Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 10)Part 1,2

Maan Yaram by Maha Gull Rana 

آج ان کا ولیمہ تھا—جو کہ بہت بڑے پیمانے پر ہونا طہ پایا تھا

مگر بہرام شاہ نے ولی خان سے بات کی کہ ابھی صرف چھوٹی سے رسم کر لیتے ہیں—ایک بار حدائق اجائے تو

تب سب کا ایک ساتھ گرینڈ ولیمہ کریں گے— وہ پہلے اپنی بہنوں کی شادی میں شریک نہیں ہو سکا—

تو ولیمہ حدائق شاہ کے آنے پر ہی کریں تو زیادہ بہتر ہے—جس پر ولی خان نے ٹال مٹول کرنے کی کوشش تو کی مگر ضرغام خان نے حامی بڑھ لی

اب ولیمے میں چند قریبی رشتہ دار اور عائث خان کے کچھ جاننے والے شرکت کرنے والے تھے—

کیونکہ ان میں سے کچھ بیرون ممالک سے بھی آئیں تھے— تو انہیں اس وقت انکار کرنا مناسب نہیں لگا

بیوٹیشن تھوڑی دیر پہلے عقیدت کو تیار کر کہ گئی تھی—ابھی وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی کہ موبائل کی چنگاڑتی آواز پر چونک کر دائیں جانب ٹیبل پر پڑے موبائل کو دیکھا

موبائل پر ان نون نمبر دیکھ عقیدت نے کال اٹینڈ کرتے موبائل کان سے لگایا

“السلام و علیکم عقیدت شاہ از سپیکنگ ہئیر”—نرم لہجے میں سلام کرتے ایک نظر آئینے میں دیکھا

سکن کلر کی میکسی جس پر سلور کلر کا کام ہوا تھا—بالوں کا جوڑا بنا کر اس پر نیٹ کے سکن دوپٹے کو سیٹ کیا گیا تھا جو کہ میکسی کے ساتھ پیچھے زمین پر پھیلا ہوا تھا—کانوں میں ڈائمنڈ کے ایرنگز پہنے—گلے میں ضرغام خان کا منہ دکھائی میں دیا پینڈٹ پہنے—

نفاست سے کیے گئے میک اپ کے ساتھ عقیدت شاہ کوئی شہزادی ہی لگ رہی تھی—

وہ اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی کہ خود کو نجانے کتنی بار دیکھ چکی تھی— اور اب ضرغام خان کے ردعمل کے بارے میں سوچ کر دل کہ دھڑکنیں بے ساختہ بڑھیں تھیں—

ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی کہ موبائل سے آتی چنگاڑتی ہوئی آواز عقیدت کو ہوش کی دنیا میں لائی

“بہری ہوگئی ہو کیا—یا ضرغام خان نے رات میں ہی ہوش ٹھکانے لگا دیے ہیں جو اب زبان تالوں سے چپکی ہوئی ہے”— مبین بیگم کے سرد لہجے اور گھٹیاں بکواس پر عقیدت نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی

“اپنی گھٹیاں زبان کو لگام دیں سوتیلی ساسوں ماں—میرے ہوش ٹھکانے لگانے کا تو پتہ نہیں مگر جب ضرغام خان کو یہ پتہ چلے گا کہ اس کی بیوی کے ساتھ آپ نے اس لہجے میں بات کی ہے تو یاد رکھیئے گا زبان گدی سے کھینچ لے گا وہ آپ کی –

ضرغام کو چھوڑیں اگر یہ بات آپ کے سگے بیٹے کو پتہ چلی کہ آپ نے اس کے بڑے بھائی کی بیوی کے ساتھ کس گھٹیا لہجے میں بات کی ہے تو لحاظ وہ بھی نہیں رکھے گا آپ گا – اسی لیے تمیز کے دائرے میں رہے تو آپ کے لیے بہتر ہے”—سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو عقیدت کی بات پر مبین بیگم نے بری طرح پہلو بدلا

دل تو ان کا چاہ رہا تھا کہ دونوں بہنوں کو زندہ قبر میں اتار دیں—مگر وہ مقدس بیگم کی طرح خود میں یہ حوصلہ نہیں رکھتی تھی—

مقدس بیگم کو بیٹا چھوڑ بھی دے تو پورا خاندان ان کے پاس ہے—مگر مبین بیگم کے پاس تو صرف سسرال ہے اور وہ بھی نا ہونے جیسا—میکے کو تو وہ شوہر کے قتل کے بعد ہمیشہ کے لیے چھوڑ چکی تھی –

میکے میں بھی کون تھا ایک بھائی اور اس کی بیوی—بھائی کو بھی گزرے اب تو سالوں ہو چکے تھے—

باقی بچتی تھی بھابھی اور اس کی بیٹی صبغہ شاہ—ان دونوں سے وہ ویسے رابطہ رکھنا پسند نہیں کرتی تھی

“یہ جو غرور ہے نا تمہیں عقیدت شاہ یہ تمہارا شوہر ہی توڑے گا—بہت ہواؤں میں اڑ رہی ہو—مگر تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہارے شوہر نے کیا چال چلی ہے—

کیوں شادی کے لیے تمہارے بھائی کے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا—اپنے شوہر سے پوچھو تو تمہاری نند کہاں منہ چھپائے بیٹھی ہے – ہنہہ— پوچھ لو تمہارے بھائی کے لیے راضی بھی ہے ان کی بہن یا نہیں – ایک تم دونوں بے شرم بہنیں ہو جنہیں اپنی عزت نفس عزیز نہیں –

تایا کے قاتلوں کی سیج سجانے آگئیں ہیں—دیکھ لینا ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کہ نا پھینکا تو میرا نام بھی مبین شاہ نہیں –

میرا بیٹا جس کے آگے پیچھے دنیا بھر کی لڑکیاں گھومتی ہیں—وہ گاؤں میں پل بڑھ کر بڑھی ہونے والی لڑکی کو منہ لگائے گا—

صرف بدلا لیا ہے انہوں نے – شاہوں کی عزت کو اپنے طریقے سے روندہ ہے “— مبین بیگم کے زہر میں ڈوبے لفظوں کو سن عقیدت نے بے ساختہ ڈریسنگ ٹیبل کو تھاما

وہ جانتی تھی کہ یہ سب جھوٹ ہے—مگر پلوشہ کا کل سے سامنے نا آنا دل کو کسی انہونی کا پتہ دے رہا تھا

آنکھوں کے سامنے حدائق شاہ کا وجیہہ چہرہ لہرا گیا

یہ شادی یہ رشتہ—یہ سب کچھ اپنے بھائی کے لیے ہی تو کیا تھا—

کہ اس کے بھائی کی محبت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نا بنے—تا کہ خان خاندان کے پاس انکار کا کوئی جواز نا ہو

اسی لیے تو پہل کی تھی اس نے—ضرغام سے تو وہ رشتہ ویسے بھی توڑنا نہیں چاہتی تھی—مگر رخصتی کا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا

اس رشتے کو رخصتی تک وہ صرف اپنے بھائی کے لیے لائی تھی

” ضرغام یا عائث ہمارے ساتھ چال سکتے ہیں—ہمیں دھوکہ دے سکتے ہیں—مگر یہ مت بھولیں مبین شاہ – میرے بھائی ان کے ایسا کرنے پر قیامت برپا کر دیں گے—خان خاندان کو صفہ ہستی سے مٹانے میں پل نہیں لگائیں گے—میرے بھائی ہی کیوں اگر ضرغام خان نے میری پیٹھ پر وار کیا تو میں اپنے ہاتھوں سے اس کی جان لوں گی—

اگر ہماری طرف عزت سے ہاتھ بڑھایا گیا تو ہم نے بھی عزت اور مان سے اسے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھاما ہے—بنا کسی سازش کے – مگر اگر اس کے پیچھے کوئی گھٹیا سازش ہوئی تو آپ دونوں سوتنوں کے بیٹوں سے پہلے آپ دونوں کا حشر بگاڑ دوں گی میں—

کیونکہ بیٹوں کی پرورش کرنا—انہیں صحیح غلط کہ پہچان کروانا—عورت کی عزت کے معنی سمجھانا—اسے محافظ بننے کی تربیت دینا ماں کا فرض ہوتا ہے—

اگر ان دونوں نے اپنی بیویوں کو دشمنی کا مہرہ بنایا بھی ہے تو اس کے پیچھے آپ دونوں کی تربیت کا ہاتھ ہے—

تو اسی لیے میں پہلے اسی ہاتھ کو بازو سے الگ کروں گی – اور پھر جس زبان نے ہمارے خلاف ان کے کانوں میں زہر اگلا ہے اس زبان کو گدی سے کھینچ کر کتوں کے آگے ڈالوں گی—میرے ٹشو پیپر بننے کی فکر نا کریں— بلکہ اپنے جسم کی فکر کریں جسے میں جنگلی جانوروں کا کھانا بناؤں گی”— ڈریسنگ ٹیبل کی سطح پر سختی سے ہاتھ جمائے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو مبین بیگم نے ہڑبڑا کر موبائل کو کان سے پیچھے کیا

عقیدت کے آگ اگلتے لہجے نے سچ میں ان کی روح فنا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی—

“کک—کس بات کا غغ-غرور ہے تمہیں—یہ اکڑ کس بات کی ہے—تت—تم جانتی نہیں مجھے”—لڑکھڑاتے لہجے میں تنک کر کہا تو عقیدت کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی

“جانتے تو آپ لوگ نہیں مجھے— صرف اپنے شوہر کی محبت اور شدتوں کے آگے کمزور پڑ رہی ہوں—مگر آپ لوگوں نے تو بزدل ہی سمجھ لیا—یا یہ کہ عقیدت ماضی

بھول گئی ہے—حرف بہ حرف یاد ہے مجھے—

اور رہی بات غرور اور اکڑ کی وہ تو خاندانی ہے—خون میں شامل ہے میرا کوئی قصور نہیں–

ہونٹوں پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے—آنکھیں میچیں طنزیہ لہجے میں قہقہہ لگا کر کہتی ایک دم سے

ابھی عقیدت کوئی جواب دیتی کہ وہ فون رکھ چکی تھی

جس پر عقیدت نے مسکرا کر سر جھٹکتے موبائل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے جونہی نظریں اٹھائی تو دھک سے رہ گئی

—————–

آئینے میں نظر آتا ضرغام خان کا عکس عقیدت کے چودہ طبق روشن کر چکا تھا—

گلے میں بے ساختہ گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی—

وجہ اپنا لہجہ یا غصہ نہیں تھا—

جبکہ ڈارک بلیو پینٹ کوٹ کے ساتھ—وائٹ شرٹ پہنے—بالوں کو جیل سے سلیقے سے سیٹ کیے—دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں پھنسائے—بند دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا——سر جھٹکتا ٹیک ہٹا کر سیدھا کھڑا ہوا—

عقیدت کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے مضبوط قدم لیتا درمیان میں موجود فاصلے کو سمیٹتے عقیدت کی پشت پر آکر کھڑا ہوا

اپنے بالوں پر کھچاؤ محسوس کر کہ عقیدت نے گردن موڑتے پیچھےثکی جانب دیکھا تو ضرغام خان کے جوتوں میں مقید پاؤں کو اپنے زمین پر پھیلے دوپٹے پر دیکھ آنکھیں میں غصہ و جھنجھلاہٹ در آئی تھی

“پاگل ہو—سرا دوپٹہ خراب کر دیا میرا—یہ دیکھو تمہارے جوتے کے نشان—اففف دوپٹہ کچھنے کی وجہ سے میرے بالوں میں درد ہو رہا ہے—اتنی مشکل سے سیٹ کیا تھا ضرغام—تمہیں اللہ پوچھے سب خراب کر دیا—دیکھو جوڑا لوز ہوگیا ہے—یہی حال کرنا تھا تو کوئی اور ڈریس لے لیتے”—اپنے جوڑے اور دوپٹے سے نکلی پنز کو بامشکل سیٹ کرتے روہانسی لہجے میں کہا تو وہ جو بنا نیچھے دیہان دیے پیچھے ان کھڑا ہوا تھا سرعت سے کئی قدم پیچھے ہوا تھا–

اور عقیدت کے غصے پر بامشکل مسکراہٹ کو ضبط کیا

“کچھ نہیں ہوا بیٹھو یہاں میں کر دیتا ہوں—واویلا مچانے کی ضرورت نہیں—بیٹھو سکون سے”—عقیدت کو کندھوں سے تھامے زبردستی کرسی پر بیٹھایا

پیچھے ہو کر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر میکسی اور دوپٹے ٹھیک کر کہ دوبارا سے پھیلایا

اپنی جیب سے رومال نکال کر عقیدت کے دوپٹے پر اپنے جوتے کے ہلکے سے نظر آتے نشان کو اچھے سے صاف کر کہ رومال دوبارا جیب میں رکھا

دوپٹہ ایک سائیڈ پر کر کہ عقیدت کی پشت پر کھڑا ہوا

نظریں آئینے میں نظر آتے عقیدت کے روہانسی چہرے پر گئیں تو بمشکل اپنے قہقہے کو ضبط کیا تھا

“رونے والی کیا بات ہے اس میں عقیدت—ایک تو تم لڑکیاں بڑی بڑی باتیں اتنی خاموشی سے سہہ جاتی ہو— مگر بات جب تم لوگوں کے میک اپ اور کپڑوں کی اجائے تو چھوٹی چھوٹی بات پر رونے لگ جاتی ہو— میں ہوں نا کر رہا ہوں نا ٹھیک—تو بس پھر ہو جائے گا—اپنی یہ رونی شکل کو ٹھیک کرو—”— تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا اور آخر میں عقیدت کے منہ بسور نے پر ٹوکتے ہوئے کہا تو عقیدت نے نظروں کا رخ پھیر لیا

جبکہ ضرغام تاسف سے سر ہلاتے اپنے کام کی جانب متوجہ ہوا—عقیدت کے جوڑے پر سیٹ ہوا دوپٹہ اتار کر اپنے بائیں بازو پر رکھا—لوز ہوئے جوڑے کو کھول کر گولڈن گھنے بالوں کو کمر پر کھلا چھوڑ دیا—دوپٹے کو دوبارا سے سر پر رکھتے پنزز سے اچھے سے سیٹ کرتے مسکرا کر عقیدت کے جھکے سر کو دیکھا

“ناؤ اٹس پرفیکٹ جسٹ لائک مائے بیوٹیفل وائف”— عقیدت کے کندھے پر تھوڑی ٹکائے سرگوشی کی تو عقیدت نے پلکوں کی باڑ اٹھا کر آئینے میں نظر آتے ایک دوسرے کے مکمل عکس کو دیکھا

تو دل نے بے ساختہ ماشاءاللہ کہا

نجانے کتنے ہی لمحے خاموشی میں سرک گئے

مگر وہ دونوں سب کچھ فراموش کیے ایک دوسرے کی ذات میں گم ہونے لگے

مینه درسره لرم دا د یوې نیمګړې ډبرې مجسمې په څیر دی – ستا موندل زما ماهیت او مینه بشپړوي – زه نشم کولی تا له لاسه ورکړم – زه پدې مسله کې ډیر بې وسه یم – ستا په قضیه کې نه په زړه او نه ذهن کې انتخاب شتون لري – یوازې ستاسو حاکمیت

(مجھے تم سے عشق ہے — میری بےقرار نظروں کو قرار تمہیں دیکھ کر آتا ہے– میری بے چین دھڑکنوں کو سکون تمہیں محسوس کر کہ ملتا ہے– تمہارے بغیر یہ خان کچھ بھی نہیں — تمہارے بغیر مٹی سے بنا یہ جسم پتھر کے ادھورے مجسمے سا ہے– تمہیں پانا میری ذات اور عشق کو کامل کرتا ہے — تمہیں کھو نہیں سکتا– بہت بے بس ہوں اس معاملے میں — تمہارے معاملے میں کوئی اختیار نہیں نا دل پر نا دماغ پر — صرف تمہاری حکمرانی ہے)”— ضرغام خان کے شدت بھرے الفاظ عقیدت کو اپنی روح تک اترتے محسوس ہوئے

لفظ سمجھنے سے تو وہ قاصر تھی—مگر لہجہ ضرغام خان کی محبت کی گواہی دے رہا تھا

ہاتھ عقیدت کے چہرے اور گردن کے درمیان رکھتے عقیدت کی موٹی موٹی آنکھوں میں دیکھتے جھک محبت سے پیشانی کو نرمی سے چھوتے وہ پیچھے ہوا تھا

نظریں کمرے کے اطراف میں دوڑاتے آنکھیں زور سے بند کرے کہ کھولیں تھیں

وہ کیا لینے آیا تھا—سب کچھ بھول چکا تھا—

تبھی اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر بلاوجہ سکرول کرنا شروع کر دیا—

“ضرغام پلوشہ کہا ہے—وہ مجھ سے ایک بار بھی ملنے نہیں آئی—کیا وہ میرے یہاں آنے سے خوش نہیں—کیا وہ مجھے اپنی بھابھی قبول نہیں کر پارہی”— دونوں ہاتھوں میں میسکی تھامے سہج سہج کر قدم اٹھاتی بیڈ پر بیٹھے ضرغام خان کی جانب بڑھی

جس کے چہرے پر عقیدت کی بات پر چٹانوں سی سختی در آئی تھی—

“اب تم ہمیشہ کے لیے یہی ہو—مل لے گی جب اس کا دل کرے گا—اگر تمہارے اندر اتنی محبت جاگ رہی ہے تو خود جا کر مل آو—میں بلاوجہ صرف تمہارے لیے اپنی بہن کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا—وہ نہیں ملنا چاہتی تو اس کی مرضی ہے—جب دل کیا تو مل لے گی—اگر تم اسے ناپسند بھی ہوئی تو خود ہی بتا دے گی”— عقیدت کے روبرو کھڑے ہوتے کندھے آچکا کر کہا تو عقیدت نے بے یقینی سے ضرغام خان کے بدلے لہجے کو دیکھا

بہت کچھ کہنے کی کوشش کے باوجود بھی الفاظ حلق میں ہی دن توڑ گئے

گلے میں آنسوؤں کا پھندا سا اٹکتا محسوس ہوا

“ہممم”—ضرغام خان کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہنکارہ بھر کر جھٹکے سے رخ بدلا

ورنہ آنکھوں میں در آنے والی نمی ضرغام خان کے سامنے عقیدت شاہ کو کمزور کر دیتی

“ضرغام خان کا اچھا برا برتاؤ تو کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا—مگر اب تو صرف سرد لہجے نے اس قدر تکلیف دی تھی کہ عقیدت کو ان الفاظ سے اپنی روح تک جھلستی محسوس ہو رہی تھی

“اگر تمہارا ہار سنگھار ہوگیا ہے تو میں امتثال کو بھیجتا ہوں—بنا وقت ضائع کیے باہر آجاؤ – تمہارے گھر والے بھی آگئے ہیں “— عقیدت کے کندھے سے کندھا ٹکرا کر گزرتے سپاٹ لہجے میں کہا تو ایک باغی آنسوں پلکوں کی باڑ توڑتا عقیدت کے رخسار پر بہہ نکلا

نجانے کیوں ضرغام خان کے لہجے سے اس قدر تکلیف ہوئی تھی کہ عقیدت کا پھوٹ پھوٹ کر رونے کو دل چاہ رہا تھا

“تم کرو تو صحیح کوئی ڈرامہ میرے ساتھ— اگر میرا دل توڑا تو یاد رکھنا تمہاری ہی بیوی ہوں—ہڈی پسلی توڑ دوں گی تمہاری”— کمرے کی دہلیز پار کرتے ضرغام خان کے قدموں میں سائیڈ ٹیبل سے واس اٹھا کر مارتے چلاتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے پلٹ کر گھوری سے عقیدت کو نوازا اور سر جھٹکتا کمرے سے نکلتا چلا گیا

Part 2

شاہ حویلی سے بہرام—سلویٰ – حلیمہ اور ثمرین بیگم اور چند خاندان کے بڑے آئیں تھے—

امتثال نے پاؤں کو چھوتی وائٹ کلیوں والی فراک کے ساتھ—ڈارک براؤن بالوں کا جوڑا بنائے—گلے میں باریک سی ڈائمنڈ کی چین پہنے—دونوں ہاتھوں میں سفید رنگ کی کانچ کی چوڑیاں پہنے—نفاست سے کیے گئے لائٹ میک اپ کے ساتھ آسمان سے اتری کوئی نازک سی پری ہی لگ رہی تھی—

بائیں ہاتھ میں عقیدت کا ہاتھ تھامے اور دائیں ہاتھ سے عقیدت کی میکسی کو تھامے اسٹیج کی جانب آتی—سامنے اسٹیج کے قریب کھڑے—گرے پینٹ کوٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے بہرام شاہ کے دل کے تار چھیر چکی تھی—

بہرام شاہ اردگرد سے بیگانہ —دیوانہ وار امتثال خان کے خوبصورت چہرے کو تکنے میں محو تھا—امتثال خان کا اپنی جانب بڑھتا ایک ایک قدم بہرام شاہ کو اپنے دل کی سلطنت پر پڑتا محسوس ہو رہا تھا—

تبھی امتثال خان نے نظریں عقیدت کے میکسی تھامے ہاتھ سے ہٹا کر سامنے کو اٹھائی تو خود کو اس قدر محویت سے تکتے بہرام شاہ کو دیکھ دھک سے رہ گئی

چھ فٹ سے نکلتا قد—سیاہ گھنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے—کالی گہری سیاہ رات سی آنکھوں میں چمک لیے—مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ سجائے— کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا

مگر یہ شہزادہ دوسرے شہزادوں کی طرح ظالم نہیں تھا—یہ شہزادہ رحم دل تھا—بے غرض اور بے لوث محبت کرنے والا—قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے والا—

مشکل وقت میں ڈھال بننے والا—محبت میں جان دینے والا—اور عشق میں سب قربان کرجانے والا تھا—

جسے دشمنی سے نفرت تھی—جو معاف کر کہ آگے بڑھنے والوں میں سے تھا—

جو ماضی کی غلطیوں پر حال اور مستقبل کو برباد نہیں کرنا چاہتا تھا—

جو دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں میں سے تھا—اور جو اب امتثال خان کو جنون کی ہر حد کو پار کر کہ چاہنے والا تھا—

جس نے اپنے دل کی بند سلطنت کے دروازے امتثال خان کے لیے کھول دیے تھے—وہ مقام جو کسی کو نہیں دیا تھا وہ پہلی نظر سے امتثال خان کو دے دیا تھا—

اب بس اظہار باقی تھا—اور امتثال خان کو اپنے نام کرنا تھا—ہمیشہ ہمیشہ کے لیے—

“بھائی اب اپنی بہن کا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر ہی بٹھا دے—اتنا تو آپ کا فرض بنتا نا”— امتثال خان نے مسکرا کر بہرام شاہ کو طنزیہ لہجے میں کہا تو بہرام شاہ ہڑبڑا کر ہوش میں آیا

“استغفراللہ”—امتثال خان کہ بات سمجھ آنے پر بہرام شاہ نے بھی بلند آواز میں کہا تو امتثال کے چہرے کے خدوخال میں پل میں سرخیاں گھلیں

شکر تھا کہ پاس کوئی تھا نہیں – مگر عقیدت کے مسکراہٹ چھپانے پر امتثال نے کھسیانی سی ہنسی ہنستے کینہ توز نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھا

جو جزبے لٹاتی نظروں سے امتثال کو دیکھتا عقیدت کا ہاتھ تھامے اسٹیج پر چڑھ گیا تھا

“مسٹر فلرٹ نا ہو تو—شکل سے کتنے سوبر دکھتے— مگر اندر سے کتنے ٹھرکی ہے”—منہ بسور کر بڑبڑاتے بہرام شاہ کی پشت کو دیکھ پیر پٹخ کر اسٹیج کے سامنے دائیں جانب پڑے صوفے پر بیٹھی تو بہرام شاہ نے عقیدت کو بٹھا کر ایک نگاہ اردگرد دوڑا کر لوگوں کا جائزہ لیا

اور پھر نظر بچا کر اپنی جانب سخت نظروں سے گھورتی امتثال خان کو دیکھ آنکھ دبائی تو بہرام شاہ کی اس حرکت پر امتثال کی آنکھیں ابل کر باہر آنے کو ہوگئ

ہونٹ بے ساختہ سیٹی کی شکل میں واہ ہوئے تو بہرام شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر بامشکل اپنا امڈتے قہقہے کا گلا دبایا

جبکہ اسٹیج پر بیٹھی عقیدت نے حیرت سے تین کپل صوفہ کو دیکھا—

ایک تو عقیدت اور ضرغام کے لیے اور دوسرا عائث اور حوریہ کا تھا—مگر تیسرا صوفہ کس کے لیے سیٹ کیا گیا ہوگا—

ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ بہرام شاہ عقیدت کے پاس ہی برجمان ہوگیا—

تو عقیدت بھی سر جھٹکتی بہرام شاہ سے باتوں میں مصروف ہوگئی

جبکہ سامنے بیٹھی امتثال بہرام شاہ کی لو دیتی نظروں سے گھبرا کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی

جس پر بہرام شاہ کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا

اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنی بے اختیاری پر خود کو کوستے عقیدت کی باتوں کا جواب دینے لگا

______________

یہ کس طرح تیار کر رہی ہیں آپ—آپ کو نہیں پتہ کہ یہ لپ اسٹک کلر اس کے ساتھ سوٹ نہیں کرتا—چینج کریں اسے—اور ویسے بھی کوئی لائٹ پنک کلر یوز کرے”— عائث خان کے پھر سے بولنے پر حوریہ نے آنکھیں میچ کر اپنے غصے پر قابو کیا

عجیب شخص تھا—جب سے بیوٹیشن آئی تھی—تب سے سر پر سوار تھا—جیولریسے لے کر میک اپ تک ایک ایک چیز خود بتا کر تیار کروا رہا تھا—کبھی یہ سیٹ اچھا نہیں—کبھی یہ اولڈ فیشن—یہ مسکارا اچھے برینڈ کا نہیں—کبھی یہ ائی شیڈ ٹھیک نہیں—یہ بیس اوور ہے—کبھی یہ لپ اسٹک ڈارک ہے”—اب تو حوریہ کہ برداشت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا

باہر سب مہمان اچکے تھے— عقیدت اور ضرغام بھی اسٹیج پر جا چکے تھے—اور ایک یہ تھا حوریہ شاہ کا شوہر جسے بیوٹیشن کے ہر کام میں کیڑے نظر آرہے تھے—

کتنی بار وہ ڈریس چینج کر چکی تھی—اور میک اپ اب تو حد ہو گئی تھی

“تھینک یو سو مچ آپ جائے میں خود دیکھ لیتی ہوں”—عائث خان کو کینہ توز نظروں سے دیکھتے بیوٹیشن سے کہا تو اس بچاری نے بھی اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی

ورنہ یہ پاگل خان اسے آج بیوٹیشن سے پاگل بنا کر ہی بھیجتا

بیوٹیشن کے نکلتے ہی حوریہ نے ڈریسنگ ٹیبل سے ہئیر برش اٹھا کر پٹکنے کے انداز پر زمین پر پھینکا تو عائث خان نے آبرو آچکا کر حوریہ کو دیکھا

جو سی گرین کلر کی میکسی کے ساتھ—لائٹ ڈائمنڈ جیولری پہنے—چاکلیٹ براؤن بالوں کا جوڑا بنائے—لائٹ میک اپ کیے سیدھا عائث خان کے دل میں اتر رہی تھی

“یہ کیا حرکت ہے عائث—پچھلے پانچ گھنٹوں سے بیٹھ بیٹھ کر میری کمر اکڑ گئی ہے—اور آپ کو کچھ پسند نہیں آرہا—اور کتنا ایکسپرینس ہے یہ کلر اچھا ہے یہ برینڈ ٹھیک نہیں—آپ سنگر ہیں یا وہاں فی میل سنگرز کے بیوٹشن بھی آپ ہیں—اگر میں نہیں اچھی لگ رہی تو نا دیکھے نا—ایسے بھی کوئی کرتا ہے—نہیں پسند آپ کو تو سیدھی طرح کہے—

” کس نے کہا تم اچھی نہیں لگ رہی—تم اس قدر اچھی لگ رہی ہو کہ میرا تمہیں باہر لے جانے کا دل ہی نہیں کر رہا—دیکھو سب کو پتہ ہے تم تیار ہو رہی ہو تو کوئی ہمیں ڈسٹرب کرنے بھی نہیں آیا—بس تھوڑی دیر اور یہ فنکشن ختم ہو جانا— باہر جانے کی نوبت ہی نہیں آنی—داجی کچھ کہے گے تو ہمارے پاس ریزن ہوگا کہ بیوٹیشن نے تمہارا میک اپ خراب کر دیا تھا—اور پھر تم اس بات پر رونے لگی اور باہر آنے سے انکار کر دیا—اور جب میری بیوی روم میں تھی تو میرا باہر کیا کام”—

عائث خان کے نادر خیالات جان کر حوریہ کا دل کیا اپنا سر کسی دیوار میں مار لے

“یہ سس—سب مم—میرا—مطلب یہ سب باہر نا جانے کی وجہ سے کر رہے تھے آپ”—حوریہ کے حیرت بھرے لہجے پر عائث خان نے اثبات میں سر ہلایا تو حوریہ نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر عائث خان کو خونخوار نظروں سے دیکھا

“شرم نہیں آرہی آپ کو عائث—یہاں مسلسل پچھلے پانچ گھنٹوں سے بیٹھ بیٹھ کر میری کمر اکڑ گئی—درد سے اب مجھ سے مزید بیٹھا نہیں جارہا اور آپ یہ سب صرف باہر نا جانے کی وجہ سے کر رہے تھے—آپ کو ذرا میرا احساس ہے بھی یا نہیں”— حوریہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ یا تو وہ خود کو کچھ کر لے یا اس گھنے میسنے شخص کو

“شوہر کا شرم سے کیا کام– ویسے بھی میرے لیے تیار ہو رہی تھی تو میری مرضی سے ہی ہوں تھا نا اس میں لڑائی والی کیا بات ہے– اس بیوٹیشن سے اچھا تو مجھے برائیڈل میک اپ کا آئیڈیا ہے”–

اس شخص کو اور کیا کہہ سکتی تھی—ہر بات کو تو وہ اپنے مطلب کی بات کا رنگ دے دیتا تھا—

“اگر اب آپ کی اجازت ہو تو باہر چلیں—سب انتظار کر ہے ہیں عائث—کیا سوچے گے سب”—

“بس یہی سوچنا کہ لوگ کیا سوچے گے– مگر کبھی غلطی سے میں مسسز عائث خان آپ ے شوہر نامدار کے بارے میں مت سوچنا– خیر کوئی نہیں — ہم ہیں نا– کر دیں گے آپ کو مجبور خود کو ہر پل سوچنے پر “— موبائل پر کیمرہ ان کرتے مرر میں نظر آتے دونوں کے عکس کو قید کرتے جواب دیا ابھی وہ جواب دیتی کہ

کمرے کے دروازے پر ہوتی دستک ہوئی تھی

————-

“مانا کہ یہ دن آپ لوگوں کا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ ہم غریبوں کو لفٹ ہی نا کروائیں”—عائث خان کے دروازا کھولتے سلویٰ شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا

مسٹرڈ کلر کی پاؤں کو چھوتی فراک پہنے جس کے دامن اور گلے پر گرین نارنجی اور پیلے رنگ کا کام ہوا تھا—براؤن بالوں کو فرنچ چٹیا میں قید کیے کمر پر چھوڑا ہوا تھا— چٹیاں سے نکلتی آوارہ لٹے چہرے کا احاطہ کیے ہوئی تھیں—گرے آنکھوں میں کاجل کی لکیر کھینچ کر انہیں مزید دلکش بنایا گیا تھا—لائٹ میک اپ کیے وہ دیکھنے والوں کو چاروں خانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی

“نن—نہیں وہ ہم بس آہی رہے تھے— وہ بیوٹیشن کو میک اپ ہی نہیں کرنا آرہا تھا”— عائث خان کو خونخوار نظروں سے دیکھتے دانت پیستے ہوئے کہا تو سلویٰ شاہ نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی

“مجھے بھی یہی لگ رہا کہ یہ بیوٹیشن ہی ٹھیک نہیں تھی—اتنا ٹائم برباد کر دیا”—سلویٰ شاہ نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا تو حوریہ نے روہانسی نظروں سے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑے عائث خان کو دیکھا

جو بلیک پینٹ کوٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے حوریہ کے دل کے تار چھیر رہا تھا—

“آجائیں سالی صاحبہ – ایک تو آپ عورتوں کی باتیں ختم نہیں ہوتی—وقت دیکھیں کیا ہوگیا ہے”—عائث خان کے سارا ملبہ حوریہ اور سلویٰ پر ڈالنے پر دونوں ہونقوں کی طرح منہ کھولے اس میسنے خان کو دیکھتی رہ گئیں جو لاپروا بنتا ناک کی سیدھ میں چلتا جا رہا تھا

_____________

روشنیوں سے سجے لان کے ایک کونے میں کھڑی سکن کلر کی میکسی پہنے پور پور سجی—آنکھوں میں نفرت کی آگ لیے چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے

نظریں سامنے سٹیج پر بیٹھے ضرغام خان کے ساتھ کھڑی مقدس بیگم پر ٹکائے

فون پر کسی سے محو گفتگو تھی

“کیوں خوامخواہ کی دشمنی مول لے رہی ہو—جو جیسے کرتا ہے کرنے دو—ہمارے پاس پہلے ہی بہت سے مسائل ہیں جنہیں حل کرنا ہے

اب تم اس خاندانی دشمنی کا بھی حصہ بن رہی ہو”—موبائل سے قدری جھنجھلائی ہوئی آواز گونجی

تو عقیدت شاہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی

“یہ نفرتیں یہ دشمنیاں تو وراثت میں ملی ہیں—اور وراثت میں ملی ہوئی چیزوں کو قبول کرنا ہی پڑتا ہے—ہم جتنا بھی انکار کریں—مگر لوگ جانتے ہیں کہ وراثت ہماری ہے—کوئی دولت نہیں جسے انکار کروں گی تو ماہان کہلاؤ گی— دشمنی ہے یہ

انکار کرو گی تو بزدل کہلاؤ گی

قبول کروں گی تو ایک نا ایک دن جیت جاؤ گی—یا اس دشمنی کو نبھاتے نبھاتے مر جاؤں گی”

اچھا چھوڑو وہ تمہاری سوتیلی ساس نے نمبر لیا تھا

کیا بات ہوئی تمہاری ان کے ساتھ—فون پر موجود عقیدت کے کولیگ نے بات بدلتے ہوئے کہا مگر وہ نہیں جانتا تھا اگلی بات پر وہ سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا

“کچھ نہیں انہوں نے مجھے کہا—اتنی اکڑ اور غرور کس بات کا—تو میں نے سمپل سا جواب دیا کہ خاندانی عادت ہے غرور اور اکڑ کی – اب خون میں یہ سب شامل ہیں تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں—پھر مجھے برا بھلا کہہ کر فون رکھ دیا”—عقیدت شاہ کے کندھے آچکا کر کہنے پر فون پر دوسری جانب یہ سنتے شخص نے سچ میں اپنا سر پکڑ لیا

تم پاگل ہو جانتی بھی ہو—وہ عورت کس قدر واویلا مچائے گی اس بات پر کہ تم نے خاندان والوں کو طعنہ دیا”—دانت پیس کر کہا گیا مگر ادھر پرواہ ہی کسے تھی

“اور تمہارا شوہر اس نے کچھ کہا”—لہجے میں تجسس سموئے استفسار کیا تو عقیدت نے سامنے سٹیج پر بیٹھے موبائل پر مصروف ضرغام خان کو دیکھا

جو اپنی مغرورانہ پرسنیلٹی اور مردانہ وجاہت کے باعث پورے ماحول پر چھایا ہوا تھا

” ہاں کہا نا—یارِ من نفرتوں کی دنیا میں خوش آمدید” ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے سر جھٹکے جواب دیا تو دوسری جانب موجود شخص نے اپنے ہونٹ بھنچے

“تمہیں پتہ ہے وہاں تمہارا سب سے بڑا دشمن کون ہے”—

“میرا شوہر” یک لفظی جواب دے کر اپنی جانب بڑھتے—اس ضرغام خان کو دیکھا جس کی آنکھوں اور ہونٹوں پر رینگتی مسکراہٹ اس کی جیت کا پتہ دے رہی تھی اور وہ مضبوط قدم لیتا اپنی ٹائی کو اتارتا اسی کی جانب آرہا تھا

“ناراض ہو”—عقیدت کا ہاتھ تھامے—اپنےہاتھ میں موجود ٹائی کو عقیدت کی کلائی پر باندھتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت نے ناراضگی سے چہرے کا رخ پھیرا

“اس طرح ادائیں نا دکھاؤ جاناں—بندہ بشر ہوں بہک بھی سکتا ہوں”—عقیدت کے ہاتھ کی انگلیوں میں زبردستی اپنا انگلیاں الجھائے بوجھل لہجے میں کہا تو عقیدت نے شکوہ کناں نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا

“تم شاید بھول رہے ہو کہ کس قدر تلخ لہجہ اپنا چکے ہو میرے ساتھ—اب یہ محبت کے ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں”—اردگرد نگاہ دوڑاتے سپاٹ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے خاموش نظروں سے عقیدت کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے عقیدت کے قریب تر کھڑا ہوا

ضرغام خان کے وجود سے اٹھتی ڈارک پرفیوم کی خوشبو عقیدت کو اپنے نتھنوں سے ٹکراتی حواسوں پر چھاتی محسوس ہوئی

“اس دشمنی میں تم بھی تو مجھے تکلیف دیتی ہو نا”—ضرغام خان کے شکوہ کناں لہجے پر عقیدت نے گھور کر اسے دیکھا

“تکلیف—میں نے تمہیں تکلیف دی ضرغام—میں نے غصہ کیا لڑائی کی—ہمارے رشتے میں پہل ہمیشہ میں نے کی ہے—کیا یہ بات تمہیں تکلیف دیتی ہے—عقیدت کے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہنے پر ضرغام نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا تھا–

“ہششش میں نے کب اسے تکلیف کہا—تکلیف تو وہ ہے جو اب تم مجھ سے دور رہ کر دے رہی ہو—تکلیف وہ ہے عقیدت جو تم پاس آکر دور چلی جاتی ہو— تکلیف یہ ہے کہ تم ابھی بھی اس رشتے کو لے کر کشمکش میں مبتلا ہو—یہ سب مجھے تکلیف دیتا ہے—خیر چھوڑو آؤ وہاں بیٹھے—داجی بلا رہے تھے— اور بہرام لوگ بھی جانے لگے ہیں—تو تم پھوپھو سے مل لو آکر”— عقیدت کا ہاتھ تھامے قدم اسٹیج کی جانب بڑھاتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت نے بری طرح اپنے لب کچلتے ضرغام خان کی چوڑی پشت کو دیکھا—

___________

” آج سب کو ایک ساتھ دیکھ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہی وقت پھر سے لوٹ آیا ہے—اب تو دعا ہے رب تم سب کو ہمیشہ یونہی ہنستے مسکراتے ایک ساتھ رکھے”— ولی خان نے کھڑے ہوتے عقیدت اور حوریہ کے سر پر پیار دیتے ہوئے کہا تو حلیمہ اور ثمرین بیگم نے بے ساختہ امین کہا

“اللّٰہ انہیں خوش رکھے—چلیں بابا ہم لوگ نکلتے ہے پھر”—حلیمہ بیگم نے پیار سے ضرغام خان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ولی خان سے کہا تو انہوں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا

سلویٰ شاہ نے آگے بڑھ کر حوریہ کو گلے لگایا تو نظریں بے اختیار صوفے کے پیچھے کھڑے سفید کاٹن کا سوٹ پہنے—کندھوں پر سیاہ اجرک پھیلائے—چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے کھڑے ارمغان خان کی خون چھلکاتی آنکھوں سے ٹکرائیں

ارمغان خان کی سرد نظریں سلویٰ کو اپنے جسم سے آر پار ہوتی محسوس ہوئی تو سلویٰ شاہ نے سر جھٹکتے نظروں کا رخ پھیر کر قدم عقیدت کی جانب بڑھائے

جبکہ سلویٰ کی اس حرکت پر ارمغان خان نے صوفے کی پشت کو اپنی سخت گرفت میں لیتے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے

“ایک منٹ نند جی ایسے کیسے جا رہی ہیں—ہمارے ارمغان کی دلہن کو تو دیکھتے جائیں”— مقدس بیگم کی آواز پر سب نے بے ساختہ اسٹیج سے نیچے کھڑی مقدس بیگم کو دیکھا

جو گھونگھٹ اوڑھے ایک وجود کو تھامے کھڑی تھیں

جبکہ مقدس بیگم کے اس عمل پر ضرغام اور عائث نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے

“کیا مزاق ہے بہو—یہ سب بعد میں بھی ہو سکتا تھا”—ولی خان نے دبے دبے لہجے میں تنبیہہ کی جسے نظر انداز کرتی مقدس بیگم گھونگھٹ میں چھپے وجود کو گھسیٹنے کے انداز میں اسٹیج پر لا کر صوفے پر بٹھا چکی تھیں

“کیسی باتیں کر رہے ہیں داجی—نکاح ہوا ہے دونوں کا—یہ رشتہ مزاق ہرگز نہیں—کل بھی تو سب کو پتہ چلنا ہے نا—تو میں نے سوچا آج ہی اس خوشی کو دوبالا کر دیا جائے”— صوفے کے پیچھے کھڑے ارمغان خان کو زبردستی بازو سے گھسیٹ کر صوفے پر بٹھاتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا تو ماحول میں ایک دم سے موت سا سناٹا چھا گیا

جبکہ عقیدت کے قریب کھڑی سلویٰ شاہ کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی—چھناکے سے سینے میں کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا—اپنے بے جان ہوتے جسم کے ساتھ پیچھے ہٹتی بہرام شاہ کے سینے سے لگ گئی جس پر بہرام نے اپنا بازو سلویٰ شاہ کے کندھے کے گرد پھیلا کر ہلکے سے تھپتھکا

عقیدت دیکھو گی نہیں اپنی دیورانی کا چہرہ—تم تو اس گھر کی بڑی بہو ہو تو تمہارا حق پہلا بنتا ہے—آؤ دیکھ لو—اور نیگ دو کچھ اپنی دیورانی کو”— مقدس بیگم کے مکار لہجے پر عقیدت نے کینہ توز نظروں سے انہیں دیکھا

جبکہ ضرغام نے اپنی ماں کی اس حرکت پر سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی

جبکہ ارمغان خان کی نظروں نے دور تک سلویٰ شاہ کا پیچھا کیا تھا—

اسٹیج پر جہاں کچھ دیر پہلے سب خوش گپیوں میں مصروف تھے—

اب وہی موت سا سناٹا چھایا ہوا تھا—

عقیدت نے ایک نظر مقدس بیگم کے چہرے کو دیکھ اپنی جگہ سے اٹھتی گھونگھٹ میں بیٹھے وجود کے سامنے کھڑی ہوئی

دل اس وقت کر جذبات سے عاری تھا—وہ سمجھ چکی تھی کہ کیا کھیل کھیلا گیا ہے

مگر بس ایک آخری امید پر وہ یہ گھونگھٹ اٹھانے لگی تھی کہ شاید ویسا نا ہو

جیسا وہ سوچ رہی ہے

عقیدت نے ہاتھ بڑھا کر جیسے ہی گھونگھٹ اٹھایا تو پیچھے کھڑی حلیمہ بیگم پر سکتہ سا چھا گیا

جبکہ ارمغان خان عقیدت کے گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے ہی لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—

__________

عقیدت کا فق چہرہ دیکھ حوریہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر سامنے آئی تو وہ بھی لمحے کے لیے اپنی جگہ ساکت رہ گئی

“یہ کیا بکواس ہے – پلوشہ میرے بھائی کی منگ ہے—کس کی اجازت سے یہ نکاح کیا ہے آپ نے”—عقیدت کے غرا کر کہنے پر ضرغام خان نے ایک تاسف بھری نگاہ اپنی ماں پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا

“کونسی منگ کوئی منگ نہیں ہے یہ—میری بیٹی نہیں مانتی تھی اس رشتے کو—اگر تم لوگ بھی انکار کر دیتی تو ہم لوگ کبھی تم لوگوں کے ساتھ زبردستی نا کرتے—تم لوگوں نے اپنی مرضی سے یہ”— ابھی مقدس بیگم اپنی بات مکمل کرتی کے عقیدت کا ہاتھ اٹھا تھا لیکن بہرام شاہ نے نے بروقت آگے بڑھتے عقیدت کے ہاتھ کو تھاما تھا

“بکواس بند کرو گھٹیا عورت—جان لے لوں گی میں تمہاری—ہمت بھی کیسے ہوئی میرے بھائی کے حق میں ڈاکہ ڈالنے کی— تمہیں لگتا ہے تم ہمارے ساتھ کھیلو گی اور میں تمہیں کامیاب ہونے دوں گی—اپنے بھائی کا حق لینے کے لیے مجھے تمہاری بیٹی کو بیوہ بھی کرنا پڑے تو مجھے کوئی اڑ محسوس نہیں ہوگی اس میں—سمجھ آئی میری بات”— بہرام شاہ کے ہاتھوں سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتے مقدس بیگم پر چلاتے ہوئے کہا تو مقدس بیگم نے بے ساختہ اپنے قدم پیچھے لیے

جبکہ ضرغام خان بھاگنے کے انداز میں ارمغان خان کے پیچھے کب کا جا چکا تھا—

“چھوڑو عقیدت بعد میں دیکھ لیں گے اس معاملے کو—اور ماں جی چچی کو گاڑی میں لے جا کر بیٹھائے آرہا ہوں میں—عائث تم داجی کو اندر لے کر جاؤ”—بہرام نے بھپری ہوئی عقیدت کو قابو کرتے بیک وقت ثمرین بیگم اور عائث خان سے کہا تو عائث آگے بڑھتا سر تھامے بیٹھے ولی خان کو وہاں سے لیے اندر کی جانب بڑھا

“مجھے اپنے شوہر سے بات کرنی ہے بہرام—ہاتھ چھوڑو میرا—ورنہ میں تمہارا بھی لحاظ نہیں کروں گی—مجھے میرے شوہر سے جواب چاہئیے”— عقیدت کے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہنے پر بہرام نے عقیدت کے ہاتھ چھوڑیں تو وہ ایک قہر بھری نگاہ مقدس بیگم پر ڈالتی تیز تیز قدم لیتی اسٹیج سے اتر کر اندر کی جانب بڑھی

“حوریہ تم پلوشہ کو اندر لے جاؤ”—بہرام شاہ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے تھر تھر کانپتی پلوشہ کو دیکھتے حوریہ سے کہا تو وہ ایک نفرت بھری نگاہ مقدس بیگم اور کشف بیگم پر ڈالتی پلوشہ کو جھٹکے سے اس کی جگہ سے اٹھاتی اندر کی جانب بڑھی

“تمہاری معصوم شکل دیکھ کر تم پر ترس بھی آرہا ہے—مگر اپنے بھائی کا سوچ کر تمہیں جان سے مارنے کو شدت سے دل چاہ رہا ہے”— حوریہ شاہ کی پھنکارتی آواز پر پلوشہ نے اپنی سوجھی متورم سرخ نظروں سے اپنا بازو سختی سے دبوچے تیز تیز قدم چلتی حوریہ کو دیکھا

جبکہ امتثال حق دق سی اپنی جگہ کھڑی نم نظروں سے سب کچھ پھر سے ایک بار بکھرتے دیکھ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی

امتثال کی نم نظروں کو دیکھ بہرام شاہ نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ پر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی

ایک قہر بھری نگاہ دونوں عورتوں پر ڈالتا تن فن کرتا خان حویلی سے نکلتا چلا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *