Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

ناول لمس جنون

رائٹر زرناب چاند

قسط 22

آج پانچ دن بعد آدم خانزادہ اسپتال سے گھر آیا تھا ۔۔۔۔اس کے زخم بھرے تو نہیں تھے۔۔۔۔مگر بہت حد تک بہتر ہوگیا تھا۔۔۔۔
گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔۔۔فروا بیگم نے آتے ہی سب سے پہلے اس کا صدقہ دیا تھا۔۔۔۔
منت بھی اپنے باپ کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔۔۔
وہ سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔

عرش بیٹا مولوی صاحب کو فون کر کے کہہ دینا مدرسے سے بچے لے آئے کل قرآن خوانی کے لیے ۔۔۔
جی بڑی امی میں فون کردوں گا۔۔۔۔اس نے آس پاس نظریں دوڑائیں ۔۔۔
مگر وہ دشمن جان اسے نظر نہیں آئی ۔۔۔۔
آدم بیٹا نیچے والا روم صاف کروا دیا ہے تم جب تک بلکل ٹھیک نہیں ہو جاتے یہیں رہنا۔۔۔۔فروا بیگم نے آدم کو دیکھ کر کہا ۔۔

مگر امی ہم کہاں رہیں گے۔۔۔۔
وہ جو آنکھیں موندے بیٹھا تھا شفا کی آواز پر حیرانگی سے دیکھا۔۔۔
سب کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
آدم کی گہری نظریں خود پر محسوس کر کے شفا سٹپٹاگئی۔۔۔۔
وہ میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔وہ شرمندگی سے منمنائی۔۔۔۔
ارے بیٹا جب آدم نیچے رہے گا تو تم اور منت بھی نیچے رہوگے۔۔۔۔۔۔۔
عورت کا گھر وہی ہوتا ہے جہاں اس کا شوہر رہتا ہے۔۔۔۔۔۔
سجدہ بیگم کی بات پر سب نے اتفاق کیا۔۔۔۔۔
جبکہ شفا کا سرخ چہرہ اور جھک گیا تھا۔۔۔

سالار ور عرش کی مدد سے وہ کمرے میں آگیا assalamualykum! kya haal chal hai? life set?…………….

کب تک ایسے رہنے کا ارادہ ہے؟……سالار اس کے پیچھے کھڑا پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہےآپ کا ۔۔۔۔وہ جو بالوں میں برش کررہی تھی سنجیدگی سے مڑ کر پوچھنے لگی۔۔۔۔
سالار نے اسے غور سے دیکھا۔۔۔۔پرکشش براؤن آنکھیں ۔۔۔گندمی رنگت ۔۔۔۔
باریک گلابی ہونٹ ۔۔۔۔۔۔متناسب سراپا۔۔۔وہ بے انتہا حسین تھی ۔۔۔۔
بلیک نائٹ سوٹ میں اپنے لاپرواہ حلیے کےساتھ وہ اسے دل میں اترتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
مطلب یہ ہے کہ بیوی ہو تم میری کب تک مجھ سے دور رہنے کا ارادہ ہے ۔۔۔وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے پاس کر گیا ۔۔۔

جزا کا دل زور سے دھڑکا مگر اس نے اپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔
لیکن سامنے بھی سالار خانزادہ تھا جو اس کے رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔۔ ۔۔

مت بھولو یہ رشتہ صرف اور صرف فیملی کی وجہ سے جڑا ہے۔۔۔۔۔اس لئے اپنی تمام خواہشات مجھ سے پوری کرنے کے بارے میں سوچیے گا بھی مت۔۔۔۔

اس نے سرد لہجے میں جواب دیا اور خود کو اس سے چھڑا کر دور ہو گئی۔۔۔۔
بیوی تم ہو تو خواہشات بھی تم ہی. پوری کروگی میری ۔۔۔۔
سالار نے اسے کھینچ کر بیڈ پر گرایا اور اس پر جھک گیا ۔۔۔۔

آج وہ اسے کوئی رعایت نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
اگر وہ اسے ہوس کا مارا سمجھ رہی تھی تو اسے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔۔۔۔

سالار نے اس کی شرٹ کاپہلا بٹن کھینچ کر توڑا تھا۔۔۔۔

جزا جتنی بھی بولڈ اور نڈر سہی مگر اس وقت ساری ہمت ہوا ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
سالار کی نظریں اسے خوفزدہ کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دئے بغیر اس کے ہونٹوں پر جھکا اور ان پر اپنی محبت لٹانے لگا۔۔۔۔

جزا نے اس کی پیٹھ پر ناخن گاڑھے مگر وہ تھا دور ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ بہت بے باکی سے جزا کے پیٹ پر گردش کر رہے تھے اور وہ اس کی گردن پر جھکا وہاں اپنی محبت کے نشان چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔
اس نے اتنی سختی سے جھکڑا ہوا تھا جزا چاہ کر بھی خود کو چھڑوا نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔۔
بے ساختہ اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ مزید حدیں پار کرتا ۔۔۔۔اس کے رونے کی آواز پر سالار اس سے دور ہوا ۔۔۔۔اس کے دور ہوتے ہی جزا اٹھ کر واش روم گئی اور دروازہ بند کر کے اس کے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔۔

وہ آج بھی اسے استعمال کی ایک چیز سمجھ رہا تھا۔۔۔۔

یہی بات اسے تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔۔

سالار نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کھڑا ہوا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔

            ...............................................

وہ کمرے میں آیا تو وہ کمبل لپیٹے سو رہی تھی۔۔۔۔اس دن کے بعد ان دونوں کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی عرش کو اس کی ڈھٹائی پر بہت غصہ تھا۔۔۔۔

دونوں کی بول چال بلکل بند تھی۔۔۔۔

وہ خود آج پانچ دن بعد کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔اس نے اپنا موبائل اور والٹ نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور آنکھیں موندلیں۔ ۔۔۔۔

                    ..........................................

وہ پچھلے پندرہ منٹ سے اپنی گاڑی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔مگر ڈرائیور ابھی تک نہیں آیاتھا۔۔۔۔
اس کی روانہ سات بجے چھٹی ہوتی تھی مگر آج کسی وجہ سے چار بجے ہی چھٹی ہو گئی تھی۔۔۔۔

اس نےاپنا فون نکال کر ڈرائیور کو کال کی تو نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔۔
اس نے سالار کو کال ملائی بیل جاتی رہی مگر اس نے بھی کال نہیں اٹھائی۔۔۔۔
ابھی وہ عرش کو کال کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ایک گاڑی آکر سامنے رکی۔۔۔۔
اس میں سے ایک عمر رسیدہ شخص باہر نکل کر مہزب انداز میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
جی آپ آیت میڈم ہیں ۔۔۔۔اس شخص نے پوچھا۔۔۔۔
جی میں آیت ہوں آپ کون ۔۔۔۔۔اس نے حیرانگی سے سوال کیا۔۔۔۔

جی میں غفار(ڈرائیور )کا دوست ہوں۔۔۔۔آپ کے برابر والے بنلے میں ڈرائیور ہوں جی۔۔۔۔۔
غفار کی بیوی کی اچانک طبیعت خراب ہو گئ تو اس نے مجھے بھیج دیا آپ کو گھر ڈراپ کرنے کے لیے ۔۔۔۔

آپ آجائیں میڈم میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔اس نے آیت کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔

آیت نے تھوڑی دیر سوچا پھر اس شخص کی طرف دیکھا جو شکل سے شریف معلوم ہو رہا تھا ۔۔۔

وہ خاموشی سے اندر بیٹھ گئی۔۔۔۔کیونکہ آہستہ آہستہ اندھیرا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اور پچھلی بار کا حادثہ وہ بھولی نہیں تھی ابھی تک۔۔۔۔

ابھی گاڑی تھوڑی دور تک ہی چلی تھی کہ اچانک وہ آدمی مڑا اور ایک شیشی نکال کر اس کے چہرے پر اسپرے کر دیا۔۔۔۔۔

آیت وہی لہرا کر بے ہوش ہو گئی ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک بہت خوبصورت کمرے میں تھی۔۔۔۔۔وہ گھبرا کر ا تھی اس کا سر بہت بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔۔
کوئی ہے یہاں ۔۔۔۔کون لایا ہے مجھے یہاں پلیز دروازہ کھولو۔۔۔۔
وہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔۔۔۔۔
ڈر اور گھبراہٹ سے اس کی جان نکل رہی تھی۔۔۔

اللّٰہ کا واسطہ ہے مجھے نکالو یہاں سے پلیز میرا کیا قصور ہے کیوں لے کر آئے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔۔

وہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی اچانک دروازہ کھلنے پر جو چہرہ اس کے سامنے آیا اسے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔۔۔۔

         ................................................

اماں جان نے فروا بیگم کو فون کیا تھا۔۔۔۔جس پر فروا بیگم نے بہت خوبصورت الفاظ میں رشتے سے معزرت کر لی تھی۔۔۔

انہوں نے شرمندگی سے بچنے کے لئے اماں جان سے کہا کہ آیت کا رشتہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔۔۔۔۔

کیا کہا انہوں نے ۔۔۔۔بالاج اماں جان کا چہرہ دیکھ سمجھ تو گیا تھا مگر پھر بھی پوچھنا ضروری سمجھا۔۔۔

بیٹا وہ کہہ رہیں کہ ان کی بیٹی کا رشتہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔۔۔۔
اس لیے انہوں نے معزرت کر لی۔۔۔۔اماں جان نے افسردگی سے جواب دیا۔۔۔۔
اسے یقین تھا ایسا ہی کوئی جواب آئے گا۔۔۔۔
اچانک اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔اور جو کچھ اس نے فون پر سنا اسے اپنے سینے پر چنگاریاں سی پھوٹتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔

وہ تقریباً بھاگتے ہوئے اپنے محل نما گھر سے نکلا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔