Rate this Novel
Episode 7
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط 7
وہ سیدھا اسے لئے ہسپٹل سے تھوڑی دوری پر رکا جہاں فرجاد پہلے سے ہی ہانیہ(فرجاد کی وائف) کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ گاڑی سائیڈ پر روکتا گاڑی سے نکلا اور فرجاد سے گاڑی کی چابی لیتا دوسری گاڑی میں بیٹھتا بنا پیچھے دیکھے زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔۔۔
مجھے نہیں لگتا سر نے کچھ غلط کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے آیت کو دیکھتے کہا ۔۔۔۔۔
کچھ بھی ہو لیکن کسی لڑکی کو اندھیری رات میں اس طرح لانا مجھے بلکل پسند نہیں آیا۔۔۔
فرجاد اسے کہتا گاڑی میں بیٹھ گیا ا اور ہسپتال کے سامنے روکی نرس کی مدد سے آیت کو اسٹریچر میں ڈالا اور اندر بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
دس بج رہے ہیں کہاں چلی گئ آیت ابھی تک آئی کیوں نہیں
اس نے تو آٹھ بجے تک آنے کا کہا تھا کہاں رہ گئی مجھے ٹینشن ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
فروا بیگم دروازے میں چکر لگاتی پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔
امی میں کہہ رہی ہوں نا مجھے جانے دیں اگر وہ اپنی دوست کے گھر سے نکل گئی ہیں تو اب تک پہنچی کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔جزا بار بار اس کا فون ٹرائے کرتے ہوئے بولی جو سوئچ آف تھا۔۔۔
نہیں تم بیٹھو سالار کو فون کر کے بتاؤ ۔۔۔۔ڈرائیور کو بھی اس نے آنے سے منع کردیا میری بچی ٹھیک ہو بس۔۔۔۔
سجدہ بیگم اور شفا بھی پریشانی سے دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔فریحہ شام کو ہی واپس جا چکی تھی۔۔۔
جزا نے سالار کو فون کرنے کے بجائے عرش کو فون کر کے سب بتا دیا ۔۔۔۔۔سالار بھی اس کے ساتھ تھا۔۔
دونوں پریشان ہو گئے ۔۔۔۔۔۔اور جہاں جہاں اس کے ہونے کی امید تھی وہاں ڈھونڈنے لگے۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے آدم کو بھی انفارم کیا۔۔۔۔
ابھی وہ اس کے ہسپٹل پتہ کرنے آئے تھے کہ وہ کتنے بجے نکلی لیکن اسے اسٹریچر میں لیٹے دیکھ دونوں اس کی طرف بھاگے۔۔۔۔
آیت کیا ہوا ہے کون ہو تم سالار نے فرجاد کا گریبان پکڑ لیا جو اسٹریچر دھکیل کر ایمرجنسی کے اندر لے جا رہا تھا۔۔۔
دیکھیے پہلے ہاتھ ہٹائیں میں بتاتا ہوں آپ کو ۔۔۔۔۔فرجاد نے سکون سے اپنا گریبان اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔۔۔۔
عرش نے سالار کو پیچھے کیا۔۔۔
عرش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
یہ میری وائف ہیں ہم اپنے سسرال سے آرہے تھے ہمیں یہ راستے میں ہمیں بے ہوش ملی تو میری وائف اور میں ان کو اسپتال لے آئیں ۔۔۔۔۔
باقی باتیں آپ ان کے ہوش میں آنے کے بعد پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ سالار اس کو مارنے بڑھتا۔۔۔۔ڈاکٹر کے آنے پر پیچھے ہو گیا۔۔۔۔
ارے یہ تو آیت ہے میری اسٹوڈنٹ اس کو کیا ہوا ہے
آپ ان کو چیک کریں کیا ہوا ہے جلدی بتائیں سالار بے چینی سے بولا۔۔۔۔
پریشانی کی کوئی بات نہیں یہ شاید کسی وجہ سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی ہے اس لیے بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔
باقی میں میڈیسن وغیرہ لکھ دیتی ہوں پریشان مت ہوں تھوڑی دیر تک ہوش آ جائے گا۔۔۔۔
ڈاکٹر کہہ کر اندر بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
اوکے پھر ہم چلتے ہیں ۔۔۔۔۔چلو ہانی۔۔۔۔فرجاد عرش کو بول کر جانے لگا ۔۔۔۔
جب تک میری بہن کو ہوش نہیں آ جاتا آپ لوگ کہیں نہیں جا سکتے۔۔۔۔۔
سالار ان کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔اسے کسی پر یقین نہیں تھا اگر اس کی بہن اس حالت میں ملی تھی تو ضرور اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا تھا ورنہ اتنی کمزور وہ ہر گز نہیں تھی۔۔۔۔
اوکے فائن ۔۔۔۔۔فرجاد کو بھی بحث کرنا مناسب نہیں لگا اور ویسے بھی اس نے کچھ نہیں کیا تھا دوسرا باس نے اسے اس لڑکی کی تمام انفارمیشن لے کر جانے کا کہا تھا۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
آدھے گھنٹے بعد اسے ہوش آگیا تھا ۔۔۔۔اور اپنے سامنے اپنے بھائیوں کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔آدم بھی بھاگتے ہوئے سامنے سے آیا اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔
چندہ بس رونا بند کرو بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔آدم نے اسے پیار سے پچکار ا عرش اور سالار بھی بے چینی سے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔۔۔
بھائی ۔۔۔۔وہ وہ کچھ کچھ آوارہ لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے تھے میں وہاں سے بھاگ نکلی پھر پھر مجھ کچھ یاد نہیں ۔۔۔۔۔وہ۔کہتے ہی آدم کے سینے میں منہ چھپا گئ۔۔۔۔
اس نے دوسرے آدمی کے بارے میں نہیں بتایا ورنہ اس کے بھائی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے اور وہ اپنی وجہ سے کوئی بھی مسئلہ نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔
ان کو جانتی ہو۔۔۔۔۔عرش نے کب سے کھڑے فرجاد اور ہانیہ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ۔۔۔۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔
میرا نام ہانیہ ہے اور آپ ہمیں راستے میں بے ہوش ملی تو میں اپنے ہسبینڈ کے ساتھ آپ کو یہاں لے آئی۔۔۔اب کیسی طبیعت ہے آپ کی ہانیہ نے آگے بڑھتے اس سے پوچھا۔۔۔
بہت شکریہ آپ کا آپ نے میری مدد کی ۔۔۔۔آیت نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں اپنے راستے نکل گئے اور آیت بھی اپنے تینوں بھائیوں کے ساتھ گھر آگئی ۔۔۔۔
سجدہ بیگم اور فروا بیگم نے کتنی ہی دیر آیت کو سینے سے لگائے رکھا۔۔۔۔۔
شفا ایک کونے میں کھڑی نم آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی ۔۔۔۔اسے زندگی میں کبھی ماں کا پیار محسوس ہی نہیں ہوا اور اب جب وہ اس طرح پیار دیکھ رہی تھی اس کا دل عجیب کیفیت کا شکار تھا ۔۔۔۔۔
آدم عرش اور سالار تینوں ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔
مجھے تم جگہ بتاؤ میں ان لڑکوں کو چھوڑوں گی نہیں جزا کا غصہ سے برا حال تھا۔۔۔۔۔
یہ سب کرنے کے لیے ہم ہیں تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔سالار نے بنا اسے دیکھے سرسراتے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
مجھے کیا کرنا ہے میں اچھے سے جانتی ہوں آپ مجھے۔۔۔۔۔
جزا کس لہجے میں بات کر رہی ہو تم سالار سے مت بھولو بڑا بھائی ہے تمہارا اس کی بات ماننا تم پر بھی فرض ہے
آئیندہ تمہیں اس لہجے میں بات کرتے نا دیکھوں میں ۔۔۔۔
آدم نے جس قدر ناگواری سے کہا جزا کی آنکھیں شرمندگی سے نم ہو گئیں اوروہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
باقی سب کو بھی جزا کی حرکت ناگوار گزری تھی پچھلے دو سال سے اس کا رویہ سالار کے ساتھ ایسا ہی تھا۔۔۔۔
لیکن اس نے کبھی بڑوں کے سامنے اس سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔۔۔
شفا نے ایک نظر آدم کو دیکھا۔۔۔۔۔جس سرخ چہرے سے اسی راستے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے جزا گئی تھی۔۔۔۔
امی کھانا لگوائیں بھوک لگی ہے ۔۔۔۔۔آدم نے فروا بیگم سے کہا تو فروا بیگم کے پیچھے شفا بھی چلی گئی ان کی مدد کرنے۔۔۔۔۔
رات ایک بجے سب نے کھانا کھایا اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔۔۔
آدم سیدھا اپنے کمرے سے ملحقہ اسٹڈی روم میں چلا گیا۔۔۔۔
شفا بھی فروا بیگم سے منتیں کر کے سوئی ہوئی منت کو اپنے ساتھ لے گئی ۔۔۔۔
جب وہ کمرے آئی تو آدم کمرے میں نہیں تھا وہ شکر ادا کرتی ۔۔۔۔منت کو بیڈ پر لٹا کر خود بھی اس کے ساتھ لیٹ گئی۔۔۔۔اور کمفرٹر دونوں پر ڈال کے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔۔
جب وہ اپنا کام مکمل کرتا کمرے میں آیا تو اپنے بیڈ کی حالت دیکھ کر اس نے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔۔۔
میں دوسروں سے کیا بولوں جب میری اپنی ہی بیٹی کی حرکتیں ایسی ہیں تو ۔۔۔۔۔
وہ کہتا بیڈ کی طرف بڑھ گیا جہاں بیڈ میں
منت اپنے دونوں پاؤں شفا کے سر پر گرائے سکون سے سو رہی تھی۔۔۔۔جبکہ شفا کی پوزیشن ایسی تھی کہ وہ الٹی لیٹی ہوئی تھی اور آج اس کا چہرہ پورا کمفرٹر میں چھپا ہوا تھا جبکہ ٹراؤزر کی بے ترتیبی دیکھ اسے غصہ آیا ۔۔۔۔۔
لیکن اس کی نظر شفا کی رائٹ سائیڈ کے پنڈلی پر رک گئی جہاں گھنٹے سے تھوڑا سا نیچے ایک گہرا زخم تھا جو ابھی تک بھرا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے پہلے منت کو اٹھایا پھر کمرے میں موجود بے بی کاٹ میں لٹا دیا۔۔۔۔
پھر ڈرار میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکالتا بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
ہاں وہ اسے محبت نہیں دے سکتا تھا مگر اس کا خیال رکھنا خود پر فرض کر لیا تھا۔۔۔۔
اس نے باکس میں سے آئنٹمنٹ نکالی اور انگلیوں کے پوروں میں لے کر آرام آرام سے اس کے زخم پر لگانے لگا۔۔۔۔
وہ اتنی آہستگی سے اپنا کام کر رہا تھا کہ شفا کو نیند میں احساس ہی نہیں ہو سکا ۔۔۔
اپنا کام ختم کرتا وہ ہاتھ دھونے واش روم چلا گیا پھر واپس آکر بنا اسے جگائے بہت مشکل سے اپنے لئے جگہ بنائی
از کی خواہش صرف اپنی بیٹی کے لیے ایک ماں کی تھی لیکن اسے نہیں پتہ تھا اس کی زندگی میں ایک اور بچی کا اضافہ ہو جائے گا۔۔۔۔۔
خود پر افسوس کرتا وہ آنکھیں موند گیا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
سرخ سفید رنگت اس پر اس کی نیلی آنکھوں پر سایہ فگن گھنی پلکیں جو آنکھیں بڑی کرنے پر ایسی تھی جیسے رقص کررہی ہوں باریک گلابی ہونٹ کسی کابھی ایمان ڈھگمگا سکتی تھی اور شاید وہ خود بھی کچھ کر جاتا اگر وہ بے ہوش نا ہوتی تو۔۔۔۔۔
وہ جب سے لوٹا تھا جنوری کے سرد موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے اسی کو سوچے جارہا تھا ۔۔۔۔
اس کی زندگی میں بہت سی لڑکیاں آئی تھیں لیکن وہ کبھی اتنا بےتاب کبھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔
بہت بری بات ہے جانم۔۔۔۔تمہیں کوئی حق نہیں اس طرح بالاج شاہ کے خیالوں میں بنا اجازت آنے کا ۔۔۔۔
اس کی سزا تو تمہیں مل کر رہے گی ۔۔۔۔۔
وہ خیالوں میں اتنا گم تھا کہ اسے اپنے فون کے بجنے کا احساس ہی نہیں ہوا جو کب سے بج بج کر خود ہی بند ہو گیا۔۔۔۔۔۔
سر پیچھے سے فرجاد نے اسے آواز دی وہ پچھلے ایک گھنٹے سے بالاج کو کال کر رہا تھا لیکن اس کے کال نا اٹھانے پر مجبوراً اسے یہاں آنا پڑا تھا۔۔۔۔
بالاج نے اسے مڑ کر سرد نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔
آئی ایم سوری سر لیکن آپ نے کہا تھا میم کے بارے میں آپ کو ایک گھنٹے میں ساری انفارمیشن دوں ۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے کہا مبادہ وہ اٹھ کر اسے ہی نا لگا دے ۔۔۔
بالاج شاہ کے ہونٹوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ بکھر گئ۔۔۔۔
اچھا میرے یار چلو بتاؤ کیا کیا پتہ چلا
وہ قدم قدم چل کر اس کے پاس آیا اور دوستانہ انداز میں اس کندھے پر بازو پھیلا دیئے ۔۔۔۔۔وہ ایسا ہی تھا پل میں بیسٹ تو پل میں دوست۔۔۔۔
پھر جیسے جیسے فرجاد اسے بتاتا گیا اس کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوتا گیا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اے لڑکی رات کی گھسی ابھی تک کمرے سے نکلی کیوں نہیں کہاں مر گئی ہو،، کام چور،ہڈ حرام لڑکی مفت کی روٹیاں توڑنا بس کوئی کام مت کرنا منحوس ماری۔۔۔۔
تائی امی کی کاٹ دار آواز پورے محلے میں گونج رہی تھی۔۔۔۔کیونکہ وہ ایک چھوٹا سا محلہ تھا جہاں سارے گھر ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے ۔۔۔
عقیدت جو ابھی مشکل سے دو گھنٹے پہلے سوئی تھی کیونکہ پوری رات بابا کی طبیعت خراب تھی۔۔۔۔۔
تائی امی کی آواز پر بمشکل آپنی آنکھیں مسلتی اٹھی۔۔۔۔
غصہ تو اسے بہت تھا لیکن مجبور تھی اپنے بھوڑے باپ کو کہاں لے کر جاتی ۔۔۔۔
جی تائی امی وہ دروازہ کھول کے ان کے سامنے آئی ۔۔۔۔سوجھی آنکھیں نیند کی کمی اور رونے کیوجہ سے سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔۔لیکن کاش کسی کو احساس ہوتا۔۔۔۔
کچن کا کام تمہاری ماں آکر کرے گی صبح کے ساتھ بج رہے ہیں اور تم بستر پر پڑی نیند کے مزے لے رہی ہو۔۔۔۔
تائی امی نے اپنی زبان کے جوہر دکھائے تو اس نے مشکل سے خود پر ظبط کیا۔۔۔۔
سامنے کھڑی شکل کیا دیکھ رہی ہو دفع ہو جاؤ جا کر ناشتہ بناؤ انہون نے حکمیہ لہجہ اختیار کیا۔۔۔۔
وہ کل بھی اس کمپنی میں جانے والی تھی مگر گھر کے کام کی وجہ سے جا نا سکی لیکن آج اس کا وہاں جانے کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔تاکہ وہ اس آدمی کا قرضہ بھی اتار سکے۔۔۔۔۔
اور اپنے باپ کے لیے کچھ پیسے کما سکے۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے کچن میں چلی گئی۔۔۔۔کیونکہ وہ جانتی تھی بنا کام کئے اس کا یہاں سے نکل پانا نا ممکن تھا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
