Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

مجھے منظور نہیں ۔۔۔۔بالاج نے اماں جان کی بات کاٹی تھی سب نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا جو بنا کسی لحاظ کے منع کر چکا تھا۔۔۔۔۔

تب تاک ہانیہ بھی ملازمہ کے ساتھ ان کے لئے چائے اور اسنیکس وغیرہ لے کر آ چکی تھی اتنا سیریس ماحول دیکھ کر وہ بھی پریشان ہو چکی تھی۔۔۔۔۔

مجھے منظور نہیں کہ میری بیوی اس گھر میں دوبارہ جائے۔۔۔۔۔اور رہی بات لوگوں کی باتیں بنانے کی تو میری بیوی کے بارے میں غلط بولنے والوں کی زبان کاٹنے کی طاقت رکھتا ہوں میں ۔۔۔۔۔اس لئے آپ لوگ فکر مت کیجئے ۔۔۔۔

مگر بیٹا ۔۔۔۔
چلیں بڑی امی۔۔۔۔فروا بیگم نے کچھ بولنا چاہا مگر فری ان کا ہاتھ تھام کر اٹھا چکی تھی۔۔۔
آپی میری بات سنیں ۔۔۔۔آیت نے روتے ہوئے اس کا بازو پکڑ لیا تھا۔۔۔۔

ماشاء اللّٰہ ۔۔۔۔بہترین انتخاب کیا ہے تم نے اپنے لئے۔۔۔ خوشی ہوئی بہت عزت ملی ہمیں آج یہاں سے اللّٰہ کرے ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔لیکن اگر تم اپنی پسند کے بارے میں ہمیں پہلے بتا دیتی تو آج لوگوں کے سامنے ہمیں جواب دہ نہیں ہونا پڑتا ۔۔۔۔۔
فری افسوس سے اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتی فروا بیگم کو تھامے باہر نکل گائی تھی۔۔۔۔
ان کے نکلتے ہی آیت بھی روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی ۔۔۔۔

عجیب ڈرامے بازی لگا رکھی ہے یار جو بھی آتا ہے میری بیوی کو رلا کر چلا جاتا یے۔۔۔۔اسی لئے میں ان لوگوں کو اندر لانے سے منع کر رہا تھا۔۔۔۔۔

اس وقت آیت کے آنسو دیکھ وہ انتہائی غصے میں تھا۔۔۔۔

تم نے ان کے ساتھ بلکل اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔اماں جان نے افسوس سے پوتے کو دیکھا۔۔۔۔

اب آپ بھی ان کیوجہ سے مجھے ہی سنائیں ۔۔۔۔۔وہ غصے سے بولتا کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔

آیت میں نے کہا کھولو دروازہ۔۔۔۔۔اس کے تین چار بار ناک کرنے پر بھی جب اندر سے آواز نہیں آئی تو اس نے ملازم سے
کمرے کی ڈیپلیکٹ کی منگوائی۔۔۔
اس کے رونے کی آواز باہر تک آرہی تھی ۔۔۔
ان نے جب دروازہ کھولا تو وہ بیڈ کے کونے پر بیٹھی ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ تڑپ کر اس تک پہنچا اور اسے تھام کر سیدھاکیا۔۔۔۔

روئی روئی سوجھی آنکھیں بھیگے ہونٹ سرخ چہرہ دیکھ وہ بہت پریشان ہوا تھا۔۔۔۔۔
کیوں رو رہی ہو یار۔۔۔۔۔بالاج اس کے آنسو انگلی کے پوروں سے صاف کرتے بولا۔۔۔۔۔

آیت نے کوئی جواب نہیں دیا مگر آنسوں تواتر سے بہہ کر اس کا چہرہ بھگو رہے تھے۔۔۔۔
بالاج نے پانی کا گلاس بھر کر منہ سے لگایا وہ دو گھونٹ پی کر پیچھے کر گئی۔۔۔۔
اچھا چپ رونا بند وہ اسے سینے سے لگاتا کسی بچے کی طرح پچکارنے لگا۔۔۔۔۔
آپ ۔۔۔بہت۔۔۔برے ہیں ۔۔۔ہمیشہ اپنی منمانی کرتے ہیں ۔۔۔۔کبھی مجھ سے نہیں پوچھتے میں کیا چاہتی ہوں۔۔۔ہمیشہ اپنا ۔۔۔فیصلہ تھوپتے ہیں ۔۔۔۔۔
میں بھی۔۔۔انسان ہوں۔۔۔۔میری بھی کوئی مرضی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔
مگر آپ نے مجھے انسان سمجھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسی کے سینے سے لگی روتے ہوئے اس کی شکایت کر رہی تھی۔۔۔۔

سالار کو بہت افسوس ہوا کاش وہ سالار کی بہن نا ہوتی تو شاید آج اس کی بیوی اس پر فخر کررہی ہوتی۔۔۔۔

جانم پلیز رونا بند کرو۔۔۔۔۔دیکھو ہم کل ہی دھوم دھام سے اپنا ولیمہ کریں گے تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا۔۔۔۔۔

اس کی بات پر آیت نے غصے سے اسے دور دھکیلنا اور اٹھ کر جانے لگی ۔۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔بالاج نے اس کا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔۔۔
اماں جان کے پاس اب میں وہیں رہونگی ۔۔۔۔وہ غصے سے کہہ کر پانا ہاتھ چھڑانے لگی۔۔۔۔

مگر کیوں۔۔۔۔۔ وہ پریشان صورت لئے کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ آپ نے مجھے آپی اور بڑی امی کے سامنے بہت شرمندہ کیا ہے۔۔۔جب آپ کو میری فکر نہیں تو میں کیوں آپ کی فکر کروں۔۔۔۔۔
وہ سختی سے جواب دے کر مڑنے لگی مگر بالاج نے پیچھے سے اس کے گرد بازوں باندھ دیئے تھے۔۔۔۔

یہ ظلم نا کرو مجھ پر جانم تمہارے بغیر بالاج شاہ کا گزارہ ممکن نہیں ۔۔۔
وہ اس کے کان میں جھکتا سرگوشی کرنے لگا۔۔۔۔۔

آیت نے بمشکل آپنی دھڑکنوں کو شور کرنے سے روکا تھا۔۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے میں آپ کی کسی بات میں نہیں آؤں گی۔۔۔۔۔
اس نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

اچھا بتاؤ کیا چاہتی ہو تم ۔۔۔۔۔آخر ہار مانتے وہ اسے بیڈ پر اپنے ساتھ بٹھا گیا۔۔۔۔وہ خود بھی جانتا تھا وہ زیادہ بول گیا جبکہ وہ آیت کی فائدے کی ہی بات کرنے آئے تھے ۔۔۔۔

مجھے نہیں کہنا کچھ بھی آپ میری بات نہیں مانیں گے۔۔۔۔وہ اب بھی مسلسل رو رہی تھی۔۔۔۔۔

وعدہ کرتا ہوں آج صرف تمہاری مانوں گا۔۔۔۔لیکن تمہیں بھی میری کچھ ماننی پڑے گی۔۔۔۔۔
اس نے کچھ سوچ کر کہا۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔وہ نظریں جھکائے بولی۔۔۔۔جیسے یقین ہو وہ منع کر دے گا۔۔۔۔۔
مجھے چھوڑ کر؟۔۔۔۔بالاج نے کسی خدشے کے تحت پوچھا۔۔۔۔جبکہ دل کو پورا یقین ہو چکا تھا وہ اسے چھوڑ کر کبھی نہیں جائے گی۔۔۔۔۔۔

مجھے۔۔۔ بس۔۔۔ وہاں۔۔۔۔سے رخصت ہونے دیں ۔۔۔بڑی امی بہت مان سے مجھے لینے آئیں تھیں ۔۔۔۔وہ۔۔۔اٹکتے ہوئے بولی۔۔۔۔

واپس آؤ گی میرے پاس ۔۔۔۔بالاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔
وہ اسے کھینچ کر اس کا جبڑا دبوچ گیا۔۔۔۔

اگر وہاں جا کر میرے ساتھ دھوکا کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا بالاج شاہ کی محبت دیکھی ہے تم نے اس محبت کو انتقام کی بھینٹ مت چڑانا پچھتاؤ گی۔۔۔۔ٹھیک چھ دن بعد سنڈے کو میں بارات لے کر آؤں گا تمہیں لینے اس کے بعد تم خانزادہ مینشن کا نام بھی نہیں لوگی۔۔۔۔۔صرف تم اور میں۔۔ ہم ایک دوسرے کے لئے ہونگے بس۔۔۔۔۔۔

میں یہ سب صرف تمہاری خوشی کے لئے کر رہا ہوں ۔۔۔۔
وہ اس کے منہ پر جھکا۔۔۔۔۔سرد لہجے میں بول کر اس کے ہونٹوں کو نرمی سے چھوکر دور ہو گیا۔۔۔۔۔

آیت کو پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آیا پھر جب سمجھ آئی وہ اچانک خوشی سے اس کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔۔

تھینک یو تھینک یو تھینک یو سو مچ۔۔۔۔۔۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ۔۔۔۔

اور اسے خوش دیکھ کر بالاج بھی مسکرا دیا۔۔۔۔۔میں اماں جان کو بتا کر آتی ہوں وہ اس سے الگ ہو کر باہر جانے لگی ۔۔۔۔۔
یہ تو ہوئی تمہاری بات ۔۔۔۔میری بات کون مانے گا۔۔۔۔جانم اس نے پیچھے سے آواز لگائی ۔۔۔۔۔
اس کے دروازے کی طرف بڑھتے قدموں کو بریک لگی تھی۔۔۔۔اور پریشانی سے بالاج کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
ادھر آؤ۔۔۔۔وہ آرام سے پھیل کر بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔۔اس کے اشارے پر آیت گھبراتے ہوئے اس کی طرف بڑھی بالاج کی آنکھیں اسے گھبرانے پر مجبور کررہی تھی…..

اس کے پاس آنے ہر بالاج نے اسے کھینچ کر خود پر گرایا تھا ۔۔۔
اس اچانک فتاد پر آیت نے اآنکھیں سختی سے میچ لی تھی۔۔۔
وہ اس کے روپ کو آنکھوں سے نہارنے لگا ۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی تپش سے آیت کو اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔۔۔۔۔اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو وہ اسے ہی دیکھ رہا ان نظروں کا پیام سمجھ کر وہ خود میں سمٹ گئی ۔۔۔۔۔۔

جانم۔۔۔۔۔۔بالاج کی خمار آلود لہجے پر اس کے ہونٹ کپکپائے تھے۔۔۔۔
کس می۔۔۔۔۔بالاج کی فرمائش پر آیت نے جھٹکے سے ہونکوں کی طرح اسے دیکھا۔۔۔۔
کس می جانم۔۔۔بالاج نے دوبارہ کہا۔۔۔۔
کک۔کیوں۔۔۔۔وہ گھبرا کر بولی۔۔۔۔۔
کیوں کرتے ہیں ؟اس کے عجیب سوال پر بالاج نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
مطلب میں کیوں کروں۔۔۔۔آیت دھیرے سے منمنائی۔۔۔
تو کیا م رینا سے مانگ لوں کس۔۔۔اس کی بات پر بالاج چڑ کر بولا ۔۔۔۔۔

آیت نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔کون ہے رینا ۔۔۔۔
میری سیکرٹری ۔۔۔۔اس نے اطمینان سے جواب دے کر آیت کو دیکھا جو ساری شرم بالائے طاق رکھ کر کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔

مطلب یہ سب کرنے جاتے ہیں آپ آفس میں۔۔۔۔وہ خالص بیویوں والے انداز میں اس سے لڑنے کو تیار ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

اب تم اتنے نخرے دکھاؤگی تو کہیں نا کہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا وہ جھک کر شدت سے اس کے کندھے پر دانت گاڑ چکی تھی۔۔۔۔۔
جنگلی بلی۔۔۔۔وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے اٹھنے پر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔

بالاج کندھے سے ٹی شرٹ ہٹا کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔جہاں اس کے دانتوں کے نشان کے ساتھ ہلکے ہلکے خون کے قطرے واضح تھے۔۔۔۔۔۔
بالاج نے اپنے زخم کے بعد اسے دیکھا جو خوفزدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

جانا کینسل۔۔۔وہ سرد لہجے میں کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔۔۔۔

آیت بھاگ کر اس کے سامنے آگئی۔۔۔۔۔پلیز منع مت کریں میں سوری کر رہی ہوں معاف کر دیں پلیز ۔۔۔۔۔وہ اس وقت رونے والی ہو گئی تھی۔۔۔۔

بالاج نے اس کی شکل دیکھ کر مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔۔

آیت کو جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اپنے پاؤں اوپر کرتی اس کے زخم پر لب رکھ گئی۔۔۔۔۔۔
اس کی حرکت نے بالاج شاہ کو بری طرح گھائل کیا تھا۔۔۔۔
ایک سکون کی لہر روح میں سرایت کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آیت کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔

تیار ہو جاؤ میں باہر انتظار کر رہا ہوں تمہارا۔۔۔۔۔۔جلدی آنا ورنہ میرا ارادہ بدلنے میں وقت نہیں لگے گا۔۔۔۔۔وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتا کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔۔

اس کے نکلتے ہی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے ہاتھ پاؤں بری طرح کانپ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔وہ۔کیسے سب کا سامنا کرے گی۔۔۔۔۔۔

             💓💓💓💓💓💓💓💓

تم چاہتے کیا ہو مجھے بتا دو اتنے لا پرواہ تو تم کبھی نہیں ہوئے سالار تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔آدم خانزادہ غصے سے اس پر برس رہا تھا ۔۔۔۔۔

بھائی مجھے نہیں پتہ وہ سب کیسے غائب ہو گیا آئی نو وہ آپ نے مجھے پر بھروسہ کر کے رکھوایا تھا مگر وہ میرے لاکر میں سے غائب ہو گیا ۔۔۔۔مجھے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔۔

وہ شرمندگی سے اسے بتا رہا تھا۔۔۔۔۔

وہی تمہاری بے گناہی کے ثبوت تھے میرے پاس ….

اب جانتے ہو تم وہ آیت سے بدلہ لے گا ہر چیز کا میں تم سے پچھلے ایک مہینے سے مانگ رہا ہوں کبھی کوئی بہانہ تو کبھی کوئی۔۔۔۔۔

زمہ داری نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔آدم کا بس نا چلا وہ اسے زندہ زمیں میں گاڑ دے۔۔۔۔۔

آیت کا نام مت لیں میرے سامنے اس نے اس گھٹیا آدمی کے سامنے میرے ساتھ آنے کے بجائے اس کے ساتھ کو ترجیح دی۔۔۔۔۔

سالار سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔۔
بکواس مت کرو۔۔۔۔۔وہ اگر ان سب میں پھنسی ہے تو اسکی وجہ تم ہو۔۔۔۔۔۔
اب مجھے کچھ سوچنے دو تم جاؤ آفس اور کہیں اور جانے کے بجائے مجھے گھر میں ملنا تم۔۔۔۔۔۔

آدم سنجیدگی سے کہہ کر اپنے آفس سے نکل گیا۔۔۔۔

پیچھے وہ بھی غصے سے وہاں سے نکل کر آفس چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

                💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ اماں جان سے مل کر بالاج شاہ کے ساتھ خانزادہ مینشن آئی تھی۔۔۔۔۔
مگر اندر جانے کی ہمت نہیں تھی نا ہی بالاج اندر جانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔

واپس چلتے ہیں ۔۔۔اسے دروازے کی طرف حسرت سے دیکھتا دیکھ کر بالاج نے اسٹیرنگ سنبھالی تھی۔۔۔۔۔
ن۔نہیں۔۔۔۔۔آیت نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔۔اور التجاء کرتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔

کسی دن جان لے لوگی تم میری۔۔۔۔بالاج اس کو دیکھتا افسوس سے بولا۔۔۔۔۔۔

اور گاڑی کو دروازے کی طرف موڑ دیا۔۔۔۔۔۔
آیت کو گاڑی میں بیٹھے دیکھ کر چاکیدار نے دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔۔۔
پورچ میں گاڑی روک کر اس نے دوسری طرف سے آکر آیت کا ہاتھ تھام کر نکالا۔۔۔۔۔۔جبکہ گھبراہٹ کی وجہ سے اس سے ٹھیک سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔۔

بلیک جینز کے ساتھ بلیک ٹی شرٹ اور لیدر کی جیکٹ پہنے
وہ آیت کا ہاتھ پکڑے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔

رات کے نو بجے وہاں سالار اور شفا کے علاوہ سب ہی بیٹھے تھے۔۔۔۔۔

آدم اور عرش کچھ دیر پہلے ہی آئے تھے۔۔۔۔

ان کو اندر آتا دیکھ سب کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔۔سجدہ بیگم اسے دیکھ کر آگے بڑھی۔۔۔۔
اپنوں پر نظر پڑتے ہی وہ بالاج سے ہاتھ چھڑا کر سجدہ بیگم کی طرف بھاگی اور ان کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔

بالاج نے ظبط سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔جہاں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔ایک دم چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

سنجیدگی تو فری آدم اور عرش کے چہرے پر بھی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔آدم کو خاموش دیکھ کر عرش وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔

آیت باری باری سب سے ملنے لگی ۔۔۔۔۔۔جب آدم کے پاس آئی تو ہ بہت گھبرائی ہوئی تھی کہیں وہ اسے دھتکار نا دے پہلے کی طرح۔۔۔۔۔۔

آدم نے بازو کھول کے اس کی مشکل آسان کر دی تھی۔۔۔۔۔آئی ایم سوری بھائی آیم سوری۔۔۔۔اس کے پاس آتے ہی وہ ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔۔
شش میں سب جانتا ہوں ڈونٹ وری ۔۔۔۔

کاش وہ جان جاتی کتنی مشکلوں سے وہ یہ سب ظبط کر رہا ہے۔۔۔۔۔

بیٹا اندر آجاؤ ۔۔۔۔۔سجدہ بیگم نے بالاج کو کھڑا دیکھ کر اندر بلایا۔۔۔۔۔

آیت نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر سرد مہری دیکھ اسے احساس ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ فوراً اپنی نظریں جھکا گئی۔۔۔

امی دو کپ کافی بھجوا دیں ڈرائنگ روم میں ۔۔۔۔تم چلو میرے ساتھ کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔اس نے فروا بیگم کے بعد بالاج سے کہا اور خود ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔

بالاج کا اپنا کام نا ہوتا تو وہ کبھی اس کے ساتھ نہیں جاتا۔۔۔۔۔

دونوں سنجیدگی سے بیٹھے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

میں سنڈے کو پوری بارات کے ساتھ اپنی بیوی کو لینے آؤں گا۔۔۔۔۔بالاج نے سنجیدگی سے آیت کو لانے کا مقصد۔ بیان کیا۔۔۔۔۔۔۔

اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم اسے تمہارے ساتھ رخصت کریں گے۔۔۔۔۔۔

کیوں کہ وہ میری بیوی ہے اور تم مجھے روک نہیں سکتے اسے لے جانے سے۔۔۔۔۔

بالاج نے بھی اسی سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔۔

وہی بیوی جسے بلیک مل کر کے تم نے نکاح کیا۔۔۔۔۔آدم نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ۔۔۔۔کہ وہ سب کچھ جان چکا ہے ۔۔

دور سے دیکھ کر کوئی بھی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اس وقت ایک دوسرے پر لفظوں کی گولہ باری کر رہے ہونگے۔۔۔۔۔بلکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے آپس میں کوئی مشورہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔