Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 28
Rate this Novel
Episode 28
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط اٹھائیس
ایشا بنت ارشد آپ کا نکاح۔۔۔۔۔
اتنی بھی کیا جلدی ہے مولوی صاحب ٹہر جائیں ۔۔۔۔ایک بھاری مردانہ آواز پر سب نے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
سالار اور عرش نے ایک گہری سانس لی تھی۔۔۔
ایشا کی آنکھیں گھبراہٹ کے مارے پھیل گئیں تھیں ۔۔۔۔
یہ لڑکا فہد تھا ۔۔۔۔جو اس کا پچھلے تین مہینے سے اس کا مو جودہ بوائے فرینڈ تھا جس کے ساتھ اس کے بہت گہرے تعلقات تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جب عرش نے شادی کے لئے ہاں کی تو وہ بنا کسی چیز کی پرواہ کئے خوش ہو گئی تھی۔۔۔
لیکن آج اسے یہاں دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔۔۔سب سے پہلے ارشد صاحب اٹھے تھے۔۔۔۔
یہ تو آپ اپنی بیٹی سے پوچھئے سسر جی کہ میں کون ہوں۔۔۔فہد نے ایشا کی خوفزدہ نظروں میں دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔
بکواس مت کرو تم نکلو یہاں سے ۔۔۔۔۔ایشا کی ماں نے اس لڑکے کو نفرت سے کہا۔۔۔۔کہیں نا کہیں وہ خود بھی اپنی بیٹی کے کرتوتوں سے واقف تھی ۔۔۔۔
باقی گھر کی ساری خواتین حیرانگی سے یہ سب تماشہ دیکھ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
جبکہ سالار اور عرش پر سکون انداز میں بیٹھے تھے۔۔۔
نکلنے کے لیے تو نہیں آیا آپ کی بیٹی سے اپنا حساب لینے آیا ہوں۔۔۔۔
محبت مجھ سے شادی کسی اور سے کرنے جا رہی ہے وعدے مجھ سے نبھانے کسی اور کے ساتھ جا رہی ہے۔۔۔۔
یہ تو نا انصافی ہے نا۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ایشا نے گھبرا کر سب کو دیکھا۔۔۔
تم کہنا کیا چاہتے ہو صاف صاف کہو۔۔۔۔عرش سنجیدگی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا۔۔۔۔
یہ لڑکی مجھے شادی کا وعدہ کر چکی ہے پچھلے تین مہینے سے ہم ریلیشن شپ میں ہیں۔۔۔
پچھلے مہینے تو ہم ساتھ میں دبئی گھومنے گئے تھے۔۔۔۔
یقین نہیں آتا تو دیکھ لیجیے آپ اس لڑکے نے موبائل نکال کر عرش کے ہاتھ میں دیا ۔۔۔۔۔جس میں ان دونوں کی انگنت تصویریں تھی۔۔۔۔
اور کچھ تصویریں تو ایسی تھی جو کہ دیکھتے ہوئے بھی اسے شرم آرہی تھی اس نے موبائل سجدہ بیگم کے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔
اور جیسے جیسے وہ دیکھتی گئیں وہ بے یقینی سے ایشا کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔
وہ اپنی بھانجی کی وجہ سے اپنے بیٹے کی خوشیوں کو بھی پس پشت ڈال گئیں تھیں اور اس نے کیا کیا سب کے سامنے انکو شرمندہ کر دیا۔۔۔۔
وہ ایشا کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئیں ۔۔۔۔۔یہ سب کیا ہے ایشا۔۔۔
سجدہ بیگم نے غم و غصے سے پوچھا۔۔۔۔
خالہ جیسا آپ سوچ رہی ویسا نہیں ہے ۔۔۔وہ اپنی صفائی دینے لگی ۔۔۔
مگر سجدہ بیگم کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ نے اس کی بولتی بند کر دی تھی۔۔۔۔
وہ گال پر ہاتھ رکھے انہیں دیکھنے لگی۔۔
ایشا کی امی فوراً آگے آئی تھی۔۔۔۔باجی آپ میری بیٹی پر اس طرح ہاتھ نہیں اٹھا سکتی۔۔۔۔
خبردار جو ایک لفظ بھی بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا یہ تمہاری ہی تربیت ہے کہ آج تمہاری بیٹی کسی اور کے ساتھ رنگ رلیاں منا کر ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہے۔۔۔۔
ان کے لہجے میں نفرت واضح تھی۔۔۔۔
ابھی کہ ابھی میرے گھر سے نکل جاؤ اپنی اس بیٹی کو لے کر۔۔۔
وہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں ۔۔۔۔فروا بیگم بھی ان کے پیچھے گئیں تھی۔۔۔
ایشا نفرت سے اس لڑکے کو دیکھ کر اپنے پیرنٹس کے ساتھ چلی گئی۔۔۔۔
ایک ایک کر کے سب چلے گئے تھے اب وہاں صرف سالار اور عرش بیٹھے تھے۔۔۔
دونوں نے پہلے اداسی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
پھر چاروں طرف دیکھا۔۔۔
پھر ایک دم ان دونوں کا قہقہ پورے لاؤنج میں گونجا تھا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
بھابھی ان کو کبھی بھی میں نے سوتیلے بہن بھائی نہیں سمجھا ہمیشہ میں نے سگوں سے بڑھ کر عزت اور پیار دیا۔۔۔
مگر ان لوگوں نے ہمیشہ سب کے سامنے مجھے بے عزت کیا۔۔۔۔
آج میں اپنے بچے سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔نا اس بچی سے ۔۔۔۔میں نے ہمیشہ اسے برا بھلا کہا صرف اور صرف ایشا کی وجہ سے آج وہی لڑکی مجھے سب کے سامنے شرمندہ کر گئی۔۔۔۔
کوئی لڑکی اتنا کیسے گر سکتی ہے۔۔۔۔سجدہ بیگم کا غم ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔
بھول جاؤ سجدہ اچھا ہوا تمہیں سب پہلے سے پتہ چل گیا۔۔۔ورنہ بہت برا ہو جاتا۔۔۔
فروا بیگم سنجیدگی سے بولی۔۔۔۔
اچانک باہر سے چیخنے کی آواز آنے لگی ۔۔۔۔وہ دونوں اٹھ کر باہر بھاگی تھی۔۔۔۔
آیت باہر آؤ کہاں ہو تم۔۔۔۔آدم کی دھاڑ پورے گھر میں گونج رہی تھی ملازم اس کا غصہ دیکھ وہاں سے ہٹ گئے تھے
سالار اور عرش بھی پریشانی سےاس کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔
جزا جو نیند میں تھی وہ بھی اٹھ کر باہر آگئ تھی۔۔۔۔
شفا بھی گھبرائی ہوئی سی باہر آئی تھی۔۔۔آیت اپنے نام کی پکار پر خوفزدہ ہو کر باہر آئی تھی۔۔۔۔
اس کے آتے ہی آدم نے وہ فائل اس کے پیروں پر پھینکی تھی ۔۔۔۔۔جو وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔
کچھ تصویریں زمین پر بکھر گئیں تھی۔۔۔آیت نے گھبرا کر منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے۔۔۔۔آدم اس کے سامنے کھڑا سرخ انگارا آنکھوں سے پوچھنے لگا۔۔۔۔
وہ بھ۔۔۔ بھائی م۔۔۔میں سب سب بتاتی ہوں ۔۔۔۔وہ اٹکتے ہوئے بولی۔۔۔۔آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے تھے۔۔۔
سالار نے فرش پر پڑی ایک تصویر اٹھائی۔۔۔۔جس پر بالاج شاہ گاڑی میں بیٹھا اس کی طرف جھکا ہوا تھا اور دوسری تصویر میں وہ اس کے کمرے کی ونڈو سے نکلتا ہوا دکھائی دیا۔۔۔۔
ایک اور تصویر میں وہ اس کی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔۔۔۔
ایک اور تصویر اسپتال کی تھی جہاں وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔۔۔۔۔
اس وقت اس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔۔۔اس نے بے یقینی سے اپنی بہن کو دیکھا جس سے ایسی کسی حرکت کی امید اسے نہیں تھی۔۔۔
مجھے یہ بتاؤ کیا تم اس کے ساتھ اسکے گھر گئی تھی اکیلی ہاں یا نا میں جواب چاہئے مجھے۔۔۔آدم کی پھنکار پر اس نے سختی سے آنکھیں میچ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔
اور وہی سالار کا ہاتھ اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔
وہ گال پر ہاتھ رکھے وہی بیٹھ گئی۔۔۔۔آج پہلی بار اس کے بھائی نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔
کیا رشتہ ہے تمہارا اس سے اگر وہ شخص تمہیں اتنا ہی پسند تھا تو ہمیں بتاتی اس طرح چپ چپ کے تنہائیوں میں ملنے کی کیا ضرورت تھی آیت ۔۔۔۔
آدم نے غم و غصے سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔۔
مگر وہ پھر بھی خاموش رہی۔۔۔۔جواب دو آیت ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا آج ۔۔۔
سالار انتہائی غصے میں اس تک پہنچا تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اس کے گال پر دوسرا تھپڑ لگاتا۔۔۔۔۔جزا جلدی سے آیت کے سامنے آگئی تھی ۔۔۔۔
عرش نے بھی سالار کا ہاتھ پکڑ کے روکا تھا۔۔۔۔
میں نے کہا مجھے چھوڑو آج میں اسے جان سے مار دوں گا ہماری دی ہوئی آزادی کا نا جائز فائدہ اٹھایا ہےاس نے ۔۔۔
سالار کے لہجے میں ٹوٹی مان کی کر چیاں تھی۔۔۔
سب حیرانگی سے آیت کو دیکھ رہے تھے۔۔۔کسی کو بھی یقین نہیں آرہا تھا آیت کچھ ایسا بھی کر سکتی ہے۔۔۔
اس لڑکے کو بلاؤ فون کر کے بولو اپنی فیملی کو لے کر آئےاور نکاح کر ے تم سے۔۔۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے آیت سے کہا۔۔۔۔جو زمین پر بیٹھی تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔
میں یہاں ہوں سالے صاحب ۔۔۔۔۔آپ نے یاد کیا اور ہم حاضر ہوگئے۔۔۔۔۔
پیچھے سے آنے والی آواز پر سب نے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
جہاں بالاج شاہ ہمیشہ کی طرح بلیک جینز شرٹ کے اوپر جیکٹ پہنے کھڑا تھا۔۔۔۔
چہرے پر کسی قسم کا ڈر شرمندگی یا افسوس نہیں تھا۔۔۔۔بلکہ ایک طمانیت بھری مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
سالار نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔وہ مر کر بھی اپنی بہن کی شادی اس سے نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
کیوں آئے ہو یہاں نکلو ابھی میرے گھر سے تم جیسے گھٹیا انسان کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی ۔۔۔
سالار نے نفرت سے اس کے پاس جا کر دھکا دیا تھا۔۔۔
وہ تھوڑا سا لڑکھڑایا تھا مگر چہرہ پر سکون تھا ۔۔۔آج اس کے دل کو بہت سکون مل رہا تھا۔۔۔
ارے سالے صاحب ابھی تو آپ کے بھائی نے کہا مجھے بلانے کو۔۔۔۔اس لئے میں حاضر ہو گیا۔۔۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے آیت کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
کوئی نکاح نہیں ہوگا نکلو یہاں سے۔۔۔۔عرش نے بھی اسے دیکھ انتہائی غصے سے کہا تھا جو شرمندہ ہونے کے بجائے ڈھٹائی سے ان کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
نکاح تو ہو چکا ہے اس کے لیے مجھے آپ لوگوں کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔آج تو میں یہاں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں۔۔۔۔
اس کے لفظوں نے وہاں کھڑے سب لوگوں کے سروں پر پہاڑ گرایا تھا۔۔۔۔آیت نے ملتجی نگاہوں سے بالاج کو دیکھ کے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔۔
سب بے یقینی سے آیت کو دیکھا جو جزا کے ساتھ کھڑی کانپ رہی تھی۔۔۔
اپنے منہ سے ایک لفظ مت نکالنا ورنہ تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں گا ۔۔۔۔۔۔آدم نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سرد لہجے میں اسے وارن کیا۔۔۔۔۔عرش اور سالار بھی غصے میں اس کی طرف آئے تھے ۔۔۔
ان کو یقین تھا آیت نکاح جتنا بڑا قدم کبھی نہیں اٹھائے گی۔۔۔
کیونکہ اتنی آزادی تو تھی ان کے گھر میں کہ کوئی اپنی پسند کا اظہار کرے تو گھر والے کبھی منع نہیں کریں گے۔۔۔۔اور وہ اپنے بھائیوں کی عزت کو اس طرح کبھی خراب نہیں کرے گی۔۔۔
بالاج شاہ نے بنا کچھ کہے اپنی جیکٹ کے اندر سے ایک انڈولپ نکال کے آدم کے حوالے کیا تھا۔۔۔۔
سب کے دل ایک ساتھ ڈھڑکے تھے۔۔۔۔۔آدم نے ڈوبتے دل سے اینڈولپ کھولا تھا۔۔۔۔
اس میں موجود پیپرز اور پکچرز نے اس کا یقین پل میں توڑ کر چکنا چور کردیا تھا۔۔۔۔
سالار نے آدم کا چہرہ دیکھ بے چینی سے آدم سےوہ سب پکڑا تھا۔۔۔۔نکاح نامے پر آیت کا سائن دیکھ وہ بھی ساکت ہوا تھا۔۔۔۔
اس نےوہ سب چیزیں پھینک کر بالاج شاہ کے منہ پر مکا مارا تھا ۔۔۔
بالاج نے بھی بنا کسی لحاظ کے جوابی کاروائی کی تھی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ گھتم گھتا ہو گئے تھے۔۔۔۔
جبکہ آدم کی بے یقین نظریں آیت پر تھی۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔ میں۔۔۔ آ۔۔۔ آپ ۔۔۔۔کے۔۔۔ کو۔۔۔سب۔۔۔۔سچ۔۔۔
آدم نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روک دیا۔۔۔۔۔آنکھیں ظبط سے لال ہو رہی تھیں ۔۔۔
عرش نے بہت مشکل سے ان دونوں کو الگ کیا تھا۔۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
بالاج شاہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جائیں آج کے بعد خانزادہ مینشن کے مکینوں سے آپ کی بیوی کا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔آدم نے سرد لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔
سب نے تڑپ کراس کی طرف دیکھا تھا سوائے سالار اور عرش کے ۔۔۔۔۔
بالاج کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی ۔۔۔
نہیں بھائی میں نہیں جاؤں گی پلیز ۔۔۔۔آیت نے تڑپ کر آدم کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔جسے اس نے بے دردی سے جھٹک دیا۔۔۔
آدم بیٹا ایسا مت کرو بچی ہے وہ غلطی ہو گئی ہے معاف کر دو۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے ۔۔۔روتے ہوئے آدم سے کہا تھا۔۔۔۔۔
بڑی امی اس بچی نے آج ہم بھائیوں کی عزت کو بیچ سڑک پر اچھال دیا ہے۔۔۔۔
ایک باپ سے بڑھ کر محبت دی ہم تینوں نے ہمیشہ اور اس نے کیا کیا۔۔۔۔ہمارے ساتھ
اگر اس کو یہ انسان اتنا ہی پسند تھا تو ہمیں بتا سکتی تھی ۔۔۔
لیکن اس نے آج ایک باہر والے انسان کے لیے ہماری محبت کو ہمارے منہ پر مار دیا۔۔۔۔۔
کہتے ہوئے سالار کی آنکھ سے ایک باغی آنسو نکل کر داڑھی میں جذب ہو گیا تھا۔۔۔۔
بالاج شاہ یہی سب تو چاہتا تھا ان کی تڑپ سے اسے جو سکون مل رہا تھا وہ بتا نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
بھائی میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔آیت تڑپ کر اس کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔سالار نے اس کا بازو پکڑ کر خود سے دور جھٹکا ۔۔۔۔
بھائی اسے کہیں یہاں سے چلی جائے ۔۔۔۔۔۔ورنہ میں خود کو کچھ کر دوں گا۔۔۔۔سالار کہہ کر اندر بڑھ گیا…
آیت روتے ہوئے اس کے پیچھے جانے لگی۔۔۔۔مگر آدم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔۔۔
لے جاؤ اسے۔۔۔۔آدم نے اسے لا کر بالاج کے سامنے چھوڑا تھا۔۔۔
بالاج شاہ نے بڑے حق سے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔چھوڑیں میرا ہاتھ مجھے نہیں جانا اس نے نفرت سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی آج اس کی وجہ سے ہوا تھا سب ۔۔۔۔
بالاج بنا کچھ کہے اسے لے کر باہر جانے لگا۔۔۔۔۔
عرش بھائی مجھے روک لیں مجھے نہیں جانا پلیز ۔۔۔وہ چیختے ہوئے سب سے منتیں کرنے لگی۔۔۔۔مگر وہ دونوں کان بند کئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔
عورتیں ساری رونے لگی ۔۔۔۔۔۔
آیت کی مزاحمت پر اس نے جھک کر سب کے سامنے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا تھا۔۔اور باہر کیطرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
ان کے نکلتے ہی فروا بیگم سینے پر ہاتھ رکھتی لہرا کر گر گئی۔۔۔۔۔سب کی چیخ پر سب مرد کمرے سے نکل آئے تھے۔۔۔۔
وہ بلکل ٹھنڈی پڑھ گئی تھی۔۔۔آدم نے انہیں بازوؤں میں اٹھا لیا اور سب اسپتال کی طرف بھاگے تھے۔۔۔۔
منت کی وجہ سے صرف شفا ہی گھر پر کی تھی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ اسے شاہ ہاؤس لے کر آیا تھا۔۔۔۔اس کے ساتھ وہ کسی روبوٹ کی طرح چل رہی تھی۔۔۔۔رات بارہ بجے کا ٹائم تھا ۔۔۔
اس کی گاڑی کی آواز پر اماں جان اپنے کمرے سے باہر آگئیں تھی ان کا یہی معمول تھا جب وہ گھر پہ ہوتا تھا اماں جان
رات کا کھانا سے اپنے ہاتھوں سے کھلاتی تھی۔۔۔
بالاج کے ساتھ آیت کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں تھی
اس نے اماں جان کے پاس آکر آیت کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔
بیٹا اس طرح کہاں سے لا رہے ہو تم اس کو۔۔۔۔اماں جان نے پریشانی سے بالاج سے پوچھا۔۔۔۔
رخصت کروا کے لایا ہوں میں آپ کی بہو کو۔۔۔۔اس نے تمسخر اڑاتے انداز میں کہا ۔۔۔۔
اماں جان نے آیت کی طرف دیکھا جو زمین پر نظریں جمائے کھڑی تھی اس کا انداز چیخ چیخ کر بیان کر رہا تھا کہ اس کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے۔۔۔۔
بالاج تم نے کیا کیا اس کے ساتھ ۔۔۔۔اماں جان نے گھور کر پوچھا۔۔۔۔انہیں اپنے پوتے سے شرافت کی امید تو بلکل نہیں تھی۔۔۔۔
ارے یار کچھ نہیں کیا میں نے کیوں فضول میں گھور رہی ہیں ۔۔۔۔۔چلیں جا کر سو جائیں آپ۔۔۔۔اور آج ہماری شادی شدہ زندگی کی پہلی رات ہے چلیں دعائیں دیں مجھے۔۔۔
جلدی سے ۔۔۔۔
اس نے اماں جان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر اور آیت کے سر پر رکھا اور آیت کا ہاتھ تھامتا ان کو آنکھ مارتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
آیت نے کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں کی۔۔۔۔۔وہ اسے کمرے میں چھوڑتا خود واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
۔۔۔
بیس منٹ بعد جب وہ فریش ہو کر آیا وہ تب بھی کمرے کے بیچ میں کھڑی تھی ۔۔۔۔
بالاج کو اسکی حالت سے دکھ ہوا۔۔۔۔وہ آگے آیا اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔۔شاید اس کا سکتہ ٹوٹ جائے ۔۔۔۔
مگر تب بھی اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔۔۔
ٹھیک ہو تم ۔۔۔۔اس نے تھوڑا دور ہو کر پوچھا ۔۔۔۔۔۔آیت نے جن نظروں سے اسے دیکھا وہ نظریں چرانے پر مجبور ہوگیا۔۔۔۔
دیکھو جو ہوا وہ سب بھول جاؤ بس یہ یاد رکھو کہ تم بالاج شاہ کی بیوی ہو۔۔۔وہ جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا۔۔۔۔
آیت نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔
بالاج اسے لئے بیڈ پر لیٹا اور ساتھ اسے بھی لٹا لیا۔۔۔
اور اس پر جھک گیا۔۔۔۔
وہ کبھی اس کے ماتھے کو چھوتا تو کبھی اسکے گال پر اپنے لب رکھتا۔۔۔
آیت کا بے حس وہ حرکت وجود دیکھ وہ غصے سے اس پر سے اٹھا تھا۔۔۔۔اس کا دل کیا دو تھپڑ لگا کر اسے ہوش دلائے۔۔۔
مگر خود پر ظبط کرتا کمرے کا دروازہ دھاڑ سے بند کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
انہیں مائنر ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔۔۔بروقت اسپتال پہنچنے کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی تھی۔۔۔۔۔پوری رات انہوں نے اسپتال میں گزاری تھی۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے ان کو خطرے سے باہر بتایا تھا۔۔۔
ایک دم عرش کے دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔۔۔۔۔کل رات سے جو کچھ بھی ہوا تھا اسے عقیدت کہیں نظر نہیں آئی تھی۔۔۔
اتنے شور میں کسی کا بھی سونا ممکن نا تھا پھر وہ گھر میں ہوئے تماشے سے بے خبر کیسے رہی۔۔۔
اس کا دماغ ایک دم الرٹ ہوا تھا وہ بھاگتے ہوئے اسپتال سے نکلا اور گھر کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔۔۔۔جو دوسری ہی بیل پر ریسیو کر لیا تھا۔۔۔۔
بھابھی عقیدت کہاں ہے شفا کی آواز سن کر اس نے پہلا سوال یہی کیا تھا۔۔۔وہ دل میں شدت سے دعا کر رہا تھا جیسےوہ سوچ رہا ویسا نا ہو۔۔۔
بھائی وہ تو مجھے نظر نہیں آئی کل سے شاید کمرے میں سو رہی ہو ۔۔۔وہ دھیرے سے بولی۔۔۔۔
آدم نے فون بند کیا اور اپنی گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی تھی۔۔۔۔
دس منٹ بعد گھر پہنچ کر وہ سیدھا آیت کے کمرے میں گیا تھا جہاں وہ کچھ دنوں سے رکی ہوئی تھی۔۔۔۔
خالی کمرہ دیکھ وہ اپنے کمرے میں آیا وہ بھی خالی تھا ایک دم اس کی نظر ڈریسنگ پر موجود پرفیوم کے بوتل کے نیچے پیپر پر پڑی ۔۔۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ پیپر اٹھا لیا ۔۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔۔
میں آج ہمیشہ کے لیے یہ گھر چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔آپ نے مجھے میرے کزن سے بچا کر جو مجھ پر احسان کیا اسکی قیمت آپ مجھ سے وصول کر چکے ہیں ۔۔۔
اس کے علاوہ جو آج تک آپ نے مجھے دیا۔۔۔۔اس کا ایک ایک روپیہ میں آپ کو لوٹا دوں گی۔۔۔۔
مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کیجئے گا۔۔۔۔ اللّٰہ پاک آپ کو ہمیشہ اپنی بیوی کے ساتھ خوش رکھے۔۔۔۔
اللّٰہ خافظ ۔۔۔۔
عقیدت کی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین۔ نکل گئی تھی۔۔۔۔
اس نے اتنا سب کچھ صرف عقیدت کے لیے کیا تھا وہ چاہتا تھا ایشا والا مسئلہ حل ہو جائے تو وہ دھوم دھام سے اپنا ولیمہ کرے گا۔۔۔۔
وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے قریب آیا تھا اور عقیدت نے اس کی محبت کو ہوس کا نام دے دیا تھا۔۔۔۔
اس نے کمرہ کی ہر چیز تہس نہس کر دی تھی غصے سے وہ سب کچھ توڑتا چلا گیا۔۔۔۔۔
شفا گھبرا کر اس کے کمرے میں آئی تھی کمرے کی حالت دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔۔
ان سب چیزوں کے بیچوں بیچ وہ سر ہاتھوں پر گرائے بیٹھا تھا۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔شفا کی آواز پر وہ جھٹکے سے اٹھا تھا۔۔۔اس کی سرخ آنکھیں دیکھ وہ ڈر گئی تھی۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔اور بھابھی کہاں ہیں ۔۔۔۔
اس نے گھبراتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔
چلی گئی وہ یہ گھر چھوڑ کر ۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
پیچھے وہ حیرانگی سے سب سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
