Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 43)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

قدموں کی چاپ سنتے عقیدت پلوشہ خان کے وجود کو گھسیٹتی دروازے کی اوٹ میں ہوئی تھی—پلوشہ خان کو پہلے وہ ڈر اور جلد بازی میں اٹھا تو چکی تھی مگر اب اپنے جسم میں اٹھتی درد کی ٹھیسوں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی—

ہونٹ بھنچے ایک نظر پلوشہ خان کے چہرے پر ڈالتے دروازے کی اوٹ سے باہر دیکھا تھا—

مگر جانی پہچانی آواز سنتے عقیدت نے سکون بھری سانس لی تھی—

لالا—اس طرف بھی کوئی نہیں ہے—میں اس طرف جاتا ہوں—آپ امتثال اور پولیس والوں کے ساتھ اس سائیڈ جائیں— جتنا کچھ یہاں ہو چکا ہے تو ضرور وہ یہاں سے بھاگنے کا سوچ رہے ہوگے—ایس ایچ او سے رابطے کر کہ گیٹ کو بند کروا دیں—ارمغان سے کہیں کے بالاج کے ساتھ دوسری طرف جائیں شاید سلوی لوگ ادھر ہو”— عائث خان کی سنجیدہ آواز راہداری میں گونجتی دور تک پھیل رہی تھی کہ تبھی وہ آہٹ اور نسوانی اور پر پیچھے کی جانب متوجہ ہوئیں تھے

“عائث—اس طرف”— دروازے کی اوٹ سے نیچے بیٹھے ہاتھ نکالے عقیدت شاہ نے دبی دبی آواز میں چلا کر کہا تو وہ تینوں بھاگنے کے انداز میں اس جانب بڑھے تھے—

نیم اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں داخل ہوتے عائث خان نے موبائل کی ٹارچ ان کی تھی—

نظریں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی پلوشہ خان کے نیم بے ہوش وجود پر گئی تو عائث خان تڑپ کر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا

“پلوشے— آنکھیں کھولوں—پلوشے—دیکھو لالا آگئے ہیں نا—یہ سب کس نے کیا ہے بھابھی”— تڑپ کر پلوشہ خان کو پکارتے— غصے سے پھولتے تنفس میں چلا کر پوچھا تو عقیدت نے سر نفی میں ہلایا تھا—

“میں جب چیخوں کی آواز سن کر پہنچی تو یہ اس حالت میں تھی—انفیکٹ جس کمرے میں یہ تھی وہاں آگ لگائی گئی تھی”—

“تم ٹھیک ہو نا”— بہرام شاہ کے پوچھنے کر عقیدت نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور بہرام شاہ کا بازو تھامے ہچکیوں سے روتی امتثال خان کی جانب ہاتھ بڑھایا تو امتثال نے عقیدت کے دونوں بازو تھامتے اسے اٹھنے میں مدد کی تھی—

“میں نے آوازیں سنی تھی—بیسمنٹ میں دولڑکیاں ہیں—وہ کچھ اوزاروں کے نام لے رہے تھے—کہہ رہے تھے کہ ان لڑکیوں کا انتظام کرنے میں کام آئیں گے – میں پلوشہ کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی—وہ کون ہیں—حوریہ کہاں ہے—اور صبغہ اور سلوی وہ حویلی ہی ہیں نا”— بہرام شاہ کے دونوں بازو تھامتے لہجے میں خوف لیے استفسار کیا تو بہرام شاہ نے سرخ پڑتی آنکھوں کو سختی سے بھنچتے سر نفی میں ہلایا تھا

تم تینوں یہی رہو گی—یہ پسٹل پکڑو عقیدت – تمہیں اس کا استعمال آتا ہے—تم اپنی اور ان دونوں کی حفاظت کرو گی—کچھ پولیس والے کمرے میں اور کمرے کے باہر ہوگے—جب تک ہم واپس نا آئیں تم ان لوگوں کو چھوڑ کر یا ان دونوں کو لے کر کمرے سے باہر نہیں نکلو گی—اور امتثال رونا بند کرو—اور ہمت کرو اس وقت کو ہم رونے اور ایک دوسرے کی چوٹوں پر افسوس کرنے پر ضائع نہیں کر سکتے—ہم سب کو یہاں سے صحیح سلامت جانا ہے بس کچھ دیر کی آزمائش ہے پھر سب ہمیشہ کے لیے ٹھیک ہوگا—یہ پسٹل تم امتثال–میں جانتا ہوں تنہیث نہیں چلانی آتی مگر بات عزت اور جان پر آجائیں تو انسان کو سب اجاتا ہے—لیکن اپنے شاہ پر یقین رکھو ایسی نوبت ہی نہیں آئیں گی کہ تمہیں اسے چلانا پڑے—چلو عائث”— بیک وقت دونوں سے مخاطب ہوتے سمجھانے والے انداز میں کہتے وہ عائث خان کو آنے کا اشارہ کرتا باہر کی جانب بڑھا تھا- جبکہ عائث خان پلوشہ خان کے سوجھے گالوں کو زخمی نظروں سے دیکھتا اپنی جگہ سے اٹھا تھا—

“پلوشہ کو ہوش آئے تو پوچھنا کہ اس کا یہ حال کس نے کیا ہے—کیونکہ اس شخص کو سزا میں خود دوں گا”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھا تھا-

_____

“حوریہ میری جان پلیز اٹھ جاؤ”— اپنے خون میں رنگے ڈوبٹے کو کبھی حوریہ شاہ کے ماتھے پر رکھتے اور کبھی سر کے پچھلے حصے پر رکھتی سلوی شاہ ہچکیوں سے روتے حوریہ شاہ کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی—

وہ نہیں جانتی کہ اسے کس وقت یہاں لایا گیا تھا—مگر جب وہ ہوش میں آئیں تھی تو نظریں حوریہ شاہ کے خون سے لت پت وجود پر گئیں تو سلوی شاہ کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی—اپنی چوٹوں سے اٹھتی ٹیسوں کو نظر انداز کرتی وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں حوریہ شاہ کے قریب ہوئی تو حوریہ شاہ کا خون سے لت پت چہرہ اور خون سے رنگی پشت کو دیکھتی سلوی شاہ کی دبی دبی چیخیں کمرے کی خاموش فضا میں گونجی تھی—

کپکپاتے ہاتھوں سے ماتھے پر چپکے بال ہٹائے تو گہرا کٹ دیکھتے سلوی شاہ کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی—مگر اتنا خون کیسے—یہ سوچ آتے ہی سلوی شاہ نے حوریہ کے وجود کو ٹٹولہ تھا— وہاں کوئی چوٹ نا پا کر دماغ میں جھماکہ سا ہوا تو سرعت سے حوریہ کے وجود کو کروٹ کے بل کرتے سر کو ٹٹولا تھا—جیسے ہی ہاتھ بالوں سے ٹکرائے تو عجیب سی چپچپاہٹ محسوس ہوئی جس سے سلوی شاہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا – ہاتھ بالوں کی جڑوں تک گیا تو اتنا گہرا اور بڑا زخم محسوس کرتے وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی—

“نن—نہیں نہیں حح-حوریہ کک-کچھ نہیں ہوسکتا آنکھیں کھولو—مجھے دیکھو حوریہ انکک-ھیں کھولو—کوئی ہے”— دیوانہ وار حوریہ شاہ کا چہرہ ہاتھوں اور ہونٹوں سے چھوتے سلوی شاہ ہذیانی انداز میں چلاتی بند دروازے کی جانب بڑھی تھی—

“مم—میری بہن کو چچ-چوٹ لگی ہے—دروازا کھولو—اسے ہاسپٹل لے کر جانا ہے—دروازا کھولو—وہ مم—جھے نہیں دیکھ رہی وہ آنکھیں نہیں کھول رہی—خدارا دروازا کھولو—میری جان لے لو لیکن میری بہن کو ہاسپٹل لے جاؤ – اس کا خون بہہ رہا ہے—دروازا کھولو ظالموں اللّٰہ غارت کریں تم لوگوں کو—دروازا کھولو”— بری طرح دروازے کو پیٹتے ہذیانی انداز میں چلاتے وہ کبھی کھڑکی کی جانب بھاگتی اور کبھی آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے حوریہ شاہ کو دیکھتی

نجانے کتنے وقت گزر گیا تھا—چیخ چیخ کر اب تو گلے میں بھی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھی—دروازے کو دونوں ہاتھوں سے بجاتی وہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی کہ ایک دم باہر سے دروازا کھلنے کی آواز پر سرعت سے پیچھے ہٹتی آٹھی تھی—

کمرے کا دروازا کھولتے ہی مقدس بیگم لال بھبھوکا چہرہ لیے اندر داخل ہوئی تھی اس سے پہلے سلوی کچھ سمجھتی کہ وہ چیل کی طرح اس پر جھپٹی تھی—

“کس بات کا رونا ڈالا ہوا ہے— مر رہی ہے تو مرنے کے لیے ہی یہ حال کیا ہے—اور ابھی اس سے بھی بدتر ہونا یہ اس کا اور تیرا حال—اب اگر حلق سے آواز بھی نکلی تو گدی سے زبان کھینچ لوں گی”— سلوی شاہ کو بالوں سے جھنجھوڑتے جھٹکا دیتے ہوئے چلا کر کہا تو سلوی شاہ نے بامشکل خود کو گرنے سے بچایا تھا—

“تم گھٹیا عورت چھوڑوں گی نہیں تمہیں—ہاتھ لگا کر دکھاؤں تم میری بہن کو—منہ نوچ لوں گی تمہارا”— غصے سے گہرے سانس بھرتی مقدس بیگم کو سمجھنے کا موقع دیے ان کے چہرے پر وار کرتے چلا کر کہتی وہ انہیں بوکھلا گئی تھی—

ابھی مقدس بیگم کچھ سمجھتی کہ سلوی شاہ ارگرد کچھ ٹٹولتی دروازے کے کھلے پٹ کے قریب پڑی لکڑی کے ڈنڈے کی جانب بڑھتی اسے تھامے مقدس بیگم کے قریب آئی تھی—

“یہ کک—کیا کر رہی ہو لڑکی—دور کرو اسے”—مقدس بیگم جو بوکھلائی سی حیرت زدہ سی کھڑی تھی سلوی شاہ کے تیور دیکھتے قدم پیچھے لیتی چلا کر بولی تھی

“میں جان لے لوں گی گھٹیاں عورت تمہاری—جتنی تکلیفیں تم نے ہمیں دی ہمیں اس کے بدلے میں جان لینا بھی کم ہے”— ہذیانی انداز میں چلاتے وہ مقدس بیگم کے سر پر وار کر چکی تھی ابھی وہ دوبارا سے وار کرتی کے کسی نے پیچھے سے سلوی شاہ کے بازو دبوچتے اسے منہ کے بل دوسری جانب دھکا گیا تھا

“خود(بہن) تم کو زیادہ تو نہیں لگا”—مقدس بیگم کو سر دونوں ہاتھوں میں تھامے دیکھ بادام گل نے لہجے میں فکر سموئے پوچھا تو مقدس بیگم نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا تھآ

—اگر میں اپنی بیٹی کا اتنا حشر کر کہ یہاں ہوں—جب کہ وہ وہاں اگ میں جھلس رہی ہوگی—تو سوچو میں تمہارا کیا حشر کرسکتی ہوں”—زہر خند لہجے میں کہتے سلوی شاہ کو خونخوار نظروں سے گھورا تھآ

“اس کا ایسا عبرتناک حشر کرو کہ اس کا وہ ڈاکٹر بھائی اسے پہچان بھی نا پائے”— ایک ایک لفظ چبا کر کہتی اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی—

جبکہ اس کے پیچھے ہی بادام گل اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتے کمرے سے باہر نکلا تھا—

ان کے جانے کے بعد اب تک وہاں کوئی نہیں آیا تھا—سلوی شاہ خاموش نظروں سے حوریہ کے بے ہوش وجود کو دیکھتی اس کا سر اپنی گود میں رکھتی اپنا دوپٹہ اتار کر کبھی اس کے ماتھے پر رکھتی اور کبھی سر کے پچھلے حصے پر

کچھ دیر بعد ہی کمرے کی خاموش فضا میں دور سے آتی چیخوں اور گولیوں کی آواز پر سلوی شاہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا

مایوس پڑتی آنکھوں میں چمک ابھری تھی—

چیخوں کی آوازیں تھمنے لگی تھیں اور قدموں کی چاپ آہستہ آہستہ قریب آنے لگی تھی—دروازے ٹھا کی آواز کے ساتھ کھلنے کی آوازوں سے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی باری باری سب کمروں کی تلاشی لیتا آگے بڑھ رہا ہے

اپنے کمرے کے باہر کسی کے قدم رکنے اور پھر اگلے ہی لمحے دھاڑ کی آواز سے دروازا کھلنے پر سلوی شاہ نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولیں تھیں—

دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے بہرام شاہ کو دیکھتے سلوی شاہ کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت میں بہے تھے

جبکہ بہرام شاہ کے پیچھے آتا عائث خان سامنے نظریں اٹھتے ہی پتھر ہوا تھا—آگے بڑھتے قدم زمین میں جکڑے گئے تھے—

“لالا یہ ہوش میں نن-نہیں آرہی”— بہرام شاہ کو تیزی سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ حوریہ شاہ کا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ کو لگا کسی نے اس کا دل پاؤں تلے کچل دیا ہو

گھٹنوں کے بل بیٹھتے—دائیں ہاتھ میں تھامی پسٹل زمین پر رکھتے سلوی کی گود سے اٹھاتے حوریہ کا سر اپنے تھائی پر رکھا تھا—

دھڑکتے دل کے ساتھ دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو حوریہ کے ناک کے قریب کرتے سانس کو چیک کرتے کلائی پر نبض کو ٹٹولا تھا—

“کک-چھ نہیں ہوا—ٹھیک ہے یہ— عائث اسے ہاسپٹل لے کر جاؤں”— وہ زندہ تھی مگر نبض کی مدھم رفتار پر بہرام شاہ کا وجود پوری طرح کپکپایا تھا—حوریہ شاہ کے خون سے رنگتے اپنے ہاتھ دیکھ بہرام شاہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تھا کہ تبھی وہ بڑبڑا کر کہتے ایک دم سے گردن موڑتے عائث خان کو بت بنے کھڑے دیکھ حلق کے بل چلایا تھا جس پر عائث خان کے وجود میں حرکت ہوئی تھی—

جسے دیکھتے بہرام شاہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے حوریہ شاہ کے وجود کو بانہوں میں بھرتے قدم عائث خان کی جانب بڑھائے تھے—

“مجھے میری بہن صحیح سلامت چاہئے عائث خان—ویسی ہی جیسی میں نے تمہارے ساتھ رخصت کی تھی”—ایک ایک لفظ چبا کر کہتے حوریہ شاہ کو عائث خان کے حوالے کیا تھا

“آپ آپ کی بہن صحیح سلامت مل جائے گی لالا—لیکن میرا دل—میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں اپنی بیوی کھو چکا ہوں”— خالی خالی نظروں سے حوریہ شاہ کے چہرے کو دیکھتے سرگوشی نما لہجے میں کہتے وہ جھٹکے سے پلٹتا تیز تیز قدموں سے آگے بڑھا تھا

جبکہ بہرام شاہ کی نظریں عائث خان کی خون سے رنگی شرٹ پر تھی—اس کے بائیں بازو کو گولی چھو کر گزری تھی—ویسے بھی کئی چوٹیں آئیں تھی—لیکن اب جیسے وہ بے معنی تھی

نظریں عائث خان کی پشت سے ہوتی اپنے خون سے رنگے ہاتھوں پر آئی تو بہرام شاہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرا تھا—

“مم—میں اپنی بہنوں کی حفاظت نہیں کرسکا—میں انہیں تکلیف سے نہیں بچا سکا”—خون سے رنگے ہاتھوں کو دیکھتے درد بھرے لہجے میں سرگوشی کی تو سلوی شاہ نے آگے بڑھتے اپنا سر بہرام شاہ کے کندھے سے ٹکایا تھا

“میں نے سب پلین کیا تھا—پلین اے، بی پلین سی سب کیا تھا – ایسا نہیں ہوگا تو یہ ہوگا یہاں وار نہیں کرے گے تو یہاں کریں گے—لیکن میں نے اس عورت کو اس قدر گھٹیاں گرا ہوا نہیں سمجھا تھا کہ وہ اپنی بچیوں پر وار کریں گی—مرد ہم تھے—جائیداد کے وارث ہم تھے—محافظ ہم تھے اور مجھے لگا کہ وہ ہم پر وار کریں گی— اور اس نے وار کیا—لیکن ہم پر نہیں ہماری جانوں پر ان ہر جو دل بن کر ہمارے دلوں میں دھڑکتی تھیں—جو تھوڑی سی گنجائش تھی اس عورت کے ساتھ نرمی برتنے کی وہ بھی ختم ہوگئی ہے— جتنی تکلیف اس نے پلوشہ اور حوریہ کو پہنچائی ہے اس سے کہی زیادہ سود سمیت اس عورت کو برداشت کرنی پڑے گی’— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے سلوی شاہ کا ہاتھ تھامتے—قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے—

______

یہ سب کیا ہو رہا ہے—ویلیم کوئی راستہ بتاؤں یہ لوگ تو یہاں پہنچنے والے ہیں”— مقدس بیگم سکرینز پر چلتی سی سی ٹی وہ کیمرہ کی فوٹیج دیکھتے گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی تو کمرے میں چکر کاٹتے ویلیم نے پریشانی سے ماتھا مسلا تھا—

“ہم سے غلطی ہوئی ہے—اور یہ سب تمہاری بیٹی کی وجہ سے ہوا ہے—وہ نا ہوتی تو یہ سب نا ہوتا—اور اب مجھے عقیدت تک پہنچنے کے لیے پھر سے سب شروع کرنا پڑے گا”— آگے بڑھتے مقدس بیگم کا گلا دبوچتے غرا کر کہا تو بادام گل نے آگے بڑھتے بامشکل مقدس بیگم کو چھڑوایا تھا

“آپس میں لڑائی چھوڑ کر سامنے دیکھو—وہ لوگ جہاں جہاں سے گزر رہے ہیں کیمراز کو تباہ کرتے جا رہے ہیں—کچھ دیر میں ہم ان کی حرکات بھی نہیں دیکھ سکے گے—اس سے پہلے معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکلے کوئی راستہ سوجھو—اب تک تو ہمارے سارے ساتھی بھی مارے جا چکے ہے تقریباً—آگے کیا کرنا ہے—یہاں کوئی خفیہ راستہ ہے باہر جانے کے لیے کیا”— بادام گل پریشانی سے سکرینز کو دیکھتا سر تھامے بولا تو ویلیم

نے دانت کچکچا کر اسے دیکھا تھا—

میں نے یہ سب عقیدت کی وجہ سے کیا تھا—اسے حاصل کرنے کے لیے میں نے تم لوگوں کو یہاں تک ساتھ دیا—اٹلی میں تم لوگوں کے رہنے کا ہر انتظام کر چکا ہے—اکاؤنٹس تم لوگوں کے ڈالرز سے بھر چکا ہوں اور میری بس یہاں تک کی ڈیل تھی—آگے یہاں سے کیسے نکلنا ہے تم لوگوں جانو—میں یہاں سے عقیدت کو حاصل کیے بغیر نہیں جاؤں گا”—انگلی اٹھائے سرد لہجے میں کہتے پلٹ کر قدم دروازے کی جانب بڑھائے تو مقدس بیگم ہڑبڑا کر ہوش میں آتی بادام گل کا بازو تھامتی ولیم کے پیچھے ہوئیں تھیں—

“یہاں بیٹھ کر مرنے کا انتظار کرنے سے اچھا ہے اس پاگل کے ساتھ ہو لے—کوئی نا کوئی راستہ تو جانتا ہی ہوگا جو اس طرح بے خوف باہر نکلا ہے “+– مقدس بیگم کی سرگوشی نما آواز پر بادام گل نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا

_________

نجانے کتنی راہدریوں سے گزرتے آگے بڑھتے ضرغام کے قدم تھمے تھے—عقیدت شاہ کو تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ وہ بھاگنے کے انداز میں راہدری سے نکلتے ہال نما جگہ آیا تھا

“عقیدت رکو”— لہجے میں چھپی خوشی اور جوش پر حتی الامکان قابو پاتے پکارا تو آگے بڑھتی عقیدت کے قدم تھمے تھے—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ ابھری تھی—

ریلنگ پر ہاتھ جمائے پلٹ کر دیکھا تھا—پینٹ شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے—نیلی آنکھوں میں چمک لیے وہ سر اٹھائے عقیدت شاہ کو دیکھ رہا تھا—جبکہ اسے دیکھتے عقیدت سیڑھیاں اترتی چھوٹے چھوٹے قدم لیتی چند قدم کے فاصلے پر ان رکی تھی—

“تمہیں پتہ ہے ہمارے ہے کیا کہتے ہیں”— پراسرار آنکھیں ضرغام خان کے چہرے پر ٹکائے استفسار کیا تو اس نے نا سمجھی سے آبرو آچکایا تھا

“نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے”— عقیدت کی سرگوشی نما آواز پر ضرغام کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے تھے—

جبکہ پیچھے سے آتے بادام گل اور مقدس بیگم کے چہرے کے رنگ عقیدت کی بات پر فق ہوئے تھے—

“تمہیں کیا لگا کہ تم میرے شوہر کی شکل لے کر—میرے سامنے آؤ گے تو میں پہچان نہیں سکوں گی—یا تم نے یہ سوچا کہ تم ضرغام خان بن جاؤ گے تو میں تمہارے اس ظلم کو جو تم میرے سامنے اس عورت کے ساتھ مل کر کرو گے اسے نظر انداز کر دوں گی کیونکہ تم ضرغام خان ہوگے – اور پتہ کیا پہچان تو میں تمہیں تبھی گئی تھی—کیونکہ میرے بندے نے کبھی کلین شیو نہیں کی تھی اور اگر وہ کبھی کرتا بھی تو اس کے چہرے پر دائیں جانب موجود تل کا نشان واضح ہوتا—دوسرا یہ کہ میرا شوہر صرف ایک ہی برینڈ کے پرفیوم یوز کرتا ہے—اور تیسری یہ کہ وہ پٹھان ہے—وہ اردو بھی اپنے پٹھانی ایکسنٹ میں بولتا ہے”— ہاتھ پشت پر باندھے نظریں ولیم کے سرخ پڑتے چہرے پر ٹکائے ٹھہر ٹھہر کر وہ کہتی ان کے پاؤں سے زمین کھینچ چکی تھی—

کہ تبھی عقیدت کی بات ختم ہوتے ہی مقدس بیگم اور بادام گل کے پیچھے سے ارمغان—بہرام اور حدائق شاہ ان کھڑے ہوئے تھے—

“میری بیوی سے نظریں ہٹاؤ ویلیم—کیونکہ تمہارا انجام پہلے ہی بہت برا ہونے والا ہے اور اس گستاخی پر وہ مزید برا ہوجائے”— سرد و سپاٹ گرجدار آواز پر سب کی نظریں اوپر کی جانب اٹھی تھی—جہاں ضرغام خان نے دونوں ہاتھ ریلنگ پر جھکائے نیچے کو جھکے خونخوار نظروں سے ویلیم کو گھور رہا تھا—

اب آپ کو ہوگا کہ ہم سب یہ کیسے جانتے ہیں تو میں بتاتا شروع سے بتاتا ہوں ساسوں ماں”—مقدس بیگم کو کندھوں سے تھام کر رخ اپنی جانب کرتے حدائق شاہ نے سپاٹ لہجے میں کہا تو مقدس بیگم نے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے اطراف میں نگاہ دوڑائی تھی—

تم لوگوں نے ہمارے موبائلز آج ہیک کروائیں ہم یہ کام اسی دن کر چکے تھے جس دن ہمیں قاتل کا پتہ چلا تھا—اور تم(ویلیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) تک بھی ہم تب ہی پہنچ جاتے بس ایک چیز سے ہم پیچھے رہ گئے اور وہ یہ تھی کہ ساسوں ماں حویلی سے جاتے ہوئے اپنا موبائل گھر رکھ جاتی تھی جس سے ہم ان کی لوکیشن ٹریس کرنی ہوتی تھی—اور حویلی سے تو وہ اپنی گاڑی میں جاتی تھی لیکن حویلی سے نکلتے وہ تمہاری بھیجی گئی گاڑی میں سوار ہوجاتی تھی اور وہ گاڑی رستے میں کئی بار تبدیل ہوتی تھی ہم پیچھا کر سکتے تھے لیکن نہیں کیا کیوںکہ ہم کسی بھی طرح کا شک افورڈ نہیں کر سکتے تھے—اور موبائل پر بات بھی وہ صرف بادام گل سے کرتی تھی اور دونوں کے موبائلز سے صرف ایک دوسرے سے رابطہ ہو رہا تھا—اور تم سے رابطہ کیسے ہو رہا تھا اس سے ہم انجان تھے اسی لیے ہمیں تم تک پہنچنے میں دیر ہو گئی—اور پھر یہ بھی ہمیں پتہ لگ گیا کہ رابطہ تمہارے دیے گئے موبائل اور سم سے ہو رہا تھا—ہم یہ بھی جانتے تھے کہ اس سب میں باہر کا بندہ انولو ہے—اور پھر کیا تھا ہم نے ہر اس بندے کا ریکارڈ نکالا جس کی کبھی ارمغان— بالاج یا ضرغام سے لڑائی ہوئی ہو کیونکہ ماشاءاللہ سے یہ تین ہی ہستیاں ہے جو ہمیں نیا دشمن گفٹ کرتی ہیں تو پھر وہی سے ہم تم تک پہنچے— عقیدت کو لگتا تھا کہ تم مرگئے—ہم سب کو بھی یہی تھا – لیکن ڈیٹیلیز نکالنے پر پتہ چلا کہ تم نے سب کے سامنے سوسائیڈ ضرور کی تھی بریج سے کود کر مگر کسی کو تمہاری لاش نہیں ملی—اور ہھر کیا تھا ہم نے پیسہ پھینکا اور تماشہ دیکھا تمہارے پلین میں شامل تمہارے دوست سے لے کر تمہارے چہرے کی سرجری کرنے والے ڈاکٹر سے لے کر تمہیں اردو سکھانے والے ٹیچر اور غیر قانونی طریقے سے پاکستان بھیجنے والے آدمی تک کا ہم کچھ دنوں میں جان چکے تھے—تمہارا دیہان خود سے بھٹکانے کے لیے میں نے پلین کے تحت ضرغام کو شہر بھیجا اور واپسی پر اس کے ایکسیڈنٹ کا ڈرامہ کیا کہ تم یہی سمجھو کہ ہم ابھی تک دل میں دشمنی کیے بیٹھے ہیں—کیونکہ میں اچھے سے واقف تھا کہ تم نے میرے آفس میں کیمراز لگائے ہیں– سو ان شارٹ یور ٹام از اوور—تم بری طرح ہار چکے ہو ویلیم اینڈ یو ٹو ڈئیر ساسوں ماں”—- ویلیم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو وہ ضبط سے مٹھیاں بھنچتے – حدائق شاہ کو دیکھتے—ایک قدم پیچھے ہٹا تھا

“اور تم لوگوں کو لگتا ہے کہ میں عقیدت کو حاصل کیے بغیر تم لوگوں کے ہاتھ آجاؤ گا—کبھی نہیں”— ہذیانی انداز میں چلا کر کہتے وہ ان لوگوں کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر عقیدت کو بازو سے تھامتے—اپنی جانب کھینچتے—جیب سے چاقو نکالتے عقیدت کی گردن پر رکھ چکا تھا

اور پھر دوسرے ہاتھ سے جھٹکے سے اپنی شرٹ اتاری تو آگے بڑھتے ان لوگوں کے قدم اپنی جگہ تھمے تھے—

“اگر تم لوگوں نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میں بٹن دبا دوں گا—اور پھر میرے ساتھ تم سب بھی مرو گے”—- پیچھے کی جانب قدم لیتے اپنے سینے پر بندھے بمب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے ضبط سے مٹھیاں بھنچی تھی—

رکو ضرغام اسے جانے دو”—ضرغام خان کو آگے بڑھتے دیکھ حدائق شاہ نے اس کا ہاتھ تھامتے—سرگوشی نما آواز میں کہا تو ضرغام خان نے خون چھلکاتی نظروں سے اسے دیکھتے عقیدت شاہ کو دیکھا تھا—جو نظروں سے اسے رکنا کا اشارہ کرتی ویلیم کے ساتھ پیچھے کی جانب جا رہی تھی اور پھر دیکھتے دیکھتے وہ باہر کو نکلتا ان کی نظروں سے اوجھل ہوا تھا—

تبھی خاموش فضا میں گولی کی آواز کے ساتھ بادام گل کی دلخراش چیخ گونجی تھی—

بادام گل کے نیچے گرتے ہی بہرام شاہ نے پلٹ کر سائیڈ پر پڑے راڈ کو اٹھاتے پوری شدت سے اس کے سر کے پچھلے حصے پر وار کیا تھا کہ بادام گل کا سر دو حصوں میں ہوا تھا—اور پھر نجانے کتنی ہی وار وہ اس کے چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر کرنے کے بعد گولیوں سے اس کا جسم چھلنی کر چکا تھا—جبکہ وہ سب بے تاثر نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھ رہے تھے—

“یہ تمہاری ماں ہے ضرغام خان—لیکن یہ بات اب ہمارا دل نرم کرنے کے لیے ناکافی ہے”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے پسٹل کا رخ تھر تھر کانپتی مقدس بیگم کی جانب کیا تھا—جس پر ضرغام خان کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی—نیلی آنکھوں میں بے ساختہ نمی اتری تھی—اور پھر وہ بنا مقدس بیگم کو دیکھے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—

اپنے باہر نکلتے ہی گولی کی آواز سنتے ضرغام خان کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند گرے تھے—

جبکہ دوسری جانب مقدس بیگم کے بازو پر گولی چلانے کے بعد بہرام شاہ نے ہاتھ نیچے کر کیا تھا—اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتا وہ مقدس بیگم کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا—

“ہمارا کیا قصور تھا—جو آپ نے ہمارے ساتھ یہ سب کیا—ہمارے سر سے باپ کا سایہ چھین لیا—ہمیں دشمنی کی آگ میں جھونک دیا—ہمارا بچپن زمہ داریوں کی نظر کر دیا—اور آج ہمیں قاتل بھی بنا دیا—جانتی ہے یہاں کتنی لاشیں گریں ہیں—جانتی ہیں کتنی ماؤں سے ان کے بیٹے چھن گئے اچھے تھا یا برے تھے لیکن ماؤں کے تو جگر کے ٹکڑے تھے نا—اور جو پولیس کی حراست میں ہیں ان کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے—کتنے سال جیلوں میں کاٹنے والے ہیں—آپ نے صرف ہمیں تباہ نہیں کیا اور بھی نجانے کتنی ماؤں کے گھر اجاڑ دیے ہیں—آپ کو سزا دوں تو کس کس بات کی—خیر سزا تو آپ کو ملے گی اور یقین مانے آپ کی سزا کا ایک ایک دن جہنم سے بدتر ہوگا”—- تاسف بھرے لہجے میں کہتے سر اٹھائے نم آنکھوں میں تاسف بھرے مقدس بیگم کو دیکھتے ارمغان خان کو دیکھا تھا—

“ہم نے آپ سے بہت محبت کی تائی ماں— آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا”— بازو سے مقدس بیگم کو تھام کر اپنے سامنے کھڑا کرتے سپاٹ لہجے میں کہا تو مقدس بیگم نے سر جھکائے اپنے بازو سے بہتے خون پر ہاتھ جمائے بازو چھڑوانے کی کوشش کی تھی جس پر بہرام ارمغان کو انہیں لے جانے کا اشارہ کرتا آگے بڑھا تھا-

_____

وہ باہر آئیں تو پولیس کی کچھ گاڑیوں کے ساتھ پولیس والے کھڑے تھے

عقیدت کے ساتھ ضرغام خان کو دیکھتے وہ یک دم چونکنا ہوئے تھے نظریں ضرغام کے سینے پر گئیں تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ بہروپیہ ہے اس سے پہلے وہ لوگ کچھ کرتے ویلیم اونچی آواز میں انہیں خبردار کرتا گاڑی کی جانب بڑھا تھا-

تبھی باہر حدائق اور اس کے پیچھے ضرغام باہر آئیں تھے—

اپنے باہر نکلتے ہی گولی کی آواز سنتے ضرغام خان کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند گرے تھے جنہیں ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے وہ آگے بڑھا تھا

جیسے ہی وہ گاڑی سٹارٹ کرے گا عقیدت کودے گی—اور ہم ویلیم کے گاڑی سے نکلنے سے پہلے فائر کریں گے”— کان میں لگی بلو ٹوتھ پر ہاتھ رکھتے سنجیدہ لہجے میں انسٹریکشن دی تو دوسری جانب سے یہ سنتی عقیدت نے دور سے سر اثبات میں ہلایا تھا

ویلیم نے بازو سے تھامتے عقیدت کو گاڑی میں دھکا دیا تھا اور پھر خود بھی اسی جانب سے اندر داخل ہوا تو یہ منظر دیکھتے ضرغام خان کی آنکھوں میں شعلے بھڑکے تھے—

جبکہ ویلیم کے گاڑی سٹارٹ کرنے پر ضرغام خان نے جلدی سے اپنی گاڑی سٹارٹ کی تھی—حدائق شاہ کے بیٹھتے ہی ضرغام زن سے گاڑی بھگاتا ویلیم کے پیچھے ہوا تھا—

ابھی وہ گاڑی آگے بڑھی ہی تھے کہ دور سے آتے دھماکے کے آواز اور اٹھتے دھوئیں کو دیکھتے ضرغام خان نے بے ساختہ بریک لگائی تھی

پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے دیکھتے—جھٹکے سے دروازا کھولتے وہ دیوانہ وار اس جانب بڑھا تھا

“عقیدت”—– آگ کے شعلوں میں لپٹی گاڑی کو دیکھتے حدائق شاہ حلق کے بل چلایا تھا جبکہ ضرغام خان بے جان ہوتے وجود کے ساتھ گھٹنوں کے بل وہاں گرا تھا—

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *