Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 16
Rate this Novel
Episode 16
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط سولہ
منت کے رونے پر دونوں کی آنکھ ایک ساتھ کھلی۔۔۔۔آدم اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر میں باندھے اس کی گود میں سر دئے لیٹا تھا۔۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ملی تو شفا کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔اس نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ ۔۔۔۔۔
آدم بھی ہوش میں آیا وہ ابھی تک رات والی حالت میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔وہ آرام سے اس کی گود سے اٹھ گیا۔۔۔۔۔اسے شرمندگی بھی ہوئی وہ پوری رات اس کی وجہ سے بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔
شفا کے کراہنے پر اس نے شفا کی طرف دیکھا جو اپنا پاؤں ہلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر پوری رات بیٹھے ہونے کی وجہ سے وہ اکڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔اس نے شفا کا پاؤں پکڑے چیک کرتے کہا۔۔۔۔۔
نہیں پکڑیں پلیز مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔۔۔اس نے روتے روتے کہا۔۔۔۔ٹانگ میں اتنی شدت سے درد ہو رہا تھا کہ برداشت کرنا مشکل ہوگیا ۔۔۔۔
شش چپ رہیں آپ۔۔۔۔۔آدم نے اس کو سیدھا کر کے لٹایا ۔۔۔۔
منت جو رو رہی تھی اپنی ماں کو بھی روتے دیکھ بلکل چپ ہو کر ٹکر ٹکر دونوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
میں آرہا ہوں ابھی آپ لیٹی رہیں ۔۔۔۔۔۔آدم منت کو اٹھاتا
باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
پانچ منٹ بعد واپس آیا دروازہ بند کر کے اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
شفا اسے ہی غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔لمبا چوڑا کسرتی جسامت والا وجیہہ شخص اللّٰہ نے اس کے نصیب میں لکھا تھا۔۔۔۔۔ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ وہ بندہ دل کا بھی اتنا ہی خوبصورت تھا۔۔۔۔۔
آدم نے اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے اسے دیکھ ایک اسمائل پاس کی ۔۔۔۔شفا نے گڑبڑا ہر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔
عین اسی وقت آدم نے اس کا پاؤں پکڑ کر ایک جھٹکا دیا۔۔۔۔مگر اس کی چیخ نکلنے سے پہلے ہی وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
وہ دونوں اتنے پاس تھے کہ اس کی سانسیں شفا کو اپنے چہرے پر محسوس ہونے لگی ۔۔۔۔۔
وہ آدم کی آنکھوں میں اس قدر ڈوب چکی تھی کہ اسے احساس ہی نہیں ہوا وہ کب جھکا اور ان آنکھوں کو چوم لیا۔۔۔۔۔۔
اپنی آنکھوں میں ایک نرم گرم سا لمس محسوس کر کے اس نے سختی سے آنکھیں بند کئے آدم کی شرٹ تھام لی ۔۔۔۔
آدم خانزادہ آرام سے اس سے دور ہوا۔۔۔۔ اور واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد شفا نے آنکھیں کھولی اور اپنا پاؤں ہلا کر دیکھا تو اب درد بہت کم تھا۔۔۔۔
ہونٹوں پر ایک شرمیلی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اے لڑکی ۔۔۔۔۔۔بات سنو۔۔۔۔۔
عقیدت اپنے کمرے سے نکل کر نیچے جا رہی تھی سجدہ بیگم کی آواز پر گھبرا کر رک گئی۔۔۔
ج جی۔۔۔۔۔
میرے بیٹے کی زندگی سے نکل جاؤ ۔۔۔۔۔
کیونکہ ایک بیوی کا رتبہ تو وہ تمہیں کبھی نہیں دے گا اور ویسے بھی میں نے اس کا رشتہ اس کی پسند سے اس کی کزن سے کر دیا ہے اس لیے کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
اس گھر کی بہوں ایک خاندانی لڑکی بنے گی تم نہیں ۔۔۔۔
جتنا جلدی ہو سکے اس گھر سے چلی جاؤ۔۔۔۔
اور یہ گھر کا فرد بن کر گھر میں یہاں وہاں بھٹکنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
سجدہ بیگم کہہ کر رکی نہیں وہاں سے چلی گئیں ۔۔۔
اہانت وہ شرمندگی سے اس کا سر جھک گیا۔۔۔۔۔اسکا دل کیا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے ۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے واپس کمرے میں بھاگ گئی۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
اس کی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر تھی رات وہ روتے روتے زمین پر سو گئی تھی۔۔۔۔
کمرہ بلکل صاف تھا۔۔۔۔وہ اس کمرے میں بہت بار آ چکی تھی اور آج ایک بیوی کی حیثیت سے آنا وہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔
اتنے میں دروازہ بجنے کی آواز پر وہ اٹھی اور جاکے دروازہ کھولا۔۔۔۔
تم ابھی تک ریڈی کیوں نہیں ہوئی۔۔۔۔فری نے اسے بکھری حالت کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
ہو جاؤں گی۔۔۔۔۔وہ کہہ کر بیڈ پر واپس بیٹھ گئی۔۔۔
اٹھو جزا سب انتظار کر رہے ہیں جلدی سے فریش ہو جاؤ۔۔۔۔فری نے اسے زبردستی اٹھا کر واش روم بھیجا ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ باہر آئی تو خلاف معمول آج وہ اورگنزا کے لائٹ پنک سوٹ تھی۔۔۔۔۔
اس نے اپنے بال ڈرائیر سے سکھائے اور بنا میک اپ کئے دوپٹہ اٹھا کر باہر نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔
پیچھے سے فری اسے آوازیں دیتی رہ گئی ۔۔۔۔مگر اس نے نا سننا تھا نا سنا۔۔۔۔
سب ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھے تھے ان میں سالار بھی شامل تھا اس نے بنا کسی کو کوئی سلام کئے اپنی کرسی سنبھال لی۔۔۔۔
اور ناشتہ اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگی۔۔۔۔چہرہ بلکل اسپاٹ تھا۔۔۔۔
سب اس کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔۔
مگر آدم کے اشارے پر سب نے خاموشی سے ناشتہ شروع کیا ۔۔۔
اس کی حرکت پر سالار کو غصہ تو بہت آیا مگر چپ رہا وہ کیوں اپنے مسلے کو کمرے میں کے باہر شو کررہی تھی۔۔۔۔
اسے کبھی بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے فیملی کو تنگ کرنا اچھا مجھ لگا۔۔۔۔۔
عرش نے آس پاس نظریں دوڑائیں مگر وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی ۔۔۔۔۔
وہ ناشتہ کر کے اٹھا اور ور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے اس نے دوسرے کمرے پر اپنا ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہاں سے اپنا سامان وغیرہ اٹھایا اور آفس کے لیے ل گیا ۔۔۔۔
بیٹا ناشتہ ٹھیک سے کرو۔۔۔۔۔فروا بیگم نے اسے دو نوالے زہر مار کر کے اٹھتے دیکھ کر کہا۔۔۔۔مگر اسنے جواب نہیں دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔
سب کو اس کا رویہ بہت چبھا ہاں اس کے ساتھ غلط ہوا تھا مگر اس میں کسی کا بھی قصور نہیں تھا وہ اس کا فروا بیگم کے ساتھ ایسا رویہ کسی کو بھی پسند نہیں آیا۔۔۔۔۔۔
فروا بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے جو سالار نے غصے سے دیکھا اور وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوا تو وہ کمرے م نہیں تھی خالی کمرہ دیکھ اس کا دماغ گھوم گیا۔۔۔۔
سالار نے غصے سے ڈریسنگ ٹیبل پر موجود سامان کو زمین پر پھینکا اور بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔۔۔۔۔۔
اس کا دل کیا جا کر اس لڑکی کا گلہ دبا دے جو خود کے ساتھ ساتھ اسکا بھی تماشہ بنا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
آیت جو سالار کو سب بتانا چاہتی تھی اس کو غصے میں دیکھ کر واپس چلی گئی۔۔۔۔۔
بالاج اب اکثر اس کے ہاسپٹل کے باہر آنے لگا تھا وہ کچھ بولتا نہیں تھا مگر اس کی نظروں سے وہ بہت خوفزدہ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اپنے بھائیوں کو بتانا چاہتی تھی مگر حالات ایسے ہوگئے اسے موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جزا سارا دن اپنے کمرے میں بند رہی اسنے کسی سے بات نہیں کی ۔۔۔۔۔آدم کے کہنے پر کسی نے بھی اس کو نہیں چھیڑا۔۔۔۔
عقیدت بھی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی سب نے اسے بلایا مگر اس نے طبیعت خرابی کا بول کر منع کردیا۔۔۔۔
گھر کا ماحول سوگوار سا ہو گیا تھا مرد سارے اپنے اپنے کام
پر چلے گئے تھے۔۔۔
بھابھی مجھے معاف کردیں مجھے پتہ نہیں تھا رحمان بھائی ہمارے ساتھ ایسا کچھ کریں گے۔۔۔۔
اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں کبھی بھی اس رشتے کا زکر نہیں کرتی مجھے جزا اپنی سگی اولاد کی طرح عزیز ہے میرا یقین کریں۔۔۔۔۔۔
سجدہ بیگم اور فروا بیگم رات کھانے کی تیاری کر رہے تھے۔۔۔۔وہاں سجدہ بیگم نے شرمندگی سے کہا۔۔۔۔
فری بھی وہاں موجود ان کی مدد کر رہی تھی۔۔۔۔
ارے سجدہ کوئی بات نہیں بس یہ نصیب میں تھا تم نے اچھا سوچا تھا تمہارا کوئی قصور نہیں۔۔۔۔
مگر رحمان بھائی کی فیملی نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔ان کو میرا دل معاف نہیں کر پائے گا۔۔۔۔۔ فروا بیگم کی بات پر سجدہ بیگم ان کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
اس نے کمرے میں داخل ہو کر اپنی شرٹ اور شوز اتارے تھے کہ دروازہ بجنے لگا۔۔۔۔اسے لگا سالار ہوگا۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا۔۔۔۔۔
سامنے عقیدت کو دیکھ اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔۔رات کے بارہ بجے اس کا یوں کمرے میں آنا عرش کے لیے کافی شاکنگ تھا۔۔۔۔۔
عقیدت کی پہلی نظر اس کے سینے پر پڑی اور نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ حیرت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ شرمندگی سے ابھی مڑ کر واپس جاتی کہ عرش نے کھینچ کر اسے اندر کیا اور دروازہ بند کر کے اس کے ساتھ لگا دیا۔۔۔۔۔
عقیدت گھبرا کر اس کے بازو پر ہاتھ رکھ گئی مگر اس سے نگاہ ملانے کی ہمت نا ہوئی اور خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد یہ ان کی پہلی تنہائی میں ملا قات تھی۔۔۔۔اس کے کلون کی خوشبو عقیدت کے ہواسوں پر سوار ہونے لگی۔۔۔۔اس نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں ۔۔۔۔
وہ اس سے بہت لمبا تھا اس وقت وہ صرف اس کے کندھے تک آرہی تھی ۔۔۔
وہ سب بھول گئی کہ وہ کس لئے اس کے پاس آئی تھی۔۔۔۔اس کا اثر اس پر اس طرح ہو رہا تھا کہ وہ مزید وہاں رکی تھی گر جائے گی۔۔۔۔۔
عرش خانزادہ کی نظریں اس کی لرزتی پلکوں پر تھیں جو رقص کرتی ہوئی بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔وہ بھول گیا تھا اپنی ماں سے کیا وعدہ اسے یاد تھا تو بس اتنا وہ اس کے نکاح میں ہے اس کی بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔
پلیز ج جان جانے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے خود سے دور نا جاتے دیکھ لڑکھڑاتے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
عرش نے اسے کھینچ کر خود کے پاس کیا اور اس کے بالوں میں سر چھپانے لگا۔۔۔۔
عقیدت کے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔۔۔۔
دھڑکنوں کے شور میں وہ جیسے کچھ سمجھہ نہیں پائی۔۔۔۔
اسے اس قدر بے باکی کی امید عرش سے نہیں تھی ۔۔۔۔
وہ ایک سلجھا ہوا انسان تھا وہ پورا ایک مہینہ اس کے ساتھ کام کرتی رہی ۔۔۔۔
لیکن عقیدت کو کبھی بھی اس کی نظروں میں گندگی نہیں دکھی تھی۔۔۔۔۔
آج وہ ایسی حرکتیں کیوں کر رہا تھا۔۔۔۔۔اگر وہ اسے بیوی مانتا تھا تو اس طرح نکاح کر کے لاوارث نہیں چھوڑ دیتا۔۔
اس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں پوچھا کہ تم کیسی ہو۔۔۔۔اور آج وہ جب خود اسکے کمرے میں آئی تھی تو وہ حق جما رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا اس کی تائی نے صحیح کہا تھا ۔۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگی ۔۔۔
عرش اسکی سوچ سے انجان مدہوشی میں اسکی گردن میں جھکا اپنی ہونٹوں کا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔عقیدت کے کانوں میں سجدہ بیگم تائی امی دونوں کی باتیں مل کر گڈ مڈ ہونے لگیں ۔۔۔۔۔
عرش نے نے کندھے سے اس کی شرٹ کسکائ اور وہاں اپنے لب رکھنے لگا ۔۔۔۔۔
عقیدت کی آنکھیں جھٹ سے کھل گئی اور اس نے اپنا پورا زور لگا کر عرش کو دھکا دیا۔۔۔۔
وہ جو پوری طرح مدہوش تھا اس کے یوں جھٹکنے پر ہوش میں آیا اور حیرانی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
بکھرے بال گالوں پر آنسؤں کے نشان گردن سے کھسکی ہوئی شرٹ ۔۔۔۔۔اسے خود پر افسوس ہوا اور اپنا رخ موڑ لیا۔۔۔۔
می۔۔۔ میں۔۔۔تیار ہو۔۔۔۔عقیدت کی بات پر اس نے حیرت سے مٹ کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔
جو اپنا دوپٹہ اتار کر پھینک چکی تھی۔۔۔۔
عرش حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا وہ کیا سمجھ رہی تھی اور کیوں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
کس بات کے لئے تیار ہو تم۔۔۔۔۔۔وہ سیدھا آپ سے تم پر آگیا تھا ۔۔۔۔
جو جو آپ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔مگر اس کے بعد آپ مجھے طلاق دے دیں گے اور اس گھر سے جانے دیں گے۔۔۔۔۔
وہ جس قدر ڈھٹائی سے بولی تھی۔۔۔۔۔عرش کا دل کیا اس منہ لال کردے ۔۔۔۔وہ اسے کیا سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ جارحانہ تیور لئے اس کی طرف بڑھا اور اس کا منہ دبوچ لیا۔۔۔۔۔اس کے ہاتھوں میں اتنی سختی تھی ۔۔۔۔عقیدت کو لگا اس کا جبڑا ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔
عقیدت نے اسکے ہاتھ پر مارنا چاہا۔۔۔۔۔
سمجھ کیا رکھا ہے مجھے میں حوس کا مارا ہوں جو تمہارے جسم کو استعمال کرنے کے لیے تم سے نکاح کیا اور جب استعمال کریا تو چھوڑ دوں گا۔۔۔بے غیرت ہوں میں ۔۔۔۔بولو۔۔۔۔کس نے اتنا زہر بھرا ہے تمہارے اس دماغ میں ۔۔۔۔
عرش نے انگلی اس کے ماتھے مارتے کہا۔۔۔۔۔
اتنا پولائٹ دکھنے والے عرش خانزادہ کا یہ روپ تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
درد اور گھبراہٹ سے اس کے آنسو آنکھوں سے بہنے لگے ۔۔۔۔۔
تم ہر میرا حق ہے۔۔۔۔۔ میں جب چاہوں تمہارے قریب آسکتا ہوں۔۔۔۔۔ اس کے لیے مجھے تمہاری یا کسی کے اجازت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔
اگر تمہیں ٹائم دے رہا ہوں تو صرف اس بات کو ایکسپٹ کرنے کے لیے کیونکہ مجھ سے آزادی تو تمہیں مر کر بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔
دوبارہ اگر طلاق کا نام لیا تو تمہاری زبان کھینچ لوں گا سمجھی۔۔۔۔۔
عرش نے اپنا غصہ اس پر نکال کر دور جھٹکا۔۔۔۔۔
وہ گرتے گرتے بچی ایک نظر اس پر ڈال کر بنا اپنا دوپٹہ اٹھائے بھاگتی ہوئی نکل گئی۔۔۔۔۔۔
عرش کو لگا وہ پاگل ہو جائے گا وہ اتنا غلط کیسے سوچ سکتی اس کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔
وہ واش روم میں جا کر ٹھنڈے پانی کے شاور کے نیچے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے لیے یہاں اپنی ماں سے کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ بجائے اسے سمجھنے کے خود اس سے جان چھڑا نا چاہتی تھی۔۔۔۔
یہ بات عرش جیسے دھیمے مزاج کے شخص کو غصہ دلانے کے لئے کافی تھی۔۔۔۔ ۔
وہ اس کی پہلی نظر کی محبت تھی اسے اس کی پاکیزگی اور حیا پسند آئی تھی اور آج وہ کیسے اسے ایک حسن پرست شخص سمجھ کر اپنا جان پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
صرف آزادی کے لیے ۔۔۔۔۔
وہ عقیدت کو بہت اچھے سے سمجھ گیا تھا اسے یقین تھا یہ سب اس نے کسی کی باتوں کی وجہ سے کیا ہوگا۔۔۔۔۔
مگر کیا وہ عرش کو نہیں جانتی تھی کیا وہ اسے ایک ایسا انسان سمجھتی تھی جو صرف جسم کا بھوکا ہو ۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
وہ کافی دیر تک انتظار کرتا رہا مگر ایک بجنے ہر بھی وہ کمرے میں نہیں آئی تو وہ اپنے کمرے سے نکل کر جزا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ لاک تھا مگر سامنے بھی سالار خانزادہ تھا جسے ایسے کام میں مہارت حاصل تھی اس نے ایک پن کی مدد سے لاک کھولا اور کمرے میں داخل ہوگیا۔۔۔۔۔
جزا پورے شان سے اپنے بیڈ پر لیٹی تھی نیند میں تھی۔۔۔۔
وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس گیا ۔۔۔۔
اور اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔
خود کو نیند میں ہواؤں میں محسوس کر کے اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو وہ خود کو سالار کے بازوؤں میں پایا۔۔۔۔
گھٹیا انسان چھوڑو مجھے نیچے اتارو۔۔۔۔وہ چیخی تھی۔۔۔۔
آدھی رات کو اس کا یوں بنا ڈرے چیخنا سالار کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔۔۔۔۔
اب آواز نہیں آنی چاہیے تمہاری۔۔۔۔۔سالار سرد لہجے میں بولتا اپنے کمرے میں داخل ہوا اور اسے بیڈ پر اتار۔۔۔۔
جزا غصے میں اس تک آئی اور اس کے سینے پر مکے برسانے لگی۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے اٹھانے کی ۔۔۔۔۔
سالار نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔بلیک کلر کے نائٹ سوٹ پہنے وہ بہت کیوٹ لگی رہی تھی ۔۔۔۔
سالار نے اس کے ہاتھ تھام لئے اور کھینچ کر اسے پاس کیا اور اسکے ہونٹوں پر لب جمائے اپنی تشنگی مٹانے لگا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
