا”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے صبغہ کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے
جبکہ وہ کٹی پتنگ کی طرح بالآج شاہ کے ساتھ کھنچتی چلی جا رہی تھی—
__________
شادی کی تقریباً باقی سبھی تیاریاں ہوگئی تھیں—اب جو شاپنگ بچی تھی وہ تھی ان سب کی شادی کے دنوں میں پہننے والے کپڑوں کی جس کا ان سب نے ایک ساتھ جا کر کرنے کا پلین کیا تھا—
ضرغام اور عقیدت اپنی کار میں— عائث اور حوریہ— جبکہ ارمغان خان کے ساتھ پلوشہ اور امتثال خان حویلی سے نکلے تھے
جبکہ ان کی گاڑیوں کے آگے پیچے اور اطراف میں اسلحہ سے لیس گارڈز جیپ میں ان کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے—
جبکہ دوسری جانب شاہ حویلی سے بہرام شاہ اور حدائق کے ساتھ صبغہ اور سلوی شاہ ایک گاڑی میں جب کے بالآج شاہ اپنی گاڑی میں اور گارڈز ان کے آگے پیچھے اور اطراف سے ان کے ہمراہ نکلے تھے—
لڑکیوں نے تو مال جانے کا پلین بنایا تھا—مگر ضرغام اور حدائق نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہاں بہت لوگ ہوگے—اور دوسرا ان کے ساتھ اتنے گارڈز دیکھ لوگ بھی ان کمفرٹیبل ہوگے اور وہ خود بھی
جس پر عائث خان نے اپنے انڈسٹری کے مشہور ڈیزائنر سے بات کر کہ اسے شادی کے لیے بارہ لوگوں کے لیے کپڑے ڈیزائن کرنے کا آڈر دیا تھا
اور آج سب نے اسی بوتیک پر جانا تھا—جبکہ عائث خان کا کہنا تھا جیولری اور باقی شاپنگ کے لیے بھی وہ انتظام کر چکا ہے جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا—
بوتیک کسی روڈ پر نہیں بلکہ سوسائٹی ایریا کے اندر تھا جس وجہ سے وہاں باہر لوگ نا ہونے کے برابر ہی تھے
سب سے پہلے بہرام لوگ پہنچے تھے—گارڈز کو باہر رکنے کا اشارہ کرتے وہ پانچوں اندر کی جانب بڑھے تھے
ان کے اندر جانے کے دس منٹ بعد ضرغام لوگ وہاں پہنچ چکے تھے—
گاڑیوں سے اترتے ضرغام خان نے کچھ گارڈز کو باہر رکنے اور کچھ کو اندر ساتھ چلنے کا اشارہ کیا تھا
وہ سب ایک دوسرے کی ہمراہی میں اندر داخل ہوئے تو بوتیک میں کام کرتا سٹاف تو لمحے کے لیے بھونچکا رہ گیا تھا
“تم نے اپنی مرضی سے جو شاپنگ کرنی ہوئی کر لینا—مگر شادی پر تم وہی پہنو گی جو میں تمہارے لیے خریدوں گا”— حوریہ کا ہاتھ تھامے اس کی جانب جھکتے سرگوشی کی تو حوریہ نے چونک کر عائث خان کو دیکھا تھا—
ضرغام عقیدت کا ہاتھ تھامتا اس کے لیے ڈریسز دیکھنے آگے بڑھ گیا تھا
جبکہ امتثال پلوشہ کا ہاتھ تھامتی اپنے اور اس کے لیے ڈریسز دیکھنے میں مصروف ہوگئی تھی
“ایمی—حدائق بھی آئیں ہیں کیا”— امتثال کی جانب جھکتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو امتثال نے سر اثبات میں ہلایا
جبکہ امتثال کا بہرام شاہ کے بارے میں سوچتے دل بے ساختہ دھڑکا تھا
جبکہ ان سب کو ایک دوسرے میں مصروف دیکھ ارمغان خان سر جھٹکتے اپنے لیے ڈریس دیکھنے لگا—
“تو رک میں ذرا پلوشہ کو دیکھ کر آتا ہوں”— کریم کلر کی شیروانی واپس ہینگ کرتے بہرام شاہ سے کہتے قدم دائیں جانب بڑھائے تو بہرام شاہ نے نفی میں سر ہلاتے اپنے لیے شیروانی دیکھنا شروع کی
“تمہارا کیوں منہ بنا ہوا ہے—اتنے اچھے تو ڈریس ہیں اور یہ سب تو ابھی مارکیٹ میں آئیں بھی نہیں عائث لالا کے کہنے پر خاص ہمارے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں”—صبغہ نے اپنے ساتھ کھڑی سلوی کو گھورتے ہوئے تیز لہجے میں کہا تو سلوی نے بے ساختہ سر نفی میں ہلایا تھا—
“وہ ارمغان—وہ ناراض ہے مجھ سے”— گلاس ڈور کے دوسری جانب اپنے لیے ڈریس دیکھتے ارمغان خان کو دیکھتے مدھم لہجے میں کہا تو صبغہ نے اپنی پشت پر نظروں کی تپش محسوس کرتے پلٹ کر دیکھا تو بالآج شاہ کو خود کو گھورتے دیکھ سلوی کا ہاتھ تھاما
اور پھر وہ بالآج شاہ کی گھوریوں کو نظر انداز کرتی سلوی کہ نا نا کرنے کے باوجود گلاس ڈور دھکیلتی ارمغان خان کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی—
جس پر بالآج شاہ نے کینہ توز نظروں سے صبغہ شاہ کو گھورا تھا
“ایکسکیوزمی ہونے والے جیجا جی—ہماری لڑکی تھوڑی کنفیوژ ہے—کیا آپ اپنی ہونے والی بیوی کی شاپنگ میں تھوڑی ہیلپ کر دیں گے”— اپنی پشت پر کسی لڑکی کی آواز سنتے ارمغان خان حیرت سے پلٹا تھا—مگر اپنے سامنے صبغہ شاہ کے ساتھ سر جھکائے مسلسل اپنا ہاتھ چھڑواتی سلوی شاہ کو دیکھ سختی سے جبڑے بھنچے تھے—
“مجھ سے پوچھنے سے بہتر ہیں آپ ان سے پوچھ لیں— کیا پتہ یہ اپنے لالا کو کسی اور کے ساتھ شاپنگ کرنے کا بتا چکی ہو—ان کا پلین کچھ اور ہو اور میری وجہ سے سب خراب ہو جائے”— نظریں سلوی شاہ کے جھکے سر پر ٹکائے سپاٹ لہجے میں کہا تو سلوی شاہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر گرے نم آنکھوں سے ارمغان خان کو دیکھا تھا جسے دیکھتے ارمغان خان نے سرعت سے نظریں پھیریں تو بائیں جانب خود کو دیکھتے بالآج شاہ کو دیکھ چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائی
تبھی بالآج شاہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں آیا تھا—
“ہوگئی تمہاری شاپنگ— اگر تم سلوی کے ساتھ شاپنگ کرنا چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں—تم دونوں کا سپشل ڈے ہیں—اگر ایک دوسرے کی پسند سے شاپنگ کرنا چاہتے ہو تو کر لو”—سلوی شاہ کو بانہوں کے گھیرے میں لیتے—ارمغان خان سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا
“اگر آپ برا نا مانیں لالا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں”—ارمغان خان کے مسکرا کر کہنے پر بالآج شاہ نے سلوی کے سرپر ہاتھ رکھتے اسے جانے کا اشارہ کیا اور خود پلٹ کر صبغہ شاہ کا ہاتھ دبوچتے قدم دوسری جانب بڑھائے
__________
“بہت دکھ ہو رہا ہوگا نا مجھ سے شادی کا سن کر—تمہارے سارے ارمان تو اس ارمان کے ساتھ ادھورے رہ گئے—تو ایسا کرو یہ سفید رنگ پہن لینا شادی پر—میں تمہیں خود پر اور تمہارے ارمانوں پر ماتم کرنے کا پورا حق دوں گا”— سفید کلر کا لہنگا سلوی شاہ کی جانب کرتے زہر خند لہجے میں کہا تو سلوی نے اردگرد نگاہ دوڑاتے کسی کو اپنی جانب متوجہ نا پا کر ارمغان خان کا بازو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما تھا—
“ایم سوری ارمغان—مم—یں نے جان بوجھ کے نہیں کیا—آئی پرامس آئندہ ایسا مزاق بالکل نہیں کروں گی”—سلوی شاہ کی بات پر ارمغان خان نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا تھا
وہ جو سننا چاہتا تھا اس نے پھر وہ نہیں کہا تھا— اس کے لیے بس مزاق کی معافی مانگنا ضروری تھا—وہ تکلیف جو ارمغان خان نے اسے کسی اور کے ہوجانے کا سن کر محسوس کی تھی وہ بات تو شاید اس کے لیے معنی ہی نہیں رکھتی تھی
“اب میں تمہیں اس قابل چھوڑو گا تو پھر نا—ایک بار میری دسترس میں آجاؤ—اپنی ساری اذیت تکلیف دکھ کھوجانے کا ڈر جو کچھ بھی میں نے محسوس کیا تھا وہ تمہارے وجود پر نا اتارا تو میرا نام بھی چھوٹا خان نہیں— مجھے ٹھکرا کر جو بدلہ لیا نا تم نے سود سمیت تم سے وصول کروں گا”—سلوی شاہ کا ہاتھ دبوچتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو سلوی نے تڑپ کر ارمغان خان کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھا تھا—
تبھی سلوی کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑتا وہ آگے بڑھتا کئی جوڑے نکالتا وہاں کھڑی فی میل ورکر کو پکڑا چکا تھا—
_________
“عائث یہ رہنے دیں—یہ میں کیسے شادی پر پہن سکتی ہوں”— انڈین ڈیزائن کی بنی ساڑھی کو دیکھتے حوریہ نے بری طرح لب کاٹتے مدھم لہجے میں کہا تو عائث خان نے گھور کر اسے دیکھا تھا—
“شادی پر تمہیں دوپٹے کے بغیر نا گھومنے دوں کجا کہ یہ ساڑھی پہن کر—یہ تم ہمارے روم میں پہنو گی— اور مجھے لگتا ہے تمہیں ایسی ساڑھیاں روز ہمارے روم میں پہننی چاہیے—نائٹیز وغیرہ اٹریکٹ نہیں کرتی مجھے— ساڑھیاں پسند ہیں مجھے—اور ایسی ساڑھی تم پہنو گی تو مجھے یقین ہے میرا دل میرے قابو میں نہیں رہے گا—اگر تم مجھے خوش کرنے کے لیے نائٹی بھی پہنو گی تو یقین مانو بندہ چاروں خانے چت ہوگا”— عائث خان کی بے باک باتوں سے حوریہ نے گھبرا کر اطراف میں دیکھا تھا مگر وہاں کسی کو نا پا کر عائث خان کے ہاتھ میں تھامی ساڑھی کو دیکھا تھا—جو بیک سے تو نا ہونے کے برابر تھی—اور حوریہ کو یقین تھا کہ جتنا اس کے بلاؤز کا سائز ہے وہ اس کی کمر کو چھپا تو ہر گز نہیں سکتا—مگر اپنے میسنے خان کو اس ساڑھی کا ایکسرے کرتے دیکھ حوریہ نے وہاں سے فرار ہونا چاہا تھا جس پر عائث خان نے اپنا بازو حوریہ کی کمر پر لپیٹے اسے جھٹکے سے خود میں بھنچا تھا—
“میں یہ واہیات ساڑھی مر کر بھی نہیں پہنوں گی”—عائث خان کی بانہوں میں مچلتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو عائث خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“میرے ساتھ ایک لیڈی سنگر نے دو فلموں کے گانے ریکارڈ کیے تھے—تب وہ ایسی ساڑھیاں پہن کر آتی تھی—اور قسم سے اتنی ہاٹ لگتی تھی کہ خود پر قابو پانا مشکل ہو جاتا تھا—جب وہ گانا ریکارڈ کرتے سر لگاتی آنکھیں بند کرتی تھی—تب میری نظریں اس کی پتلی کمر کے بل پر اٹک جاتی تھی—دل بے ایمان”—تھوڑی حوریہ کے کندھے پر ٹکائے گھمبیر لہجے میں کہتا وہ حوریہ کو پل میں اشتعال دلا گیا تھا
ابھی وہ بات مکمل کرتا کہ حوریہ جھٹکے سے پلٹی تھی—
“خبردار آپ نے ایک اور لفظ بھی اس کے بارے میں کہا— میں آپ کا سر پھاڑ دوں گی—میں ساڑھی بھی لوں گی اور نائٹی بھی مگر میری شرط ہے—کہ آپ صرف مجھے دیکھیں گے—اس چڑیل کو اس کی کمر کو ہمیشہ کے لیے بھول جائیں گے— اور صرف میری تعریف کریں گے”—غصے سے سرخ ہوتی ناک کو پھلائے انگلی اٹھاتے ایک سانس میں کہتی وہ ابھی پلٹتی کہ عائث خان نے مسکراتے ہوئے اپنے دونوں بازو حوریہ کی کمر پر باندھے تھے
“سوچ لو— روز پہننی پڑے گی—ایک دن نائٹی اور ایک دن ساڑھی—ورنہ مجھے دوبارا آفر ہوئی ہے فلم کے لیے سونگ ریکارڈ کرنے کی اور اس میں وہ بھی ہوگی— میں وعدہ کرتا ہوں اگر تمہاری کمر پر میرا دل آگیا تو میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی کمر کو بھول جاؤں گا”— لفظ کمر پر زور دیتے آبرو آچکا کر کہا تو حوریہ نے شکوہ کناہ نظروں سے عائث خان کو دیکھا تھا—
“میری کمر زیادہ پیاری ہے اور میں تو سمارٹ بھی ہوں— میں روز پہنوں گی—لیکن پھر آپ”—انگلی اٹھا کر تنبیہہ لہجے میں کہتی ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ عائث خان نے جھک کر نرمی سے حوریہ کے ہونٹوں کو چھوا تھا—
اس دن عائث خان نے حوریہ سے بات کرنے کا سوچا تھا—وہ اب اپنا رشتہ آگے بڑھانا چاہتا تھا—مگر پھر کچھ سوچ کر وہ رک گیا تھا وہ حوریہ کو شادی تک کا خود کو مینٹلی اس شروعات کے لیے ریڈی ہونے کا وقت دے چکا تھا—اس کا کہنا تھا اس شادی پر وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز کرے گا—وہ حوریہ کو ایک دفعہ پھر اپنے لیے دلہن کے روپ میں سجا ہوا دیکھنا چاہتا ہے
“وہ تو میں خود جائزہ لے کر بتاوں گا تمہیں— ویسے جیسے تم ڈائٹ کرتی ہو مجھے امید ہے کہ تمہارا گھر بہت کمال کا ہوگا”— حوریہ کے کان کی جانب جھکتے بے باک لہجے میں سرگوشی کی تو حوریہ کا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا—
____________
“اوو ہوں— یہ تمہیں فٹ نہیں ہوگا کچھ اور دیکھ لو”—فراک کی جانب عقیدت کے بڑھتے ہاتھ کو تھام کر روکتے ہوئے کہا تو عقیدت نے چونک کر ضرغام خان کو دیکھا—
“ابھی دیکھنے تو دو—تمہیں کیسے پتہ کہ فٹ ہو گا یا نہیں”—سر نفی میں ہلاتے دوبارا اس فراک کو دیکھنا چاہا تو ضرغام خان نے پھر سے عقیدت کا ہاتھ تھاما جس پر عقیدت نے گھور کر ضرغام کو دیکھا تھا—
“یار کل رات میں نے غور سے تمہارے فگر کو دیکھا تھا—تب مجھے غور کرنے پر پتہ چلا کہ تم موٹی ہو رہی ہو—اور اس فراک میں تو تم کبھی بھی پوری نہیں آؤ گی”— ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے شوخ لہجے میں کہتا وہ عقیدت کو آگ لگا چکا تھا—
“کیا مطلب ہے تمہارا—کہاں سے موٹی ہوں میں— رات جب اپنی منمانیاں کرنی ہوتی ہے تب تمہیں میرا چہرہ چاند سا جسم سے صندل کی خوشبو اور فگر میرا تراشا ہوا شاہکار لگتا ہے اور اب تمہیں ایک ڈریس لے کر دینی پر گئی تو میں موٹی ہو گئی ہوں”— ضرغام خان کے سینے پر مکہ برساتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو ضرغام خان کے پیچھے ہوتے قدم عقیدت کے چپ کرنے پر تھمے تھے—
“یار سوری نا—— کل شاید میں نے دور سے دیکھا تھا—آج قریب سے دیکھ کر بتاؤں گا—اور پھر جہاں سے موٹی لگی تمہیں اسی ٹائم بتا دوں گا—مگر پھر آج رات کل کی طرح نخرے نا کرنا—ورنہ میں ڈسٹرب ہوگا اور ٹھیک سے”— اپنے بے باک لفظوں سے وہ عقیدت کو سر تا پیر سرخ کر چکا تھا—ابھی وہ اپنی زبان کے جوہر دکھاتا کہ عقیدت نے آگے بڑھتے اپنی ہتھیلی ضرغام خان کے ہونٹوں پر رکھی تھی جسے شدت سے چومتے ضرغام خان نے اپنے سینے پر دل کے مقام پر رکھا تھا
“آج رات—ایسا سوچنا بھی مت— جب تک شادی ختم نہیں ہو جاتی تم میرے پاس بھی نہیں بھٹکو گے—اگر تم نے میرے قریب آنے کی کوشش بھی کی تو ضرغام میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی”— ضرغام خان کے پاؤں پر اپنا ہیل والا پاؤں مارتے تنبیہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا تھا
“ایسی کی تیسی تمہارے ایسے حکم کی— میری بیوی میری مرضی—اور سنو—میں کہہ رہا ہوں کہ میرے لیے کافی زیادہ شرٹس ہی دیکھ لو”— آگے بڑھتی عقیدت کا ہاتھ تھام کر رخ اپنی جانب کرتے ہوئے کہا تو عقیدت نے پہلی بات پر گھور کر دیکھا جبکہ شرٹس کا سن کر سر اثبات میں ہلایا تھا
“پوچھو گی نہیں کیوں”— عقیدت کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت نے آبرو آچکا کر سوالیہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا—
“یار—رات جب تم میری شدتوں سے نڈھال ہر کر میری بانہوں میں اپنا بکھرا وجود لے کر سمٹتی ہو—اور پھر جب تم میری شرٹس یا کرتا پہنتی ہو تو میری جان لبوں پر لے آتی ہو—تب میرا دل کرتا ہے تمہیں کچا کھا جاؤں—اور ویسے بھی مجھے لگتا ہے تم اپنے ڈریسز سے زیادہ میری شرٹس میں اچھی لگتی ہو—ہاٹ لائک کافی—سمودھ لائک بٹر—سویٹ لائک ہنی— سور لائک ٹیمرنڈ—آینڈ ڈائٹ ٹائم میرا دل تمہیں سچ میں کھا جانے کا کرتا ہے—تو شرٹس لینا تو بنتا ہے نا کیونکہ پہلے والی تم تقریباً سبھی پہن چکی ہو”— ہینگ کیے کپڑوں کی اوٹ میں ہوتے—عقیدت کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھرتے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کرتے جھک کر چہرہ عقیدت کی گردن میں چھپاتے شدت بھرا لمس چھوڑتے—پیچھے ہوتے عقیدت کی جھکی آنکھوں پر لمس چھوڑا
“وہ تھی ہی کتنی—شرٹس تو تم پہنتے ہی نہیں—اب وہ جو تھی میں نے پہن لی تو کیا ہوگیا”— ضرغام خان کی جذبے لٹاتی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ناک سکیڑ کر کہا تو ضرغام خان نے مسکرا کر عقیدت کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹایا
“اسی لیے تو کہہ رہا ہوں— میرے لیے خرید لو”— گھمبیر لہجے میں کہتے جھک کر شدت سے عقیدت کے پھولے گالوں کو چھوا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا جہاں یہاں آکر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا تھا-
