Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 37
Rate this Novel
Episode 37
سر کوئی ارمان نیازی ملنا چاہتے ہیں آپ سے ۔۔۔۔بالاج کی سیکرٹری نےاسے آکر اطلاع دی ۔۔۔۔
فرجاد سے کہیں اسے ڈیل کر لے۔۔۔۔بالاج نے بنا سر اٹھائے جواب دیا اور اپنے کام میں مگن رہا ۔۔۔۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد اس کے آفس میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
یہ شخص میرے ہاتھوں سے قتل ہو جائے گا۔۔۔۔۔اس نے منہ بنا کر کہا اور آفس میں ادھر سے ادھر چکر لگانے لگا ۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔۔۔۔بالاج نے سکون سے پوچھا جبکہ نظریں اب اسی کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
کمینہ انسان مدد کے عوض آپ کے اور میرے لئے لڑکی کی آفر کر کے گیا ہے۔۔۔۔فرجاد کے لہجے میں ارمان نیازی کے لیے بے انتہا ناگواری تھی۔۔۔۔۔
بالاج کی بھی آنکھیں غصے سے لال ہو گئیں تھی۔۔۔۔مگر وہ سنجیدگی سے فرجاد کو دیکھتا رہا۔۔۔
آپ کا اس کی مدد کرنا میری سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔آپ۔کو چاہئے تھا اس کو اچھا سا سبق سکھاتے پوری زندگی یاد رکھتا ۔۔۔۔بھابھی کو اغوا کروانے والا یہی انسان تھا۔۔۔۔۔
فرجاد نے اسکی خاموشی پر مزید کہا۔۔۔۔
بالاج فائل بند کرتا مسکراتا چیئر پر ٹیک لگا گیا۔۔۔۔
میرے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا گنہگار پتہ ہے کونسا شخص ہے ۔۔۔۔اس نے فرجاد سے پوچھا۔۔۔۔
جو عورت کی عزت نہیں کرتا اور اسے کھلونا سمجھتا ہے۔۔۔
فرجاد نے فوراً جواب دیا۔۔۔۔
تو کیا ارمان نیازی کی سزا بس اس کو سبق سکھانا تھوڑی تھا۔۔۔۔اس نے بالاج بیوی کو اغوا کیا تھا اس کی سزا تو اسے مل کر رہے گی اوروہ ایسی سزا ہوگی جو وہ پوری زندگی یاد رکھے گا۔۔۔۔
تم بس دیکھتے جاؤ۔۔۔۔بالاج پر سوچ نظروں سے دیکھتا اپنا ارادہ ظاہر کر گیا۔۔۔۔۔
بالاج اس کی بات سمجھ کر سر ہلاتا اٹھا گیا۔۔۔۔
کہاں جا رہے ہو ۔۔۔اس کو جاتا دیکھ بالاج نے پوچھا۔۔۔۔
وہ ہانی کی طبیعت تھوڑی خراب ہے ایک دو دن سے اسے ہاسپٹل لے کر جانا ہے ۔۔۔۔۔
اوکے جاؤ تم ۔۔۔۔لیکن رات تک اکاؤنٹ والا کام مکمل کر لینا ۔۔۔بالاج کے کہنے پر وہ سر ہلا کر نکل گیا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
عرش کے ساتھ عقیدت کو دیکھ سب حیران ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
وہ اس کے پیچھے چپ کر کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔
عرش اسے کو لے کر سب سے پہلے سجدہ بیگم کے سامنے آیا جو حیران کھڑی تھی۔۔۔
امی۔۔۔۔عرش کے پکارنے پر وہ ہوش میں آئیں اورآگے بڑھ کر
عقیدت کو سینے سے لگا گئیں اس کو دوبارہ اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑے دیکھ ان کے دل کا بوجھ ایک دم زائل ہو گیا تھا ۔۔۔۔
وہ ہر نماز میں بس یہی دعا کرتی کہ عقیدت جلدی سے مل جائے۔۔۔اور آج اسے سامنے دیکھ کر ان کا دل پر سکون ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
مجھے معاف کر دو بیٹا میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔
سجدہ بیگم اس کا ماتھا چومتی شرمندگی سے بولیں ۔۔۔۔
پلیز ایسا مت کہیں ۔۔۔۔۔۔آپ۔مجھ سے بڑی ہیں آپ کو حق ہے بولنے کا ۔۔۔۔عقیدت جو پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی۔۔۔ان کے اس طرح معافی مانگنے پر شرمندہ ہو گئی۔۔۔
میں نے بہت زیادتی کی تمہارے ساتھ بیٹا میں اپنے گھر کے ہیرے کو پہچان نہیں پائی ۔۔۔تم مجھے معاف کردو۔۔۔۔
امی پلیز بس جو ہو گیا اسے ختم کریں اب پرانی بات کوئی نہیں ہوگی بس نا آپ معافی مانگیں گی۔۔۔۔
عرش ان کو محبت سے کہتا اپنے سینے سے لگا گیا۔۔۔۔۔
ان کو خوش دیکھ کر سب مسکرا دئیے تھے۔۔۔باری باری عقیدے فروا بیگم اور شفا سے بھی ملی ۔۔۔
جزا بہت دور کھڑی تھی ان سے۔۔۔۔۔۔۔سجدہ بیگم عقیدت کو اپنے ساتھ بٹھا گئیں ۔۔۔۔۔
جزا کی حیران نظریں ابھی تک عقیدت پر ٹکی تھی۔۔
جبکہ ایک واحد سالار ہی تھا جس کا سارا دھیان اپنی بیوی کے رنگ اڑے چہرے کی طرف تھا۔۔۔۔
لگتا ہے صدمہ بہت گہرا لگا ہے۔۔۔۔وہ اس کے کان کے پاس جھکتا گھمبیر آواز میں سرگوشی کر گیا۔۔۔۔
وہ جو ابھی تک حیرت میں مبتلا تھی اپنے کان کے پاس سرگوشی پر ۔۔۔اپنے منہ سے نکلنے والی چیخ کو روک نہیں پائی تھی۔۔۔۔
اس کی چیخ سن کر سب اس کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے گھور کر اپنی بیٹی کو دیکھا۔۔۔۔۔
کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔شفا نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔
کک کچھ نہیں بس گردن پر کسی چیونٹی نے کاٹ لیا شاید۔۔۔۔وہ سب کے سامنے شرمندہ ہوگئی تھی۔۔۔۔
اس لئے دانت پیس کر سالار کی جانب دیکھا جو واپس منت کے پاس بیٹھا اسے اپنے موبائل میں کچھ دکھانے میں مصروف تھا۔۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔۔آدم خانزادہ کی بھاری گھمبیر آواز پر سب نے دروازے کی سمت دیکھا تھا۔۔۔
سفید شلوار قمیض میں براؤن پشاوری چپل پہنے آستین کہنیوں تک فولڈ کئے کلائی میں مہنگے برینڈ کی گھڑی پہنی ہوئی تھی ۔۔
اپنے وجیہہ پرسنیلٹی کے ساتھ وہ شفا کی دل کہ دھڑکنیں بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
سب نے یک زبان ہو کر اسکے سلام کا جواب دیا تھا۔۔۔۔
نظر لگ جانے کے ڈر سے شفا اپنی نظروں کا زاویہ بد گئی۔۔۔
۔
آدم خانزادہ اپنے بھاری قدم اٹھاتا شاپر ٹیبل میں رکھ کر سالار سے منت کو اٹھا لیا۔۔۔۔۔
اور شفا کے ساتھ ٹو سیٹر صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
اس کے اس طرح سب کے سامنے پاس بیٹھنے پر شفا سمٹ کر تھوری دور ہوئی تھی۔۔۔۔۔چہرہ اتنے میں ہی سرخ ہو گیا تھا۔۔۔۔
آدم یہ کیا یے۔۔۔۔فروا بیگم نے شاپر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا جو کسی بیکری کا تھا۔۔۔۔
امی مٹھائی ہے یہ ۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔۔۔
اتنی مٹھائی خیریت ہے کوئی خوشی کی خبر ملی ہے کیا۔۔۔
اُنہوں نے خوشی سے پوچھا۔۔۔۔
یہ آپ سالار سے پوچھیں میں تو اسی کے میسج کرنے پر آتے ہوئے لے کر آیا ہوں ۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولتا اپنی بیٹی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا جو اسے کان میں کچھ بتا رہی تھی۔۔۔۔۔
اب سب نے سوالیہ نظروں سے سالار کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔جبکہ جزا آہستہ آہستہ اپنے شوہر کی کارستانی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
آپ سے کہا تھا نا بہت جلد دادی بنیں گی آپ تو منہ میٹھا کیجیے مبارک ہو آپکو۔۔۔۔۔
سالار ایک مٹھائی کا ٹکڑا نکالتا سجدہ بیگم کے منہ سے لگا گیا ۔۔۔۔
آدم کے علاوہ سب نے خوشگوار حیرت سے پہلے اسکو پھر جزا کو دیکھا تھا جو سب سمجھ آنے پر غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
فروا بیگم جلدی سے آگے بڑھ کر جزا کا ماتھا چوم گئی ۔۔۔
میں بہت خوش ہوں تمہارے لئے ۔۔۔۔فروا بیگم خوشی سے لبریز آواز میں بولی۔۔۔۔۔
وہ ہونکوں کی طرح فروا بیگم کو دیکھنے لگی۔۔۔
سجدہ بیگم بھی اسے تھام کر گلے لگا چکی تھی ۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ لوگ سمجھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آخر اس نے تنگ آکر کہا۔۔۔۔۔
اس کی بات پر سب پریشان ہو گئے تھے۔۔۔۔
کیا مطلب کیا میں دادی نہیں بننے والی ۔۔۔۔سجدہ بیگم نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔۔۔
بننے والی ہیں مگر میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہے پلیز ۔۔۔۔
وہ شرم سے گردن نہیں اٹھا پا رہی تھی۔۔۔۔
شفا بھی پریشانی سے سب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ عقیدت اپنی گردن جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
تو کیا سالار نے جھوٹ کہا۔۔۔۔
نہیں سالار نے بھابھی کی بات کی ہے۔۔۔۔میری نہیں وہ فروا بیگم کی بات پر عقیدت کی طرف اشارہ کر گئی۔۔۔۔۔
سب کو اپنی طرف دیکھ کر عقیدت شرم سے زمین میں گڑھنے والی ہو گئی تھی۔۔۔۔
عرش کی آنکھیں بھی حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔
اس کے چہرے ہر موجود شرم و حیا نے انہیں سب راز افشاء کر دئیے تھے۔۔۔۔
مبارک ہو بڈی۔۔۔۔سالار مسکراتا عرش کے گلے لگ گیا۔۔۔۔
عرش کے چہرے پر ایک بھر پور مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔۔
خیر مبارک مجھے بھی موقع دو جلدی تا کہ میں بھی تمہیں مبارکباد دے سکوں۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتا اس سینے میں بھینچ گیا ۔۔۔۔
انشاء اللّٰہ ۔۔۔۔سالار نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
فروا بیگم خوشی سے اپنی بہو کا چہرہ چومے جا رہی تھی۔۔۔۔سب کے ہی چہرے خوشی سے کھل گئے تھے۔۔۔۔۔
عرش کا چہرہ بھی خوشی سے تھمتھما رہا تھا جبکہ عقیدت شرمائی سی سب کے بیچ بیٹھی تھی عرصے بعد وہ دل سے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
ویسے آپ کو کیسے پتہ چلا بھابھی کا۔۔۔۔۔۔
یہ سوال وہاں سے آیا تھا جہاں سے کسی نے امید نہیں کی تھی۔۔۔۔آدم نے داد دیتی نظروں سے اپنی بیوی کو دیکھا تھا جبکہ سب کی نظریں جزا کی طرف تھیں ۔۔۔۔
بتاؤ جزا۔۔۔۔عرش نے سنجیدگی سے پوچھا تو عقیدت اور جزا نے ایک دوسرے کو گھبرا کردیکھا تھا۔۔۔۔
جس نےوہاں بیٹھے لوگوں کو بہت کچھ سمجھا دیا تھا…
مطلب تم شروع سے سب جانتی تھی۔۔۔۔عرش نے بے یقینی سے پوچھا ۔۔۔۔
جزا شرمندگی سے اپنا سر جھکا گئی۔۔۔۔۔۔سالار کا اس کا سر جھکانا بلکل پسند نہیں آیا۔۔۔۔
میری بیوی سب جانتی تھی انفیکٹ یہ لگا تار ان سے ملنے جاتی رہی ہے ۔۔۔۔۔
لیکن یہاں سے جانے کا فیصلہ بھابھی کا اپنا تھا اگر جزا ان کی مدد نہیں کرتی تو وہ خود کہیں چلی جاتی پھر تمہیں تو ملنے سے رہی تھی۔۔۔۔اس لئے میری بیوی کو گھورنے کے بجائے شکریہ ادا کرو۔۔۔۔۔سالار نے عرش کو گھور کے کہا تھا جو اس کے سامنے بیٹھ کے اسی کو بیوی کو غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جزا نے حیرانگی سے سالار کو دیکھا جس میں اتنے سالوں بعد سالار کی پرانی جھلک نظر آئی تھی۔۔۔
پہلے بھی وہ ایسے ہی اس کی غلطیوں پر اسے سب سے بچا لیتا تھا۔۔۔۔
تو اسے مجھے بتانا چاہیے تھا عرش نے ناراضگی سے کہا۔۔۔۔
اس سوال کا جواب تم اپنی بیوی سے پوچھو۔۔۔سالار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔
وہ اپنی بیوی کو تنگ کرنا چاہتا تھا مگر اپنی بیوی کو سب کے سامنے غلط ثابت ہوتے بھی نہیں برداشت کرسکتا تھا ۔۔۔
روم میں آئیں۔۔۔۔آدم شفا کے کان کے پاس جھک کر کہتا منت کو فروا بیگم کے حوالے کرتاوہاں سے اٹھ گیا۔۔۔
شفا نے ہڑبڑا کر سب کو دیکھا مگر سب اپنے دھیان میں تھے۔۔۔
وہ بھی آہستہ سے وہاں سے اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
میں نے جزا کو قسم دی تھی کہ وہ میرے بارے میں کسی کو نا بتائے اور نا گھر کی کوئی بھی بات مجھے بتائے ۔۔۔
ورنہ میں اس گھر کو چھوڑ کر چلی جاؤنگی۔۔۔۔
اس لئے وہ مجبور تھی کسی کو کچھ نہیں بتایا۔۔۔۔سب کو اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے دیکھ اس نے دھیمے سے جواب دیا تھا۔۔۔۔
بس چھوڑو جو ہوا سو ہوا خوشی کا دن ہے آج ۔۔۔۔کوئی لڑائی بحث نا کرو۔۔۔۔
سجدہ بیگم نے سب کو جھڑکا تھا ۔۔۔۔خوشی سے انکا چہرہ دمک رہا تھا ۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
تیار ہو جائیں دس منٹ میں ہمیں جانا ہے۔۔۔۔آدم نے مصروف انداز میں کہا اور واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔
شفا تھوڑی دیر اس کے باہر نکلنے کا انتظار کرتی رہی تاکہ اس سے پوچھ سکے کہاں جانا ہے مگر پھر بعد میں پوچھنے کا سوچتی وہ اپنا ابایا اور شوز نکال کر لائی تھی ۔۔۔۔
جو کچھ دن پہلے آدم اس کے لئے لایا تھا ۔۔۔۔۔وہ جلدی سے تیار ہو کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگی وہ خود کو اتنی خوبصورت لگ رہی تھی بے ساختہ وہ نظریں چرا گئی۔۔۔۔
آدم جب باہر نکلا تو اسے اپنی پسند کے سانچے میں ڈھلے دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔۔بلیک اینڈ وائٹ آبائے میں وائٹ شوز پہنے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی مگر یہ وقت اس کی تعریف کرنے کا نہیں تھا۔۔۔۔
اس لئے وہ بھی وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے جلدی سے بالوں کو سیٹ لئے اس کا ہاتھ پکڑ کے نکلا تھا۔۔۔۔
ان دونوں کو ساتھ نیچھے آتے دیکھ کر فرق بیگم اور۔ سجدہ بیگم نے ماشاء اللّٰہ کہا تھا۔۔۔۔
باقی سب اپنے اپنے کمرے میں جا چکے تھے ۔۔۔۔اور منت کو سالار اپنے ساتھ باہر لے کر گیا تھا۔۔۔
امی ہم ایک کام سے جا رہے ہیں کچھ دیر تک آجائیں گے۔۔۔۔۔آدم نے فروا بیگم سے کہا اور وہ دونوں دعائیں لیتے گھر سے نکلے تھے ۔۔۔۔
گاڑی ایک بہت رش والی جگہ پر رکی ہوئی تھی ۔۔۔۔
جہاں کالے کوٹ میں لوگ آنا جانا کر رہے تھے اسے سمجھنے میں بلکل ٹائم نہیں لگا کہ وہ کورٹ ہے۔۔۔
ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔اس نے گھبرا کر آدم سے پوچھا۔۔۔۔۔
آج پیشہ تھی آپ کے بابا کے مجرم کی بس آپ کی گواہی کے بعد انشاء اللّٰہ انہیں پھانسی سے کوئی نہیں بچا سکتا وہ گاڑی سائیڈ پر لگاتا اس کی طرف مڑا ۔۔۔۔۔
آپ بلکل نہیں گھبرائیں گی آپ آدم خانزادہ کی بیوی ہیں نڈر اور بہادر بننا ہے ۔۔۔۔۔جو کچھ ہوا آپ سب جج کے سامنے بتائیں گی۔۔۔
آدم اس کا ہاتھ تھامتا اسے سمجھانے لگا۔۔۔۔
جو اس کی باتیں سنتی کانپنے لگی تھی۔۔۔۔
مگر میں کیسے۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی۔۔۔۔
آپ کر سکتی ہیں اور اس کیس کو اتنا لٹکا نہیں سکتے انہیں ان کی سزا مل کر رہے گی۔۔۔۔آدم اس کا گال تھتھپاتا باہر نکل کر اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے بھی نکال گیا۔۔۔۔
سامنے ہی شہریار آفندی کھڑا تھا۔۔۔اسے آتا دیکھ شہریار نےاس کے ساتھ چلتی اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تھا
جو اس کے ساتھ چلتی آبائے میں بہت معصوم لگ رہی تھی کبھی اس جگہ اس کی بہن ہوا کرتی تھی اور آج وہ چھوٹی سی لڑکی کھڑی تھی۔۔۔
آدم اس سے گلے ملا۔۔۔۔کیسے ہو۔۔۔۔آدم نے پوچھا۔۔۔
الحمداللہ بلکل ٹھیک۔۔۔۔شہریار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔
میٹ مائی وائف۔۔۔۔۔ شفا آدم خانزادہ۔۔۔۔آدم نے شفا کو دیکھ شہریار سے اس کا تعارف کروایا۔۔۔۔
وہ جو بہت کشمکش میں تھی چونک کر ان کی طرف دیکھا
اور شفا یہ میرے بچپن کا دوست ہے شہریار آفندی۔۔۔۔۔یہی آپ کے ابو کا کیس یہی دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔
آدم نے شفا کو مخاطب کرتے کہا۔۔۔۔
اسلام علیکم بھابھی۔۔۔۔شہریار نے احتراماً سلام کیا۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔اس وقت وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی گھبراہٹ سے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے دھیرے سے جواب دیا ۔۔۔۔
چلیں اندر ہئیرنگ شروع ہونے والی والی ہے۔۔۔۔۔شہریار کے اشارے پر آدم اس کا ہاتھ تھامتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
وہ کمرہ عدالت میں اپنے شوہر کے ساتھ داخل ہوئی تو سب سے پہلی نظر اس شخص پر پڑی جس نے اس کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے اس کا قتل کر دیا تھا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ سارا منظر پھر سے چلنے لگا۔۔۔۔آنکھیں بے ساختہ آنسؤں سے بھر گئیں اس نے گھبرا کر آدم کا بازو تھا لیا اور پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
آدم نےاس کا ڈر سمجھ کر اس کے کندھے پر بازو رکھ کر اپنے تحفظ کا احساس دلایا۔۔۔۔۔
شہریار جا کر اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
