Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

جو بھی ہے لیکن اب وہ میرے نکاح میں ہے اور نکاح کا مطلب تو سمجھتے ہو نا تم یعنی اب اس پر صرف میرا حق ہے۔۔۔۔۔

اور تمہاری بہن میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے بتایا تو ہوگا تمہارے بھائیوں نے تمہیں ۔۔۔۔۔۔
بالاج مسکرا کر بولتا پیچھے ٹیک لگا گیا۔۔۔۔
آدم نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔ لیکن ایک عورت کو بدلے کے لئے استعمال کرنا
شہزاد شاہ کے بیٹے کو زیب نہیں دیتا۔۔۔۔نا جانے وہ کیا سننا چاہتا تھا۔۔۔۔

محبت کرتا ہوں میں اس سے ڈیم اٹ ۔۔۔۔۔اور پوری دنیا کے سامنے سے اسے رخصت کروا کر اسی گھر سے لے کر جاؤں گا۔۔۔۔۔۔دیکھ لینا وہ وہ غصے سے چلاتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

۔جبکہ آدم خانزادہ پر سکون انداز میں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اور تمہارے بھائی کے کئے گئے گناہ کا حساب تو اسے ہی دینا پڑے گا وہ بھی بہت جلد۔۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
اس کے جانے تک آدم اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔

وہ صرف آیت کو لے کر اس کے جزبات جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔جو وہ جان چکا تھا۔۔۔۔۔۔
رہی بات سالار کی تو وہ بے قصور ہے یہ بات بہت جلد بالاج بھی جان جائے گا۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں جانے کے بجائے گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔

            💓💓💓💓💓💓💓💓

مجھے مت مارو میرا کوئی قصور نہیں آف ہائے مجھے چھوڑ دو میں نے سب کچھ اس کے کہنے پر کیا۔۔۔۔۔۔
میں سب بتانے کو تیار ہوں ۔۔۔۔الطاف کی مار سے وہ شخص ادھ مرا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

تین دن سے مسلسل مار کھانے کی وجہ سے اس کی حالت بری ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

آدم اور شہریار ٹانگ پر ٹانگ رکھے اندھیرے میں بیٹھے سکون سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

الطاف نے افضل کو الٹا لٹکایا ہوا تھا۔۔۔۔۔اور اس کے جسم پر بری طرح مار کر اس کی حالت جانوروں جیسی کر دی تھی۔۔۔۔
عدالت سے رہائی کے بعد آدم خانزادہ کے اشارے پر اسے الطاف نے حفیہ طور پر اٹھا لیا تھا۔۔۔۔۔

وہ سمجھ چکا تھا کوئی تو بات ہے جو شفا ڈر کی وجہ سے اپنا اسٹیٹمنٹ بدل گئی۔۔۔۔۔۔

جو لڑکی منہ دکھائی کی جگہ اپنے باپ کے لئے انصاف مانگ سکتی ہے جو اپنے باپ کو اپنی آنکھوں سے مرتا ہوا دیکھ چکی تھی وہ بھلا کیسے خود اپنے ہی باپ کے قاتل کو پہچاننے سے انکار کر دیتی ضرور کوئی اور بات تھی جو اسے جاننا تھا

اور وہ شفا پر کوئی زور نہیں ڈالنا چاہتا تھا اس لئے اس نے خود سب کچھ حل کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔

اور اسے منت نے اسی رات بتا دیا تھا کہ گھر میں ایک گندی آنٹی آئی تھی جو اس کی ماما کو ڈانٹ کر گئی۔۔۔۔۔

جزا سے پوچھنے پر اسے پتہ چلا کوئی عورت خود کو شفا کی ماں بتا رہی تھی۔۔۔۔اور وہ عورت شکل سے ہی مشکوک لگ رہی ۔۔۔۔اس وقت تو اس نے انتظار کیا کہ شفا اسے خود بتا دے مگر جب اس نے نہیں بتایا تو آدم نے بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔

اب بس وہ یہ جاننا چاہتا تھا شفا نے آخر افضل کو پہچاننے سے انکار کیوں کیا آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔

مجھے۔۔۔ سیدھا۔۔۔ کرو ۔۔۔خدا کا واسطہ ہے۔۔۔
افضل ان کے سامنے گڑگڑانے لگا تھا۔۔۔۔وہ تو سمجھا تھا عدالت سے رہا ہو کو وہ بچ جائے گا۔۔۔۔مگر وہ انجان تھا اس بات سے کہ اس کا پالا آدم خانزادہ سے پڑا ہے۔۔۔۔

آدم کے اشارے پر الطاف نے اسے سیدھا کیا تھا۔۔۔۔

آزاد ہوتے ہی وہ ایک دم زمین پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔۔
آدم چلتے ہوئے اس کے پاس آیا اور گریبان سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا تھا وہ دور جا گرا۔۔۔۔۔

اپنے سامنے آدم کو دیکھ اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔

صاحب مت ماریں میں آپ کو سب بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔وہ اس کے پاؤں پکڑے گڑ گڑانے لگا
اتنے دنوں کی مار اور بھوک پیاس نے اس کے حواس گم کر دیئے تھے۔۔۔۔۔

بولو ایک ایک لفظ بلکل سچ۔۔۔۔۔اگر جھوٹ بولا تو تمہاری زبان یہیں کاٹ دوں گا۔۔۔۔
وہ الطاف کے ہاتھ سے کینچی پکڑتے بولا۔۔۔۔

میں نے اشفاق بھائی کو مارا لیکن میری اس سے کوئی دشمنی نہیں تھی بس اس کی بیٹی کو اٹھانے کے لیے مارنا پڑا۔۔۔۔۔
شفا کے نام پر آدم کے بھاری ہاتھ کے تھپڑ نے اس کا منہ تیڑھا کر دیا تھا۔۔۔۔
اور اپنی کمر سے گن نکال کر اس پر تھان چکا تھا۔۔۔۔۔
شہریار اگر اسے نہیں روکتا تو وہ اس کو جان سے مار دیتا۔۔۔

کالم ڈاؤن ۔۔۔۔۔جلد بازی میں تم سب خراب کردو گے۔۔۔۔شہریار اسے زبردستی بٹھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔

تم سے یہ سب کس نے کروایا۔۔۔۔۔شہریار نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔آدم خانزادہ بہت ظبط سے وہاں بیٹھا تھا۔۔۔۔

تارا ملک ۔۔۔۔اشفاق احمد کی بیوی۔۔۔۔۔۔اس ۔۔۔ اس نے کروایا مجھ سے سب ۔۔۔

کیوں۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔۔

وہ اشفاق احمد سے بدلہ لینا چاہتی تھی۔۔۔۔افضل۔نے ڈرتے ہوئے بتایا۔۔۔۔۔
پھر وہ انہیں سب بتاتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔
ساری سچائی جان کر وہ تینوں ہی شاکڈ نہیں ہوئے تھے کیونکہ اس طرح کے بہت سارے کیسز وہ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔۔۔۔۔۔

الطاف کو اشارہ کرتے وہ دونوں وہاں سے نکل آئے پھر اپنے اپنے راستے چل دئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

               💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ جو رات کے بارہ بجے گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔سب کو بیٹھے دیکھ حیران ہوا تھا۔۔۔۔مگر وہ حیرانی غصے میں تب بدلی جب اس نے سب کے بیچ آیت کو بیٹھے دیکھا۔۔۔۔۔

یہ یہاں کیوں آئی ہے۔۔۔۔۔اس کی دھاڑ پر سب نے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔
سالار کو دیکھ کر آیت کے ہاتھ کانپے تھے۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔وہ آگے بڑھنے لگی مگر سالار نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا تھا ۔۔۔۔۔

اس کو یہاں کس نے گھسنے دیا۔۔۔۔۔وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ عرش جو کمرے میں لیپ ٹاپ پر اپنا کام کررہا تھا اٹھ کر باہر آگیا ۔۔۔۔۔

میں نے بلایا ہے بیٹا۔۔۔۔ بیٹی ہے یہ اس گھر کی تم ناراضگی چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔۔فروا بیگم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔

سالار ابھی تم کمرے میں چلو صبح بات کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔عرش نے اسے وہاں سے ہٹانا چاہا کیونکہ اس وقت سالار کی دماغ کی نسیں ابھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

بیٹی نہیں ہے اس گھر کی یہ رشتہ تبھی ختم ہو گیا تھا جب اس نے میرا ہاتھ چھوڑ کر اس انسان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔۔۔۔

اس کے لہجے میں سختی کے ساتھ ساتھ دکھ بھی تھا۔۔۔۔

ابھی نکلو یہاں سے اپنے شوہر کو بلاؤ اور آئیندہ یہاں مت آنا ۔۔۔۔۔آیت نے سختی سے اسے بولا ۔۔۔۔۔

سالار۔۔۔۔۔۔آدم کی سخت گھمبیر آواز پر سب نے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔

جو اسی وقت گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔

تمیز سے بات کرو جو بھی ہوا اس میں آیت کی کوئی غلطی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔آدم نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔

آپ کو لگتا ہے میں انجان ہوں مجھے نہیں پتہ چلا کہ اس گھٹیا شخص نے اسے کس طرح بلیک مل کیا کس طرح نکاح کے لئے فورس کیا۔۔۔۔۔
سب جان چکا ہوں بھائی۔۔۔۔۔

اس کی بات پر ساری عورتیں منہ پر ہاتھ رکھے دیکھنے لگیں ۔۔۔۔

جبکہ آیت کے آنسو دیکھ سب کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔۔
لیکن اس کو آزادی دی تھی ہم نے جو چاہا وہ پورا کیا ۔۔۔۔کبھی کسی چیز سے نہیں روکا۔۔۔۔۔پھر یہ کیوں اس سے ڈر گئی۔۔۔۔۔
کیوں اس نے ہم میں سے کسی کو نہیں بتایا۔۔۔۔۔

اس کی نظر میں ہم بھائی اتنے کمزور تھے کیا جو اس کی حفاظت نہیں کر پاتے اس نے ایک بار بھی ہم سے شئیر کرنے کی کوشش نہیں کی۔کیوں۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت وہ چیخ رہا تھا ایک باغی آنسو نکل کر اس کی داڑھی پر جذب ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔کسی نے بھی اسے پہلے کبھی بھی اسے اس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔

آپ جانتے ہیں اس دن جب ہم اس کو لینے گئے اس نے ہمارے ساتھ آنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔یہ اتنا سب ہونے کے بعد بھی اس آدمی کے ساتھ رہنا چاہتی اس وقت بھی اسے ہم پر یقین نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔

وہ سب کو کسی بچے کی طرح بتا رہا تھا اور آیت کچھ نا کر کے بھی مجرم بن گئی تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے آس پاس کچھ نہیں دیکھا اور بھاگتے ہوئے زبردستی سالار کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی مجھے معاف کر دیں مجھے معاف کر دیں میں ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ مجھ سے کیسے ہو گیا سب میں آپ لوگوں کو کھونا نہیں چاہتی تھی بھائی مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔۔
میرا سب کچھ آپ لوگ ہیں
اب میں کبھی نہیں جاؤں گی میں گھر سے بھی نہیں نکلوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس وقت ہچکیوں سے روتی ہوئی اس سے معافی مانگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اسے چپ نا ہوتا دیکھ سالار بھی مزید خود کو پھتر نہیں کر سکا اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔
شش بس اب چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔۔وہ اس کے بالوں میں لب رکھتا اسے چپ کروانے لگا ۔۔۔۔

آدم نے ایک گہری سانس لے کر شفا کی طرف دیکھا جو روتے روتے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔

اور وہ بدلتے موسم کا منظر اسے اس قدر حسین لگا کہ اگر اس وقت وہ کمرے میں ہوتی تو اس سے بچ نا پاتی۔۔۔۔۔

کسی کی نظریں خود پر محسوس کر کے شفا نے جب نظریں اٹھا کر دیکھا تو دل دھک سے رہ گیا۔۔۔۔۔کیوںکہ وہ سب کے سامنے بھی اس پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔۔۔۔

وہ جلدی سے اپنی نظریں جھکا گئی۔۔۔۔ایک دم چہرہ لال ہو گیا تھا۔۔۔۔

               💓💓💓💓💓💓💓💓

چائے بنا دوں کیا آپ کے لئے۔۔۔۔۔سالار کو سر دباتے دیکھ کر اس نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔اس نے دیکھا تھا وہ جب سے کمرے میں آیا تھا اپنا سر مسلے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔
سر دبا دوں ۔۔۔اس نے دوبارہ پوچھا۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔
اس کی بات پر جزا صوفے سے اٹھ کے بیڈ پر آگئی ۔۔۔۔۔۔
اس کے بیٹھتے ہی سالار اپنا سر اس کی گود میں رکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
جزا نے اپنی سانس تک روک لی۔۔۔۔۔
دباؤ۔۔۔۔۔۔آدم کی بات پر وہ خود کو کمپوز کرتی دھیرے دھیرے سے اس کا سر دبانے لگی ۔۔۔۔۔۔

ابھی بھی محبت کرتی ہو مجھ سے ۔۔۔۔۔سالار اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔۔سالار کو اس سے ایسے ہی جواب کی امید تھی۔۔۔۔
کیا اتنی جلدی محبت ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔اس نے دوبارہ پوچھا۔۔۔۔
نہیں محبت ہوتی تو قائم رہتی ۔۔۔۔۔وہ۔کیرا بچپنا تھا جو وقت کے ساتھ ختم ہو گیا۔۔۔۔۔اس نے انتہائی سفاکی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔۔

سالار کا دل کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تھا ۔۔۔مگر اس نے خاموشی سے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔۔

جزا نے غور سے اس کو دیکھا یہی وہ شخص تھا جس کے لیے کبھی وہ پاگل ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
اور آج بھی اس کا دل صرف سالار کو ہی پکارتا ہے۔۔۔۔۔مگر وہ یہ بات کبھی بھی اسے بتانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔۔

وہ دونوں ہی اپنی اپنی انا میں یہ بات بھول چکے تھے قسمت ہر کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتی۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔