Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 31
Rate this Novel
Episode 31
وہ ریش ڈرائیونگ کرتے وہاں پہنچے تھے۔۔۔۔
ان سے کچھ دوری پر جزا بھی گاڑی میں انکا پیچھا کر رہی تھی کیونکہ وہ سن چکی تھی عرش کے منہ سے فاطمہ کا نام تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ ان کے پیچھے آئی تھی۔۔۔وہ دور سے ہی گاڑی میں بیٹھی دیکھنے لگی۔۔۔۔
گیٹ تو لاک ہے۔۔۔۔عرش نے پریشانی سے کہا۔۔۔
کیا پتہ کسی نے مزاق کیا ہو۔۔۔۔سالار نے خود کو بہلانے کی کوشش کی اور ساتھ ساتھ وہ آدم کا نمبر بھی ڈائل کررہا تھا۔۔۔جو اب ریسیو کر لی گئی تھی۔۔۔۔
سالار اس کو ساری سچویشن بتاتا ۔۔۔۔
ایک بڑا سا پھتر اٹھا کر لاک توڑنے لگا۔۔۔۔ہاتھ اس کے بری طرح کپکپا رہے تھے۔۔۔۔۔
جزا پریشانی سے سارا منظر دیکھنے لگے۔۔۔۔
لاک توڑ کے وہ دونوں اندر چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔اس کے فوراً بعد ہی ایک گاڑی آکر وہاں رکی تھی اس میں سے ایک لڑکا نکلا اور ٹوٹا ہوا تالا اٹھا کر گاڑی میں رکھا۔۔۔۔۔عین اس کے پانچ منٹ بعد ارمان نیازی اس گیٹ سے باہر نکل کر آیا اور وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔۔
جزا نے اس کا چہرہ دیکھا تھا لیکن وہ ارمان نیازی کو جانتی نہیں تھی وہ پریشانی سے گاڑی سے نکلی اور آہستہ قدم اٹھاتی اندر چلی گئی۔۔۔۔
سالار اور عرش نے جیسے ہی اندر قدم رکھا ان کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔سب کچھ بکھرا پڑا تھا ۔۔۔۔
اندر دروازے کے پاس ایک دوپٹہ پڑا تھا ۔۔۔۔۔
وہ دونوں تیز قدم اٹھاتے اندر پہنچے تھے۔۔۔۔۔لاؤنج میں پڑی فاطمہ کی لاش کو دیکھ سالار کے قدم لڑکھڑائے تھے ۔۔۔۔
قدم آگے بڑھنے سے انکاری ہو گئے تھے ۔۔۔۔
دونوں نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا آنکھیں شدت غم سے سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔
عرش نے اسے ہمیشہ بہن سمجھا تھا۔۔۔۔ وہ بھی اسے آگے بھائیوں جتنی عزت دیتی تھی۔۔۔۔
سالار اٹھا اپنی شرٹ اتار کر اسکے پاس جا کر ڈال دی تھی۔۔۔۔انہیں نہیں پتہ تھا اس معصوم کے ساتھ یہ سب کس نے کیا۔۔۔۔
اس کی حالت چیخ چیخ کر سب بیان کر رہی تھی۔۔۔۔۔
عرش بھاگتے ہوئے باہر گیا اور وہ دوپٹہ لا کر اس پر اوڑھ دیا ۔۔۔۔
اس کی شکل دیکھ کر پہچاننا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
ہیے فاطمہ اٹھو تمہیں کچھ نہیں ہوا اٹھو دیکھو مزاق مت کرو۔۔۔۔سالار اپنے آنسوؤں کو ظبط کرتا اس کا گال تھتھپانے لگا۔۔۔۔۔
ایک آنسوں نکل کر فاطمہ کے چہرے پر گر گیا تھا۔۔۔۔۔
س۔۔۔۔ سالار اس کی س ۔۔۔سانس نہیں چل رہی۔۔۔عرش اس کے ناک سے ہاتھ ہٹاتا لڑکھڑاتے لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔۔
جزا نے دور سے سالار کے بازوؤں میں اسے دیکھا تھا فاطمہ کا چہرہ وہ دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔
اسے کچھ انہونی کا احساس شدت سے ہوا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اندر جاتی ۔۔۔۔کسی نے اس کے کندھے ہر ہاتھ رکھا تھا
وہ جیسے ہی گھبرا کر مڑی سامنے آدم خانزادہ کو دیکھ اسے چار سو والٹ کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ اسے غصے سے گھور کر رہا تھا۔۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔اس نے غصے سے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔اور اپنے ساتھ آئی لیڈی اہلکار کو اندر جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
وہ ب بھائی میں وہ۔۔۔۔اس سے کوئی بات نہیں بنی وہ تمام سورت حال سے بہت گھبرا گئی تھی۔۔۔۔
شٹ اپ ۔۔۔۔چپ چاپ جا کر وہاں بیٹھو عرش تمہیں گھر چھوڑ کر آئے گا باقی باتیں میں تم سے پوچھوں گا ۔۔۔۔
اس نے سختی سے اسے ایک طرف اشارہ کیا اور خود اندر بڑھ گیا۔۔۔۔
جزا لڑکھڑاتے قدموں سے ایک طرف بیٹھ گئی ۔۔۔۔
لیڈی کانسٹیبل فاطمہ کی باڈی کو اچھے سے کور کر چکی تھی۔۔۔۔۔
سالار اور عرش غم سے چور ہو کر ایک طرف کھڑے تھے انہوں نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔۔۔۔
آدم کے کہنے پر عرش جزا کو گھر لے گیا تھا۔۔۔۔۔
آدم نے شہزاد شاہ کو انفارم کر دیا تھا وہ اپنی بیوی کے ساتھ آچکے تھے۔۔۔۔
تمام صورت حال دیکھ کر وہ سکتے میں جا چکے تھے مسز شہزاد تو اپنی بیٹی کی لاش دیکھ کر ہی بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔ شہزاد صاحب اپنی بیٹی کی لاش کو سینے سے لگائے دھاڑے مار مار کر رو رہے تھے۔۔۔۔
کسی کے پاس بھی تسلی کے الفاظ نہیں تھے۔۔۔۔
تمام ایویڈنس جمع کر لئے گئے تھے ۔۔۔۔۔سالار کا موبائل اور فاطمہ کا فون بھی پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔۔۔۔
سر اس میں موجود میسجز کے حساب سے تو ایسا لگ رہا ہے سالار سر نے ان کو یہاں بلایا تھا۔۔۔
الطاف نے فاطمہ کے میسج کھول کر آدم کو دکھائے ۔۔۔۔
ایک پل کو وہ بھی گھبرا گیا تھا۔۔۔۔
شہزاد صاحب اٹھے اور سالار کے منہ پر پے در پے تھپڑ مارنے لگے۔۔۔۔
کیوں کیوں کیا تم نے ایسا میری بیٹی تمہاری عزت کرتی تھی تمہیں اپنا سب سے اچھا دوست مانتی تھی اور تم نے ہی اس کی عزت کو روند دیا۔۔۔۔۔
شہزاد صاحب شدت غم سے چیخنے لگے تھے۔۔۔۔۔
سالار پریشان سا انہیں دیکھنے لگا یہ کس طرح کا الزام اس پر لگا تھا۔۔۔۔اس نے تو کبھی بھی اس سے ہاتھ والا مزاق بھی نہیں کیا تھا وہ خود بہنوں کا بھائی تھا کیسے وہ فاطمہ کے ساتھ اپنی دوست کے ساتھ اس طرح کا گھٹیا کام کرے گا۔۔۔۔۔۔
آدم نے ان کو روکا ۔۔۔۔۔
دیکھئے سر آپ کوغلط فہمی ہوئی ہے سالار کبھی بھی اس طرح کا فعل انجام نہیں دے سکتا۔۔۔۔
آدم نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر ان کی حالت اس قدر قابل رحم لگ رہی تھی کہ مزید ان سے کچھ نہیں کہہ سکا ۔۔۔
فاطمہ کی باڈی کو ایمبولینس میں لے جایا گیا تھا۔۔۔۔۔
مسز شہزاد کی حالت بھی بہت ناساز تھی انہیں بھی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔۔۔۔
شہزاد صاحب میں اتنی ہمت نہیں بچی تھی کہ وہ اٹھے اور اسپتال جائیں جوان اولاد کا اس طرح بے رحما نہ قتل برداشت کرنا ان کے بس کی بات نا تھی۔۔۔۔۔۔
الطاف سالار خانزادہ کو اریسٹ کریں ۔۔۔۔۔جتنے بھی ثبوت ہیں وہ سب انکے خلاف ہیں ۔۔۔۔
شہزاد صاحب کی طرف سے ایف آئی آر درج کریں ۔۔۔۔
اس کے بعد تمام انوسٹیگیشن شفاف طریقے سے کریں۔۔۔۔۔
سالار نے بے یقینی سے آدم خانزادہ کو دیکھا تھا جس نے اس کے دیکھنے پر نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا۔۔۔
عرش آکر شہزاد صاحب کو اپنے ساتھ اسپتال لے گیا وہ رات
شاہ ہاؤس اور اور خانزادہ ہاؤس پر بجلی بن کر گری تھی۔۔۔۔مگر خانزادہ مینشن کی عورتوں کو اس بات سے بے خبر رکھا گیا تھا۔۔۔۔
ایک جزا ہی تھی جو اس قدر ڈر گئی تھی کہ اسے بخار چڑھ گیا ۔۔۔۔
عرش نے ایک بیٹے کی طرح شہزاد صاحب کے ساتھ سارے انتظامات سنبھالے تھے۔۔۔۔وہ فاطمہ کو دل سے بہن مانتا تھا ۔۔۔
اور شہزاد صاحب اس کو بہت پسند بھی کرتے تھے ۔۔۔۔
شہزاد صاحب کے کہنے پر لوگوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ فاطمہ کا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انتقال ہوا تھا ۔۔۔۔
اور کچھ اس کا چہرہ اس طرح زخمی ہوا تھا کہ لوگوں نے ان کی بات پر یقین بھی کر لیا ۔۔۔۔۔
فاطمہ کی تدفین تک عرش ان کے ساتھ رہا۔۔۔۔۔۔
ہر آنکھ اشک بار تھی۔۔۔۔جوان موت پر ۔۔۔۔وہ سب کے دلوں پر راج کرنے والی لڑکی تھی ہنس مکھ ملنسار جو بھی اس سے ملتا اس کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔۔
اماں جان اور مسز شہزاد نڈھال سی بیٹھی تھی آج اس حادثے کو تین دن گزر چکے تھے۔۔۔۔۔
مہمان سارے ان کو دلاسہ دے کر جا چکے تھے ۔۔۔۔
اُنہوں نے اپنی جوان بیٹی کو کھویا تھا صبر کیسے آتا۔۔۔۔
بیگم صاحبہ بالاج بابا کا فون ہے کب سے فون بج رہا ہے ۔۔۔۔۔
ان کی پرانی ملازمہ نے لا کر فون مسز شہزاد کے حوالے کیا تھا۔۔۔۔
وہ فون اٹھا کر کان سے لگا گئیں۔۔۔
اسلام علیکم امی کیسی ہیں آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہی تین دن سے گھر میں کوئی بھی فون نہیں اٹھا رہا فاطمہ کا نمبر بھی بند ہے سب ٹھیک ہے نا بابا بھی ٹھیک سے بات نہیں کر رہے۔۔۔۔اس نے ایک ہی سانس میں سب پوچھ لیا۔۔۔۔
جواب دینے کے بجائے مسز شہزاد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
ماما کیا ہوا ہے بتائیں مجھے سب ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔بالاج بچارہ پریشان ہو گیا تھا۔۔۔۔۔انکے رونے پر
اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی شہزاد صاحب نے ان سے فون لے کر اپنے کان سے لگایا ۔۔۔اور وہاں سے تھوڑی دوری پر چلے گئے۔۔۔
ہاں بالاج کیسے ہو مائی سن۔۔۔۔شہزاد صاحب نے خود کو نارمل کر کے پوچھا۔۔۔۔
بابا ماما کیوں رو رہی ہیں سب ٹھیک ہے نا آپ لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں کیا۔۔۔۔۔
اس نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
سب ٹھیک ہے ڈونٹ وری دو دن سے بخار ہے تو ہر بات پر رونے لگتی ہیں۔۔۔۔تم تو جانتے ہو اپنی ماں کی عادت کو بچی بن جاتی ہے بیماری میں ۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے مطمئن کرنا چاہا۔۔۔۔
اچھا فاطمہ کا نمبر کیوں بند ہے میری بات کروائیں ۔۔۔۔اس سے۔۔۔۔اسے کچھ دنوں سے فاطمہ بہت زیادہ یاد آرہی تھی۔۔۔۔۔
فاطمہ تو یونیورسٹی فرینڈز کے ساتھ اندرون سندھ گئی ہے ٹرپ پہ وہاں نیٹورک پروبلم بہت ہے اسلئے نمبر بند ہے تمہیں بتایا نہیں اس نے جانے سے پہلے ۔۔۔۔
انہوں نے اپنے لہجے کو نارمل کرنے کی کوشش کی لیکن آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔
اچھا مجھے تو نہیں بتایا اس نے چلیں مام کا خیال رکھئے گا اور اماں جان سے کہئے گا میں شام میں کال کروں گا۔۔۔۔
ابھی میرا پیپر اسٹارٹ ہونے والا ہے بائے۔۔۔۔وہ کہہ کر فون بند کر گیا۔۔۔۔
شہزاد صاحب تھکے قدموں سے چل کر اماں جان تک آئے اور ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئے ۔۔
شہزاد بیٹا ہم نے بالاج کو نابتا کر اسکی حق تلفی کی ہے وہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔۔فاطمہ میں اس کی جان اٹکی تھی وہ کبھی معاف نہیں کرے گا ہم لوگوں کو۔۔۔۔
اماں جان ان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔آنسو ان کی آنکھوں سے رواں تھے
اماں میں تھک گیا ہوں میں بیٹی کو کھو چکا ہوں بیٹے کو نہیں کھونا چاہتا میں جانتا ہوں وہ پاکستان آیا تو کسی کو نہیں چھوڑے گا وہ جزباتی ہے بہت۔۔۔۔۔۔ اور اس کے سالوں کی محنت میں ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔اگر اسے فاطمہ کا پتہ چلا تو وہاں سب چھوڑ کر پاکستان آجائے گا۔۔۔۔
تین دن بعد اس کے پیپرز ختم ہو جائیں گے تو میں اسے سب بتا دوں گا ۔۔۔۔وہ بے بسی سے بولے۔۔۔۔۔
میں سالار سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔۔مسز شہزاد جو وہی بیٹھی تھی سنجیدگی سے بولیں ۔۔۔
نہیں آپ کو اس سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں آج میں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے جا رہا ہوں۔۔۔
شہزاد صاحب سنجیدگی سے کہہ کر اٹھے تھے۔۔۔۔
نہیں مجھے اس سے ملنا ہے آپ مجھے ساتھ لے کر جائیں میں اس سے پوچھنا چاہتی ہوں اس نے میری بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔۔
مسز شہزاد غم وہ غصے سے چیخ پڑی تھی۔۔۔۔
اماں جان نے دکھ سے اپنی بہو کو دیکھا تھا ۔
شہزاد صاحب نے بھی مزید انکو روکنا مناسب نہیں سمجھا اماں جان کو اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر وہ مسز شہزاد کو ساتھ کے کر نکلے تھے۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
اسے تین دن ہو گئے تھے یہاں وہ اندھیرے میں بیٹھا تھا۔۔۔۔عرش نے بہت چاہا تھا کہ وہ وہاں نا رہے مگر آدم اور اس کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ثابت ہو کر ہی جائے گا۔۔۔۔۔
ابھی وہ گھٹنوں میں سر دئے بیٹھا تھا کہ کسی کے قدموں کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔۔
سامنے فاطمہ کی امی کو دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ بہت بار مسٹر اینڈ مسز شہزاد سے مل چکا تھا ۔۔۔۔ہمیشہ تیار رہنے والی عورت بیٹی کو کھو کر بیمار ہو گئی تھی۔۔۔۔
ملگجے سے سوٹ میں وہ کہیں سے بھی وہ عورت نہیں لگ رہی تھی جن سے وہ ملا تھا اسکا دل کٹ کے رہ گیا۔۔۔۔۔
کیوں کیا سالار تم نے ایسا ۔۔۔۔وہ جب بولی تو کیا کچھ نا تھا ان کے لہجے میں مان ٹوٹنے کا غم بیٹی کھونے کا غم ۔۔۔۔
سالار نے تڑپ کر ان کے ہاتھ تھام لئے ۔۔۔۔پلیز ایسا مت کہیں آنٹی میں کبھی اسے تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔میں کیسے۔۔۔
جب تم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تو اتنی بے رحمی سے میری بچی کو کیوں مارا کیوں اسکو داغدار کیا۔۔۔۔کیا قصور تھا اس کا صرف اتنا کہ وہ تم سے محبت کر بیٹھی تھی۔۔۔
کیوں کیا تم نے کیوں۔۔۔۔۔وہ غم وہ غصے سے اس کے چہرے پر تھپڑ برسانے لگی ۔۔۔۔۔
مگر وہ تو ان کی بات پر پھتر کا ہو گیا تھا۔۔۔۔یہ کیسا انکشاف تھا جو انہوں نے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
