Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 43
Rate this Novel
Episode 43
تم سب تیار ہو جانا شام کو عرش کے ساتھ شاپنگ کے لیے جانا ہے۔۔۔۔۔۔فروا بیگم نے ان چاروں سے کہا جو اس وقت آیت کے کمرے میں بیٹھی تھیں ۔۔۔۔۔
امی ہم کل چلے جائیں گے۔۔۔۔۔آج بھابھی جا کر اپنے ولیمے کا ڈریس کے آئیں بھائی کے ساتھ۔۔۔۔جزا نے عقیدت کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔۔
چلو جیسا تم لوگوں کو ٹھیک لگے۔۔۔۔۔فروا بیگم کہہ کر واپس چلی گئیں ۔۔۔۔
ویسے تم سب نے ایک چیز نوٹ کی ہے۔۔۔۔جزا نے شفا پر نظریں جمائے پوچھا۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔عقیدت اور آیت نے بیک وقت پوچھا تھا۔۔۔۔
کل سے ہماری چھوٹی سی بھابھی صاحبہ زیادہ گلو نہیں کر رہی۔۔۔۔۔۔
جزا کی بات پر دونوں نے ہی اچانک شفا کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔جو واقع پہلے کے مقابلے میں بہت کھلی کھلی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
سب کے اس طرح دیکھنے اور ان کی بات کا مطلب سمجھتے وہ شرم سے سرخ پڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
نہ نہیں وہ ایسا تو کچھ نہیں ۔۔۔۔وہ ان کی نظروں سے گھبرا کو بولی۔۔۔۔
کیسا کیسا۔۔۔۔۔۔۔۔جزا اور آیت نے شرارتی انداز میں پوچھا
وہ تو رات سے ہی ڈیوٹی پر ہیں ۔۔۔وہ جلدی میں کیا بول گئی اسے خود بھی نہیں پتہ چلا۔۔۔۔۔
تو پرسو رات تو وہ آپ ہی کے ساتھ تھے نا اور کل صبح سے تو نکھار ہی الگ چھایا ہوا ہے آپ کے چہرے پر ۔۔۔۔
اور آیت تمہیں پتہ ہے منت تو بھائی سے ناراض ہو گئی تھی۔۔۔کیونکہ بھائی اسے بھابھی کے ساتھ سونے نہیں دیتے
بلکہ خود سوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس نے کہہ کر آیت کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔۔ان کے مزاق پر شفا سے وہاں بیٹھنا مشکل ہوگیا ۔۔۔۔
میں بات نہیں کرونگی آپ لوگوں سے۔۔۔۔وہ سرخ چہرے کے ساتھ وہاں سے اٹھنے لگی۔۔۔۔۔
اچھا نا اب نہیں کہتے کچھ ۔۔۔۔۔پکا جزا نے کھینچ کر اسے واپس بٹھا لیا ۔۔۔۔
ان کے چپ ہونے پر وہ بھی ناراضگی سے بیٹھ گئی۔۔۔۔
ویسے بھابھی کیسا ڈریس لیں گی آپ۔۔۔۔۔جزا نے مسکراتے ہوئے عقیدت سے پوچھا ۔۔۔۔۔
شفا اور آیت بھی اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جیسا عرش کو پسند آئے ۔۔۔۔عقیدت نے جھجھکتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔
اوہو۔۔۔۔۔ہاؤ رومینٹک ۔۔۔۔۔۔
بھئی بیوی ہو تو عقیدت بھابھی جیسی فرمانبردار۔۔۔۔۔جزا نے کہا تو سب قہقہ لگا کر ہنسنے لگی ۔۔۔۔۔
اور آیت تم بھی اپنے میاں کی پسند سے لوگی یا پھر خود کی۔۔۔۔اب کے اس کے توپوں کا رخ آیت کی طرف تھا۔۔۔۔۔
مجھے کوئی شاپنگ نہیں کرنی۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولی۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔بھئی کیا تمہارے میاں جی خود کریں گے۔۔۔۔
مجھے واپس نہیں جانا مجھے بس یہیں رہنا ہے اب میں بھائی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی اب پہلے ہی بہت ساری غلطیاں ہوئیں ہیں مجھ سے اب میں کسی کو شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔۔وہ اپنی آنکھوں کو نم ہونے سے روک نہیں پائی تھیں ۔۔۔۔۔
آپ روئیں مت۔۔۔۔۔شفا جو اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی اسے اپنے ساتھ لگا گئیں ۔۔۔۔۔۔
سالار کو چھوڑو تم کیا چاہتی ہو۔۔۔۔کیا بالاج بھائی نے تم سے کوئی بدلہ لیا۔۔۔۔
مطلب کوئی ٹارچر مارنا پیٹنا۔۔۔۔
تکلیف دینا نوکروں کی طرح ٹریٹ کرنا ایسا کچھ کیا۔۔۔۔
جزا نے اب کے اس کے آنسو صاف کر کے پوچھا۔۔۔۔
نہیں انہوں نے میرے ساتھ وہاں کچھ بھی غلط نہیں کیا ۔۔۔اماں جان اور ہانیہ نے میرا ہمیشہ بہت خیال رکھا ۔۔۔۔
اس نے مجھے بس ایک بار تھپڑ مارا تھ جس دن سالار بھائی آئے تھے ۔۔۔۔کیونکہ میں نے بالاج کو بہت برا بھلا کہا تھا۔۔۔۔اور طلاق مانگی تھی۔۔۔۔۔تو غصے میں مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا پھر جلدی سے سوری بھی بولا تھا۔۔۔۔۔۔
بس وہ بھائی سے بہت نفرت کرتا ہے وہ سمجھتا ہے ان کی بہن کے ساتھ جو بھی ہوا وہ بھائی نے کیا۔۔۔۔۔
وہ آخر میں بے بسی سے بولی تھی۔۔۔۔
تم رہنا چاہتی ہو ان کے ساتھ۔۔۔۔۔عقیدت کے سوال پر اسے سمجھ نہیں آیا وہ کیا جواب دے۔۔۔۔۔۔
میں نے وعدہ کیا ہے ان کے ساتھ میں واپس جاؤں گی مگر میں بھائی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگی تھی۔۔۔۔
ان کا تو ہمیشہ ہی دماغ خراب رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کو تو بھائی ہی سیدھا کریں گے۔۔۔۔۔ہر کسی کو اپنا غلام سمجھ رکھا ہے۔۔۔۔دوسروں کو جھکانا ہی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔۔۔۔
جزا سنجیدگی سے بول کر اس کو چپ کروانے لگی ۔۔۔۔
میرے بھائی کو ایسا مت بولو تم۔۔۔۔۔۔۔۔روتے ہوئے بھی جزا کو گھور کر بولی تھی۔۔۔۔
بڑی آئی بھائی کی چمچی پورا یقین ہے اسی بات پر تھپڑ کھایا ہوگا تم نے ۔۔۔۔میرے بھائی کو ایسا مت بول۔۔
جزا اسے چڑا کر ہنسنے لگی۔۔۔۔تو عقیدت کا قہقہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
بھائی یہ سب کیا ہے۔۔۔۔سالار اس کے آفس میں آکر کارڈ اس کے ٹیبل میں پھینک کر پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔
آدم نے ناگواری سے اس کی حرکت دیکھی۔۔۔۔مگر کیا کچھ نہیں
کارڈ ہے اور کیا۔۔۔۔۔۔۔آدم سکون سے جواب دیتا اپنے کام کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
اس میں آیت اور بالاج کا نام کیوں ہے۔۔۔۔اب کے وہ سنجیدگی سے سوال کیا۔۔۔۔۔
کیونکہ عرش کے ولیمے کے ساتھ آیت کی رخصتی بھی ہے یہ بات امی تمہیں گھر پر بتا چکی تھی۔۔۔۔۔آدم سیدھے ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
ایک تو وہ کل رات سے گھر نہیں گیا تھا اور کام کی وجہ سے شدید درد الگ سے تھا سر میں ۔۔۔۔۔ایک سالار جو ہر وقت سب کو کاٹنے کو دوڑ رہا تھا۔۔۔۔
مجھے اپنی بہن کو اس کے ساتھ رخصت نہیں کرنا۔۔۔۔۔۔غصے سے اس کی آواز اونچی ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔
تو کیا کرنا ہے گھر بٹھانا چاہتے ہو اسے پوری زندگی۔۔۔۔۔آدم کو اس کی بات پر غصہ آگیا تھا ۔۔۔۔۔
اس کی شادی کہیں اور کروا دیں گے مگر بالاج شاہ کے ساتھ نہیں ۔۔۔۔۔
آپ کیسے بھول سکتے ہیں اس نے آیت سے شادی بدلے کے لئے کی ہے۔۔۔۔۔
تو تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ آیت بالاج شاہ کے نکاح میں ہے۔۔۔۔۔اس کی بیوی ہے ہم یا کوئی دوسرا اس بات سے انکار نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔
اور رہی بات کہیں اور شادی کروانے کی تو تمہیں کیا لگتا
ہے وہ اتنی آسانی سے آیت کو چھوڑے گا۔۔۔۔۔۔
وہ اب کھڑے ہو کر اسے ہر اینگل سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ نہیں چھوڑے گا تو ہم کیا کمزور ہیں جو اپنی بہن کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔
بیٹھو تم۔۔۔۔آدم نے اسے اشارہ کیا تو سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
تمہیں بالاج سے مسئلہ کیا ہے۔۔۔۔۔ادم نے اطمینان سے پوچھا۔۔۔۔
وہ ایک انتہائی گھٹیا شخص ہے۔۔۔۔
کونسی گھٹیا حرکتیں کی۔۔۔۔۔۔
بھائی آپ انجان نہیں ہیں اس نے جو بھی کیا اس سے۔۔۔۔سالار نے چڑ کر جواب دیا۔۔۔۔۔
تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔۔۔۔ادم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
اس نے مجھ سے بدلہ لینے کے لئے میری بہن کا استعمال کیا۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔۔
لیکن اس نے آیت سے بدلہ نہیں لیا اس کے گھر میں رہتے ہوئے بھی آیت کو کوئی تکلیف نہیں ملی ۔۔۔۔۔۔
اس نے آیت کو تھپڑ مارا تھا جس کا نشان اس کے چہرے ہم نے خود دیکھا تھا۔۔۔۔اس نے آدم کی بات کاٹ کر کہا۔۔۔۔
تمہاری بیوی تم سے لڑ کر طلاق مانگے وہ بھی بے وجہ تو تم کیا کروگے۔۔۔۔۔آدم کی بات وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ کتنا ہی اچھا انسان ہو بھلے لیکن بھائی وہ میری بہن کے لئے ٹھیک نہیں ہے وہ میرا بدلہ اس سے لے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ محبت کرتا ہے آیت سے کوئی بھی شخص اپنی محبت کو بدلے کی بھینٹ نہیں چڑھائے گا۔۔۔۔۔۔
اور اگر اس نے ایسا کرنا ہوتا تو ان دیڑھ مہینوں میں وہ اس کے ساتھ بہت برا کر چکا ہوتا ۔۔۔۔۔اس نے کچھ غلط نہیں کیا اس کا مطلب ہے وہ آیت سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔
بھلے پہلے اس کی جیت کچھ بھی رہی ہو۔۔۔۔لیکن اس نے غلط آیت کے ساتھ پھر بھی نہیں کیا۔۔۔۔
اور وہ ایک اچھا انسان ہے۔۔۔۔۔
ایک بار تم اس کی۔جگہ خود کو رکھ کر سوچنا کہ جو اس کی بہن کے ساتھ ہوا خدا نخواستہ کسی کی بھی بہن کے ساتھ ہوتا تو وہ انسان کیا کرتا۔۔۔۔۔
اچھے سے سوچ کر مجھے جواب دینا ۔۔۔۔۔
تم اس کے سرپرست ہو فیصلہ تمہارا ہی ہوگا۔۔۔۔آخر میں آدم نے جس لہجے میں کہا وہ اپنے آپ میں ہی شرمندہ ہوگیا۔۔۔۔۔
بھائی میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
جاؤ سالار مجھے کام کرنے دو۔۔۔۔اس نے سختی سے کہا تو وہ بھی شرمندگی سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یار تمہیں پہننا ہے نا تم پسند تو کرو ۔۔۔۔۔عرش نے زرا سختی سے کہا۔۔۔۔۔
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے اسے لئے مختلف ڈیزائنرز کے پاس گھوم رہا تھا مگر وہ تھی کہ سب عرش پر چھوڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
لیکن میں آپ کی پسند کا پہننا چاہتی ہوں۔۔۔۔عقیدت نے معصوم شکل بنا کر کہا تو اس کا دل کیا اپنی بیوی کا منہ چوم لے۔۔۔۔
مگر ہائے رے قسمت۔۔۔۔اس وقت وہ پبلک پلیس میں تھے۔۔۔۔۔
اچھا میری جان۔۔۔پہلے بولنا تھا نا گونگوں کی طرح صرف گردن ہلائے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
پھر آخر کار ایک گھنٹے کی مزید جہدوجہد کے بعد وہ اپنی بیوی کے لئے ایک پیاری سی میکسی پسند کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
وہ پیچ کلر کی ایک بہت پیاری سی میکسی تھی۔۔۔۔جس پر باریک اسٹون کا نفاست سے کام ہوا تھا۔۔۔۔۔
دیکھنے والے کی آنکھ بار بار اس پر ٹہر رہی تھی ۔۔۔۔
مزید کچھ چیزیں لے کر وہ دونوں ریسٹورنٹ سے لنچ کر کے رات کے دس بجے گھر آئے تھے۔۔۔۔عرش اسے کمرے میں چھوڑ کر سالار کے پاس چلا گیا تھا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
تم سب اللّٰہ پر چھوڑ دو وہ بہتر کرے گا۔۔۔۔۔وہ سالار کے ہاتھ سے سگریٹ لیتا دور پھینک چکا تھا۔۔۔۔۔۔
کمرے میں بھرے دھوئیں سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ بہت دیر سے مسلسل اسموکنگ کر رہا ہے۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں مانتا ہوں وہ اپنی جگہ صحیح ہے لیکن اس بات کی کیا گارنٹی کہ وہ آیت کو تکلیف نہیں دے گا۔۔۔۔۔
سالار کو بس اسی ایک بات کا ڈر تھا۔۔۔۔۔۔
یار ہم اسے تمہاری بے گناہی کا ثبوت دکھائیں گے تو اسے بھی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔۔۔۔
وہ نہیں دے گا تکلیف کیونکہ اگر وہ اتنا برا ہوتا تو آج آیت صحیح سلامت ہمارے سامنے نہیں ہوتی۔۔۔۔۔عرش نے اسے پیار سے سمجھایا۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سالار نے ایک گہری سانس لی ۔۔۔۔
میں نے دیکھا ہے تم جزا سے کھنچے کھنچے رہتے ہو۔۔۔۔۔۔عرش جو بہت دنوں سے اس سے بات کرنا چاہتا تھا آج آخر کا پوچھ لیا۔۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔وہ نظریں چرا کر اٹھنے لگا۔۔۔۔۔۔
میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کر مجھ سے سالار یار تجھے ہو کیا گیا ہے کس طرح کی عجیب حرکتیں کر رہے ہو تمہیں پتہ بھی ہے جب سے فاطمہ والا ٹاپک اسٹارٹ ہوا ہے تم اس سے مزید دور ہو گئے ہو۔۔۔۔۔
عرش نے اسے کھینچ کر واپس بٹھایا تھا ۔۔۔۔۔
کیونکہ میں فاطمہ سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔میں ان دونوں کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔وہ لڑکی میرے نام پر برباد ہو کر اس دُنیا سے چلی گئی اور جزا وہ میرے ساتھ ہو کر بھی میں اسے خوش نہیں رکھ پا رہا۔۔۔۔۔
بکواس مت کرو۔۔۔۔عرش زور سے چیخا تھا۔۔۔۔۔
اس وقت وہ دونوں چھت پر بنے اسٹڈی روم میں تھا ۔۔۔۔اس لئے عرش کی آواز کسی نے نہیں سنی۔۔۔۔۔
تیرے رگ رگ سے واقف ہوں میں کوئی محبت نہیں تجھے فاطمہ سے نا پہلے تھی نا اب ہے۔۔۔۔۔صرف ایک احساس ندامت ہے جس وجہ سے تم اپنا آج برباد کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ جو ہوا نہیں ہونا چاہیے تھا بہت غلط ہوا لیکن وہ سب تم نے نہیں کیا تھا تو کیوں خود کو اس گلٹ سے آزاد نہیں کرتے ۔۔۔۔ختم کر چکے ہو نا تم اس کے مجرم کو پھر کیوں تجھے سکون نہیں مل رہا میرے بھائی۔۔۔۔
وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔۔۔۔۔وہی تو تھا جو سالار کے رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔۔
کیونکہ وہ اس کا اصل مجرم نہیں تھا ۔۔۔۔۔سالار کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ وہ بمشکل سن پایا۔۔۔۔۔۔۔
کیا کہا۔۔۔۔۔۔عرش نے بے یقینی سے پوچھا۔۔۔۔۔
ہاں وہ اس کا اصل مجرم نہیں تھا وہ ان سب میں برابر شامل تھا مگر وہ اس کا اصل مجرم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
جس نے اس کی عزت کو تار تار کیا وہ شخص کوئی اور تھا۔۔۔جس تک میں اپنی غلطی کی وجہ سے نہیں پہنچ پایا۔۔۔۔۔
کاش اسے مارنے کے بجائے زندہ چھوڑ دیا ہوتا تو آج میں فاطمہ کے اصل مجرم تک پہنچ جاتا۔۔۔۔۔۔وہ افسوس سے اپنے سر دونوں ہاتھوں میں گرا گیا۔۔۔۔۔
ماضی۔۔۔۔۔
جب فاطمہ کی ڈیتھ کے بعد آدم نے سالار کو اسلام آباد بھیج دیا تھا تب وہ کچھ ٹائم تک بہت صدمے میں رہا ۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد وہ بہت جلد وہاں سے بھی واپس آگیا تھا ۔۔۔
ایک نئے عزم کے ساتھ وہ فاطمہ کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
اس نے فاطمہ کے مجرم کی تلاش میں دن رات ایک کر دی تھی۔۔۔۔وہ باہر سب کے ساتھ نارمل رہتا تھا ہنس مکھ سا لیکن ایک عرش ہی تھا جو اس کے ہر کام سے باخبر تھا اور اس کی مدد بھی کرتا تھا۔۔۔۔۔
لیکن چاہ کر بھی ان کو کوئی سراغ نہیں مل پا رہا تھا۔۔۔۔۔پورے ڈیڑھ سال تک ان لوگوں نے ہر کوشش کر لی لیکن ان کو ایسا کچھ نہیں ملا جس سے پتہ چلتا کہ فاطمہ کا دشمن کون ہے۔۔۔۔۔۔
ایک دن عرش اور سالار یونیورسٹی فرینڈ کی برتھڈے پر گئے تھے وہاں ان کو ایک لڑکا نظر آیا جو تھا تو یونیورسٹی کا لیکن ان کے ڈیپارٹمنٹ کا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔سمیر ملک نام تھا اس کا
سب سے مشکوک چیز تھی اس کی ہائیٹ اور اس کے ہاتھ پر بنا ٹیٹو کا نشان ایک دم سالار کےدماغ میں جھماکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
ایسا ہی ٹیٹو اس لڑکے کے ہاتھ پر بھی تھا ۔۔۔جو اس سے آبائے میں لڑکی کے بھیس میں ٹکرایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور اس کا موبائل چرایا تھا۔۔۔۔۔وہ بھی لڑکیوں کی جتنی ہائیٹ کا تھا۔۔۔۔
سالار غصےسے اٹھ کر جانے لگا ۔۔۔۔۔۔
پاگل مت بنو ۔۔۔۔۔تم صرف ایک ٹیٹو کی بنیاد پر اس پر الزام نہیں لگا سکتے۔۔۔۔۔۔
صبر کرو ہمیں مزید ثبوت تلاش کرنے دو۔۔۔۔کم از کم ہمارے پاس اب ایک سرا تو ہاتھ لگا ہے نا انشاء اللّٰہ بہت جلد ہم مجرم کو سزا بھی دلوا دیں گے۔۔۔۔۔۔اسے جزباتی ہوتا دیکھ عرش نے اسے روکا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سالار کو بھی ٹھیک لگی اس لئے وہ واپس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
پھر کچھ دنوں تک وہ دونوں اس کے بارے میں ساری انفارمیشن نکلوا چکے تھے۔۔۔۔۔
اسے بہت بار فاطمہ سے بات کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔۔۔۔اور وہ بہت ساری لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی وجہ سے کئی بار یونیورسٹی سے نکالا جا چکا تھا۔۔۔۔۔
مگر پھر اس کے دوست یار مل کر اسے صحیح پروف کر کے دوبارہ اس کا نام بحال کروا دیا جاتا تھا۔۔۔۔
اس لئے انکا سارا شک یقین میں بدلتا گیا۔۔۔۔
اب بس وہ اس کے منہ سے قبول کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔۔اس لئے ان دونوں نے اسے اغوا کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔
اور وہ دونوں اس پر نظریں جمائے بیٹھے تھے جو کرسی پر بندھے ہونے اور آنکھوں پر پٹی کے باوجود اطمینان سے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
کوئی فائدہ نہیں سالار خانزاہ مجھ سے چھپنے کا میں جانتا ہوں تم ہی جس نے مجھے کڈنیپ کیا ہے اس لئے کھول دو۔۔۔۔۔سمیر ملک انتہائی گھمنڈ سے بولا تھا۔۔۔
عرش نے جا کر اس کی آنکھوں سے پٹی اتاری ۔۔۔
تو وہ ان دونوں کو ہی تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
سالار کا بس نہیں چلا وہ اس کے مسکراتے چہرے ہر اتنی گولیاں اتارے کہ اس کا چہرہ پہچاننا مشکل ہو جائے ۔۔۔۔۔۔
جب تمہیں پتہ ہے کہ ہم نے تمہیں اغوا کیا ہے تو یقیناً تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔۔عرش نے دانستہ طور پر فاطمہ کا نام لینے سے پرہیز کیا تھا۔۔۔۔
افکورس فاطمہ شاہ کی وجہ سے۔۔۔۔سمیر ملک نے مسکرا کر ان کو دیکھا۔۔۔۔
سالار کی گرفت اپنی گن پر سخت ہوئی تھی۔۔۔۔۔
عرش نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں تھی۔۔۔۔۔وہی جانتے تھے کیسے خود کو روک رکھا تھا۔۔۔۔
کیوں کیا اس کے ساتھ ایسا۔۔۔۔۔۔عرش نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ مجھے بھا گئی تھی وہ مگر (سالی) نخرے بہت کرتی تھی اس لئے سبق سکھا دیا اور۔۔۔۔
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سالار شاہ کی گن سے نکلنے والی گولیاں اس کے سینے کے آر پار ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ بے دم ہو کر کرسی پر پیچھے لڑھک گیا تھا۔۔۔۔
عرش نے بھی نفرت سے اس کے مردہ وجود کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
ان کی آنکھوں کے سامنے بار بار فاطمہ شاہ کا زخمی چہرہ آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ان کا ارادہ اس کے منہ سے اپنا جرم قبول کروا کر پولیس کے حوالے کرنے کا تھا۔۔۔۔۔
مگر جس قدر بے رحمی سے فاطمہ کو مار کر وہ ڈھٹائی سے قبول کررہا تھا۔۔۔۔یہ بات سالار برداشت نہیں کر پایا۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد عرش اور سالار نے مل کر اس کے لاش کو ایسے ٹھکانے لگایا تھا کہ کوئی ڈھونڈ بھی نہیں پاتا۔۔۔۔۔
حال۔۔۔۔۔
جانتے ہو۔۔۔۔میں نے سمیر ملک کا ڈی این اے فاطمہ۔کی باڈی سے ملے ڈی این اے سے میچ کروایا تھا مگر وہ میچ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔
سالار اپنا سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
عرش کے پاس الفاظ نہیں تھے کہ وہ کچھ بول پاتا۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
کیسی ہیں تارا ملک صاحبہ ۔۔۔۔۔آدم ان کے سامنے رکھی چئیر پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے پہلے ہی اس نے اپنی پولیس ٹیم کو بھیج کر اپنی ساس کو بہت عزت سے بلوایا تھا۔۔۔۔۔
اس وقت بھی وہ فل میک اپ میں تیار کہیں جانے کے لئے تیار ہوئی تھی شاید۔۔۔۔
کیوں مجھے اریسٹ کیا گیا یے۔۔۔۔۔میرا جرم کیا ہے ۔۔۔۔وہ سختی سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔جبکہ دل اندر ہی اندر بہت ڈرا ہوا تھا یہ سوچ کر کہ شفا نے سب کچھ بتا تو نہیں دیا۔۔۔۔۔۔
ارے آپ تو ناراض ہی ہو گئیں ہیں آپ سے تھوڑی گپ شپ کرنے کے لئے بلوایا گیا ہے۔۔۔۔۔آخر پتہ چلا ہے کہ آپ میری ساس کے عہدے پر فائز ہیں تو سلام دعا تو بنتی ہیں نا۔۔۔۔۔۔
آدم نے چھبتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تارا ملک نے گھبرا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
اشفاق احمد کو کیوں مارا۔۔۔۔۔اس کے دیکھنے پر آدم نے سیدھا سیدھا سوال پوچھا۔۔۔۔۔ایک لیڈی کانسٹیبل بھی آدم کے پیچھے رجسٹر لئے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
تارا ملک کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی بات پر۔۔۔۔۔۔
نہ نہیں ۔۔میں نے کسی ۔۔۔کو نہیں مارا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
