Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 24
Rate this Novel
Episode 24
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط_چوبیس
آیت جھٹکے سے اس کی گود سے اٹھی تھی۔۔۔مگر سامنے بھی بالاج شاہ تھا تھا جس اسپیڈ سےوہ اٹھی تھی اتنی ہی
تیزی سے بالاج نے اسے دوبارہ کھینچ کر خود پر گرایا اور اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے لیا۔۔۔۔۔۔۔
اس کی لمس میں سختی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے خودکو چھڑانے کی بہت کوشش کی جب اس کی مزاحمت کوئی کام نا آئی تو اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا ۔۔۔
وہ جو اپنا نا جانے کونسا غصہ اسپر اتار رہا تھا ۔۔۔۔۔اس کے ڈھیلے وجود کو محسوس کر کے دور ہٹا تو وہ اسی پر لہرا کر گر گئی۔۔۔۔۔
اتنی نزاکت میرے ساتھ تو نہیں چلے گی جتنا جلدی ہو سکے خود کو مظبوط کرلو ۔۔۔۔بہت جلد بالاج شاہ تمہارے وجود پر پوری طرح قبضہ کرلے گا۔۔۔۔
وہ اس کے کان کے پاس جھکا سرگوشی میں بولتا اس کےوجود کو اٹھاتا بیڈ پر لٹا گیا۔۔۔۔
جیب سے رومال نکالا اس سے آیت کے ہونٹ صاف کئے اور اس پر کمفرٹر ڈال کر رومال جیب میں ڈالا اور کھڑکی کے راستے نکل گیا۔۔۔۔۔
اس کے کمرے کی کھڑکی مینشن کے بیک سائیڈ پر کھلتی تھی جہاں ملازم کے کوارٹر بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔
یہاں کا ایک ملازم تھا جو ہمیشہ اس کی مدد کرتا تھا۔۔۔اس لئے آج تک کسی کو خبر نہیں ہو پائی ۔۔۔۔اس کے آنے کی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اگلے دن سجدہ بیگم فروا بیگم کے ساتھ جا کر عرش اور ایشا کی شادی کی تاریخ رکھ کر آگئے تھے۔۔۔۔
اگلے ہفتے سادگی سے ان کا نکاح ہونا تھا ۔۔۔۔وہ سب دھوم دھام سے کرنا چاہتے تھے مگر عرش کی شرط یہی تھی کہ شادی سادگی سے ہو۔۔۔۔
عقیدت دوبارہ سے آیت کے کمرے میں شفٹ ہو گئی تھی۔۔۔۔اور آیت خود بھی یہی چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ کوئی نا کوئی رہے۔۔۔۔
ہر کوئی ایک دوسرے سے نظریں چرائے پھر رہا تھا۔۔۔۔
آپ کو نہیں لگتا آپ اپنی دشمن خود ہیں۔۔۔۔جزا نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔
اسے بے انتہا غصہ تھا۔۔۔۔۔سب سے اس نے بات کی گھوم پھر کر سب کے پاس ایک ہی جواب تھا کہ سجدہ بیگم اور عرش کا فیصلہ ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔۔
تھک ہار کر وہ عقیدت کے پاس آئی تھی۔۔۔۔جو چہرے پر مسکراہٹ لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
مگر اس چہرے کے پیچھے چھپی تکلیف اسے اچھے سے نظر آرہی تھی ۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے تم غصے میں کیوں ہو ۔۔۔۔اس کا انداز پر سکون تھا۔۔۔۔
آپ کا شوہر دوسری شادی کر رہا ہے آپ ہیں کہ سکون سے بیٹھی ہیں ۔۔۔۔
دوسری شادی انکا حق اور خوشی ہے اور میں کون ہوتی ہوں ان کو روکنے والی۔۔۔۔اس نے اطمینان سے جواب دیا ۔۔۔۔
اگر میرا شوہر ایسا کچھ کرتا تو میں اس کو جان سے مارنا پسند کرتی مگر کسی اور کی جھولی میں نا ڈالتی۔۔۔۔
اس نے جنونی انداز میں کہا۔۔۔۔اس کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ باہر سے گزرتے سالار نے بخوبی سنی تھی ۔۔
ہونٹوں پر ایک بھولی مسکراہٹ آگئی تھی۔۔۔۔۔عرش جو اس کے پیچھے آرہا تھا اس کے رکنے پر وہ بھی رک کر اسے دیکھنا لگا۔۔۔۔
جو ہنستے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔۔۔
دونوں دیوار سے لگ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔۔
کیونکہ آپ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ میچ کرتے ہیں ایک ہی خاندان سے ہیں ۔۔۔۔۔آپ دونوں کی برابری ہے ۔۔۔
جبکہ میں کہیں سے بھی عرش کے ساتھ میچ نہیں کرتی ۔۔۔
وہ مایوسی سے بولی۔۔۔۔
ایسا آپ کو لگتا ہے ۔۔۔۔۔ورنہ آن کی آنکھوں میں آپ کے لیے محبت ہم سب نے دیکھی ہے ۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ وہ یہ شادی کیوں کر رہے مگر وہ محبت آپ سے کرتے ہیں آپ ان کو روکنے کی کوشش تو کرو کیا پتہ وہ مان جائے ۔۔۔۔۔
اور اگر نا مانیں تو دوسرا راستہ جو میں نے بتایا وہی اپنانا دونوں کو نکاح کے دن ساتھ ٹپکا دینا۔۔۔۔
اس سے دل کو سکون مل جائے گا آپ کو۔۔۔۔۔کیونکہ محبت میں شراکت کرنے والوں کی بس ایک ہی سزا ہے وہ ہے موت۔۔۔۔
وہ جس قدر اطمینان سے بولی تھی۔۔۔۔عقیدت کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں ۔۔۔۔۔
اپنی بہن کے ایسے نادر خیالات سن کر عرش کی تو آنکھیں ابل آئی تھی ۔۔۔
سالار سے اپنا قہقہ روکنا مشکل ہوگیا تو وہ اسے کھینچتے ہوئے اپنے کمرے میں لے آیا ۔۔۔۔۔
اس کے بعد جو اس کو ہنسی کا دورہ پڑا تو پھر رکنا مشکل ہوگیا۔۔۔۔
ان کی ہنسی کی آوازیں باہر تک جا رہی تھی۔۔۔۔
زیادہ مت ہنسو میری بیوی تو پھر بھی شریف ہے۔۔۔مگر تم اپنے فیوچر کا خود ہی سوچ لو۔۔۔۔۔۔۔۔
عرش نے چڑ کر کہا۔۔۔تو اس کا قہقہ پھر سے گونجا۔۔۔
فروا بیگم نے کمرے میں داخل ہو کر گھور کر دیکھا تو سالار کی ہنسی کو بریک لگی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
بھائی مجھے اسلام آباد جانا ہے کل شام کو پانچ دن کا اسٹے ہے ۔۔۔۔
سالار نے آدم کو انفارم کیا۔۔۔۔
میٹنگ کب ہے ۔۔۔آدم نے فائل چیک کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
ایک پرسو ہے اور ایک چار دن بعد۔۔۔۔
اوکے پھر جزا کو بھی ساتھ لے جاؤ۔۔۔۔گھوم پھر لینا دونوں ساتھ میں ۔۔۔۔اس نے فائنل پر نظریں جمائے کہا۔۔۔۔
مگر بھائی۔۔۔۔آدم کی بات پر اس نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔
کچھ نہیں سننا مجھے اسے اپنے ساتھ لے جانا کل ۔۔۔
آدم نے جیسے بات ختم کی وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گیا۔۔
ایک کپ چائے لے کر کمرے میں آؤ۔۔۔۔اس نے فون پر کہا اور انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی شفا چائے کا کپ لئے کمرے میں آئی۔۔۔۔
بیٹھو۔۔۔اس کے اشارے پر وہ پریشانی سے بیٹھ گئی۔۔۔کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ سالار کو اس کے کمرے سے نکلتے دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔
کہیں اس نے میری شکایت تو نہیں کردی وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی ۔۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔
کیسا ہے میرا بیٹا۔۔۔اس نے محبت سے پوچھا تو جزا کو تھوڑی تسلی ہوئی ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بھائی ۔۔۔
میں نے سنا ہے یونیورسٹی نہیں جا رہی تم۔۔۔اس نے چائے کا سپ لیتے پوچھا ۔۔۔۔
جی بھائی بس نیکسٹ منتھ سے ایگزیم ہیں تو اس لیے چھٹیاں ہیں ۔۔۔۔۔
اچھا مطلب فری ہو ان دنوں تم۔۔۔
جی بھائی میں بلکل فری ہوں آپ کو کوئی کام ہے تو بتائیں۔۔۔۔۔اس نے پرجوش انداز میں پوچھا۔۔۔۔
کل شام تک ریڈی ہو جانا پانچ دن کی پیکنگ کر لینا اسلام آباد جانا ہے ۔۔۔۔۔
سچی میں ابھی پیکنگ کر لیتی ہوں ۔۔۔۔اور کون کون جا رہا ہے ۔۔۔وہ خوشی سے بولی۔۔۔۔
صرف تم اور سالار۔۔۔۔آدم کے اطمینان سے جواب دینے پر اس نے حیرت سے دیکھا۔۔۔۔۔
کوئی پروبلم ہے ۔۔۔۔۔آدم نے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھے۔۔۔۔
جزا نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
وہ اپنے اندر کے مسائل سب کو بتانا بہتر نہیں سمجھتی تھی اب تو وہ جانے کی ہامی بھر چکی تھی اس لیے وہ دوبارہ منع کر کے آدم کے دل میں کوئی شک نہیں پیدا کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
ہممم گڈ ۔۔۔۔
وہ سر ہلاکر پریشانی سے اپنے کمرے میں آگئی جہاں سالار خانزادہ بالکنی میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔۔
مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا بھائی کو منع کر دیں۔۔۔۔وہ اسکے پیچھے آکر سنجیدگی سےبولی۔۔۔۔
سالار نے مڑ کر اسے دیکھا جو غصے سے لال پیلا ہو رہی تھی اس پر غضب جزا کے عقیدت کے سامنے کی گئی بات آج سالار خانزادہ کا دل الگ ہی لے پر دھڑک رہا تھا ۔۔
تم نہیں جانا چاہتی تم خود منع کردو۔۔۔۔سالارنے اس پر نظریں جمائے کہا۔۔۔۔۔
اگر آپ مجھے ساتھ لے کر گئے تو آپکا جینا حرام کر دوں گی۔۔۔۔
اسنے انگلی اٹھا کر وارن کیا۔۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔اسکا اطمینان بھرا لہجہ جزا کے تن بدن میں آگ لگاگیا وہ پاؤں پھٹکتی باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر چھا گئی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اگلے دن وہ دونوں بائے ائیر اسلام آباد پہنچے تھے۔۔۔ وہاں آدم کا ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا وہ اکثر آدم کے استعمال میں رہتا تھا۔۔۔۔
سفر کے دوران بھی دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔
فلیٹ بلکل صاف ستھرا تھا ۔۔۔۔
کل ہی آدم کسی کو بھیج کر صفائی کروا چکا تھا۔۔۔۔
جزا اپنا بیگ اٹھائے ایک کمرے میں گھس گئی۔۔۔۔جہاں ایک چھوٹا سا بیڈ تھا ایک ڈریسنگ ٹیبل اور ایک الماری۔۔۔۔کمرہ بلکل صاف ستھرا تھا۔۔۔۔
وہ اپنا بیگ سائیڈ پر رکھتی ایک سوٹ اٹھائے واشروم میں گھس گئی۔۔۔۔
آدم نے دوسرا کمرہ دیکھا جو بلکل خالی تھا جہاں سامان نام کی کوئی چیز نہ تھی۔۔۔۔
باہر ایک چھوٹا سا ٹی وی لاؤنج تھا جہاں دو سنگل صوفے رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ اس کے سامنے ہی اوپن کچن۔۔۔۔
وہ واش روم گیا اور جلدی سے تیار ہو کر فلیٹ سے نکل گیا ایک گھنٹے بعد اس کی میٹنگ تھی ۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ایک بڑی سی گاڑی آکر تھانے کے باہر رکی تھی جس میں سے ایک بلیک تھری پیس پر وائٹ شرٹ پہنے ایک آدمی عجلت میں باہر نکل کر آدم کے آفس میں گھس گیا۔۔۔
بنا اسے سمجھنے کا موقع دئے ایک زور دار مکا اس کے منہ پر مارا تھا۔۔۔۔
مکا اتنا زور دار تھا آدم نے اپنی ناک پکڑتا کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
اور حیرانی سے اس شخص کو دیکھنے لگا۔۔۔۔سامنے والا اسے خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔جیسے ابھی نگل جائے گا۔۔۔۔۔
اس نے دوسرا مکا بھی اتنے ہی زور سے مارا اسے اپنا جبڑا ٹوٹتا ہوا لگا۔۔۔۔
میری بات تو سن لو۔۔۔۔۔آدم خانزادہ نے آگے بڑھ کر سمجھانے
کی کوشش کی مگر سامنے والا ہتھے سے اکھڑ گیا ۔۔۔۔۔
جب تیرے ساتھ اتنا بڑا حادثہ پیش آیا تونے مجھے انفارم کیوں نہیں کیا۔۔۔۔اس نے آدم کو دور جھٹکا۔۔۔
یار میں تجھے پریشان کر کے تیرا ہنی مون خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔آدم نے صفائی دینی چاہی۔۔۔۔
تیرے سے بڑھ کر نہیں تھا مجھے ہنی مون۔۔۔اس نے چبا چبا کر کہا۔۔۔۔۔آدم نے مسکین سی شکل بنا کر زبردستی اسے گلے لگالیا۔۔۔۔
مجھے صبح کورٹ میں پتہ چلا سب۔۔۔۔۔تم سے میری کل بھی بات ہوئی مگر تم نے پھر بھی نہیں بتایا۔۔۔۔
وہ کسی روٹھی محبوبہ کی طرح شکایت کر رہا تھا۔۔۔
یار تجھے پریشان نہیں کرنا تھا۔۔۔۔
پورا منہ سوجھا دیا تونے میرا۔۔۔۔۔آدم نےاسے بٹھاتے ہوئے کیا۔۔۔۔
شہریار آفندی تھا وہ ایک کامیاب وکیل تھا اور اس کے بچپن کا دوست ۔۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔۔۔۔
ان دونوں کے بیچ بہت سارے اتار چڑھاؤ آئے مگر وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہیں ۔۔۔۔۔
کچھ مہینے پہلے ہی اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہنیمون پر گیا ہوا تھا۔۔۔۔۔
جب آدم اور شفا کا نکاح ہوا تھا تب وہ کسی کیس کے سلسلے میں ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔۔۔۔
مگر اس رشتے کے لیے آدم کو راضی کرنے والا وہی انسان تھا۔۔۔۔۔۔
گھر چل میرے ساتھ منت سے بھی مل لینا۔۔۔۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد آدم نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
نہیں پھر کبھی ۔۔۔۔اس نے بات ٹال دی پچھلے دو سالوں سے اس کا یہی جواب ہوتا تھا ۔۔۔۔
جو کچھ بھی ہوا اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں تھا شہریار۔۔۔۔
اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
پھر بھی کہیں نا کہیں اس کا تعلق مجھ سے ہے میں آنٹی سے نظریں نہیں ملا سکتا۔۔۔۔۔شہریار نے ندامت سے کہا ۔۔۔
اور دوبارہ ملنے کا کہہ کر نکل گیا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ رات کو آتے ہوئے کھانا پیک کروا کر آیا تھا۔۔۔۔جزا وہی بیٹھی موبائل یوزر کررہی تھی۔۔۔۔۔۔
بھوک اسے بھی بہت لگی تھی۔۔۔۔سالار نے کھانا رکھااور کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
جزا اٹھی اور کھانا نکال کر خود کھانے لگی۔۔۔۔۔کھانا اس کی پسند کا تھا چیز برگر ۔ چائینز رائس وتھ چکن جلفریزی ۔۔۔۔دیکھ اس کی بھوک کچھ زیادہ ہی چمک گئی تھی۔۔۔
اس نے خوب سیر ہو کر کھایا اور جب اپنا پیٹ بھر گیا تو جو آدھے سے زیادہ کھانا بچا ہوا تھا وہ اس نے ایک ہوٹ پوٹ میں رکھ کر چھپا دیا ۔۔۔
اور دوبارہ سے موبائل میں بزی ہوگئی
سالار جب کمرے سے باہر آیا تو وہ ویسے ہی بیٹھی تھی مگر کھانا غائب تھا۔۔۔۔۔
کھانا لگا دو یار بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔وہ دوسرے صوفے میں بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
کھانا نہیں ہے ۔۔۔۔اس نے مصروف انداز میں جواب دیا۔۔۔۔
کھانا لایا تو ہوں میں۔۔۔۔۔۔سالار نے اسے یاد دلایا۔۔۔۔چہرے ہر تھکاوٹ واضح تھی۔۔۔۔۔
مگر وہ کھانا تو میں کھا چکی۔۔۔۔جزا نے آنکھیں پٹپٹاتے معصومیت سے جواب دیا۔۔۔۔
سالار نے اس کو گھور کر دیکھا جیسے وہ اس وقت مزاق برداشت کرنے کے موڈ میں نا ہو۔۔۔۔
جزا نے اس کی گھوری کا کوئی خاطر خواہ اثر نا لیا۔۔۔۔
اور اپنے موبائل میں بزی رہی۔۔۔۔
ایک دم سالار کے کھینچنے پر وہ بری طرح اس کے چٹانی سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔
پہلے تو اسے سمجھ نہیں آیا اس کے ساتھ ہواکیا ہے مگر ہوش میں آتے ہی وہ بری طرح ہڑبڑا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
سالار نے اس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر اسکا چہرہ اوپر کیا اور جھک کر اس کے ہونٹوں کو قطرہ قطرہ پینے لگا۔۔۔۔
تشنگی اتنی تھی کہ وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اسے چھوڑنے کو تیار نا تھا ۔۔۔۔۔
نا جانے کیسا احساس تھا کہ وہ مزاحمت کرنا ترک کر گئی
اور آنکھیں میچے اسکی گردن کے گرد بازو لپیٹ کر خود کو اس کے حوالے کر گئی۔۔۔۔۔
اس کی خود سپردگی دیکھ وہ مزید مدہوش ہونے لگا اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا ہو اس کے گردن پر اپنی محبت رقم کرنے لگا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
