Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 18)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 18)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
صبغہ شاہ نے قہر آلود نظروں سے سامنے بیٹھی جاپانی لڑکی کو دیکھتے—ایک نظر میٹنگ روم میں اپنے اردگرد بیٹھے ورکرز پر دوڑائی—جو سب ڈیل کہ طہ پا جانے اور میٹینگ کے اختتام کے بعد ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے
ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا—بالاج شاہ کا کہنا تھا کہ میٹینگ سے دس منٹ پہلے اور دس منٹ بعد کوئی بھی شخص اسے میٹینگ روم میں نظر نا آئے ورنہ وہ اسے دنیا سے ہی غائب کر دے گا—اور اس کے کہے کہ مطابق میٹینگ شروع ہونے اور ختم ہوتے ہی سب ورکرز بوتل کے جن کی طرح حاضر اور گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جاتے تھے
مگر آج وہ صبغہ شاہ کا دل جلانے کو پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل سامنے بیٹھی لڑکی کی باتیں سن رہا تھا
وہ لڑکی کوئی عام لڑکی نا تھی— جاپان کی نمبر ون بزنس وومن تھی وہ—اور وہ اب پاکستان میں شاہ کمپنی کہ ساتھ مل کر پراجیکٹ کرنا چاہتی تھی
وائٹ پینٹ کوٹ کے ساتھ لائٹ پنک شرٹ پہنے—کندھوں تک جھولتے بالوں کو انگلیوں پر لپیٹتی—وہ اپنی گرے جاپانی آنکھوں کو بالاج شاہ کے چہرے پر ٹکائے— مسکرا کر باتیں کرتی صبغہ شاہ کو کوئی ناگن ہی لگ رہی تھی
جبکہ گرے پینٹ کوٹ کے ساتھ بلیک شرٹ پہنے—بائیں کلائی پر بیش قیمتی بلیک کلر کی پہنی گھڑی پر انگلیاں پھیرتے— گہری سیاہ آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ سجائے وہ اس طرح ہمہ تن گوش نظر آرہا تھا جیسے اس لڑکی کی باتوں سے زیادہ ضروری کچھ ہے ہی نہیں
میٹینگ روم میں بالاج شاہ کو داخل ہوتے دیکھ صبغہ کو بالاج شاہ کا ہرقدم اپنے دل پر پڑتا محسوس ہو رہا تھا—مگر تھوڑی ہی دیر بعد اس کی سوچ خیالات و احساسات بالاج شاہ پر جان نثار کرنے سے جان لینے میں بدل چکی تھے—اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس ظالم—بے رحم شاہ کو ساری دنیا سے چھپا کر اپنے دل میں قید کر لے— یا بالاج شاہ کی آنکھوں میں اس طرح سے اتر جائے کہ وہی قید ہو جائے—بالاج شاہ چاہے بھی تو صبغہ شاہ کے علاؤہ کسی اور کو دیکھ نا پائے
“اس جاپانی چوزی کو بولو کہ ایک سیکنڈ میں تم سے اپنی نظریں ہٹائے— ایک سیکنڈ میں بالاج شاہ”— اس لڑکی کو اپنی چئیر بالاج شاہ کے قریب کھسکاتے دیکھ—اور ہاتھ ٹیبل پر رکھے بالاج کے ہاتھ سے تھوڑے فاصلے پر رکھتے دیکھ صبغہ کے صبر کا پیمانہ پل لبریز ہوا تھا—اسی لیے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھتے—پاؤں کی مدد سے رولنگ چئیر کو آگے گھسیٹتے— بالاج شاہ کی جانب جھکتے آگ برساتے لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو بالاج شاہ نے چونکنے کے انداز میں صبغہ شاہ کی جانب دیکھا
“اور تم اپنے وجود کے ساتھ یا سے دو سیکنڈ میں نو دو گیارہ ہو صبغہ شاہ— کیونکہ مزید یہ شکل دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں”— چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ سجائے—صبغہ کی جانب جھکتے— زہر خند لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ نے طنزیہ مسکراتے بالاج شاہ کے چہرے سے نظریں ہٹاتے—ان دونوں کی جانب دیکھتی اس لڑکی کی جانب دیکھا
“میٹینگ سے پہلے آپ کو مینیجر نے میٹنگ روم کے اصول شاید نہیں بتائے—ان اصولوں کہ مطابق اب آپ کو میٹنگ روم میں کیا کمپنی میں بھی نظر نہیں آنا چاہیے— کیونکہ آف ٹائم ہو گیا ہے—سو مس واٹس یور نیم—واٹ ایور—اب آپ جا سکتی ہے—جلد ہی ملاقات ہوتی ہے”— چئیر سے اٹھتے اپنے ورکرز کو ہاتھ کے اشارے سے نو دو گیارہ ہونے کا اشارہ کرتے—سپاٹ چہرے سے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھتے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو بالاج شاہ نے سختی سے میٹھی بھنچے اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی
یہ لڑکی ہمیشہ اس کا ضبط آزماتی تھی—
“آپ سے کل ڈنر پر ملاقات ہوتی ہے مسٹر بالاج”— پارک شن نے اٹھتے بالاج شاہ کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا جسے نا محسوس انداز میں بالاج شاہ نے نظر انداز کرتے ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا جسے دیکھ صبغہ شاہ کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رینگ گئی
“شیور بیوٹی فل لیڈی”— صبغہ شاہ کو طنزیہ نظروں سے دیکھتے جواب دیا تو صبغہ نے ہنکارہ بھرتے نظریں اطراف میں دوڑائی
جبکہ دل میں دو سلواتوں سے پارک شن کو نوازا جو اب میٹینگ روم کے دروازے پر کھڑی ایک مسکراتی نظر بالاج شاہ پر ڈالتی مینیجر کے ساتھ باہر چلی گئی تھی
____________
“صبغہ کا بے رحم شاہ اگر خود کو اس کی نہیں حوریہ شاہ کی ہی امانت سمجھ کر خود پر کسی غیر کو حق نہیں دیتا تھا تو تب بھی وہ صبغہ کے دل کے تاروں کو چھو جاتا تھا—وہ اس کا ہونے سے انکاری تھا— صبغہ کا دل توڑنے—اسے خود سے محبت کرنے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا—مگر وہ کبھی بھی کسی دوسری عورت کو درمیان میں نہیں لا سکتا
“تم ڈنر پر جا رہے ہو اس کے ساتھ”— میٹنگ روم سے سب کے جانے کے بعد رولنگ چئیر پر بیٹھے بالاج شاہ کو دیکھتے صبغہ نے سپاٹ لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے آبرو آچکا کر صبغہ شاہ کو دیکھا
“میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے—سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تو صبغہ شاہ نے بری طرح تلملاتے اپنی کرسی کو ٹانگ مارتے پیچھے کی جانب دھکیلا
“آج نہیں ہو لیکن آنے والے کل میں—تم اپنے ہر فعل کے لیے مجھے جواب دہ ہوگے بالاج شاہ— میں ہر گز برداشت نہیں کروں گی کہ میرا شوہر شادی سے پہلے یا بعد میں لڑکیوں کے ساتھ ڈنرز پر جائے”— دونوں ہاتھ ٹیبل پر ٹکاتے چلانے والے انداز میں کہا تو بالاج شاہ نے خون چھلکاتی آنکھیں واہ کرتے—کھا جانے والی نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھا
بالاج شاہ کی آنکھوں میں سرخی دیکھ صبغہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی ابھی وہ پیچھے ہٹتی کہ پل میں ہوئی افتاد پر وہ بھونچکا رہ گئی
“تمہیں حق دینے سے پہلے—میں تمہاری جان نا لے لوں صبغہ شاہ— اور آئندہ اگر میرے سامنے زبان درازی کی یا اونچی آواز میں بات کرنے کی جرات کی— زبان گدی سے کھینچ کر ہاتھ میں رکھ دوں گا”— وہ جو کب سے صبغہ کی باتوں کو اگنور کر رہا تھا— مگر صبغہ کی شادی اور حق کی بات پر پل میں اشتعال میں آیا تھا—ایک جھٹکے میں اپنی جگہ سے اٹھتے بنا صبغہ کو سمجھنے کا موقع دیے— صبغہ کی دائیں ٹانگ میں اپنا پاؤں اڑستے—صبغہ کے دونوں ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے—وہ اسے ٹیبل پر جھکا کر— اس قدر گرجدار آواز میں بولا کہ پل کے لیے صبغہ کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی
غصے کے باعث گردن اور ماتھے کی رگیں تن کر واضح ہوئی—جنہیں دیکھ صبغہ نے اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے—بالاج شاہ کی گہری سیاہ خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھا—جہاں صبغہ شاہ کے لیے صرف اور صرف دھتکار تھی—ناپسندیدگی جسے دیکھ صبغہ کو اپنا دل ہزار ٹکڑوں میں کٹتا ہوا محسوس ہوا
“جان لینے کے ساتھ اگر تم حق سے جان لینے کی بات کرتے تو یقین مانو میرے بے رحم شاہ— خوشی خوشی تمہاری اس خواہش پر خود کو قربان کر دیتی—مگر ایک بات کبھی مت بھولنا بالاج شاہ— تمہاری محبت میں ٹوٹ سکتی ہوں—رو سکتی ہوں—مگر جھک نہیں سکتی—جھکنے کے لیے تو ایک ہی ذات ہے—اور صبغہ شاہ نے اس ذات کہ آگے جھک کر تمہیں مانگا ہے—اور یقین مانو تم پوری دنیا گھوم آؤ— پلٹ کر میرے پاس ہی آؤ گے—تمہارا نصیب صبغہ شاہ ہے”— شہد رنگ بھوری آنکھوں میں تیرتی نمی—ان موٹی آنکھوں کو مزید دلکش بنا رہی تھی
جسے دیکھ بالاج شاہ نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے اور ایک ہی جھٹکے میں صبغہ کو دونوں بازوؤں سے تھامتے ٹیبل سے اٹھا کر باہر کی جانب دھکا دیا
“تمہیں پتہ ہے بھی ہے پاگل عورت میں تمہاری اس سو کالڈ محبت کو اپنی وقت گزاری کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہوں— جب چاہے محبت کہ نام پر اپنا دل بہلا سکتا ہوں— تمہیں استعمال کر کہ ٹشو کی طرح پھینک بھی دوں تو کوئی مجھ سے سوال نہیں کر سکتا—کیوں بعض نہیں آجاتی صبغہ تم کیوں—تم سے نہیں کرتا محبت—نہیں دھڑکتا یہ دل اس کے سوا کسی کے کیے”— صبغہ شاہ کو وہی کھڑے دیکھ—آگے بڑھتے صبغہ کی گردن اپنے ہاتھ کی آہنی گرفت میں لیتے—کچھ سخت اور تاسف بھرے لہجے میں چلا کر کہا تو صبغہ شاہ کو اپنے گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹکتا ہوا محسوس ہوا
“مجھے تم سے بہت محبت ہے بالاج—بہت— اور تم بھی جانتے ہو کہ یہ بچپنا نہیں میری دیوانگی ہے — مجھے اس دل میں تھوڑی سی جگہ تو دو بالاج—یہ صرف میرے لیے دھڑکے گا ہی نہیں بلکہ میرے بنا یہ دھڑک ہی نہیں سکے گا—تمہاری ہر دھڑکن کو صبغہ شاہ کے لیے دھڑکنے پر مجبور کر دوں گی”— صبغہ شاہ کے نام لہجے پر بالاج شاہ نے سخت نظروں سے گھورتے ایک جھٹکے میں صبغہ کو خود سے دور کیا—جس کی محبت سے لبریز والہانہ نظریں بالاج شاہ کے چہرے کو جیسے حفظ کرنے کی کوشش میں تھی
“شیطان خون کی مانند انسان کے جسم میں سرائیت کرتا ہے بالاج شاہ—اس کے شر سے بچو—ایک شادی شدہ عورت سے محبت کا دعویٰ چھوڑ دو—نہیں ہے تمہیں اس سے محبت—اور نا ہی اس نے کبھی تم سے محبت کی ہے—نہیں دھڑکتا تمہارا دل اس کے لیے—یہ صرف گلٹ ہے—اس کے ساتھ برا کرنے کا—اسے تکلیف دینے کا—سمجھے تم”— بالاج شاہ کو بنا کوئی جواب دیے پلٹتے دیکھ صبغہ نے ٹیبل پر پڑی فائلز کو زمین پر گراتے چلاتے ہوئے کہا تو صبغہ شاہ کہ الفاظ پر بالاج شاہ کو اپنا خون کھولتا محسوس ہوا
ایک ہی جھٹکے میں پلٹتے وہ صبغہ کو بازو سے تھام کر سیدھا کرتے—اس کے گال پر تھپڑ رسید کر چکا تھا—میٹنگ روم کی خاموش فضا میں تھپڑ کی آواز گونجی تو پل کے لیے وہاں موت سا سناٹا چھا گیا
جبکہ صبغہ بے یقینی سے گال پر ہاتھ رکھے پھٹی آنکھوں سے بالاج شاہ کی آگ برساتی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
“اگر تمہاری یہ گھٹیا حرکات برداشت کرتا ہوں تو صرف اور صرف تمہاری ماں کی وجہ سے—جس کے لیے ساری دنیا ہی اس کی اکلوتی لاڈلی بیٹی ہے—لیکن افسوس ہے مجھے ان پر کہ تم جیسی لڑکی ان کی بیٹی ہے— مجھے تم پہلے نا پسند تھی—آج مجھے تم سے نفرت ہوگئی ہے صبغہ شاہ—لیکن سچ پتہ ہے کیا تم میرے کسی احساس کہ قابل نہیں ہو چاہے پھر وہ نفرت کا ہی کیوں نا ہو”— صبغہ شاہ کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں دبوچے سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہتے جھٹکے سے صبغہ کا چہرہ آزاد کیا—ایک قہر آلود نظر صبغہ شاہ پر ڈالتے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا میٹنگ روم سے نکلتا چلا گیا
آج مجھے تم سے نفرت ہوگئی ہے صبغہ شاہ—لیکن سچ پتہ ہے کیا تم میرے کسی احساس کہ قابل نہیں ہو چاہے پھر وہ نفرت کا ہی کیوں نا ہو”— بالاج شاہ کے زہر خند الفاظ کانوں میں گونجے تو صبغہ بے جان ہوتے وجود کے ساتھ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتی چلی گئی
آنسوں متواتر چہرے کو بھگوتے گردن میں اترنے لگے—بھوری شہد رنگ آنکھوں میں پل میں سرخی اتری تھی—گلابی کپکپاتے ہونٹوں کو دانتوں تلے دباتے اپنی ہچکیوں کا گلا گھوٹتے سر ٹیبل کے ساتھ ٹکاتے سختی سے آنکھیں میچ لیں
“اللہ”—- لہجے میں کرب و اذیت لیے سر اوپر اٹھاتے سرگوشی نما لہجے میں پکارا تو ضبط کی طنابیں ٹوٹتی چلی گئیں
“اپنی ناقدری کے لیے تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی بالاج شاہ— کبھی بھی نہیں—خدا کرے تمہیں عشق ہو—اور صبغہ شاہ سے ہو—اور پھر میں تمہیں اس عشق کی آگ میں جلاؤں—تمہارے عشق کے اعتراف پر تمہیں تم سے بھی زیادہ سفاک ہو کر ملوں”— ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرتے – ہتھیلیاں زمین پر رکھتے—لڑکھڑاتے قدموں سے کھڑے ہوتے—جزبات سے عاری لہجے میں کہتے—خالی خالی نظروں سے میٹینگ روم کے بند دروازے کو دیکھا جہاں دل میں بسنے والا دل کو پاؤں تلے روندتا ہوا گیا تھا
_______________
کمرے کا دروازا کھول کر ضرغام خان نے قدم اندر رکھے تو نظریں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگاتی عقیدت ضرغام خان پر گئیں
جو آج پھر سے سفید رنگ کی پٹھانی فراک پہنے—جس کے گلے اور دامن پر رنگ برنگے پھولوں بنے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے— گولڈن سلکی بالوں کی درمیان سے مانگ نکال کر ڈھیلی سی چٹیاں کی گئی تھی—جبکہ چٹیاں سے نکلتی آوارہ لٹیں چہرے کے گرد ہالہ بنائے ہوئے تھیں—سبز نگینوں سی آنکھوں میں کاجل اور گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر لائٹ لپ اسٹک لگائے کھڑی وہ ضرغام خان کی آنکھوں سے دل میں اترتی لمحوں میں رات بھر کی تھکاوٹ ذائل کر چکی تھی—
دروازہ بند ہونے کی آواز پر عقیدت نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا تو—دروازے سے ٹیک لگائے—سفید کرتا شلوار پہنے—کندھوں پر بھورے رنگ کر اجرک پھیلائے–دونوں ہاتھ سینے پر باندھے—نیلی سمندر سی گہری آنکھوں میں سرخی اور جزبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے—خود کو تکتے ضرغام خان کو دیکھتے—عقیدت نے خفگی سے نظروں کا رخ بدلتے لپ اسٹک کو ٹیبل پر رکھا
“آگئی یاد کہ گھر میں ایک بیوی بھی موجود ہے—جو رات بھر سے تمہارا انتظار کر رہی ہے”— ضرغام خان کو اپنی جانب بڑھتا محسوس کر کہ خفا لہجے میں شکوہ کیا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ رینگ گئی
بنا کوئی جواب دیے عقیدت کے قریب پہنچ کر نرمی سے عقیدت کا بازو تھام کر رخ اپنی جانب کیا—تو عقیدت نے خفا نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا— جس پر ضرغام خان نے مسکراتے سر جھٹکا
کچھ پل خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے گزرے تو ضرغام خان نے آگے بڑھتے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے—عقیدت کو نرمی سے اپنی بانہوں میں بھر لیا—وہ جو ضرغام خان کے کچھ بولنے کا انتظار کر رہی تھی—ضرغام خان کی اس حرکت پر حق دق سی کچھ پل کے لیے ساکت رہ گئی
“ضرغام خان اپنی یارِ من کو کبھی نہیں بھول سکتا—دنیا بھلا سکتا ہوں تمہیں نہیں—اس دنیا میں ایک ہی عقیدت ضرغام خان ہے—اور ضرغام خان کے لیے پوری دنیا ہی عقیدت ضرغام خان ہے”—- چہرہ عقیدت کے بالوں میں چھپائے آنکھیں موندتے محبت سے چور لہجے میں سرگوشی کی تو عقیدت کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوا—
پہلو میں گرے ہاتھوں کو حرکت دیتے ضرغام خان کے گرد حصار باندھتے آسودگی سے آنکھیں موندی—جبکہ عقیدت کا حصار اپنے گرد محسوس کر کہ ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
کندھوں سے تھام کر نرمی سے عقیدت کو خود سے جدا کرتے—ہاتھوں کے پیالوں میں عقیدت کا چہرہ بھرا—ضرغام خان کی نیند نا لینے کی باعث سرخ ہوئی آنکھوں کو دیکھتے—عقیدت نے اپنے ہاتھ ضرغام خان کے گالوں پر رکھتے نرمی سے انگھوٹھے کے پورے کو آنکھوں کے قریب کیا—جنہیں دیکھتے ضرغام خان نے خاموشی سے آنکھیں موند لیں— عقیدت کی ہاتھوں کے لمس کو اپنے چہرے اور اپنی آنکھوں پر محسوس کرتے ضرغام خان کو اپنی روح تک سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا
عقیدت کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے آنکھیں واہ کی تو نظریں عقیدت کی سرخ سبز آنکھوں سے ٹکرائیں – جنہیں دیکھ ضرغام خان کو اندازہ ہوگیا کہ وہ رات بھر جاگتی رہی ہے
عقیدت کے ہاتھ سامنے کرتے نرمی سے عقیدت کی ہتھیلیوں کو چومتے—اپنے سینے پر دل کے مقام پر رکھتے—اپنی نیلی آنکھوں کو عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے پر ٹکا دیا—
“کبھی کبھی اپنی تکلیف— احساسات— محبت— تھکن ظاہر کرنے کے لیے آپ کو لفظوں کی ضرورت نہیں ہوتی—اس کے لیے آپ کو روح سے چاہنے والا شخص درکار ہوتا ہے—جو دنیا کے شور میں بھی آپ کی خاموشی کو سن لے— جو آپ کی خاموشی کو تب بھی سمجھ لے جب آپ کے پاس کہنے کو کوئی الفاظ نا ہو—کبھی کبھی ہر درد و تکلیف—ہر تھکن— ہر مرض کا علاج—آپ کے من پسند شخص کے ساتھ میں ہی ہوتا ہے—چاہے کوئی بات ہو نا ہو— چاہے آپ اسے کچھ کہہ بھی نا پا رہے ہو—مگر دل وہ سب کہہ جاتے ہیں— محبت بھری نظریں محبوب کی ہر کیفیت کو سمجھ جاتی ہیں
“میں تمہارے لوٹنے کا انتظار کر رہی تھی”—ضرغام خان کی اجرک پر ہاتھ پھیرتے نرم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے مسکراتے سر عقیدت کے سر سے ٹکا دیا
“اور میں تمہارے پاس لوٹ آنے کو بیقرار تھا”—عقیدت کے ماتھے کو محبت سے چھوتے جواب دیا تو عقیدت کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
“تم فریش ہو جاؤ میں تمہارے لیے ناشتہ لاتی ہوں”—ضرغام خان کے کندھوں سے اجرک اتارتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے سر اثبات میں ہلایا
“کدھر جا رہی ہو—یہ کون کرے گا”— عقیدت کو باہر کی جانب بڑھتا دیکھ ضرغام خان نے کلائی تھام کر رخ اپنی جانب کیا تو عقیدت نے نا سمجھی سے ضرغام خان کی جانب دیکھا
جس پر ضرغام خان نے کرتے کہ بٹنوں کی جانب اشارہ کیا تو عقیدت نے آبرو آچکا کر ضرغام خان کو دیکھا جو شوخ نظروں سے عقیدت کو ہی دیکھ رہا تھا—
“بیوی ہو تم—اور بیوی کا فرض ہے شوہر کا ہر کام کرنا”—عقیدت کی کلائی کو جھٹکا دیتے عقیدت کو اپنے قریب کرتے—دونوں بازو عقیدت کی کمر کے گرد حائل کیے تو عقیدت نے ناک سکوڑ کر ضرغام خان کو دیکھا
“ہر کام سے اچھا نہیں کہ میں شوہر کا ہی کام تمام کردوں—اور فرائض کی بات مت کرو مجھ سے—اگر میں نے تمہارے فرائض گنوائیں نا—— تو پھر بیوی بری لگے گی تمہیں”— ضرغام کے کالر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے جھٹکے سے ضرغام کے چہرے کو اپنے قریب کرتے”—رات کے حوالے سے طنز کیا تو ضرغام خان نے ستائشی انداز میں آبرو آچکائی
“صرف بری—مجھے تو تم زہر لگتی ہو—جان لیوا—ایسا زہر جو رگوں میں گھل کر پورے وجود میں سرائیت کر جائے—جس سے بچ پانے کا کوئی راستہ نا ہو”— ماتھا عقیدت کے ماتھے سے ٹکائے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا
“تو کھا کر مر جاؤ”—- ضرغام خان کی گردن پر واضح ہوتی ہڈی کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھوتے منہ بسور کر کہا تو ضرغام خان نے مسکرا کر عقیدت کے تپے تپے چہرے کو دیکھا
کمر پر گرفت سخت کرتے دو انچ کے فاصلے کو بھی ختم کر دیا
“میں تو تیار ہوں— مگر یہ زہر ہی نہیں میرے منہ لگنا چاہتا—میں نے تو رات پوری کوشش کی تھی اس زہر کو اپنی رگوں سے روح تک شامل کرنے کی”— عقیدت کے بالوں میں انگلیاں الجھاتے—چہرہ اپنے چہرے کے بالکل قریب کرتے دھیمے انچ دیتے لہجے میں معنی خیزی جملہ بولا تو عقیدت کو اپنے گال تپتتے محسوس ہوئے
“رات کی بات مجھے یاد مت دلاو ضرغام—مجھے تم پر پہلے ہی بہت غصہ ہے—آئندہ اگر تم مجھے رات کے وقت یا کبھی بھی کسی کہ فون کر دینے پر چھوڑ کر گئے تو قسم سے تمہارے ساتھ ان کی بھی جان لے لوں گی”— سرخ نظروں سے ضرغام خان کو گھورتے کرتے کا بٹن کھولتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا
پھر سر جھٹکتے جھک کر اپنے ہونٹ شدت سے عقیدت کے گال پر ثبت کیے تو عقیدت نے ایک گھوری سے ضرغام خان کو نوازتے پیچھے ہونا چاہا جس پر ضرغام خان نے عقیدت کے ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے—بٹن پر رکھے اور خود عقیدت کے چہرے پر جا بجا اپنا لمس چھوڑنے لگا
“مسئلہ رات جانے کا ہے یا ہمارے اسپیشل مومنٹس کے خراب ہونے کا”— عقیدت کے احتجاج کو کسی خاطر میں لائے بغیر اپنی بئیرڈ کو عقیدت کے دونوں گالوں پر رب کرتے سوالیہ لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت نے منہ پھلا کر نظروں کا رخ بدلا جسے دیکھ ضرغام خان کندھے اچکاتا عقیدت کے دونوں ہاتھوں کو کمر پر لاک کرتا—عقیدت کی گردن پر جھک گیا
“تم انسان بنو گے کہ نہیں ضرغام—انکھیں دیکھو نیند نا لینے کی وجہ سے کیسے سرخ ہو رہی ہیں—اور تم سونے کی بجائے اپنا ٹھرک جھاڑنے میں مصروف ہو”—ضرغام کو پیچھے ہٹتے نا دیکھ عقیدت نے ضرغام خان کو کندھوں سے تھامتے پیچھے کرنے کی کوشش کی جس کے بدلے میں ضرغام خان نے پوری شدت سے عقیدت کی گردن پر اپنے دانتوں کا دباؤ بڑھایا تو عقیدت نے ہونٹ بھنچتے ضرغام خان کے جھکے سر کو دیکھتے—آگے ہوتے اپنے دانت ضرغام خان کے کندھے پر گاڑھے تو گردن پر جھکے ضرغام خان کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“چلو میں فریش ہو جاؤ پھر اس بات کا بدلہ لیتا ہوں تم سے”—عقیدت کے خود ہی پیچھے ہونے پر ضرغام خان نے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھتے—نفی میں سر ہلاتے قدم باہر کی جانب بڑھائے
عقیدت کو کمرے سے جاتے دیکھتے—ضرغام ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے کبرڈ سے کپڑے لیتا واشروم میں گھس گیا
___________
کل رات۔۔۔
آج تو موقع اچھا ہے—ایک تیر سے دو نشانے”— سڑک کنارے ملازموں کے سامنے کھڑے ضرغام اور جیپ کے سامنے کھڑے ارمغان خان کو دیکھتے درختوں کی آڑ میں کھڑے ایک شخص نے ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ سجائے کہا تو دوسرے نے بھی تائیدی انداز میں سر اثبات میں ہلاتے اپنی پسٹل کا رخ ارمغان خان کی جانب کیا
“اپنے شوہر پر اٹھی کسی کی بری نگاہ برداشت نا کروں—اور تم بندوق تانے کھڑے ہو”— اپنے عقب سے آتی سرد آواز پر وہ دونوں وجود بھونچکا رہ گئے
ابھی وہ دونوں سنبھلتے حدائق شاہ نے آگے بڑھتے اپنی پسٹل کو ارمغان پر نشانہ باندھے کھڑے شخص کی گردن پر رکھ دیا
جبکہ ضرغام خان پر پسٹل تانے کھڑے شخص کو دیکھ عقیدت نے آگے بڑھتے اپنی جیکٹ سے تیز دھار آلہ نکالتے—پیچھے سے اس شخص کی گردن پر رکھا
“عقیدت نہیں— ہمیں ابھی اس سے معلومات”—- عقیدت کے ارادے کو بھانپتے حدائق شاہ نے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا لیکن اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی عقیدت—حدائق شاہ اور اس شخص کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کی گردن پر بے رحمی سے اسے آلے کو پھیر چکی تھی—
خون کی تیز دھار پھوارے کی مانند نکلتی سامنے درخت پر گری
“معلومات گئی بھاڑ میں—میرے شوہر پر بندوق تانے کھڑے شخص کا یہی انجام ہو سکتا تھا—ایک سانس کی بھی مہلت نا دوں—اور آپ چاہتے تھے کہ میں اسے زندہ رکھو وہ بھی صرف چند سوالوں کے جواب جاننے کے لیے”— جھٹکے سے اس شخص کو زمین پر پھینکتے سرد لہجے میں چبا کر کہا تو حدائق کے ساتھ کھڑے بہرام شاہ نے تاسف سے سر ہلایا
“وہ لوگ ادھر ہی آرہے ہیں— جلدی نکلو”— دوسرے شخص کے لاکھ جھپٹانے کے باجود بہرام شاہ اسے بیہوش کرتا اپنے کندھوں پر اٹھاتا پیچھے جھاڑیوں کی جانب بڑھا
جبکہ حدائق شاہ تاسف سے عقیدت کو دیکھتا نیچے جھک کر اس شخص کی لاش کو اٹھاتا—اور تیز نظروں سے عقیدت کو چلنے کا اشارہ کرتا آگے کی جانب بڑھا
عقیدت نے پلٹ کر ایک نظر درختوں کی جانب آتے ضرغام خان کو دیکھا— اور پھر تیز تیز قدم لیتی جھاڑیوں کی جانب بڑھی
ضرغام خان کے وہاں پہنچنے تک وہ تینوں وہاں سے غائب ہو چکے تھے
___________
اب بس بھی کردو عقیدت— ہوش میں تو آنے دو اسے”—- بہرام شاہ نے آگے بڑھتے عقیدت کو بازو سے تھام کر روکا
جہاں یہاں پہنچتے ہی دوسرے شخص کی درگت بنا چکی تھی—
“کیسے بس کر جاؤں بہرام—بتاؤ کیسے کر جاؤ—اگر ہمیں خبر نا ملتی—اگر میں نے ضرغام پر نظر نا رکھی ہوتی تو یہ لوگ آج میرے شوہر کو مجھ سے چھین لیتے— وہاں سے یہاں آنے تک جتنی بار بھی میرے ذہن میں یہ سوچ آئی کہ اگر ضرغام کو کچھ ہو جاتا— تو میں کیسے جیتی— اس سوچ پر ہی مجھے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی ہیں—اور آپ کہہ رہے ہیں میں بس کر جاؤں”— لکڑی کے چھوٹے سے ٹیبل کو ٹھوکر مارتے چلاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے اپنی بہن کا جنونی روپ دیکھ تاسف سے سر ہلایا
“اس دن مقدس بیگم کے کمرے میں تم نے جس شخص کی باتیں سنی مجھے یقین ہے کہ وہ کون ہے—کیونکہ عائث اور حدائق جن جگہوں پر ایکسیڈنٹ ہوا—وہاں تحقیق کروائی تھی میں نے—اور وہاں ایک چیز کامن تھی
کہ وہ دونوں ایکسیڈنٹ پری پلینڈ تھے—اور جس گاڑی سے ہوا ان میں موجود ڈرائیور بھی ایک ہی شخص تھا—اور اس ڈرائیور کی انفارمیشن نکالی تو اس کے کال ریکارڈ میں اس شخص کا نام موجود تھا”— گھٹنے کے بل زمین پر جھکتے نیچے ادھ موئے شخص کے چہرے کو بغور دیکھتے ٹھہرے لہجے میں کہا تو عقیدت نے ہونٹ بری طرح کچلتے بہرام شاہ کے جھکے سر کو دیکھا—
“کیا میں اس شخص کو جانتی ہوں”— عقیدت کے سوالیہ لہجے پر بہرام شاہ نے گردن ترچھی کرتے خاموش نگاہوں سے عقیدت کو دیکھا جسے سمجھتے عقیدت نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں
“جاننے کی بات چھوڑو عقیدت – بس اتنا بتاؤ—اگر گنہگار خان خاندان سے نکلا تو تمہارا کیا فیصلہ ہوگا—ضرغام کو چھوڑ دو گی—اگر کبھی وہ تمہارے بدلہ یا انصاف کہ رستے میں آیا”— دیوار سے ٹیک لگائے تب سے خاموش کھڑے حدائق شاہ کی آواز بیسمنٹ کی خاموشی میں گونجی تو عقیدت نے سختی سے مٹھیاں بھینچی
“اس نے چھوڑ دیا تھا مجھے کیا—اس کی نظر میں تو اس کی باپ کے قاتل کی بیٹی ہوں— اس بات کا بدلہ لیا کیا مجھ سے—میں ضرغام خان کو مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گی – اور اگر کبھی وہ میرے انصاف یا بدلے کے رستے میں آیا تو اسے چھوڑنے کی بجائے جان سے مار دوں گی اور خود بھی مر جاؤں گی—مگر اپنے باپ کو بے قصور ثابت کر کہ رہوں گی”— سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو بہرام شاہ نے گھور کر حدائق شاہ کو دیکھا جو اسے بھڑکانے کا کام کر رہا تھا—جس پر حدائق شاہ نے کندھے آچکا کر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ اڑسے
“آپ نے—او—آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی لالا کہ چھوٹے خان پر گولی چلانے کی— آپ نے ضرغام کو تکلیف دینے کے لیے چھوٹے خان پر گولی چلا دی—یہ تک بھول گے ایک وقت تھا جب اس چھوٹے سے بھالوں میں ہماری بھی جان بسا کرتی تھی—اور آپ نے اسی پر گولی چلا دی”— ارمغان خان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا تو عقیدت نے جھٹکے سے پلٹتے لہجے میں افسوس بھرے لہجے میں پوچھا تو حدائق شاہ نے گہری سانس لیتے قدم عقیدت کی جانب بڑھائے
“میں اس دن اگر ارمغان پر گولی نا چلاتا تو—دشمن اس پر وار کرتا—وہ سب دشمن کا دھیان بٹانے کے لیے تھا—اس پر یہ ظاہر کرنے کے لیے تھا—کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن ہے—اسے ہمیں مارنے کی ضرورت نہیں ہم خود ایک دوسرے کی جان لینے والے ہیں—عائث پھر میں—اور میرے بعد ضرغام اور ارمغان ہوتے—اپنے دل پر پتھر رکھ کر اس شخص کو تکلیف دی ہے میں نے—اور یقین مانو ضرغام خان کے ہاسپٹل پہنچنے سے میرے جاننے والے سپیشلسٹ ڈاکٹر وہاں اس کے انتظار میں کھڑے تھے— بلیک پینٹ پر بلیک ہڈی پہنے— نیلی آنکھوں میں سرد تاثرات سجائے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عقیدت نے سکون سے سانس لی
ورنہ اپنا آپ مجرم لگ رہا تھا—دل پر بوجھ تھا—ارمغان خان کے سامنے جاتے نظریں شرمندگی سے جھک جاتی تھی—اور وہ جب پیار سے ضرغام خان کے نام سے چھیرتا یا بھابھی کہتا تو عقیدت کو گلٹ میں مبتلا کر دیتا
“عقیدت اب تم حویلی جاؤ—ایسا کرتا ہوں میں ہی چھوڑ کر آتا ہوں—وہ پاگل خان حویلی پہنچا اور تمہیں وہاں نا پا کر قیامت برپا کر دے گا—اور بدلے میں میری معصوم بیوی کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کرے گا”—عقیدت کو بازو سے تھامتے زبردستی باہر لاتے مسکراتے لہجے میں کہا تو ضرغام خان کو پاگل کہنے پر عقیدت نے گھور کر حدائق شاہ کو دیکھا
____________
عقیدت ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوئی تو نظریں بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے ضرغام خان پر گئی—جو فریش ہو کر بلیک بنیان کے ساتھ بلیک ٹراؤزر پہنے شاید سو چکا تھا—
ٹرے ٹیبل پر رکھتے—کمرے کے دروازے کو لاک کرتے عقیدت نے قدم ضرغام خان کی جانب بڑھائے
“ضرغام”—بیڈ کے کنارے ضرغام خان کے قریب بیٹھتے— ضرغام خان کے چاکلیٹ براؤن بالوں میں ہاتھ پھیرتے نرم لہجے میں پکارا تو ضرغام خان نے نیند کی سرخی لیے سرخ آنکھوں کو واہ کیا
نیلی آنکھوں میں سرخی دیکھ عقیدت کو اپنا دل ان میں ڈوبتا سا محسوس ہوا
“کچھ کھا لو پھر سو جانا”— ضرغام خان کی کنپٹی کو ہولے سے لبوں سے چھوتے کہا تو ضرغام خان نے ہنکارہ بھرتے آنکھیں موند لیں—
“یہی لے آؤ—اٹھنے کی ہمت نہیں ہو رہی”—چہرہ عقیدت کے پہلو میں چھپاتے خمار آلود لہجے میں کہا تو اس اچانک افتاد پر عقیدت حق دق سی سانس روکے اپنے پہلو میں چہرہ چھپائے لیٹے ضرغام خان کو دیکھنے لگی
“تت—تم ہٹو گے تو لاؤں گی نا”—ضرغام خان کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے پیچھے کرتے جھنجھلائے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے پیچھے ہوتے ایک خفا نظر عقیدت کے سرخ چہرے پر ڈالی جسے سرے سے نظر انداز کرتے عقیدت نے اٹھ کر قدم ٹیبل کی جانب بڑھائے
ناشتے کی ٹرے بیڈ پر ضرغام خان کے قریب رکھتے—خود ٹرے کے دوسری جانب ضرغام خان کے سامنے بیٹھی تو ضرغام خان نے آبرو آچکا کر عقیدت کو دیکھا
“کیا—میں نے بھی ناشتہ نہیں کیا—اور اب ٹائم ویسٹ کرنے کی بجائے جلدی سے ناشتہ کر کہ سو جاؤ”— ضرغام خان کی گھورتی نگاہوں کو نظر انداز کیے سینڈوچ اٹھا کر کھایا تو ضرغام خان نفی میں سر ہلاتا ٹیک ہٹا کر آگے ہوا
وہ اپنے لیے دو سینڈوچ جبکہ ضرغام کے لیے چھ لائی تھی— کیونکہ اتنے دنوں میں اسے یہ آئیڈیا ہوگیا تھا کہ ضرغام خان کافی ہیوی قسم کا ناشتہ کرتا یے— لیکن اب تو ناشتے کے بعد اس نے سونا تھا—تو وہ پراٹھے لسی کی بجائے سینڈوچ بنا لائی—ضرغام خان کے لیے تین سینڈوچ رکھتے رکھتے نجانے کیا سوچ کر وہ چھ بنا لائی اور ابھی وہ ایک بھی ختم نہیں کر پائی تھی کہ وہ اپنے حصے کہ کھا کر کافی کا کپ لبوں سے لگا چکا تھا—
جبکہ عقیدت ہونکوں کی طرح منہ کھولے ضرغام خان کی جانب دیکھ رہی تھی جس پر ضرغام نے آنکھوں سے استفسار کیا تو عقیدت نے بنا جواب دیے خاموشی سے اس نفی میں ہلایا
“ماشاءاللہ”—سر جھکائے سرگوشی میں ماشاءاللہ بولا کہ کہی ضرغام خان کو نظر ہی نا لگ جائے—کیونکہ اس نے اپنی ماں کو کہتے دیکھا جب بھی عقیدت اپنی ڈائٹ سے ہٹ کر کھا لیتی تو حلیمہ بیگم ہمیشہ ماشاءاللہ کہتی تھی
ابھی وہ انہی سوچو میں گم تھی کہ ضرغام خان نے ٹرے درمیاں سے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے—عقیدت کے ہاتھوں سے سینڈوچ تھامتے— اپنا بایاں بازو عقیدت کی کمر کے گرد حائل کرتے جھٹکے سے رخ بدلتے عقیدت کو تکیے پر پٹکا
ابھی وہ اس اچانک افتاد پر سنبھلی بھی نہیں تھی کہ ضرغام خان اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کے اطراف میں رکھتا عقیدت پر جھک آیا
“میں یہاں تمہارے سامنے موجود ہوں—مجھے دیکھنے—پیار کرنے کی بجائے تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی اپنے خیالات میں کھونے کی یارِ من”— عقیدت کے گلے سے دوپٹہ اتار کر بیڈ کے دوسرے کنارے پر اچھالتے سرد لہجے میں کہا تو عقیدت نے ضرغام خان کی بات کو نظر انداز کرتے اٹھنا چاہا تھا ضرغام خان نے اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کے کندھوں پر رکھتے اسے واپس لٹایا
“خود تو ناشتہ کر چکے ہو اب مجھے بھی کرنے دو—کیا تمہاری نظر اب میرے سینڈوچز پر ہے”— منہ پھلائے ضرغام خان کے ہاتھ میں تھامے اپنے سینڈوچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معصومیت سے کہا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا
جو اس کے رومینٹک موڈ میں ناشتے کو لا رہی تھی— مگر پل میں کچھ سوچتے آنکھیں چمکی تو عقیدت کو اپنے گرد خطرے کی گھٹیا بجتی محسوس ہوئیں
“میری نظر تو میری بیوی کی بھوک پر ہے—آج تمہارا پاگل خان اپنے طریقے سے تمہاری بھوک کا علاج کرے گا”— عقیدت کے گلابی بھرے بھرے ہونٹوں کو اپنے انگھوٹھے سے سہلاتے خمار آلود لہجے میں کہا تو عقیدت نے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ نفی میں سر ہلایا
مگر ضرغام خان کی معنی خیز نظریں اور ان میں نظر آتی محبت دیکھ عقیدت کو فرار کے سارے رستے بند ہوتے محسوس ہوئے
نظریں عقیدت کی سبز نگینوں سی آنکھوں میں گاڑھے—سینڈوچ کو اپنے ہونٹوں کے درمیان رکھتے چہرہ عقیدت کے چہرے پر جھکایا تو عقیدت نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سر نفی میں ہلایا
مگر اپنی کمر کے گرد لپٹے ضرغام خان کے ہاتھوں کی سخت گرفت محسوس کرتے—ہونٹوں کو ہلکہ سے واہ کیا تو ضرغام خان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ رینگ گئی
عقیدت کو سینڈوچ نا کھاتے دیکھ ضرغام خان نے گھورا مگر عقیدت نے سختی سے آنکھیں میچ لیں جس پر ضرغام خان نے عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر سینڈوچ کے چھوٹے سے بچ جانے والے ٹکڑے کو نکال کر ٹرے میں اچھالا اور پوری شدت سے عقیدت کے ہونٹوں پر جھک آیا
عقیدت اس سے پہلی سنبھلتی ضرغام خان اسے اپنے شکنجے میں قید کر چکا تھا—
قطرہ قطرہ عقیدت کی سانسوں کو خود میں اتارتے—ضرغام خان پل میں مدہوش ہوا تھا—عقیدت کی کمر پر ہاتھ لے جاتے وہ جھٹکے میں زپ کو کھولتے شرٹ کو دونوں کندھوں سے سرکا چکا تھا—جسے محسوس کرتے عقیدت کو اپنے پورے وجود میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی
ہونٹوں پر لمحہ بہ لمحہ سخت ہوتی ضرغام خان کے ہونٹوں کی گرفت محسوس کرتے—عقیدت نے مٹھیوں میں ضرغام خان کی بنیان کو دبوچا
کمرے کی خاموش معنی خیز فضا میں عقیدت کی بکھری سانسوں کا شور برپا تھا—
عقیدت کی بکھری سانسوں کو محسوس کرتے ضرغام خان نے نرمی سے اپنے ہونٹ جدا کیے تو عقیدت نے گہرے سانس لیتے—سر تکیے پر ٹکاتے آنکھیں موند لیں
ضرغام خان کی خمار آلود نظریں عقیدت کے خون چھلکاتے سرخ ہونٹوں سے ہوتی—دودھیا شفاف گردن پر آکر رکی تو نیلی شہہ رگ کو دیکھتے ضرغام خان کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھرتی محسوس ہوئی
عقیدت کے کندھوں پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیرتے— انگلیاں عقیدت کی انگلیوں سے الجھا کر سر کہ اوپر پن کی تو عقیدت نے قربت کا خمار لیے سرخ ہوئی آنکھوں کو واہ کیا تو نظریں گہری نیلی آنکھوں سے ٹکرائی
جس پر ضرغام خان نے جھکتے نرمی سے عقیدت کی آنکھوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا تو عقیدت کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی جسے دیکھتے ضرغام خان کو اپنے رگ و پہ میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا—
چہرے پر جھکتے نرم گرم لمس چھوڑتے—ضرغام خان پل میں چہرے سے گردن کا سفر طہ کرتا—دیوانہ وار اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا
عقیدت کی گردن اور کندھوں پر اپنی شدتوں کے نشان چھوڑتے وہ دنیا بھلائے— اپنی بیوی کی ذات میں گم ہوتا مدہوش ہو رہا تھا
عقیدت کی کمر پر بازو لپیٹے کروٹ بدلی تو عقیدت نے اپنا چہرہ ضرغام خان کی گردن میں چھپاتے— گہری سانس بھری تو—اپنی گردن پر دہکتی بکھری سانسوں کی تپش محسوس کرتے ضرغام خان نے شدت سے عقیدت کو خود میں بھنچ لیا
عقیدت کی سانسیں ہموار ہوئی تو ضرغام خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے—ہاتھ بڑھا کر دوسرا سینڈوچ اٹھایا
“بیگم ابھی تو ایک اور رہتا ہے”—ضرغام خان کے مسکراتے لہجے پر عقیدت نے سر اٹھا کر ضرغام خان کو گھورا تو عقیدت کے بکھرے سراپے کو دیکھ ضرغام خان نے آنکھ دبائی تو عقیدت نے سٹپٹا کر اپنی فراک کا گلہ ٹھیک کیا
جس پر کمرے کی خاموش فضا میں ضرغام خان کا دلکش قہقہہ گونجا
تو عقیدت نے خفا ہوتے ضرغام خان کے سینے پر مکے برسائے تو ضرغام خان نے مسکراتے—عقیدت کو بانہوں میں بھرتے سر نفی میں ہلایا
ہنسی رکی تو خاموشی سے سینڈوچ دوبارا عقیدت کے ہونٹوں کی طرف کیا تو عقیدت نے یاک خاموش نظر ضرغام خان کے ہاتھ میں تھامے سینڈوچ پر اور پھر ضرغام خان کے چہرے پر ڈالی—نظریں ضرغام خان کی آنکھوں سے سرکتی مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں پر آکر رکی تو عقیدت نے ہاتھ بڑھاتے سینڈوچ پکڑ کر ٹرے میں رکھا
جبکہ عقیدت کو خاموشی سے دیکھتے ضرغام خان کے دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی تھی—اپنے چہرے پر جھکتی عقیدت کو دیکھ ضرغام خان کی آنکھیں خود بہ خود بند ہوتی چلی گئی—بازو نرمی سے عقیدت کے گرد حائل ہوئے تو—عقیدت نے نرمی سے جھکتے— نرم ہونٹوں سے ضرغام خان کے چہرے کو اپنے ہونٹوں سے چھوا
تھوڑی پر لب رکھتے—انگھوٹھے کے پوروں سے ہونٹوں کو چھوا تو— ضرغام خان نے خمار آلود چاکلیٹ براؤن آنکھوں کو واہ کیا— کمر سے سرکتا ہاتھ عقیدت کے بالوں میں آکر الجھا تو عقیدت نے خاموش نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا جس پر ضرغام خان نے عقیدت کا سر اپنے ہونٹوں پر جھکایا تو عقیدت نے نرمی سے اپنے ہونٹ ضرغام خان کے ہونٹوں پر ثبت کر دیے
ضرغام خان نے پاؤں کی مدد سے کمفرٹر کو اوپر کھیچتے ہاتھ بڑھا کر دونوں کے وجود کو ڈھانپتے عقیدت کو اپنے حصار میں قید کر لیا
“اب سو جاؤں ضرغام—مجھے مزید تنگ مت کرو— ورنہ میں دوسرے کمرے میں چلی جاؤں گی”— گہری سانس بھرتے چہرہ ضرغام خان کی گردن میں چھپاتے سرگوشی کی تو ضرغام خان نے کروٹ کے بل ہوتے عقیدت کو خود میں بھنچ لیا
“ایسی کی تیسی دوسرے کمرے کی— دوسرے کمرے میں جانے کا سوچا بھی تو ٹانگیں توڑ کر ہمیشہ کے لیے اس بستر پر لٹا دوں گا—تمہاری نیند کا خیال کر کہ سونے دے رہا ہوں— ورنہ جس قدر تم میرے قریب ہو میرا دل چاہ رہا ہے سب پردوں کو ہٹاتے آج تمہاری روح میں شامل ہو جاؤ— تم پر اپنی شدتوں کے—محبت کے سارے رنگ نچھاور کر دوں”— گال عقیدت کے سر پر ٹکائے خمار آلود لہجے میں کہا مگر عقیدت کی جانب سے کوئی جواب نا پا کر ضرغام نے سر جھکا کر دیکھا تو وہ کب کی نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی—جسے دیکھ ضرغام خان کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا نرمی سے عقیدت کے سر پر ہونٹ رکھتے ہاتھ بڑھا کر ریمورٹ سے لائیٹس بند کرتے سکون سے آنکھیں موندی تو تھوڑی ہی دیر میں نیند کی دیوی نے ضرغام خان کو اپنے لپیٹ میں لیتے—خوابوں کی دنیا میں چھوڑ دیا
