Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 14)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

ماضی:-

کیا ہوا پریشان لگ رہے ہو”—حدایت شاہ نے اپنے گھوڑے کو درخت سے باندھتے زمین پر شیر خان کے پاس بیٹھتے فکر مند لہجے میں استفسار کیا تو درخت سے ٹیک لگائے بیٹھے شیر خان نے گہری سانس بھرتے ہاتھ میں تھامے کنکر کو سامنے نہر میں پھینکا

“کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا ہو رہا ہے—مقدس کو میں نے دل سے اپنی بیوی قبول کیا ہے اسے عزت محبت مان سب کچھ دیا—مگر وہ”— افسردہ لہجے میں کہتے کہتے وہ چپ ہوئے تو حدایت شاہ نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی

“سب ٹھیک ہو جائے گا—وہ شاید تم سے ابھی تک ناراض ہے—اور ویسے بھی ماں جی کہتی ہے شادی کہ ایک دو سال تو ایک دوسرے کو سمجھنے میں۔ لگ جاتے ہیں—چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں—بھابھی بھی سمجھ جائیں گی”—گو کہ حدایت شاہ خود مقدس بیگم کی حسد ذدہ اور مغرور فطرت سے واقف تھے— مگر وہ اب اپنے دوست کو مزید دکھی نہیں کر سکتے تھے— اگر معاملہ صرف دوست اور اس کی بیوی کا ہوتا تب شاید وہ کوئی اور مشورہ دیتے—مگر اب ان دونوں کے درمیان چھ ماہ کا ضرغام خان بھی تھا

“ناراض—ہنہہ— تم بتاؤ کیا غلط کیا میں نے—بابا کہ ایک بار کہنے پر میں نے اس عورت سے شادی کر لی—اپنی محبت تک کو چھوڑ دیا—پورے دل سے اپنایا اسے—اور یہ اس بات کو نہیں بھول رہی کہ اس کے بھائی کو میں نے اپنی بہن کا رشتہ کیوں نہیں دیا—تم جانتے ہو وہ شخص کس طرح کی گھٹیاں جگہوں پر جاتا—شراب پینا تو اس کا روز کا معمول ہے—جوے میں اپنی آدھی سے زیادہ جائیداد ہار چکا ہے—اس شخص کے ہاتھ اپنی نازوں پلی بہن کا ہاتھ تھما دیتا’—- ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹا تو وہ اپنے جگری یار کے آگے دل کی بات بولتے ہی چلے گئے

شیر خان—حدایت شاہ اور مبین بیگم بچپن سے ایک ساتھ پڑھے تھے— حدایت شاہ اور شیر خان کی دوستی کی مثالیں پورا گاؤں دیتا تھا—مبین شاہ حدایت شاہ کی خالہ زاد تھی—

جبکہ شیر خان دل ہی دل میں انہیں پسند کرتے تھے— مگر اس سے پہلے وہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کر پاتے—ولی خان نے ان کا رشتہ اپنے چچا زاد بھائی کی بیٹی سے کر دیا—

وہ اس رشتے سے انکار کر دیتے مگر جب انہیں پتہ چلا کہ یہ بات بڑوں میں کافی عرصے سے چل رہی ہے—اور نا صرف ان کا بلکہ حلیمہ خان کا رشتہ بھی مقدس بیگم کے ساتھ طہ ہے

اور خاندان میں طہ ہوئے رشتے سے انکار کرنا یعنی بغاوت کرنا تھا—

پھر انہوں نے خاموشی سے خود تو سر جھکا دیا—مگر جب انہیں مقدس بیگم کے بھائی کے کرتوتوں کے بارے میں پتہ چلا تو وہ بے دھڑک سب کے خلاف کھڑے ہوگئے

شیر خان کا کہنا تھا کہ وہ بڑوں میں ہوئی بات سے انجان تھے— اور وہ اپنے دوست کو زبان دے چکے ہیں—اور اب وہ زبان سے ہٹ نہیں سکتے—

اس بات پر خاندان والوں میں بہت سے باتیں بنی—اور بالآخر شیر خان نے اپنی بہن کی شادی اپنے جگری دوست میجر حدایت شاہ سے کروادی

گو کہ وہ اس زبان والی بات سے بالکل انجان تھے— مگر اپنے دوست کے کہنے پر وہ سب کے سامنے اقرار کر گئے کہ شیر خان کئی سال پہلے سے ہی انہیں زبان دے چکا تھا—

مگر جب حلیمہ بیگم ان کی زندگی میں آئی تو انہیں لگا ان کی زندگی رنگوں سے بھر گئی ہو

وہ اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتے شاید کم تھا—اور جب نیلی آنکھوں اور مغرور نقوش والا شہزادہ ان کی زندگی میں آیا تو حدایت شاہ کو لگا ان کی زندگی مکمل ہوگئی ہو

“بات صرف میری ہوتی تو میں نظر انداز کر جاتا—مگر وہ—کیا کیا بتاؤں تمہیں اب – اسے میری اولاد نہیں چاہیے تھی – میرے بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے مار دینا چاہتی تھی – تمہیں نہیں پتہ یہ عرصہ میں نے کس طرح راتوں کو جاگ جاگ کر اور دن میں سائے کی طرح مقدس کے ساتھ رہتے گزارا ہے— مجھے تھا کہ اولاد ہاتھ میں آئیں گی تو سمجھ جائے گی ابھی ناسمجھ ہے—مگر یار وہ چھ ماہ کے بچے کو سنبھالنا تو دور دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی—سچ بتاؤں تو اب مجھے لگتا ہے اسے میرے ہونے نا ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا—اسے صرف دولت—عیش و عشرت کی زندگی سے محبت ہے—میں تھکا ہارا رات کے جس پہر بھی گھر جاؤں اس عورت نے کبھی پانی کا گلاس تک نہیں پوچھا مجھے – تھک گیا ہوں یار میں اتنے سے عرصے میں”—جھنجھلاتے ہوئے جواب دیتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تو حدایت شاہ نے افسوس سے سر جھٹکا کس قدر نا شکری اور بیوقوف عورت تھی وہ جو ہیرے جیسے شخص کی قدر نہیں کر رہی تھی

“سیدھی طرح کہوں کے بھابھی کے ہاتھ سے پانی پینا چاہتے ہو—میں کرتا ہوں حلیمہ سے بات کہ بھابھی تک پیغام پہنچائیں کہ ان کا شوہر ان کے ہاتھوں سے کھانا پینا چاہتا ہے—باقی کوئی کام بے شک نا کریں—مگر میرے یار پر اتنا تو ترس کھائیں—شوہر ہے آخر حق بنتا ہے—میرے یار کا”— شیر خان کی گردن کے گرد بازو باندھتے شوخ لہجے میں کہا تو ناچاہتے ہوئے بھی شیر خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

“نہیں یار فوجی مزاق نا کر—میں سچ میں بہت پریشان ہوں—کل ڈیرے سے جلد فارغ ہو کر حویلی گیا تو—کمرے میں داخل ہوتے اپنے بیٹے کی چیخیں جب سنائی دی تو مجھے اپنی قدموں سے زمین نکلتی محسوس ہوئی—مقدس کو رتی برابر پرواہ نہیں—کل وہ سوتے ہوئے ضرغام کو بستر پر چھوڑ کر بنا بابا اور کسی ملازمہ کو بتائے اپنی سہیلیوں کے ساتھ باغ میں چلی گئی تھی—اور ضرغام کے نیند میں بستر سے گرنے پر سر پر چوٹ آئی تھی—اگر خدانخواستہ میں وقت پر نا پہنچتا–

اور جب میں نے مقدس سے شکوہ کیا تو اس کا کہنا تھا یہ میرا خون ہے – مجھے ہی اسے دنیا میں لانے کا شوق تھا – وہ جیے یا مرے اسے فرق نہیں پڑتا—اور اس کی ان باتوں نے مجھے کچھ کہنے کے قابل نہیں چھوڑا—اور اگر کل کو یہی باتیں وہ ضرغام کے سامنے کرے گی تو میں کیا جواب دوں گا اپنی اولاد کو—کیا بتاؤں گا کہ کس بات کا غصہ ان کی ماں ان پر نکال رہی ہے”—تلخ لہجے میں کہتے اپنے گھوڑے کی رسی درخت سے کھول کر اس پر سوار ہوئے

“ضرغام کو چھوٹ لگی—اور عجیب شخص ہو تم بتایا بھی نہیں”—حدایت شاہ نے پرشکوہ لہجے میں کہا تو شیر خان نے مسکرا کر انہیں دیکھا

“ایک تو تمہیں چھٹی پورے ہونے سے پہلے فوج کی طرف سے واپسی کا خط آگیا – پہلے ہی تم میرے ساتھ گاؤں کے جھمیلوں میں پھنسے رہے—اب یہ دو دن میں نہیں چاہتا تھا کہ تم میرے لیے برباد کرو—اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارو”— گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرتے نرم لہجے میں کہا تو حدایت شاہ نے اپنی کرسٹل گرے آنکھوں کو چھوٹی کر کہ انہیں گھورا

“اپنی بیوی بچوں کو ان کے حصے کا وقت دے چکا ہوں میں—اور ویسے بھی میرے دوست کی کراچی پوسٹنگ تھی—وہاں سے وی سی آر منگوائی ہے داجی سے چھپا کر تمہارے ڈیرے میں رکھ کر آیا ہوں— کیسے چلاتے ہیں اتنا تو پتہ تو نہیں—مگر رات میں پنگے شنگے لے گے—بہادر خان کو لے آنا ڈیرے پر—اور سمیر لالا کو بھی منا کر میں لے آؤ گا—اور اپنے چھوٹے شیروں کو بھی(بہرام—حدائق) ساتھ لاؤں گا میں—ضرغام کو لیتے ہوئے آنا تم بھی”— حدایت شاہ کی بات پر شیر خان نے تاسف سے سر ہلایا

“تمہارے پاس چاہے جتنا بھی وقت ہو میرے پاس ان فضول کاموں کے لیے وقت نہیں— گاؤں میں بجلی کے لیے درخواست دی تھی میں نے—مگر کوئی مثبت جواب نہیں آیا—آج سنا ہے وہ آفیسر ساتھ والے گاؤں آیا ہے—تو میں وہی جا رہا ہوں—واپسی شاید کل فجر تک ہو—تب تک ضرغام کو تم اپنی طرف لے جانا—میں بس ظہر کی نماز ادا کر کہ نکل رہا ہوں”—گھوڑے کی بانگ کو تھامے سنجیدہ لہجے میں کہا تو حدایت شاہ نے گہری سانس بھرتے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تو شیر خان نے الوادعی نظر ان پر ڈالتے—وہاں سے نکلتے چلے گئے

جبکہ حدایت شاہ کی نظروں نے دور تک ان کا پیچھا کیا

___________

حال:-

یہ چائے کس کے لیے لے کر جا رہی ہو”—ملازمہ کو ٹرے میں کپ اور بسکٹ رکھتے دیکھ کچن میں داخل ہوتی عقیدت نے پوچھا

“سردارنی جی—بڑی بیگم نے چائے کا بولا تھا ان کے لیے ہے”— ملازمہ کے جواب پر عقیدت کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ رینگ گئی

“مینز میری ساسوں میں کے لیے ہے— پھر تم رہنے دو میں دے آتی ہوں—تم ذرا میرے لیے کچھ کھانے میں چٹ پٹا سا بنا دو”—کیبن کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو ملازمہ نے جی سردارنی جی کہہ کر فریج سے سامان نکالنے لگی

جبکہ کیبن سے اپنی مطلوبہ چیز ملتے ہی عقیدت نے گردن ترچھی کر کہ ملازمہ کو دیکھا جو دوسرے کیبن سے سامان نکال رہی تھی

“اچھا سنو—یہ چھوڑو—میری ساسوں میں کے روم سے ان کا فرسٹ ایڈ باکس لے آؤ جلدی”— قدم کاؤنٹر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو ملازمہ نے حیرت سے اپنے سردار کی بیوی کو دیکھا

مگر کچھ بھی کہے مگر سر اثبات میں ہلاتی وہ سامان کاؤنٹر پر رکھتی مقدس بیگم کے کمرے سے فرسٹ ایڈ باکس لینے چلی گئی

مٹھی میں دبے ادرک پاؤڈر کو چائے کے کپ میں ڈال کر چمچ سے اچھے سے مکس کرتے—ایک گہری مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ٹرے تھام کر لاونج کا رخ کیا

_________

مقدس بیگم کو مارننگ شو میں غرق دیکھ—عقیدت نے صوفے کی سائیڈ سے ٹیبل پر چائے رکھتے—ایک طنزیہ نظر مقدس بیگم پر ڈالی

اور پیچھے ہو کر اپنے دونوں ہاتھ صوفے پر ٹکا کر مقدس بیگم کی جانب دیکھا

شو میں کمرشل بریک آنے پر مقدس بیگم نے ہاتھ بڑھا کر کپ تھام کر ہونٹوں سے لگایا—ذائقہ تھوڑا الگ تو لگا مگر بے دھیانی میں وہ چائے پیتی رہی—

جبکہ پیچھے کھڑی عقیدت کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی

تبھی اپنے پیچھے ملازمہ کی موجودگی محسوس کر کہ عقیدت نے گردن موڑ کر ہاتھ کے اشارے سے اسے وہی رکنے کا بولا

سر کے اشارے سے سائیڈ ٹیبل پر باکس رکھنے کا کہا—اور بائیں ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا تو ملازمہ عقیدت کی ناسمجھ آنے والی حرکتوں پر صبر کا گھونٹ بڑھتی وہاں سے نکلتی چلی گئی

تھبی اپنے گلے میں تکلیف—اور اکھڑتی سانسوں کو محسوس کر کہ مقدس بیگم نے پھینکنے کے انداز میں چائے کا کپ ٹیبل پر پٹکا

“یہ—مم—میری سس—سانسیں پپ-پلو شش—شے – ام—تث—ال”—صوفے پر گرتے دونوں ہاتھوں سے اپنی گردن تھامے تکلیف ذدہ لہجے میں پکارا تو عقیدت شاہ کا طنزیہ قہقہہ لاونج کی فضا میں گونجا

“اوپسس یہ کیا ہو گیا ساسوں ماں—کتنے کئیر لیس ہیں آپ کے ملازم—انہیں پتہ بھی ہے کہ آپ الرجک ہے ادرک سے مگر پھر بھی ڈال دی—بلائیں ذرا انہیں کلاس لوں میں بھی—بھئی اگر میری ساس کو کچھ ہوگیا—تو مجھے امیر سے امیر ترین ہوتا کونےکون دیکھے گا”— مقدس بیگم کے آنسوؤں سے تر چہرے کو دیکھتے—تاسف بھرے لہجے میں کہتے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا تو مقدس بیگم نے بے ساختہ نفی میں گردن ہلائی

“انن—جیک”—عقیدت کے ہاتھوں میں موجود فرسٹ ایڈ باکس کو دیکھتے بامشکل بیٹھنے کی کوشش کرتے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہنے کی کوشش کی تو عقیدت نے جھکتے اپنی شہادت کی انگلی مقدس بیگم کے ہونٹوں پر رکھی

” تم تو موت دینے والوں سے ہو—زندگی کی بھیک مانگنا تم پر جچتا نہیں ہے—مقدس بیگم—مگر پھر بھی میں تمہیں مرنے نہیں دوں گی— کیونکہ اس بات کی ایک تم ہی تو گواہ ہو کہ اس جائیداد کی آدھے سے زیادہ حصے دار ہوں میں”— مقدس بیگم کے جبڑے کو اپنی سخت گرفت میں لیتے ایک جھٹکے سے چھوڑتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو مقدس بیگم نے حیرت سے پھٹی آنکھوں سے عقیدت کو دیکھا جو فرسٹ ایڈ باکس میں سے انجیکشن نکال کر فل کر رہی تھی—

مقدس بیگم کی آنکھوں میں اپنی سبز نگینوں جیسی آنکھیں گاڑھے—مضبوطی سے مقدس بیگم کا بازو تھام کر ان کے بازو میں انجیکشن لگایا تو مقدس بیگم نے گہری سانسیں لیتے—سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا

“جتنی سکون کی سانسیں لے سکتی ہو لے لو—کیونکہ تمہاری ان سانسوں میں زہر نا گھولا تو میرا نام بھی عقیدت حدایت شاہ نہیں— بہت شوق تھا نا تمہیں مجھے اس گھر سے نکلالنے کا—اب دیکھنا کیسے میں تمہاری ان آنکھوں کے سامنے اس گھر پر راج کرتی ہوں—صرف گھر ہی کیا ولی خان کی جائیداد کی مالک ہوں—گاؤں کے سردار کی بیوی ہوں—یہ تو سلطنت ہی میری ہے—یہاں حکم بھی عقیدت شاہ کا چلے گا اور راج بھی عقیدت شاہ کا ہوگا—اور سچ سامنے لا کر سزا بھی عقیدت شاہ ہی سنائے گی”— مقدس بیگم کی دونوں کلائیوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے ان کے چہرے پر جھکتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو مقدس بیگم نے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے—بامشکل عقیدت کے ہاتھوں سے اپنی کلائیاں چھڑوائی اور ایک ہی جھٹکے میں آٹھ کر کئی قدم کے فاصلے پر جا کر کھڑی ہوئی

آنکھوں میں خوف و حیرت لیے عقیدت شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا

“یہ دولت—یہ گھر سب میرا ہے—میں نے اس کی حفاظت کی ہے—تم نہیں ضرغام مالک ہے—تو جب میرا بیٹا اس سب کا مالک ہے تو اس کی ملکیت پر اس کی ماں کا حق بنتا ہے—نا کہ تمہارا”— ماتھے پر آئے پسینے کو اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا تو عقیدت نے طنزیہ مکسراتے آبرو آچکا کر انہیں دیکھا

ابھی عقیدت کوئی جواب دیتی کہ لاونج میں داخل ہوتے ضرغام خان کو دیکھ مقدس بیگم کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی

جس پر عقیدت نے سختی سے اپنے ہونٹ بھنچے

اسے پیچھے دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ آنے والا کون ہے—آنے والا تو اس کی روح میں بستا تھا—عقیدت شاہ تو قدموں کی آہٹ اور فضا میں رچی ضرغام خان کی خوشبو سے ہی اس کی موجودگی کو جان جاتی تھی

“مطلب تم نے میرے بیٹے سے یہ شادی صرف دولت اور اپنے باپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے کی ہے—کس قدر گھٹیاں سوچ کی مالک ہو تم عقیدت شاہ—چلو اس بات پر تو میں چپ کر گئی تھی کہ باپ ہے تمہیں دکھ ہوتا ہوگا—مگر دولت کے لیے اس حد تک گر جاؤ گی—خیر تمہارے تو خون میں ہی بغاوت ہے”—نظریں عقیدت شاہ کے سرخ پڑتے چہرے پر ٹکائے افسوس و حیرت کے ملے جلے تاثرات لہجے میں سموئے کہا تو لاونج میں داخل ہوتے ضرغام خان کے قدم بے ساختہ رکے

نظریں اپنے سامنے کھڑی مان سے ہوتی ٹیبل پر اپنی جانب پشت کیے بیٹھی عقیدت شاہ کے وجود پر جا کر ٹھہر سی گئی

رواں رواں سماعت بن کر عقیدت شاہ کے جواب کا منتظر تھا—

“تو آپ کو کیا لگا تھا کہ عقیدت شاہ اپنے باپ پر الزام لگانے والے کو بھول جائے گی – اور رہی بات ضرغام سے شادی کی اب اتنے سال اس طوق کو گلے میں لٹکائے رکھا تھا—اب اتنا تو حق بنتا ہے میرا— ویسے بھی پیسے کی لت لگ جائے تو کہاں دنیاداری—رشتہ داری یا ایمانداری نظر آتی ہے—پھر تو بس آنکھوں کے سامنے عیش و عشرت کی زندگی کے سہانے خواب ہی ہوتے ہیں—اب ساری عمر کے سکون کے لیے اگر کچھ دن ضرغام خان کو جھیلنا بھی پڑ جائے تو اس میں کوئی قباحت تو نہیں—اور اگر کبھی کمرے کی تنہائی میں بہک بھی جائیں تو گناہ بھی نہیں ہوگا”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے آخر میں مقدس بیگم کے ہونک بنے چہرے کو دیکھ آنکھ دبا کر قہقہہ لگایا تو ضرغام خان نے عقیدت کی بات پر سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی

جبکہ عقیدت ہی جانتی تھی کہ یہ الفاظ اس نے کس دل سے ادا کیے تھے— وہ بس مقدس بیگم کی نظر میں یہی ثابت کرنا چاہتی تھی کہ ضرغام اور اس کا رشتہ سوائےدشمنی اور ذاتی مفاد کے کچھ نہیں – تا کہ وہ ضرغام کو کوئی نقصان نا پہنچائیں – وہ اپنا ٹارگٹ عقیدت کو ہی رکھیں

مقدس بیگم کوئی جواب دیتی کہ ضرغام خان بائیں ہاتھ سے ٹیبل پر پڑے ڈیکوریشن پیس کو پوری شدت سے زمین پر پھینک چکا تھا—

کانچ ٹوٹنے کی تیز آواز پر عقیدت نے سختی سے اپنی آنکھیں میچیں

جبکہ ضرغام خان خون چھلکاتی نظروں سے عقیدت کو دیکھتا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلا گیا

عقیدت نے گہری سانس بھرتے سپاٹ نظروں سے مقدس بیگم کے مکروہ چہرے کو دیکھا اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتی ان کی جانب بڑھی—

عقیدت کو دیکھ کر نخوت سے سر جھٹکتی ابھی وہ آگے بڑھتی کہ عقیدت نے نامحسوس انداز میں اپنا پاؤں آگے کیا تو مقدس بیگم منہ کے بل نیچے گری

ان کی دبی دبی چیخ کا گلا عقیدت نے ان کے ہونٹوں پر سختی سے اپنی ہتھیلی جما کر روکا

“اس سے زیادہ بری طرح تو آپ انسانیت کے درجے سے گر چکی ہیں—یہ تو کچھ بھی نہیں”— مقدس بیگم کے کان میں پھنکارتے ہوئے کہا اور ایک ہی جھٹکے میں آٹھ کر تیز تیز قدم لیتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی

_________

عقیدت کمرے میں آئی تو نظریں صوفے پر سر جھکائے—اپنی کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے بیٹھے ضرغام خان سے ٹکرائی تو گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی

بری طرح اپنے لب کچلتے تیزی سے واشروم میں گھس گئی

تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو ضرغام خان کو ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھے دیکھ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی

نظریں آئینے سے ضرغام خان کے جھکے سر پر ہی ٹکی ہوئیں تھی

ضرغام خان کے وجود میں حرکت محسوس کر کہ جلدی سے نظروں کا رخ پھیرا

ماتھے پر بے ترتیبی سے چاکلیٹ براؤن بال بکھرے ہوئے تھے— نیلی گہری آنکھیں خطرناک حد تک سرخ ہو چکی تھی—جبڑے سختی سے بھنچے تھے کہ ماتھے اور گردن کی رگیں تن کر واضح ہونے لگی تھی—نظریں آئینے میں نظر آتے عقیدت کے چہرے پر گئیں تو عقیدت کے الفاظ کانوں میں گونجے

جس پر ضرغام خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی بلیک کلر کی شارٹ فراک کے ساتھ بلکیک کیپری پہنے—گلے میں ریڈ کلر کا دوپٹہ لیے—گولڈن گھنے لمبے بالوں کو رف سے جوڑے میں قید کیے—سبز نگینوں جیسی آنکھوں میں کاجل کی لکیر کھینچیں—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر ریڈ لپ گلوز لگائے— اپنے ہوش ربا سراپے سے وہ پل میں کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتی تھی— عقیدت شاہ کا قیامت خیز دل پر بجلیاں گراتا یہ روپ ضرغام خان کو اس وقت ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا

کوئی اور وقت ہوتا تو شاید وہ آج عقیدت کو اس روپ میں دیکھ ضبط کے سارے بندھن چھوڑ کر—عقیدت کی روح میں شامل ہو جاتا—مگر اب اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری دنیا کو تہس نہس کر دے

وہ جانتا تھا کہ یہ عقیدت نے ضرور مقدس بیگم کو غصہ دلانے کے لیے کیا ہوگا—مگر ضرغام خان کو پھر بھی یہ گوارا نہیں تھا کہ ان کا رشتہ کسی بھی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں مزاق یا سوال بنے

“ادھر آؤ عقیدت”—ضرغام خان کے ٹھرا دینے والے لہجے—اور آگ سی تپش لیے نظروں کو خود پر محسوس کر کہ عقیدت شاہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی

“مم—میں”—اپنے طرف انگلی کرتے بیوقوفانہ سوال کیا تو ضرغام خان نے خون چھلکاتی نظروں سے عقیدت کو گھورتے سر اثبات میں ہلایا

گہری سانس بھرتے عقیدت نے پلٹ کر قدم ضرغام خان کی جانب بڑھائے

ضرغام خان کی سرد نظریں عقیدت کو اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھی—پسینے سے تر ہوتی ہتھیلیوں کو اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کرتی وہ دو قدم کے فاصلے پر ضرغام خان کے سامنے کھڑی ہوئی

تو ضرغام خان نے اپنی سخت گرفت میں عقیدت کی کلائی تھامتے ایک جھٹکے میں گھٹنوں کے بل اپنے سامنے زمین پر بٹھایا

“کہو عقیدت ضرغام خان کے باہر جو بھی بکواس کی وہ سرا سر جھوٹ تھا”— اپنا دایاں بازو عقیدت کی گردن کے گرد سختی سے لپیٹتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت نے اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے ضرغام خان کی نیلی آنکھوں میں دیکھا

سوچنے میں وقت ضائع کرنے کا مطلب تھا ضرغام خان کی بات پر سچ کی مہر لگانا جو کہ فلحال عقیدت نہیں کر سکتی تھی—وہ اپنی خوشی یا انا کی وجہ سے ضرغام سے سب چھپا نہیں رہی تھی—وہ بس اسے اُس تکلیف سے بچانا چاہتی تھی—وہ مقدس بیگم کو کسی بھی طرح ان کی غلطیوں کا احساس کروانا چاہتی تھی—ان کے دل میں اولاد کے لیے محبت پیدا کرنا چاہتی تھی

“میں نے باہر جو بھی کچھ کہا وہ حرف بہ حرف سچ تھا—اور مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے”— ضرغام خان کی خون چھلکاتی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت کی گردن پر ضرغام خان کی گرفت بے ساختہ سخت ہوئی

ضرغام خان کے جان لیوا لمس سے عقیدت کو ایسا محسوس ہوا جیسے ضرغام کی انگلیاں اس کی جلد میں پیوست ہو چکی ہیں

“تمہارے لیے یہ رشتہ ایک طوق تھا”—

“میرے لیے یہ اب بھی ایک طوق ہی ہے”—ضرغام خان کے سرد لہجے پر عقیدت نے سپاٹ لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگ گئی

“تمہیں یہ دولت چاہیے”—

“یہ دولت یہ جائیداد میرا حق ہے”—ضرغام خان کے سوال کا دوبدو جواب دیا تو ضرغام خان نے اپنا بایاں بازو عقیدت کی کمر کے گرد لپیٹتے اپنے روبرو کیا تو اس اچانک افتاد پر عقیدت نے بے ساختہ ضرغام خان کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے

“پھر تو میرے بھی بہت سے حق نکلتے ہیں—ویسے بھی باہر تو تم مجھے جھیلنے کی بات بھی کر رہی تھی نا—تو تمہیں آج میں اپنے الفاظ میں بتاتا ہوں عقیدت ضرغام خان کے جھیلنا کہتے کسے ہیں” پراسرار لہجے میں کہتے بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے ایک ہی جھٹکے میں عقیدت کے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر اتارا تو ریشمی دوپٹہ گلے پر پھرنے سے کئی خراشیں گردن پر پڑیں

ابھی عقیدت کوئی مزاحمت کرتی کہ ضرغام خان اپنے کندھے پر رکھے عقیدت کے ہاتھوں کو باندھتا—ایک جھٹکے میں عقیدت کو اپنی بازوؤں میں اٹھاتا بیڈ کی جانب بڑھا”

“میں تمہارا منہ نوچ لوں گی ضرغام—اگر تم نے ایسا کچھ سوچا بھی—چھوڑو مجھے پاگل خان— سر پھاڑ دوں گی تمہارا”—ضرغام خان کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں دبوچتے—گردن پر اپنے ناخن گاڑھتے—دبے دبے لہجے میں غرا کہا جسے ان سنا کرتے ضرغام خان نے پٹکنے کے انداز میں عقیدت کو بیڈ پر لٹایا

سرد و سپاٹ نظروں سے عقیدت کو دیکھتے ایک ہی جھٹکے میں اپنے سفید کرتے کو اتار کر دور اچھالا تو عقیدت نے بے یقینی سے ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا

عقیدت کی آنکھوں میں بے یقینی اور حیرت دیکھ ضرغام خان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی

“مجھے میرا حق لینے دو عقیدت شاہ—اس کے بعد ساری دولت تمہارے قدموں میں ڈھیر کردوں گا—اج تو ضرغام خان کی ضد ہے تمہیں پانا—اور خان کی ضد معمولی تھوڑی ہو سکتی ہے—اتنا تو بنتا ہے—اگر لٹنا مقدر ہے تو شاندار طریقے سے ہونا چاہیے نا—اس حسین رات—دشمن مگر محبوب بیوی کی قربت کے لیے تو میں خود ہار جاؤں دولت کی کیا اوقات ہے”— عقیدت شاہ کے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے—عقیدت کے چہرے پر جھکتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو عقیدت نے خونخوار نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا

“اور کوئی عقیدت شاہ کو ضد بنا کر اپنی منمانی کر لے—ایسا تو میرے مرنے کے بعد بھی ممکن نہیں”—اپنی دائیں ٹانگ کو فولڈ کرتے ضرغام خان کے پیٹ میں مارتے خود سے پیچھے کیا—عقیدت پھر سے ضرغام خان کے پیٹ میں دوسری ٹانگ مارتی کہ ضرغام خان نے خونخوار نظروں سے عقیدت کو گھورتے عقیدت کے پاؤں کو اپنے ہاتھ میں تھاما

ابھی عقیدت کچھ سمجھتی کہ ضرغام خان نے اپنے وجود کا سارا بوجھ عقیدت پر ڈالتے—جھک کر بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے دائیں جانب کندھے سے شرٹ کو کھینچا تو کندھے سے بازو تک شرٹ پھٹتی چلی گئی

جس پر عقیدت نے افسوس اور بے یقینی سے ضرغام خان کی جانب دیکھا—جبکہ اس غیرارادی حرکت پر ضرغام خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے—

بنا عقیدت کی جانب دیکھے ہاتھ اوپر کرتے عقیدت کے ہاتھوں سے دوپٹہ اتارا

اپنی اس حرکت پر دل نے بری طرح ملامت کی—مگر عقیدت کے چہرے کی جانب دیکھا تو وہی الفاظ پھر سے سارے حواس جھنجھوڑ گئے

اپنی شرمندگی کو پس پشت پر ڈالتے عقیدت کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے جھک کر اپنا چہرہ عقیدت کی گردن میں چھپا یا

ضرغام خان کے ہونٹوں کے سلگتے لمس کے ساتھ دانتوں کے دباؤ پر عقیدت نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر سسکی کا گلہ گھونٹا

عقیدت کی گردن پر جابجا اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے—عقیدت کو وہی تکلیف دینی چاہی جو اس کے الفاظ نے ضرغام خان کو دی تھی

“تم جنگلی—پاگل خان— پیچھے ہٹو—ورنہ آج میرے ہاتھوں سے تمہارا قتل پکا ہے—مجھے تم معصوم لگتے تھے— مگر تم تو دن بدن ٹھرکی اور بیہودہ ہی ہوتے جا رہے ہو”— ضرغام خان کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے دباؤ ڈال کر پیچھے ہٹایا—اس سے پہلے ضرغام خان پھر سے جھکتا کہ عقیدت نے دائیں ہاتھ کا مکہ بنا کر ضرغام خان کے ناک پر مارا تو ضرغام تکلیف سے کراہ کر پیچھے ہٹا

“یو سائیکو عورت—دماغ ٹھکانے پر ہے یا نہیں—رکو ذرا تم”— اپنی سرخ پڑتی ناک کو پکڑے—بیڈ ہر کھڑی عقیدت شاہ کو دیکھتے دھاڑتے ہوئے کہا تو عقیدت نے طنزیہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا

ضرغام خان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ ابھی وہ بھاگتی کہ ضرغام خان نے عقیدت کی دائیں ٹانگ کو پکڑ کر کھینچا تو عقیدت اوندھے منہ بیڈ پر گری

“جو تم نے کہا ہے نا عقیدت وہ یہاں— یہاں دل پر نقش ہو گیا ہے—کوشش کرو کہ میرے سامنے کم ہی آو—اس بار محبت دل و دماغ پر حاوی نہیں ہونے دوں گا—جان لے لوں گا تمہاری—اور تمہاری قسم رتی برابر بھی افسوس نہیں ہوگا—اور آخری بات میرے قریب بھی مت آنا—ورنہ تمہارے وجود کو تو آگ لگاؤں گا—اپنے وجود سے تمہارا لمس مٹانے کے لیے خود کو بھی راکھ کر ڈالوں گا”—عقیدت کی گردن کو اپنی سخت گرفت میں لیتے زخمی شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہا اور ایک جھٹکے میں عقیدت سے پیچھے ہٹتے ایک خونخوار نظر عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے پر ڈالتا—کبرڈ سے ڈریس لیتا ڈریسنگ روم میں بند ہوگیا

جبکہ عقیدت بیڈ پر چت لیتی—خالی نظروں سے چھت کو دیکھتی بری طرح اپنے لب کچل رہی تھی—دروازا کھلنے کی آواز پر گردن ترچھی کر کہ دیکھا تو ضرغام خان کو ڈریسنگ کے سامنے—چہرے پر چٹانوں سی سختی لیے کھڑا دیکھ اور خود کو نہر انداز کرتے محسوس کر کہ عقیدت کو اپنے دل میں ٹھیس سی اٹھتی محسوس ہوئی

عقیدت کی موجودگی کو سرے سے نظر انداز کرتے ضرغام اپنے بال سیٹ کرتا دروازا دھاڑ سے بند کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا

گہری سانس بھرتے—عقیدت نے انگلیوں کے پوروں سے اپنی گردن پر ضرغام خان کے دیے زخموں کو محسوس کرنے کی کوشش کی—گردن پر ہوتی جلن پر عقیدت نے سر جھٹکتے کروٹ بدلتے آنکھیں موند لیں

جبکہ اپنی جیپ کے پاس کھڑے ہوتے ضرغام خان نے ایک شکوہ کناں نظر اپنے کمرے کی کھڑکی پر ڈالی—اور تیش میں اپنے ہاتھ کا مکہ بنا کر جیپ پر مارا

“کبھی معاف نہیں کروں گا عقیدت—کبھی نہیں”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتا ایک آخری نظر کھڑکی پر ڈال کر جیپ سٹارٹ کرتا حویلی سے نکلتا چلا گیا

__________

“یہ تو حدائق جی کا ہاسپٹل نا”— گاڑی کے ہاسپٹل کے سامنے رکنے پر پلوشہ نے حیرت سے امتثال کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو امتثال نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا

“تم پاگل ہو امتثال—لالا جان سے مار دیں گے—اور مم—میں ویسے بھی نہیں جا رہی”—کار کے دروازے کو سختی سے پکڑتے ہوئے کہا تو امتثال نے گھور کر پلوشہ کو دیکھا

“پاگل لڑکی کوئی ہوش ہے تمہیں کہ نہیں—پہلے ہی تمہارا سر تاج ناراض ہے تم سے—ملنے بھی نا آسکا—اگر وہ ملنے آ بھی جاتے تو تمہارے ہوش ہی ٹھکانے لگانے تھے—اس سے پہلے وہ خود آئیں اس سے بہتر ہے تم جا کر انہیں منا لو—اور اپنی غلطی کے لیے معافی بھی مانگ لینا”— پلوشہ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے گھسیٹنے کے انداز میں آگے بڑھتے ہوئے کہا تو پلوشہ نے گھبراتے ہوئے بے ساختہ نفی میں گردن ہلائی

“ہم سے نہیں منایا جاتا کسی کو—اور وہ تو پورے جلاد ہیں—مجھے مارنے کے بعد آنے کی وجہ پوچھیں گے—میں نہیں جاؤں گی امتثال پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دو”— نم لہجے میں کہتے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تو امتثال نے گردن موڑ کر سخت نظروں سے پلوشہ کو گھورا

جبکہ پلوشہ خان نے بے بسی سے اسے دیکھا

وہ اب اسے کیا بتاتی—کہ اس کے خیالوں کی دنیا میں جو حدائق شاہ تھا وہ ایک رحم دل مسیحا تھا—جو درد کی دوا تو ہو سکتا تھا مگر وجہ نہیں—مگر حدائق شاہ نے بری طرح پلوشہ خان کو خیالوں کی دنیا سے حقیقت میں پٹکا تھا—اب تو پلوشہ کی نظر میں حدائق شاہ طوفان بن کر آیا تھا—اور حشر برپا کر کہ چلا گیا تھا— مگر وہ تہس نہس کر کہ بھی پوری شان سے پلوشہ خان کو اپنے نام کر چکا تھا—حدائق شاہ کے ہاتھوں کا سلگتا لمس ابھی بھی پلوشہ خان کے وجود میں سنسنی دوڑا دیتا تھا—اور امتثال کہہ رہی تھی کہ وہ اس شخص کو جا کر منائے—جس کی نیلی آنکھوں میں وحشتیں اور جنون دیکھنے کے بعد وہ ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی—جو شخص پل میں قیامت برپا کر گیا تھا—امتثال کہہ رہی تھی کہ وہ اس شخص کے سامنے اکیلی جائے—اکیلی جاتے وہ مر نا جائے

“یہ رہا تمہارے میاں کا آفس—اب اگر یہاں سے تم بات کیے بغیر نکلی تو جان نکال لوں گی میں تمہاری”—حدائق شاہ کے آفس کے سامنے کھڑے ہوتے پلوشہ کو بازو سے تھام کر اپنے سامنے کرتے سخت لہجے میں کہا تو پلوشہ نے تڑپ کر پیچھے ہونا چاہا مگر اس سے پہلے ہی امتثال اس کا بازو دبوچ کر دروازا کھولتی اندر دھکیل چکی تھی

ہونٹوں پر فخریہ مسکراہٹ سجائے قدم کیفے ٹیریا کی جانب بڑھائے

وہ انے سے پہلے ہی ہر چیز پتہ کر چکی تھی—کہ حدائق کا آفس کہان ہے—وہ کس وقت فری ہوتا ہے—لنچ ٹائم پر کہا ہوتا ہے یعنی کولیگیز کے ساتھ یا اکیلا

جس پر ملازم نے بتایا تھا کہ وہ اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر اکیلا رہنا ہی پسند کرتا ہے—

کولیگیز سے بھی کام کے سلسلے میں ہی بات کرتا ہے—اس کی بہرام اور بالآج کے علاوہ کسی سے دوستی بھی نہیں

اسی لیے امتثال کو یہی وقت ٹھیک لگا تھا—جتنی بیوقوف اس کی کزن تھی اور جتنا غصیلہ اس کا جیجا نکلا تھا تو امتثال کو یہی بہتر لگا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے اکیلے میں بات کر لیں تا کہ ان کے درمیان موجود سب غلط فہمیاں ختم ہو جائیں—اور وہ ایک دوسرے کو اچھے سے سمجھ سکیں

__________

کیفیٹیریاں میں آئی تو وہاں بس اکا دکا لوگ تھا

ابھی کچھ دن ہی تو ہوئے تھے ہاسپٹل کو سٹارٹ ہوئے

کاؤنٹر پر جا کر ابھی وہ اپنا آڈر دیتی کہ اپنے کندھوں کے اردگرد چادر اور کسی کے مردانہ ہاتھ محسوس کر کہ بھونچکا رہ گئی

گردن ترچھی کر کہ اپنے بائیں جانب دیکھا تو دھک سے رہ گئی

بہرام شاہ جو حدائق سے ملنے ہاسپٹل آیا تھا— مگر حدائق کے روم کے سامنے سے گزرتی لڑکی پر اسے امتثال کا گمان ہوا—

تو وہ اس کے پیچھے ہی کیفیٹیریاں میں آگیا—اپنے شک پر یقین کی مہر لگتے دیکھ بہرام شاہ کے وجود میں سرور کی لہر دوڑ گئی

مگر وہاں بیٹھے میل ڈاکٹر کی نگاہ امتثال خان کے وجود پر گڑھی دیکھ بہرام شاہ کو اپنی رگوں میں شرارے پھوٹتے محسوس ہوئے

اسی لیے اپنے کندھوں پر لی اجرک کو اتار کر لمبے لمبے ڈنگ بڑھتا امتثال خان کے قریب پہنچتے بنا امتثال کو سمجھنے کا موقع دیے اس کے کندھوں پر پھیلا چکا تھا

اپنے بائیں جانب چہرے پر چٹانوں سی سختی لیے کھڑے بہرام شاہ کو دیکھ امتثال کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں

بہرام شاہ نے گردن ترچھی کر کہ سخت نظروں سے خود کو حیرت سے تکتی امتثال خان کو دیکھا

اور بنا کسی کی پرواہ کیے امتثال کی کلائی اپنی سخت گرفت میں لیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا

“ہاتھ چھوڑیں ہمارا—آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی یہ گھٹیا حرکت کرنے کی—ہاتھ چھوڑیں بہرام شاہ—ورنہ میں لالا کو آپ کی اس حرکت کے بارے میں بتا دوں گی”—بہرام شاہ کے ساتھ گھسیٹتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بہرام شاہ نے اپنی گہری رات سی سیاہ آنکھوں سے گھور کر امتثال خان کو دیکھا

بہرام شاہ کی سرد نظروں کو دیکھ امتثال کی زبان تالو سے چپک چکی تھی

تبھی بہرام شاہ نے ایک روم کا دروازا کھول کر امتثال کو اندر دھکیلا

___________

دیوار کے ساتھ امتثال کو پن کرتے اپنے دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھے

مسٹرڈ کلر کی پٹھانی فراک پہنے جس کے دامن اور گلے پر رنگ برنگے پھول بنے ہوئے تھے— گلے میں آتشی گلابی رنگ کا دوپٹہ لیے—براون بالوں کو لوز چٹیاں میں قید کیے—جس کے باعث بالوں کی چند آوارہ لٹیں چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھیں—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں کو سختی سے بھنچیں—اور شہد رنگ آنکھوں میں غصے کی تپش لیے خونخوار نظروں سے اپنے سامنے کھڑے بہرام شاہ کو گھورتی وہ سیدھا بہرام شاہ کے دل میں اتر رہی تھی—

سفید کاٹن کے سوٹ میں—سیاہ گھنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے—گہری سیاہ آنکھوں میں غصہ اور جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے— یک ٹک امتثال خان کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا—جس پر امتثال نے دانت کچکچا کر بہرام شاہ کو دیکھا

“چادر کہاں ہے تمہاری”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے ہاتھ بڑھا کر دائیں جانب سے لٹوں کو کان کے پیچھے اڑسا تو بہرام شاہ کے سرد لہجے اور ہاتھوں کے لمس پر امتثال نے بے ساختہ جھرجھری لی

بہرام شاہ کی غصے کی زیادتی سے تیز دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کو محسوس کر کہ امتثال کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوتی محسوس ہوئی

“گ- گھر ہے—اور ہماری مرضی ہم چادر لیں یا نا—آپ کون ہوتے ہیں یہ سوال پوچھنے والے”— بہرام شاہ کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے پیچھے کی جانب دھکیلنے کی کوشش کرتے چلا کر کہا تو بہرام شاہ نے جبڑے بھنچ کر امتثال خان کو دیکھا

نظریں امتثال کے سرخ چہرے سے ہوتی اپنے سینے پر رکھے امتثال کے ہاتھوں پر آئیں تو بہرام شاہ نے سرد نظروں سے امتثال کو دیکھتے—اپنے سینے پر دھڑے امتثال کے ہاتھوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے—ایک ہی جھٹکے میں امتثال کی پشت پر لاک کرتے امتثال کو اپنے قریب کیا

“تم نہیں جانتی کہ میں کون ہوں امتثال خان—میں بہرام شاہ ہوں – جو پہلی نظر میں تمہارے آگے خود کو ہار آیا تھا– چادر تو بہت چھوٹی بات ہے میرا بس چلے تو تمہیں سات پردوں میں چھپا کر رکھ لوں—کہ جہاں بہرام شاہ کے علاؤہ تمہیں کوئی اور نا دیکھ سکے—تم سے سوال و جواب کرنے کا—تمہاری مرضی کو اپنی مرضی میں ڈھالنے کا—تمہیں اپنے رنگ میں رنگنے کا حق صرف اور صرف بہرام شاہ کا ہے—آئندہ میں نے اگر تمہیں چادر کے بغیر حویلی سے باہر قدم رکھتے دیکھ لیا— تو بہت بری طرح پیش آؤ گا امتثال—یہ تمہاری پہلی اور آخری غلطی تھی—آئندہ یہ نا ہو”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے ایک ہی جھٹکے میں امتثال کو خود سے دور کیا تو امتثال نے نم شکوہ کناں نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھا

جس پر بہرام نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر امتثال خان کی نم نظروں میں دیکھتے—نفی میں سر ہلایا

“اس سے زیادہ بری طرح کیا پیش آئیں گے—آپ کی نظر میں اس سے زیادہ برے کا اور کیا مطلب ہے—اس دن جیسا برا جو اپ کا بھائی کر کہ گیا—وہ آپ میرے ساتھ کریں گے— ہاتھ اٹھائیں گے مجھ پر بھی—ہاتھ اٹھا کر اپنی منمانی کریں گے— اس طرح کا سلوک رکھتے ہیں آپ کے ہاں اپنی محبت کے ساتھ”— اپنی سرخ پڑتی کلائیاں جن پر بہرام شاہ کی انگلیوں کے نشان پر چکے تھے— بہرام شاہ کے آگے کرتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بہرام شاہ نے نرم نظروں سے امتثال کو دیکھتے نرمی سے امتثال کی کلائیوں کو اپنی گرفت میں لیا

“تم پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے بہرام شاہ مر نا جائیں—برا تو میں کروں گا مگر اپنے طریقے سے—اور کیا پتہ وقت کے ساتھ تمہیں وہ میرا برا بھی اچھا لگنے لگے—اور ہمارے ہاں محبت کے ساتھ کیا سلوک رواں رکھتے ہیں وہ تم ایک بار مکمل طور پر میری دسترس میں آجاؤ پھر تمہیں تفصیل سے بتاؤں گا—مگر بہت شکریہ کہ تم مان گئی کہ تم بہرام شاہ کی محبت ہو”—اپنے ہاتھ کے انگھوٹھوں کے پوروں سے نرمی سے کلائی کو سہلاتے زومعنی لہجے میں کہا تو بہرام شاہ کے ہاتھ کے سلگتے لمس اور زومعنی جملے نے امتثال کو کان کی لو تک سرخ کر دیا

خون چھلکاتے چہرے کو جھکا کر اپنی کلائی کھینچنی چاہی تو بہرام شاہ نے ہلکا سا جھٹکا دیتے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹا

نظریں سرخ کلائیوں پر گئیں تو بہرام شاہ کے دل نے سینے میں سر پٹکا کے جھک کر محبت سے اسے چھو کر محسوس کر لیں—مگر دماغ نے بری طرح سرزنش کی

وہ محبت تھی—مگر نام سے منسوب نا تھی— دل کو بری طرح ڈپٹتے محبت بھری نظروں سے امتثال خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا

When I look at you Kuch kuch hota hai

ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر پک اپ لائن کہی تو امتثال خان نے جھٹکے سے سر اٹھا کر ہونکوں کی طرح منہ کھولے بے یقینی سے بہرام شاہ کو دیکھا جس پر روم کی معنی خیز خاموش فضا میں بہرام شاہ کا دلکش قہقہہ گونجا

“میں نے آپ سے دوسری ملاقات پر جو آپ کے بارے میں اندازہ لگایا تھا—بالکل ٹھیک تھا—انتہا کے ٹھرکی شاہ ہیں آپ”—دانت کچکچا کر اپنی کلائیاں بہرام شاہ کے ہاتھوں سے آزاد کرواتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے مسکراتی نظروں سے امتثال خان کو دیکھا

“یہ تو کل مجھے کسی نے سینڈ کی تھی—مگر اسے پڑھ کر مجھے تمہاری یاد آئی—تمہیں دیکھ کر کچھ کچھ تو کیا بہت کچھ ہوتا ہے دل میں—خیر تم اسے چھوڑو یہ بتاؤ دوسری ملاقات میں ٹھرکی لگا تھا—تو پہلی میں کیسا لگا تھا—اور اس سب کا مطلب تمہیں بھی کچھ کچھ ہوا تھا—جو میرے بارے میں سوچا”— امتثال خان کے کندھوں پر چادر کو ٹھیک کرتے شوخ لہجے میں کہا تو امتثال نے گھور کر بہرام شاہ کو دیکھا

“پہلی ملاقات میں غلطی سے ڈیسنٹ انسان لگے تھے— مگر اب میری وہ غلط فہمی بہت اچھے سے دور ہوگئی ہے”—سخت نظروں سے گھورتے ہوئے کہا—دل میں تھا کہ پوچھ لے کہ اسے سینڈ کرنے والا کون تھا—یا تھی—مگر وہ جانتی تھی اگر پوچھ لیتی تو بہرام شاہ نے پھیل جانا تھا—دل کو بری طرح ڈپٹتے سخت لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے گہری نظروں سے امتثال خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا

“یہاں کیسے آنا ہوا آپ کا”— کمرے کا دروازا کھولتے—امتثال کا ہاتھ تھامے باہر آتے نرم لہجے میں کہا تو امتثال نے ایک نظر بہرام شاہ کے ہاتھ میں قید اپنی کلائی کو دیکھا

“وہ مم—میں پلوشہ کو حدائق لالا سے ملوانے لائی تھی”—بری طرح اپنے لب کچلتے جھجھکتے ہوئے جواب دیا تو بہرام شاہ نے بھی حیرت سے گردن موڑ کر اپنے ساتھ سر جھکائے چلتی امتثال خان کو دیکھا

اور پھر مسکرا کر سر جھٹکا

“امتثال”—بہرام شاہ کے بوجھل لہجے اور رک جانے پر امتثال خان نے بے اختیار سر اٹھا کر بہرام شاہ کو دیکھا

“ماں جی کو کچھ دنوں تک بھیجوں گا—مجھے امید ہے آپ انکار نہیں کریں گی—اگر کوئی بات یا اعتراض ہوا تو بلا جھجھک عقیدت سے کہہ دیجیئے گا وہ مجھے بتا دے گی— میں پوری عزت اور مان کے ساتھ آپ کو اپنی زندگی میں لانا چاہتا ہوں— میرے لیے بہت خاص ہیں آپ”—محبت بھرے لہجے میں کہتے نرمی سے امتثال کا ہاتھ چھوڑا

جبکہ بہرام شاہ کے محبت بھرے لہجے پر پل میں امتثال خان کے چہرے پر گلال بکھرا جسے دیکھ بہرام شاہ کے وجود میں سرشاری کی لہر دوڑ گئی

ایک گہری محبت بھری نگاہ امتثال خان کے وجود پر ڈالتے اسے حدائق کے ساتھ والے روم میں چھوڑ کر باہر آکر اپنے گارڈ کو بلا کر دروازے کے باہر کھڑا کر دیا کہ کوئی بھی اس روم میں جا نا پائے جب تک امتثال خان کمرے میں موجود ہے

ایک نظر حدائق شاہ کے آفس کو دیکھ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *