Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

آدم اور سالار اس وقت ڈاکٹر کے روم میں موجود تھے۔۔۔۔ڈاکٹر نے کوئی ضروری بات کرنے کے لیے انہیں اپنے روم میں بلایا تھا۔۔۔۔۔فری بھی وہاں موجود تھی۔۔۔۔۔

ڈاکٹر کی نظریں اپنے ہاتھ میں موجود ریپورٹ پر تھیں ۔۔۔انکے چہرے پر سنجیدگی دیکھ سالار کا دل بہت بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔

مسٹر سالار۔۔۔۔۔یہ آپ کی وائف کی ریپورٹ ہے۔۔۔۔
چونکہ ان کی جان بچنا ہی ایک معجزا تھا ہمارے لیے ۔۔۔۔ایسا بہت کم کیسس میں ہوتا ہے کے گولی جسم کے آر پار ہونے کے بعد کوئی زندہ بچ جائے۔۔۔۔۔لیکن اللّٰہ کو ان کی زندگی منظور تھی تو اللّٰہ نے انہیں مزید مہلت دے دی۔۔۔۔۔۔

لیکن ایک بری خبر ہے میرے پاس ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کی بات پر تینوں کے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا۔۔۔۔۔۔

آپ کی بیوی اب کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔۔۔ان کا جس طرح سے مسکیرج ہوا جس جگہ ان کو گولی لگی۔۔۔۔۔۔یہ اللّٰہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ آپ لوگوں کے بیچ سانس لے رہی ۔۔۔۔

ڈاکٹر کی بات پر آدم اور سالار دونوں کے ہی چہرے دھواں دھواں ہو ئے تھے۔۔۔۔

ایک دم سالار کو وہاں آکسیجن کی۔کمی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔وہ بنا کچھ کہے وہاں سے نکل کر باہر اگیا۔۔۔۔۔

اس کا کوئی حل نہیں ۔۔۔کوئی تو علاج ہوگا۔۔۔۔آدم نے ڈکٹر سے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا اس کی بہن بچوں کی دیوانی ہے۔۔۔۔۔منت کو بھی سارا دن اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔۔۔۔

تو کیسے اس کی اجھڑی گود وہ دیکھ پاتے۔۔۔۔

نہیں مسٹر آدم اس کا کوئی علاج نہیں ۔۔۔۔۔باقی ڈاکٹر فریحہ ایک بہترین ڈاکٹر ہیں وہ آپ کو بہتر طریقے سے گائیڈ کر سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ انداز میں کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔۔۔

آدم اور فری جب وہاں سے باہر نکلے تو سالار کو دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھے پایا۔۔۔۔۔۔

سالار ۔۔۔۔۔آدم کی بھاری گھمبیر آواز پر سالار نے سر اٹھایا۔۔۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔۔ظبط سے اس کی آنکھیں شدید سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اللّٰہ کے فیصلے پر راضی ہونا سیکھو ۔۔۔۔۔۔وہ بہتر نوازنے والا ہے۔۔۔۔جب ہم ہر چیز سے مایوس ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔تب اللّٰہ ہمیں وہاں سے نوازتا ہے جہاں سے ہم امید بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔آدم کی سنجیدگی سے کہی ہوئی بات پر اس کا درد میں کمی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔

بھائی میں یہ سب اسے نہیں بتانا چاہتا وہ ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔سالار نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔۔

ہم بھی نہیں چاہتے اسے کچھ پتہ چلے یہ بات ہم پانچ لوگوں کے بیچ میں ہے آدم عرش۔۔تم۔۔۔۔۔میں اور بالاج شاہ۔۔۔۔اور ہم پانچوں میں سے یہ بات کہیں نہیں جائے گی کیونکہ آگاہی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔

فری کی بات پر آدم نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔

بھائی میں بالاج اور اپنا مسئلہ آج ہی ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
پھر اس کے بعد جو بھی ہو مجھے پرواہ نہیں لیکن میں صرف اس وجہ سے روز روز آیت کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔۔سالار نے آدم کو دیکھ کر سنجیدگی سے اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔۔وہ کل رات کی اپنی بہن کی حالت بھولا نہیں تھا۔۔۔۔۔

ڈونٹ وری آج یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔تیار رہنا رات میں تمہیں چلنا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔۔آدم کے چہرے پر اب اطمینان تھا۔۔۔۔

                  💓💓💓💓💓💓💓

عرش جزا کی طبیعت کی وجہ سے گھر نہیں آ پایا تھا۔۔۔۔آج بھی پورے دو دن بعد اس نے گھر میں قدم رکھا ۔۔۔۔تو رات کے اس پہر بلکل خاموشی تھی۔۔۔۔۔۔

اسے فریش ہو کر واپس جانا تھا آدم کا کہنا تھا۔۔۔۔آج اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے اور ان تینوں کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی پہلی نظر اپنی بیوی پر پڑی دیوار کا سہارا لئے واش روم سے نکل رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ پریشانی سے اس کی طرف بڑھا اور اسے بازؤں میں اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا۔۔۔۔

عقیدت نے نظریں اٹھا کر عرش خانزادہ کو دیکھا۔۔۔۔جو آنکھوں میں فکر مندی لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

کیا ہوا میرا جان طبیعت ٹھیک ہے تمہاری۔۔۔۔۔عرش نے اس کے سرخ چہرا تھتھپا کر پوچھا ۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں بس میں جو بھی کھاتی ہوں وومیٹنگ ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔عقیدت نے عرش کے سینے میں سر چھپاتے کہا۔۔۔۔۔۔۔

چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔عرش اسے تھامتا اٹھنے لگا مگر عقیدت نے اس کی شرٹ تھام کر اسے روک لیا۔۔۔۔۔

مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔۔وہ کڑوی گولیاں دیں گے مجھے نہیں کھانی۔۔۔۔۔عقیدت نے منہ بناتے کہا تو عرش کے چہرے ہر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔۔

میری جان ایسے تو پھر تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی جب کچھ کھا نہیں پاؤ گی۔۔۔۔۔اور مجھے میری بیٹی بلکل صحت مند اور گولو مولوں سی چاہیے ۔۔۔۔۔تمہاری طرح سوکھا کانٹا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔عرش نے اسے چڑانے کے لئے جان بوجھ کر اس کی صحت پرچوٹ کی۔۔۔۔۔۔

عقیدت جھٹکے سے اس سے دور ہوئی۔۔۔۔۔۔
کیا کہا۔۔۔۔اس نے خونخوار نظروں سے عرش کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
کیا کہا میں نے۔۔۔۔۔عرش نے انجان بنتے پوچھا۔۔۔۔۔
مجھے کیا بولا آپ نے۔۔۔۔
یہی کہ مجھے میری بیٹی گولو مولوں سی چاہیے ۔۔۔۔عرش نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔
نہیں آپ نے مجھے سوکھا کانٹا کہا۔۔۔۔۔عقیدت نے خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی۔۔۔۔

ہاں وہ تو تم ہو۔۔۔۔۔۔۔عرش نے اس کا غصے سے پھولا ہوا چہرہ دیکھ مسکراہٹ ظبط کرتے کہا۔۔۔۔

میں سوکھا کانٹا نہیں اسمارٹ ہوں۔۔۔۔لیکن آپ موٹے انکل ہو۔۔۔۔بلڈوزر کہیں کے۔۔۔۔۔۔وہ بھی عقیدت تھی بنا جواب دیئے بھلا کیسے سکون ملتا ۔۔۔۔

کیا کہا میں موٹا بلڈوزر ہوں بتاتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔ابھی وہ اسے پکڑ کر ہونٹوں پر جھک گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
عقیدت نے اس کے سینے پر مکے برسائے۔۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ بھی عرش خانزادہ تھا کیسے اپنا فائدہ چھوڑ دیتا۔۔۔۔۔۔

وہ اپنا مقصد پورا کر کے جیسے ہٹا عقیدت بیڈ سے اتر کر دور کھڑی ہو گئی تھی اور چہرہ شرم سے خطرناک حد تک لال ہوگیا تھا ۔۔۔۔

عرش جو اتنے دن کی بے سکونی اور تھکاوٹ کی وجہ سے آج سکون حاصل کرنا چاہتا تھا اس کے دور جانے پر چہرے پر ناگواری اتری۔۔۔۔۔۔

ادھر آؤ۔۔۔۔۔اس نے خمار آلود نگاہوں سے اسے سر تا پاؤں دیکھ کر اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

عقیدت تو بہت بری پھنسی تھی کاش وہ عرش کے آنے سے پہلے سو جاتی۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ شرم کے مارے اس سے اپنی گردن نہیں اٹھائی جا رہی تھی۔۔۔۔۔

یار کیوں تنگ کر رہی ہو ادھر آو۔۔۔۔عرش اسے گھورتا ہوا بولا۔۔۔۔۔جو شرم سے دیوار سے چپک گئی تھی۔۔۔۔۔
اسے اپنی جگہ سے نا ہلتے دیکھ عرش نے اس کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔۔۔۔مگر اس کو آتا دیکھ عقیدت بھاگ کر دوسری طرف ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

اس کی حرکتیں دیکھ عرش کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔وہ اس وقت صرف سکون چاہتا تھا کیونکہ دو گھنٹے میں واپس جانا تھا۔۔۔۔۔
عقیدت تنگ مت کرو میری جان میرے پاس آؤ۔۔۔۔۔وہ اسے پیار سے پچکارتے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔
مگر وہ تھی کہ اس کی قدموں پر نظریں جمائے اس سے دور ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔
عرش مزید اس کے یہ نخرے برداشت کرنے کے موڈ میں نا تھا اس لئے ایک جھٹکے سے اس تک پہنچتا اسے بازوؤں میں اٹھا کر بیڈ پر پھٹکا تھا۔۔۔۔۔۔

عقیدت اس اچانک افتاد پر ہکا بکا سی اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔۔عرش مزید اسے کوئی موقع دیئے بغیر اس کے ہونٹوں پر جھک کر اس کو آنکھیں میچنے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لمس میں اچانک سختی آگئی تھی۔۔۔۔۔عقیدت کو اپنے دور جانے پر پچھتاوا ہوا۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے ہونٹوں سے گردن تک کا صفر بہت جلدی طے کر رہا تھا۔۔۔۔
عرش نے اس کے بالوں کو مٹھی میں جھکڑ کر اس کا چہرا اوپر کیا اور اس کی گردن پر جگہ جگہ اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
ع۔۔۔رش۔۔۔۔۔عقیدت نے کپکپاتے ہونٹوں سے اسے پکارا۔۔۔۔۔
مگر عرش بس اسے محسوس کرنا چاہتا تھا اس لئے اس کی پکار کو ان سنا کیا۔۔۔۔۔

عرش کے لبوں کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ بھی بہت بے باکی سے عقیدت کے جسم کو محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
بہت بے تاب رہا ہوں تمہیں محسوس کرنے کو۔۔۔۔۔اب مجھے سکون دو۔۔۔۔۔اس کی مزاحمت دیکھ عرش نے اس کے دونوں ہا تھوں کو قید کیا تھا۔۔۔۔۔۔

آج تمھارے وجود کو میں اپنے خوشبو سے مہکانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔وہ خماری میں بولتا اس کے کان میں سرگوشی کر گیا۔۔۔۔
اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے کان کی لو میں محسوس کرتی
وہ خود میں سمٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
اس کی بے تابی دیکھ عقیدت بھی خود کو اس کے سپرد کر گئی۔۔۔۔۔

وہ لائٹ آف کرتا خود پر اور عقیدت پر کمفرٹر ڈالتا۔۔۔۔۔۔اسے خود میں سمیٹتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔

اس کا محبت بھرا لمس محسوس کر کے عقیدت کو اپنی قسمت پر رشک ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

وقت کے ساتھ ساتھ وہ پور پور اس کی محبت میں ڈوبتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

               💓💓💓💓💓💓💓

بالاج شاہ اپنے انڈر کنسٹرکشن فیکڑی میں گاڑی کے بونٹ پر بیٹھا آدم خانزادہ کا انتظار کر رہا تھا تھوڑی دیر میں فرجاد بھی ارمان نیازی کو لے کر آنے والا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ آدم خانزادہ کا مجرم اس کے حوالے کرنے کے بعد اپنی بہن کے مجرم کو اس کے انجام تک پہنچانے والا تھا جس کے لئے اس نے کل کا دن ڈیسائیڈ کیا تھا۔۔۔۔۔۔

اس وقت وہ رات کے اندھیرے میں خود بھی اندھیری رات کا حصہ لگ رہا تھا جو سگریٹ ہاتھ میں لئے گہری سوچ میں تھا۔۔۔۔۔۔۔
جب سے آیت نے بھرے مجمعے میں اس پر الزام لگایا تھا وہی جانتا تھا کیسے خود پر ظبط کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔

سالار خانزادہ جو اس کا بھائی تھا اس کے خلاف ثبوت دیکھنے کے بعد بھی وہ اپنے بھائی کو مجرم ماننے کو تیار نہیں تھی۔۔۔۔۔جبکہ وہ ایک سیکنڈ میں ایک شک کی بنیاد پر اس کی محبت اس کے منہ پر مار چکی تھی۔۔۔۔۔۔

اتنے میں دو گاڑیاں ایک ساتھ آکر رکی تھی۔۔۔۔۔۔ایک میں سے آدم خانزادہ کے ساتھ سالار اور عرش کو اترتے دیکھ اس کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔۔۔۔۔
دوسری گاڑی میں فرجاد تھا۔۔۔مگر وہ گاڑی سے اترا نہیں ۔۔۔۔۔۔

سالار کی جب بالاج شاہ پر نظر پڑی اس کو اپنے جسم میں شرارے سے دوڑتے محسوس ہوئے ۔۔۔۔
اسے آیت کی کل رات کی حالت یاد آئی۔۔۔۔۔۔۔خود پر ضبط کھوتے وہ اس پر جھپٹ پڑا۔۔۔۔۔۔بالاج شاہ نے بھی پھر کچھ نہیں دیکھا
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو چکے تھے۔۔۔۔۔ان کو اس طرح لڑتے دیکھ کر فرجاد بھی گاڑی سے نکل آیا ۔۔۔۔۔۔
عرش اور وہ دونوں ان کو چھڑانے آگے بڑھنے لگے مگر آدم کے اشارے پر رک گئے۔۔۔۔۔۔

لڑنے دو ایک دوسرے کے اندر جو ایک دوسرے کے لیے بھڑاس ہے اسے نکال دینے دو تاکہ۔۔۔۔ایک ہی بار میں سب ختم ہو جائے۔۔۔۔۔۔

اچانک فرجاد کو اپنے کان کے پاس کچھ ٹھنڈا سا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔عرش اور آدم کا دھیان ان دونوں پر تھا۔۔۔۔۔۔

فرجاد نے مڑنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔
خبردار اپنی جگہ سے مت ہلنا ۔۔۔۔۔ارمان نیازی بلند آواز میں چیخا تھا۔۔۔۔۔

سالار ور بالاج نے ایک دم ایک دوسرے کو چھوڑ کر اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
آدم ور عرش کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔۔

ارمان نیازی کو فرجاد پر گن تھانے دیکھ کر بالاج شاہ کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے بھائی پر سے گن ہٹاؤ۔۔۔۔۔۔وہ سرد مہری سے بولا۔۔۔۔۔

اس کی بات پر ارمان نیازی مسکرایا تھا۔۔۔۔۔۔۔میرا پہلا شکار تو یہی ہوگا۔۔۔۔اج مجھے اس حال میں پہنچانے والا تو یہی ہے پھر اس کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں میں ۔۔۔۔۔وہ چبا چبا کر بولا۔۔۔۔۔
آدم نے نفرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔جبکہ عرش ا ور سالار ابھی تک حیرت زدہ سے ارمان نیازی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔کیونکہ وہ ان کے یونیورسٹی میں دوسرے ڈیپارٹمنٹ کا تھا۔۔۔۔۔۔

بھلا اس کا سالار اور جزا سے کیا دشمنی۔۔۔۔۔وہ بچارے ابھی فاطمہ کی کہانی سے انجان تھے۔۔۔۔۔۔

گن پوائنٹ پر کھڑے ہونے کے باوجود فرجاد کے چہرے پر کسی قسم کا خوف نہیں تھا۔۔۔۔۔
بالاج نے ضبط سے ارمان نیازی کی حرکت برداشت کی۔۔۔زندگی چاہتے ہو تو گن ہٹاؤ ورنہ ایسی موت دوں گا تمہاری سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔۔۔بالاج نےانتہائی سنجیدگی سے اسے وارن کیا تھا۔۔۔۔۔

ان کو مصروف دیکھ کر آدم خانزادہ نے نظر بچا کر اپنی گن پر گرفت مظبوط کی۔۔۔۔

ارمان کی بات پر ارمان نیازی غصے میں آکر ٹریگر دبانے ہی والا تھا کہ ایک دم ٹانگ پر لگنے والی گولی سے لڑکھڑا کر نیچے گرا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بے یقینی سے آدم کی طرف دیکھا جو بنا دیکھے اس پر نشانہ لگا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے نیچے گرتے ہی فرجاد نے گن اٹھایا تھا۔۔۔۔
اور سالار اسے گھسیٹتے ہوئے فیکڑی کے اندر لا کر زمین میں پھینکا تھا۔۔۔۔۔درد سے اس کی چیخیں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ پانچوں اس کے سر پڑ کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
مجھے جانے دو میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ارمان نیازی درد سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ بولا۔۔۔۔۔

وہ پانچوں وہاں رکھی کرسیوں پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھ چکے تھے۔۔۔۔اس وقت ان سب کے دماغ میں اس سے نفرت کی وجہ الگ تھی۔۔۔۔۔۔۔

سالار خانزادہ کو اس وقت ارمان نیازی اس لئے زہر لگ رہا تھا کیونکہ اس کی وجہ سے وہ جزا کو کھونے والا تھا ۔۔۔۔۔۔

عرش خانزادہ کو اس سے نفرت اس لئے ہوئی۔۔۔۔۔کہ اس نے سالار کو مارنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔

بالاج شاہ کو اس سے نفرت اس لئے تھی۔۔۔۔کہ ارمان نیازی نے اس کی بیوی پر غلط نظر ڈالی۔۔۔۔۔۔۔

فرجاد کو وہ اس لئے زہر لگا۔۔۔کیونکہ وہ لڑکیوں کو گندی نظر سے دیکھتا ہے۔۔۔۔۔اور کچھ دیر پہلے ۔۔۔۔۔اس نے فرجاد پر گن تھانے تھی۔۔۔۔۔۔

ان سب میں بس ایک شخص ہی ایسا تھا جو ارمان نیازی کے سب سے بڑے گناہ سے واقف تھا اور وہ تھا۔۔۔۔۔آدم خانزادہ ۔۔۔۔۔۔۔

وہ سارے بلیک سوٹ میں تھے۔۔۔۔۔۔یہ اتفاق تھا یا قسمت کا کھیل جو بھی تھا مگر ارمان نیازی کو اپنی موت صاف نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔۔

تمہاری مجھ سے دشمنی کیا تھی۔۔۔۔۔سالار نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔جہاں تک اسے یاد تھا اس کا اور ارمان کی کبھی سلام دعا بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

میں نے تمہیں نہیں مارا۔۔۔۔۔یہ فرجاد اور سالار کی پلاننگ ہے۔۔۔۔وہ تمہیں مار کر اپنی بہن کا بدلہ لینا چاہتے ہیں اس لئے ان لوگوں نے تم پر فائرنگ کر کے مجھے پھنسایا۔۔۔۔۔۔

جھوٹ بول رہا ہے یہ اس کو میں نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔۔۔۔۔گن لے کر بھاگتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔فرجاد اس کے جھوٹ پر دھاڑا تھا۔۔۔۔۔

تمہیں کیسے پتہ بالاج شاہ سالار سے اپنی بہن کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آدم کے سوال پر ہر جگہ سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

کیونکہ خانزادہ ہاؤس اور شاہ مینشن کے مکینوں کے علاوہ کوئی بھی اس بات سے واقف نا تھا۔۔۔۔۔پھر کیسے ممکن کہ ارمان نیازی اس بات سے آگاہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔

بالکل جو ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھا اسے جزا کی باتیں یاد آنے لگی۔۔۔۔۔

تم۔کیسے جانتے ہو یہ سب۔۔۔۔۔بالاج نے ظبط سے سوال پوچھا۔۔۔۔

وہ و۔۔وہ۔میں نے سنا تھا کسی سے یہ سب۔۔۔۔۔۔
کس سے ۔۔۔۔۔عرش نے بھی پوچھنا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔
یاد نہیں مجھے جانے دو۔۔۔۔۔میرا تم لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔۔۔۔خود کو بری طرح پھنستا دیکھ کر اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔ ٹانگ پر لگنے والی گولی نے مزید کسر نکال دی تھی۔۔۔۔اسے افسوس ہوا کیوں موقع ملنے پر بھاگنے کے بجائے۔۔۔۔اس نے فرجاد پر گن تھانی۔۔۔۔۔

سمیر ملک کو جانتے کو۔۔۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ارمان نیازی نے تکلیف سے آنکھیں میچتے جواب۔۔۔۔دیا۔۔۔۔

سوچ لو۔۔۔۔۔ادم جیسے اسے موقع دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔
نہیں جانتا میں ۔۔۔۔۔۔

آدم نے عرش کو اشارہ کیا تو وہ جا کر گاڑی سے لیپ ٹاپ لے آیا ۔۔۔۔۔۔اور سامنے ایک چیئر رکھ کر لیپ ٹاپ اس پر سیٹ کیا تاکہ وہاں بیٹھا ہر انسان دیکھ سکے۔۔۔۔۔سب نا سمجھی سے اس کا عمل دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

اپنی جیکٹ کے جیب سے یو ایس بی نکال کر لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کیا۔۔۔۔۔۔۔ارمان نیازی کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ ہو ایس بی وہ اچھے سے پہچان چکا تھا۔۔۔۔۔

وہ اس نے خانزادہ ہاؤس کی ایک ملازمہ کو پیسے دے کر سالار کے کمرے سے چوری کروائی تھی۔۔۔۔۔

جس میں سالار کی بے گناہی کے ثبوت تھے۔۔۔۔۔۔پھر وہ آدم کے ہاتھ کیسے لگا ۔۔۔۔۔۔
اس کے فق ہوتے چہرے کو بالاج شاہ نے بہت غور سے دیکھا تھا۔۔۔۔جسے دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے خوف سے کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔

جیسے جیسے جیسے ویڈیوں چلتی گئی بالاج اور فرجاد کا چہرہ حیرانگی میں بدلتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔

آخر میں ایک کلپ تھی جس میں مسز شہزاد سالار سے معافی مانگ رہی تھی غلط فہمی کے لئے۔۔۔۔۔۔۔

بالاج کو اپنے اندر باہر دھواں اٹھتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔اس میں سالار خانزادہ کی بے گناہی کا ہر وہ ثبوت تھا۔۔۔۔جو آدم نے شہزاد آہ کے سامنے پیش کئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا مطلب وہ اتنے سالوں سے ایک بے گناہ کو سزا دینے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔تو پھر اصل مجرم کون تھا۔۔۔۔۔

اس کے ضبط سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کر فرجاد نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔

اگر سالار بے قصور ہے تو کون ہے قصور وار۔۔۔۔۔۔بالاج کو اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔

آدم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور جزا کا موبائل نکال کر لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کیا۔۔۔۔۔اس کا پر سکون انداز بتا رہا تھا وہ قاتل سے واقف ہے۔۔۔۔۔

سالار نے حیرت سے وہ فون دیکھا تھا۔۔۔کیونکہ وہ موبائل اس نے جزا کو اس کی سیونٹین برتھڈے پر گفٹ کیا تھا۔۔۔۔۔

اور پچھلے تین سال سے اس نے جزا کے ہاتھ میں وہ فون نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔

بھلا اس کے موبائل کا یہاں کیا کام۔۔۔۔
آدم نے جیسے ہی ویڈیو چلائی۔۔۔۔۔۔وہاں موجود ہر انسان کو جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔یہ وہی ویڈیو تھی۔۔۔۔۔جو جزا نے ارمان نیازی کے فارم ہاؤس سے نکلتے وقت بنائی تھی۔۔۔۔۔۔۔

جس سے صاف ثابت ہو رہا تھا۔۔۔۔سالار سے پہلے سے ہی ارمان نیازی وہاں موجود تھا۔۔۔۔۔۔
انہیں قاتل کو پہچاننے میں ٹائم نہیں لگا۔۔۔۔۔

ان کے چہروں کو دیکھ کر ارمان نیازی کو اپنی موت بہت قریب سے نظر آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس لئے اس نے آس پاس نظریں دوڑائی۔۔۔۔۔وہ۔لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھا اور وہ بیلچا اٹھا کر اپنی پوری طاقت سے سالار پر وار کیا تھا۔۔۔۔

وہ جو لیپ ٹاپ پر نظر آرہے منظر کی وجہ سے شاکڈ کے عالم میں تھے کچھ سمجھ ہی نہیں پائے۔۔۔۔۔۔
خون کا یک فوارا سالار کے منہ سے نکل کر لیپ ٹاپ پر گرا تھا۔۔۔۔۔۔

بالاج نے اپنا ضبط کھوتے اپنی گن نکال کر ایک ساتھ تین فائر اس کی ٹانگ پر کئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

ارادہ تو اس کو جان سے مارنے کا تھا مگر جو گناہ اس نے کیا تھا۔۔۔۔اتنی آسان موت بالاج شاہ اسے دے ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔

عرش اور آدم نے سالار کو اٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔اور باہر بھاگے۔۔۔۔۔۔
بالاج شاہ بھی ان کے پیچھے نکلا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کے بعد فرجاد نے ارمان نیازی کے بے ہوش وجود کو اپنے خفیہ ٹھکانے پر شفٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔

                💓💓💓💓💓💓💓💓

سالار خانزادہ کو چوٹ بہت گہری لگی تھی۔۔۔۔۔مگر اللّٰہ کا کرم ہوا کہ اس کی جان بچ گئی۔۔۔۔۔۔۔ابھی تک وہ انڈر اوبزرویشن تھا۔۔۔۔۔۔ادم اس کو اسی اسپتال میں لائے تھے جہاں فریحہ اور احد اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔۔۔۔

اپنے بھائی کی حالت دیکھ کر فری جیسی مظبوط لڑکی بھی رو پڑی۔۔۔۔۔۔آدم نے اسے سینے سے لگا کر تسلی دی تھی ۔۔۔۔۔
یار چپ ہو جاؤ۔۔۔۔اس پورے ہفتے میں میرے کانوں میں شدید درد پڑ گیا ہے یہ رونے کی آوازیں سن سن کر۔۔۔۔۔۔

آ دم نے چڑ کر کہا تو فری نے اس کے سینے پر مکے برسائے تھے۔۔۔۔۔۔

وارڈ میں داخل ہوتے احد نے یہ منظر بہت چڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔اس کی بیوی ۔۔۔۔۔اہنے شوہر سے زیادہ آدم کی ہی مانتی تھی۔۔۔۔۔

میری بیوی سے زرا دور کھڑے ہو۔۔۔۔اس کو سنبھالنے کے لئے میں ہوں۔۔۔۔۔احد نے فری کو اس سے دور کر کے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔

عرش نے اپنے بہنوئی کی جیلیسی پر مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔جبکہ آدم اس کو تمسخر اڑاتے نظروں سے دیکھتا واپس صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔نیند سےا س کی آنکھیں شدید بو جھل تھی۔۔۔۔۔دن کے دس بج رہے تھے۔۔۔۔۔
اور اس کو کورٹ بھی جانا تھا شفا کو لے کر۔۔۔۔۔

سالار دوائیوں کے زیر اثر گنودگی میں تھا مگر وہ خطرے سے باہر تھا۔۔۔۔۔
جبکہ بالاج اس کے ٹھیک ہونے کا سن کر ہی جا چکا تھا۔۔۔۔۔

                       💓💓💓💓💓

اس وقت وہ اسی ٹھکانے پر تھا جہاں اس نے پہلے بھی بہت
سارے عزت کے لٹیروں کو ان کے انجام تک پہنچایا تھا۔۔۔۔۔

آج تو وہ مجرم تھا جو اسکی جان سے پیاری بہن کا قاتل ہی نہیں اس کی عزت کا بھی لٹیرا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کی وہ بہن جو اس کے ساتھ دنیا میں آئی تھی وہ کیسے اس کے مجرم کو آسان سزا دیتا۔۔۔۔۔

وہ ارمان نیازی کو کانپتے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔جو تھوڑی دیر پہلے ہی ہوش میں آیا تھا ۔۔۔۔کیونکہ فرجاد اپنے خاص ڈاکٹر کو بلوا کر اسے ٹریٹمنٹ دے چکا تھا۔۔۔۔۔

اس کی ٹانگیں ناکارہ ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔

بالاج کے ہاتھ میں تیز دھار آلہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔۔۔

بس ایک سوال کیوں۔۔۔۔۔۔بالاج نے پوچھا۔۔۔۔
میں نے نہیں ۔۔۔۔۔

سچ۔۔۔۔بالاج شاہ اتنی زور سے دھاڑا کے ساتھ کھڑے فرجاد کو اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے ۔۔۔۔۔
وہ وہ سالار کے پیچھے رہتی تھی۔۔۔۔میں اس سے محبت کرتا تھا مگر وہ نہیں مانتی۔۔۔۔۔

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ۔۔۔۔۔۔بالاج نے وہی چھری زور سے اس کے ہاتھ میں گھونپ دیا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد اس کی چیخیں پورے کمرے میں گونجنے لگی۔۔۔۔۔
بالاج شاہ نے تیزاب کا گیلن اٹھایا اور پورا اس کے اوپر انڈھیل دیا۔۔۔۔۔۔۔
ارمان نیازی کی چیخوں سے پورا کمرہ گونج اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
فرجاد یہ سب برداشت نا کر پاتے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
اور باہر آکر وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے ومیٹ کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد جب بالاج کمرے سے نکلا تو اس کی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔۔اس نے آج اپنی بہن کا بدلہ لے لیا تھا۔۔۔۔۔
دل کر رہا تھا دھاڑے مار مار کر روئے۔۔۔۔۔۔۔فرجاد نے اس کا نم چہرہ دیکھا تو آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔۔۔

آج ان کی بہن کو انصاف ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اگر وہ بے خبری میں ڈالر وک سزا دے دیتا تو اس کی بہن اسے کبھی معاف نہیں کر پاتی۔۔۔۔۔۔یہ سوچ ہی سوہان روح تھی….

جاری ہے۔۔۔۔