Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

لیکن افضل کے مطابق تو گولی آپ نے چلائی تھی۔۔۔۔۔آدم خانزادہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔۔
یہ دیکھو۔۔۔۔اس نے ایک ویڈیو اس کے سامنے چلائی۔۔۔جس میں ایک شخص کہہ رہا تھا کہ تارا ملک نے اشفاق کا قتل کیا۔۔۔۔۔

یہ یہ جھوٹ بول رہا ہے یہ افضل ملک ہے ہی نہیں اور جس وقت اشفاق کا قتل ہوا دس بجے میں اس وقت اپنی فرینڈ کی بیٹی کی برتھڈے پارٹی میں تھی ۔۔۔۔

اس نے جلدی سے صفائی دی۔۔۔۔جبکہ گھبراہٹ سے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا۔۔۔۔۔

آدم نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔

آپ کو کیسے پتہ اشفاق احمد کا قتل کس وقت ہوا؟بقول آپ کے آپ نے قتل کیا ہی نہیں پھر اس کی موت کا وقت آپ کو کیسے پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اور دوسری بات آپ کو کیسے پتہ یہ افضل نہیں ہے۔۔۔۔۔آپ تو کسی افضل کو جانتی ہی نہیں تھی پھر اسے افضل ماننے سے انکار کیوں کیا۔۔۔۔۔۔

آدم نے اس کے چاروں طرف چکر لگاتے پوچھا۔۔۔۔۔۔
تارا ملک کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ میں۔۔۔ میں۔۔۔ نے کسی اخبار ۔۔۔میں پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس نے تھوک نگلتے بولنے کی کوشش کی مگر آدم خانزادہ کی آنکھوں نے اسے چپ کروا دیا۔۔۔۔

جھوٹ۔۔۔۔وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ تارا ملک فوراً سے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔۔

نا تو اشفاق صاحب کے قتل کی خبر کسی اخبار میں چھپی تھی اور نا ہی کسی سوشل سائیڈ پر۔۔۔۔۔

اس لئے جو بھی کہنا بلکل سچ کہنا کیونہ تمہاری حقیقت سے ہم واقف ہو چکے ہیں ۔۔۔۔

نہیں بیٹا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔اس کی شکل اس وقت اتنی بھیانک ہو رہی تھی کہ دیکھنے والا بھی توبہ کرے۔۔۔۔۔

اتنے گناہ کر کے بھی وہ کتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔۔

الطاف ۔۔۔۔۔آدم کی آواز پر الطاف افضل کا ہاتھ ہتھکڑیوں میں جھکڑے اندر لایا تھا۔۔۔۔۔

اس کی شکل دیکھ کر تارا ملک کو ایسا لگا۔۔۔جیسے ساتوں آسمان اس کے سر پر آگرے ہو۔۔۔۔اسکی شکل دیکھ کر لگ رہا تھا وہ سب اگل چکا ہے۔۔۔۔

تت۔۔۔تم۔۔۔یہاں ۔۔۔۔۔۔الفاظ زبان سے نکلنے سے انکاری تھے۔۔۔۔
ہاں میں ۔۔۔۔۔افضل نے اسے دیکھ کر غصے سے کہا۔۔۔کیونکہ اسی کی وجہ سے ہی وہ پھنسا تھا۔۔۔

سر اسی عورت نے مجھ سے سب کروایا اسی نے مجھ سے اشفاق احمد کا قتل کروایا ۔۔۔ورنہ میری کوئی زاتی دشمنی نہیں تھی اشفاق احمد کے ساتھ۔۔۔۔۔

افضل نے طوطے کی طرح سب کچھ اگل دیا تھا۔۔۔۔
یہ جھوٹ بول رہا ہے میں نے اسے کچھ نہیں کہا اس نے خود مارا کیونہ یہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔خود کو پھنستے دیکھ کر تارا ملک نے جھوٹ بولا۔۔۔۔

سر میرے پاس سارے ثبوت ہے۔۔۔۔۔میرے موبائل میں سب کچھ ریکارڈ ہے کیونکہ مجھے پتہ تھا یہ عورت ایک دن مجھے بھی ڈس لے گی اس لئے میں ہر ایک جرم کا ثبوت بناکر خود کے پاس محفوظ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک ایک کر کے اپنا موبائل الطاف سے لے اس میں موجود ویڈیوز آدم کو دکھانے لگا۔۔۔۔جس میں صاف ظاہر تھا کہ اسی نے افضل کو اشفاق کو مارنے کو کہا تھا ۔۔۔۔
اور کیسے ہر چیز کی پلاننگ کی۔۔۔۔۔

افضل کی بات پر تارا ملک نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا تھا۔۔۔۔۔

اب بھی سچ بولنا ہے یا جھوٹ پر قائم رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔آدم قدم قدم چلتا تارا ملک کے پاس آکر رکا تھا۔۔۔۔۔۔

تارا ملک نے اس کو ایک نظر دیکھا۔۔۔۔۔۔اس کے پاس سارے ثبوت تھے اس لئے جھوٹ بولنے کا فائدہ نہیں تھا۔۔۔۔۔

ہاں میں نے کروایا سب۔۔۔۔۔آخر کار اس نے قبول کر لیا۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔

میں ایک رقاصہ تھی۔۔۔۔۔وہاں مجھے اشفاق نے دیکھا تھا اس کو میں پسند آگئی۔۔۔۔اس نے مجھے شادی کی آفر کی جسے میں نے قبول کر لیا۔۔۔۔۔کیونکہ اس کے پاس دولت بہت تھی۔۔۔۔۔

شادی کے بعد ایک سال تک تو سب ٹھیک چلتا رہا۔۔۔۔میں نے اس کے کہنے پر سب چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔

مگر ایک دن مجھے پتہ چلا جس دولت کو میں اس کی دولت سمجھ رہی تھی وہ دولت اس کے ایک چچا زاد بھائی کی امانت تھی۔۔۔۔اور جس کمپنی کو وہ چلا رہا تھا وہ بھی اس کے کزن کی تھی وہ وہاں صرف ایک مینیجر تھا۔۔۔۔۔اس کا کزن کسی وجہ سے ملک سے باہر تھا۔۔۔۔۔

جب وہ واپس پاکستان آیا تو اشفاق نے اس کی دولت اس کی ہر چیز اسے واپس کردی۔۔۔۔

تب تک شفا ایک سال کی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
مجھے جب اس بارے میں پتہ چلا تو میں اشفاق سے بہت زیادہ لڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا کہنا تھا کہ اس نے مجھ سے دولت کے بارے میں کوئی جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ ہماری کبھی اس حوالے سے بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔

اس کے بعد اشفاق مجھے اور شفا کو اپنے گھر لے آیا جو پرانے والے گھر جتنا بڑا تو نہیں تھا مگر اچھا تھا ۔۔۔۔اور ایک اچھے ایریا میں تھا ۔۔۔۔لیکن مجھے زیادہ چاہیے تھا۔۔۔اور وہ بات بات پر مجھ پر روک ٹوک کرنے لگا ۔۔۔۔یہ چیز مجھ سے برادشت نہیں ہوئی۔۔۔۔
زندگی اسی طرح چل رہی تھی میرا بھی کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔۔اس لئے میں اشفاق کے ساتھ رہنے پر مجبور تھی۔۔۔۔

اس کے بعد میری ملاقات ایک دن افضل سے ہوئی یہ بھی وہیں پر نوکری کرتا تھا جہاں میں ڈانس کرتی تھی۔۔۔۔۔۔

آہستہ آہستہ ہمارا سلسلہ چل نکلا ۔۔۔۔میں نے اشفاق سے طلاق لے لی ۔۔۔۔لیکن اس نے مجھے اس دن گالی دی تھی اور میرے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔۔جس کا بدلہ میں نے اس کی بیٹی سے لینے کی قسم کھائی تھی۔۔۔۔۔

میں نے افضل کو شفا کو اغوا کرنے کے لئے ہی بھیجا تھا مگر وہ اشفاق سامنے آگیا وہ میرے کام میں رکاوٹ بن رہا تھا اس لئے مجھے مجبوراً اسے مارنے کا کہنا پڑا۔۔۔۔۔

تارا ملک اپنا کیا ہر گناہ قبول کر گئی۔۔۔۔۔۔آدم نے نفرت سے اس عورت کو دیکھا۔۔۔۔۔۔شفا بھی اسی عورت کی سگی اولاد تھی مگر اس میں اس عورت جیسی مکاری کا ایک پرسنٹ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔

آدم الطاف اور افضل کو وہاں سے بھیج چکا تھا۔۔۔۔۔
اور کسی کانسٹیبل کو اشارہ کر کے خود بھی نکلنے لگا۔۔۔۔۔
خدا کے لئے مجھے معاف کر دو میں بہت شرمندہ ہوں مجھ سے غلطی سے ہو گیا سب میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔

وہ آدم کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنے لگی۔۔۔۔۔مگر لیڈی کانسٹیبل نے اسے آدم سے الگ کر کے دور جھٹکا تھا۔۔۔۔وہ زمین پر منہ کے بل گری تھی۔۔۔۔۔۔

آ دم نے ایک گہری سانس خارج کی اور گھر کے لیے نکل گیا۔۔۔۔۔کیونہ صبح کے چھ بج رہے تھے وہ پچھلے دو دن سے گھر نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔۔

              💓💓💓💓💓💓💓

وہ تھکا ہارا جب کمرے میں داخل ہوا تو دونوں ماں بیٹھی ایک دوسرے سے لپٹی خوب خرگوش کے مزے لے رہی تھی
۔۔۔۔۔اپنی بیٹی کو اس طرح شفا سے لپٹے دیکھ وہ شدید جلن کا شکار ہوا تھا۔۔۔۔۔

وہ اس وقت شفا سے سکون حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔مگر اس کی اپنی ہی بیٹی کباب میں ہڈی کا رول ادا کررہی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ فریش ہو کر شفا کی سائیڈ آکر لیٹ گیا ۔۔۔۔مگر نیند تھی کہ آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔

وہ اٹھا منت کو شفا سے الگ کر کے تھوڑا دور کیا۔۔۔۔اور دوبارہ اپنی جگہ پر لیٹ کر شفا کو کھینچ کے بانہوں میں بھر کر آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔۔

کسی کے کھینچنے اور اپنی گردن پر گرم سانسوں کی تپش سے اس کی آنکھ کھلی ۔۔۔۔
اپنے پیٹ پر بندھے ہاتھ پر نظر پڑی تو پلکیں بے ساختہ جھک گئی۔۔۔۔۔دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی۔۔۔۔
شفا نے آہستہ سے اس کے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کی۔۔
اسے لگ رہا تھا وہ سانس نہیں لے پارہی ۔۔۔۔۔

جاناں ۔۔۔۔آدم کی دھیمی سی سرگوشی اور گردن پر سرسراتے اس کے لبوں نے اس کی جان حلق میں اٹکا دی تھی۔۔۔۔۔
وہ جو دو دن سے اداس تھی آج اس کے آنے پر پریشان ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
مجھ مجھے۔۔۔۔شفا نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر آدم اسے سیدھا کرتا اس کے لبوں پر جھک کر اس کے لفظوں کو نگل گیا۔۔۔۔۔۔

شفا نے سختی سے بیڈ شیٹ دبوچ لی۔۔۔۔۔
مگر آدم دور ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔اس کے لمس میں اس قدر سختی تھی کہ شفا کے لئے سانس لینا مشکل ہو گیا۔۔۔۔۔

جب وہ دور نہیں ہوا تو شفا نے زور سے اس کے بال کھینچے۔۔۔۔۔۔۔

آدم دور ہو کر خمار آلود نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔

آدم کے دور ہوتے ہی وہ زور زورسے کھانسنے لگی۔۔۔۔۔آنکھیں
آنسوؤں سے بھر گئیں تھیں ۔۔۔۔۔
آدم اس کی گردن پر جھک گیا ۔۔۔۔۔وہاں اپنے لبوں کا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔اس کی بے قراری دیکھ لگ رہا تھا آج بھی وہ اسے سب بھلانے پر مجبور کردے گ

اس سے پہلے کہ وہ مزید گستاخی کرتا منت کے رونے پر وہ ہڑبڑا کر دور ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

دونوں نے منت کی طرف دیکھا وہ روتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
آدم کا چہرہ دیکھ شفا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی تھی جسے اس نے لب بھینچ کر روکا۔۔۔۔۔

شفا نے آگے بڑھ کر منت کو اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔
آدم نے گھور کر دونوں کو دیکھا اور کمبل منہ میں ڈال کر لیٹ گیا۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا اس کی بیٹی اب سونے والی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

                💓💓💓💓💓💓💓💓

شادی میں صرف چار دن باقی تھے۔۔۔۔۔۔۔ابھی تک مہمانوں کے پاس انویٹیشین بھی نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔۔

سالار اور عرش صبح کے دس بجے دونوں ہی ایک ساتھ اترے تھے نیچے۔۔۔۔وہ دونوں ہی تیار تھے۔۔۔۔۔۔

ان دونوں کی بیویوں نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔کیونکہ انہیں لگا تھا وہ دونوں ہی گھر پر نہیں ہیں ۔۔۔۔۔مگر انکو ایک ساتھ نیچے اترتا دیکھ وہ معاملہ سمجھ گئیں تھیں۔۔۔

عرش اور سالار آج تم لوگ کہیں نہیں جاؤگے۔۔۔۔ناشتہ کر کے سب سے پہلے مہمانوں کی لسٹ بنا کر دو تاکہ شام تک ساری دعوتیں مکمل ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
آیت بھی اپنے کمرے سے نکل کر فریش سی باہر آئی تھی مگر اس کی آنکھوں کی اداسی سب نے نوٹ کی تھی۔۔۔۔۔

سالار تم کیٹرنگ والوں کو آرڈر دے دینا۔۔۔۔۔۔۔جتنی سستی تم لوگ دکھا رہے ہو ہو جائے گا کام۔۔۔۔۔۔۔

شام کو تم سارا اور جزا کو شاپنگ پر بھی لے جانا ۔۔۔۔۔۔انہوں نے سختی سے سالار سے کہا۔۔۔۔ایک وہی تھا جو۔ ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا اب انتہا کی لا پرواہی دکھا رہا تھا۔۔۔۔۔

جی بڑی امی۔۔۔۔وہ زبردستی ناشتہ اپنے منہ میں ڈالتا سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔

ابھی وہ دونوں ناشتہ کر کے فری ہوئے تھے کہ ملازم نے آکر بتایا کہ آیت بی بی کے لئے سامان آیا ہے شاہ ہاؤس سے۔۔۔۔۔

یہ سنتے ہی آیت نے گھبرا کر سالار کو دیکھا جو سنجیدگی سے سامنے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

جہاں سے ملازم بڑی بڑی تھالیاں اٹھائے شاہی انداز میں اندر آرہے تھے۔۔۔۔۔۔
ان کے ساتھ ہانیہ اور اماں جان بھی تھیں ۔۔۔۔۔۔
سالار ناشتہ چھوڑ کر بنا کچھ کہے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
جزا نے بھی اس کا انداز بمشکل ہضم کیا تھا ۔۔۔۔

اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر اماں جان سے ملے۔۔۔۔

جزا اس کا ہاتھ پکڑ کر ان کے بیچ لے آئی ۔۔۔۔۔۔وہ زبردستی مسکرا کر ان سے ملی۔۔۔۔۔
ملازم ساری تھالیاں رکھ کر جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔
شفا اور عقیدت بھی اماں جان سے احتراماً جھک کر ملی تھی۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب بالاج نے اپنی پسند سے لیا ہے ۔۔۔۔۔۔امید کرتی ہوں آپ لوگوں کو پسند آئے گا۔۔۔۔کچھ رسمی سلام دعا کے بعد اماں جان نے کہا ۔۔۔۔

آیت آپ کی بہو ہے جیسا چاہے پہنائے۔۔۔اگر بالاج نے یہ سب پسند کیا ہے تو ضرور اچھا ہی ہوگا۔۔۔۔سجدہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
ان کی بات پر اماں جان بھی مسکرا دی۔۔۔۔
یہ آپ کے لئے بھائی نے بھیجا ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے سب سے نظریں بچا کر ایک موبائل اس کے حوالے کیا۔۔۔۔۔۔وہ اسی کے ساتھ بیٹھی تھی باقی سب کا دھیان اماں جان کی طرف تھا ۔۔۔۔۔۔

اس نے گھبرا کر ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔۔۔

نہ نہیں مجھے نہیں چاہئے ۔۔۔۔۔اس نے گھبرا کر جواب دیا۔۔۔۔۔
پلیز لے لیں ورنہ بھائی بہت ناراض ہونگے۔۔۔۔مجھ سے۔۔۔اس نے مسکین شکل بنا کر کہا تو آیت نا چاہتے ہوئے بھی وہ موبائل لے کر دوپٹہ میں چھپا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ لوگ چلے گئے تو جزا جوالہ مکھی بنی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔آدم کو سگریٹ پیتے دیکھا کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے سگریٹ چھین کر پھینک چکی تھی۔۔۔۔۔۔

سالار نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور ایک دم اسکے بالوں کو جھکڑ کے اسے بیڈ پر پھینک کر خود اس کے اوپر آگیا تھا۔۔۔۔

یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ اسے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا سمجھتے ہیں خود کو آپ پوری دنیا آپ کی مرضی سے چلے گی۔۔۔۔باقی سب بھیڑ بکریاں ہیں جسے جیسے چاہیں گے آپ چلائیں گے۔۔۔۔۔جزا غصے سے اسے دیکھتی بولی۔۔۔۔۔

مگر سالار کچھ نہیں بولا وہ تو اس کے نین نقش میں ایسے گم ہوا تھا اسے آس پاس کا ہوش ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔
اس کی نظروں تپش سے جزا کو اپنا چہرہ کھلاتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
چھوڑیں۔۔۔وہ اسے دھکا دیتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔مگر سالار نے اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا تھا ۔۔۔۔

تھک چکا ہوں میں سکون دے دو۔۔۔۔۔وہ جب بولا تو اس کے لفظوں میں پنہا درد کو وہ بہت مشکل سے برداشت کر گئی۔۔۔۔۔

محبت نہیں کرتے تو کیوں سکون چاہیے مجھ سے۔۔۔۔وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔۔

کیونکہ بیوی ہو تم میری۔۔۔۔۔تم میرے لئے خاص ہو۔۔۔مگر مجھے تم سے محبت نہیں ۔۔۔۔وہ گھمبیر لہجے میں بولتا ۔۔۔۔اس کے دل کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر گیا تھا۔۔۔۔۔

یعنی بس میرے جسم کی طلب ہے۔۔۔۔۔نا جانے وہ کیا سننا چاہتی تھی۔۔۔۔

بیوی کو شوہر کے سکون کے لئے بنایا گیا ہے۔۔۔۔اگر میں تم سے کوئی طلب پوری کر بھی لوں تو اس میں کوئی برائی نہیں تم میرا سکون ہو۔۔۔۔۔

سالار کی بات پر اس نے سختی سے آنکھیں میچ کر اپنے آنسؤں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔

اس کے آنسوں کو اپنی کنپٹی پر گرتے محسوس کر کے سالار اس سے دور ہو کے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔اور اس کو دیکھنے
لگا۔۔۔۔۔۔۔

آئی ایم سوری۔۔۔۔اس نے ندامت سے کہا۔۔۔۔مگر جزا اسے کوئی بھی جواب دئیے بغیر کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔

               💓💓💓💓💓💓💓💓

سر بالاج شاہ کی شادی ہے سالار خانزادہ کی بہن کے ساتھ۔۔۔۔
ارمان نیازی کے بندے نے آکر اسے اطلاع دی۔۔۔۔۔۔ارمان نیازی نے ہاتھ میں موجود گلاس اٹھا کر دیوار پر مارا تھا۔۔۔۔۔

نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔وہ لڑکی صرف اور صرف ارمان نیازی کی ہے۔۔۔۔ارمان نیازی کی دسترس میں آکر آج تک کوئی نہیں گیا۔۔۔۔۔تو وہ لڑکی۔کیسے جا سکتی ہے۔۔۔۔۔
اسے میرے پاس ہی آنا ہے۔۔۔۔۔۔

بالاج شاہ نے سالار خانزادہ کو اتنی آسانی سے معاف کردیا یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔۔۔۔

اگر وہ دونوں مل گئے تو میرا سچ بہت جلد پتا چل جائے گا ان کو۔۔۔۔۔۔

ان کو ایک نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔۔وہ اس وقت بہت آگے کی سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

               💓💓💓💓💓💓💓💓

بیوی کیا مائکے چلی گئی تم تو اپنی اماں جان کو ہی بھول گئے۔۔۔۔۔بالاج ابھی گھر میں داخل ہوا ہی تھا اماں جان اسے آتا دیکھ کر طنز کرنا نہیں بھولی۔۔۔۔۔

ان کی بات پر وہ مسکراتے ہوئے اماں جان کی گود میں سر رکھتا لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔
یار آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں آپ تو میری پہلی محبت ہیں ۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں بولتا ان کے گال چوم گیا۔۔۔۔

پرے ہٹ پتہ ہے بڑی پہلی محبت تین دن بعد شکل دکھا رہے ہو ۔۔۔۔۔پتہ بھی ہے کہ ایک بھوڑی اماں جان اس گھر میں پڑی ہیں ۔۔۔۔۔اماں جان نے ناراضگی سے منہ پھیر لیا۔۔۔۔۔

ارے ناراض تو مت ہوں۔۔۔۔۔جلدی جلدی سارے کام نمٹا رہا ہوں۔۔۔۔۔تاکہ شادی کے بعد لمبے ہنی مون پر جا سکوں۔۔۔۔۔
آخر آپ کو جلدی سے تخفہ بھی تو دینا ہے۔۔۔۔۔
بالاج سنجیدگی سے بول کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

کیسا تحفہ اماں جان نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
آپ کو پر پوتی دوں گا تحفے میں اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی نا۔۔۔۔۔۔۔بالاج کی بے شرمی پر وہ اس کی پیٹھ پر تھپڑ لگا گئیں ۔۔۔۔۔

بے شرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اماں جان اس کی بات پر سرخ ہو گئی تھی۔۔۔۔

میرا کام کیا یا نہیں ۔۔۔۔۔ہانیہ کو آتے دیکھ کر اس نے پوچھا۔۔۔۔۔
کر دیا تھا آپ کا کام لیکن اس کے بدلے میرا گفٹ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔۔۔

مل جائے گا ۔۔۔۔۔بس ایک کپ اچھی سی چائے پلا دو۔۔۔۔۔بالاج مسکرا کر کہتا موبائل نکال کر میسج کرنے لگا ۔۔۔۔
کیسی ہو۔۔۔۔۔اس نے میسج کیا۔۔۔۔جو اگلے ہی پل سین تو ہو گیا تھا مگر ریپلائے نہیں آیا۔۔۔۔۔

بالاج انتظار کرتا رہا آیت کے ریپلائے کا مگر اس کی طرف سے کوئی ریسپونس نا دیکھ اس نے دوبارہ میسج کیا۔۔۔۔

یہ تم مجھے اگنور کررہی ہو ۔۔۔۔بہت بھاری پڑنے والا ہے تم پر۔۔۔۔۔۔
بالاج کے میسج پر اس کی پلکیں لرزی تھیں ۔۔۔۔اس نے جلدی سے موبائل آف کر کے کبرڈ میں رکھ دیا۔۔۔۔۔۔دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
فری کی آواز پر وہ دروازہ بند کرتی نیچے آگئی تھی۔۔۔۔۔
سچ جاننے کے بعد فری نے بھی اپنی ناراضگی ختم کردی تھی مگر وہ بالاج کے حق میں اب بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔

اس کا ایٹیٹیوڈ آسمان کو چھونے والا ہوتا ہے۔۔۔اس کے ساتھ کیسے گزارا کرے گی یہ ۔۔۔۔۔فری نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔۔
اس وقت ساری خواتین بیٹھی شادی کے حوالے سے ہی ڈسکشن کررہی تھی۔۔۔۔
بیٹا عورت مرد کا مزاج بدلنے کا ہنر رکھتی ہے۔۔۔۔۔اب آدم کو ہی دیکھ لو۔۔۔۔کتنا سنجیدہ رہنے والا انسان تھا۔۔۔۔شازو نادر ہی مسکرایا کرتا تھا۔۔۔۔۔اب جب سے شفا اس کی زندگی میں آئی ہے کھل کے مسکرانے لگا ہے۔۔۔۔۔۔

سجدہ بیگم نے شفا کو دیکھ کر کہا تو۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔۔

چھوٹی ی امی یہ آدم خانزادہ ہےایک پوزیٹو انسان ۔۔۔۔اور وہ بالاج شاہ جس کا مقصد ہی خانزادوں کو نقصان پہنچانا ہے۔۔۔۔اسے کیسے آپ لوگ اچھا سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اس نے اپنی بہن کو کھویا ہے۔۔۔۔۔اور اس کی جگہ کوئی خانزادہ بھی ہوتا تو اتنا ہی نیگیٹو سوچتا اور کرتا جتنا وہ کررہا۔۔۔تم اپنے زہن پر زیادہ زور مت ڈالو ۔۔۔۔۔

وہ دیکھو تمہارا بیٹا میری بیٹی کو مارنے گیا ہے۔۔۔۔۔

اوپر ریلنگ پر کھڑے ہو کر آدم سنجیدگی سے بولتا اسے باہر لان کی طرف اشارہ کر گیا۔۔۔جہاں اریب منت کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

تمہاری بیٹی بھی کم تیز نہیں ہے۔۔۔۔۔میرے بیٹے کی حرکتوں پر نظر رکھا کرو بس۔۔۔۔۔فری آدم کو گھور کر اپنے بیٹے کے پیچھے بھاگی تھی کیونکہ وہ راستے سے ایک پھتر اٹھا چکا تھا منت کو مارنے کے لئے۔۔۔۔۔

سب کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔ان کی نوک جھونک پر۔۔۔

شفا آپ میرا سوٹ نکال دیں مجھے ڈیوٹی پے جانا ہے۔۔۔۔۔آدم کہہ کر واپس اپنے کمرے میں غائب ہوا تھا۔۔۔۔

اس نے منت کو مخاطب کر کے کہا تو وہ بھی اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی آدم نے شفا کو گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔۔
اب بھی نا آتی کمرے میں بیٹھی رہتی باہر۔۔۔۔۔اس نے ناراضگی سے کہا تو شفا نے اپنی مسکراہٹ روکی۔۔۔۔۔۔
ادھر آئیں ۔۔۔۔۔آدم نے اسے بلایا تو دھڑکتے دل کے ساتھ قدم بڑھاتی اس تک پہنچی۔۔۔۔آدم نے کھینچ کر اسے اپنی گود میں بٹھایا تو وہ گھبرا کر اس کے کندھے کو تھام گئی۔۔۔۔۔۔
مجھے مس کیا۔۔۔۔۔۔۔آدم کی بھاری گھمبیر آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔شفا بولنے کی ہمت نہیں کر پائی۔۔۔جھکی نظریں مزید جھک گئی تھی۔۔۔۔۔

آدم نے جھک کر اس کے گال پر اپنا گال رگڑا۔۔۔۔۔آدم کی بئیرڈ کی چھبن سے اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

ماما۔۔۔۔۔منت کی آواز پر جھٹکے سے دور ہوئے تھے دونوں ۔۔۔وہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی غصے سے آدم کو گھور رہی تھی۔۔۔۔

آدم نے اس چھوٹی پٹاخہ کو گھور کر دیکھا تھا جو اس کے اسپیشل مومنٹ انجوائے کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔