Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 48
Rate this Novel
Episode 48
وہ جھک کر ہلکے سے اس کے ماتھے کو چھو کر دور ہوا ۔۔۔۔
جزا جو بس آنکھیں موندے لیٹی تھی ۔۔۔۔اس کے لمس پر جھٹکے سے آنکھیں کھولی۔۔۔اپنے بہت پاس سالار کو دیکھ کر اس کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔۔۔۔۔
آنکھیں تیزی سے نم ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔
اس کو جاگتے دیکھ سالار اپنی نظریں چرا گیا۔۔۔۔۔کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔۔کیوں اپنی جان داؤ پر لگا گئی ۔۔۔۔ہمیشہ تمہیں تکلیف دی ہے ہے مر جانے دیا ہوتا مجھے۔۔۔۔۔۔
سالار اس کے ہاتھ پر اپنا سر رکھے نم لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
اس کے لفظوں نے جزا کو بہت تکلیف دی تھی اس نے ۔۔۔۔۔ایک ہچکی لی تھی ۔۔۔۔۔
سالار نے اپنی گردن اٹھا کر پریشانی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہو تم ۔۔۔اس نے جزا کا چہرہ تھام کر فکر مندی سے پوچھا۔۔۔۔۔
جزا کو اس کا وہی آخری جملہ یاد آیا۔۔۔۔۔۔ میں تم سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
ازیت سے آنکھیں میچ کر وہ اپنا چہرہ موڑ گئی۔۔۔۔
جزا بتاؤ کیا ہوا ہے درد ہو رہا ہے کیا۔۔۔۔۔اس نے جزا کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر سیدھا کیا۔۔۔۔۔
چلیں جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔۔اس سے سالار کا یہ روپ برداشت نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔
معاف کردو مجھے۔۔۔۔میں نے ہمیشہ تمہیں تکلیف دی ہے۔۔۔۔سالار شرمندگی اور ندامت سے چھور لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
ترس کھانے کی ضرورت نہیں مجھ پر جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔جزا اب اپنی جلتی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی سنجیدگی سے بولی۔۔۔۔۔۔۔اس کی آواز اب اونچی ہو رہی تھی جبکہ سالار بہت دھیمی آواز میں اس سے بات کررہا تھا۔۔۔۔
میری جان ایسا مت بولو ۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں میں نے تمہارے۔۔۔۔
میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ابھی کی ابھی یہاں سے نکل جائیں ۔۔۔۔۔۔جزا سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی غصے سے چیخ پڑی تھی۔۔۔۔۔۔جبکی اچانک پیٹ پر درد کی ایک شدید لہر دوڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جس کا اندازہ اس کے ظبط سے سرخ پڑتے چہرے سے بخوبی ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی آواز سن کر فریحہ بھی اٹھ چکی تھی اور باہر بٹھا عرش بھی اندر آچکا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ سالار تکلیف سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
سالار تم کب آئے اور جزا کیوں غصہ کررہی ہے۔۔۔۔۔فری پریشانی سے سالار سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔جو کسی پر نظر ڈالے بغیر وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔آپ اپی۔۔۔درد۔۔۔درد ۔۔۔۔وہ ظبط سے لڑکھڑاتے لہجے میں بولی تو عرش اور فری جزا کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر وہ دونوں ہی پریشان ہوگئےتھے۔۔۔۔۔۔
عرش ڈاکٹر کو بلانے باہر بھاگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ فری اس کے زخم کو دیکھنے لگی جس میں لگی پٹی تیزی سے لال ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓
مگر میں نے کیا کیا ہے۔۔۔۔اس نے سرخ آنکھوں سے ظبط سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
تم نے میرا بھروسہ توڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بالاج کے لہجے میں مان ٹوٹنے کا درد تھا۔۔۔۔۔۔
مگر بھائی میں نے آج تک ایسا کچھ نہیں کیا میرا یقین کریں ۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں بتاتا ہوں تم نے کیا کیا ہے بالاج شاہ اسے کھینچ کر اپنے ساتھ نیچے کمرے میں لے آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور کبرڈ میں سے پکچر اور ڈائری نکال کر اس کے سامنے پھینکا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ اور اماں جان بالاج کو اس قدر غصے میں نیچے آتے دیکھ کر ان کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔
پکچر پر نظر پڑتے ہی فرجاد ساکت ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ تصویر اس کی ماں اور باپ کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس تصویر میں موجود اس کے باپ کی جگہ کوئی اور نہیں بلکہ شہزاد شاہ کی تصویر تھی یعنی بالاج کا باپ۔۔۔۔۔۔
فرجاد کو لگا اس کی پوری دنیا ختم ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔جس حقیقت کو وہ پچھلے تین سالوں سے چھپا رہا تھا وہ اس طرح کھل جائے گا اسے پتہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
ہانیہ اور اماں جان کی نظر بھی اس تصویر پر پڑ چکی تھی۔۔۔۔۔بھلے اس تصویر میں شہزاد شاہ بہت جوان نظر آرہا تھا مگر اپنے بیٹے کی تصویر وہ کیسے نہیں پہچانتی۔۔۔۔۔جس میں وہ کسی انگریز عورت کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اماں جان کا ہاتھ دل پر گیا تھا۔۔۔۔۔۔جبکہ ہانیہ نا سمجھی سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی جو سر جھکائے ظبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا ۔۔۔۔۔
کوئی جواب ہے تمہارے پاس اس بات کا جواب دو مجھے ۔۔۔۔۔بالاج نے فرجاد کا گریبان پکڑ کے جھنجھوڑا تھا ۔۔۔۔
فرجاد میں بولنے کی ہمت نہیں تھی کیا وضاحت دیتا آخر ۔۔۔
فرجاد بیٹا یہ عورت کون ہے۔۔۔۔۔۔اماں جان نے بے چینی سے پوچھا ۔۔۔۔۔
یہ عورت اس کی ماں ہےجس سے میرے باپ نے چھپ کے شادی کی تھی ۔۔۔۔اور بعد میں ان کو چھوڑ کر پاکستان آگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔یہ جو آپ کے سامنے کھڑا ہے آپ کے بیٹے کا خون ہے ۔۔۔۔
بالاج نے چبھتے لہجے میں بول کر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔۔۔۔
کیا کہہ رہے ہو تم۔۔۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں میں ۔۔۔۔۔اور اس نے ایک بار بھی مجھے اس بارے میں نہیں بتایا ۔۔۔۔۔۔کیوں آخر کیوں۔۔۔۔۔۔
بالاج نے غصے سے ڈریسنگ پر موجود تمام شیشیوں کو زمین بوس کیا تھا۔۔۔۔۔
میں آپ کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔فرجاد کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ وہاں موجود تینوں نفوس نے بمشکل سنی۔۔۔۔۔
مجھے اگر پتہ چلتا تم میرے بھائی ہو تو کیا میں تمہیں چھوڑ دیتا۔۔۔۔۔۔وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر غصے سے بولا۔۔۔۔۔
مجھے لگا آپ یہ سب برداشت نہیں کر پائیں گے۔۔۔۔۔اور جب وہ شخص ہی اس دنیا میں نہیں تھا تو میں اس بات کو وہی دفنا گیا۔۔۔۔۔
میں پاکستان آپ کے ساتھ آیا تھا اپنے باپ کی تلاش میں مگر جیسے ہی میں یہاں پہنچا میں نے ان کی تصویر اس گھر میں دیکھی مجھے اس دن پہلی بار پتہ چلا کہ جس شخص کو میں اتنے سالوں سے تلاش کررہا تھا وہ کوئی اور نہیں آپ کے ڈیڈ تھے ۔۔۔۔۔۔
میں نے آپ کو بتانا چاہا مگر پھر رک گیا۔۔۔۔۔کیونکہ میں ان کی وجہ سے ہمارے اس خوبصورت رشتے کو خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔اور نا ہی میں آپ کے دل میں ان کے لئے کوئی برا خیال لانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔کیونکہ ان کی موت کے ساتھ ہی میری تمام شکایتیں دور ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور میں ڈرتا تھا اگر آپ کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ ہرٹ ہونگے اور مجھ سے نفرت کرنا شروع کر دیں گے۔۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ میں نے یہ بات آپ سے چھپائی۔۔۔۔۔
فرجاد نم لہجے میں بولتا چہرہ جھکا گیا تھا۔۔۔۔
میں نے تمہیں ہمیشہ اپنا بھائی سمجھا تھا۔۔۔۔۔۔فرجاد ۔۔۔۔مجھے دکھ آج بھی اس بات کا ہے تم نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ایک بار تو کہا ہوتا۔۔۔۔کہ میں بھی شہزاد شاہ کا بیٹا ہوں۔۔۔۔۔اپ۔کا بھائی ہوں ۔۔۔۔
تو خدا کی قسم میں تم سے کبھی ناراض نا ہوتا نا نفرت کرتا۔۔۔۔
بالاج نے اس کا جھکا سر اٹھایا تھا۔۔۔۔۔اور اسے تھام کر سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔اس نے دیکھا تھا اسے ایک نوالے کے لئے ترستے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ایک ہی باپ کا خون ہونے کے باوجود بالاج شاہ نے ایک شاہانہ انداز میں زندگی گزاری تھی ۔۔۔۔
جبکہ فرجاد نے ایک وقت کے کھانے کے لئے بھی اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے روٹی کمائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور پچھلے دو سال سے بھی وہ اس گھر میں رہنے کے باوجود ایک ملازم کی طرح تنخواہ لے کر اپنی اور اپنی بیوی ہر ضرورت خود پوری کرتا تھا۔۔۔۔بالاج کے کہنے پر بھی کبھی اپنی محنت سے زیادہ کچھ نہیں لیا۔۔۔۔۔
کبھی یہ نہیں جتایا کہ جس دولت پر بالاج شاہ راج کررہا تھا۔۔۔۔اس میں برابر کا حق دار وہ خود بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔
فرجاد کسی بچے کی طرح اس کے سینے میں سما گیا تھا۔۔۔۔۔اماں جان کی آنکھیں بھی نم تھیں ۔۔۔۔وہ نہیں جانتی تھی ان کے بیٹے نے اتنی بڑی غلطی کیوں کی مگر جو بھی تھا فرجاد کے اپنے خون ہونے کا پتہ چل کر وہ دکھی نہیں ہوئی تھی بلکہ دل اس بات پر خوش ہوا تھا کہ فرجاد ان کے گھر کا ہی بچہ ہے۔۔۔انکا خون۔۔۔۔
جبکہ ہانیہ ابھی تک گہرے شاکڈ میں تھی۔۔۔۔
آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں ۔۔۔۔فرجاد نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔کیونکہ بالاج کا رویہ اس کی سوچ کے برعکس تھا۔۔۔۔۔
نہیں تم پہلے بھی میرے بھائی تھے اور آج بھی میرے بھائی ہو بس مجھے دکھ اس بات کا تھا کہ تم اتنے سالوں سے یہ سچ مجھ سے چھپاتے رہے۔۔۔۔۔
اور رہی بات ڈیڈ نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔تو اس کا جواب اس ڈائیری میں ہے۔۔۔تمہیں ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔۔۔۔۔
بالاج نے فرش سے ڈائری اٹھا کر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔۔۔۔۔۔
اماں جان آگے سے فرجاد کی طرف بڑھی اور اس کو اپنے بوڑھے بازوؤں میں بھینچ لیا۔۔۔۔۔
میرے بیٹے کو معاف کر دینا اس نے نادانی میں غلطی کردی ہوگی۔۔۔۔۔لیکن تم اسے معاف کر دینا۔۔۔۔اماں جان اپنے بیٹے کے لئے پوتے کا دل صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
اس نے خاموشی سے جھک کر اماں جان کے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔۔۔۔
اسے پہلے بھی اماں جان بالاج کی طرح ہی محبت کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
لیکن آج احساس الگ تھا۔۔۔۔۔۔
بالاج شاہ ان کا میل ملاپ دیکھ کر موبائل چیک کرتا نکل گیا تھا کیونہ آج وہ کسی کو اچھا سبق سکھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے دو دن سے وہ جس آگ میں جل رہا تھا اس کو بھی اسی آگ میں جلا کر راکھ کر دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓
رات کا دوسرا پہر تھا جب وہ اپنے خفیہ راستے سے آیت کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔۔کمرہ اندھیرے میں پوری طرح ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔
مگر بیڈ خالی دیکھ کر بالاج شاہ کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔۔اس نے ایک نظر واش روم کی جلتی لائٹ کو دیکھ گہری سانس خارج کی اور صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واش روم سے شاور کی آواز باہر تک آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی ٹھنڈ میں وہ شاور لے رہی تھی سوچ کر ہی ۔بالاج کی آنکھیں سرد ہو گئیں تھی۔۔۔۔۔۔آیت کی یہ عادت اسے بہت بری لگتی تھی۔۔۔۔۔اور اسی وجہ سے اس کو اکثر بخار چڑھ جاتا تھا۔۔۔۔
دس منٹ بعد وہ ٹی شرٹ ٹراؤزر میں بالوں کو ٹاول سے رگڑتے باہر آئی ۔۔۔۔۔۔۔
اور ایک دم ٹھٹھک کر رکی۔۔۔۔۔اسے بالاج شاہ کی کلون کی خوشبو اپنے نتھنوں سے ٹکراتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔ایک دم جیسے ہی مڑ کر دیکھا اسے بلیک پینٹ کے ساتھ بلیک ٹی شرٹ پہنے جس میں سے اس کے کسرتی بازو واضح نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا۔۔۔۔۔سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔
بالاج جو اسی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔اس کو بگے سراپے میں باہر آتا دیکھ مبہوت رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔ریڈ کلر کے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں اس کا دودھیا رنگ اندھیرے میں بھی دھمک رہا تھا اوپر سے اس کا نازک سراپا۔۔۔۔۔بالاج کی نظریں بہت بے تابی سے اس کا طواف کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
بالاج شاہ پر نظر پڑتے ہی آیت کی سانسیں سینے میں اٹک گئیں تھیں ۔۔۔۔وہ جانتی تھی گھر میں کوئی مرد نہیں سوائے گارڈز کے۔۔۔۔تو اس کے چیخنے پر بھی کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں آسکتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور جو کچھ اس نے کیا اس کے بعد آیت اس سے کسی قسم کا کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تھی اس لئے وہ اچانک دروازے کی طرف بھاگی نگر اس سے پہلے وہ دروازے تک پہنچتی خود کو ہوا میں معلق دیکھ اس نے اپنی سانسیں روک لی تھی۔۔۔۔۔۔
بالاج جو اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو بہت اچھے سے دیکھ رہا تھا اس کی چالاکی سمجھ کر ہونٹوں پر ایک محفوظ کن مسکراہٹ بکھر کر معدوم ہوئی تھی اور اس کو دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
چھوڑو مجھے میں جان لے لوں گی آپ کی ۔۔۔۔۔وہ اس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچے غرائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
بالاج شاہ نےاسے بیڈ پر پھٹکا تھا اور خود اسپر جھک گیا۔۔۔۔۔
اس کی سرد نگاہوں سے آیت کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔۔۔۔وہ جو بہادری سے اسے تھپڑ لگا گئی تھی اپنے بھائیوں کے سامنے ۔۔۔۔
اکیلے میں اس کے اتنے قریب آنے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔۔۔۔
آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔بالاج اس کے چہرے پر اپنی گرم سانسیں چھوڑتا ۔۔۔انتہائ سرد لہجے میں بولتا۔۔۔۔۔اس کی دھڑکنوں میں طلاطم برپا کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
بالاج شاہ نے اس کی مسلسل خاموشی پر اس کا چہرہ غصے سے دبوچا تھا۔۔۔۔۔
آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔۔اس بار اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ آیت بے ساختہ اپنی آنکھیں وا کر گئی۔۔۔۔
وہ نیلی آنکھیں جب بالاج کی پر اسرار آنکھوں سے ٹکرائی تو اس کی انکھیوں میں چھپی سفاکیت سے آیت کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔
لگتا ہے میری بیوی کو میری قربت انتہائی ناگوار گزر رہی ہے۔۔۔۔۔۔بالاج اس کے گال پر اپنی سرد انگلیوں کا دباؤ بڑھاتے ہوئے ناگواری سے بولا۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے آپ ایک قاتل ہیں ۔گھن آرہی ہے مجھےآپ کے لمس سے۔۔۔۔۔۔وہ اس کا لمس اپنی کمر پر محسوس کرتی غصے سے چیخ پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کے بات پر بالاج شاہ کو اپنے جسم پر شرارے سے پھوٹتے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔وہ جارخانہ انداز میں اس کی گردن پر جھکا اور وہاں بے دردی سے اپنے دانتوں سےنشان چھوڑنے لگا۔۔۔۔
اس کے دانتوں کی چھبن اپنی گردن پر اس قدر بے دردی سے محسوس کر کے آیت کی درد کے مارے سسکی نکلی تھی۔۔۔۔۔اور آنسو آنکھوں سے نکل کر بالوں میں جزب ہونے لگے۔۔۔۔۔
اس نے اپنے ہاتھوں کا دباؤ با لاج شاہ کے سینے پر ڈالا اور اسے دور کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی مزاحمت پر بالاج نے اس کے دونوں ہاتھ اپنی مظبوط گرفت میں لے کر تکیے کے پاس لگا دیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایک ہاتھ سے اس کی شرٹ کمر سے اوپر کرنے لگا ۔۔۔۔
پلیز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ آیت کی گردن کو چھوڑتا اس کے نچھلے ہونٹ پر جھک کر اس پر اپنی دانتوں سے ظلم ڈھانے لگا۔۔۔۔۔
آیت کو لگا وہ مر جائے گی گی۔۔۔۔یہ وہ بالاج نہیں تھا جو ہمیشہ اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتا تھا جو اس سے محبت کا دعویدار تھا۔۔۔۔۔۔
یہ کوئی اور بالاج ہی تھا جو اس سے الزام لگانے کا انتقام لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جس کے لمس میں نرمی زرا بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔وہ بس ا س وقت اسے سالار کی بہن کی حیثیت سے چھو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے پاؤں کو حرکت دینے کی کوشش کی جو بالاج کی ٹانگوں کے گرفت میں تھیں ۔۔۔۔۔۔
وہ بے بسی سے رونے لگی ۔۔۔۔۔مگر بالاج کو اس کے آنسؤں سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔
آیت کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا ۔۔۔۔۔
تکلیف ہو رہی میری جان کو۔۔۔۔۔بالاج اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا اس کو دیکھ کر گھمبیر لہجے میں بولا تو ۔۔۔۔۔ایت نے نفرت سے اپنا چہرہ موڑ لیا۔۔۔۔۔
اس کا چہرہ موڑنا بھلا بالاج شاہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔۔۔۔اس کے چہرے پر کرختگی چاہ گئی۔۔۔۔۔۔
وہ زرا سا نیچھے جھک کر اس کے پیٹ سے شرٹ ہٹا کر وہاں بری طرح اپنے دانت گاڑ گیا۔۔۔۔۔۔
آیت کی چیخ بلند ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے ستم پر وہ ایک دم اس کو ہٹانے کے لئے اٹھنے لگی۔۔۔۔۔
مگر بالاج شاہ نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھ کر اسے واپس لٹا دیا تھا۔۔۔۔۔
ناجانے وہ مزید کیا کچھ کر جاتا۔۔۔۔۔۔
کہ اچانک بجتے فون پر سخت بدمزہ ہوا۔۔۔۔۔۔اور اس کے پیٹ کو آزادی بخشتا اٹھ کر اپنی جیب سے فون نکال کر دیکھنے لگا جہاں ۔۔۔۔فرجاد کا نام جگمگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
دل میں ایک موٹی سی گالی دی اور اور فون اٹھا کر کان سے لگایا ۔۔۔۔۔۔
ناجانے وہاں سے کیا کہا گیا۔۔۔۔
اوکے آتا ہوں۔۔۔۔وہ کہہ کر فون بند کر کے جیب میں رکھ کر آیت کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔جو خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دشمنی اور محبت میں سامنے سے وار کرنے کی ہمت رکھتا ہوں۔۔۔۔پیٹھ پیچھے وار کرنا اور بھروسہ توڑنا خانزادوں کا پسندیدہ مشغلہ ہو سکتا یے۔۔۔۔بالج شاہ کی عادت نہیں ۔۔۔۔۔
بالاج شاہ اپنے دشمنوں کو مار کر قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔
بہت جلد میں اپنی بہن کے قاتل کو ایسی سزا دوں گا اسے قبر بھی نصیب نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔اور مجھے ایسا کرنے سے کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالاج شاہ اس پر جھکے سرد گھمبیر لہجے میں چبا چبا کر بولتا بیت کچھ جتا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنی بات مکمل کرتے وہ وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی آیت اپنے بکھرے حلیے کی پرواہ کئے بنا کمرے سے بھاگی تھی۔۔۔۔
بالاج شاہ جیسا انسان صرف دھمکی نہیں دیتا تھا بلکہ جو کہتا تھا وہ کر کے دکھاتا تھا وہ اپنے بھائی کو کیسے مرتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔۔
سالار جو اسی وقت گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ایت کو اندھا دھند اس کے کمرے کی طرف آتے دیکھ کر حیران ہوا تھا اور جلدی سے اسے تھاما تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی حالت دیکھ کر وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ آیت میرا بچہ ٹھیک ہو تم کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ایت اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے فکر مندی سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
بھائی آپ چلے جاؤ۔۔۔۔یہاں سے دور۔۔۔۔۔اپ یہاں نہیں آنا۔۔۔۔۔۔وہ آپ کو مار۔۔۔۔دے گا۔۔۔۔چلے جاؤ۔۔۔۔۔۔وہ ہزیانی انداز میں بس سالار کو منانے کی کوشش کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس کی حالت اس وقت قابل رحم لگ رہی تھی ۔۔۔۔اس کی باتیں اور ہونٹ اور گردن پر دانتوں کے نشان سے سکی باتیں اچھے سے سمجھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنی بہن کی حالت دیکھ کر سالار کا چہرہ خطرناک حد تک لال ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً اپنی نظریں چرا گیا۔۔۔۔۔۔
بھائی پلیز آپ چلے جاؤ وہ بیت سفاک ہے۔۔۔۔وہ قاتل ہے۔۔۔۔۔ایت ا ڈرا ہوا روپ دیکھ کر اس نے کھینچ کر اپنی بہن کو سینے میں بھینچ لیا تھا ۔۔۔۔
کوئی کچھ نہیں کرے گا ریلکس بس ہم ہیں نا تمہارے ساتھ ڈرنے کی بلکل ضرورت نہیں۔۔۔۔
اس کو تو میں بتاؤں گا اس کی ہمت کیسے ہوئی تمہارے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی۔۔۔۔جان لے لوں گا میں اس کی۔۔۔۔۔۔
سالار نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پہلی بات نرمی اور دوسری بات سرد لہجے میں کہی تھی۔۔۔۔۔
آیت نے تڑپ کر سالار کو دیکھا۔۔۔۔۔۔نہیں بھائی پلیز۔۔۔۔۔
وہ اسے مارنے کی بات پر ہی تڑپ گئی تھی۔۔۔۔۔سالار نے بے بسی سے اپنی بہن کو دیکھا جو نا بھائی کو تکلیف میں دیکھ سکتی تھی نا شوہر کو۔۔۔۔۔۔
اوکے تم ریلکس ہو جاؤ۔۔۔۔۔سالار اسے ساتھ لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
جزا کے چیخنے کی وجہ سے اس کے ٹانکے کھل گئے تھے۔۔۔۔جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔۔۔مگر بروقت ڈاکٹر کے علاج سے وہ اب بہتر محسوس کررہی تھی۔۔۔۔۔۔مگر دوائیوں کے زیر اثر ابھی تک گنودگی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
شہریار صبح ہی لاہور سے لوٹا تھا لیکن جیسے ہی اسے خبر ملی وہ اسپتال چلا آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اب کیسی ہے جزا۔۔۔۔۔۔اور تم نے مجھے ایک کال تو کی ہوتی حد ہے۔۔۔۔وہ آدم سے ملتے ہوئے ناراضگی جتانا نہیں بھولا۔۔۔۔
یار سچویشن ایسی تھی کچھ سمجھ ہی نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔بٹ ناؤ شی از فائن۔۔۔۔۔چلو ملواتا ہوں تم سے۔۔۔۔
آدم سنجیدگی سے بول کر اندر بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پولیس یونیفارم میں تھا۔۔۔۔۔
اندر جا کر شہریار نے بلند آواز میں سلام کیا۔۔۔مگر فروا بیگم کو دیکھ شہریار شرمندہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
سب نے خوش دلی سے جواب دیا۔۔۔۔۔
اس کی دوسری نظر شفا کی گود میں کھیلتی منت پر گئی تھی۔۔۔۔۔جو شفا کے ساتھ بہت خوش نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔
شفا اور فروا بیگم صبح ہی آئی تھی۔۔۔۔۔جزا کو دیکھنے
کیسے ہو بیٹا گھر ہی نہیں آتے اب تم۔۔۔۔اتنی جلدی پرایا کر دیا ہمیں ۔۔۔۔۔فروا بیگم کے شکوے پر وہ مزید شرمندہ ہوا تھا۔۔۔۔
نہیں آنٹی ایسی بات نہیں ہے بس آدم کو پتہ ہے مصروفیت بہت ہوتی ہے ٹائم ہی نہیں ملتا۔۔۔۔۔وہ دھیمے لہجے میں جواب دے کر جزا کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔۔جو ان کی آواز پر آنکھیں کھول چکی تھی۔۔۔۔
کیسی طبیعت ہے بیٹا۔۔۔۔۔شہریار نے شفقت سے جزا کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بھائی۔۔۔۔۔۔جزا نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔۔
وہ آدم کے بچپن کا دوست تھا اس وجہ سے بچپن سے ہی اس کا آنا جانا تھا۔۔۔۔۔وہ آدم کی طرح ہی سب سے پیار محبت سے پیش آتا تھا۔۔۔۔۔خانزادہ مینشن کا ایک فرد بن گیا تھا وہ بھی۔۔۔۔۔مگر بیچ میں ہوئے ایک سانحہ نے سب بدل دیا تھا۔۔۔۔۔
اس کے بعد شہریار نے اس گھر میں آنا بند کر دیا تھا۔۔۔۔۔
بیٹا بہو کو لے کر آؤ گھر کبھی میری تو خواہش ادھوری رہ گئی تمہاری شادی میں تمہیں اپنے ہاتھ سے دلہا بنانے کی۔۔۔۔۔
آپ کے لئے میں دوسری شادی کر لوں گا آنٹی بس آپ انے والی بنے۔۔۔۔۔
فروا بیگم کی شکایت پر اس نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدم کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔۔فروا بیگم نے مسکرا کر ایک بہت رسید کی تھی شہریار کی پر۔۔۔۔۔
اچھا آدم میں چلتا ہوں انشاء اللّٰہ کل ملاقات ہوگی ۔۔۔۔۔۔آج ایک ضروری کام نمٹانا ہے۔۔۔۔۔۔
شہریار جزا کے سر پر ہاتھ رکھتا ان سے مل کر چکا گیا تھا۔۔۔۔۔آدم بھی شفا کو لے کر گھر کے لئے نکل آیا تھا۔۔۔کیونکہ آج فروا بیگم جزا کے ساتھ رکنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
