Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 47)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

اپنے چہرے پر کسی چیز کو رینگتے محسوس کرتے پلوشہ نے نیند میں ہاتھ مار کر اسے دور کرتے کروٹ بدلی تھی—ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اپنے بازو پر کچھ رینگتے محسوس کرتے وہ نیند میں کسمسائی تھی—

کمفرٹر کھینچتے آگے کو کھسکتے—چہرہ تکیے میں چھپایا تھا—

کچھ پل ہی سکوں سے گزرے تھے کہ پلوشہ کو اپنے وجود پر بوجھ محسوس ہوا تھا—اپنی گردن پر دہکتی سانسوں کی تپش محسوس کرتے پلوشہ خان کی نیند بھک سے اڑی تھی—

ہونٹوں سے بے ساختہ نکلتی چیخ کا گلہ کسی نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے گھونٹا تو پلوشہ خان کی نیلی آنکھیں پل میں لبالب پانیوں سے بھری تھیں—

“ہاتھ ہٹا رہا ہوں—گلے سے آواز بھی نکلی تو جان لے لوں گا پلوشے”—- حدائق شاہ کی بھاری آواز پر پلوشہ خان کا وجود ساکت ہوا تھا—نیلی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیلی تھیں—جبکہ حدائق شاہ ہاتھ ہٹاتے پلوشہ خان کو بازو سے دبوچتے—رخ اپنی جانب کر چکا تھا—

“حدائق آپ کک-کب آئیں”— حدائق شاہ کی غصے بھری آنکھوں میں دیکھتے استفسار کیا تو حدائق شاہ پلوشے کے بازوؤں پر گرفت بڑھاتے اسے اپنے قریب تر کر گیا

“میں کب آیا یہ بتانا ضروری نہیں—تم یہاں کیوں اور کس سے پوچھ کر آئی اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے—اب میرے دونوں سوالوں کا جواب بنا چوں چراں کیے ایک ہی سانس میں دو ورنہ پلوشے خان تمہاری سانسیں حلق سے کھینچ لوں گا”—کروٹ کے بل لیٹے پلوشہ کا رخ اپنی جانب کیے—ایک ہاتھ سختی سے پلوشہ خان کی کمر کے گرد لپیٹتے اور دوسرا پلوشہ کی گردن کے گرد حائل کرتے سرد لہجے میں غرا کر کہتے وہ پلوشہ خان کی جان لبوں پر لے آیا تھا—

“آپ سے دور جانے کے لیے اور لالا سے پوچھ کر آئی”—بنا روکے ایک سانس میں کہتی وہ غصے کو مزید ہوا دے گئی تھی—

“ایہہ—حدائق پلیز نہیں درد ہو رہا ہے”— حدائق شاہ کی گرفت میں سختی آئی تو پلوشہ کو حدائق شاہ کی انگلیاں اپنی کمر میں دھنستی محسوس ہوئی تھی جبکہ پلوشہ خان کے سسکی بھرنے پر وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا بیڈ پر چت لٹاتا اس پر سایہ کر گیا تھا—

“کس خوشی میں دور جانا تھا—ہاں—وہاں کونسا میرے بہت پاس تھی دور ہی تھی نا—پھر ایسے کونسے دور جانے کے ارمان تھے جو یہاں آکر ہوتے ہونے تھے”— پلوشہ کا جبڑہ دائیں ہاتھ میں دبوچتے—چہرہ حد درجہ تک پلوشہ کے چہرے کے قریب کرتے سلگتے لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے بے ترتیب ہوئی دھڑکنوں پر بامشکل قابو پانے کی کوشش کی تھی جبکہ حدائق شاہ کی اتنی سے قربت پر ہتھیلیاں پسینے سے تر ہوئی تھی—دہکتی سانسوں کی تپش محسوس کرتے پلوشہ کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی—

“لالا نے بتایا—آپ نہیں آئے تھے—آپ کو ہاسپٹل زیادہ عزیز تھا—مریض بیوی کی جان سے زیادہ ضروری تھے جو آپ انہیں چھوڑ کر نہیں آسکتے تھے—جب اپ کو تب اس بات سے فرق نہیں پڑا کہ میں زندہ ہوں یا مرگئی تو اس بات سے بھی نہیں پڑنا چاہیے کہ میں کہاں ہوں”—نظریں جھکائے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تو حدائق شاہ نے آبرو آچکا کر پلوشہ خان کے جھکے چہرے کو دیکھا تھا—

اور پھر نرمی سے پیچھے ہوا تو پلوشہ نے چونک کر حدائق شاہ کو دیکھا تھا مگر اگلے ہی لمحے حدائق شاہ کو کرتا اتار کر بیڈ سے نیچے اچھالتے دیکھ پلوشہ کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا—

“یہ کک—کیا کر رہے ہیں حد-ائق”—فق پڑتے چہرے کے ساتھ اپنے گلے کی جانب بڑھتے حدائق شاہ کے ہاتھ کو دیکھتے ٹوٹے لفظوں میں پوچھا تو حدائق شاہ مکمل طور پر نظر انداز کرتے جھٹکے سے پلوشہ خان کے گلے سے دوپٹہ نکال کر بیڈ کے دوسری جانب اچھال چکا تھا—

“وہی جو مجھے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا—تا کہ تمہیں پتہ ہوتا کہ حدائق شاہ کے لیے کون ضروری ہے کون نہیں – حدائق شاہ کو تمہارے ہونے یا نا ہونے سے فرق پڑتا ہے یا نہیں—لیکن آج میں تم پر یہ بات بہت اچھے سے واضح کرنے والا ہوں کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ تم حدائق شاہ کے لیے اس کے دل میں زندگی میں جتنی اہمیت رکھتی ہو—اور حدائق شاہ سے دوری بنانے کی کیا سزا ہے”— پلوشہ خان کی کلائیاں سخت گرفت میں لے کر تکیے پر ٹکاتے – ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہتے پلوشہ خان کی حیرت سے پھیلی آنکھوں میں جھانکا تو پلوشہ کے وجود میں سنسنی دوڑتی محسوس ہوئی تھی—

“لل—لیکن حدائق آپ نے مجھے ٹائم”— کوئی راہ فرار نا دیکھ خود کو بچانے کے لیے کہتی وہ حدائق شاہ کو بھڑکا چکی تھی—نیلی آنکھوں میں غضب لیے وہ جھٹکے سے پیچھے ہو کر اٹھ کر بیٹھتا پلوشہ خان کو بھی کھینچ کر اپنے سامنے کرتا اپنا بازو پلوشہ خان کی گردن کے گرد حائل کرتا شدت سے پلوشہ خان کے نازک ہونٹوں پر جھکا تھا—

جبکہ حدائق شاہ کے جان لیوا لمس پر وہ جی جان سے کانپی تھی—اپنے ہونٹوں پر بڑھتی جارحانہ گرفت پر وہ بری طرح مچلی تھی جبکہ حدائق شاہ پلوشہ خان کو سختی سے خود میں بھنچتے—پوری شدت سے پلوشہ خان کی سانسیں خود میں انڈیلتے اپنا سارا غصہ—ناراضگی پلوشہ کے نازک ہونٹوں پر اتارتے جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا– پلوشہ کو تکیے پر گراتے اپنے نم ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے خمار آلود نظروں سے پلوشہ خان کو گہرے سانس بھرتے دیکھ وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا—گلابی دہکتے گال اور حدائق شاہ کی شدتوں سے خون چھلکاتے ہونٹ دیکھ حدائق شاہ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا جسے اگلے ہی لمحے وہ چھپاتا پلوشہ خان پر اپنا سارا بوجھ ڈال چکا تھا—

“اب اگر تم نے کوئی فضول بات کی پلوشہ تو مجھ سے کسی بھی قسم کی نرمی کی امید مت کرنا—اب مجھے سکون سے خود کو محسوس کرنے دو—آج حدائق شاہ کو اس وجود کی گہرائیوں سے روح میں اتر کر تمہیں ہمشہ کے لیے اپنا بنانا ہے—اس وجود کو اپنی قربت سے مہکا کر تماری سانسوں کو خود میں قید کرنا ہے”— آنکھوں میں خمار کی سرخی لیے پلوشہ کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے جا بجا اپنا بھیگا لمس چھوڑتے سرگوشی نما لہجے میں کہتے وہ پلوشہ کی سانسیں خشک کر چکا تھا

کچھ کہنے کو لب واہ کیے ہی تھے کہ حدائق شاہ انہیں اپنی گرفت میں لیتے—جھٹکے سے پلوشہ کی شرٹ کندھوں سے سرکا چکا تھا—اپنے کندھوں پر پلوشہ کے احتجاج کرتے ہاتھوں کو محسوس کرتے وہ سختی سے انہیں اپنی گرفت میں لیتے پیچھے ہوا تھا—

حدائق کے پیچھے ہونے پر پلوشہ کو لگا شاید وہ اپنا ارادہ ترک کر چکا ہے—مگر اگلے ہی لمحے حدائق کے ہاتھ میں اکنا دوپٹا دیکھ اسے جھٹکا لگا تھا—نفی میں سر ہلاتی وہ اسے روکتی لیکن حدائق شاہ مکمل طور پر نظر انداز کرتے پلوشہ کی کلائیاں دوپٹے سے باندھتے اس کی گردن پر جھک چکا تھا—

“پہلے تمہیں ٹائم دیا تھا اس میں تمہاری مرضی چلی تھی—اور اب میرے ٹائم اور مرضی کی باری ہے”— بھاری لہجے میں جان لیوا سرگوشی کرتا وہ دونوں ہاتھ پلوشہ کی کمر کے گرد لپیٹتے گردن پر اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا تھا

“حح-دائق”— حدائق شاہ کے ہونٹوں کو جابجا اپنی گردن پر محسوس کرتے وہ اپنے ہونٹوں دانتوں تلے دبا گئی تھی مگر کندھوں پر حدائق شاہ کے دانتوں کو محسوس کرتی وہ بری طرح مچلی تھی جس پر حدائق شاہ مزید گرفت سخت کرتے ہاتھ بڑھا کر کمفرٹر سے دونوں کے وجود چھپا گیا تھا

کمرے کی خاموش فضا میں پلوشہ خان کی بکھری سانسوں کا شور برپا تھا—حدائق شاہ کی شدتوں پر اس کی سانسیں رکنے لگتی تو وہ ان میں اپنی سانسیں شامل کر دیتا اور کبھی تیز ہوتی تو وہ انہیں قطرہ قطرہ خود میں انڈیلتا—سرکتی رات کے ساتھ وہ پلوشہ خان کے پور پور کو اپنی محبت کی بارش میں بھگوتا چلا گیا تھا—۔

جبکہ وہ حدائق شاہ کی شدتوں پر نڈھال ہوتی اسی کی بانہوں میں سمٹتی چلی گئی تھی

________

“کب تک ایسے مجنوں بنے رہنا ہے”—بہرام شاہ کی آواز پر بالاج شاہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا—اور پھر کچھ کہے بنا وہ دوبارا نظریں جھکاتا اپنے سامنے کھلے رجسٹر پر پن چلانے لگا تھا—

ان لوگوں کو واپس آئے بیس پچیس دن ہوگئے تھے—باقی سب اپنی روٹین پر واپس آچکے تھے—جبکہ بالاج شاہ کی زندگی جیسے رک سی گئی تھی—صبغہ اس کے ساتھ واپس تو آئی تھی لیکن واپس آکر وہ اپنی ماما کے ساتھ ہی شفٹ ہوگئی تھی—وہ بالاج شاہ کے سامنے بھی نہیں آتی تھی جیسے ہی اسے معلوم ہوتا کہ بالاج حویلی آگیا ہے تو ایسے غائب ہوتی جیسے وہاں وہ کبھی آئی ہی نہیں تھی–

اس نے کہا تھا کہ وہ اسے عشق کی آگ میں جلائے گی تو وہ جلا رہی تھی—اس نے کہا تھا کہ وہ بالاج شاہ کے عشق کے اعتراف پر اس سے بھی ظالم بن کر ملے گی تو وہ ظالم بن گئی تھی—اور اب وہ خاموشی سے اس کی بے اعتنائی اور بے رخی سہہ رہا تھا—

“مجنوں بننا زن مرید بنںے سے لاکھ بہتر ہے”—کچھ بھی ہوجائے بالاج شاہ کی زبان طنز کرنے سے باز نہیں آسکتی تھی جس پر بہرام سخت نظروں سے بالاج کو گھورتے اس کے ساتھ جگہ سنبھال کر بیٹھا تھا—

“ڈیرے کو چھوڑ کر اپنے بزنس پر دیہان دو بالاج—یہاں یہ کام کرنے کے لیے میں ہوں—تم نے خوامخواہ خود کو ان بکھیڑوں میں الجھایا ہوا ہے—اور یہ جو تم سگار پینے لگے ہو باز آجاؤ اس سے پہلے میں یہ بات اماں کو بتاؤں”— بالاج شاہ کے سامنے سے رجسٹر کھسکا کر اپنی جانب کرتے سمجھانے والے انداز میں کہا تو بالاج شاہ نے کندھے آچکاتے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا تھا کہ تبھی بہرام شاہ کے موبائل پر رنگ ہوئی تو عقیدت کا نمبر دیکھتے وہ کال پک کرتا فون کان سے لگا چکا تھا—

“ہاں میں بالاج کے ساتھ ہی ہوں—ہاں کر لو بات”—عقیدت کو جواب دیتے وہ فون بالاج کی جانب بڑھا چکا تھا جو ہونٹوں پر جلا دینے والی مسکراہٹ سجاتے—ٹانگ ہر ٹانگ جماتے ایک ہاتھ پلنگ پر پیچھے کو رکھتے—سر آسمان کی جانب اٹھاتے فون کون سے لگا چکا تھا اور بہرام شاہ اس اطمینان بھرے انداز کو دیکھتے سمجھ گیا تھا کہ اس کے بھائی نے پھر کوئی کارنامہ انجام دیا ہے

“تم بالاج—شرم نہیں آتی ایسی حرکتیں کرتے ہوئے—کیا بکواس کر کہ آئے ہو تم ان لوگوں کے سامنے”— عقیدت کے پھاڑ کھانے والے انداز پر بالاج شاہ نے قہقہہ لگایا تو عقیدت نے سختی سے مٹھیاں بھنچی

“کچھ نہیں کیا بس تمہارے شوہر کا پرانا ادھار تو وہی چکتا کیا ہے”— لہجے میں سنجیدگی سموئے کہتا وہ عقیدت کو سلگا گیا تھا

“ایک دفعہ تمہارے شوہر نے کہا تھا کہ زمین ڈیرے کے معاملات بالاج شاہ نہیں سنبھال سکتا وہ بس ہاتھ میں قلم تھامے اسے فائلز پر گھسیٹ سکتا ہے میں نے بس یہی بات اسے پراجیکٹ آفر کرنے والی کمپنی کو بتائی کہ یہ کام بالاج شاہ بہتر کر سکتا ہے ضرغام خان تو سردار ہے اسے پر زمینوں ڈیروں اور پنچائیت کے معاملات ہی سنبھالنے آتے ہیں میں نے تو بس چھوٹی سی انفارمیشن دے کر کسی کا بھلا کیا تھا لیکن وہ اس بھلے کے طور پر اپنا پراجیکٹ میری کمپنی کو دے گئے تو بتاؤ اس میں میرا کیا قصور”— کندھے آچکا کر کہتا وہ بہرام شاہ کو ماتھا پیٹنے پر مجبور کر گیا تھا جبکہ بالاج شاہ کی باتوں پر عقیدت نے اسے دو سلواتیں سنا کر فون بند کیا تھا—

“کب سدھرو گے بالاج—کیا سوچے گا ضرغام”—تاسف بھرے لہجے میں کہتے بہرام شاہ کھڑا ہوا تھا—

“کچھ نہیں کہتا وہ—اسے بتا دیا تھا کہ ادھار تھا چکانے جا رہا ہوں تو وہ ہنس دیا تھا—اس کی بیوی کو بس اپنے شوہر کی تعریف میرے منہ سے برداشت نہیں ہو رہی—ایسے تو ناگن بھی رنگ نہیں بدلتی جیسے میری بہن نے شادی کے بعد بدلا ہے”—

“وہ گرگٹ ہوتا ہے”—بالاج شاہ کے افسوس بھرے لہجے میں کہنے پر تصحیح کی تو وہ کندھے آچکا کر اٹھا تھا—

“لیکن مجھے ناگن پسند ہے”—آبرو آچکا کر جواب دیا تو بہرام شاہ نے تاسف سے سر جھٹکا تھا

______

اے سائیڈ پر ہٹ پہلے مجھے لینے دے”— سیاہ موٹی سی عورت نے ہاتھ میں تھالی تھامے مقدس بیگم کو دھکا دیتا ہوئے چلا کر کہا تو وہ بامشکل خود کو گرنے سے بچاتی اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی—

مقدس بیگم کو عورتوں والی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا اور یہاں آتے ہی مقدس بیگم کو لگا جیسا وہ جہنم میں آگئی ہو

تن پر مہنگے برانڈڈ کپڑوں کی جگہ مجرموں والا لباس پہننا تو انہیں اپنے وجود پر بچھو رینگتے محسوس ہوئے تھے—آسائشوں سے بھرے کمرے کی بجائے چھوٹی سی کوٹھری نما جگہ جہاں پانچ عورتیں پہلے سے موجود تھی انہیں وہاں اپنا سانس گھٹتا محسوس ہوا تھا—

طرح طرح کے پکوان کی بجائے پانی جیسی دال اور روکھے پھیکے چاول کھانے کو ملے تو ان کی ہمت ایک دن میں جواب دے گئی

رات زمین پر سوتے جب جسم میں ٹھیسیں اٹھی تو وہ اپنے ساتھ موجود عورتوں پر چلائی تو ان میں سے دو نے بری طرح انہیں پیٹ ڈالا تھا—

پھر یہ روز کا معمول بن گیا— وہاں موجود پہلی عورتوں نے انہیں جیسا اپنا غلام بنا لیا تھا—اپنے حصے کا کام وہ مقدس بیگم سے کرواتی کام غلط ہونے یا نا کرنے کی صورت میں وہ ان کی درگت بنا کر رکھ دیتی

اس تھوڑے سے ہی عرصے میں رعب دبدبے والی مقدس بیگم کی شناخت کھو چکی تھی

“میں پہلے آئی ہوں—کھانا پہلے میں لوں گی”— پلیٹ کو دونوں ہاتھوں سے سختی سے تھامے جواب دیا تو وہ سیاہ رنگ کی موٹی عورت اپنی پلیٹ میز پر پٹختی مقدس بیگم کی جانب متوجہ ہوئی تھی—جبکہ اس کے چہرے کے خطرناک زاویے دیکھتے مقدس بیگم کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا—

اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائی تو اپنے ساتھ رہنے والی عورتوں کو دیکھتے آنکھوں میں امید جاگی تھی مگر جب وہ مقدس بیگم کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی کانوں میں چےمنگوئیاں کرنے لگی تو مقدس بیگم کا دل ڈوب کے ابھرا تھا

“دیکھو دد-دور رہو—میں شکایت کر دوں گی”—قدم پیچھے لیتی لڑکھڑائے لہجے میں کہا تو اس عورت کا طنزیہ قہقہ فضا میں گونجا تھا

جبکہ مقدس بیگم نے کھانے کے قریب کھڑی پولیس اہلکار کو دیکھا تو وہ تاسف سے سر جھٹکتی دوسری عورتوں کی پلیٹوں میں کھانا بھرنے لگی

اور اسے پہلے مقدس بیگم کچھ سمجھتی کہ وہ عورت چیل کی طرح ان پر جھپٹی تھی—دونوں ہاتھوں میں سختی سے مقدس بیگم کے بال دبوچتے اس نے پوری قوت سے ان کا چہرہ ٹیبل پر مارا تھا کہ مقدس بیگم کا چہرہ پل میں خون سے تر ہوا تھا—فضا میں مقدس بیگم کی دلخراش چیخیں گونجی تو کچھ عورتوں نے تاسف سے اور کچھ نے قہقہہ لگاتے انہیں دیکھا تھا—

“رضیہ بیگم نام ہے میرا سالی—مجھے انکار کرے گی—مجھے جواب دے گی ہمت بھی کیسے ہوئی”— بالوں سے پکڑ کر زمین پر دھکا دیتے—گالیاں بکتے چلا کر کہتی وہ ان پر لاتوں کی برسات کرتی انہیں نیم جان کر گئی تھی—

تبھی معاملہ بگڑتا دیکھ کھانا دیتی اہلکار نے انہیں گالی بکتے— دوسری پولیس اہلکاروں کو بلایا تھا—جو وہاں آتی بامشکل اس عورت کو مقدس بیگم سے دور کرتی انہیں بازو سے کھینچ کر اٹھاتی وہاں سے لے گئی تھی—

“کیا ضرورت تھی اتنی اکڑ دکھانے کی—دیکھ تو لیا تھا اپنی اکڑ کا انجام پھر بھی دل نہیں بھرا تو اس رضیہ کے منہ لگ گئی—اسے تو یہ پولیس والیاں بھی کچھ نہیں کہتی—ایسی کوئی** عورت ہے پتہ نہیں کتنوں کو مار کر یہاں آئی ہے”—وہ عورتیں رات کو وہاں آئی تو مقدس بیگم کو درد سے کراہتے دیکھ نخوت بھرے لہجے میں کہتی سونے کے لیے لیٹ گئی جبکہ مقدس بیگم کی سوجھی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند بہتے چہرہ بھگو رہے تھے

“میں نے عقیدت سے پہلے آپ سے محبت کی ہے ماں—سب سے زیادہ”

اچھا چھوڑیں—ماں کو تو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہی ہے— کیا فضول سوال پوچھ رہا ہوں—آپ یہ بتائیں کیا آپ اب بھی خوش نہیں—میری خوشی میں بھی خوش نہیں—میں یقین دلاتا ہوں ماں عقیدت سے آپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی—وہ پلٹ کر آپ کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے گی—آپ جیسا چاہے گی میں اسے ویسا کرنے کا کہہ دوں گا—وہ مان جائے گی—وہ تھوڑی جذباتی ہے بالکل آپ کے بیٹے جیسی لیکن دل کی بہت اچھی ہے”—

خیر میری چھوڑیں یہ بتائیں آپ کو مجھ سے کتنی محبت ہے—یا کب ہوئی تھی جب میں دنیا میں آگیا تھا یا آنے والا تھا”—

مجھے خبر ملی کے میری خوشیوں میں سب سے زیادہ جس کا حق بنتا ہے وہ ابھی تک اپنے کمرے میں ہیں—تو بس پھر یہ خان چلا آیا”

“ضر—غغ-ام”—آنکھوں کے پردے پر ضرغام خان کا چہرہ لہرایا تو مقدس بیگم نے سسک کر اسے پکارا تھا—کانوں میں ضرغام خان کے محبت و آس بھرے الفاظ گونجے تو ان کا دل کیا وہ زمین میں دھنس جائے لیکن یہ پچھتاوا یہ سوچے ناممکن تھی یہاں سے اب فرار نا ممکن تھا جن کے ساتھ مل کر یہ اب کھیل رچا تھا وہ تو اتنی آسانی سے موت کی نیند سو چکے تھے اور اب انہیں موت سے بدتر زندگی گزارنی تھی نجانے کتنے ہفتے—مہینے یا سال

________

پیکنگ کر لی تم لوگوں نے”— ثمرین بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا تو امتثال پلوشہ اور صبغہ نے سر اٹھائے انہیں دیکھا تھا اور پھر بیڈ پر بکھرے کپڑوں اور زمین پر پڑے کھلے بیگز کو دیکھتے سر نفی میں ہلایا تھا—

“نہیں انٹی—ابھی ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ کتنے اور کونسے ڈریسسز لے کر جائیں—جو ڈریسز ہم نے سیم لی ٹوئنگ کرنے کے لیے وہ رکھ لی—باقی ہمیں سمجھ نہیں آرہا”—پلوشہ نے انگلیاں آپس الجھاتے جواب دیا تو ان دونوں نے بھی سر اثبات میں ہلائے تھے—

“پہلے تو یہ دیکھ لو کہ وہاں کا موسم کیسا ہوگا—پھر اس موسم کے حساب سے کپڑے نکال لو جو ہیں—پھر جو پسند آئیں یا اپنے شوہروں سے پوچھ کر وہ رکھ لینا”— کمرے میں داخل ہوتی حلیمہ بیگم کے کہنے پر ثمرین بیگم نے ان کی تائید کی تھی

ہاں یہ ٹھیک ہے—اور آپ دونوں اپنا سارا سامان لے کر میرے روم میں آجائیں میں تب تک اپنے لیے اور ڈریسز دیکھتی ہوں”—صبغہ نے بیڈ سے اترتے کہا تو ان دونوں نے سر اثبات میں ہلایا تھا—

“آرام سے لڑکی گر کر میرے بھائی کا نقصان نا کر دینا”—کمرے میں داخل ہوتے بہرام شاہ نے تیزی سے باہر جاتی صبغہ شاہ کو دیکھ کر کہا تو وہ ناک سکوڑتی وہاں سے نکلی تھی

“السلام و علیکم—یہاں کوئی کپڑوں کی ایگزیبیشن ہو رہی ہے کیا”—موبائل کے ساتھ والٹ اور چابیاں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے بیک وقت سب کو سلام کرتے مسکرا کر پوچھا تو ثمرین بیگم نے مسکرا کر اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جبکہ بہرام شاہ کی لو دیتی نظریں خود پر محسوس کرتے امتثال کے گال گلابی پڑے تھے—

“نہیں بس بچیوں کو ایک ساتھ جانے کی خوشی کی بہت ہے—اسی کی تیاریاں کر رہی ہیں—تم آگئے ہو تو فریش ہو کر آجاؤ میں تب تک کھانا لگاتی ہوں”—ثمرین بیگم نے مسکرا کر جواب دیتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے—

“پھوپھو میں حدائق کے لیے لنچ پیک کر دوں آپ ڈرائیور کے ہاتھ ہاسپٹل بھیج دیجئے گا”—بہرام کے سلام کا جواب دیتے بیڈ سے اترتے حلیمہ بیگم کا بازو تھامتے قدم باہر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو انہوں نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا

“میں فریش ہو کر آتا ہوں—تب تک یہ دروازا بند کر دیں”— قدم واش روم کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو امتثال نے سر اثبات میں ہلاتے آگے بڑھ کر بہرام شاہ کے لیے ٹاول کے ساتھ شلوار قمیض نکال کر تیزی سے اس کی جانب بڑھتے پکڑائے تھے

________

بہرام شاور لے کر آیا تو وہ تب تک اس کے لیے چائے بنا لائی تھی جسے دیکھتے بہرام شاہ کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگی تھی—

آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ٹاول بالوں میں پھیرتے امتثال کو آنکھوں کے اشارے سے اپنی جانب بلایا تو وہ دانت کا کنارہ دانتوں تلے دباتی چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بہرام شاہ کے قریب ان کھڑی ہوئی

“کیسا جا رہا ہے سکول”—امتثال کے کہنے پر بہرام نے اسے سکول کی زمہ داری سونپ دی تھی—اب سلوی پلوشہ اور امتثال تینوں سکول کے معاملات دیکھ رہی تھیں

“بہت اچھا—ہم نے ڈیسائیڈ کیا ہے سکول کو تھوڑا وسیع کر لے—سکول کے پیچھے گروانڈ والی جگہ پر انٹر کی بچیوں کے لیے ایک عمارت بنا دیں اور انٹر کے بعد کے لیے بھی کچھ سوچے”—امتثال کے چہک کر کہنے پر بہرام شاہ نے ٹاول سٹینڈ پر ہینگ کرتے– امتثال کو نرمی سے بانہوں میں بھرتے قدم صوفے کی جانب بڑھائے تھے—

“کسی ہیلپ کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دینا—اگر میں بزی ہوا تو بالاج سے کہہ دینا وہ کر دے گا”— صوفے پر بیٹھتے—امتثال کے چہرے کے اطراف میں جھولتی بالوں کی لٹ کو اپنی شہادت کی انگلی پر لپیٹتے ہوئے کہا تو امتثال نے سر اثبات میں ہلایا تھا

“اور بالاج لالا کب منائیں گے صبغہ کو”—بانہیں بہرام شاہ کی گردن کے گرد حائل کرتے استفسار کیا تو بالاج کے ذکر پر بہرام شاہ کے چہرے کے زاویے ایسے بگڑے جیسے منہ میں کڑوا ذائقہ گھل گیا ہو— کچھ دیر پہلی کی اس کی حرکت یاد آئی تو بہرام نے تاسف سے سر جھٹکا تھا

“روٹھی رہنے دو—یہ کھوتا انسان ہے ہی اسی لائق—ذرا جو یہ انسان سدھر گیا ہو—بیوی ناراض رہے گی تو دماغ ٹھکانے پر اجائے گا”—بہرام شاہ کے منہ بنا کر کہنے پر امتثال نے گھور کر اسے دیکھا تھا—جس پر بہرام شاہ نے اپنے دونوں ہاتھ امتثال کی کمر کے گرد لپیٹتے اسے اپنے مزید قریب کیا تھا

“گھوروں مت بیوی—میرا پہلے ہی یہ غم ختم نہیں ہوتا کہ ان میسنے لوگوں کے لیے میری بیوی مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی”—ہونٹ امتثال خان کے گال پر ثبت کرتے شکوہ کناں لہجے میں کہا تو میسنے کہنے پر امتثال نا بامشکل اپنی ہنسی روکی تھی وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ میسنے لوگ بھی اسے ایسے ہی القابات سے نوازتے ہیں—

“چائے—آپ ابھی فری نا ہو—چپ چاپ چائے پئیے کیونکہ سب نیچے لنچ کے لیے ویٹ کر رہے ہوگے”—بہرام شاہ کو اپنے ہونٹوں پر جھکتے دیکھ سرعت سے ہتھیلی بہرام شاہ کے ہونٹوں پر جماتے ہاتھ بڑھا کر ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھاتے اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے ستائشی انداز میں آبرو آچکا کر امتثال خان کو دیکھا تھا

“جیسے آپ کیے—لیکن تھوڑا سا فری ہونے کے بعد”—امتثال کا چائے تھامے ہاتھ کی کلائی اپنی نرم گرفت میں لیتے شدت سے اس کے ہونٹوں پر اپنا لمس چھوڑتے ہوئے سرگوشی کی تو امتثال نے سختی سے آنکھیں میچی تھی—وہ احتجاج بھی نہیں کر سکتی تھی—تھوڑی سے مزاحمت کرتی تو گرم چائے ان دونوں میں سے کسی پر ضرور گرتی—بہرام شاہ اپنی منمانی پوری کر کہ پیچھے ہوا تو امتثال خان نے سرخ پڑتے گھور کر اسے دیکھا تھا—جس پر بہرام شاہ آنکھ ونک کرتا کپ تھام گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *