Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

جج صاحب کے آنے پر کب کاروائی شروع ہوئی ۔۔۔کیا باتیں ہو رہی تھیں اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔اسے بس اس وقت تین مختلف آوازیں کان میں گونجتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
بھاگ۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔ بیٹا ۔۔۔شفا میری بچی۔۔۔۔ بھاگ
۔۔۔جاؤ یہ بھیڑیے تمہیں۔۔۔۔ نوچ لیں گے میری بچی بھاگ جاؤ۔۔۔
میری۔۔۔ فکر ۔۔۔مت کرو بیٹا بھاگ جاؤ۔۔۔
اشفاق صاحب خون میں لت پت پڑے اٹکتے ہوئے بول رہے تھے۔۔۔۔
آپ میری بیوی ہیں آدم خانزادہ کی بیوی آپ کمزور نہیں ہیں بہادر بنے میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں ۔۔۔
نفرت ہے تم باپ بیٹی سے مجھے ۔۔۔اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو تمہاری یہ تصویریں سوشل میڈیا پر گھومیں گی۔۔۔۔۔
اور تمہارا وہ شوہر میرے لوگوں کی ایک گولی کی مار ہے۔۔۔
شفا۔۔۔۔آدم نے اسے دھیرے سے پکارا۔۔۔۔
مگر وہ اس قدر بری طرح خیالوں میں غلطاں تھی کہ آدم کی آواز نا سن سکی ۔۔۔۔۔
آدم اس کا لرزنا بہت اچھے سے محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔اس نے دوبارہ ہلکا سا اس کا بازو پکڑ کر پکارا۔۔۔
وہ آنسؤں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔۔وہ اس کا درد سمجھ سکتا تھا لیکن یہ کام تو کرنا ہی تھا ورنہ ان مجرموں کو شہ مل جاتی۔۔۔۔آدم خانزادہ کواپنا آپ ان آنکھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔۔
اٹھیں جائیں جج صاحب جو بھی پوچھیں سب سچائی سے جواب دینا ہے۔۔۔۔ڈریے گا مت میں یہیں بیٹھا ہوں۔۔۔۔آدم اسے حوصلہ دیتا آگے کی طرف اشارہ کرگیا۔۔۔۔
وہ لرزتی ٹانگوں سے اٹھی اور اس مخصوص جگہ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
کیا نام ہے آپ کا۔۔۔۔شہریار آفندی نے پیشہ ورانہ انداز میں پوچھا۔۔۔۔
شفا آدم خانزادہ ۔۔۔۔اس نے دھیرے سے جواب دیا ۔۔۔۔آدم کے ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔
اشفاق احمد آپ کے کیا لگتے تھے۔۔۔۔
میرے ابو۔۔۔
اٹھارہ مارچ کی رات کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔شہریار کے پوچھنے پر اس نے سامنے اپنے باپ کے قاتل کو دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔
اس نے مڑ کر دائیں طرف بیٹھے آدم کو دیکھا جو آنکھوں سے اسے بولنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔۔
مگر اس کی نظر پیچھے موجود ایک وجود پر اٹک گئی جو اسے تنزیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس نے گھبرا کر نظروں کا زاویہ بدل لیا۔۔۔۔
اٹھارہ مارچ کی رات کیا ہوا تھا۔۔۔۔شہریار نے دوبارہ پوچھا۔۔۔۔
میں اپنے۔۔۔ اپ۔۔اپنے ابو۔۔۔کے ساتھ۔۔۔رات۔۔۔ک کھانا کھا رہی تھی۔۔کہ اچانک دو نقاب پوش لوگ ہمارے گھر میں گھس آئے۔۔۔۔۔
انہوں نے ابو ۔۔۔۔سے ساری قیمتی چیزیں مانگی ۔۔۔مگر ابو۔۔۔نے منع ۔کر دیا اور ان سے مزاحمت کرنے لگے۔۔۔۔
اس دوران ان نقاب۔۔۔ پوشوں نے ابو پر گو۔۔گولی۔۔۔چلا دی۔۔۔
وہ آنسؤں کے درمیان اٹکتے ہوئے انہیں بتانے لگی۔۔۔۔آدم حیران تھا۔۔۔
کیا ان دونوں میں سے ایک افضل ملک بھی تھا۔۔۔شہریار نے دوبارہ پوچھا ۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے نفی میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔۔آدم کو سو والٹ کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔
کیا اس رات آپ کے بابا کا قتل افضل نے کیا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔
اس رات افضل آیا تھا آپ کے گھر؟
نہیں ۔۔۔۔
اس کے جواب پر وہاں موجود کچھ لوگوں کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
اور آدم اور شہریار حیران پریشان تھے۔۔۔۔
کیونکہ آدم افضل کی پکچر شفا کو دکھا کر پہلے ہی پوچھ چکا تھا اس سے۔۔۔تو آج جھوٹ بولنے کی وجہ اسے سمجھ نہیں آئی۔۔۔
ایک دم غصے کی ایک لہر اسے اپنے جسم میں اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
وہ لرزتی ٹانگوں سے وہاں کھڑی تھی۔۔۔۔
شفا کی گواہی کی وجہ سے فیصلہ افضل کے حق میں ہوا تھا۔۔۔۔
فیصلہ ہوتے ہی وہ بنا کسی کی طرف دیکھے شہریار کو اشارہ کرتا شفا کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ سختی سے تھامتا کمرہ عدالت سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
رات دیر سے وہ گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔۔اس کا دل بار بار اماں جان کے کمرے کی طرف ہمک رہا تھا جہاں اس کی بیوی چھپی بیٹھی تھی۔۔۔۔
اس نے خود پر ظبط کے کڑے مراحل بٹھائے اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
کمرے میں آکر وہ بنا لائٹ آن کیے واش روم چلا گیا تھوڑی دیر بعد وہ صرف ایک ٹراؤزر میں واپس آیا اور بیڈ پر اپنی جگہ پر آکر لیٹ گیا۔۔۔۔ایک دم اسے کچھ محسوس ہوا۔۔۔۔
ہاتھ بڑھا کر دیکھا تو وہ کوئی وجود تھا۔۔۔۔۔اسے سمجھنے مٹ ایک سیکنڈ نہیں لگا وہ کون ہے۔۔۔ایک دم اسے کھینچ کر اپنے پاس کیا۔۔۔۔اور اسے سختی سے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔۔
دو دن اس سے دور رہا تھا زندگی ویران سی ہو گئی تھی۔۔۔۔اور آج اسے اپنے کمرے میں دیکھ اس کی تمام تھکاوٹ اترتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
وہ جو نیند کی وادیوں میں گھوم رہی تھی کسی کے کھینچنے پر بھوکلا کر اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔اسے اپنی ہڈیاں چٹختی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اتنی سختی تھی بالاج کے لمس میں ۔۔۔۔
درد ہو رہا۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی۔۔۔۔
بالاج اس تھوڑا سا دور ہوا مگر اسے چھوڑا نہیں ۔۔۔۔اور ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ آن کردی۔۔۔۔
نائٹ بلب کی ہلکی روشنی میں اس کا چہرہ بالاج شاہ کے سامنے تھا
سختی سے میچی ہوئی آنکھیں اور اور گلابی ہونٹ ۔۔۔۔
اسے کسی اور ہی جہاں میں کے جا رہا تھا۔۔۔۔
اس کی نظریں بے تابی سے آیت کے چہرے کا طواف کررہی تھی۔۔۔۔۔
اس کی لرزتی پلکوں کو وہ خمار آلود نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
آیت بنا آنکھیں کھولے خود کو آہستہ سے چھڑانے لگی۔۔۔۔۔
کیوں ڈر سے بند کرتی ہو آنکھیں ۔۔۔۔
یقین کرو جانم کوئی چومنے سے نہیں مرتا۔۔۔۔۔
وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اس کی بند آنکھوں میں لب رکھ کے دور ہوا تھا۔۔۔۔
آیت جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول کر خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
نیند سے جاگنے کی وجہ سے آنکھیں گلابی ہو رہی تھی۔۔۔۔
حسن دیکھیں گے تیری آنکھوں کا۔۔۔
کچی نیند سے جگا جگا کر تجھے۔۔۔۔
وہ اس کے گردن میں جھکے کان میں دھیمی سرگوشی کر گیا۔۔۔۔۔
دل شرارت پر آمادہ تھا اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر اسے خود پر کنٹرول نہیں کر پارہا تھا۔۔۔۔
اس کے لب سرسراتے ہوئے گردن کا طواف کررہے تھے۔۔۔
ب بالاج۔۔۔۔اس کے لمس اور بے باک لفظوں سے گھبرا کر اس نے پکارا۔۔۔۔۔۔
بالاج نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا جو بہت گھبرائی ہوئی سرخ چہرے سے اسے کوئی گڑیا ہی لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جی جان بالاج۔۔۔۔اس نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے چہرے پر پھیرتے پوچھا۔۔۔۔۔
مج مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔وہ منہ بسور کر بولی۔۔۔۔اس کا اتنے پاس آنا اس کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
میں دو راتوں سے سویا نہیں ہوں۔۔۔۔وہ اپنے ہونٹوں کا لمس اس کے چہرے پر چھوڑتا گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
نظریں بار بار اس کے ہونٹوں پر اٹک رہی تھیں ۔۔۔۔
چھوڑیں۔۔۔۔۔وہ زرا اس کی نظروں سے گھبرا کر سختی سے بولی۔۔۔۔
نا چھوڑا تو۔۔۔۔بالاج نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔۔۔
میں کل اماں جان کے کمرے میں سو جاؤں گی۔۔۔۔اس نے بالاج کو ڈرانا چاہا۔۔۔۔
اور اس کا تیر بلکل نشانے پر لگا تھا۔۔۔۔
جان نا لے لوں تمہاری اگر آج کے بعد اماں جان کے کمرے میں سوئی تو۔۔۔۔بالاج نے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔
اگر آپ نے تنگ کیا تو میں سچ میں کل واپس کمرے میں آؤں گی ہی نہیں ۔۔۔۔۔وہ اس بار زرا اترا کر بولی۔۔۔۔دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی اس بات کی کہ وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔۔۔۔
اوکے ایک شرط پر چھوڑوں گا ۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا
مجھے قبول ہے۔۔۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔۔۔وہ بس اسے دور کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔اسے اپنی سانسیں تیز رفتار سے چلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
پکا تم مکر نہیں سکتی پھر۔۔۔
پکا۔۔۔۔نہیں مکروں گی ۔۔۔۔
مجھے کس کرو۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا پر شوخ لہجے میں بولا۔۔۔۔
اس کی بات پر آیت کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔۔۔
کتنے وہ ہیں آپ ۔۔۔۔وہ نظریں چرا کر بولی ۔۔۔گال شدید لال ہو گئے تھے۔۔۔۔
کیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔بالاج نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔جبکہ آنکھیں چمک رہی تھی۔۔۔۔یہ پہلی رات تھی جب وہ نارمل ہسبینڈ وائف کی طرح بات کر رہے تھے ۔۔۔۔اور بالاج کو یہ سب اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ بس وقت یہیں رک جائے ۔۔۔۔۔
بے شر۔۔۔۔۔اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی بالاج جھک کر اس کے الفاظ اچک گیا۔۔۔۔
وہ اس کی بڑھتی گستاخیوں پر شرم سے آنکھیں میچ گئی۔۔۔۔۔
بالاج اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا اسے کھینچ کر اپنے سینے میں بھینچ گیا۔۔۔۔۔
سوجاؤ۔۔۔۔۔بالاج دھیرے سے بولتا اس کے بالوں میں لب رکھ کر سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔۔۔
آیت نے ایک گہری سانس لی اور سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔پتہ نہیں اس نے جو فیصلہ کیا تھا وہ ٹھیک تھا یا نہیں مگر وہ اپنی فیملی کو کسی بھی صورت اس الزام سے نجات دلانا چاہتی تھی۔۔۔اسی لئے وہ بالاج کے سامنے خود کو نارمل ظاہر کر رہی تھی ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
اس کی تیز ڈرائیونگ اس کے شدید غصے میں ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اور وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی مسلسل ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔
وہ جب بھی غصے میں ہوتا تھا اپنا غصہ انتہائی سنگین جرم میں بند مجرموں پر اتارتا تھا۔۔۔۔
اور آج تو اس کے ساتھ وہ ہستی تھی جو اس کے غصے کی اصل وجہ تھی مگر وہ چاہ کر بھی اسے اپنا غصہ نہیں دکھانا چاہتا تھا۔۔۔۔
چپ ہو جائیں وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔مگر شفا کی ہچکیوں میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
میں نے کہا چپ ہو جائیں آپ کو بات سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔
آدم خانزادہ مزید اپنے غصے کو کنٹرول نہیں کر پایا تھا اس لئے سائیڈ پر گاڑی روک کر اس پر چیخا تھا۔۔۔۔
شفا اس کی ڈانٹ پر سہم کر اسی کے سینے میں چپ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
آدم ایک دم ٹہر گیا۔۔۔۔۔اسے اپنے سینے پر اس کے آنسو بہت بری طرح سے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ اس کے شرٹ کو مٹھی میں بھینچے بہت زیادہ رو رہی تھی۔۔۔
آدم نے اس کے گرد بازو باندھ دئیے اور اسے رونے دیا۔۔۔۔۔
جب روتے روتے اس کے آنسو ختم ہو گئے تو وہ آہستہ سے اس کا حصار توڑ کر دور ہوئی۔۔۔۔۔
آدم نے ٹشو نکال کراس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
شفا نے بھیگی نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ ٹشو اس کے ہاتھ سے لیکر اچھے سے اپنا چہرہ صاف کر گئی۔۔۔۔۔
اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔
آدم کچھ نہیں بولا دوبارہ ڈرائیونگ اسٹارٹ کر کے ریسٹورنٹ کے راستے پر گاڑی ڈال دی۔۔۔۔۔۔۔
مجھے بھوک نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ریسٹورنٹ دیکھ کر شفا نے دھیرے سے کہا۔۔۔۔۔
آج وہ صرف اپنی عزت بچانے کے لئے اپنے باپ کے قاتل کو پہچاننے سے انکار کر چکی تھی وہ کیسے کچھ کھا سکتی تھی۔۔۔۔
آپ کو بھوک نہیں مگر مجھے ہے۔۔۔۔۔اندر چلیں وہ اس کا ہاتھ پکڑتا اندر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں سینڈ فلور پر ایک پر سکون جگہ پر بیٹھے تھے۔۔۔۔جہاں سے باہر کا ویو بہت خوبصورت نظر آرہا تھا۔۔۔۔
شام کے چھ بج رہے تھے۔۔۔۔۔اور سمندر کے کنارے بنے اس ریسٹورنٹ سے سمندر کا منظر بہت خوبصورت نظر آتا تھا۔۔۔۔
کیا کھائیں گی۔۔۔۔آدم نے مینیو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔
لال آنکھیں سوجھی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔
چھوٹی سی ناک بھی مسلسل رونے کی وجہ سے سرخ تھی۔۔۔۔
آدم نے اپنی مرضی سے آرڈر دیا اور اس کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
شفا بار بار اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھتی اور ہچکی لیتی ۔۔۔۔۔اور کوئی اس وقت آدم خانزادہ سے پوچھتا وہ کیسے خود پر ظبط کر کے بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔
آدم نے پانی کی چھوٹی سی بوتل کھول کر اس کی طرف بڑھائی ۔۔۔۔۔اس نے جلدی سے وہ بوتل تھام لی۔۔۔۔
اور منہ سے لگا کر ایک ہی سانس میں ختم کر گئی۔۔۔۔وہ بس کسی بھی طرح اپنے آنسوؤں کو روکنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔جو بار بار نکل کر باہر آرہے تھے۔۔۔۔۔۔
پانی کا ایک قطرہ اس کے توڑی کے خم پر رک گیا تھا۔۔۔۔
اس کو دیکھ کر آدم خانزادہ کو اپنے گلے میں شدید پیاس کا احساس ہوا۔۔۔۔۔
اس نے دوسری بوتل اٹھا کر منہ سے لگا لی۔۔۔۔۔
اس کے بعد بھی اس کی پیاس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔
آدم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی توڑی پر موجود قطرے کو اپنے انگھوٹے سے أچک لیا اور اپنے ہونٹوں سے لگا کر اپنی پیاس بجھانے کا انتظام کیا۔۔۔۔
اس کی اس بے باک حرکت پر شفا کی پلکیں لرزی تھیں ۔۔۔۔وہ اپنی گردن مزید جھکا گئی۔۔۔۔۔
ویٹر کے کھانا سرف کرنے پر آدم نے گول گپے کی پلیٹ اس کے سامنے کی ۔۔۔۔
مجھے نہیں کھانا۔۔۔۔ اس نے دھیرے سے کہا۔۔۔۔
آدم نے ایک پلیٹ میں چائنیز رائس اور چکن جلفریزی نکال کر اس کے سامنے رکھی ۔۔۔
اس نے پھر نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
جب تک یہ سارا ختم نہیں کریں گی میں آپ کو گھر نہیں لے کر جاؤں گا۔۔۔۔آدم سختی سے کہتا اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔۔۔۔جس کا مطلب تھا وہ کچھ سننا نہیں چاہتا۔۔۔۔
اور ویسے بھی وہ صرف اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے لئے یہاں آیا تھا تاکہ وہ گھر جا کر اس سے نرمی سے وجہ پوچھ سکے۔۔۔۔ورنہ جتنا غصہ اس وقت اس کو تھا اس سے کوئی بعید نہیں وہ اسے اچھا خاصا ڈانٹ دیتا۔۔۔۔۔
وہ بھی آدم کے ڈر سے آہستہ آہستہ کھانے لگی ۔۔۔
وہ کب سے سامنے بیٹھی عورت کی نظریں آدم اور خود پر محسوس کررہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹائلش بلیک پینٹ کے ساتھ ریڈ شرٹ پہنے بلیک ہیل کے ساتھ وہ لئیر کٹنگ میں کٹے ہوئے بالوں میں وہ کوئی ہیروئن ہی لگ رہی تھی۔۔۔
مگر شفا کو اس کی نظریں بہت زہر لگی جو آدم کو دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔شفا نے آدم کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔کیونکہ وہ مزید اس عورت کی نظریں برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔
چلتے ہیں ۔۔۔وہ ویٹر کو بل کا اشارہ کرتا اٹھ گیا ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد آدم اس کا ہاتھ تھامتا نکلا تھا۔۔۔۔۔
مگر ان ہاتھوں میں نرمی اب بھی نہیں آئی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔