Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

۔رونے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں آپ سے ؟
آدم خانزادہ سنجیدگی سے اس کے سامنے کھڑا پوچھنے لگا۔۔۔۔
وہ شام کو اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا اب رات گئے گھر لوٹا تو وہ جائے نماز میں بیٹھی دعا مانگتے ہوئے رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور اس کا اس قدر شدت سے رونا آدم خانزادہ کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔۔۔اس کی دعا مکمل ہوتے ہی وہ اس کے سر پر کھڑا سختی سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
کک کچھ نہیں ۔۔۔۔۔وہ گھبرا کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔
میں نے پوچھا رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔آدم نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا۔۔۔۔۔۔
مج مجھے ابو کی یاد آرہی۔۔۔۔
اپنے فادر کے قاتل کو بچانے کے بعد انکو یاد کرنے کا حق نہیں بنتا آپ کا۔۔۔۔۔آدم سرد لہجے میں بولتا وہاں سے کبرڈ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔اور اپنا ٹراؤزر شرٹ نکال کر واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
پیچھے وہ زمین پر بیٹھتی ہچکیوں سے مزید رونے لگی ۔۔۔۔وہ کیسے اپنا غم بتاتی کسی کو ۔۔۔۔۔۔۔اس کو تو سگے رشتے نے تکلیف دی تھی۔۔۔۔
پندرہ منٹ بعد جب وہ واپس آیا تو وہ ویسے ہی زمین پر بیٹھی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔
اس کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ بیڈ پر سوئی منت کی نیند خراب ہو سکتی تھی۔۔۔۔
آدم بیڈ کی طرف بڑھا اور منت کو اٹھاتا کمرے سے نکلنے لگا ۔۔۔۔۔۔اس کو نکلتے دیکھ وہ گھبرا کر اس کے سامنے آ گئی۔۔۔۔
ک۔۔۔کہا۔۔۔ں جا ر۔۔۔ہے ہیں ۔۔۔۔وہ اس سے سوال کرنے لگی ۔۔۔۔۔
آپ اچھے سے اپنا رونا پورا کر لیں۔۔۔۔۔ڈونٹ وری کوئی آپ کو ڈسٹرب نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔۔
نہ۔۔۔ نہیں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔اس کے جاتے ہی وہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
اللّٰہ پلیز میری مدد کر میں یہ سب برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔میں مر جاؤں گی اللّٰہ میری مشکلیں دور فرما ۔۔۔۔
میں منت اور آدم کے بغیر نہیں جی سکتی۔۔۔۔
وہ دل میں اللّٰہ سے ہمکلام تھی۔۔۔۔۔
آپ مجھے شدید غصہ دلا رہی ہیں ۔۔۔۔۔اب کے آدم نے شدید برہم لہجے میں بولا۔۔۔۔
اچانک پیچھے سے اس کی غصے بھری آواز سن کر وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی دوپٹہ اس کے کندھے سے سرک کر بیڈ پر گر چکا تھا۔۔۔۔وہ گھبرا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔اسے لگا تھا وہ ناراض ہو کر چلا گیا ہے واپس کمرے میں نہیں آئے گا۔۔۔۔
اس کے ماتھے پر بلوں کو دیکھ کر وہ مزید شرمندہ ہو گئی۔۔۔۔اس لئے وہ دھیرے سے قدم بڑھاتی اس کے پاس آئی۔۔۔۔۔وہ خود بھی نجانے تھی وہ کیا کرنے جا رہی ہے۔۔۔
پھر اس نے وہ کیا جو آدم خانزادہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ آگے بڑھتے ہوئے ایڑھی کے بل کھڑے ہوتے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر نیچے کرتی اس کے ماتھے پر لب رکھ چکی تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اس سے دور ہوتی آدم ہوش میں آتا اس کھینچ کر اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کر گیا ۔۔۔۔۔
شفا نے اسکی شرٹ کو سختی سے تھامی تھی۔۔۔۔۔
اور اپنے مرضی پوری کرتا وہ اس سے تھوڑا دور ہوا تھا۔۔۔۔۔
اس نے گہری گہری سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی جبکہ خود اس سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی ۔۔۔۔۔
اتنے پاس آکر آپ میرے جزبات کو بھڑکا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔آدم خانزادہ کی سرگوشی اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔
نہ نہیں ۔۔۔۔وہ۔۔۔میں۔۔۔۔اس سے کوئی بات نہیں بن پائی تھیں اس لئے نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔
اگر آج آپ سے کچھ مانگوں تو ملے گا۔۔۔۔۔۔آدم گھمبیر لہجے میں بولتا اس کی دھڑکنوں کو تیز کر گیا۔۔۔۔
ج۔۔۔جی۔۔۔
آپ کو محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔بوجھل لہجہ جان لیوا تھا۔۔۔۔۔
شفا سے اپنی نظروں کو اٹھانا محال ہو گیا۔۔۔۔۔چہرہ کان کی لو تک سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اٹس اوکے آپ کی اجازت کے بغیر میں کبھی بھی آپ کے قریب نہیں آؤں گا سو جائیں آپ۔۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا
وہاں سے جانے لگا۔۔۔۔۔
شفا کا دل اس کی ناراضگی کا سوچ کر بری طرح دھڑکا تھا۔۔۔۔مگر اس میں ہمت نہیں تھی ہاتھ بڑھا کر اسے روک لے۔۔۔۔۔۔
اس کے سرخ کندھاری چہرے کو کشمکش میں دیکھ کر آدم نے جانے کے بجائے اسے کھینچ کر سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔
آپ بہت جلد مجھے کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔۔۔۔۔۔بری طرح کسی نشے کی طرح میرے اعصاب پر سوار ہونے لگی ہیں ۔۔۔۔۔آپ کی خوشبو مجھے آپ کے پاس آنے پر اکساتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں میں منہ چھپائے دھیمی سی سرگوشی کتنے لگا۔۔۔۔
میرے صبر کا مزید امتحان مت لیں۔۔۔۔میرے جزبات میرے اختیار سے باہر ہو رہے ہیں مگر آپ کی اجازت میرے لیے سب سے اہم ہے۔۔۔۔۔وہ اس کی گردن پر اپنی بئیرڈ رگڑتا اس کے جسم میں سنسنی دوڑا گیا ۔۔۔۔۔
آدم کی بئیرڈز کی چھبن اس کی گردن میں گدگدی کے باعث بن رہے تھے ۔۔۔۔۔
آپ جانتی ہیں آپ کے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
ان آنکھوں میں بس خوشی کے دیپ جلتے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔
ان آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اسے لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
آدم کی آنکھوں میں اسکے بکھرے سراپے کو دیکھ ۔۔خمار اترنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔نا جانے وہ کتنے دنوں سے اس کی قربت کا طلب گار تھا۔۔۔۔۔۔۔اس کی خاموشی اسے مزید گستاخیوں پر اکسا رہی تھی۔۔۔۔
رونے کی وجہ سے پورا چہرہ پہلے ہی لال تھا اس کے لفظوں نے مزید سرخ کندھاری کر دیا تھا۔۔۔۔
آپ کے گال مجھے بری طرح بہکا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے ہاتھ کا انگوٹھا اس کے گال پر پر پھیرتا گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
اور جھک کر اس کے سیدھے گال پر لب رکھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لمس پر شفا نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی۔۔۔۔
آدم اس کے دوسرے گال پر جھکا نرمی سے وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا ۔۔۔۔۔۔کمر میں اس کے ہاتھ کی گردش نے پہلے ہی اسکی سانسیں روک رکھی تھی گال پر اس کے مونچھوں کی چھبن نے مزید اس کے دل کی دھڑکن کی اسپیڈ بڑھا دی تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے آدم کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی مگر آج وہ دور ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ اس کی مزاحمت کو ناکام بناتا اس کے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے گیا ۔۔۔۔۔شفا اس کی جھلسا دینی والی قربت میں سب فراموش کرتی اپنے آپ کو اس سے چھڑانے لگی۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ آدم تو اسی کسی اور ہی جہاں میں لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔وہ اسے چھوڑنے کے بجائے اسے اسی حالت میں بیڈ پر لٹاگیا۔۔۔۔۔۔
اس کی سانسوں کو مدھم محسوس کر کے آدم اس سے تھوڑا دور ہوا۔۔۔۔۔
اور اس کی بند آنکھوں کو چاہت سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔اس کے دور ہوتے ہی شفا نے لمبی سانسیں لینا شروع کر دی ۔۔۔۔۔
اپنی سانسوں کو اعتدال میں لانے کے بعد اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔۔نظریں جا کر آدم کی خمار آلود نگاہوں سے ٹکرائی تو وہ خود کو چھپانے کے لیے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے پر رکھ گئی۔۔۔۔۔
آدم اس کی معصوم حرکتوں پر مسکراتا لائیٹ آف کر کے اس پر جھک گیا۔۔۔۔۔۔
اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر اپنی انگلیاں پھنساتا
وہ اس کی فرار کی ساری راہیں بند گر گیا۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں کوئی رعایت نہیں تھی وہ آج اس کی ہر سانس پر قابض ہو جانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
وہ چاہتا تھا اس کی بیوی کو کوئی تکلیف یاد نا رہے بس اگر کچھ یاد ہو تو ۔۔۔۔۔بس آدم خانزادہ ا ور اس کی قربت۔۔۔۔۔
وہ اس کی گردن سے بال ہٹا کر وہاں اپنے لبوں سے اس کی جان نکالنے کا سامان کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
پلیز نہیں ۔۔۔۔۔وہ گھبرا کر بولی۔۔۔۔شفا نے اپنے ہاتھ چھڑانے چاہے۔۔۔۔۔
مگر آدم اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اس کے لفظوں کو پی گیا ۔
وہ اس کے دھڑکنوں کی گونج اپنے سینے پر محسوس کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ کے دلوں کی دھڑکنوں میں آج ایک طوفان برپا تھا۔۔۔۔۔۔۔ جو آج سب کچھ بہا کر لے جانا چاہتا تھا آج وہ کسی صورت اسے چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بھڑکتے دل کو سکون دینا چاہتا تھا جو صرف شفا کے وجود سے ہی ممکن تھا۔۔۔۔۔۔
آدم نے اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا اور اس کے کندھے سے شرٹ سرکاتا وہاں جھک گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لبوں نے آج شفا کی جان نکالنے کی قسم کھائی تھی وہ مزید برداشت نا کر پاتی اس کے کندھے کو سختی سے تھام گئی۔۔۔۔۔
آدم تھا کہ اس سے دور ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا برسوں کی تشنگی تھی جو پوری ہی نہیں ہورہی تھی ۔۔۔۔وہ اپنی ہر تشنگی مٹا دینا چاہتا ہتھا ۔۔۔۔
شفا اس کے سینے پر زور دے کر پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔۔آدم کی بے تابیاں اور بے قراری سہن کر پانا اس کے بس کی بات نا تھی۔۔۔۔۔۔
آدم نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ سے جکڑ لیے جو اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اس کا ایک ہاتھ اس کے جسم میں گردش کرنے لگا تھا ۔۔۔
سس۔سانس۔۔۔۔ن۔نہں آرہا ۔۔۔۔اس کی بھرائی ہوئی آواز آدم کے کانوں سے ٹکرائیں تو آدم خانزادہ اس کے ماتھے پر لب رکھتا اسے پر سکون کرنے کے لیے لیٹتا سینے میں بھینچ گیا۔۔۔۔۔
اس کے دور ہونے پر بھی اس کی دھڑکنوں کا شور بہت زیادہ تھا۔۔۔۔۔ڈر سے اس کا پورا جسم لرز رہا تھا۔۔۔۔۔مگر وہ آدم کے سینے سے لگی اس کی نظروں سے چھپنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔۔
ڈر رہی ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔وہ اسے پر سکون کرنے کے لئے بالوں میں ہاتھ پھیرتا پوچھنے لگا ۔۔۔
شفا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔اب وہ اس کے نرم لہجے پر دھیرے دھیرے پر سکون ہو رہی تھی۔۔۔
ڈرنا بھی چاہیے آخر میرے اتنے مہینوں کی بے تابیوں کا حساب دینا ہے ۔۔۔۔۔
وہ خمار آلود لہجے میں بولتا اچانک اسے سیدھا کرتا اس کے کندھے پر جھک گیا تھا۔۔۔۔۔
اب کے اسکے لب کندھے سے نیچے کا صفر بہت بے باکی سے طے کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
شفا کانپ کر اپنی سانسیں روک گئ تھی۔۔۔۔۔
ان سانسوں کی روانی کے لیے بہت ضروری ہو گئیں ہیں آپ ۔۔۔۔وہ اپنے لبوں کا لمس اس کےوجود پر چھوڑتا دھیمے لہجے میں بول رہا تھا ۔۔۔۔۔
دنیا کے سامنے سیریس اینگری مین دکھنے والا وہ شخص صرف اس کا تھا ۔۔۔۔اور وہ اس شخص کے دل و دماغ پر راج کرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
اس کی لمس پر وہ بری طرح سرخ ہو رہی تھی۔۔۔
وہ اس کے کان کے پیچھے موجود تل پر بری طرح جھک گیا تھا ۔۔۔اس کو بخشتا وہ دوبارہ اس کے گردن پر جھک گیا ۔۔۔۔۔
اس کے لمس میں بے بہت قراری تھی۔۔۔۔
ا اس کے جسم پر آدم خانزادہ کے لبوں کی گردش نے اس کی رہی سہی قصر پوری کر دی تھی۔۔۔۔
وہ اس کی کمر پر ہاتھ لے جا کر ایک جھٹکے میں اس کی فراک کی زپ توڑ گیا۔۔۔۔۔
شفا نے اس کی شرٹ شدت سے اپنی مٹھی میں بھینچ کی تھی۔۔۔۔۔
جب اس سے خود کو چھڑانا نا ممکن ہو گیا تو اس نے خود کو آدم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ وہ سارے پردے گرا تا اسے خود میں سمیٹتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے دکھ کو اپنی قربت میں بھولنے پر مجبور کرتا اسے سینے میں بھینچ گیا۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
مجھے بیٹی چاہیے ۔۔۔۔۔۔تمہیں پہلے بتا رہا ہوں ۔۔۔۔عرش اس کو سینے پر لٹائے بولنے لگا ۔۔۔۔۔
عقیدت نے اسے گھورنے کی کوشش کی جس نے کل رات سے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا۔۔۔
گھورو مت ۔۔۔عرش اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ماتھے پر لب رکھ گیا ۔۔۔۔۔
عقیدت کی پلکیں لرز گئی ۔۔۔۔ایک سکون کی لہر پورے جسم میں سرائیت کر گئی۔۔۔۔
چلو مان لیا تمہارے بس میں نہیں لیکن تم اللّٰہ سے دعا تو کرسکتی ہو نا۔۔۔۔۔عرش نے مسکین سی شکل بنا کر کہا۔۔۔۔
لیکن میں اللّٰہ سے پہلے اپنے لئے پیارا سابیٹا مانگوں گی۔۔۔عقیدت نے حسرت سے کہا۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔عرش نے نا سمجھی سے کہا۔۔۔۔۔
تاکہ وہ اپنی بہن کا محافظ بنے۔۔۔۔۔بھائی کے بغیر لڑکیاں رل جاتی ہیں ۔۔۔۔
میں سوچتی ہوں اگر آپ نہیں آئے ہوتے نکاح والے دن تو آج میری زندگی کیسی ہوتی۔۔۔۔ایک چھت کے لئے میں ایک نشئی انسان کا ٹورچر سہہ رہی ہوتی۔۔۔۔۔
اس کے لہجے کا درد محسوس کر کے عرش اسے سینے میں بھینچ گیا۔۔۔۔
تم میرے نصیب کی تھی تو کیسے کسی اور کے نکاح میں جاتی اللّٰہ نے تمہیں میرے لئے بھیجا ہے اور ہمیشہ میری ہی رہوگی۔۔۔
اور میں اپنی اولاد کو اتنا مظبوط بناؤں گا کہ وہ کبھی بھی کسی کی ناجائز بات برداشت نہیں کرے گا ۔۔۔۔چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی۔۔۔۔۔
وہ بھاری گھمبیر لہجے میں بولتا اس کے سارے ڈر دور کر گیا۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری اجازت ہے بغیر میری چیزوں کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔۔۔جزا اس کے سر پر کھڑی زرا سختی سے بولی۔۔۔۔
مجھے کسی بھی چیز کو ہاتھ لگانے کے لیے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
سالار سنجیدگی سے بولتا اپنے موبائل میں گم ہو گیا ۔۔۔۔
جزا کو اس کا اس طرح روکھا انداز بہت چھبا تھا۔۔۔۔۔۔
آپ مجھے اگنور نہیں کر سکتے۔۔۔۔اب کے وہ زرا ناگواری سے بولی ۔۔۔۔
سالار نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا اور پر شوخ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
میں نے ایسا بھی نہیں کہا تھا اب۔۔۔۔۔اس کی نظروں سے گھبرا کر وہ جانے لگی ۔۔۔۔۔
مگر سالار نے کھینچ کر اسے گود میں بٹھا لیا تھا۔۔۔۔۔
وہ اس افتاد پر جی جان سے لرزی تھی کہاں اس کا اگنور کرنا برداشت نہیں ہو رہا تھا اب جب اس کی پوری توجہ خود پر تھی تب بھی برداشت نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔
چھوڑیں۔۔۔۔وہ سختی سے بولی۔۔۔۔مگر نگاہیں جھکی ہوئی تھی۔۔۔۔
چھوڑنے کے لئے نہیں پکڑا ۔۔۔۔۔وہ گھبیر لہجے میں بولتا اس کی سانسیں خشک کر گیا تھا۔۔۔۔
اور ویسے بھی ایک ریپسٹ بندے سے کیسے امید کر سکتی ہو۔۔۔۔کہ وہ اتنے پاس آکر تمہیں چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔
اس کی اگلی بات نے جزا کو نظریں اٹھانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔سالار سرد نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
م۔۔۔میں۔۔۔اس وقت ۔۔۔۔غصے۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔۔۔۔
مگر سالار جھک کر اس کے ہونٹوں پر جھک کر اس کی جان نکال گیا ۔۔۔۔۔۔اس کے لمس میں اس قدر سختی تھی۔۔۔۔۔
جزا کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا ۔۔۔۔
اپنی ساری فرسٹریشن اس کے ہونٹوں پر نکال کر وہ اسے بیڈ پر دھکیل کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔اس کے منہ سے غصے کی حالت میں نکلے ہوئے لفظ سالار کو اتنی تکلیف دے گا اسے اندازا نہیں تھا نا وہ جانتی تھی ان سب کا بدلہ آیت سے لیا جائے گا۔۔۔۔
جاری ہے