Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

چار دن کیسے گزرے گئے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔
آج آیت کی بارات اور عرش اور عقیدت کا ولیمہ تھا۔۔۔۔۔۔
شفا آدم کے لائے ہوئے نیوی بلیو کلر کے لہنگے میں فروا بیگم کی دی ہوئی خاندانی جیولری پہنے بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔

منت نے بھی نیوی بلیو کلر کی فراک پہن رکھی تھی جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔وہ فروا بیگم کے ساتھ ہی جا چکی تھی۔۔۔

ان دونوں کی ہر چیز آدم نے خود پسند کی تھی۔۔۔۔۔

فنگشن کا انتظام شہر کے بہترین بینکوئٹ میں کیا گیا تھا ۔۔۔۔

عقیدت اور آیت پارلر جا چکی تھی۔۔۔۔جبکہ جزا اور شفا نے گھر پر تیار ہونے کو ترجیح دی۔۔۔۔۔۔

وہ تیار ہو کر جزا کے کمرے میں آئی تو وہ بھی ریڈ اور وائٹ کومبینیشن میکسی میں ہلکا سا میک اپ کئے ہیل پہن رہی تھی۔۔۔۔۔
شفا کو آتا دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔۔۔۔

آئیں بیٹھے پہلے میں آپ کو تیار کر دیتی ہوں پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر زبردستی شفا کو ڈریسنگ کے سامنے چئیر پر بٹھا چکی تھی۔۔۔۔

نہیں میں تیار ہو گئی ہوں ۔۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی ۔۔۔۔
خاموش بیٹھیں تیار کیسے ہوتے ہیں میں آپ کو بتاتی ہوں۔۔۔۔۔جزا اسے چپ کروا کر اپنے ہاتھوں کی مہارت اس کے چہرے پر دکھانے لگی ۔۔۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تو حیران رہ گئی ۔۔۔۔۔۔
نفاست سے کئے گئے میک اپ میں وہ مزید حسین ہو گئی تھی۔۔۔۔
فکر مت کریں آج تو بھائی کی نظریں آپ پر سے ہٹنے کا نام نہیں لے گی۔۔۔۔۔۔جزا نے شرارت سے کہا تو وہ شرما گئی۔۔۔۔۔

بھابھی آپ کو بھائی بلا رہےہیں ۔۔۔۔۔سالار جلدی میں کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا ۔۔۔۔مگر جزا پر نظر پڑتے ہی اس کے قدم تھم گئے تھے۔۔۔۔۔۔

شفا جی بھائی کہتی کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔۔۔سالار کا ٹھٹکنا جزا نے بہت اچھے سے محسوس کیا تھا ۔۔۔۔۔
مگر وہ اس پر دھیان دیئے بغیر اپنا سامان سمیٹنے لگی ۔۔۔۔آج نا جانے کیوں دل بہت اداس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

سالار قدم قدم چلتا اس کے پیچھے آکر رکا۔۔۔۔۔خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔سالار کی گھمبیر آواز اسے اپنے بہت پاس سے سنائی دی تھی ایک پل کو اس کے ہاتھ تھمے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔۔۔اس کا دل چاہا سالار کے سینے سے لگ جائے ۔۔۔۔۔

اور اگلے ہی پل جیسے وہ اس کے دل کی آوازسن چکا تھا۔۔۔۔اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سیدھا کیا اور اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔۔

دونوں کی دھڑکنیں اس وقت ایک ساتھ دھڑک رہی تھیں ۔۔۔۔
جزا نے بھی اپنے ہاتھ اس کے گرد باندھ دیئے۔۔۔۔۔۔ایک سکون کی لہر سالار خانزادہ کے دل اور روح میں سرایت کر گئی۔۔۔۔۔
جزا نے پہلی بار اپنی انا کو سائیڈ پر رکھ کر سالار کے گرد سختی سے بازوؤں کا حصار باندھ رکھا تھا۔۔۔۔۔جیسے اس سے دور ہونے کا ڈر ہو۔۔۔۔۔۔

سالار کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا وہ لڑکی اس کے سامنے جتنی سخت بننے کی کوشش کرے مگر وہ آج بھی اس سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔۔

تم مجھے بے ایمانی پر اکسا رہی ہو۔۔۔۔۔وہ اس کے کان میں جھک کر جس انداز میں بولا۔۔۔۔۔جزا کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
مگر وہ آنکھیں بند کئے بس اس کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔وہ بس وقت کے تھم جانے کی دعائیں کر رہی تھی۔۔۔۔
دھڑکنوں کا شور کانوں میں سنائی دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کی اس قدر بے خودی دیکھ سالار خانزادہ حیران ہوا تھا۔۔۔۔
جزا یہاں دیکھو۔۔۔۔۔
سالار نے نرمی سے اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی مگر اس نے سختی سے سالار کی شرٹ پیچھے سے تھام رکھی تھی۔۔۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو۔۔۔۔سالار اس کی اندرونی کیفیت سے انجان پریشانی سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔۔

پتہ نہیں ۔۔۔۔۔اس کے لب دھیرے سے ہلے ۔۔۔۔۔
اس کے لبوں کی حرکت اپنے سینے پر محسوس کر کے سالار خانزادہ کو اپنا روم روم سلگتا محسوس ہوا۔۔۔۔

کیا آج بھی وہ محبت زندہ ہے۔۔۔جو کبھی تم میرے لئے محسوس کرتی تھی۔۔۔۔۔۔وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اسے لرزنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔

مگر وہ خاموش رہی لب کچھ کہنے کی حالت میں نا تھے۔۔۔۔۔
بولو جزا۔۔۔۔۔۔سالار نے اس کے چہرہ اپنے سینے سے نکال کر پوچھا۔۔۔۔۔۔

اس کی نم آنکھیں دیکھ اسے اپنا آپ ان نین کٹوروں میں ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
جزا نے اپنی نظریں اٹھا کر دیکھا تو سالار کی بے خود نگاہوں سے اس کی نظریں ٹکرائیں ۔۔۔۔
وہ فوراً اپنا چہرہ جھکانے لگی۔۔۔۔مگر سالار نے اس کا چہرہ تھام کر اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔۔۔۔۔۔

جواب دو مجھے کیا ہوا ہے تمہیں؟
ایوری تھنگ اس اوکے نا۔۔۔۔سالار اس کے چہرے کے گرد ہاتھ رکھتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا پریشانی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔

وہ اسے کیا جواب دیتی۔۔۔کیوں اس کا دل گھبرا رہا ہے وہ خود انجان تھی۔۔۔۔پھر سالار کو کیا جواب دیتی۔۔۔۔۔۔
وہ اس سے خود کو چھڑا کر جانے لگی۔۔۔۔
سالار نے کھینچ کر اس کی کوشش ناکام بنا دی۔۔۔۔۔۔وہ اس افتاد پر اس کے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔
سانسیں ایک دم بے ترتیب ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔اس کے لمس پر اس کے لبوں نے بولنے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔

تم بہت اچھی ہو ۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں تمہارے قابل کبھی نہیں رہا۔۔۔۔۔تم نے اپنے لئے ایک غلط شخص کا انتخاب کیا۔۔۔۔۔
جو تمہیں سوائے تکلیفوں کے کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولتا اس کے جسم کا سارا لہو نچوڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔

شفا نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔وہ شخص کیسے ہر بار اس کی زات کو دھتکار سکتا تھا۔۔۔۔۔۔آنسو نا چاہتے ہوئے بھی گالوں پر بہہ نکلے۔۔۔۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔۔زخم دینے والا ہی انجان بنا اس کی نم آنکھوں میں دیکھتا فکر مندی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔
جزا نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کئے ۔۔۔جو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔۔

ہمیں چلنا چاہیے ۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔

سالار اس کے جانے کے بعد وہاں کھڑا اپنی کی گئی زیادتیوں کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔

وہ جب بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا تھا نا جانے کیوں فاطمہ کا زخمی چہرہ اس کی آنکھوں کے آگے آ جاتا تھا۔۔۔۔۔۔

                     💓💓💓💓💓💓

وہ لال ٹیل لہنگے میں بھاری زیورات پہنے دلہن بنی اس وقت برائڈل روم میں بیٹھی اپنے ہاتھ مسل رہی تھی۔۔۔۔۔۔

مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔فروا بیگم سجدہ بیگم اور فری کے ساتھ مہمانوں کے استقبال کے لئے انٹرنس پر کھڑی تھیں۔۔۔۔۔

ان دونوں کو پارلر سے تھوڑی دیر پہلے ہی عرش لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔

عقیدت تو اطمینان سے بیٹھی تھی تھوڑی گھبراہٹ اس کو بھی تھی پہلی بار زندگی میں دلہن بنی تھی مگر آیت کی حالت دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا وہ کسی بھی وقت لہرا کر گر جائے گی۔۔۔۔۔۔

آیت ریلکس یار کیوں گھبرا رہی ہو سب اچھا ہوگا۔۔۔۔۔عقیدت نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔
بھابھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پتہ نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔۔اسے کل رات کی بالاج سے ہوئی بات یاد آئی۔۔۔۔

کل رات۔۔۔

تھوڑی دیر پہلے ہی بیوٹیشن اسے مہندی لگا کر گئی تھی۔۔۔۔۔
مہندی سوکھنے کے بعد نا جانے کیا سوچ کر اس نے کبرڈ میں چھپایا ہوا موبائل نکالا۔۔۔۔۔اور آن کرتے ہی بالاج کے انگنت میسجز اور کالز لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

اس کی بے باکی بھرے میسجز دیکھ کر آیت کے گال کان کی لو تک سرخ ہوئے تھے اس نے موبائل کا سیلفی کیمرہ آن کر کے ٹائمر لگا کر سامنے رکھا اور اپنے چہرے کے آگے دونوں ہاتھ رکھ کے دو تین پکچرز بنائیں ۔۔۔۔۔

ان میں سے جو سب سے پیاری پکچر تھی وہ شرارتی مسکان ہونٹوں پر سجائے بالاج کے نمبر پر سینڈ کر دی۔۔۔۔۔

میسج سینڈ ہوتے ہی اگلے ہی سیکنڈ بالاج کی کال آنے لگی۔۔۔۔۔
اس کا دل زورو شور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے کال کاٹ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال بند کرتے ہی بالاج کا میسج جگمگانے لگا۔۔۔۔۔

اگر نہیں چاہتی کہ میں ابھی تمہارے پاس آجاؤں تو شرافت سے فون اٹھاؤ۔۔۔۔بالاج کا دھمکی بھرا میسج پڑھ کر اس کے ہاتھوں پر پسینہ آگیا تھا۔۔۔۔دوبارہ فون بجنے لگا تو اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسی ہے میری جانم۔۔۔۔۔بالاج شاہ کی گھمبیر آواز پر اس کا چہرہ لال ہوا تھا۔۔۔۔۔

ٹھ۔۔ٹھیک ہو۔۔۔۔۔ایت نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔

لگتا ہے خود کو پور پور میری قربت سہنے کے لئے تیار کر رہی ہو ۔۔۔۔۔خمار آلود لہجے میں بولتا اس کا ماتھا پسینے سے نم کر گیا۔۔۔۔۔۔

اس کی بے باکی پر آیت نے اپنا حلق تر کیا۔۔۔
پلیز۔۔۔۔ مجھ۔۔۔۔ سے ایسی ۔۔۔باتیں مت کریں ۔۔۔۔وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بول کر اس کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔

پھر کیسی باتیں کروں۔۔۔۔۔۔بالاج شاہ کی گھمبیر آواز پر اس نے آنکھیں میچی۔۔۔۔۔

آ۔۔آپ مجھ ۔۔۔مجھ سے۔۔۔۔محبت کرتے ہیں نا۔۔۔۔۔اس نے مان بھرے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔

ہاں یہ خطا میرا دل کر بیٹھا ہے۔۔۔۔۔وہ افسوس بھرے لہجے میں بولتا آیت کو غصہ دلا گیا۔۔۔۔۔

اپنے دل کو کیوں الزام دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔وہ ناراضگی سے بولی۔۔۔۔

کیوں نا دوں الزام دل نادان کو۔۔۔۔
ارادہ دشمنی کا تھا۔۔۔۔مگر محبت ہو گئی۔۔۔۔۔وہ گہری سانس لیتا سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔۔۔

مجھے کچھ کہنا ہے ۔۔۔۔اس کی بات پر آیت نے اپنے آپ کو مظبوط کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔

حکم میری جان یہ غلام آپ کا ہر حکم بجا لانے کے لئے خاضر ہے۔۔۔۔۔ بالاج اس وقت بہت اچھے موڈ میں تھا یا شاید آیت سے بات کرتے ہی اس کی زبان میں شہد گھل جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ میں سالار بھائی۔۔۔۔۔۔
بہتر ہوگا تم ہمارے بیچ کبھی بھی اس شخص کا نام مت لو۔۔۔۔۔اس سے ہر گناہ کا حساب میں لے کر رہوں گا۔۔۔۔تم اس بیچ کچھ نہیں بولو گی۔۔۔۔
مگر میری بات۔۔۔۔۔۔بالاج سنجیدگی سے اپنی بات کہہ کر فون بند کر گیا ۔۔۔۔

وہ کتنی ہی دیر فون کو پریشانی سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔وہ یہ شادی بھی صرف سب کچھ ٹھیک کرنے کے لئے کر رہی تھی۔۔۔۔

ہاں اس کا دل بالاج کے لئے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔مگر جو اس نے آیت کے ساتھ کیا۔۔۔۔اس کا دل شدید ناراض تھا۔۔۔۔۔۔وہ اتنی آسانی سے اسے معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی وہ یہ سب صرف اپنے بھائی کو بچانے کے لئے کررہی تھی۔۔۔۔۔

آیت ٹھیک ہو تم۔۔۔۔۔اسے گہری سوچ میں دیکھ کر عقیدت نے پکارا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں بھابھی۔۔۔۔۔اس نے جلدی سے جواب دیا۔۔۔۔۔۔
اتنے میں جزا اور شفا بھی ایک ساتھ داخل ہوئی تھی۔۔۔
ماشاء اللّٰہ کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ دونوں شفا نے ان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
آپ بھی بہت پیاری لگ رہی ہیں بھابھی۔۔۔۔۔عقیدت نے اس کے دمکتے چہرے پر نظریں جمائے کہا تو وہ مسکرا دی۔۔۔۔۔

جزا اداسی سے بیٹھی سب کو دیکھ رہی تھی جبکہ آیت کا گھبراہٹ سے حال ہی خراب تھا۔۔۔۔۔

عرش خانزادہ ڈارک گرے تھری پیس پہنے سالار کے ساتھ بینکوئٹ میں داخل ہوا تھا ۔۔۔

اس کے بزنس سرکل اور فیملی فرینڈز ریلیٹیو سب شامل تھے وہاں۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد عقیدت کو شفا اور جزا دونوں طرف سے تھامے اسٹیج پر لائی تھیں ۔۔۔۔۔

ان تینوں کی نظریں ہی اپنی اپنی بیویوں پر اٹک گئی تھی ۔۔۔۔۔
آدم نے اپنی بیوی کے معصوم چہرے پر نظر ڈالی جو وہاں موجود سب میں نمایاں نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔

وہ جزا کی موجودگی کی وجہ سے گاڑی میں اسے ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پایا تھا۔۔۔۔۔
یہاں بھی وہ آتے ہی سب میں گم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔

عرش ایک سیڑھی نیچے اترتا عقیدت کا لرزتا ہاتھ تھامتا اوپر لے آیا تھا۔۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ چلتی بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
عرش نے اسے لا کر صوفے پر بٹھایا۔۔۔۔۔۔اور خود بھی کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ابھی بارات آنے میں تھوڑا ٹائم تھا۔۔۔۔

سالار کی نظریں جزا کے اداس چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔۔۔اس کا دل کیا وہ سب بھول کر بس اپنے دل کی مانیں اور اس لڑکی کو خود میں بھینچ لے۔۔۔اسے کسی ایسی جگہ لے جائے جہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی نا ہو۔۔۔۔ایک بار اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھ دے۔۔۔۔۔

آدم کے بلانے پر وہ اپنے خیالوں سے چونکا۔۔۔۔۔اور اس کی طرف چل دیا اس کے جاتے ہی جزا نے ایک نظر اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔

                💓💓💓💓💓💓💓

وہ آیت کے پاس آیا تھا۔۔۔۔۔سالار کو دیکھتے ہی وہ بھاگ کر اس کے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔۔۔اپنی چھوٹی سی بہن کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر اس کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی۔۔۔۔۔

بھائی مجھے نہیں جانا۔۔۔وہ اس کے سینے سے لگی ۔۔۔۔۔بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔

کیوں میری جان سب کو جانا پڑتا ہے شادی کے بعد ۔۔۔۔پریشان مت ہو ۔۔۔۔ہم ہیں نا تمہارے ساتھ۔۔۔۔اس نے اپنے ہاتھ کے پوروں سے اس کے آنسو پونچھے ۔۔۔۔۔۔

آپ ناراض نہیں ہیں مجھ سے؟اس نے نظریں جھکائے پوچھا۔۔۔۔

نہیں میں بلکل ناراض نہیں کیونکہ جو بھی ہوا وہ ہمارے نصیب میں لکھا تھا۔۔۔۔اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں اور بالاج ایک اچھا انسان ہے۔۔۔تم خوش رہو گی۔۔۔۔۔

سالار نے اس کے ماتھے کا بوسہ لیا تھا۔۔۔۔۔۔

بارات کے آنے کا شور سن کر وہ آیت کو آرام کرنے کا کہتا وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔۔
اس کے نکلتے ہی آیت نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔

ڈھول دھماکوں کی آوازیں اندر تک آرہی تھی۔۔۔۔۔اور ان آوازوں کے ساتھ اس کی دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔۔

ابھی بمشکل پانچ منٹ ہی گزرے ہونگے گولی کی آواز کے ساتھ ایک دم لوگوں کی چیخوں کی آوازیں گونج اٹھی تھی۔۔۔۔۔ان آوازوں میں آدم اور عرش کی آواز یں بھی شامل تھیں ۔۔۔۔۔۔

فروا بیگم اور سجدہ بیگم کے چیخنے کی آواز پر وہ لڑکھڑاتے قدموں سے باہر بھاگی تھی۔۔۔۔۔۔اس کا دل کسی انہونی کے احساس سے بند ہونے کو تھا۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔