Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

کیوں کیا تم نے کیوں۔۔۔۔۔وہ غم وہ غصے سے اس کے چہرے پر تھپڑ برسانے لگی ۔۔۔۔۔
مگر وہ تو ان کی بات پر پھتر کا ہو گیا تھا۔۔۔۔یہ کیسا انکشاف تھا جو انہوں نے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی آپ کیا کہہ رہی ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔سالار پریشانی سے ان کا ہاتھ تھامنے لگا ۔۔۔۔
مگر مسز شہزاد نے اس کے ہاتھ دور جھٹکے تھے ۔۔۔۔
تم سے محبت کرتی تھی میری بیٹی پر وقت تمہارا زکر کرتی رہتی تھی۔۔۔۔ اور تم نے تم نے کیا کیا اسی لڑکی کو اتنی بے رحمی سے مار دیا۔۔۔۔کیوں آخر کیوں کیا قصور تھا اس کا ۔۔۔۔
مسز شہزاد اپنے بال جھکڑے کوئی پاگل ہی لگ رہی تھی جو اپنی بیٹی کی موت کا غم بھول نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
ان کی چیخ سن کر شہزاد شاہ اور اور آدم خانزادہ اندر آگئے تھے۔۔۔۔۔
وہ تھام کر اپنی بیوی کو باہر لے گئے تھے۔۔۔۔
آدم بھی سالار کو اشارہ کرتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔اور وہ مردہ قدموں سے انکے پیچھے آدم کے آفس میں آگیا۔۔۔
الطاف پہلے ہی وہاں موجود لیپ ٹاپ لئے بیٹھا تھا۔۔۔۔
آپ لوگ بیٹھیں مجھے سب سے پہلے آپ لوگوں کو کچھ دکھانا ہے۔۔۔۔
اس کے بعد آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے۔۔۔۔
آدم نے سنجیدگی سے شہزاد شاہ سے کہا تو انہوں نے ایک نظر سالار کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔
ناجانے کیوں ان کا دل نہیں مان رہا تھا سالار ایسا کچھ کر سکتا ہے ۔۔۔۔
انہیں لوگوں کی پہچان تھی مگر جس طرح کے ثبوت تھے وہ ان سے بھی انکاری نہیں تھے اور وہ اپنی بیٹی کے مجرم کو کسی صورت معاف نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔
پہلے آپ۔لوگ یہ ویڈیو دیکھیں ۔۔۔۔۔اس نے لیپ ٹاپ ان کی طرف گھمایا ۔۔۔۔
جس میں سالار شاپنگ مال میں شاپنگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔یہ ویڈیو تھی شام پانچ بجے کی۔۔۔۔
یعنی 28 مارچ شام پانچ بجے کی اور 28 مارچ رات 12 ایک بجے کے ٹائم فاطمہ کا قتل ہوا تھا۔۔۔
شہزاد شاہ نے نا سمجھی سے آدم خانزادہ کو دیکھا ۔۔۔۔
تو اس نے ایک ویڈیو اور چلائی۔۔۔۔
جس میں اوپر ٹائم سات بج کر چالیس منٹ کا تھا۔۔۔یہ ایک ریسٹورنٹ کی ویڈیو تھی جس میں سالار ڈنر کرتے ہوئے موبائل یوزر رہا تھا۔۔۔۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنا سامان اٹھائے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔
کہ ایک عورت کالے آبائے میں اس سے ٹکرائی اس عورت کے ہاتھ میں موجود سامان اور سالار کا سامان اور اس کے ہاتھ میں موجود موبائل بھی وہی گر گیا تھا ۔۔۔۔
وہ عورت سوری کرتی اپنے سامان کی آڑ میں سالار کا فون اٹھا کر وہاں سے چلے گئی ۔۔۔۔
جو سالار محسوس نا کر سکا اور وہ بھی اپنا سامان اٹھا کر
وہاں سے اپنی گاڑی میں بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔
کیمرے میں چلتی ریکارڈنگ مسٹر اینڈ مسز شہزاد شاہ حیران پریشان سا دیکھنے لگے۔۔۔۔
جس میں صاف نظر آرہا تھا کہ سالار کا موبائل وہی عورت اٹھا کر لے گئی تھی۔۔۔۔
ریسٹورنٹ کے باہر لگے کمیرے میں یہ سب کچھ ریکارڈ ہوا تھا۔۔۔۔
سالار نے دوسری ریکارڈنگ چلائی جو فریحہ کے فلیٹ کی بلڈنگ کے باہر کی تھی جہاں آدم کا بھی فلیٹ تھا جس میں سالار نو بجے شاپنگ بیگ لے کر اندر گیا اور دس بج کر پندرہ منٹ پر وہاں سے خالی ہاتھ نکل کر باہر آیا تھا۔۔۔
پھر اپنی گاڑی میں بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔
ایک اور ریکارڈنگ تھی جو ان خانزادہ مینشن کے باہر کی تھی ۔۔۔جس میں صاف نظر آرہا تھا کہ وہ دس بج کر اڑتیس منٹ پر مینشن میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
اور بارہ بج کر بیالیس منٹ پر عرش کی گاڑی گھر سے نکلی جس میں اس کے ساتھ سالار بیٹھا صاف نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھا اور شہزاد شاہ کی طرف دیکھنے لگا…
جو خود بھی اس کی طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔شہزاد شاہ نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔آنکھیں ظبط سے لال تھیں ۔۔۔۔
ڈاکٹر کے پوسٹ مارٹم ریپورٹ کے مطابق آپ کی بیٹی کی دیتھ بارہ بج کر انتیس منٹ پر ہوئی اور اس وقت سالار خانزادہ اپنے گھر میں سو رہے تھے۔۔۔۔۔
اور عرش خانزادہ نے جا کر ان کو نیند سے اٹھایا۔۔۔۔
جس وقت فاطمہ شاہ کی دیتھ ہوئی اس دوران سالار خانزادہ اپنے گھر میں تھے جس کا ثبوت یہ ریکارڈنگ اور اس گھر کے کچھ گارڈز ہیں ۔۔۔۔
اگر آپ چاہیں گے تو آپ کو گھر کے اندر کی ریکارڈنگز بھی مل جائیں گی۔۔۔۔۔
اور جس وقت فاطمہ شاہ کا انتقال ہوا اس کے تیرہ منٹ بعد سالار خانزادہ آپ کو عرش کے ساتھ خانزادہ مینشن سے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے ۔۔۔۔
تیرہ منٹ میں کوئی بندہ کیسے واپس آسکتا ہے ۔۔۔
اور سالار کے نمبر سے جو میسج آیا وہ بارہ بج کر پینتیس منٹ پر آیا تھا عرش کے نمبر پر ۔۔۔اور اس وقت سالار کی لوکیشن اسی فارم ہاؤس کی ہے ۔۔۔۔
پھر وہ کیسے سات منٹ میں خانزادہ مینشن واپس آسکتا ہے جبکہ راستہ بیس سے بائیس منٹ کا ہے۔۔۔
اور رہی بات جو ایک ثبوت سالار خانزادہ کے خلاف ہے اس کا فون جو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے دھوکے سے چرایا گیا۔۔۔۔
اور دوسری بات وہ فارم ہاؤس جس انسان کا ہے وہ پچھلے دو مہینے سے پاکستان آیا ہی نہیں اس سے بات کرنے پر اس نے لا علمی کا زکر کیا ہے اس کو نہیں پتہ کس نے اس کا فارم ہاؤس بنا اس کی اجازت کے استعمال کیا۔۔۔
اور سب سے مین پوائنٹ فاطمہ کے بوڈی سے ملا ہو سیمپل سلر سے میچ نہیں کر رہا۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے اپنی بات کہہ کر ایک نظر سالار اور فاطمہ کے والدین پر ڈالی۔۔۔۔۔
اس کا مطلب سالار بے قصور ہے۔۔۔۔۔یہ آواز مسز شہزاد کی تھی جو نم آنکھوں سے سالار کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔
تو پھر کس نے کیا میری بیٹی کے ساتھ یہ ظلم کون اتنی نفرت کرتا تھا میری بچی سے شہزاد شاہ کے لہجے میں غم ہلکورے کے رہا تھا۔۔۔۔۔
سالار کا فون چرانا اور فاطمہ کو سالار کے نمبر سے میسج کر کے بلانا اور بعد میں عرش کو مدد کے لئے سالار بن کر میسج کرنا ۔۔۔۔۔۔ان سب کا مطلب ایک ہی ہے ۔۔۔۔یہ جو بھی ہے وہ ان تینوں کو جانتا تھا ہے اور تینوں کے مابین موجود رشتے سے بھی بہت اچھے سے واقف تھا۔۔۔۔۔
اس کا تعلق شاید ہمارے یونیورسٹی سے ہے۔۔۔۔۔یہ کہنے والا سالار تھا۔۔۔۔۔
سر اس کا مطلب ہے جس لڑکی نے سالار سر کا فون چرایا وہ ان کے یونیورسٹی کی کوئی لڑکی ہے۔۔۔۔
وہ کوئی لڑکی نہیں لڑکا ہے۔۔۔۔۔الطاف کی بات پر آدم خانزادہ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔۔
سب حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
اس نے دوبارہ ریکارڈنگ چلا کر ان کے سامنے رکھی جس میں اس آبائے والی کے ہاتھ صاف نظر آرہے تھے۔۔۔۔
اس کے ہاتھ دیکھ کر سب ہی سمجھ گئے وہ کوئی لڑکی نہیں لڑکا ہے ۔۔۔۔۔۔
مسٹر شاہ سارے ثبوت آپ کے سامنے ہے۔۔۔۔۔سالار خانزادہ کی بے گناہی بھی آپ کے سامنے ہے۔۔۔۔میں کل ہی انوسٹیگیشن اسٹارٹ کرتا ہوں ان کی یونیورسٹی سے اور آپ کو یقین دلاتا ہوں آپ کی بیٹی کے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لوں گا۔۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
مجھے معاف کر دو بیٹا میری وجہ سے آپ کو اتنی پروبلم ہوئی میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔باقی رہی انوسٹیگیشن کی بات تو میں کوئی کیس نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔
اس سے بس میری بیٹی کی عزت اچھلے گی۔۔۔۔
میں اپنا فیصلہ اللّٰہ پر چھوڑتا ہوں۔۔۔۔وہ بہتریں فیصلہ کرنے والا ہے۔۔۔۔۔شہزاد شاہ سنجیدگی سے کہہ کر سالار اپنے سینے سے لگا گئے۔۔۔۔۔
مگر مسٹر شاہ اس طرح ان مجرموں کو اور شے ملے گی۔۔۔۔آدم نے انکو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
اللّٰہ بہتر کرنے والا ہے بس میں کوئی کیس نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔
تھینک یو سو مچ آپ نے بنا رشتے داری دکھائے میرا ساتھ دیا۔۔۔۔
زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی۔۔۔۔وہ مسز شہزاد کو اشارہ کر کے باہر نکل گئے کیونکہ ان سے اپنے آنسو روک پانا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔
بیٹا مجھے معاف۔۔۔۔مسز شہزاد اس سے پہلے ہاتھ جوڑتی سالار نے ان کے ہاتھ تھام لئے ۔۔۔۔
پلیز آنٹی ایسا مت کہیں میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے فاطمہ کے قاتل کو میں چین سے جینے نہیں دوں گا وہ میرے لیے بہت خاص تھی اس کا بدلہ میں لوں گا۔۔۔۔سالار نے نم لہجے میں بولتا انہیں رونے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے اس کو دعا دیتی وہاں سے نکل گئیں ۔۔۔۔
ان کے جاتے ہی سالار آدم کے سینے سے لگ گیا تھا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
خانزادہ ہاؤس میں سب کو فاطمہ کی دیتھ جا پتہ چل گیا تھا۔۔۔۔
لیکن دیتھ کی وجہ کسی کو نہیں بتائی گئی تھی ۔۔۔۔
سجدہ بیگم اور فروا بیگم تو سکتے میں چلی گئیں تھیں
زندگی سے بھر پور وہ ہنس مکھ سی لڑکی انہیں بہت پسند آئی تھی اور اللّٰہ نے اسکی کتنی کم زندگی لکھی تھی۔۔۔۔
وہ تو فاطمہ کے گھر تعزیت کے لیے جانا چاہتی تھی مگر سالار نے منع کر دیا۔۔۔۔اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔
مطلب ابھی تک وہ آئی نہیں اس نے ناگواری سے کہا
اور اٹھ کر اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
ابھی وہ بہت گہرے صدمے میں ہے بہتر ہوگا اسے کوئی پریشان نا کریں ۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے کہا اور چاروں طرف نظر دوڑائی ۔۔۔۔
امی زرش کہاں ہے۔۔۔ادم نے فروا بیگم سے پوچھا تو اُنہوں نے اپنی نظریں چرائی۔۔۔
مطلب ابھی تک وہ آئی نہیں اس نے ناگواری سے کہا
اور اٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔
وہ ابھی اپنے روم میں آیا تھا کہ جزا دروازہ دھڑام سے کھول کر اس کے کمرے آئی اس نے اپنی نظر موبائل سے ہٹا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
جو رات کے بارہ بجے بنا کسی لحاظ کے اس کے کمرے میں آئی تھی۔۔۔۔
جزا اپنے روم میں جاؤ ابھی۔۔۔اس نے نرمی سے اسے وہاں سے جانے کا کہا۔۔۔۔
مگر وہ ڈھیٹ بن کر اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔سالار کو اس کی نظروں پر غصہ آیا تھا
کیوں آئی ہو ۔۔۔۔اس نے ناگواری سے پوچھا اسے اس لڑکی پر بے انتہا غصہ آرہا تھا جو اسکا پیچھا کرتی ہوئی وہاں تک پہنچ گئی تھی اور اسی کی وجہ سے سالار نے فاطمہ سے محبت سے ناٹک کروایا تھا ۔۔۔۔اور کہیں ناکہیں اسے لگتا تھا
فاطمہ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کی وجہ وہ خود تھا۔۔۔
نکلو یہاں سے وہ جارخانہ انداز میں سالار تک پہنچا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر نکالنے لگا۔۔۔۔
بہت محبت کرتے تھے اس سے۔۔۔۔۔جزا کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔۔۔۔
ہاں بہت زیادہ تمہاری سوچ سے بھی زیادہ۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔۔۔۔
تو شادی کر لیتے اس کی عزت کو روند ے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔جزا کی بات پر وہ سکتے میں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے بے یقینی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
کیا کہا تم نے سالار کو لگا اس نے غلط سنا ہو۔۔۔۔
یہی کہ اگر اتنی محبت تھی تو شادی کرنے کے بجائے اسے رسوا کیوں کیا کیوں اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا ۔۔۔
جزا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیخی تھی۔۔۔۔
سالار کا دل کیا اس کی جان لے لے جو اس کو جاننے کے باوجود اس پر اتنا گھٹیا الزام لگا رہی تھی۔۔۔۔کیا بکواس کررہی ہو دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔۔۔
سالار نے اس کا بازو جھنجھوڑ کر پوچھا۔۔۔۔
مگر وہ بنا ڈرے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔سالار کو لگا اگر وہ اپنا ظبط کھو گیا تو اس لڑکی کو جان سے مار دے گا۔۔۔۔
وہ اس کا بازو پکڑے کھینچ کر کمرے سے باہر لے گیا۔۔۔۔
آئیندہ میرے کمرے میں قدم مت رکھنا ورنہ وہ حال کروں
گا آئینے میں اپنی شکل نہیں پہچان پاؤ گی۔۔۔۔
وہ اسے دھکا دیتا اس کے منہ پر اپنا دروازہ بند کر گیا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
ہم نے بہت غلط کیا ہم نے اس بچے پر شک کیا۔۔۔۔مسز شہزاد نے نم لہجے میں کہا۔۔۔۔
اس وقت وہ دونوں اپنی گاڑی میں گھر جا رہے تھے تھانے سے نکل کر ۔۔۔
ہاں مجھے وہ پہلے بھی بے قصور لگتا تھا۔۔۔لیکن میری بچی کے ساتھا ہ سب کس نے کیا ہوگا ۔۔۔۔اور کیوں آخر
شہزاد صاحب پریشانی سے بولے۔۔۔۔اس وقت آنکھیں آنسوؤں کی وجہ سے اتنی دھندلی ہو رہی تھی کہ ان کو آگے کا راستہ بھی صاف نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
اللّٰہ غارت کرے اسے قبر نصیب نا ہو میری بچی کے مجرم کو
مسز شہزاد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں ۔۔۔۔
شہزاد شاہ انہیں چپ کروانے کی نیت سے ان کی طرف مڑے اچانک پیچھے سے ایک تیز رفتار ٹرک انکی گاڑی کو ٹکر مارتا آگے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہزاد شاہ نے اپنی بند ہوتی آنکھوں سے اپنی شریک حیات کو دیکھا تھا جو خون میں لت پت آنکھیں بند کئے پڑی تھی۔۔۔۔
وہ خود بھی لرزتے لبوں سے کلمہ پڑھتے آخری ہچکی کے ساتھ آنکھیں موند گئے۔۔۔۔۔۔
بیچ سڑک پر اتنے بری ایکسیڈنٹ پر وہاں لوگ جمع ہو گئے تھے ایمبولینس اور پولیس کی گاڑی کے سائرن کی آوازیں ہر طرف گونج رہی تھی ۔۔۔۔
وہ دونوں ہی موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
آدم کو جیسے ہی خبر ملی وہ ان کی باڈی کو لے کر خود گھر آیا تھا ۔۔۔۔
اماں جان پر جوان پوتی کے بعد بہو اور بیٹے کی لاش دیکھ کر دل کا دوراہے پڑا تھا۔۔۔۔
لیکن بروقت اسپتال پہنچانے کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی تھی وہ اسپتال میں داخل تھی جہاں کچھ ان کی ملازمہ ان کے ساتھ تھیں۔۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے ان کے کچھ رشتےداروں کے ساتھ مل کر ان کی تدفین کا انتظام کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
شہزاد شاہ کے بیٹے کو انفارم کرنے کی انہوں نے بہت کوشش کی مگر اس کا نمبر بند ہونے کی وجہ سے وہ بے خبر رہا ۔۔۔۔۔۔
تین دن میں تین جنازے اٹھے تھے اس گھر سے لوگ حیران پریشان صدمے میں تھے۔۔۔۔
کوئی بھی سمجھ نہیں پارہا تھا آخر ان کے ساتھ ہوا کیا۔۔۔۔
اماں جان کا بھانجا ہی تھا جو اس وقت سب کچھ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
انہوں نے بالاج شاہ کے نمبر پر میسج چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔اور امن جان کا خیال رکھنے لگے۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے سالار کو کمپنی کے کام کے بہانے دوسرے شہر بھیج دیا تھا تاکہ وہ نارمل ہو جائے ۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
وہ اپنا لاسٹ پیپر دے کر فری ہوا تھا اس نے اپنے فلیٹ میں آکر اپنا فون نکال کر چارج پر لگایا اور کچن میں بلا گیا جہاں فرجاد کھانا بنا رہا تھا۔۔۔
وہ ایک یتیم لڑکا تھا اس کا باپ پاکستانی تھا جس نے امریکہ میں ہی ایک انگریز لڑکی سے شادی کی تھی اور شادی کے بعد اس کا باپ دل بھر جانے پر اسے چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
اور اس کی ماں اسے پیدا کرکے دس سال بعد ہی اس دنیا سے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
تب محلے کے کچھ لوگوں نے اسے ایک یتیم خانے میں ڈال دیا اس کے پاس اپنی ماں کی ایک ڈائری کے علاوہ کچھ نا تھا اٹھارہ سال کی عمر میں کے بعد وہ وہ یتیم خانے سے نکل کر ایک میکینک کی دکان پر کام کرنے لگا تھا۔۔۔۔
ایک دن بالاج کو وہ میکینک کی دکان پر ملا تھا وہ شکل صورت سے بلکل پاکستانی تھا۔۔۔۔
اس لئے سلام دعا کے بعدوہ اکثر وہاں جانے لگا اسے الگ سی انسیت سی ہو گئی تھی فرجاد سے۔۔۔۔
بالاج اسے اپنے ساتھ اپنے فلیٹ میں لے آیا تھا ۔۔۔۔۔تب سے پچھلے آٹھ سالوں سے وہ اس کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔
وہ اسے سر کہتا تھا کبھی بھائی ۔۔۔۔
کیا بنایا ہے فرجاد ۔۔۔۔۔اس نے پانی کی بوتل منہ سے لگاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔
آپ کے چکر میں پیکنگ بھی نہیں کر سکا میں بریانی بنانے میں اتنا ٹائم لگ گیا مجھے وہ زرا غصے سے کہہ کر برتن نکالنے لگا۔۔۔۔۔
بالاج نے مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔
غصہ چھوڑ دے دونوں مل کر کر لیں گے پیکنگ ۔۔۔۔آج فاطمہ کی برتھڈے ہے اسے سرپرائز دینا چاہتا ہوں ۔۔۔دیکھنا مجھے دیکھتے ہے سب کیسے شاکڈ ہو جائیں گے۔۔۔۔۔
میں نے اسے جھوٹ بولا تھا کہ میں دو مہینے بعد آؤں گا۔۔۔۔
اس نے بریانی کا ایک اسپون منہ میں رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
فرجاد مسکرا کر دو پلیٹوں میں بریانی ڈال کر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
وہ بھی ساتھ بیٹھ کر کھانے لگا ۔۔۔۔
ان دونوں نے شام کو پاکستان کے لیے نکلنا تھا فرجاد جانا نہیں چاہتا تھا مگر بالاج کی ضد پر وہ پاکستان جانے کے لئے تیار ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ اپنے باپ کو بھی تلاش کرنا چاہتا تھا۔۔۔مگر اس نے یہ بات بالاج کو نہیں بتائی۔۔۔۔
ابھی اس نے دو تین نوالے ہی لئے تھے کہ موبائل پر میسج ٹون بجا۔۔۔اپنے موبائل پر اپنے باپ کے خالہ زاد بھائی کا میسج دیکھ کر وہ پریشان ہوا تھا ۔۔۔
جس نے اسے جتنی جلدی ہو سکے پاکستان پہنچنے کا کہا تھا۔۔۔۔
اس نے کال ملائی۔۔۔۔
اسلام علیکم انکل خیریت ہے نا سب آپ نے مجھے اتنی جلدی پاکستان پہنچنے کے لئے کیوں کہا۔۔۔۔۔اس نے کال اٹھاتے ہی پوچھا۔۔۔
وعلیکم اسلام بیٹا میں تمہیں فون پر نہیں بتا سکتا تم بس جلدی پاکستان پہنچو تمہارے گھر کو ت۔ہاری ضرورت ہے ۔مجھ سے اور کچھ مت پوچھنا۔۔۔
انہوں نے کہہ فون بند کر دیا اور وہ پریشان سا وہاں سے اٹھ گیا تھا فرجاد بھی اسے دیکھ کر کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔
وہ جلدی جلدی اپنی پیکنگ کرنے لگا دل بیت بری طرح دھڑک رہا تھا اس نے گھر میں سب کے نمبر ٹرائے کیا مگر کسی کا بھی نمبر آن نہیں تھا اور گھر کے لیڈلائن پر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔
سب ٹھیک ہے بھائی آپ پریشان ہیں ۔۔۔۔فرجاد نے اس کی تیزی دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں تم بس جلدی اپنا سامان اٹھاؤ ہمیں نکلنا ہے۔۔۔اس نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
بیس منٹ بعد وہ دونوں اپنا سامان اٹھائے ائیرپورٹ کے لئے نکلے تھے ۔۔۔۔
جبکہ ابھی بھی دو گھنٹے باقی تھے ان کی فلائٹ میں ۔۔۔۔۔
جس وقت وہ دونوں پاکستان اپنے گھر میں پہنچے گھر کی ویرانی دیکھ کر بالاج کا دل کسی انہونی کے ڈر سے بہت بری طرح دھڑکا تھا ۔۔۔۔
تھوڑا آگے جا کر اسے اماں جان کا بھانجا مل گیا تھا۔۔۔۔
انکل سب کہاں ہیں ۔۔۔اس نے گھبراتے ہوئے ہوچھا۔۔۔۔
بیٹا تم چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔وہ بالاج کا ہاتھ پکڑ کر اماں جان کے کمرے میں لے گیا فرجاد بھی اس کے پیچھے تھا ۔۔۔
اماں جان کی حالت دیکھ وہ پریشان ہوا تھا وہ دوڑ کر ان تک پہنچا تھا ۔۔۔۔
اماں جان آپ کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔اور گھر میں ماما بابا اور فاطمہ کہاں ہے۔۔۔۔۔اس نے اماں جان کو خود سے لگا کر ہوچھا۔۔۔۔۔
پھر وہ روتے روتے اسے سب بتاتی چلی گئیں ۔۔۔۔۔
بالاج کو لگا درد سے اس کا دل پھٹ جائے گا ۔۔۔۔اتنا سب کچھ ہو گیا اور وہ اتنا بے خبر رہا۔۔۔۔
وہ ہٹا کٹا مرد ان کے سینے سے لگ کر رو دیا تھا۔۔۔۔
کمرے میں موجود ہر شخص کا چہرہ آنسوؤں سے تھر تھا
فاطمہ فرجاد سے بھی بہت کلوز ہو چکی تھی وہ اسے چھوٹے بھائیوں کی طرح پیار کرتی تھی۔۔۔۔
صرف شاہ ہاؤس میں وہی تھی بالاج کے علاوہ جس سے وہ بات کرتا تھا۔۔۔۔
ماضی ختم۔۔۔
جاری ہے