Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ناوللمس جنون
رائٹر زرناب چاند

قسط 21

فجر کے وقت اس کی آنکھ کھل گئی۔۔۔ اسکا دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔۔
رات بھی وہ ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی۔۔۔۔
وہ وضو کر کے آئی اور جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
نماز کے بعد آدم کے لیے اللّٰہ سے ڈھیر ساری دعائیں مانگی۔۔۔

اچانک اس کے کمرے کا دروازہ دھڑا دھڑ بجنے لگا ۔۔۔اس کا ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پر پڑا تھا وہ بھاگتی ہوئی دروازے پر گئی۔۔۔۔
سامنے سالار کھڑا تھا۔۔۔۔
اور نیچے سے عورتوں کی رونے کی آوازیں اوپر تک آرہی تھی۔۔۔۔
بھابھی بھائی کو گولی لگی ہے وہ ہسپتال میں ہیں ۔۔۔۔اپ دعا کریں ان کے لیے ۔۔۔۔
اتنا سننا تھا وہ لہرا کر زمین بوس ہو جاتی اگر سالار اسے نا تھامتا اس کی چیخنے کی آواز پر سب اوپر آئے تھے
جزا اور آیت نے جلدی سے اسے تھام کر بیڈ پر لٹایا منت بھی چیخوں کی آوازسن کر اٹھ کر رونے لگی۔۔۔۔۔

کچھ ہی گھنٹوں میں گھر کا حال ہی بدل گیا تھا ۔۔۔۔

سالار اور عرش دونوں اسپتال بھاگے تھے۔۔۔
گھر میں ایک کہرام سا مچ گیا تھا ہر کوئی غم سے نڈھال تھا اور اس کی صحتیابی کی دعائیں کرنے لگے۔۔۔

فروا بیگم کا غم سے برا حال تھا ۔۔۔۔
دو گھنٹے ہوگئے تھے انہیں گئے ہوئے مگر ابھی تک کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
لاکھ منع کرنے پر بھی جزا اپنی بائیک لے کر خود ہی آگئی تھی۔۔۔

جب سے شفا کو ہوش آیا تھا تو رو رو کر اس کا برا حال تھا ۔۔۔۔
وہ بار بار ایک ہی ضد کر رہی تھی کہ اسے آدم کے پاس جانا ہے وہ پچھلے چھ مہینے سے ساتھ تھے۔۔۔۔
وہ شخص پوری طرح اس کے دل میں بس چکا تھا ۔۔
اس کو کھونے کے خیال سے ہی اسکی جان نکل رہی تھی۔۔۔

آپی پلیز مجھے ان کے پاس لے چلیں آپی میں مر جاؤں گی۔۔۔۔
وہ روتے روتے فری سے منتیں کرنے لگی۔۔۔۔
فری نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔اسے کچھ بہت شدت سے یاد آیا تھا۔۔۔۔
اس کے بھائی کو واقع اللّٰہ نے اتنی مشکلوں کے بعد بہترین ہمسفر سے نوازا تھا۔۔۔
آپی مجھے ان کے پاس جانا ہے۔۔۔۔
اوکے ریلکس پہلے رونا بند کرو۔۔۔۔اچھے سے منہ دھو کر چادر لے کر آؤ ۔۔۔۔فری کے کہنے پر وہ وہ واش روم میں بھاگ گئی۔۔۔۔
اس کے نیچے پہنچتے ہی وہ بھی بھاگتی ہوئی پیچھے سے چادر لے کر آگئی تھی۔۔۔۔

احد فری فروا بیگم اور شفا کو اسپتال لے کر آگیا تھا۔۔۔۔
جہاں پہلے ہی پولیس والوں کا ایک جم غفیر تھا۔۔۔۔

سجدہ بیگم اور آیت بھی آنا چاہ رہی تھی مگر سالار نے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔۔۔

اس مشکل وقت میں عقیدت ہی ان دونوں کا ہی خیال رکھ رہی تھی اور منت کو بھی اس نے سنبھالا ہوا تھا۔۔۔وہ خود بھی بہت دکھی تھی کیونکہ آدم نے ہمیشہ اسے عزت دی تھی۔۔۔۔۔۔
وہاں آتے ہی ان دونوں کے رکے ہوئے آنسو پھر بہنے لگے تھے۔۔۔۔

یار آپ دونوں تو رونا بند کریں ۔۔۔۔۔۔
وہ ٹھیک ہو جائیں گے ۔۔۔۔دعا کرنے کے بجائے آپ لوگ رو کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔۔
عرش نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔۔وہ۔لوگ پہلے ہی بہت پریشان تھے۔۔۔
اوپر سے ان کا رونا دھونا دیکھ ان کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہورہی تھی۔۔۔۔

آدم خانزادہ آپریشن تھیٹر میں تھا اور وہ۔لوگ باہر بیٹھے اس کے لیے دعا گو تھے۔۔۔۔

چھ گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعد آخر کار آدم کو ہوش آگیا تھا۔۔۔اور اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔

امی بار بار اس کا ماتھا چوم رہی تھیں ان کا بیٹا موت کے منہ سے واپس آیاتھا۔۔۔۔اسے پہلے بھی کئی بار گولیاں لگی تھی کبھی بازو تو کبھی ٹانگ پر مگر ایسی جگہ کبھی نہیں لگی تھی نا وہ اتنا کمزور ہوا تھا۔۔۔۔

سالار جا کر آیت اور سجدہ بیگم کو بھی لے آیا تھا ان دونوں نے رو۔ رو کر اپنا حشر بگاڑ لیا تھا۔۔۔

عقیدت منت کے ساتھ گھر پر رکی تھی گھر پر ملازموں کی ایک فوج تھی اور گھر کے باہر گارڈز تعینات تھے۔۔۔۔

بھائی آپ نے تو ہماری جان نکال دی تھی ۔۔۔۔جزا اور آیت تو اب بھی رونے لگی تھی۔۔۔۔

شش آئی ایم ا۔۔۔وکے۔۔۔اس نے دھیرے سے کہا ۔۔

سالار نے اپنی بیوی کو دیکھا جو باہر سے تو بہت سخت نظر آتی تھی مگر اندر سے اتنی ہی حساس تھی۔۔۔۔

تم دونوں نے مل لیا تو باہر آجاؤ کیونکہ بھائی بھی اب تمہارا چہرہ دیکھ کر بور ہو گئے ہونگے۔۔۔۔

اب انہیں وہ چہرہ دیکھنے دو جس کا وہ کب سے انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔
عرش نے اندر آکر شرارت سے کہا تو وہ دونوں ہنستے ہنستے مسکرا دی۔۔۔اور اٹھ کر باہر چلی گئیں ۔۔۔۔سالار بھی ان کے پیچھے ہی باہر آگیا تھا۔۔۔

وہ روم میں داخل ہوا تو آدم خانزادہ کو پٹیوں میں جکڑا دیکھ اس کے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔۔۔۔

وہ دروازے سے لگ کر کھڑی تھی اس کا جسم لرز رہا تھا۔۔۔۔
سوجھی آنکھیں چہرے پر پھیلے آنسو ۔۔۔۔۔آدم کو بے ساختہ اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا ۔۔۔

کیا وہ اتنا اہم ہو چکا تھا اس لڑکی کے لیے ۔۔۔۔۔اس کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔۔
آدم نے اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔۔۔۔۔۔
مگو وہ ویسے ہی دروازے سے لگ کر آنسو بہاتی رہی۔۔۔۔

پاس آئیں ۔۔۔اس نے دھیرے سے اسے پکارا ۔۔۔
اس کے کہنے کی دیر تھی وہ بھاگتے ہوئے آئی اور اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔

آدم خانزادہ تو اسکے اتنا رونے پر پریشان ہوگیا تھا۔۔۔۔

جہاں شفا نے سر رکھا تھا اس کے بلکل پاس ہی اسے گولی لگی تھی۔۔۔۔
اسے درد تو ہوا مگر وہ ظبط کئے اس کے بالوں میں ہاتھ رکھ کر پھیرنے لگا۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں مت روئیں۔۔۔۔

م۔۔۔ میں۔۔۔ آپ۔۔۔ کے۔۔۔ بغ۔۔۔ بغیر مر جاؤں گی ۔۔۔۔آپ مج مجھے چھوڑ کر م مت جانا کب کبھی بھی ۔۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔

وہ سانس روکے اس کو سننے لگا ۔۔۔۔۔۔اس پیاری لڑکی کو اللّٰہ نے اس کے نصیب میں لکھا تھا۔۔۔اس لڑکی کے دل میں اپنے لئے اتنی محبت دیکھ دیکھ اس کا دل اندر تک سر شار ہوا تھا اسے اپنے سارے عہد ٹوٹتے محسوس ہوئے ۔۔۔۔

جب رو کر دل تھوڑا ہلکا ہوا تو اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا۔۔۔۔وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔
آدم نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو خطرناک حد تک لال ہو رہا تھا۔۔۔۔
میں م جا رہی امی بلا رہی ۔۔۔۔وہ اٹھ کر بھاگنے لگی۔۔۔۔مگر آدم نے اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔۔۔۔
یہاں بیٹھیں سکون مل رہا ہے مجھے ۔۔۔۔اس کی دھیمی آواز پر شفا کی پلکیں کرز گئیں ۔۔۔۔
وہ واپس بیٹھ گئی۔۔۔۔۔اس کا ہاتھ اب بھی آدم کے ہاتھ میں تھا۔۔۔
منت کیسی ہے۔۔۔۔
منت ٹھیک ہے لیکن وہ عقیدت بھابھی کے پاس ہیں ۔۔۔۔اس نے دھیرے سے بتایا۔۔۔۔
ہمممم ۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ گنودگی میں جانے لگا۔۔۔۔
نیند میں بھی اس نے شفا کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔۔۔

            💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اے لڑکی مجھے ناشتہ بنا کر دو۔۔۔۔وہ جو منت کو سلا کر ابھی کچن کی طرف چائے بنانے آئی تھی۔۔۔
ایشا کی آواز پر مڑ کر دیکھا۔۔۔۔اس نے حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھا کیونکہ کل جب وہ کمرے میں گئی تھی تب تک تو کوئی بھی مہمان نہیں تھا پھر یہ کون تھی ۔۔۔۔

جی آپ کون ہیں ۔۔۔۔اس نے کنفیوز ہو کر پوچھا۔۔۔۔

میں اس گھر کی ہونے والی بہو ہوں۔۔۔۔ عرش خانزادہ کی ہونے والی بیوی۔۔۔۔۔
اس کے لہجے میں جو مان تھا ایک پل کو وہ ڈگمگا گئی۔۔۔

ناشتا بنا کر میرے روم میں بھجوا دو۔۔۔۔
ایشا نے حقارت سے اسے دیکھا۔۔۔اور کچن سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

وہ بے وجہ ہی شرمندہ ہوگئی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تھیں۔۔۔۔ دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی تھی۔۔۔۔
وہ کیسے کل رات جزبات میں بہہ گئی وہ کیسے بھول سکتی تھی وہ شخص اس کا کبھی نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔۔

اس نے کیسے اسے اپنا آپ سونپ دیا تھا۔۔۔۔

بی بی جی آپ جائیں ۔۔۔۔ میں ان کا ناشتہ بنا کر بجھو دیتی ہوں۔۔۔۔۔ملازمہ نے اسے افسوس سے دیکھ کر کہا۔۔۔۔

وہ بھاگتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔۔
اور بیڈ پر گر کر رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔

عرش آیت اور جزا کو گھر لے کر آیاتھا۔۔۔۔۔۔۔وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ بے چینی سے اسکا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر اس کے پاس آئی ۔۔۔۔آنکھیں رونے کی چغلی کھا رہی تھیں ۔۔۔۔

عرش پریشانی سے اس کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔اور اس کا ہاتھ تھام ے کی کوشش کی جسے عقیدت نے بہت بری طرح جھٹکا تھا۔۔۔۔۔

آپ کو جو چاہیے تھا آپ حاصل کر چکے ہیں ۔۔۔۔اپنی ضرورت میرے جسم سے پوری کر چکے۔۔۔۔

اب آپ مجھے طلاق دے دیں ۔۔۔۔۔اگر طلاق بھی نہیں دینا چاہتے تو مت دیں مگر مجھے یہاں سے جانے دیں میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔۔۔۔۔بہتر ہوگا آپ اپنی کزن سے شادی کرلیں۔۔۔

وہ بولی تو لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔۔۔۔

اس کے چہرے پر گزری رات کا شائبہ تک نا تھا اسے کیا لگ رہا تھا وہ اسکی محبت کو ضرورت کا نام دے رہی تھی۔۔۔۔

سالار نے جارحانہ انداز میں اس کا منہ دبوچا۔۔۔۔اور دیوار سے لگایا۔۔۔

کیا بکواس کر رہی ہو تم۔۔۔۔دماغ میں بھوسہ بھرا ہے کیا۔۔۔۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کیا اس دماغ میں ۔۔۔

وہ اس کے ماتھے پر انگلی مارتے ہوئے دھاڑا تھا۔۔۔۔عقیدت نے ڈر کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا۔۔۔۔

اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو کہ تمہیں مجھ سے آزادی ملے گی۔۔۔۔۔میرے جیتے جی تو یہ ممکن نہیں جو کرنا ہے کرلو۔۔۔۔

اور شادی تو میں اپنی کزن سے بھی کروں گا۔۔۔۔اور تم بھی میرے ساتھ رہوگی۔۔۔۔سرد لہجے میں بولتا ۔۔۔
وہ اسے چھوڑکر کمرے سے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔

              💓💓💓💓💓💓💓💓💓

کہاں گئیں تھیں تم دونوں ۔۔۔۔۔ایشا نے ان کو باہر سے آتا دیکھ پوچھا۔۔۔۔
ناچنے۔۔۔۔۔جزا نے ناگواری سے جواب دیا اور اندر بڑھ گئی۔۔۔۔

اسے یہ لڑکی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی کیونکہ یہ کچھ ٹائم تک سالار کے پیچھے بھی تھی ۔۔۔۔۔

بہانے بہانے سے اس کے آگے پیچھے گھومنا سب دیکھا تھا اس نے ۔۔۔۔۔

مگر سجدہ بیگم کو اپنی بھانجی کے کرتوت کبھی بھی نظر نہیں آئے تھے۔۔۔

ہم آدم بھائی کے پاس گئے تھے ہسپٹل ان کو گولی لگی تھی۔۔۔۔
آیت نے اس کو جواب دیا۔۔۔
اوہ اچھا۔۔۔۔اس کے اتنے نارمل ریکشن پر آیت کو اس پر غصہ آیا ۔۔۔۔وہ بنا کچھ کہے اندر بڑھ گئی۔۔۔

چھوٹی امی اس کو بہو بنانا چاہتی تھی جس کو رشتوں کا احساس ہی نہیں ۔۔۔۔

                 💓💓💓💓💓💓💓💓

میں اپنے بھائی کے قاتل کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔

وہ جہاں بھی چھپے ہیں ان کو چوبیس گھنٹے کے اندر ڈھونڈ کر نکالوں کتے کی موت نا مارا تو میرا نام ارمان نیازی نہیں ۔۔۔

میں ایک مہینے کے لیے ملک سے باہر کیا چلا گیا۔۔۔۔یہاں سب درہم برہم ہوگیا ۔۔۔۔۔

وہ شخص ہاتھ میں شراب کا گلاس لئے چیخ رہا تھا۔۔۔اور وہاں اس کے بندے سر جھکائے کھڑے تھے۔۔۔۔

نکلو سارے کام پہ لگو مفت کی روٹیاں توڑنے کے لیے نہیں رکھا تم لوگوں کو میں نے۔۔۔۔
اس کے اشارے پر اس کے بندے بھاگتے ہوئے نکل گئے۔۔۔۔

ادھرآؤ۔۔۔۔اس نے ساتھ صوفے پر کھڑی لڑکی کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔جو نازیبا لباس میں میک اپ میں تیار بیٹھی تھی ۔۔۔

وہ نزاکت سے چلتی اس کے پاس آئی ۔۔۔

ایک ادا سے اسکے ہاتھ سے گلاس لے کر منہ میں لگایا اور اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

وہ انہی اداؤں کا تو دیوانہ تھا ۔۔۔۔اس نے اس لڑکی کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر قریب کیا ۔۔۔۔

اور گناہ ثواب سے دور وہ دونوں ایک دوسرے کے وجود میں گم ہوتے چلے گئے۔۔۔۔

                 💓💓💓💓💓💓💓

وہ نیوز دیکھ رہا تھا جہاں آدم خانزادہ کو گولی لگنے کی خبریں ہر نیوز چینل ہر چل رہی تھی وہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ایک بہت اہم حصہ تھا ۔۔۔

نڈر اور بہادر جس نے بہت سارے کیسا بہت بہادری اور سمجھداری سے حل کئے تھے۔۔۔۔

فرجاد زرا میرے سالے صاحب کی خبر تو لو۔۔۔۔سنا ہے موت کے۔ منہ سے واپس آیا ہے۔۔۔۔

بالاج شاہ نے ایک پر اسرار مسکراہٹ لئے پوچھا۔۔۔۔

جی سر ضرور ۔۔۔۔۔وہ سر کو خم دیتا اٹھ گیا۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔