Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 29
Rate this Novel
Episode 29
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط انتیس
۔۔۔۔۔
فیروز مینشن کی فضا ایسی تھی جیسے
اداسی نے اپنے پنجے گاڑ دیے ہوں ۔۔۔
ہر کوئی اداس تھا کسی کو بھی کھانے پینے کا ہوش نہیں تھا۔۔۔
فروا بیگم بھی اسپتال سے گھر آگئی تھیں ۔۔۔
جب سے سجدہ بیگم کو عقیدت کے جانے کا پتہ چلا تھا وہ تو خود کو ہی اپنے بیٹے کا قصوروار سمجھنے لگی تھی۔۔۔۔
عرش نے بہت کوشش کی تھی عقیدت کو ڈھونڈنے کی مگر ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اسے کہیں نہیں ملی۔۔۔۔
مگر اس نے اپنی تلاش جاری رکھی تھی اس نے اپنے بندے اس کام پر لگا دیے تھے۔۔۔جہاں جہاں اس کے ہونے کے چانسس تھے وہ خود وہاں جا کر اسے تلاش کر چکا تھا۔۔۔۔
آدم مشکل سے دو بار گھر آیا تھا مگر گھر کی اداسی دیکھ کر وہ زیادہ دیر گھر پر نہیں رکا۔۔۔۔
سالار تو اس دن کا گیا لوٹ کر نہیں آیا تھا ۔۔۔
امی آپ اداس مت ہو پلیز جب وہ آئیں گے ہم ان سے بات کرینگے وہ آیت کو واپس لے آئیں۔۔۔۔شفا فروا بیگم کے لیے چائے لے کر آئی تھی فروا بیگم کو اداس دیکھ کر اس نے کہا۔۔۔
وہ آج بھی آدم کا نام نہیں لیتی تھی ۔۔۔
فروا بیگم نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔۔۔۔میری بچی اللّٰہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے تم نے اس مشکل وقت میں بہت خیال رکھا ہے ہم سب کا ۔۔۔
ان کی تعریف پر وہ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔
منت کہاں ہے۔۔۔۔فروا بیگم نے چائے کا کپ اٹھاتے پوچھا۔۔۔
وہ چھوٹی امی کے پاس ہے ۔۔۔
اچھا آدم گھر نہیں آیا اآج بھی ۔۔۔۔انہوں نے اداسی سے پوچھا۔۔۔
نہیں آئے امی شاید کام زیادہ ہوگا اس لئے نہیں آئے آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔
۔پریشان تو وہ خود بھی تھی مگر وہ فروا بیگم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
انہوں نے پیار سے اپنی بہو کو دیکھا تھا جو اتنی کم عمری میں بھی بہت سمجھدار اور صاف دل کی تھی۔۔۔۔
چائے کا کپ اٹھائے وہ دونوں باہر آگئی تھی۔۔۔۔جہاں سجدہ بیگم منت کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں بھی وہاں آکر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
جزا کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔فروا بیگم نے اسے تیار ہو کر جاتا دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
امی ایک دوست کے ساتھ کام سے جانا ہے ایک گھنٹے تک آجاؤں گی۔۔۔۔
بیٹا دوست وغیرہ تو زندگی کا حصہ ہیں وہ تو چلتے رہتے ہیں لیکن تم زرا سالار کی خبر لو پتہ نہیں بچہ کہاں رل رہا ہے۔۔۔بیوی ہو تم تمہیں اس کا خیال رکھنا چاہیے ۔۔۔۔
فروا بیگم کی بات پر اس کے بڑھتے قدم رکے تھے۔۔۔
اسے خود بھی بہت فکر تھی کئی کالز وہ کر چکی تھی لیکن
نمبر اس کا سوئچ آف تھا۔۔۔۔
جی امی میں سالار کو فون کرلوں گی ابھی میرا جانا ضروری ہے پلیز ایک گھنٹے میں آجاؤں گی میں ۔۔۔۔۔وہ معصومیت سے کہہ کر نکل گئی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
بیٹا تھوڑا سا کھا لو۔۔۔۔۔۔۔۔اماں جان نے اس کی پلیٹ میں چاول ڈال کر کہا۔۔۔۔
آیت نے خاموشی سے دو تین نوالے زہر مار کئے اور پلیٹ پیچھے کر دیا۔۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔۔۔بالاج شاہ کی گھمبیر آواز پر دونوں نے دائیننگ ہال کے دروازے کی طرف دیکھا تھا ۔۔بالاج کو دیکھ آیت نے فوراً اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ تھا ۔۔۔
بالاج کو اس کی یہ حرکت بہت چھبی تھی ۔۔۔۔وہ آگے آیا اور جھک کر اماں جان کے ماتھے پر بوسہ دیا اور آیت کے ساتھ والی چیئر کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بیٹھتے ہی آیت اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔۔۔
اماں جان اور بالاج دونوں نے اس کو نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھا تھا۔۔۔
بالاج شاہ پورے ہفتے بعد آج واپس آیا تھا۔۔۔اس دن اسے کسی ضروری کام سے جانا پڑ گیا تھا۔۔
بیٹا تم نے اس کے ساتھ زبردستی کر کے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔
اماں جان نے اسے کھانا دیتے ہوئے سنجیدگی سے ۔۔۔
ایسا آپ سے آیت نے کہا۔۔۔۔اس نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے سکون سے پوچھا۔۔۔۔
نہیں وہ بچی تو کچھ بولتی ہی نہیں ہر وقت خاموش اور اداس رہتی ہے جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا کتنی ہنس مکھ لگی تھی وہ مجھے ۔۔۔۔کھلکھلاتی ہوئی۔۔۔۔
آپ بلاوجہ مجھ پر شک کر رہی ہیں ۔۔۔اماں جان۔۔۔۔
میں تمہارے باپ کی بھی ماں ہوں تمہارے رگ رگ سے واقف ہوں ۔۔۔۔۔تم نے ضرور اسے حاصل کرنے کے لیے کوئی غلط راستہ اپنایا ہوگا۔۔۔۔ورنہ انکار تو وہ پہلے کر چکے تھے۔۔۔۔
اماں جان نے سختی سے کہا ۔۔۔۔۔
جس پر بجائے شرمندہ ہونے کے بالاج نے ہنستے ہوئے اپنی آنکھ ونگ کی تھی۔۔۔۔
اماں جان کو اس کی ڈھٹائی پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔۔۔
جیسے آج تک تم اپنی بہن کا غم نہیں بھولے یہ بھی کسی کی بہن ہے تم کیسے اس کے ساتھ غلط کر سکتے ہو۔۔۔۔
اماں جان نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔اس کی مسکراہٹ پر انہیں غصہ آگیا تھا۔۔۔۔۔
بہن کے نام پر اس کا چہرہ انتہاہی لال ہو گیا تھا۔۔۔۔گردن اور ماتھے کی رگیں ظبط کرنے کے چکر میں ابھر آئی تھی۔۔۔
کیا کچھ نا یاد آیا تھا اسے وہ غصے سے اٹھا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
اماں جان نے افسوس سے اسے دیکھا۔۔۔۔
اور خود بھی وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ صوفے پر بیٹھی گہری سوچ میں تھی آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں میں بہنے لگے تھے۔۔۔۔
وہ پہلے ہی غصے میں تھا تیز قدم اٹھاتا اس تک پہنچا اور بازو سے کھینچ کر اسے کھڑا کیا اور سختی سے اس کے بال جھکڑے۔۔۔۔۔
کس بات کا سوگ منا رہی ہو ۔۔۔۔۔وہ اس کے منہ پر پھنکارا تھا۔۔۔
آیت نے درد سے آنکھیں میچ لیں مگر ایک لفظ نہیں بولا۔۔۔
وہ غصے میں اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنا سارا غصہ ان ہونٹوں پر اتارنے لگا ۔۔۔۔
آیت نے کوئی مزاحمت نہیں کی جب اسے لگا وہ سانس نہیں لے پارہی۔۔۔۔اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔
بالاج نے اس کے وجود کو دور جھٹکا وہ لہرا کر صوفے پر گری۔۔۔
بالاج نے جھک کر اس کا چہرہ جھکڑا۔۔۔۔گونگی ہو بول کیوں نہیں رہی یا زبان بیچ کر آئی ہو۔۔۔۔سالار اس پر جھکا پھنکار رہا تھا….مگر مجال ہو اس لڑکی نے اپنی زبان کھولی ہو۔۔۔
بخار میں اس کا جسم تپ رہا تھا اور وہ لڑکی بے حس بنی ہوئی تھی ۔۔۔
بالاج غصے سے اٹھا ور جو چیز اسکے ہاتھ آتی گئی و ہ اٹھا اٹھا کر پھٹکنے لگا۔۔۔
اماں جان کمرے کے شور سے پریشان ہو کر اس کے کمرے میں آئی تھی آیت صوفے پر سکڑی سمٹی پڑی کانپ رہی تھی جبکہ
بالاج غصے میں اماں جان کو دیکھ کر انکے پاس آیا۔۔۔۔
اس سے کہے اگر میرے سامنے اب اگر اس نے اپنی زبان بند رکھی تو زبان کاٹ کے پھینک دوں گا۔۔۔۔
کیونکہ اسے استعمال کرنے کی زحمت تو یہ کر نہیں رہی تو یہ کس کام کی ۔۔۔۔۔وہ پاؤں سے ہر چیز ٹوکر مارتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اماں جان اس کے پاس آتی اسے سینے سے لگا گئیں ۔۔۔۔انکے سینے سے لگتے ہی جو وہ بلک بلک کر روئی اماں جان سے اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔۔۔۔۔
کچھ زہنی ازیت اور کچھ کمزوری کی وجہ سے وہ وہی بے ہوش ہوگئی۔۔۔۔
اماں جان کی آواز پر فرجاد بھاگتے ہوئے کمرے میں آیا تھا آیت کو بے ہوش دیکھ اس نے پہلے ڈاکٹر کو کال کی پھر بالاج کو۔۔۔۔۔
وہ جو گھر سے تھوڑی ہی دوری پر تھا فرجاد کی کال پر بھاگتے ہوئے آیا تھا چہرے پر پریشانی واضح تھی۔۔۔۔۔
وہ اسپر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا بس اماں جان کا آئینہ دکھانا وہ برداشت نہیں کر پایا۔۔۔۔۔۔
اور اس پر اپنا غصہ نکال گیا۔۔۔۔۔
اس نے آیت کو بازوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔
ڈاکٹر بھی آ چکی تھی ۔۔۔۔
یہ بہت زیادہ اسٹریس کی وجہ سے بے ہوش ہو چکی ہیں کمزوری بھی بہت ہے انکی ڈائٹ کا بہت زیادہ خیال رکھیں آپ ۔۔۔۔
میں نے ڈرپ لگا دی ہے تھوڑی دیر تک ہوش آجائے گا۔۔۔۔
اور یہ کچھ میڈیسن ہے انکو ٹائم پر کھلائے گا ۔۔۔
ڈاکٹر نرمی سے بالاج کو پرچی تھما کر نکل گئی۔۔۔فرجاد ان کو باہر تک چھوڑنے گیا تھا۔۔۔۔
اماں جان ناراضگی سے وہاں سے نکل کر جانے لگی ۔۔۔۔پلیز اماں جان آپ تو ناراض مت ہوں پلیز۔۔۔اس نے اماں جان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
میں نے تمہاری ایسی پرورش تو نہیں کی ۔۔۔۔تم ایک صنف نازک کے ساتھ اس طرح پیش آؤ۔۔۔۔زبردستی بھی تم کرو اور ناراضگی بھی برداشت نہیں کرسکتے۔۔۔۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا آخر کونسا بدلہ لینے کے لئے تم نے اس سے شادی کی۔۔۔
اماں جان بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئیں ۔۔۔۔
بالاج نے شرمندگی سے سر جھکا دیا۔۔۔۔میں اب آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا اماں جان۔۔۔۔اس نے اما جان کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا لیا۔۔۔۔
اماں جان خاموشی سے کمرے سے نکل گئیں ۔۔۔۔۔
وہ افسوس سے اس کے پاس آیا اور کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
پہلے سے وہ بہت کمزور ہو گئی تھی۔۔۔۔۔آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے چہرے پر اس کی انگلیوں کے نشان ۔۔۔اسے خود کی حرکت پر افسوس ہوا۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اسے یہاں آئے پورا ہفتہ ہوگیا تھا۔۔۔۔کچھ دنوں سے اس کی طبیعت بہت خراب تھی ۔۔۔۔جس کیوجہ سے ڈاکٹر کو دکھانے پر جو اسے خبر ملی اس نے عقیدت کو پوری طرح سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اسے خوش ہونا چاہیے یا نہیں
ایک الگ سا احساس تھا جسے وہ کوئی نام نہیں دے پارہی تھی۔۔۔۔
شاید ماں بننے کا احساس ایسا ہی ہوتا ہے وہ روتے روتے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دی۔۔۔۔
بیٹا ایسے موقعوں پر روتے نہیں ہے اللّٰہ کا شکر ادا کرو اللّٰہ نے تمہیں یہ مرتبہ عطا کیا۔۔۔۔رشیدہ خالہ جس کے گھر پر وہ رہ رہی تھی مسکرا کر بولی۔۔۔۔
ابو کے جانے کے بعد مجھے لگتا تھا میرا اس دنیا میں کوئی نہیں میں بلکل اکیلی ہوں۔۔۔۔۔لیکن اللّٰہ نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا خالہ ۔۔۔
اس نے مجھے وہ دیا ہے جس پر صرف میرا حق ہے جسے مجھے کوئی نہیں چھین سکتا ۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرا کر بولی۔۔۔۔
بلکل تمہارے بچے پر صرف تمہارا حق ہے اب اپنا بہت زیادہ خیال رکھو اداس مت رہا کرو۔۔۔۔بچے کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔۔۔۔۔
خالہ کے مسکرانے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
اسے آج بھی یاد تھا وہ دن ۔۔۔۔۔جب وہ گھر چھوڑ کر آرہی تھی۔۔۔۔وہ بٹے ہوئے انسان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی نا وہ عرش کو کسی کے بھی ساتھ برداشت کر سکتی تھی ۔۔۔۔
اور وہ خود کو عرش کے معیار کے مطابق سمجھتی تھی۔۔۔۔
اس لیے اسے بہتر یہی لگا کہ وہ خود خاموشی سے گھر چھوڑ دے۔۔۔۔اسے نہیں پتہ تھا وہ کہاں جائے گی جس کا در کھٹکھٹائے گی۔۔۔۔۔
وہ سب اللّٰہ پر چھوڑ کر نکل آئی تھی۔۔۔۔۔مگر اسے نکلتے ہوئے گھر میں سے کسی نے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔
پھر اس انسان نے اسے رشیدہ انسان کے پاس چھوڑا تھا۔۔۔۔
جو اپنے بوڑھے شوہر کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔۔
اس شخص نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے اس کی وجہ سے عرش کو کبھی بھی اس کے ٹھکانے کا پتہ نہیں چلے گا۔۔۔۔
اسی وعدے پر یقین کر کے وہ رشیدہ خالی کے ساتھ رہ رہی تھی۔۔۔۔
جب اسے ڈاکٹر نے ماں بننے کا بتایا۔۔۔۔۔اسے عرش شدت سے یاد آیا تھا ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ ابھی گھر پہنچی تھی جب کمرے میں داخل ہوئی تو کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔مگر اسے سالار کے کلون کی خوشبو کمرے میں محسوس ہوئی۔۔۔اس کا دل بہت زور سے دھڑکا۔۔۔۔
جزا نے دھڑکتے دل سے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تو کمرہ روشن ہو گیا تھا
سالار بیڈ پر جوتوں سمیت بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔
کمرے میں روشنی پھیلنے پر سالار نے بازو ہٹا کر سامنے کھڑی جزا کو دیکھا ۔۔۔پھر دوبارہ اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔۔۔
اس کی حالت دیکھ جزا کا دل کٹ گیا تھا ۔۔۔۔گرے ملگجے سے شرٹ میں بلیو جینز پہنے بکھرے بال اور بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ وہ کوئی اور سالار ہی لگ رہا تھا۔۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس تک گئی۔۔۔۔
سالار۔۔۔۔اس نے دھیرے سے پکارا۔۔۔۔
سالار نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔اس نے سالار کے بازو پر ہاتھ رکھا تو ایسا لگا جیسے جلتے ہوئے کوئلے میں ہاتھ رکھ دیا ہو۔۔۔۔وہ تڑپ کر اس کے پاس بیٹھی اور اس کا بازو آنکھوں سے ہٹایا ۔۔۔۔
آنکھوں میں سرخی دیکھنے لائق تھی۔۔۔
آپ کو تو بہت تیز بخار ہے ۔۔۔اٹھیں ہم اسپتال چلتے ہیں ۔۔۔
اس نے ہاتھ پکڑ کر سالار کو اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔۔
اٹھیں آپ ۔۔۔اس نے دوبارہ کھینچا تو اس نے جزا کا ہاتھ جھٹکا وہ حیرانگی سے سالار کی طرف دیکھا جو سرخ آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
دور رہو مجھ سے تم اس وقت ایک ریپسٹ کے ساتھ ہمدردی کر رہی ہو۔۔۔
سالار نے سنجیدگی سے کہا اور اٹھ کر وہاں سے جانے لگا ۔۔۔
آپ کس طرح کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔میں تو بس۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔مگر سالار نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا ۔۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔۔
وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
پیچھے وہ پریشانی سے وہاں بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓
وہ ہوش میں آ چکی تھی ۔۔۔۔۔اماں جان نے ہانیہ کو اس کا خیال رکھنے کے لئے کمرے میں بھیجا تھا ۔۔۔۔۔وہ ہانیہ کا سہارا لے ر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
بھابھی یہ کھا لیں ورنہ بھائی بہت غصہ کریں گے۔۔۔۔
اس نے سوپ کا باؤل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
آیت نے خاموشی سے باؤل تھام لیا کیونکہ اسے خود بھی بہت بھوک لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے سے سوپ پینے لگی ۔۔۔۔۔۔
تب تک ہانیہ نے اٹھ کر کمرہ سمیٹ لیا تھا۔۔۔۔۔ہانیہ بالاج شاہ کے ڈرائیور کی بیٹی تھی۔ جو سرونٹ کوارٹر میں اپنےوالد کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اور فرجاد پچھلے دس سال سے بالاج کے ساتھ تھا وہ اس کا ہمراز دوست سب تھا۔۔۔۔۔
وہ بھی شاہ ہاؤس میں ان کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔
ہانیہ کے والد کے انتقال پر اماں جان اور بالاج نے ان دونوں کی رضامندی پوچھ کر ہانیہ اور فرجاد کا نکاح کروا دیا تھا۔۔۔۔
اور دونوں شاہ ہاؤس میں ہی رہتے تھے۔۔۔۔۔
بھابھی آپ آرام کریں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتائے گا۔۔۔۔میں باہر ہی ہوں ۔۔۔
ہانیہ اسے کہہ کر نیچے چلی گئی اس کے جانے کے بعد آیت تکیے پر سر ٹکائے آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔۔اچانک اسے اپنے ماتھے پر کسی کے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا مگر اس نے اپنی آنکھیں نہیں کھولی۔۔۔۔وہ اس شخص کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے اپنے سر پر ہلکا ہلکا اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس وہ آہستہ آہستہ اس کا سر دبا رہا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے چہرے پر اس کی نظروں کی تپش محسوس کررہی تھی ۔۔۔۔۔
اسے وحشت سی ہونے لگی۔۔۔۔۔اسے الجھن ہورہی تھی بالاج شاہ کی نظروں سے اس کا بس چلتا تو اسے اٹھا کر کمرے سے پھینک دیتی۔۔۔۔مگر اتنی ہمت وہ خود میں مفتود پاتی تھی اور نا ہی وہ بالاج سے کوئی کلام کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اس پر گنودگی طاری ہونے لگی ۔۔۔۔اور وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔۔۔
اس کا بخارا کافی حد تک اتر چکا تھا ۔۔۔۔
بالاج نے جب اس کے ماتھے کے بلوں کو ڈھیلا دیکھا تو اس پر کمفرٹر اچھے سے ڈال کر اٹھ گیا۔۔۔۔اور بالکنی میں رکھی چئیر پر سگریٹ جلا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
