Rate this Novel
Episode 9
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط 9
شام میں گھر میں بہت گہما گہمی تھی۔۔۔۔۔جزا کو دیکھنے سجدہ بیگم کے بھائی کی فیملی آنے والی تھی۔۔۔۔۔
مختلف قسم کے پکوانوں کی خوشبو کچن میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
عرش بھی جلدی آگیا تھا آفس سے۔۔۔۔
جزا کی یونی سے واپس آنے پر فروا بیگم نے اس سے پوچھا۔۔۔
جس پر اس نے مشرقی لڑکیوں کی طرح خاموشی سے سر جھکا دیاتھا۔۔۔۔یہ تو وہی جانتی تھی کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی تھی۔۔۔۔
موقع کی مناسبت سے اس نے پیارا سا ایک لیمن کلر کے شیفون کا ہلکا کام والا سوٹ پہنا اور ہلکا پھلکا تیار ہو کر آیت کے ساتھ لاؤنج میں آگئی تھی جہاں گھر والوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔سجدہ بیگم کے بھائی بھابھی اپنے بیٹے کے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر سلام کیا تو وہاں موجود سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے ۔۔۔۔۔
مسز رحمان نے جزا کو اپنے پاس بٹھایا۔۔۔۔تو وہ بھی بے تاثر چہرے کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔
ان کے بلکل سامنے والے صوفے پر آدم اور عرش کے ساتھ ارمان اور رحمان صاحب بیٹھے تھے۔۔۔۔
اس نے جزا کو ایک نظر دیکھا اور اور آدم سے بات کرنے لگا۔۔۔۔۔
آیت بھی ان کے ساتھ وہیں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
آدم کی نظریں کب سے منت اور شفا کو ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ تھی کہ اس کے سامنے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔یہاں مہمان بھی اس کے بارے میں پوچھ چکے تھے۔۔۔
وہ اس گھر کی بڑی بہو تھی وہ چاہتا تھا اس کی بیوی کو ایک بڑی بہو کی حیثیت سے سب جانے۔۔۔۔۔
ارمان کے فون پر کال آنے پر وہ معزرت کرتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔
آدم بھی اپنی ماں سے کچھ کہہ کر اٹھا اور کمرے میں آگیا۔۔۔۔۔۔وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو وہ وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔۔
وہ غصے سے کھولتا دوبارہ نیچے آیا تو وہ فروا بیگم کے ساتھ منت کو اٹھائے بیٹھی تھی۔۔۔
یعنی وہ اس کے وہاں سے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ بھی نیچے آکر رحمان صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔اس کے بیٹھنے پر شفا نے چور نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔لیکن اسے اپنی باتوں میں مگن دیکھ کر وہ بھی آرام سے بیٹھ گئ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ڈنر کر کے مہمان جا چکے تھے۔۔۔انہیں جزا بہت پسند آئی تھی ۔۔۔
جزا بھی اٹھ کر اپنے روم میں آگئی ۔۔۔اور بستر پر ڈھے گئی۔۔۔۔آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے۔۔۔۔۔
کاش وہ بتا سکتی کسی اور کی نظریں خود پر اسے کسی تیزاب کی طرح محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
آدم بیٹا تمہیں کیسے لگے سب لوگ۔۔۔۔فروا بیگم اس سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔سب اچھے لگے مجھے امی لیکن ایک بار جزا سے پوچھ لیجیۓ گا پھر ہی بات آگے بڑھائیں گے ۔۔۔۔
میں نے بات کی تھی اس سے لیکن اسے کوئی مسلہ نہیں ہے فروا بیگم نے اسے بتایا۔۔۔
اچھا امی رات دس بجے تک نکلنا ہے مجھے ایک ہفتے کے لیے مجھے اسلام آباد جانا ہے پھر واپسی پر چلتے ہیں ہم ان کی طرف ۔۔۔۔اس نے شفا کو چائے لاتے ہوئے دیکھ کر کہا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے تم جانے سے پہلے کچھ دیر آرام کر لینا ۔۔۔ میں زرا نماز پڑھ لوں۔۔۔۔وہ آدم کو ہدایت دیتی اٹھ کر اندر چلی گئ۔۔۔۔
شفا بھی اسکے آگے چائے رکھ کر جانے لگی۔۔۔۔
بیٹھیں کچھ بات کرنی ہے آپ سے آدم کے پکارنے پر وہ اس کے سامنے والی چیئر پر سمٹ کر بیٹھ گئ۔۔۔
آپ کو یہاں کوئی پریشانی تو نہیں وہ چائے کا آپ لیتے شفا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔
نہ نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔
گڈ یہ آپ کا گھر ہے آپ جیسے چاہیں رہیں کوئی روک ٹوک نہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو آپ بے جھجھک مجھے کہہ سکتی ہیں ۔۔۔۔
آدم کی بھاری گھمبیر آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔۔ تو اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت باہر لان میں کھلے آسمان تلے کین کی چیئر پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔۔
دونوں کے بیچ خاموشی کا دورانیہ طویل ہونے لگا۔۔۔۔۔آدم چائے پیتے ہوئے کسی خیالی دنیا میں گم تھا تو شفا ناچاہ کر بھی بار بار اسے دیکھنے پر مجبور ۔۔۔۔
مزید ٹھنڈ بڑی تو شفا نے اپنے دونوں بازوں خود کے گرد لپیٹ لئے۔۔۔۔
آدم نے اس کی طرف دیکھا تو اپنی لا پرواہی کا احساس ہوا۔۔۔
اٹھیں روم میں چلتے ہیں یہاں بہت ٹھنڈ ہے آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی وہ اس کا ہاتھ پکڑتا اٹھا اور اندر بڑھ گیا۔۔۔۔۔
شفا کی نظریں آدم کے ہاتھ میں چھپے اپنے چھوٹے سے ہاتھ پر تھی ۔۔۔۔۔۔
نا جانے کیوں وہ اب خود کو بہت محفوظ سمجھنے لگی تھی اب ہر ڈر کہیں جا سویا تھا اگر کچھ تھا تو بس اتنا کہ
اسے اپنے بابا کے قاتل کو سزا دلانی ہے ۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر وہ الماری کی طرف بڑھ گیا اور اپنی ضرورت کا سامان پیک کرنے لگا ۔۔۔۔۔
شفا نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔۔۔۔آپ کہیں جا رہے ہیں ۔۔۔۔
ہاں میں ایک ہفتے کے لئے اسلام آباد جا رہا ہوں وہ اپنا بیگ رکھ کر اس کے پاس آیا۔۔۔۔۔
یہاں سب لوگ آپ کا بہت خیال رکھیں گے آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا اور منت کا بھی ۔۔۔۔
وہ جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا بنا کچھ کہے اپنا بیگ اٹھائے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر اس کے لمس میں کھوئی رہی اچانک بھاگ کر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی جہاں سے پورچ کا سارا ایریا نظر آتا تھا۔۔۔۔۔
ہونٹوں پر ایک دھیمی اور شرمیلی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
آدم سب سے ملتا باہر اپنی گاڑی کی طرف آیا ۔۔۔۔۔خود پر کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر اس نے گاڑی کی سائڈ مرر سے اپنے کمرے کی ونڈو کی طرف دیکھا تو
وہ گلابی دوپٹے کے ہالے میں وہاں کھڑی اسے ہی دیکھ رہی۔۔۔
آدم گاڑی میں بیٹھا اور زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
سر یہی ہیں وہ دونوں جو اس رات میڈم کا پیچھا کر رہے تھے۔۔۔۔۔
فرجاد دو لوگوں کو کالر سے پکڑے اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
اور بالاج شاہ سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا ان ہی لوگوں کو دیکھ رہا تھا جو شکل سے ہی آوارہ بدمعاش لگ رہے تھے۔۔۔۔۔
چھوڑو ہمیں جانتے نہیں ہو کون ہیں ہم۔۔۔۔۔اگر ہمارے بھائی کو پتہ چلا نا وہ زندہ گھاڑ دے گا تم دونوں کو اس لیے بھلائی اسی میں ہے چپ چاپ ہمیں چھوڑ دو۔۔۔۔
ان میں اسے ایک اپنی باتوں سے انہیں ڈرانے لگا۔۔۔۔
بالاج شاہ کے ایک اشارے پر فرجاد انہیں کھینچتا ہوا کمرے میں لے گیا اور ڈور باہر سے لاک کر دیا۔۔۔۔۔
اچانک ان کی چیخوں کی آواز سے پورا کمرہ گونجنے لگا ۔۔۔
ان کی چیخوں کے ساتھ ساتھ بالاج شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ رات گئے جب گھر آیا تو ہر طرف خاموشی تھی۔۔۔۔سر درد سے پھٹا جا رہا تھا کچن کی لائٹ جلتی دیکھ وہ فروا بیگم کا سوچتا کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اکثر وہی منت کی وجہ سے رات میں کچن میں پائی جاتی تھی۔۔۔
بڑی امی ایک کپ چائے بنا ۔۔۔۔۔وہ سر دباتا کچن میں داخل ہوا تو جزا کو سامنے دیکھ اس کے باقی الفاظ منہ میں ہیرہ گئے۔۔۔۔۔
جزا کی جب اس پر نظر پڑی تو ناگواری سے نظریں پھیر لیں ۔۔۔۔
اور اس کا یوں نظریں پھیرنا جلتی پر تیل کا کام کر گیا۔۔۔۔
وہ جارحانہ تیور لئے اس کی طرف بڑھا اور اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف موڑا ۔۔۔۔
تم سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں کیا کرنا چاہ رہی ہو تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی مہمانوں کے سامنے جانے کی۔۔۔۔
وہ اس وقت اتنا غصے میں تھا کہ بس سب تہس نہس کر دے۔۔۔۔۔
کیوں آپ کو کس بات کی تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔کہیں دل تو نہیں آگیا مجھ جیسی گھٹیا لڑکی پر۔۔۔۔۔
اس کے لفظوں سے زیادہ اس کے لہجے نے جو تکلیف سالار خانزادہ کو دی کاش وہ ظالم سمجھ پاتی۔۔۔
اسے لگا وہ مزید کچھ دیر وہاں کھڑا رہا تو اپنا ظبط کھو دے گا۔۔۔۔
آنکھیں لہو چھلکانے لگی تھیں ۔۔۔۔
وہ جس طرح سے آیا تھا اسی طرح سے کچن سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
وہ بھی جزا خانزادہ تھی اس نے سوچ لیا تھا اگر سالار خانزادہ کو تکلیف دینے ک کے لئے اسے ارمان سے شادی بھی کرنی پڑی تو وہ ضرور کرے گی ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
آدم اور سالار کو گئے ہوئے آج ہفتہ ہو گیا تھا ان دنوں شفا گھر والوں کے اور قریب ہو گئی تھی ۔۔۔۔منت تو اٹھتے بیٹھتے بس اسی کے پاس جانے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔اور شفا کا خود کا رویہ بھی منت کے ساتھ سگی ماؤں کی طرح ہی تھا۔۔۔۔
سب اس سے بہت خوش تھے ۔۔۔۔
اس پورے ہفتے آیت نے اپنی طبیعت کی وجہ سے ہسپٹل جانے کے بجائے اونلائن کلاسس لی تھی ۔۔۔۔
اس دن کے بعد عرش کی عقیدت سے ملاقات نہیں ہو سکی مگر اسے اس کے کام ہے حوالےسے انفارمیشن ملتی رہتی تھی۔۔۔وہ ایک بہت محنتی لڑکی تھی۔۔۔
سب سکون سے چل رہا تھا سب مطمئن تھے آنے والے طوفان سے بے خبر۔۔۔
.........
آیت بیگ اٹھاتی بھاگتی ہوئی نیچے آئی ۔۔۔۔
بھائی۔۔۔ عرش کو روم سے نکلتے دیکھ وہ جلدی سے اس کے پاس آئی۔۔۔۔
ہممم وہ موبائل میں مصروف سا اس کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ بھائی آج میری وین چلی گئ ہے پلیز مجھے ہسپٹل چھوڑ دیں ۔۔۔۔
آیت اسکے پیچھے پیچھے تھی۔۔۔۔عرش نے مڑ کر اسے گھور کر دیکھا۔۔۔
تمہارا روز کا ہے یہ جلدی کیوں نہیں اٹھتی تم۔۔۔۔عرش نے مصنوعی غصے سے کہا ۔۔۔
اچھا نا اب جلدی اٹھونگی پکا لیکن ابھی تو چھوڑ دیں میرا لیکچر مس ہو جائے گا۔۔۔۔
عرش کو بھی اس پر ترس آگیا اس لیے اسے چھوڑنے چلا گیا۔۔۔۔
وہ جیسے ہی اسپتال میں داخل ہوئی کسی سے بہت بری طرح ٹکرائی مگر اس کے گرنے سے پہلے ہی سامنے والا اسے سنبھال چکا تھا۔۔۔۔
آیت نے جب نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو اس کی آنکھیں خطرناک حد تک پھیل گئی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔.
