Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 26
Rate this Novel
Episode 26
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط چھبیس
شام کا ٹائم تھا وہ جیسے ہی گھر کے پچھلے سائیڈ پر بنے جم سے باہر نکلا وہ پودوں کو پانی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
جب سے اس کی دوسری شادی کی بات ہوئی تھی ۔۔۔۔عقیدت اور اس کا سامنہ نہیں ہوا تھا ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک بہت بڑی دیوار تھی ان کے بیچ۔۔۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس تک پہنچا اور پیچھے کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔
عقیدت اپنے پرانے سوٹ میں ہی تھی ۔۔۔۔جس کا رنگ تک اتر چکا تھا۔۔۔۔
جبکہ عرش خانزادہ نے اسکی ضرورت کی ہر چیز اسے لا کر دی تھی اس کے باوجود عقیدت کی یہی کوشش ہوتی وہ اس کی دی ہوئی چیزیں کم سے کم استعمال کریں۔۔۔۔
بقول اس کے عرش کی کسی بھی چیز پر اس کا حق نہیں ۔۔۔۔
اور جو کچھ وہ اسکے لئے کر چکا ہے اس کا احسان وہ کبھی نہیں بھولے گی۔۔۔۔
بلکہ اس کا نکاح ہوتے ہی وہ اس گھر سے چلی جائے گی۔۔۔۔
مجھ سے زیادہ یہ بے جان چیزیں زیادہ ضروری ہیں ۔۔۔۔
عرش کی گھمبیر آواز پر وہ ہڑبڑا کر پیچھے مڑی اور جو اس کے ہاتھ میں پانی کا پائپ تھا وہ بے دھیانی میں عرش کو پوری طرح بگھو گیا۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر اس کی طرف بڑھی اور اس کی ٹی شرٹ صاف کرنے لگی۔۔۔۔
اس وقت وہ بلیک ٹی شرٹ اور ٹروزار میں تھا۔۔۔
مگر اس دوران پائپ سے نکلتے ہوئے پانی نے دونوں کو بھگو دیا تھا۔۔۔۔۔
وہ اسے سامنے دیکھ اتنی گھبرا گئی تھی کہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کررہی ہے۔۔۔۔
عرش نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر مزید خود کے قریب کیا اور اس کے ہاتھ سے پائپ لے کر نیچھے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
عرش کی اس حرکت پر وہ سانس روکے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
عقیدت کا بھیگا سراپا اور اسکے وجود سے اٹھتی مسحورکن خوشبو اسے مدہوش کر رہا تھا۔۔۔ایک تو محرم اوپر سے من پسند بیوی بھی۔۔۔۔
وہ جھکا اور اس کے گلے میں موجود پانی کے قطرے کو اپنے ہونٹوں سے چھن لیا۔۔۔۔۔
اس وقت وہ سب کچھ بھلائے بس اپنی بیوی میں گم ہو جانا چاہتا تھا۔۔۔۔اسے ہوش بھی نہیں رہا کہ وہ کمرے میں نہیں بلکہ کھلی جگہ پر ہے جہاں کوئی بھی آسکتا تھا۔۔۔۔
عقیدت نے زور سے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔
اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے عرش کی شرٹ کندھے میں سے تھام لی۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس کی بند آنکھوں سے آنسؤں کا سیلاب جاری ہوگیا۔۔۔۔۔
عرش نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور بے قراری سے اس کا ہر آنسو اپنے ہونٹوں سے چھننے لگا ۔۔۔۔
وہ جتنا تیز روتی اس کے لمس میں اتنی ہی بے قراری بھر جاتی۔۔۔۔۔
شفا جو اپنے کمرے کی کھڑکی کھولنے آئی تھی عرش اور عقیدت کو اس حالت میں دیکھ کر ایک دم گڑبڑا کر کھڑکی بند کرکے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے تیار ہوتے ہوئے مرر سے اس کے ہوائیاں اڑتے چہرے کو حیرانی سے دیکھا۔۔۔۔
جو دو منٹ پہلے تک ٹھیک تھی اب اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔۔۔
وہ پریشانی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
ٹھیک ہیں آپ وہاں کیا دیکھا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔وہ شفا سے پوچھ کر ونڈو کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔۔
ن ۔۔۔نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ وہاں۔۔۔۔ کک۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔
وہ جلدی سے اس کے سامنے آگئی۔۔۔۔۔
مگر تب تک آدم خانزادہ کے زیرک نگاہوں نے نیچے کا منظر دیکھ لیا تھا۔۔۔۔
ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی۔۔۔۔۔اس کی بیوی صرف یہ سب دیکھ کر ہی لال ہوگئی تھی اگر کبھی جو وہ اپنا حق لینے پر آیا تو نا جانے کیا ہو جائے گا۔۔۔۔
اوکے نہیں دیکھتا آپ چادر لے کر آجاؤ نیچے۔۔۔میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔
وہ اسے کہہ کر موبائل اٹھاتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
شفا نے اپنی کب کی اٹکی سانس چھوڑی اور جلدی سے چادر اوڑھ کر باہر نکل گئی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہونٹوں پر جھکتا عقیدت نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دیا ۔۔۔۔
وہ جو پوری طرح مدہوش تھا یک دم ہوش میں آیا اور سرخ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
اپنا حق ایک بار لے چکے ہیں نا آپ ۔۔۔ اب آئندہ میرے قریب مت آئے گا میں آپ کے احسان کی قیمت اپنے وجود سے ادا کر چکی ہوں۔۔۔۔۔۔
اب اپنی ضرورتیں اپنی دوسری بیوی سے پوری کیجیے گا۔۔۔۔۔
وہ غم وہ غصے سے چیختی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔
پیچھے وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا اس کے لفظوں نے- جتنا عرش خانزادہ کو لہو لہان کیا تھا کاش وہ جان پاتی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
شفا آج پورے چھ مہینے بعد گھر سے باہر نکلی تھی ۔۔۔
آدم خانزادہ نے اس کے آنے پر کسی ملکہ کی طرح اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔
وہ جھجھکتی ہوئی اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
منت کو فروا بیگم نے آپنے پاس رکھ لیا تھا۔۔۔۔
اس کے بیٹھتے ہی وہ گاڑی گھر سے نکال گیا۔۔۔
روڈ پر آتے ہی وہ خوشی سے باہر گزرتا ہر منظر کو اشتیاق سے دیکھنے لگی۔۔۔
آدم نے اس کے دمکتے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔
اس نے پہلے بھی بہت بار اسے باہر چلنے کو کہا تھا مگر ہر بار وہ منع کر دیتی تھی ۔۔۔
مگر آج اس کا کھلتا ہوا چہرہ دیکھ اسے بہت سکون ملا تھا ۔۔۔۔
مجھے چاٹ کھانی ہے ۔۔۔۔۔۔راستے میں چاٹ کے ٹیلے کو دیکھ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔۔۔
جب احساس ہوا تو اس نے فوراً اپنی زبان ہونٹوں میں دبالی۔۔۔۔
اس نے ایک چور نظر آدم پر ڈالی جس کا سارا دھیان گاڑی چلانے پر تھا۔۔۔۔اس نے شکر ادا کیا کہ اس نے سنا نہیں ۔۔۔
وہ اکثر اشفاق صاحب کے ساتھ اسپیشلی چاٹ کھانے جاتی تھی ۔۔۔۔چاٹ اور گول گپوں کی تو وہ دیوانی تھی۔۔۔۔
وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی مگر اس کا دل کہیں پیچھے چاٹ کے پاس رہ گیا تھا۔۔۔۔
آدم نے اس کا اداس ہونا بہت شدت سے نوٹ کیا تھا۔۔۔
شہر کے بہترین مال کے سامنے اس نے گاڑی روکی اور اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
وہ اسے لیے سب سے پہلے فوڈ کارٹ میں آیا تھا۔۔۔۔۔کاؤنٹر میں آرڈر دے کر وہ انتظار کرنے لگا۔۔۔۔شفا بھی بے دلی سے اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب آرڈر آگیا تھا اس نے خوشی اور حیرانگی سے آدم خانزادہ کو دیکھا۔۔۔۔۔جو اپنے موبائل میں مصروف تھا۔۔۔۔
یعنی وہ اتنا بے خبر تھا نہیں جتنا نظر آتا تھا ۔۔۔ اسے بے ساختہ آدم پر پیار آیا۔۔۔۔۔
آدم نے خود پر اس کی نگاہیں دیکھ اسے گول گپے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
شفا نے ایک گول گپا اٹھا کر کھٹائی میں ڈپ کر کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔اور کھانے لگی۔۔۔
اسی طرح وہ تین کھا چکی تھی ۔۔۔۔۔
اور گول گپے کھاتے ہوئے جو اس کیے چہرے کے ایکسپریشن تھے ۔۔۔۔۔آدم خانزادہ اس کے چہرے کے ایکسپریشن پر بری طرح فدا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ دنیا سے بے خبر اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی معجزہ ہو۔۔۔۔
آدم کو اس طرح خود کو دیکھتے پاکر وہ شرمندہ ہوگئی۔۔۔۔۔
اور ایک گول گپا اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
آدم نے چونک کر نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
آپ بھی کھائیں نا مزے کے ہیں ۔۔۔۔شفا نے دھیرے سے کہا۔۔۔۔۔
نہیں آپ کھائیں میں یہ سب نہیں کھاتا۔۔۔۔اس نے منع کیا۔۔۔۔
پلیز کھائیں نا بہت اچھا ہے۔۔۔۔شفا نے معصومیت سے کہا ۔۔۔
بلکل نہیں اگر آپ نے نہیں کھانا تو مت کھائیں چلتے ہیں ۔۔۔۔
آدم کہہ کر اٹھنے لگا۔۔۔۔
نہیں نا مجھے کھانے ہیں بس تین ہی تو بچے ہیں میں چھٹکیوں میں ختم کردوں گی۔۔۔۔۔اس نے جلدی سے کہہ کر ایک اور منہ میں ڈال لیا۔۔۔۔
آدم بھی واپس اپنی جگہ ہر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
شفا کو اس کی نگاہوں سے الجھن تو ہوئی مگر وہ اتنا اچھا موقع نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔شفا نے جلدی سے اپنے گول گپے ختم کئے۔۔۔۔اور کھڑی ہوگئی آدم اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے بھی اچھے نہیں تھے ٹیلے والے زیادہ اچھے ہوتے ہیں ۔۔۔۔اس کے کمنٹ پر آدم نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
آئندہ ٹیلے سے آپ کوئی بھی چیز نہیں کھائیں گی۔۔۔۔آپ کو فرسٹ اینڈ لاسٹ ٹائم منع کر رہا ہوں۔۔۔۔۔
میں آپ کی بیماری بلکل افورڈ نہیں کر سکتا۔۔۔وہ رعب دار لہجے میں بول کر اسے لئے ایک لیڈیز شاپ میں آگیا۔۔۔۔
جگہ جگہ ڈسپلے میں مختلف برینڈز اور ڈیزائن کے کپڑے لگے تھے۔۔۔۔
شفا نے بہت مشکل سے ایک سوٹ پسند کیا ۔۔۔۔
وہ اسے لیے دوسری شاپ پر آگیا جہاں شادی بیاہ کے کپڑے لگے تھے۔۔۔۔
ان میں سے پسند کریں آپ میں یہیں بیٹھا ہوں۔۔۔۔۔ مگر یہ سب شادی والے ہیں ۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی۔۔۔
میں آپ کو اس طرح کے کپڑوں میں دیکھنا چاہتا ہوں آج رات۔۔۔۔اس نے جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی تو۔۔۔وہ بدک کر اسے دور ہوئی اور آس پاس دیکھنے لگی کہ کسی نے دیکھا تو نہیں ۔۔۔۔
چہرہ خطرناک حد تک لال ہو گیا تھا۔۔۔۔
آدم جا کر سائیڈ پر رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
وہ اپنے مرے مرے قدم اٹھاتی اپنے لئے سوٹ پسند کرنے لگی۔۔۔چہرے پر شرم و حیا کے رنگ واضح تھے۔۔۔۔
اسے ہر سوٹ ہی بہت ہیوی لگ رہا تھا۔۔۔
آدم کی نظر سامنے شیشےسے باہر لگی ایک ساڑھی پر پڑی ۔۔۔۔
بلیک کلر کی وہ سلیوز لیس ساڑھی اسے اتنی پسند آئی کہ وہ اٹھ کر باہر آگیا ۔۔۔۔
شفا کو کب سے کسی کی نظریں خود پر چبھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی مگر ہر بار وہ آدم سمجھ کر اگنور کر دیتی بہت مشکل سے اس نے ایک سوٹ پسند کیا۔۔۔
سی گرین چھوڑی دار پجامے کے ساتھ لونگ فراک جس کے بازو اور گلے پر اسٹون ورک کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
اس کے پسند آنے کی سب سے بڑی وجہ اسی ڈیزائن کا منت کے سائز کا بھی ڈریس تھا۔۔۔۔۔
اس نے دونوں پسند کر کے جیسے ہی آدم کی تلاش میں نظریں دوڑائیں ۔۔۔۔۔
اسے لگا کوئی پہاڑ اس کےسر پر آگرا ہو۔۔۔۔۔جس سے بچنے کے لیے اس نے آدم سے پناہ لی تھی آج وہی انسان اسے سامنے کھڑا اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر اچانک بھاگنے لگی۔۔۔کہ سامنے سے آتے آدم سے بری طرح ٹکرائی وہ بنا دیکھے بھی آدم کو اس کے خوشبو سے پہچان گئی تھی۔۔۔۔
اس نے سختی سے آدم کے گرد بازوؤ باندھ دئیے ۔۔۔۔۔
آدم اس طرح اس کو گھبراتے دیکھ پریشان ہوگیا تھا اس نے ارد گرد دیکھا تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
شفا آر یو اوکے۔۔۔۔آدم نے اس کے لرزتے وجود کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ وہ مزید اس میں گھسنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
وہ مج ممجھے لے جائیں گے ۔۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے کہنے لگی ۔۔۔
آدم نے حیرانگی سے ہر طرف دیکھا مگر اسے کچھ بھی مشکوک نہیں لگا۔۔۔۔۔
کوئی نہیں لے جا سکتا میرے ہوتے ہوئے آپ کو میں ہوں نا آپ کے ساتھ وہ اس کو لوگوں کی پروہ کئے بغیر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
اسے اپنی کمر میں شفا کی گرفت ڈھیلی محسوس ہوئی اس نے شفا کا چہرہ سامنے کیا تو وہ لہرا کر اسی کی بازوؤں میں جھول گئی۔۔۔۔۔
اس نے افسوس سے اپنی بیوی کو دیکھا ۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے سب کے سامنے اسے بازوؤں میں اٹھالیا اور اسے لیتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
کتنے ہی لوگوں نے رشک سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
ان کے نکلتے ہی دو خونخوار نگاہوں نے انہیں دور تک دیکھا تھا ۔۔۔۔
وہ اسے لے کر گھر آگیا تھا جب تک وہ آئے سب سوئے ہوئے تھے….
اس نے شفا کو لاکر بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔۔اور شرٹ اتار کر خود بھی دوسری سائیڈ لیٹ کر اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔
اس نے موبائل اٹھا کر ایک میسج کیا اور موبائل سائیڈ پر رکھ کر شفا کی طرف دیکھا جو اسکے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی۔۔۔۔۔
وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا وہ کسی سے ڈر کر بے ہوش ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا وہ اسکے ایک ایک مجرم کو عبرت ناک سزا۔ دے گا۔۔۔۔
ابھی اسےسوئے مشکل سے دو گھنٹے ہی ہوئے ہونگے۔۔۔۔
شفا کی بڑبڑاہٹ پر اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔
وہ ل۔۔۔۔لے ج۔جائے گے۔۔۔۔مج مجھے بچا لے۔۔۔مج مجھے نھ جانا۔۔۔
وہ نیند میں اس کے سینے میں گھسنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
پسینے سے اسکا چہرہ شرابور تھا۔۔۔۔
شفا اٹھیں کوئی نہیں لے جائے گا آپ کو۔۔۔وہ اسے اٹھانے لگا۔۔۔
مگر وہ ہوش میں ہی نہیں تھی ۔۔۔وہ بس اس میں گم۔ ہوجانا چاہتی تھی۔۔۔۔
اٹھیں کوئی نہیں یہاں میں ہوں بس آپ کو میرے ہوتے کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
اس کی بڑبڑاہٹ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔
آدم نے اٹھ کر اسے جھنجھوڑ ا تھا ۔۔۔۔۔
بھاری ہوتے سر کے ساتھ شفا نے مندی مندی آنکھیں کھولیں ۔۔۔
کئی لمحوں تک وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
پھر رفتہ رفتہ اسے مال کا ہر منظر یاد آتا گیا۔۔۔۔
وہ آگے بڑھ کر اس کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔
آدم کو اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے سینے پر محسوس ہوا۔۔۔۔ اس کی سانسیں سینے میں اٹکنے لگی۔۔۔۔ ۔۔۔
آدم نے اسے زور سے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔
مجھے۔۔۔ نہیں۔۔۔ جانا۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔آپ کے پاس رہنا ہے۔۔۔وہ اٹکتے ہوئے بولی وہ اتنا گھبرا چکی تھی کہ اس وقت اپنی اور آدم کی پوزیشن کا بھی خیال نہیں رہا۔۔۔۔
بولتے ہوئے اس کے لب آدم کے سینے پر ٹچ ہو کر اس کی بڑھتے جزبات کو ہوا دے رہے تھے۔۔۔۔۔
اوپر سے اس کے نازک ہاتھوں کا لمس جو وہ اپنی پیٹھ پر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
آخر وہ کب تک برداشت کرسکتا تھا
اس سے مزید برداشت نہیں ہوا تو ۔۔۔۔اس نے شفا کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر چہرہ سامنے کیا اور بہت بے قراری سے ان ہونٹوں پر جھکا تھا۔۔۔۔۔
اس اچانک افتاد پر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔
اس نے مزاحمت کی کوشش کی مگر آدم خانزادہ اس کے دونوں ہاتھوں کو قید کر گیا۔۔۔
بنا اس کے ہونٹوں کو آزادی دئے وہ اس کو لٹا تا اس پر جھک گیا۔۔۔
شفا اس کی بے باکی پر کان کی لو تک سرخ ہوئی تھی اس نے کبھی آدم سے یہ سب ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا وہ ایک سلجھا ہوا بندہ تھا۔۔۔۔
وہ لمحے کے لیے اس کے ہونٹوں کو آزاد کرتا اس کے بدلتے رنگوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
جو خطرناک حد تک لال ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
آدم کے ہاتھ اسکی قمیض کے اندر کمر میں گردش کرنے لگے ۔۔۔۔
م۔۔۔۔مر ۔۔۔۔جاؤ۔۔ں ۔۔۔۔وہ سانس روکے سرخ چہرے کے ساتھ بولنے لگی۔۔۔۔
مگر آدم خانزادہ اس پر جھکتا اس کے لفظوں کو پی گیا۔۔۔۔
میں آپ کو کبھی مرنے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔کہتے ہوئے وہ اس کی قمیض کندھے سے سرکا گیا۔۔۔۔۔اور وہاں جا بجا اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ سارے پردے گرا دیتا ۔۔۔۔۔
کمرے میں بجتے موبائل نے سارا فسوں توڑ دیا تھا۔۔۔۔۔آدم نے ایک نظر آنکھیں بند کئے کانپتی اپنی بیوی کو دیکھا۔۔۔۔اور ہاتھ بڑھا کر فون اٹھا کر کان پر لگایا۔۔۔۔
اوکے میں آتا ہوں۔۔۔۔اس نے فون بند کر کے رکھا اور جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔
ابھی میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔یہ ڈر نکال کر خود کو تیار کر لیں کیونکہ اب میں انتظار کرنے کے موڈ میں بلکل نہیں ہوں۔۔۔۔
وہ اس کے گال پر اپنی بئیرڈ مسلتا اٹھ کر واشروم چلا گیا۔۔۔۔۔
شفا نے کب سے رکی سانس بخال کی اور خود پر کمبل ڈال کر لیٹ گئی۔۔۔۔
پانچ منٹ بعد وہ یونیفارم میں تیار باہر آیا اور موبائل اور گن اٹھاتا اس کی طرف آیا ۔۔۔۔
اس کے دوبارہ پاس آنے پر وہ آنکھیں میچ گئیں ۔۔۔۔
آدم نے اس کی لرزتی پلکوں پر لب رکھے اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھتی بیٹھ گئی اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے سینی توڑ کر باہر آ جائے گا۔۔۔۔۔
وہ مال میں دیکھے انسان کو پوری طرح فراموش کر چکی تھی اسے یاد تھا تو بس آدم اور کچھ دیر پہلے گزرے ہوئے لمحے چہرہ خون چھلکانے لگا تھا۔۔۔۔اسے اپنی سانسوں سے بھی اس کی خوشبو آنے لگی تھی۔۔۔۔
ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
اسے لگا وہ اب بھی اسے دیکھ رہا ہے اس نے کمرے کے چاروں طرف دیکھا ۔۔۔
ایک دم کھلھلاتی ہوئی کمبل اوڑھے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ جس مقصد کے لیے آئے تھے وہ کامیاب ہوگیا تھا ۔۔۔۔کچھ مہینے سے وہ جس شخص کو تلاش کررہے تھے آج وہ پکڑا گیا تھا۔۔۔۔
سر وہ شخص کہہ رہا ہے آپ سے ملنا چاہتا ہے بات آپ کے فائدے کی ہے۔۔۔۔
الطاف نے اسے اطلاع دی ۔۔۔۔شام کے سات بج رہے تھے۔۔۔وہ گھر جانا چاہتا تھا مگر جب سے ارمان نیازی گرفتار ہوا تھا۔۔۔۔
وہ بس آدم سے ملنے کی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ کچھ سوچ کر اٹھا اور اندر بنے حفیہ سیل کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ابھی تک ارمان نیازی کے پکڑے جانے کی نیوز انہوں نے میڈیا کو نہیں دی تھی۔۔۔۔
ارے ایس ایچ او صاحب تشریف لائیں ہیں ۔۔۔۔چائے پانی کا بندو بست کرو کوئی۔۔۔۔
ارمان نیازی اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔
فکر مت کرو یہاں تمہارے آرڈر بجا لانے والا کوئی نہیں اس لئے کام کی بات کرو کیوں ملنا چاہتے ہو ۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول۔۔۔۔
اتنی بھی جلدی کیا ہے جناب ۔۔۔۔کونسا آپ کی بہن بھاگی جا رہی ہے ۔۔۔۔
اس کا جملہ مکمل نہیں ہو پایا تھا۔۔۔۔۔ادم کے مکہ نے اسے لڑکھڑانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔۔
آئیندہ میرے گھر کی عورتوں کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا ورنہ تمہاری یہ زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔۔۔۔
ارمان نیازی نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھا جہاں سے خون نکل رہا تھا مگر چہرے پر مسکراہٹ واضح تھی۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے ہاتھوں کو بھینچ کر اپنے غصے کو قابو کیا اور اسے خونخوار نظروں سے گھورنے لگا۔۔۔۔
ارے ایس ایچ او صاحب آپ تو بلا وجہ ہی غصہ ہو رہے۔۔۔۔
میں تو صرف آپ کو آگاہ کر رہا تھا ۔۔۔۔
ارمان نیازی نے اپنا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
ارمان نیازی ایک لفظ اپنے منہ سے مت نکالنا ورنہ تمہیں اپنے پیدا ہونے پر بھی پچھتاوا ہوگا۔۔۔۔۔
آدم نے اسے وارن کیا اگر وہ قانون کا رکھوالا نہیں ہوتا تو اسکی بہن کا نام لینے پر وہ اسکی بوٹی بوٹی کر دیتا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
سر پلیز آپ چلیئے یہ بس آپ کو غصہ دلانا چاہتا ہے۔۔۔۔الطاف نے آدم کا غصہ دیکھ کر اسے وہاں سے نکالنے کی کوشش کی۔۔۔۔
ہاں ہاں جاؤ جاؤ۔۔۔۔یقین نہیں آتا تو بالاج شاہ کا نام پوچھ لینا اپنی بہن آیت سے وہ سب بتا دے گی ۔۔۔۔
ارمان نیازی نے اپنے منہ سے زہر اگلنا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔
آدم نے خود کو الطاف سے چھڑا یا اور بھاگ کر ارمان نیازی کے منہ پر پے درپے وار کرنے لگا۔۔۔۔۔
الطاف سے اس کو قابو کرنا مشکل ہوگیا۔۔۔۔۔ بہت مشکل سے وہ اسے الگ کر کے کھینچ کر باہر لایا۔۔۔۔۔
آدم غصے سے وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
