Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 18
Rate this Novel
Episode 18
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط اٹھارہ
وہ ابھی گھر جانے کے لئے ہسپٹل سے نکلی تھی۔۔۔کہ کسی نے اسے کھینچ کر دیوار سے لگایا۔۔۔۔
یہ پارکنگ ایریا تھا دور دور تک کوئی نہیں تھا اس کی دوست نے اس کو گھر چھوڑنا تھا اس لیے وہ پارکنگ میں اس کا انتظار کرنے آئی تھی۔۔۔۔
مگر بالاج کو دیکھ کر ڈر سے اس کی آنکھیں پھٹ گئی تھی۔۔۔۔
ہیلو پیاری لڑکی۔۔۔۔لگتا ہے مجھ سے چھپنے لگی ہو۔۔۔۔
مگر تم جانتی نہیں بالاج شاہ کی نظروں سے بچنا نا ممکن ہے۔۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے ہر انگلی پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔یہ اس کا پسندیدہ عمل تھا ۔۔۔۔۔
مگر اس کی یہ حرکت آیت کو انتہائی ناگوار گزرتی تھی اسے اپنے جسم میں چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔
کون ہو آپ کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔۔۔۔۔وہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لئے بولی۔۔۔۔
وہ ٹھیک سے پڑھائی پر بھی فوکس نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔۔
گھر سے نکلتے ہوئے ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا۔۔۔۔۔
کہ کہیں وہ پھر نا آ جائے۔۔۔۔
مارش میلو بہت پسند ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔آیت کو دیکھ کر شرارت سے اپنی آنکھ ونک کرکے بولا۔۔۔
اس کی بات آیت کے کے سر سے گزر گئی۔۔۔۔
میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔اگر مجھے کوئی غلطی ہوئی ہے تو۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں اور میرا پیچھا چھوڑ دیں ۔۔۔۔وہ غصے سے اسے دھکا دیتی بولی تھی۔۔۔۔۔
بالاج شاہ کو اس کا دور جھٹکنا بہت برا لگا تھا۔۔۔۔
وہ غصے میں اس کی طرف بڑھا اور اس کا بازو جھکڑ کر اس پر جھکا۔۔۔۔۔
آئیندہ اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھنا ۔۔۔۔ورنہ ان ہاتھوں کو جھڑ سے کاٹ کر پھینکنے میں وقت نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
پیچھے وہ روتی ہوئی وہاں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ جب سے آیا تھا گہری سوچ میں تھا۔۔۔۔
وہ شفا کے ابو کے قاتل کو گرفتار کر چکا تھا۔۔۔۔۔ اور کورٹ میں شفا کو گواہی دینی تھی۔۔۔۔۔
مگر وہ جانتا تھا وہ بہت معصوم اور ڈر پوک ہے اس لیے وہ ابھی اس کو ان سب سے دور رکھ رہا تھا۔۔۔۔
اور آج جو کچھ تھانے میں ہوا وہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
آپ کی چائے۔۔۔۔۔؟؟
شفا کی آواز پر اس نے چونک کر دیکھا۔۔۔۔۔کالے شیفون کے فراک میں اس کا دودھیا چہرہ چمک رہا تھا۔۔۔۔
ادھر آئیں اس نے شفا کو پاس بلایا ۔۔۔۔۔۔
وہ جھجھکتی ہوئی اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔۔
ایک ہفتے بعد آپ کو کورٹ چلنا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔۔اس نے شفا کا ہاتھ تھام کر بات شروع کی۔۔۔۔۔
شفا نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
آپ کو جج کے سامنے وہ سب کچھ بتانا ہے جو اس رات ہوا تھا کیسے آپ کے ابوکا قتل ہوا سب۔۔۔۔۔
آدم اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو اچھے سے دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
مگر م میں کیسے جا جا سکتی ہوں۔۔۔۔وہ گھبرا کر پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔۔۔۔۔بھروسہ رکھیں مجھ پر۔۔۔۔
مجھے نہیں جانا پلیز۔۔۔۔۔۔
مجھے ان کے سامنے نہیں جانا وہ وہ مجھے لے جائیں گے مجھے نہیں جانا۔۔۔۔
وہ ہزیانی ہو کر چیخنے لگی ۔۔۔۔۔
آدم نے کھینچ کر اسے سینے سے لگالیا۔۔۔۔
وہ اس کے سینے سے شرٹ کو مٹھی میں دبوچے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔
وہ بہت خطر ۔۔۔۔خطرناک ہیں ۔۔۔۔۔وہ وہ مجھے آپ سے دور کر دیں گے۔۔۔۔۔
وہ اس کے سینے سے لگی بولی۔۔۔۔۔
آدم کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔۔وہ بچہ نہیں تھا وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ چکا تھا وہ شفا کا چپ چپ۔کر اسے دیکھتا تھا۔۔۔۔۔
مگر وہ چاہ کر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے سب پریشان مت ہوں۔۔۔۔۔میں کبھی بھی آپ کو خود سے دور نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ آدھی رات کو سب کے سونے کی یقین دہانی کر کے اچھے سے چادر سے خود کو کور کرتی اپنے کمرے سے نکلی ۔۔۔۔۔
اور آرام آرام سے سیڑھیاں اترتی نیچے آئی چاروں طرف اندھیرا تھا۔۔۔۔
وہ اندھیرے میں راستے کا تعین کرتی پیچھے بنے گارڈن کی طرف آئی جہاں ایک چھوٹا سا دروازہ باہر کی طرف کھلتا تھا۔۔۔۔
ایک ہفتہ پہلے ہی وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے ایک چاکیدار کو یہ راستہ استعمال کرتے دیکھ چکی تھی اور بڑی مشکل سے چابی بھی چرا لی تھی۔۔۔۔
اور آج موقع ملتے ہی وہ یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
کیونکہ وہ اور احسان نہیں چاہتی تھی ان لوگوں کا نا اپنی وجہ سے سجدہ بیگم کو پریشان کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ صاف دیکھ سکتی تھی اپنی وجہ سے ماں بیٹے کے بیچ کے تناؤ کو ۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ عرش نے اس سے شادی کیوں کی۔۔۔۔
مگر وہ کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
نا وہ خود کو اس خاندان کے قابل سمجھتی تھی۔۔۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چابی سے تالا کھولا اور جلدی سے دروازہ کھول کر نکلنے لگی ۔۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔اس نے سرد لہجے میں پوچھنے پر عقیدت نے گھبرا کر مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔عرش سینے پر ہاتھ باندھے اسے ہی سرخ انگارا آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
عقیدت کے ہاتھوں سے چابی زمین پر گری۔۔۔۔۔
کہاں جارہی تھی تم۔۔۔۔۔
عرش نے دوبارہ پوچھا تو ۔۔۔۔۔اس نے جلد ہی خود کو کمپوز کر کے عرش کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔
میں اپنے گھر واپس جا رہی۔۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔جبکہ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ نکل کر باہر جائے گا۔۔۔۔۔
کونسا گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔عرش نے بھی سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔
وہی گھر جہاں سے آپ مجھے لائے تھے۔۔۔۔۔
وہ گھر تمہارا ہوتا تو وہ لوگ تمہیں بے عزت کر کے اپنے نشئی بیٹے کے پلے نہیں باندھ رہے ہوتے۔۔۔۔۔
اس نے بھی ترکی با ترکی جواب دیا۔۔۔۔دل تو کر رہا تھا گلا دبا دے اگر وہ عین وقت ہر نہیں پہنچتا تو کیا ہو جاتا۔۔۔۔۔
میں جہاں بھی جاؤں آپ کو کوئی حق نہیں مجھ سے سوال جواب کرنے کا مجھے اس گھر میں نہیں رہنا تو نہیں رہنا وہ ۔۔۔۔کہہ کر دوبارہ اس دروازے سے نکلنے لگی۔۔۔۔
مگر عرش نے ااس کا بازو سختی سے جکڑا اور کھینچتے ہوئے اپنے کمرے میں لے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
حق کی بات کر رہی ہو تم آج میں تمہیں بتاؤں گا میں کیا حق رکھتا ہوں تم پر ۔۔۔۔۔
وہ اسے بیڈ پر دھکا دیتا اپنی شرٹ اتارنے لگا ۔۔۔۔۔
اس کے لیے یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ اگر وہ گھر سے نکل جاتی تو وہ کہاں ڈھونڈتا اس کو ۔۔۔۔
وہ جو اپنی ماں سے اس کے لیے لڑ رہا تھا کیا سوچتی ہو۔۔۔
کیا عزت رہ جاتی اس کی گھر میں ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
