Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ناول لمس جنون

رائٹرزرناب چاند

قسط_چار

دیکھو آدم میں تمہاری بہن ہوں اور میں تمہیں کسی مشکل میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔۔
اور نا ہم اس لڑکی کو حقیقت جاننے کے بعد کہیں بھیج سکتے ہیں یہ دنیا اکیلی لڑکی کے لئے نہیں ہےوہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ معصوم بھی ہے اور ضروری نہیں اگر وہ لڑکی ایک بار اس گندگی سے بچ گئی ہے تو دوبارہ بھی بچ جائے گی۔۔۔۔۔اور نا ہم بنا کسی رشتے کے اسے مزید یہاں رکھ سکتے ہیں سب جانتے ہیں یہ تمہارا فلیٹ ہے آج کچھ نہیں کہ رہے کل کو لوگ آکر سوال کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے۔۔۔۔
اس لئے یہی بہتر ہےاس کو خالی ہاتھ مت لوٹاؤ اس سے نکاح کر کے اس کی پوری طرح حفاظت کرو۔۔۔۔
فری اس کے سامنے بیٹھ کر اسے سمجھا رہی تھی اور آدم سنجیدگی سے اس کی بات سن رہا تھا۔۔۔۔
تم جانتی ہو میں الگ ٹائپ کا بندہ ہوں اور وہ مجھ سے بہت زیادہ چھوٹی ہے میری زندگی میں کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور اگر فرض کرو میں اگر اسکو پروٹیکٹ کرنے کے لیے اس سے نکاح کر بھی لوں ۔۔۔پھر بھی میں اسے وہ محبت نہیں دے سکتا جو ایک لڑکی اپنے ہسبینڈ سے ڈیزرو کرتی ہے ۔۔۔۔
وہ پریشانی سے بولا کیونکہ کہیں نا کہیں وہ اس بات کو سمجھتا تھا کہ بنا رشتے کہ وہ اسے نہیں رکھ سکتا اور نا وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ سکتا تھا۔۔۔۔

اس کا بھی ایک ہی حل ہے تم ایک بار شفا کو ہر بات سے آگاہ کر دو اگر وہ پھر بھی نکاح کے لیے راضی ہو جائے تو تمہارے پاس انکار کی کوئی وجہ نہیں بچتی۔۔۔
فری نے اسے مشورہ دیا۔۔۔ اور آدم کو بھی یہ بات صحیح لگی ۔۔۔۔
میں اسے بلا کر لاتی ہوں ۔۔۔۔فری اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔
وہ خود ایک بار اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
پھر وہ جو فیصلہ کرتی اسے قبول ہوتا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد خود کو ایک بڑے سے دوپٹے میں کور کئے وہ گھبرائی ہوئی سی فری کے ساتھ باہر آئی ۔۔۔۔
آدم نے اس پر سے نظریں ہٹا لیں۔۔۔۔
شفا تم یہاں بیٹھو میں آدم کےلئے چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔فری انکو اکیلے بات کرنے کا موقع دیتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
وہ گھبرا کر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔۔پتہ نہیں اب وہ اس سے کیا بات کرنے والا تھا کیاوہ اسے یہاں سے جانے کا کہے گا۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی وہ اپنے ہاتھوں کو بری طرح مسلنے لگی۔۔۔۔
آدم اس کی طرف نا دیکھ کر بھی اس کی ایک ایک حرکت کا بغور معائنہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
آپ یہاں بیٹھیں پلیز مجھے کچھ بات کرنی ہے پھر نکلنا ہے۔۔۔۔۔جب دس منٹ تک وہ نہیں بیٹھی تو مجبوراً آدم خانزادہ نے اسے مخاطب کر کے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔

جی جی وہ جلدی سے پاس ہی رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔

میں گھما پھرا کر بات کرنے کا عادی نہیں اس لیے آپ سے سیدھی بات کرنے آیا ہوں۔۔۔
آپ نے مجھ سے پناہ کا سوال کیا تھا۔۔۔اس بارے میں میں نے بہت سوچا۔۔۔۔۔۔۔آدم نے رک کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں گھبراہٹ صاف تھی۔۔۔اور آنکھیں ایسی تھی جیسے کسی بھی وقت چھلک پڑیں گی۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ ہم کوئی فیصلہ کریں میں اپنے بارے میں آپ کو سب بتانا چاہتا ہوں۔۔۔
میری عمر بتیس سال ہے اور میں ایک شادی شدہ انسان ہوں میری ایک بیٹی بھی ہے ایک سال کی مگر میری وائف اب نہیں ہیں میرے ساتھ۔۔۔۔
میری زندگی میں میری فیملی کی بہت اہمیت ہے میں اپنی خوشی سے زیادہ اپنی فیملی کی خوشی آگے رکھتا ہوں ۔۔۔۔
اور آگے بھی رکھوں گا۔۔۔۔

اور اگرآپ یہ سب جاننے کے بعد بھی مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔وعدہ کرتا ہوں آپ کی خواہشات پوری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑونگا ۔۔۔۔
اور آپ کو میرے گھر میں وہی محبت اور عزت ملے گی جو ایک بہو کا حق ہے ۔۔۔۔۔
لیکن شاید میں آپ کو سوائے عزت کے کچھ نا دے سکوں لیکن آپ کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کروں گا۔۔۔
اس نے ایک نظر شفا کو دیکھا اب اسکے چہرے پر پریشانی کی جگہ اطمینان تھا۔۔۔۔
مجھے آپ سے سوائے ایک چیز کے کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔۔آدم نے دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔۔۔
شفا نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ میری بیٹی کو ایک ماں کی طرح پیارکریں ۔۔۔صرف پیار باقی اس کے کام کرنے کے لیے گھر میں بہت سارے لوگ ہیں ۔۔۔

ج جی میں ۔۔۔۔۔ابھی وہ کچھ کہتی کہ وہ دوبارہ بول اٹھا۔۔۔۔

ہاں اگر آپ نکاح کے بجائے صرف ایک سہارا چاہتی ہیں تو میرا یہ فلیٹ ہمیشہ خالی رہتا ہے آپ کو آپ کی ضرورت کی ہر چیز مل جائے گی۔۔۔۔
میں یہاں نہیں آؤں گا آپ پوری زندگی یہاں آرام سے رہ سکتی ہیں ۔۔۔۔
فریحہ کا فلیٹ بھی اسی بلڈنگ میں ہے آپ آرام سے یہاں رہ سکتی ہیں ۔۔آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔

آپ اچھے سے سوچ لیں اور اپنا جواب فری کو بتا دیجیۓ گا۔۔۔۔
وہ اسے تحمل سے کہ کر وہاں سے جانے لگا۔۔۔۔

مج مجھے قب قبول ہے ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ جاتا شفا کی آواز پر رکا اسے لگا تھا وہ انکار کر دے گی۔۔۔۔
لیکن اس کے اقرار پراسے حیرانگی ہوئی۔۔۔۔
وہ دو قدم چل کر اس سے کچھ فاصلے پر رک گیا۔۔۔۔

لیکن میرے نکاح میں آنے کے بعد آپ چاہ کر بھی مجھ سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائیں گی ۔۔۔۔۔آدم نے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔۔۔
میں اس رش رشتے کو تا حیات نبھاؤں گی۔۔۔۔اس نے پختہ لہجے میں اسے یقین دہانی کروائی ۔۔۔۔

وہ بس کسی بھی طرح خود کو محفوظ کرنا چاہتی تھی اور آدم کو دیکھ کر اسے یقین ہو گیا تھا وہ ہر طرح سے ایک مظبوط انسان ہے ۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے تیاری کر لیجئے گا صبح دس بجے گاڑی آجائے گی ۔۔۔آپ کو لینے ۔۔۔
وہ کہہ کر اپنے مظبوط قدم اٹھاتا وہاں ںسے نکل گیا۔۔۔۔
شفا کتنی ہی دیر اس جگہ کو دیکھتی رہی۔۔۔۔

کیا دنیا میں ایسے مرد بھی موجود تھے اس نے تو اپنی زندگی کے اٹھارہ سالوں میں مردوں کو سوائے مفاد پرست اور ہوس پرست مردوں کے علاوہ کوئی مخلص مرد پایا ہی نہیں تھا سوائے اپنے باپ کے۔۔۔۔۔۔

              💓💓💓💓💓💓💓💓💓

بتائیں آپ میری مدد کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس نے عرش خانزادہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔۔۔۔۔وہ ایک بہادر لڑکی تھی کسی جوان لڑکے کا بنا مفاد کے مدد کرنا اسے کچھ ہضم نہیں ہوا۔۔۔۔۔

عرش اس کی آنکھوں میں موجود شک کو اچھے سے پہچان گیا۔۔۔۔
دیکھیں آپ مجھے غلط مت سمجھیں ۔۔۔۔۔میں صرف آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔اور کوئی بات نہیں ۔۔۔۔

میں آپ کو میڈیسن دلا دیتا ہوں جب آپ کے پاس پیسے آجائے آپ اس ایڈریس پر آکر کسی کو بھی وہ پیسے دے کر جاسکتی ہیں ۔۔۔۔مجھے مل جائیں گے ۔۔۔۔

اس نے جلدی سے اس لڑکی کی غلط فہمی دور کی۔۔۔۔اور اپنا کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
عقیدت نے کچھ سوچ کر وہ کارڈ تھام لیا وہ کسی کمپنی کا کارڈ تھا۔۔۔۔

کیا آپ کی کمپنی میں مجھے جاب مل سکتی ہے ۔۔۔۔اس نے دھیرے سے پوچھا۔۔۔۔۔
کہیں نا کہیں وہ ضرورتمند تھی تو وہ یہاں اپنی اکڑ نہیں دکھا سکتی تھی۔۔۔۔۔

آپ کی تعلیم کتنی ہے؟…….اس کے سوال پر عقیدت نے شرمندگی سے اسے دیکھا۔۔۔

جی جی میں نے صرف انٹر کیا ہے۔۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی۔۔۔
ٹھیک ہے آپ منڈے کو آفس آجانا پھر دیکھ لیں گے۔۔۔۔وہ کہہ کر فارمیسی کی طرف بڑھ گیا اور اس اسے پوچھ کر اس کو میڈیسن دلائی۔۔۔۔۔

بہت شکریہ میں آپ کا ایک ایک روپیہ آپ کو واپس لوٹا دوں گی۔۔۔۔عقیدت نے تشکر کے احساس سے کہا۔۔۔۔
اٹس اوکے ۔۔۔۔۔میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔۔عرش نے اسے آفر کی۔۔۔
نہیں بس میں خود چلی جاؤں گی تھینکس ۔۔۔وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔۔۔۔

وہ نظروں سے اوجھل ہونے تک اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔

          💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

بڑی امی مجھے جلدی سے ناشتہ دیں مجھے یار میں آج لیٹ ہو گئی ہوں ۔۔۔۔
وہ آندھی طوفان بنی جلدی سے نیچے آئی ایک ہاتھ پر بیگ تھا ور دوسرے ہاتھ پر جوتے پکڑے وہ دھپ سے کرسی پر بیٹھی۔۔۔
فروا بیگم نے جلدی سے اس کے سامنے ناشتہ رکھا ۔۔۔۔۔

اس نے ایک دو نوالے جلدی جلدی منہ میں ٹھونسے اور جوتے پہنے بیگ اٹھا کر بھاگنے لگی۔۔۔۔
فروا بیگم نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔جلدی اٹھ جایا کرو آیت یہ کیا طریقہ ہے ناشتہ کرنے کا۔۔۔۔۔
سوری نا بڑی امی شام میں ڈانٹ لینا وہ انکا گال چومتی
باہر بھاگ گئی۔۔۔۔۔

           💓💓💓💓💓💓💓💓💓

امی مجھے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔
سب لاؤنج میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے آدم نے فروا بیگم کو مخاطب کیا ۔۔۔۔۔جو آیت کے بالوں میں تیل لگا رہی تھی۔۔۔۔

ہممم بولو۔۔۔فروا بیگم نے مصروف سے انداز میں کہا۔۔۔
میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔بم تھا کہ پہاڑ جو اس نے سبکے سروں پر گرایا تھا۔۔۔۔
اس کی بات پر سب نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا ۔۔
۔
سچ میں آدم تم سچ کہہ رہے ہو؟……سب سے پہلے سجدہ بیگم نے بے یقینی سے پو چھا۔۔۔۔
جی چھوٹی امی۔۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔
تم نے دل خوش کر دیا ہمارا میں کل ہی رشتے والی کو بولتی ہوں کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈ کے دیں۔۔۔۔۔فروا بیگم آیت کو چھوڑتی اٹھی اور آدم کا ماتھا چوم لیا۔۔۔
باقی سب کے چہرے پر بھی خوشی تھی

ویسے لگتا نہیں بھائی آپ کو اتنی زحمت دیں گے۔۔۔۔۔سالار کی بڑبڑاہٹ عرش اور آدم نے بخوبی سنی تھی۔۔۔۔

سجدہ بیگم اور فروا بیگم نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا
اس نے نظریں اٹھا کر آدم کو دیکھا اس کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کہ اسے اپنے بولنے پر افسوس ہوا۔۔۔۔
ک کچھ نہیں میں تو مزاق کرر رہا تھا ۔۔۔اس نے جلدی سے اپنی جان بچائی

میں کل نکاح کرنا چاہتا ہوں امی اگر آپ دونوں اجازت دیں تو میں کل فری کو بول کے ان کو بلوا لیتا ہوں۔۔۔مجھے امید ہے وہ آپ سب کو پسند آئے گی ۔۔۔اس نے فروا بیگم کا ہاتھ تھام کر محبت سے کہا۔۔۔۔
ارے بیٹا ہمارے لیے اس سے خوشی کی کیا بات ہوگی کہ تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ اور ہمیشہ خوش رہو اور اگر تم نے لڑکی پسند کی ہوگی تو یقیناً اچھی ہی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے اپنے بیٹے کو خوشی سے اپنےساتھ لگایا ۔۔۔۔

یہ شادی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔آیت نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔
کیوں نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔۔سوال کرنے والا عرش تھا۔۔۔۔۔
کیونکہ ایک دن میں شادی کون کرتا ہے نا مہندی نا مایوں ڈھولکی کچھ بھی نہیں اورسب سے بڑی بات ہماری شاپنگ کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے شادی۔۔۔آیت تو رونے والی ہو گئی۔۔۔۔

بھئی مجھے نہیں پتہ بھائی ایک ہفتہ لیٹ کریں شادی مجھے شاپنگ کرنی ہے ۔۔۔۔وہ جلدی سے آدم کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔۔۔
میرا بچہ لیکن بھائی کی مجبوری سمجھو باقی سب شوق آپ عرش اور سالار کی شادی میں پورے کرنا۔۔۔۔۔۔
ہاں شاپنگ میں آپ کو کرواسکتا ہوں۔۔آدم نے التجاء کی ۔۔۔۔

ہمم ٹھیک ہے آپ کے لیے اتنا تو کر ہی سکتی ہوں لیکن شاپنگ میری مرضی کی ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔آیت نے کچھ دیر سوکر کہا ۔۔۔
اوکے ڈن۔۔۔۔۔ آپ جاؤ جزا اور منت کو بھی لے کر آؤ میں باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔آدم کہہ کر باہر نکل گیا اور
وہ منت اور جزا کے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔۔

اب تم دونوں اٹھو اور کل کی تیاری کرو تمہارے بڑے بھائی کی شادی ہے۔۔۔۔۔۔۔سجدہ بیگم نے دونوں کو جھڑکا جو لیلا مجنوں کی طرح ایک دوسرے کے کان میں گھسے ہوئے تھے۔۔۔۔
وہ دونوں کھسیا نی ہو کر اٹھ گئے۔۔۔۔

             💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ جزا اور آیت کو لئے مال آیا تھا۔۔۔۔منت سوئی ہوئی تھی اسلئے وہ فروا بیگم کے پاس ہی رہ گیی۔۔۔۔

جزا نے پہلے تو خوب غصہ دکھایا لیکن آدم کے منانے پر جلد ہی مان گئی۔۔۔
سب سے پہلے ان دونوں نے اپنی اپنی شاپنگ کی ۔۔۔۔پھر منت کے لئے بھی ڈھیر ساری شاپنگ کی ۔۔۔اسکے بعد جزا اور آیت نے ہی شفا کے لیے نکاح کا جوڑا پسند کیا۔۔۔۔اور کچھ ضرورت کی کچھ چیزیں لےکر وہ رات گئے گھر لوٹ ائے۔۔۔۔

             💓💓💓💓💓💓💓💓

صبح سےہی گھر میں خوب رونق لگی ہوئی تھی فروا بیگم نے اپنے کچھ قریبی رشتے داروں کو بھی مدعو کیا تھا ۔۔۔

وہ تو گھر کا بدلہ ہوا نقشہ ہی حیرت سے دیکھ رہا تھا
جسے اس کے بھائیوں نے کچھ ہی گھنٹوں میں ایک خوبصورت میرج ہال کی شکل دے دی تھی ۔۔۔۔

کہاں ہو تم وہ منت کو سینے پر لٹائے سالار کو کال کرنے لگا۔۔۔جو فریحہ اور شفا کو لینے گیا تھا۔۔۔۔
بس راستے میں ہے ہم آرہے ہیں بھائی بس کچھ گھنٹے مزید صبر کر لیں۔۔۔
اس کی شرارت بھری آواز سن کر آدم نے فون بند کر دیا اور منت سے کھیلنے لگا ۔۔۔۔
کیا اس کا فیصلہ صحیح تھا وہ گہرے ازطراب میں تھا ۔۔۔۔
یہ فیصلہ صرف شفا کو پناہ دینے کے لیے نہیں تھا بلکہ وہ اپنی بیٹی کی زندگی سے بن ماں کی بچی کا لقب بھی ہٹانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اس لیے اس نے یہ فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

نوٹ۔۔۔
بس پڑھ کر چلے جاتے ہیں آپ لوگ نالائک نا کمنٹس بہت برا لگتاہے میں آپ لوگوں کے لیے لکھتی ہوں اگر آپ لوگ تھوڑی سے تعریف اور لائک کر دیں گے توحوصلہ افزائی پوگی۔۔۔۔