Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط 11
اوکے ریلکس ریلکس مجھے یقین ہے آپ پر پریشان مت ہو آپ پلیز ۔۔۔۔۔میرے لیے ایک سوٹ نکال دیں میں فریش ہو جاتا ہوں۔۔۔۔
آدم خانزادہ اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا اس لیے باقی باتیں بعد پر چھوڑ کر اس کا دھیان بٹا گیا۔۔۔۔
آیت بھی خود کو کمپوز کرتی الماری کی طرف بڑھ گئی مگر اسکا دل بہت گھبرا گیا تھا وہ اپنی ماں کی حقیقت کبھی بھی آدم کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی۔۔۔۔
آدم ڈنر کے بعد کال آنے پر باہر چلا گیا تھا اور وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی منت کو فروا بیگم نے اپنے پاس رکھ لیا تھا ان کا کہنا تھا کہ وہ آج منت کو ساتھ رکھنا چاہتی ہیں کیونکہ وہ اس کو بہت مس کرتی ہیں ۔۔۔۔
وہ بھی بیڈ پر آکر لیٹ گئی اور گزری ہوئی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓

امی آپ کہاں جا رہی ہیں ۔۔۔۔دس سال کی وہ بچی آدھی رات کو جب پانی پینے اٹھی تو اپنی ماں کو تیار ہو کر جاتا دیکھ اس کے راستے میں حائل ہوئی۔۔۔۔
اس کی ماں نے ناگواری سے سر جھٹکا۔۔۔۔راستے سے ہٹ میں پارٹی میں جا رہی ہوں خبردار جو اپنے باپ کو بتایا تم نے
وہ اسے ڈانٹتی گھر سے نکل گئی ۔۔۔۔
پیچھے وہ اپنی ماں کو نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتی رہی۔۔۔
یہی سلسلہ روز چلتا رہا اس کی ماں روز رات کو اس کے باپ کے کھانے میں نیند کی دوائی ملا کر سج دھج کر نکل جاتی۔۔۔اور صبح نشے میں ٹھن واپس آتی۔۔۔۔
اس طرح مزید دو سال گزر گئے۔۔۔

کچھ دن بعد آہستہ آہستہ اشفاق صاحب کو بھی اپنی بیوی کے کرتوتوں کی بھنک لگ گئی۔۔۔۔
اس لئے وہ رات کو ان کا بنایا ہوا کھانا کھانے کے بجائے چھپا دیتے تھے۔۔
میں تمہیں جان سے مار دوں گا ہمت کیسے ہوئی تمہاری میرے نکاح میں ہوتے ہوئے میری عزت کو یو روندنے کی۔۔۔
اشفاق صاحب کی چیخ پر وہ گھبراتی ہوئی اٹھی۔۔۔

بابا کو کیا ہوا وہ تو اتنے پولائٹ رہتے ہیں وہ سوچتی ہوئی کمرے سے نکل آئی۔۔۔
ارے جا جا بڑی آئی تمہاری عزت تم سے شادی کر کے میری زندگی برباد ہو گئی ہے۔۔۔۔
اس کے باپ کے ساتھ اس کی ماں کی آوازیں بھی باہر تک آنے لگی ۔۔۔
صحیح کہا تم نے اگر میں ایک عزت دار انسان ہوتا تو تم جیسی طوائف سے کبھی شادی نہیں کرتا ارے تمہیں ایک اچھی زندگی دینے کے لیے میں سب سے لڑ گیا تم سے نکاح کیا عزت دی مگر تم تو ہو ہی گند کا ڈھیر عزت کی چار دیواری تمہیں کہاں پسند آئے گی۔۔۔۔

اپنے باپ کی رندھی ہوئی آواز اسے بہت تکلیف دے رہی تھی اس وقت اسے طوائف لفظ کا مطلب نہیں پتہ تھا مگر جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔اپنی ماں کے ساتھ ایک غیر مرد کو انتہائی نازیبا حالت میں اپنی ماں کے ساتھ دیکھ اس کے قدم پتھر ہو گئے تھے وہ بچی تھی مگر وہ آندھی اور بہرہ نہیں تھی جوان سب کا مطلب نا سمجھ سکے۔۔۔۔
اس کا باپ دروازے کی طرف پیٹھ دئے کھڑی تھی جبکہ اس کی ماں نائٹی پہنے صوفے پر بیٹھی تھی جواس کا جسم چھپانے کے بجائے اسکے نشیب و فراز واضح کر رہے تھے۔۔

جبکہ اس کا ماموں جو اس کی ماں کا کزن تھا وہ بنا شرٹ
پہنے کمبل اوڑھے بیٹھا مزے سے اس کے ماں باپ کی لڑائی دیکھ رہا تھا۔۔۔

سب سے پہلی نظر شفا پر اس کی ماں کی پڑی۔۔۔لیکن ان کی آنکھوں میں ڈر تو دور کی بات شرمندگی کا تاثر بھی نہیں تھا۔۔۔

قدموں کی آواز پر اشفاق صاحب نے مڑ کر دیکھا تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئ۔۔۔۔جو بھی تھا وہ اپنی بیٹی کے سامنے اسکی ماں کا سچ کبھی نہیں لانا چاہتے تھے۔۔۔

وہ دو قدم چل کر گئے اور اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام کر نکلنے لگے۔۔۔۔

اشفاق تم مجھے طلاق دو ابھی کہ ابھی میں تمہارے اس جہنم میں نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔
وہ اٹھتی ہوئی اپنے شوہر کے سامنے آئی اور بنا بیٹی کا لحاظ کئے اشفاق صاحب کا گریبان پکڑ لیا ۔۔..

گریبان چھوڑو میرا۔۔۔اشفاق صاحب نے اس کے ہاتھ کالر سے ہٹا کر دور جھٹکا۔۔۔
اور ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا۔۔۔اسکی ماں کا کزن وہی بیٹھے بیٹھے گالیاں بکنے لگا۔۔۔
اشفاق صاحب نے اسے۔ وہی کھڑے کھڑے طلاق دے دی تھی۔۔۔۔
اسے اپنی ماں کے آخری الفاظ جو یاد تھے وہ یہ تھے کہ تم مجھے طوائف کا طعنہ دے رہے ہو ایک دن تمہاری بیٹی کو
اگر کوٹھے پر نا بٹھایا تو میرا نام ریشماں نہیں ۔۔۔

چھ چھوڑ چھوڑیں میرا دوپٹہ نہ نہیں پلیز مت مت کریں ابو ابو بچا لیں۔۔۔وہ نیند میں خود کو ہی بار بار بچانے کی کوشش کر رہی تھی کبھی ہاتھ جھٹکتی تو کبھی اپنا دوپٹہ پکڑ لیتی۔۔۔۔
آدم خانزادہ جو تھوڑی دیر پہلے ہی آکر لیٹا تھا اس کی بے چین آواز سن کر اٹھ گیا اور اس کو دیکھنے لگا ۔۔
جو آج بھی آڑی ترچھی لیٹی نیند میں بہت بے چین نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔
شفا اٹھیں آدم نے اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ اٹھنے کے بجائے اس میں گھسنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
اس کے اس قدر پاس آنے پر شفا کی نرم گرم سانسیں اسکی گردن میں جذب ہوتی جا رہی تھی ۔
آدم خانزادہ کا اپنی دھڑکنوں پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔۔۔۔ آخر مرد تھا اور اوپر سے وہ اس کے نکاح میں تھی ۔۔۔۔
کب تک خود کو روک پاتا۔۔۔۔آدم نے آرام سے اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی مگر وہ دور ہونے کے بجائے مزید اس سے لپٹ گئی جیسے اگر اس سے الگ ہوئی تو کوئی لے جائے گا۔۔۔
اسکا نازک وجود اور اس کی خوشبو اس قدر دلفریب اور سحر انگیز تھی کہ آدم کا دل کیا سب چھوڑ چھاڑ کر بے ایمانی کر جائے ۔۔۔۔۔
آنکھوں میں خمار کی سرخیاں غضب ناک تھیں۔۔۔۔۔
مگر وہ آدم خانزادہ تھا اسے صبر کرنا اور خود پر قابو پانا آتا۔۔۔۔۔اس کی شخصیت میں ایک۔ ٹہراؤ تھا جو ہر کسی کو اس کا گرویدہ کر دیتا تھا ۔۔۔
آدم نے اب کی بار اسے خود سے دور کرنے کے بجائے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا وہ اس کا شوہر تھا اور اس کا فرض تھا ضرورت کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ رہے۔۔۔۔۔

              💓💓💓💓💓💓💓💓

آدھی رات کو دروازہ بجنے کی آواز پر وہ اٹھی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو رات کے تین بج رہے تھے اس نے ایک نظر دوسری چارپائی پر سوئے اپنے باپ پر ڈالی جو دوائیوں کے زیر اثر سو رہے تھے۔۔۔اس کے باپ کے علاج کا خرچہ کمپنی اٹھا رہی تھی یہ ان کی پالیسی تھی جس ورکر کے چھ منتھ کمپلیٹ ہو جاتے اس کی فیملی کا سارا میڈیکل فری ہو جاتا تھا مگر وہ بہت زیادہ ضروتمند تھی اس وجہ سے اس کی کارکردگی دیکھ کر اس کو یہ ریلیف دی گئی تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے دروازہ کھولا تو سامنے اس کا کزن کھڑا تھا سرخ آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
جی احمد بھائی اس نے دوپٹہ خود پر پھیلا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
مجھے کھانا دو۔۔۔وہ بولتے ہوئے اسے سر سے پاؤں تک دیکھنے لگا۔۔۔۔
نا جانے کیوں اس کے لہجے سے عقیدت کو نشے میں ٹھن لگا۔۔۔اسر جن نظروں سے وہ اسے دیکھ رہا تھا وہ اچھے سے سمجھتی تھی ۔۔۔

دیکھیں آپ جا کر تائی امی سے کہیں میں سونے جا رہی وہ کہتے ہی جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔۔۔
باہر سے بہت دیر تک اسے احمد کی گالیوں کی آوازیں آنے لگی ۔۔۔مگر وہ اپنی عزت پر کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔۔۔
صبح جب وہ اٹھ کر کمرے سے نکلی تو کچن میں گھستے ہی پڑنے والے تھپڑ نے اس کے چودہ طبق روشن کر دیئے تھے۔۔۔۔
اس نے تائی امی کو حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔۔
ارے نافرمان احسان فراموش لڑکی جب احمد نے تم سے کھانا مانگا دیا کیوں نہیں تمہارا باپ آکر دیتا کیا ۔۔۔
تائی امی اپنے منہ سے زہر اگلنے لگی ۔۔۔۔اس کا گال پورا سن ہو گیا تھا اور آنکھیں آنسوں سے بھر گئی ۔۔۔۔
میں نوکر نہیں ہوں کسی کی۔۔۔۔۔ وہ کہہ کر واپس جانے لگی مگر تائی امی نے پیچھے سے اسے اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ جا کر صحن میں پڑے پھتر پر گری۔۔۔
آنکھ کے اوپر سے تیزی سے خون بہہ کر اسکی آنکھ اور گالوں پر بہنے لگا۔۔۔۔
عقیدت بیٹا کیا ہوا ہے ٹھیک ہو تم کمرے سے آیاز صاحب بھاگتے ہوئے آئے اور اسے کندھے سے پکڑ کر اٹھایا ۔۔۔
اس کے چہرے پر ہر خون دیکھ کر ان کی سانسیں رک گئیں ۔۔۔۔
ابو ۔۔میں ۔۔ٹھیک ہوں۔۔۔وہ رک رک کر ان کو تسلی دینے کو بولی۔۔۔
اتنے میں ثمرہ کمرے سے نکل کر اس کی طرف آئی اور دوپٹہ سے اس کا خون روکنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔جو بیت تیزی سے بہہ رہا تھا۔۔۔
ثمرہ اور آیاز صاحب اسے گلی میں ایک نرس رہتی تھی اس کے پاس لے کر گئی اور وہاں سے پٹی وغیرہ کروا کر لائے۔۔۔

آیاز صاحب غصے سے کمرے سے نکلے اور تائی امی کے کمرے میں جا کر دروازہ بجانے لگے۔۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی وہ کوئی لا وارث نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔وہ انگلی اٹھا کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چبا چبا کر بولے۔۔۔
ارے میاں تمہاری بیٹی ہی نہیں تم بھی لا وارث ہو اپنی بیٹی کی طرح تم بھی مفت کی روٹیاں توڑ رہی ہو۔۔۔
وہ بھی کہاں چپ رہنے والی تھی۔۔۔۔
یہ میرا گھر ہے اس پر میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا بھائی صاحب کا وہ پھولتی سانسوں سے بولے۔۔۔
ارے میاں جاؤ جاؤ نکلو یہاں سے سر نا کھاؤ میرا وہ انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتی واپس کمرے میں جا کر دروازہ بند کر گئی۔۔۔۔

آیاز صاحب غصے سے کھولتے واپس کمرے میں آگئے جہاں عقیدت کے ساتھ ثمرہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
وہ دونوں ہی باہر ہوتی ساری باتیں سن چکی تھیں ۔۔۔
ثمرہ بچاری اپنی ماں کی وجہ سے شرمندہ ہوگئی۔۔۔۔اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
ابو کیا ضرورت تھی آپ کو تائی امی سے بات کرنے کی ۔۔۔وہ آیاز صاحب کا ہاتھ تھامتی بولی جن کا چہرہ غصہ اور بے بسی سے لال ہو گیا تھا۔۔
میرا بچہ مجھے معاف کر دو میں زمہ دار ہوں تمہاری ہر تکلیف کا۔۔۔۔وہ عقیدت کے سامنے سر جھکائے آنسو بہانے لگے۔۔۔۔
ابو پلیز مت کریں ایسا آپ دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں وہ تڑپ کر ان کے سینے سے لگی۔۔۔۔
نہیں بیٹا کاش میں بھائی کی محبت میں اندھا نہیں ہوگیا ہوتا تو آج تمہارا حق کوئی اور نا کھا رہا ہوتا مجھے معاف کر دو بیٹا مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔
اپنے باپ کی بے بسی دیکھ وہ نفی میں سر ہلاتی خود بھی ان کے ساتھ رونے لگی۔۔۔۔
دیکھو بیٹا یہ گھر تمہارا ہے مجھے کچھ ہو جائے تو ۔۔۔۔
ابو پلیز ایسا مت کہیں ۔۔۔۔وہ تو اپنے باپ کی بات پر لرز کر رہ گئی۔۔۔۔
نہیں تم میری بات سنو میری بچی تم میرا بہادر بیٹا ہو کچھ بھی ہو جائے لیکن یہ گھر مت چھوڑنا بیٹا کیونکہ یہی دیواریں تمہاری پناہگاہ ہے
یہاں سے باہر لڑکیوں کا اکیلے جینا مشکل ہے ۔۔۔۔
کسی پر کبھی بھروسہ مت کرنا بس اپنے محرم پر بھروسہ کرنا میرا بیٹا سمجھ رہی ہو نا تم میں کیا کہہ رہا ہوں ۔۔۔
آیاز صاحب نا جانے کیوں اتنے کیوں پریشان ہو گئے تھے وہ
انکو پرسکون کرنے کے لیے ان کی ہاں میں ہاں ملاتی گئی۔۔۔۔

                              💓💓💓💓💓💓💓

آج سب ہی مصروف تھے گھر کی لڑکیوں کو چھوڑ کر سب ہی رحمان کی طرف جا رہے تھے ۔۔۔۔
عرش آفس سے سیدھا وہی آنے والا تھا ۔۔۔۔
رحمان صاحب کے گھر میں ان کا بہت اچھا استقبال ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
سب ہی بہت محبت سے پیش آئے تھے۔۔۔۔
خوشگوار ماحول میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا
وہ لوگ جلدی شادی کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔
لیکن آدم نے سوچنے کا وقت لے کر بات کو فلحال کے ٹال دیا تھا کیونکہ وہ بنا جزا کے منہ سے اقرار سنے کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
رات گئے وہ سب واپس آئے تھے۔۔۔۔
جزا آیت اور شفا لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے۔۔۔۔
ان سب کو واپس آتے دیکھ وہ تینوں ٹی وی بند کر کے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔۔۔۔
شفا اٹھ کر ان سب کے لیے پانی لے کر آئی۔۔۔
جزا۔۔۔۔جی بھائی آدم کے پکارنے پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔
سب اس کی طرف متوجہ تھے۔۔۔اور سب ہی ایک بار اس کی رضامندی خود سننا چاہتے تھے تاکہ دل میں کوئی ڈر نا ہو۔۔۔
تمہارے لیے ارمان کا رشتہ آیا ہے اور تم یہ بات جانتی ہو اب تم مجھے یہ بتاؤ تم اس رشتے کے لیے راضی ہو یا نہیں ۔۔۔۔
سب نے جزا کی طرف دیکھا۔۔۔۔
جیسے آپ سب کو ٹھیک لگے بھائی۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
زندگی تمہاری ہےہم تم پر اپنا فیصلہ نہیں تھوپینگے اس لیے کمرا فیصلہ چھوڑو تم اپنا بتاؤ۔۔۔۔۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں بھائی میں اس رشتے کے لیے راضی ہوں ۔۔۔جزا نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پورے اعتماد سے جواب دیا۔۔۔۔
خوش رہو ہمیشہ اس نے اٹھ کر جزا کو سینے سے لگالیا۔۔۔۔
عرش نے غور سے جزا کا چہرہ دیکھا جوہر احساس سے عاری لگ رہا تھا ۔۔۔۔
شفا کی نظریں آدم پر سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی جو ایک مکمل شخص تھا ۔۔۔۔
ایک اچھا بیٹا اچھا بھائی اچھا باپ اور ایک اچھا شوہر تھا۔۔۔۔
اللّٰہ تیرا لاکھ لاکھ شکریہ تو نے اتنا اس شخص کو میرے نصیب میں لکھا ۔۔۔۔۔اس کا چہرہ تشکر کے احساس سے کھل گیا تھا۔۔۔۔

                             💓💓💓💓💓💓💓

ابو اٹھیں ۔۔۔۔۔صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو درد کی شدت سے اس کا سر پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
لیکن گھڑی میں ٹائم دیکھتی وہ اٹھی اور جلدی سے فریش ہو کر آئی ۔۔۔۔۔
معجزاتی طور پر صبح کے نو بجنے کے باوجود تائی امی کے چیخنے کی۔ آواز یں نہیں آرہی تھی ۔۔۔
وہ آیاز صاحب کے پاس آئی اور ان کو آوازیں دینے لگی ۔۔۔۔
ابو اٹھیں آپ کو میڈیسن لینی ہے۔۔۔۔
اس نے دوبارہ ان کا بازو پکڑ کر ہلایا۔۔۔۔مگر کچھ غلط ہونے کا احساس ات شدت سے ہوا۔۔۔۔
اس نے کمبل کھینچ کر ان پر سے ہٹایا اور ان کی حالت دیکھ جو وہ چیخی تھوڑی ہی دیر میں سارے گھر والے وہاں جمع ہو گئے ۔۔۔۔۔
ابو نہیں ابو آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ابو ابو میں مر جاؤں گی ابو نہیں آپ نہیں چھوڑ کر جا سکتے مجھے ۔۔۔
اس کی رونے آوزیں سن محلے کے سارے لوگ جمع ہو گئے تھے کوئی اسے تسلی دے رہا تھا تو کوئی افسوس کر رہا تھا۔۔۔جاری ہے ۔۔۔ ا