Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 07)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 07)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
دونوں خاندانوں میں شادی کی تیاریاں زورو شورو سے جاری ہو چکی تھی
سننے والوں کو یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن کیسے اتنی آسانی سے دشمنی کو ختم کرنے کو تیار ہو گئے
مگر وہ گاؤں والے اس بات سے بھی واقف تھے—کہ شاہ خاندان کی دو لڑکیاں خان خاندان کے لڑکوں سے منسوب ہے—
اور یہاں منگ چھوڑنے کا رواج نہیں تھا—
شاہ حویلی میں صبح سے افراتفری مچی ہوئی تھی—کیونکہ آج عقیدت اور حوریہ کی مہندی تھی—
سب کام حلیمہ اور ثمرین بیگم اپنی نگرانی میں کروا رہی تھیں
کیونکہ بہرام شاہ کسی بہت ضروری کام سے شہر گیا ہوا تھا—وہ اس قدر لاپرواہ تو نہیں تھا کہ ساری ذمہ داریاں کسی اور کے حوالے کر کہ خود شہر چلا جاتا—
ثمرین بیگم کو شک تھا کہ وہ کوئی بات ضرور چھپا رہا ہے—
پچھلے کچھ دنوں سے وہ ٹینشن میں نظر آرہا تھا—کئی بار وہ حویلی فون کر کہ حدائق کے بارے میں بھی پوچھ چکا تھا کہ اس سے رابطہ ہوا کہ نہیں
اور اپنی بات کر کہ وہ کوئی بھی جواب دیے بغیر فون رکھ دیتا جس پر ثمرین بیگم کو جی بھر کر غصہ آتا
حویلی میں ملازموں کی فوج تھی—مگر جب تک سر پر کھڑے ہو کر کام نا کروایا جائے ملازم بھی چھوٹے سے کام کو بڑھا دیتے ہیں
“مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں—بہرام تو چلو کام سے چلا گیا—مگر بالاج—کبھی جو یہ لڑکا میری سن لے—گھر کی دو بیٹیوں کی شادی ہے—اور کوئی مرد ہی گھر نہیں—
ایک تو پہلے مجھے عقیدت پر غصہ تھا—لاکھ سمجھایا تھا کہ جلدی آئے مگر نہیں دو دن پہلے آئی—
بالاج اور عقیدت کی فطرت ایک جیسی ہی ہے دونوں ہی ضدی اور باغی ہیں–
جس کام سے روکو وہی کریں گے—اس لڑکے سے میں نے کہا بھی تھا کہ اس بار جائے تو جلدی واپس اجائے—یا وہاں جا کر اپنا فون بند نا کرے—مگر نہیں ماں کی اب سنتا ہی کون ہے”— عقیدت اور حوریہ کے شادی کے کپڑوں کو پیک کر کہ بیگ میں رکھتے ثمرین بیگم نے جھنجھلاتے ہوئے کہا تو حلیمہ بیگم نے بھی سر ہلا کر ان کی بات کی تاکید کی
“سلویٰ بچی بھی گھن چکر بنی ہوئی ہے—کبھی حوریہ کے لیے پالر سے اپائنٹمنٹ لینا—پھر عقیدت کے لیے—دونوں کے کپڑوں اور جیولری وغیرہ کو دیکھنا—گھر میں آئے مہمانوں کو دیکھنا—ویسے ہزار کام ہوتے شادی والے گھر کبھی اس کی سن لو کبھی اُس کی سن لو”—حلیمہ بیگم نے سر جھٹکتے ہوئے کہا تو ثمرین بیگم نے ہنکارہ بھرا
“انہیں چھوڑوں تم یہ دیکھ لو—تم تو اپنے گھر والوں کے رواجوں کو اچھے سے جانتی ہو گی—کہ کیسے شادی میں لین دین کرتے—مقدس کے خاندان میں جو کپڑے دینے وہ میں نے اس بیگ میں کر دیے ہیں—اور مبین کے لیے اس بیگ میں—باقی رہ گئے حویلی والے ان کی پیکنگ تو تم نے رات میں ہی کر لی تھی—
چاندی کے سکے—اور زیور وغیرہ بہرام کے لاک اپ میں رکھے تھے میں نے—وہ کہہ تو رہا تھا رات سے پہلے اجائے گا—تب نکلوا لوں گی اس سے—باقی تم دیکھ لو—
“نہیں الحمدللہ سب بالکل ٹھیک ہے— بس بھابھی لوگوں کو پسند آجائے—وہ لوگ کوئی ڈرامہ نا کر دے—باقی تو اللہ کا شکر ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی—جہیز سے اگر ضرغام منع نا کرتا تو وہ بھی ہم دے دیتے—بس اب اسی بات کی فکر کہ وہ دونوں اس بات پر کوئی تماشہ نا کریں”— حلیمہ بیگم نے بیگز جو بند کر کہ ایک سائیڈ پر کرتے ہوئے جواب دیا
اللّٰہ خیر کرے—تم بچیوں کو دیکھ لو—کسی چیز کی ضرورت نا ہو میں ذرا کچن دیکھ آو—ثمرین بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا تو حلیمہ بیگم سر ہلاتی کمرے سے باہر نکل گئی
————–
“ماشاءاللہ سے آپ دونوں تو بہت پیاری لگ رہی ہیں—اب تو مجھے پورا یقین ہے—ضرغام اور عائث لالا کی بچی کچی بھی ناراضگی جو ہم لوگوں سے ہوئی اسے بھول جائیں گے—بھئی اتنی خوبصورت لڑکیاں جو دے رہے ہیں انہیں—اپنی بیویوں کو دیکھ خود کو بھول جائیں گے یہ دشمنی کیا چیز ہے”— سلویٰ شاہ نے عقیدت کے کمرے میں داخل ہوتے عقیدت اور حوریہ کو مہندی کی رسم کے لیے تیار ہوئے دیکھ شوخ لہجے میں کہا
تو حوریہ نے منہ بسور کر اسے دیکھا
“زردے کی دیگ لگ رہی ہوں میں تو—کہا بھی تھا ماں جی سے کہ مجھے کوئی اور رنگ لینے دے مگر نہیں—اب عقیدت کو دیکھو ضرغام لالا نے کتنا پیارا کلر لے کر بھیجا ہے”—حوریہ کے منہ بسور کر کہنے پر سلویٰ شاہ نے تاسف سے سر ہلایا
جبکہ ہاتھ میں موبائل تھامے صوفے پر بیٹھی عقیدت نے سامے ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں نظر آتے اپنی عکس کو دیکھا
“ٹی پنک کلر کا شرارا جس پر سلور کلر کا خوبصورت کام ہوا تھا— کانوں میں گلاب اور موتیے کے پھولوں سے بنے ایرنگ پہنے—ماتھے پر بندیا لگائے—نازک کلائیوں میں گجرے پہنے—میک آپ کے نام پر لائٹ پنک کلر کی لپ اسٹک لگائے— ناک میں چمکتی ڈائمنڈ کی چھوٹی سی نوز پن چمک رہی تھی—سبز نگینوں جیسی آنکھوں میں الوہی سی چمک اتری ہوئی”— ضرغام خان کے نام سے سجنے پر وہ اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی
اپنی سوچ پر ہڑبڑا کر عقیدت نے نظروں کا زاویہ بدل کر حوریہ کو دیکھا
جو یلو کلر کا شرارا جس پر گولڈن اور گرین کلر کا گوٹے کا کام ہوا تھا—ہاتھوں میں گجرے پہنے—جبکہ ماتھے اور کانوں میں گلاب اور موتیے کے پھولوں کی جیولری پہنے—براون بالوں کو کمر پر کھلا چھوٹے—چہرے پر معصومیت سجائے—روٹھی ہوئی شہزادی ہی لگ رہی تھی
جسے دیکھ عقیدت نے اپنی مسکراہٹ چھپائی
“ماشاءاللہ سے اتنی پیاری تو لگ رہی ہو—اگر پھر بھی دل راضی نہیں ہو رہا تو تم چینج کر لو—ضرغام نے اتنی ڈریسسز بھیجی ہیں اسی ڈیزائن میں ایک اور ڈریس ہے بس کلر چینج ہے وہ پہن لو”— عقیدت نے نرم لہجے میں کہا تو حوریہ نے جھٹ نفی میں سر ہلایا
“وہ تو آپ کے میاں نے بھیجا ہے بھئی—میں کیسے پہن سکتی ہوں—اور ویسے بھی اب تھوڑا ٹائم اور لگایا تو ماں جی نے جان سے مار دینا ہمیں”—حوریہ نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا تو سلویٰ نے بھی تائید کرتے اثبات میں سر ہلایا
وائٹ کلر کی پاؤں کو چھوتی فراک کے ساتھ نارنجی رنگ کا دوپٹہ لیے—گرے آنکھوں میں کاجل کی باریک لکیر کھینچ کر انہیں مزید دلکش بنایا گیا تھا—براؤن بالوں کو نیچے سے ہلکے کرل ڈال کر کمر پر کھلا چھوڑا ہوا تھا— لائٹ میک اپ کیے—وہ کسی کو بھی چاروں خانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی
“اب آپ دونوں یہ دوپٹہ اوڑھ لیں—اور چلے میرے ساتھ نیچے رسم شروع ہونے والی ہے—گرین کلر کا دوپٹہ گھونگھٹ کے انداز میں حوریہ کہ سر پر دیتے ہوئے کہا تو عقیدت نے آگے بڑھ کر خود پر اس دوپٹے کو اوڑھا
ابھی وہ تینوں باہر نکلتی کے بہرام شاہ دروازا کھول کر اندر داخل ہوا
————-
“تم یہ شادی اپنی رضامندی سے کر رہی ہو—مطلب تم ضرغام خان کے ساتھ دل سے رشتہ نبھانا چاہتی ہو یا تمہارے دماغ میں کچھ اور چل رہا ہے عقیدت”—سلویٰ اور حوریہ کو باہر بھیج کر اب وہ عقیدت کے سامنے بیٹھا سنجیدہ لہجے میں استفسار کر رہا تھا جس پر عقیدت نے آنکھیں گھمائی
“تمہیں لگتا ہے میں سردار ضرغام خان سے کھیل کھیلوں گی اور وہ سمجھ نہیں سکے گا— میں کیا کر رہی ہوں اور کیوں وہ سب جانتا ہے بہرام—تم اس کی فکر مت کرو—اگر اسے میرے فیصلے سے یا اس فیصلے کی پیچھے چھپی اصل وجہ سے کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ مجھے جان سے مار کر اس مسئلے کو ختم کر دیتا”— بہرام شاہ کی سیاہ گہری آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ سجا کر کہا تو بہرام شاہ نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی
“تمہیں لگتا ہے ہم بدلہ نہیں لے سکتے تھے— جو تم اس سب کا حصہ بن رہی ہو—اگر عورتوں کو ہی ڈھال بنانا ہوتا تو یہ کام ہم بہت پہلے کرسکتے تھے عقیدت – ضرغام خان پاگل ہے جو تمہیں اس کھیل کا حصہ بننے کی اجازت دے رہا ہے—تم دونوں کیسے اپنے اس رشتے کو اس دشمنی کا حصہ بنا سکتے ہو—
اگر میں اس شادی کے لیے رضا مند ہوا ہوں تو یہ میری بزدلی نہیں ہے عقیدت—میں بس بڑوں کی لڑائیوں سے آنے والی نسل کا مستقبل خراب نہیں کرنا چاہتا—آج اگر ہم اس دشمنی کو بلاوجہ بڑھاوا دے گے—
تو کل آنے والی نسل بھی بنا اصل وجہ جانے—بس خاندانی دشمنی کا نام دے کر اس دشمنی کو نبھاتی رہے گی—
شادی کرنے ہے تو اپنے لیے کرو— اپنے رشتے کو نبھانے کے لیے کرو—نا کہ اس دشمنی کی آڑ میں ایک دوسرے کا استعمال کرنے کے لیے”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے سرخ نظروں سے عقیدت کے لاپرواہ انداز کو دیکھا
“چلو سب باتیں ایک طرف—یہ دشمنی نبھا کر—یا اصل وجہ کے پورے ہونے کے بعد تم یا ضرغام تمہیں چھوڑ دے گا—جو منگ نا چھوڑے وہ بیوی کو کیسے چھوڑ دے گا عقیدت— یہ نا ہو کہ اسے ہراتے ہراتے—تم خود اس کے آگے اپنا دل نا ہار دو”— گہری سانس بھر کر عقیدت کے پاس چند قدم کے فاصلے پر کھڑے ہوتے ہوئے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت نے نظریں اٹھا کر
نیوی بلو شلوار قمیض پہنے—کندھوں پر سیاہ اجرک پھیلائے— چہرے پر سنجیدگی طاری کیے—نرم نظروں سے اپنی جانب دیکھتے بہرام شاہ کو دیکھا
تم نے کبھی یہ نہیں سنا بہرام کہ ” کبھی کبھی دور جانے کے لیے بہت پاس آنا ضروری ہوتا ہے—
میں اس کے قریب نہیں جاؤں گی تو دور بھی نہیں ہو سکو گی—جب ضرغام خان کے بہت قریب جانا ہی ہے—تا کہ ہمیشہ کے لیے اس سے بہت دور چلی جاؤں—تم سے جھوٹ نہیں بول سکتی—تمہارے سامنے جھوٹ بولا ہی نہیں جاتا—اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ضرغام خان کے سامنے جھوٹ بول رہی ہوں—میں جھوٹ بول لیتی ہوں اس کے سامنے—کیونکہ وہ سن لیتا ہے—اور جھوٹ کے پیچھے چھپے میرے سچ کو بھی مان لیتا ہے—تم سے جھوٹ بولو گی تو تمہیں جھوٹ کا اندازہ تو ہو جائے گا مگر تم کبھی میرے سچ کو جان نہیں سکو گے—
اور رہی دل ہارنے کی بات وہ تو میں کب کا ہار چکی—وہ جانتا ہے کہ عقیدت شاہ اس کے سامنے کئی سال پہلے ہار چکی ہے—میرا ہارنا قبول نہیں اسے اسی لیے یہ کھیل کھیلنے کی اجازت دے رہا ہے—
جب تک جیت کے اس کے برابر نہیں آجاتی وہ آگے نہیں بڑھے گا—
تم نے کیا کہا دشمنی کے لیے میں یہ سب نا کروں”— سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہتے آخر میں طنزیہ لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے خالی نظروں سے عقیدت کے چہرے کو دیکھا
“حضرت علی رضہ کا قول ہے کہ
ذلت اٹھانے سے بہتر ہے کہ تکلیف اٹھاؤ–
میں تکلیف اٹھا سکتی ہوں—ذلت کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی— تمہارا باپ مر گیا—میرے دو ماموں مر گئے—میرا باپ شہید ہو گیا—سب مر گئے—دشمنی کا آغاز کرنے والے سب چلے گئے – مگر میرے باپ کے ماتھے پر قاتل اور پیٹھ پر وار کرنے والا کی سیاہی لگا گئے—مجھے وہ سیاہی مٹانی ہے بہرام شاہ – چاہے اس سیاہی کو مٹاتے میرا نصیب ہی کیوں نا اس سیاہی سے بھر جائے”—بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر ہونٹوں میں دبا کر سلگاتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے سرد سانس بھرتے نفی میں سر ہلایا
“کچھ نہیں ہو سکتا تم لوگوں کا—سارے کے سارے پاگل خر کے بچے ہیں یہاں—دماغ گھمایا ہوا ہے میرا—
اب اپنے مزاجی خدا کو فون کر کہ پوچھ لو کہ خان حویلی میں مہندی کی ہونے والی رسم کو کیوں روک دیا ہے اس نے—آتش بازی کا سامان تو ٹرک بھر بھر کر ارمغان خان نے منگوایا تھا— مگر رائفل چلنے کی کیا پٹاکہ چلنے کی بھی آواز نہیں آئی—میں تو کانوں میں ڈالنے کے لیے کاٹن کے ڈبے بھر کر لایا تھا گاڑی میں پڑے ہیں بچارے—
یہ خان بیویاں آنے سے پہلے ہی سدھر گئے ہیں—یا کوئی اور کچھڑی پکا رہے ہیں—پوچھ کہ بتا دینا—پھر کھانے چلے گے”—عقیدت کے ہونٹوں سے سگریٹ نکال کر نیچے زمین پر پھینک کر اپنے پاؤں غ مسلتے ہوئے کہا تو عقیدت نے گھور کر بہرام شاہ کو دیکھا
جس پر بہرام نے ڈبل گھوری سے عقیدت کو گھورتے دوپٹے کا گھونگھٹ عقیدت کے چہرے پر کیا
“سسرال سے مہندی آنے والی تمہاری—اگر کسی کو پتہ چل گیا کہ دلہن سگریٹ پیتی ہے—تو تمہاری ساس کو تمہارے جانے سے پہلے ہی دل کا دوڑا پر جانا ہے”—نفی میں سر ہلاتے عقیدت کا ہاتھ پکڑتے قدم کمرے سے باہر کی جانب بڑھائے تو گھونگھٹ میں منہ بسور کر بہرام شاہ کی پشت کو دیکھا
————
جب سے سلویٰ کو پتہ چلا تھا کہ خان حویلی سے عقیدت اور حوریہ کے لیے مہندی لے کر ارمغان خان آیا ہے تب سے وہ بے چینی سے کچن میں چکر کاٹ رہی تھی
بری طرح اپنے لب کچلتے کچن کی کھڑی سے باہر لان میں جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی-
“سلویٰ بی بی وہ ثمرین بیگم کہہ رہی ہے وہ مہندی لگانے والی آگئی ہے—رسم ختم ہونے سے پہلے آپ مہندی لگوالیں پہلے— پھر حوریہ اور عقیدت بی بی کو لگوا دیجئے گا—ملازمہ کی آواز پر سلویٰ ہڑبڑا کر پلٹی
سخت نظروں سے ملازمہ کو گھور کر دیکھا
“پتہ ہے مجھے—تم یہ بتاؤ خان حویلی سے اور کون کون آیا ہے—ایک تو عقیدت لالی کا دیور ہے اور کوئی نہیں آیا کیا”—چہرے پر سنجیدگی طاری کیے—سرسری سے لہجے میں استفسار کیا جبکہ گرے آنکھیں کھڑکی پر ٹکی ارمغان خان کو تلاش رہی تھیں
“بی بی جی وہ ارمغان خان اور اس کی بہن آئی ہے امتثال”—ملازمہ نے ہاتھ جھلاتے ہوئے کہا
تو سلویٰ کے ماتھے پر بے شمار بل نمودار ہوئے
سخت نظروں سے ملازمہ کو گھورتی اس کے مقابل آکر کھڑی ہوئی
“ارمغان لالا سمجھ آئی—اب اس کا نام لیا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گی”— دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو ملازمہ ڈر کر بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی
سلویٰ کے چہرے کے خطرناک تاثرات دیکھتے سر جلدی سے اثبات میں ہلایا
“جاؤ اب یہاں سے باہر نظر بھی مت آنا مجھے”—سخت لہجے میں کہا تو ملازمہ سر ہلاتی چار سو بیس کی سپیڈ میں وہاں سے غائب ہوئی
“افففف—یہ خان تو بری طرح میرے حواسوں پر چھا رہا ہے”—گہری سانس بھرتے ہونٹ کا کونا دانتوں تلے دباتے سرگوشی کی
دو گلاسوں میں کولڈ ڈرنک ڈال کر ٹرے میں رکھی اور قدم باہر لان کی جانب بڑھائے
———
سلویٰ باہر لان میں آئی تو اسے ارمغان خان کہی بھی نا دیکھا
روشنیوں سے جگمگاتے لان میں نظروں کو دوڑاتے سلویٰ نے ٹرے ٹیبل پر رکھی
تبھی بے ساختہ نظر اپنے بائیں جانب اٹھی تو سلویٰ کا دل بے ساختہ دھڑکا
سفید کلر کا کرتا شلوار پہنے—کرتے پر بلیک کلر کی واسکٹ پہنے—چہرے پر سنجیدگی طاری کیے—وہ معمول سے ہٹ کر بے حد ہنڈسم لگ رہا تھا—ہلکی بڑھی بئیرڈ ارمغان خان کی وجاہت میں اضافہ کر رہی تھی
ارمغان خان کو موبائل پر کسی سے بات کرتے بیک سائیڈ کی طرف جاتے دیکھ سلویٰ نے اردگرد نگاہ دوڑائی مگر سب کو دلہنوں کی جانب متوجہ پا کر دبے پاؤں ارمغان خان کی جانب بڑھی
————–
“ابھی میں مصروف ہوں— لالا کی شادی ہو جائے تو پھر شہر لگاتا ہوں چکر—نہیں ابھی نہیں میں ویسے بھی آج کل مصروف ہوں—شہر نہیں آسکتا”— ارمغان خان کو موبائل پر کسی سے بات کرتے سن سلویٰ شاہ نے بری طرح پہلو بدلا
ابھی وہ پلٹ کر جاتی کہ ارمغان خان نے اپنی سخت گرفت میں سلویٰ شاہ کی کلائی کو جکڑ کر اسے پلر کے ساتھ پن کیا
حویلی کے ایک طرف مردان خانہ تھا جس کا دروازا دوسری جانب تھا— ارمغان خان مہندی کی چیزیں حلیمہ بیگم کے حوالے کرتا وہاں چلا گیا تھا
مگر وہاں شاہ خاندان کے لڑکے محفل لگائے بیٹھے تھے—کیونکہ انہیں عورتوں کی طرف آنے کی اجازت نہیں تھی
مگر ارمغان خان کو حلیمہ بیگم نے پیغام بھیج کر اس طرف بلا لیا تھا—ایک تو وہ عقیدت لوگوں کا کزن تھا اور دوسرا چھوٹا دیور تھا—عمر میں چاہے وہ بڑا تھا مگر رشتے میں وہ دونوں سے چھوٹا تھا—
اسی وجہ سے حلیمہ بیگم نے کہا کہ وہ بھی آکر رسم کر لے—رسم کے دوران مسلسل آتی اپنے دوست کی کال کو دیکھ ارمغان خان اس سے بات کرنے کی خاطر اس طرف چلا آیا تھا—مگر اپنی پشت پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کر کہ وہ سمجھ گیا تھا کہ کون بے خوفی سے ارمغان خان پر نظریں ٹکا سکتا ہے—
ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے نجانے کتنے ہی خاموش معنی خیز لمحے گزر گئے
“کیا کر رہی ہو یہاں—اگر کوئی تمہیں اس طرح کرتے دیکھ لیتا—انجام جانتی ہو تم اس بات کا”—دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو سلویٰ شاہ نے بے یقینی سے ارمغان خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا
جہاں تک اتنے دنوں میں وہ اس کے بارے میں جان چکی تھی—اس کے مطابق ارمغان خان کبھی کسی عورت سے سخت لہجے میں بات نہیں کرتا تھا—اب شاید سلویٰ کی غلطی ہو سکتی ہے مگر اس قدر شدید ردعمل
“میرا گھر میری مرضی ارمغان خان—اگر تمہیں میرے انجام سے زیادہ اپنے انجام کی فکر ہے تو بتاؤ—ورنہ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ سلویٰ شاہ پر انگلی اٹھا سکے”—ارمغان خان کی خون چھلکاتی آنکھوں میں اپنی گرے آنکھیں گاڑھتے مضبوط لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی
“میرا انجام جو ہونا تھا ہو گیا—تم اپنے انجام کی فکر کرو—اگر تم نہیں چاہتی کہ تمہارا انجام ٹوٹ کر بکھرنا ہو تو مجھ سے دور رہو سلویٰ شاہ— کوشش کرو کہ تمہاری یہ شکل مجھے آج کے بعد کبھی نا دکھے”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے سلویٰ کی کلائی تھام کر جھٹکا دیتے دوسری جانب کیا تو سلویٰ کو چھناکے سے اپنے اندر کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا
آنکھوں کے کونے بے ساختہ نم ہوئے جنہیں دیکھ ارمغان خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے
“میرے انجام کی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں خان— مجھے کوئی شوق نہیں تمہیں اپنی شکل دکھانے کا—مگر پھر بھی تمہیں کوئی مسئلہ ہے تو اپنی آنکھیں نکال لو—کیونکہ محبت اور حسرت سے دیکھنے والے مجھے بہت ہے—تمہاری آنکھوں کی ضرورت نہیں”—کندھے اچکا کر طنزیہ نظروں سے ارمغان خان کو دیکھتے ہوئے کہا
مگر سلویٰ شاہ کی اس بات پر ارمغان خان کو اپنا خون کھولتا محسوس ہوا
دو قدم کے فاصلے کو سمیٹ کر سلویٰ شاہ کے دونوں بازوؤں کو اپنی آہنی گرفت میں لے کر جھٹکا دیا—
“سلویٰ شاہ میرا تھوڑا سا بھی حق ہوتا نا تم پر—تو یقین مانو—میں عائث یا ضرغام خان نہیں ہوں— جو طنز میں یا نفرت یا ناراضگی سمجھ کر ان باتوں کو نظر انداز کر دو–میں ارمغان خان ہوں—لوگ مجھے سر پھرا خان کہتے ہیں—
یہ مزاق بھی ہوتا تب بھی تمہاری زبان کاٹ کر ہاتھ میں رکھ دیتا—خان ہوں میں—اور خان جان پر تو سمجھوتا کر سکتا ہے—مگر عزت اور غیرت پر نہیں کرتا—
صرف نام کی چھاپ نہیں چھوڑنے والا میں—دل و دماغ پر نقش ہونے والا خان ہوں میں—اور جہاں ارمغان خان ہوتا ہے وہاں کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا—
چاہے پھر وہ کسی کی زندگی ہو یا دل و دماغ کی سوچ کی دنیا”—دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے ایک ہی جھٹکے میں سلویٰ شاہ کو خود سے دور دھکیلا
“جاہل جنگلی انسان یہی بات تم آرام سے بھی کر سکتے تھے—بازو توڑ دیے میرے”—اپنے بازوؤں کو سہلاتے شکوہ کناں نظروں سے ارمغان خان کو دیکھتے ہوئے کہا تو ارمغان خان کو اپنے ردعمل پر ملال ہوا
“دل ٹوٹنے سے بہت بہتر ہے یہ”—سلویٰ شاہ کی گرے آنکھوں میں اپنی شہد رنگ آنکھیں گاڑھ کر سرگوشی سے بھی کم آواز میں کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ سلویٰ ساکت سی کھڑی ارمغان خان کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
————–
تم یہ شادی نہیں کروگے عائث—اگر تم نے یہ شادی کی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے”—- مبین بیگم کے چلا کر کہنے پر عائث خان نے خاموش نظروں سے ان کی جانب دیکھا
عائث خان ضد کر کہ مبین بیگم کو حویلی لے آیا تھا—مگر حویلی آکر کر جب سے انہیں شادی کی بات پتہ چلی تھی
تب سے انہوں نے واویلا مچایا ہوا تھا
“میں اس گھٹیا لڑکی کو کبھی اپنی بہو نہیں بناؤ گی—وہ کیا شاہ خاندان کی کسی بھی لڑکی کو تمہاری بیوی نہیں بننے دوں گی—اگر تمہیں شادی ہی کرنی ہے تو امتثال سے کر لو—یا تمہاری انڈسٹری میں تو اتنی لڑکیاں ہے ان سے کر لو—مگر اگر یہ سب تم اپنی غیرت کی وجہ سے کر رہے ہو کہ وہ تمہاری منگ ہے کسی اور کی بیوی نہیں بن سکتی تو یاد رکھو—تمہارے علاوہ کوئی اسے نہیں اپنانے والا— اگر یہ دشمنی کی وجہ سے کر رہے ہو تو یہ شادی کا کھڑاک ڈالنے کی کیا ضرورت—اپنے بندوں سے کہہ کر اٹھوا لو اور لے جاؤ فارم ہاؤس—اپنا دل بہلا کر پھینک”—ابھی مبین بیگم اپنی بات مکمل کرتی کہ عائث خان بھپرے ہوئے شیر کی طرح اپنی جگہ سے اٹھا
کمرے کے بیچوں بیچ پڑے گلاس ٹیبل کو ٹھوکر مار کر زمین بوس کیا تو کمرے میں زور دھماکے سے کانچ کے ٹکڑے دور دور تک پھیل گئے
“اوو جسٹ شیٹ اپ— ایک لفظ اور نہیں—اتنا کچھ کر لیا آپ لوگوں نے ابھی بھی دل نہیں بھرا—ضرغام لالا کی قسم نا ہوتی تو میں سب کو زندہ زمین میں گاڑھ دیتا—مگر اب اگر آپ نے ایک لفظ بھی اور کہا یا کچھ اور کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھیئے گا—میں سب کچھ ختم کردوں گا—حوریہ شاہ میری منگ اور کل سے میری بیوی بن جائے گی—
اس کے خلاف میں ایک لفظ نہیں سنو گا—امتثال میری بہنوں جیسی نہیں میری بہن ہی ہے—اب اگر آپ نے اس کے اور میرے بارے میں ایسا سوچا تو انجام کی زمہ دار آپ ہوگی—
حوریہ کو میرے علاؤہ کوئی اور اپنا بھی نہیں سکتا—وہ اپنی پہلی سانس سے آخری سانس تک میرے نام سے ہی منسوب رہے گی—وہ میری تھی اور تاحیات میری ہی رہنے والی ہے—
وہ میرے لیے دشمنی کا کوئی مہرہ یا دل بہلانے کا سامان نہیں— حوریہ شاہ عائث خان کی زندگی ہے—میرے اس پتھر دل کو دھڑکنیں دینی والی حوریہ شاہ ہے—میں آج جس مقام پر ہوں تو وجہ صرف اور صرف حوریہ شاہ ہے—
کوئی نہیں تھا میرا نا آپ نا بابا—سب اپنی زندگی میں مصروف تھے—بابا اور آپ دونوں میرے نہیں تھے— دونوں بٹے ہوئے تھے— وہ تھی تب میری—میری وحشتوں کی ساتھی–
جس کی مکمل زات عائث خان کی تھی—جو میری ملکیت تھی—
اس کے خلاف اگر کسی نے کچھ کہا یا کیا تو انجام موت سے بھی بدتر ہوگا— اسی لیے آپ سے پہلی اور آخری بار کہہ رہا ہوں—میری بیوی کوئی کسی سازش کا حصہ بنانے کی کوشش بھی مت کریے گا—
پہلے ہی ہم بھائی آپ دونوں عورتوں کی بے جا ضدوں اور سازشوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں—کہ مائیں ہے اولاد پر حق ہے ان کا—اس لیے افف تک نہیں کیا—مگر اب آپ دونوں نے کچھ کیا ضرغام کا تو نہیں میں یہ سب چھوڑ کر اپنی بیوی کو کہی دور لے جاؤں گا— یہ دولت یہ شہرت عزت مرتبہ خاندان سب آپ دونوں کو ہی مبارک “— کمرے کی ہر چیز کو زمین بوس کرتے غراتے ہوئے کہا تو مبین بیگم نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا
عائث خان اپنے دل کی بھڑاس نکال کر جب کمرے سے چلا گیا تو مبین بیگم نے ڈرتے ڈرتے اردگرد نگاہ دوڑائی
کمرے کی بکھری حالت دیکھ انہوں نے اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کیا
یہ تو عائث خان کا ردعمل تھا—اگر ارمغان خان جو اتنی خاموشی اختیار کیے ہوئے بیٹھا ہے اس کا لاوا پٹھا تو کیا ہوگا—یہ سوچ آتے ہی مبین بیگم نے جلد از جلد شہر لوٹنے کا پلین بنایا
وہ یہاں رہ کر ارمغان خان کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتی تھی—
اسی لیے ملازمہ کو
بلا کر کمرے کی حالت درست کروائی اور اپنا بیگ جلدی سے پیک کیا
——————
“فرصت مل گئی بیوی کا فون اٹھانے کی”—ضرغام خان کے کال ریسیو کرنے پر عقیدت نے دانت پیس کر کہا تو دوسری جانب اپنی چھت پر کھڑے ضرغام خان نے گہری سانس فضا کے سپرد کی
جبکہ نظریں روشنیوں میں نہائی شاہ حویلی پر مرکوز تھی—جو کافی فاصلے پر ہونے کے باوجود بھی اپنی آب و تاب روشنیوں سے جھلماتی یہاں تک نظر آرہی تھی
“فون کیوں کیا ہے—کل آ تو رہا ہوں تمہیں ہمیشہ کے لیے لینے”—نظریں حویلی سے ہٹا کر آسمان پر نظر آتے چاند پر ٹکائے مدھم لہجے میں جواب دیا تو عقیدت شاہ نے گھور کر موبائل فون کو دیکھا
“میں نے سنا ہے تم نے مہندی کی رسم سے منع کر دیا—سبھی انتظام ہونے کے باوجود بھی کوئی رسم نہیں ہوئی خان حویلی میں—اگر شادی انتقام کے لیے بھی کر رہے ہو—تو تمہارا بنتا ہے دھوم دھام سے شادی کرنا—مگر یہ رسمیں نا کر کہ تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو ضرغام”— عقیدت کے سنجیدہ لہجے کو سن ضرغام خان نے اپنے ماتھے کو سہلایا
“میرا میٹر پہلے ہی گھوما ہوا ہے—یہ بار بار انتقام اور دشمنی کی گردان کرنا بند کرو عقیدت—نہیں پسند مجھے یہ فضول کی رسمیں—جو ضروری تھا وہ میں کر رہا ہوں”—سرد لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو عقیدت شاہ کی مترنم ہنسی گونجی جسے سن ضرغام خان کو اپنے رگ و پے میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا
“یہ فضول ہے—اور وہ جو تم نے ایک ہی ڈیزائن کے سات رنگوں میں ڈریس بھیجے ہیں—وہ فضول خرچی نہیں ہے— اور پھر ہر کلر کے ساتھ میچنگ جیولری وغیرہ یہ تمہیں فضول خرچی نہیں لگی”—
“اپنی بیوی پر لٹانا فضول خرچی نہیں بلکہ یہ محبت کے اظہار اور اس کی پرواہ کرنے کو ظاہر کرتا ہے—یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے—یہ دولت میں نے قبر میں لے کر نہیں جانی—نا ہی میں نے پیٹ میں خزانہ جمع کرنے والی مشین فٹ کی ہے—
اب کماتا ہوں تو اپنی بیوی بچوں پر ہی خرچ کروں گا نا—اب میرا سر نا کھاؤ فون رکھو”— ضرغام خان کے جھنجھلا کر کہنے پر عقیدت نے اپنی مسکراہٹ بامشکل ضبط کی
“اچھا دماغ نہیں کھاتی— اور تمہارا سڑیل دماغ کھانے کا مجھے کوئی خاص شوق بھی نہیں–
“کل یہی بات ہمارے بیڈروم میں کرنا تب اس کا جواب دوں گا”— قدم سیڑھیوں سے نیچے کی جانب بڑھاتے ہوئے جواب دیا تو عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“ویسے ہو کہاں تم—میں ڈیرے پر آجاتی ہوں—وہاں بھی تو تمہارا روم ہے نا—وہاں آکر کہہ دیتی ہوں—کل تک انتظار”—ابھی عقیدت آہنی بات مکمل کرتی کہ فون سے ضرغام خان کی سرد آواز گونجی
“ٹانگیں توڑ دوں گا اگر تم حویلی سے باہر بھی نکلی—ڈیرے پر سارے خاندان کے مرد جمع ہے— اگر کسی کی نظر بھی تم پر پڑی تو اس کے ساتھ اپنے انجام کے لیے بھی تیار رہنا—
اور ابھی چپ چاپ سو جاؤ کیونکہ کل سے ویسے بھی اس حویلی میں دشمنوں میں آکر تمہاری نیندیں اڑنے والی ہیں”—سخت لہجے میں کہہ کر کھٹاک سے فون بند کیا تو عقیدت نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر موبائل کو پوری شدت سے دیوار میں مارا
“کھڑوس شخص—تمہارے میٹر کو تو میں آکر ہی سیٹ کروں گی”—دانت پیس کر کہتے ایک نظر موبائل کی ٹوٹی سکرین پر ڈال کر اپنے ہاتھوں میں لگی مہندی کو دیکھا
جو کہنیوں سے لے کر ہاتھوں تک بھر بھر کر لگائی گئی تھی
مہندی میں چھپے ضرغام خان کے نام کو دیکھ عقیدت نے گہری سانس بھرتے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے
———–
حوریہ نے ایک نظر اپنے ہاتھوں پر لگی عائث خان کے نام کی مہندی کو دیکھا
اور ایک نظر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو
“آج تمہاری غلطیوں میں ایک گناہ بھی شامل ہو گیا ہے حوریہ شاہ—عائث خان کا حق کسی اور کو دینے کا—میں کبھی معاف نہیں کروں گا تمہیں حوریہ شاہ—کبھی بھی معاف نہیں کروں گا—عائث خان تو اپنی ملکیت پر کسی کی نظر برداشت نا کرے—کجا کہ اس کے دل میں کسی اور کے لیے جذبات کا ہونا—میرا دل چاہ رہا ہے—اس وقت ساری دنیا کو تہس نہس کردوں—یا تمہیں ہی گولی سے اڑادوں—
سوچو حوریہ شاہ یہ تو صرف میرے نفرت کی انتہا ہے—محبت اور عشق تو بہت بعد کی باتیں ہیں—یہ نا ہو میں نفرت میں ہی وہ سب کر گزروں جو لوگ محبت میں بھی نہیں کرتے—
میں ساری حدوں کو توڑوں اس سے بہتر ہے تم میرے حصار کی حدود میں آجاؤ تا کہ یہ دونوں خاندان اور تم تباہ ہونے سے بچ جاؤ”
کانوں میں عائث خان کی سرد آواز گونجی تو حوریہ نے اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے گہری سانس بھری
“کیا عائث مجھے اپنی صفائی پیش کرنے کا ایک بھی موقع نہیں دے گا—اگر کبھی اسے پتہ چل گیا کہ وہ شخص—اففف وہ تو جان سے ہی مار دے گا—کیسے یقین دلاؤں گی اسے کہ ایسا کچھ بھی نہیں — مجھ سے غلطی ہوئی تھی— گناہ نہیں کیا میں نے—مگر عائث خان سمجھے گا تب نا—اس کی نظر میں تو یہ بھی کسی گناہ سے کم نہیں— ایک دنیا کی دوسری دلہنیں ہوتی ہے جو اس دن اپنی زندگی میں آنے والے سب سے خاص دن کے لیے سوچ کر لال پہلی ہو رہی ہوتی ہوں— ایک میں ہوں جو کل کا سوچ کر لال پہلی تو ہو رہی ہوں—مگر شرمانے کی وجہ سے نہیں عائث خان کے جلالی روپ کا تن تنہا مقابلہ کرنے کا سوچ کر”— ڈریسنگ ٹیبل پر چیزیں پٹک کر رکھتے بڑبڑا کر کہتے
کبرڈ سے آرام دہ سوٹ لے کر چینج کرنے چلی گئی
بستر پر لیٹتے نیند کی وادیوں میں کھونے تک سوچو کا محور عائث خان کی ذات تھی
