Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

اندھیرے کے باوجود وہ بالاج شاہ کے لمس اور خوشبو سے اسے پہچان چکی تھی۔۔۔۔
لیکن ایک عجیب سی بدبو بھی اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں آئی ہو۔۔۔۔بالاج کی لڑکھڑاتی آواز سن کر اسے ایک جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔اسے سمجھنے میں سیکنڈ سے بھی کم وقت لگا تھا کہ اس نے شراب پی ہے۔۔۔۔۔
ہمممہہہہ آیت بولنے کے لئے پھڑپھڑانے لگی۔۔۔۔کیونکہ بالاج شاہ کے مظبوط ہتھیلی نے اس کے منہ پر کفل لگایا ہوا تھا۔۔۔۔
بالاج نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔۔۔

وہ گہری گہری سانسیں بھرنے لگی۔۔۔۔وہ جو بہت ہمت سے اکیلے پاکستان سے دبئی آگئی تھی صرف اپنے شوہر کو منانے کے لئے۔۔۔۔۔۔بالاج شاہ کو نشے میں دھت دیکھ کر اس کی ساری ہمت جواب دے گئی تھی۔۔۔۔۔

وہ اس وقت خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
کیا لینے آئی ہو ایک قاتل کے پاس ۔۔۔۔۔۔وہ جب دوبارہ بولا تو لہجہ انتہائی سرد تھا۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ آیت اندھیرے میں بھی اس کی سرد آنکھوں کی تپش خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔میں۔۔۔وہ کچھ بول نہیں پارہی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ اس وقت بری طرح خوفزدہ تھی۔۔۔۔۔
میں نے۔۔۔غلط۔۔۔کیا۔۔
نہیں تم نے بلکل صحیح کیا تم غلط کیسے غلط کر سکتی ہو۔۔۔۔تم نے مجھ پر اپنے بھائی کو ترجیح دی گڈ ۔۔۔۔۔۔

اب جاؤ مجھے تمہاری ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔اب کی بار اس کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ بلکل نہیں تھی وہ ہوش میں ہوتی تو جان پاتی۔۔۔۔۔۔

پلیز ایسا مت کہیں ۔۔۔۔۔میں واپس نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔وہ اندھیرے میں ہی اس کے چہرے کو تھام چکی تھی۔۔۔۔۔
بالاج نےاس کے دونوں ہاتھ جھٹکے اور جا کر لائٹ جلا دی۔۔۔۔

ہال میں ہوتی روشنی نے دونوں کو ہی ٹھٹکنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔۔کیونکہ آیت اس وقت بلیک لونگ شیفون کے فراک میں اپنی دمکتی رنگت کے ساتھ ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک سجائے اسے زیر کرنے کا سارا سامان کر کے آئی تھی ۔۔۔۔۔

نیچے اس کے پیروں کے پاس اس کی چادر گری ہوئی تھی جو شاید وہ پہن کر آئی تھی۔۔۔۔۔۔

جبکہ آیت اس وقت گرے ٹی شرٹ میں وائٹ ٹراؤزر پہنے کیجول حالت میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کے برعکس

جبکہ سامنے رکھی ٹیبل پر شراب کی بوتل کے ساتھ گلاس رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ کہیں سے بھی اسے اس وقت نشے میں نہیں لگا۔۔۔۔

ہو گیا معائنہ تو اب نکلو یہاں سے۔۔۔۔۔

بالاج اسے ہر چیز کو غور سے دیکھتے دیکھ کر دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔۔

آیت اپنی جگہ سے اچھلی تھی۔۔۔۔۔
مگر اگلے ہی پل سنبھل کر اس کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔۔
میں کیا بکواس کر رہا ہوں تمہیں سمجھ نہیں آرہی

آئی سیڈ گیٹ آؤٹ۔۔۔۔۔وہ اتنی زور سے چیخا کہ آیت کا اپنی ٹانگوں پر کھڑے رہنا مشکل ہو گیا۔۔۔۔۔۔

ب۔۔بالاج۔۔۔پلیز۔۔۔۔میری۔۔۔آنسو کا گولا حلق میں اٹک گیا تھا۔۔۔۔
جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ نہیں سننا جاؤ تم اپنے بھائیوں کے پاس جن کے ساتھ تم خوش رہتی ہو کیونکہ میں نا صرف ایک قاتل ہوں بلکہ انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں۔۔۔۔وہ تلخی سے بولتا گلاس اٹھا کر سامنے دیوار پر دے مارا تھا۔۔۔۔۔۔

اس وقت وہ اپنے ہوش میں ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔اس نے کبھی بھی سالار کی وجہ سے آیت کو تکلیف نہیں دی تھی۔۔۔۔وہ سالار کی دشمنی سے ہٹ کر اس کے ساتھ ایک اچھی زندگی گزارنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن آیت ہمیشہ ان کے بیچ اپنے بھائیوں کو لائی تھی۔۔۔۔۔

نا صرف لائی تھی بلکہ سارے گھر والوں کے سامنے اس پر الزام لگا کر تھپڑ دے مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی محبت کی وجہ سے مجبور ہوگیا تھا ورنہ وہ خود کو تھپڑ مارنے والے کا ہاتھ جڑ سے اکھاڑ دیتا۔۔۔۔۔۔۔

میں مانت۔۔۔۔۔
بالاج اس کے بولنے سے پہلے ہی اس کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے باہر لے جانے لگا۔۔۔۔۔اس کو یقین تھا خانزادے کبھی بھی اپنی بہن کو اکیلے نہیں بھیجیں گے ضرور ان میں سے کوئی اس کو چھوڑنے ضرور آیا ہوگا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ جتنا غصہ اسے آیت پر تھا اسے امید تھی وہ کچھ غلط کر جائے جس کا بعد میں صرف پچھتاوا ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔اس لئے وہ اسے وہاں سے بھیج دینا چاہتا تھا۔۔۔۔

اچانک آیت کچھ نا سمجھتی جھٹکے سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑاتی اس کے ہونٹوں پر جھک گئی تھی۔۔۔۔

یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ بالاج شاہ جیسا مظبوط شخص بھی شاکڈ میں جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے آیت جیسی شرمیلی لڑکی سے ان سب کی امید نہیں تھی۔۔۔۔۔

آیت اپنی ایڑھیوں کو اوپر کو اٹھائے۔۔۔۔اس کے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں بھینچے اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ کر اپنے لمس سے بالاج کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔۔۔
اور ایسا ہوا بھی ۔۔۔۔۔اس کے لمس سے بالاج شاہ کی آنکھوں میں موجود غصہ خماری میں بدلنے لگا ۔۔۔۔۔
آیت کے دور ہونے سے پہلے ہی وہ اس کی کمر میں ایک بازو حمائل کرتا دوسرے ہاتھ سے اس کے لمبے بالوں کو مٹھی میں جھکڑے بری طرح ان ہونٹوں کو دانتوں میں دبوچ گیا تھا۔۔۔۔۔

کوئی نرمی نہیں تھی جیسے اس کی ہر غلطی کی سزا اپنے لبوں سے دینے کا ارادہ ہو۔۔۔۔۔
آیت کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا مگر وہ پھر بھی بالاج کی ناراضگی کے ڈر سے اس سے دور نہیں ہوئی۔۔۔۔۔
آخر اپنی سانسوں کو سکون دے کر وہ اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکا گیا۔۔۔۔۔۔

دونوں ہی اپنی اپنی سانسیں سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔بالاج کی گرم سانسوں کی تپش سے آیت نے اپنا حلق تر کیا۔۔۔۔۔۔
کیوں آئی ہو۔۔۔۔۔اس کا سوال اب بھی وہی تھا نا جانے کیا سننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
میں نے آپ کے ساتھ غلط کیا مجھے احساس ہے۔۔۔۔وہ دھیرے سے بولی۔۔۔۔۔
اوکے اب چلی جاؤ۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔جب کے ہاتھ اب بھی آیت کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا ۔۔۔۔

میں ۔۔۔نہیں جانا چاہتی ۔۔۔۔اس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ بالاج کا چہرہ اگر اس کے چہرے کے پاس نا ہوتا تو وہ سن نا پاتا۔۔۔۔

اس کی بات پر بالاج نے اس کے بالوں میں گرفت سخت کی تھی۔۔۔۔
کیوں نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔دونوں کی آنکھیں اس وقت بھی بند تھی۔۔۔۔مگر ایک دوسرے کی سانسوں سے انہیں اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔
آ۔۔پ آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔آخر وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔۔
جانتی ہو نا کتنا خطرناک ہوں میں ۔۔۔۔اگر میرے ساتھ رہی ہو تمہاری سانسیں تنگ کردوں گا۔۔۔۔۔بالاج اس کے نچلے لب کو انگوٹھے سے مسلتا اسے لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔۔

بولو۔۔۔۔۔آیت کی خاموشی پر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔۔جو اس کی باتوں پر سرخ پڑتی چہرہ مزید جھکا گئی تھی۔۔۔۔۔بالاج اسے چھوڑ کر تھوڑا دور ہوا۔۔۔۔۔
آیت نے اسے دور جاتے دیکھا تو گھبرا کر اس کے پاس آئی وہ اتنی دور آکر اسے منائے بغیر نہیں جا سکتی تھی۔۔۔۔۔

مجھے۔۔۔ قبول۔۔۔ ہے۔۔۔۔۔۔وہ اس کی شرٹ سینے سے مٹھی میں بھینچ کر دھیمی آواز میں سرگوشی کر گئی ۔۔۔۔۔۔

آج تو وہ اپنی بیوی کا الگ ہی روپ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ اسے اٹھا کر صوفے پر پھٹک کر خود اس پر جھک گیا تھا۔۔۔۔۔۔قطرہ قطرہ اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں انڈھیلتا وہ اسے کانپنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں رہنا چاہتی ہو میرے پاس ۔۔۔۔۔وہ اس کی گردن پر لب پھیرتے دھیمی آواز میں پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
آیت نے سسکی بھری تھی۔۔۔۔۔بولو۔۔۔وہ اس کی گردن پر سختی سے دانت گاڑھ کر بولا ۔۔۔۔
پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ درد سے مچلی تھی۔۔۔۔تو کیوں آئی ہو میرا سکون برباد کرنے۔۔۔۔۔وہ اس کی توڑی پر دانت گاڑھتا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں رہ پ۔۔ارہی ۔۔۔آپ کے بنا۔۔۔۔۔وہ اظہار کر کے اس اس کی گردن پر منہ چھپا گئی۔۔۔۔۔۔

بالاج تو اس کی اظہار پر اندر تک سر شار ہوا تھا۔۔۔۔۔فرجاد اسےشام کو ہی بتا چکا تھا آیت کے آنے کا۔۔۔۔۔تب سے وہ بہت بے تابی سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے خود کو سکون دینے کے لئے شراب پینے کی کوشش کی مگر نہیں پی سکا ۔۔۔۔۔۔

اب اس کے اظہار پر وہ خود کو ہواؤں میں محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج جلدی سے اسے اٹھا کر کمرے میں گیا وہاں بیڈ پر لٹا کر دوبارہ باہر چلا گیا۔۔۔۔۔۔آیت بری طرح لرز رہی تھی۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ شرٹ لیس کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر گیا۔۔۔۔۔۔۔آیت اس کے ارادے جان کر گھبرا کر دور ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس کے چھ فٹ سے نکلتا قد آور کسرتی جسامت دیکھ آیت کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھیں میں خماری بھر گئی تھی۔۔۔۔۔
آیت نے اپنے گھٹنوں کو لپیٹ کر خود کو چھپانے کی کوشش کی کیونکہ اس کی چادر اور دوپٹہ باہر ہی گر چکا تھا۔۔۔۔۔۔اس شیفون کے اس فٹنگ فراک میں اس کا سراپا واضح ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔

جبکہ اسے اس حالت میں دیکھ کر بالاج کی آنکھوں میں نشہ سا بھرنے لگا تھا۔۔۔۔
تم پر اور تمہاری سانسوں پر کس کا حق ہے۔۔۔۔۔بالاج اسے کھینچ کر بیڈ پر لٹا کر خود اس پر جھک کر کان میں سرگوشی میں پوچھنے لگا ۔۔۔۔
آ۔۔آپ کا۔۔۔۔وہ گھبرا کر بولی۔۔۔۔۔ جبکہ جسم الگ لرز رہا تھا اس کے لمس پر ۔۔۔۔
تم مجھ پر ان سالوں کو ترجیح نہیں دوگی۔۔۔۔۔اب کے وہ اپنی بیئرڈ اس کے گال پر رگڑتا سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔

آپ ان کو گالی دے رہے۔۔۔۔۔وہ اس کو دیکھ کر گھور کر بولی۔۔۔۔۔
میں نے گالی کب دی۔۔۔۔۔۔بالاج نے نا سمجھی سے پوچھا ۔۔۔۔۔اسے سب سے زیادہ مسئلہ ہی ان سالوں سے تھا پھر بھی وہ بڑی مشکل سے خود کو گالی دینے سے روکتا تھا۔۔۔لیکن اس کی بیوی اس پر ہر بار بے وجہ الزام لگا دیتی تھی۔۔۔۔۔۔

ابھی آپ نے سالا کہا۔۔۔۔۔اس نے جیسے بالاج کی عقل پر ماتم کیا۔۔۔۔۔

تو سالے کو سالا ہی کہوں گا خالہ تو کہنے سے رہا۔۔۔۔بالاج نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔۔۔۔

آپ ان کو بھائی بھی بول سکتے ہیں نام بھی لے سکتے ہیں ۔۔۔آیت نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔۔
دماغ مت خراب کرو۔۔۔۔ان سالوں کا نام لے کر وہ ناگواری سے بول کر اس کی گردن پر جھک گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے بالاج کا سر پکڑ کر خود سے دور کرنے کی کوشش کے مگر وہ اور زیادہ اس کی گردن پر مزید لبوں سے مہر لگانے لگا ۔۔۔۔
دونوں کے دلوں کی دھڑکنیں اس وقت بہت تیزی سے دھڑک کر ایک الگ ہی شور برپا کررہی تھیں ۔۔۔۔
آیت ہلکان ہوتی گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی۔۔۔۔ بالاج اسکی گردن کو بری طرح لال کر چکا تھا۔۔۔۔۔

بالاج ۔۔۔۔اس نے تڑپ کر پکارا۔۔۔۔مگر بالاج اس کی سن ہی کہاں رہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ تو اس کے وجود میں بری طرح گم ہو کر اسے پاگل کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ چاہ کر بھی احتجاج نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔
بالاج نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ کے جاتے جھٹکے سے دوری کھینچی تھی۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے اس کا گہرا گلا مزید گہرا۔ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
بالاج خمار آلود نگاہوں سے اسے دیکھتا ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کرتا اس پر جھک کر جا بجا اس کی گردن پر لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔۔

اس کی بے باک جسارت پر آیت نے سسکی بھری تھی ۔۔۔۔
بالاج۔۔۔۔وہ گھبرا کر اسے پکار بیٹھی تھی۔۔۔۔

شش… اب میری محبت میں تم اتنی محنت سے پاکستان سے دبئی تک آگئی ہو تو کچھ محبت مجھے بھی تو کرنے دو۔۔۔۔۔

وہ بے باکی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا اس کی کمر پر جھک گیا۔۔۔۔۔وہاں بھی وہ اپنے لبوں سے مہر لگانے لگا۔۔۔۔
وہ اس کی گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔اسے بالاج سے کبھی بھی اتنی بے باکی کی امید نہیں تھی شرم وحیا کے مارے اس سے کچھ بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔

جتنی بے قراری سے بالاج شاہ اسے چھو رہا تھا اس کے بعد اس نے آیت کو کچھ سوچنے کا موقع نہیں دیا ۔۔۔

پوری رات وہ اپنی دیوانگی اور سرگوشی سے اس کی جان ہلکان کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔

                        💓💓💓💓💓💓

مزید ایک ہفتہ اس کی قربت میں گزار کر آیت بالاج کے ساتھ شاہ مینشن آگئی تھی۔۔۔۔۔لیکن جتنی بار وہ اپنے فیصلے پر پچھتا سکتی تھی پچھتائی۔۔۔کیونکہ بالاج شاہ اتنے ہی دنوں میں اسے ناکوں چنے چبوا چکا تھا ۔۔۔۔

اسے سکون سے سانس تک نہیں لینے دیتا تھا۔۔۔۔۔۔
اس دوران وہ دو بار خانزادہ ہاؤس بھی جا چکی تھی
سب اسے خوش دیکھ کر بہت خوش تھے۔۔۔۔۔۔

آج اسے جزا کی برتھڈے کے لئے خانزادہ مینشن جانا تھا مگر بالاج نے دن میں بھی آپ ی بے باکی سے اس کی جان ہلکان کر رکھی تھی۔۔۔۔۔

اگر اب آپ نے مجھے نہیں چھوڑا میں اماں جان کے پاس چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔اس نے غصے سے سرخ چہرے کے ساتھا سے دھمکی دی تھی۔۔۔۔۔۔

جا کر دکھاؤ۔۔۔۔وہ مزید اس کی گردن پر اپنے لبوں سے نشان ڈالتا۔۔۔۔۔اس کی بولتی بند کر گیا تھا۔۔۔۔

اچانک فون کی بنتی بیل نے اس کا موڈ خراب کیا پہلے تو وہ دو بار اگنور کرتا رہا لیکن تیسری بیل پر نا چاہتے ہوئے بھی فون اٹھا گیا۔۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے سکون نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔کال اٹھاتے ہی اس نے فرجاد کو جھڑکا تھا ۔۔۔۔۔
آیت موقع دیکھتے بھاگ کر واش روم میں بند ہوئی تھی۔۔۔۔

اب آپ دن میں بھی کمرے میں گھسے رہیں گے تو مجھے ہی کال کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔اس نے شرارتی انداز میں کہا تو فون کو کان سے ہٹا کر گھورا تھا۔۔۔۔

کیا موت پڑی ہے۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
مجھے ہانی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے۔۔۔۔پلیز آج کی ملک یزادن کے ساتھ والی میٹنگ آپ اٹینڈ کر لینا ۔۔۔۔۔

وہ مسکین شکل بنا کر بولا۔۔۔۔۔
شرم سے ڈوب مرو تم خود مجھ سے چھوٹا ہو کے باپ بننے جا رہا ہے۔۔۔

اور مجھے کوشش بھی نہیں کرنے دیتا۔۔۔۔بالاج کی بات پر فرجاد کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
جسے سن کر بالاج منہ بنا کر فون بند کر گیا۔۔۔۔
کچھ دن پہلے ہی شاہ مینشن والوں کو ہانیہ کی طرف سے خوشخبری ملی تھی۔۔۔۔۔سب بے انتہا خوش تھے۔۔۔۔۔

ایک بالاج ہی تھا جسے آیت کو تنگ کرنے کا ایکسٹرا موقع مل گیا تھا۔۔۔۔۔۔

                   💓💓💓💓💓💓

خانزادہ مینشن کے گارڈن کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔۔
سالار دوپہر میں ہی جزا کو گھر لے کر آچکا تھا۔۔۔۔۔ان دونوں کو خوش دیکھ کر فروا بیگم اور سجدہ بیگم نے بہت ساری دعائیں دی تھیں ۔۔۔۔
اس ایونٹ میں صرف فیملی والے ہی شامل ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ بھی اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ صبح سے آچکی تھی۔۔۔

آج تو شہریار آفندی بھی پورے دو سال بعد اپنی بیوی کے ساتھ آنے والا تھا۔۔۔۔
شفا۔۔۔۔
اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوئے آدم نے اسے پکارا جو پنک کلر کے گلابی فراک میں لائٹ سی جیولری پہنے ہلکے سے میک اپ میں بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
گلے میں اس کی گفٹ کی ہوئی گولڈ کی چین پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔
جی۔۔۔اس نے مصروف انداز میں کہا۔۔۔۔
آپ ساڑھی کیوں نہیں پہنتی۔۔۔۔۔اس نے شفا کو نظروں کے حصار میں رکھتے پوچھا ساتھ ساتھ وہ تیار بھی ہو رہا تھا۔۔۔۔
شفا نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔کیونکہ اس میں جسم نمایاں ہوتا ہے۔۔۔۔اس نے سادگی سے جواب دیا۔۔۔۔اور جلدی جلدی ساری چیزیں سمیٹنے لگی۔۔۔۔

آدم خانزادہ کی محبت میں وہ مزید حسین ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
اس نے شفا کو اتنی محبت دی تھی کہ وہ کچھ اور سوچ ہی نہیں پاتی تھی۔۔۔۔۔۔

آدم نے اپنی معصوم بیوی کو دیکھا جو سادگی میں بھی بے حد حسین لگتی تھی اور اب تو اس کی قربت میں مزید نکھر گئی تھی۔۔۔۔۔
آدم نےاس کھینچ کر اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔۔۔شفا نے اس کے کھینچنے پر گھبرا کر اس کے کندھے کو تھاما تھا۔۔۔

لیکن میں آپ کو ساڑھی میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
آدم گھمبیر لہجے میں بول کر اس نے اپنا پسندیدہ پرفیوم اٹھایا اور اس پر اور خود پر ڈھیر سارا اسپرے کیا۔۔۔۔

مگر۔۔۔ مجھے۔۔۔شرم آتی ہے۔۔۔

شفا کی پلکیں حیا کے مارے سجدہ ریز ہوئیں تھی۔۔۔۔گال لال ٹماٹر کی طرح سرخ ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔
مجھ سے کیسی شرم ۔۔۔۔۔آدم نے اس کی گردن پر جھک کر ایک گہری سانس لی ۔۔۔۔۔
کیونکہ آپ تنگ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔شفا نے آنکھیں میچ لیں تھیں

آپ تو ایسے ہی میری جان نکال رہی ہیں ۔۔۔۔وہ خمار آلود لہجے میں بول کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے ہونٹوں کی نرمی کو اپنے ہونٹوں سے محسوس کر کے وہ اندر تک سر شار ہوا ۔۔۔۔۔

جبکہ شفا گھبرا کر اس کی شرٹ کالر سے تھامتی اس کے سہارے کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔

اس کا ارادہ تو مزید بھی کچھ کرنے کا تھا کیونکہ آج کل منت کی وجہ سے وہ بہت کم ہی اس کے ہاتھ آتی تھی اور رات کی ڈیوٹی ہونے کی وجہ سے وہ اسے رات میں بھی میسر نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔۔
بچارا اس کے ہونٹوں آزادی بخشتا گردن پر جھکنے ہی لگا تھا کہ ملازمہ کی آواز پر سخت جھنجھلا گیا۔۔۔۔۔

سر شہریار سر آچکے ہیں آپ کو بلا رہےہیں ۔۔۔۔۔ملازمہ۔کی آواز پر اس نے زیر لب شہریار کو بہت ساری گالیوں سے نوازا۔۔۔۔جبکہ شفا ہونکوں کی طرح اس کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

آدم اچانک اس کے ہونٹوں پر جھکا اور بری طرح اس کے ہونٹوں کے سارے رنگ چھرا کر دور ہوا تھا۔۔۔۔

شفا کے گلے میں سانس اٹکی تھی اس کے دور ہوتے ہی وہ کھانسنے لگی ۔۔۔۔آدم مسکراتے ہوئے اپنی شرٹ صحیح کرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی شفا نے دروازے کو ایسی نظروں سے گھورا جیسے وہاں آدم کھڑا ہو۔۔۔۔۔

جلدی سے اٹھ کر اپنا حلیہ درست کیا ۔۔۔اور دوپٹہ اچھے سے پھیلا کر باہر نکل آئی ۔۔۔۔۔۔

                 💓💓💓💓💓💓💓

جزا پیچ کلر کی برائڈل فراک میں تیار بالوں کامیابی جوڑا بنائے گلے میں باریک ڈائمنڈ کا سیٹ پہلے کوئی دلہن لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

جبکہ پہلی بار شرم کے مارے اس سے چہرہ نہیں اٹھایا جا رہا تھ۔۔۔۔
وہ تو برتھڈے سیلیبرٹ کرنے کے حق میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔لیکن سالار نے سارا ارینجمنٹ کروایا تھا۔۔۔۔۔اور سب کی خوشی کے لئے وہ مان گئی۔۔۔

کل سالار نے جس طرح سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا وہ سوچ کر ہی صبح سے ایک شرمیلی مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی تھی۔۔۔۔۔

سب کے آنے پر وہ عقیدت کے ساتھ باہر آگئی ۔۔۔۔۔

اس وقت بھی کمرے میں بند ہو کر کیا کر رہا تھا۔۔۔۔۔شہریار اس سے ملتے سنجیدگی سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔۔
جو تو بھابھی کے ساتھ کرتا ہے۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے غیر سنجیدہ جواب دیا۔۔۔۔۔شہریار نے اس کی کمر پر مکا جھڑا تھا۔۔۔۔۔

تب تک شفا بھی منت کا ہاتھ پکڑے گارڈن میں آچکی تھی۔۔۔۔اس نے شہریار کو سلام کیا۔۔۔۔۔تو اس نے مسکرا کر سلام کا جواب دیا۔۔۔۔اور منت کو ایک نظر دیکھ کر عالیہ (شہریار کی وائف)کو اشارے سے اپنے پاس بلایا تو بھی وہاں آگئی۔۔۔۔۔شفا نے مسکرا کر اس کو سلام کیا ۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔کیسی ہیں آپ؟عالیہ نے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ کر محبت سے پوچھا ۔۔

میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔شفا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
میں بھی بلکل ٹھیک یہ لٹل پرنسس آپ کی ہے۔۔۔۔عالیہ نے منت کے گال کو چھو کر پوچھا۔۔۔۔۔
جی میری بیٹی ہے منت۔۔۔۔۔منت آنٹی کو سلام کرو۔۔۔۔اس نے
منت سے کہا تو وہ شرما کر ماں کے دوپٹہ من کے آگے کر گئی ۔۔۔۔جس کا مطلب تھا اسے شرم آرہی ہے۔۔۔۔۔۔

سب کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔ادم نے اسے گود میں اٹھا لیا ۔۔۔۔
منت یہ آپ کے ماموں ہیں سلام کریں۔۔۔۔۔آدم نے اسے شہریار کے سامنے کرتے کہا تو شفا نے نا سمجھی سے اس کو دیکھا
جبکہ شہریار چہرہ سنجیدہ تھا۔۔۔۔۔۔

آدم کے کہنے پر منت نے ہاتھ آگے کیا۔۔۔۔جسے شہریار نے فرط جذبات سے تھام کر چوم لیا۔۔۔۔۔
وہ شرما کر جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچ گئی۔۔۔۔جبکہ شفا ابھی تک کنفیوز سی کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔

بالاج شاہ کو اپنی فیملی کے ساتھ آتے دیکھ سب اس کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔۔
آیت آتے ہی اماں جان اور ہانیہ کے ساتھ عورتوں کی طرف بڑھ گئیں تھیں۔۔۔جبکہ فرجاد اور بالاج سارے مرد حضرات کے ساتھ ایک طرف رکھے صوفے پر بیٹھ چکے تھے ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے موسم نے سب پر خوشگوار اثر ڈالا تھا۔۔۔۔

سالار نے بالاج کو دیکھ کر عجیب سا منہ بنایا تھا۔۔۔۔
وہ لوگ آپس میں بزنس کی باتیں کرنے لگے۔۔۔۔۔اور کیسا چل رہا ہے تمہارا بزنس۔۔۔ بالاج نے عرش کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔

عرش نے جواب نہیں دیا تو سب نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
جو کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔۔۔
سالار نے جو اسی کے ساتھ بیٹھا تھا اسے کہنی ماری۔۔۔۔۔
کیا ہوا کن خیالوں میں گم ہو۔۔۔سالار نے اسے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔۔
ہاں نہیں کچھ نہیں اس نے چونک کر جواب دیا اور سب کی طرف دیکھا جو اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

عرش کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔۔شہریار نے اس کے کندھے ہر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔
نہیں بھائی سب ٹھیک ہے وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔یقین تو کسی کو نہیں ہوا مگر اسے فورس کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔

سب کی دعاؤں اور تالیوں کے بیچ جزا نے کیک کاٹا تھا اور سب سے پہلے منت کو کھلایا جو اچھل اچھل کر تالیاں بجا رہی تھی۔۔۔۔۔فری کے بیٹے اریب نے اس میسنی کو دیکھ کر منہ بنایا جس کے آنے کے بعد اس کی اہمیت کم ہو گئی تھی ایسا اس کا ماننا تھا۔۔۔۔۔
جزا نے اس کو بھی کیک کھلایا تو اس نے فخر سے سب کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
اچانک جزا کی نظر سامنے اٹھی تو پلٹنا بھول گئی۔۔۔۔اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر سب نے سامنے دیکھا تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی۔۔۔جبکہ بالاج اور فرجاد کے علاوہ سب کے چہروں پر پتھریلے تاثرات سج گئے تھے ۔۔۔۔۔

عورتوں میں بھی اماں جان اور ہانیہ نا سمجھی سے سامنے دیکھنے لگیں۔۔۔۔

جبکہ شفا اس خوبصورت لڑکی کو حیرانگی سے پہچاننے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ بلیک سلیو لیس ساڑھی میں کھلے بالوں کے ساتھ۔۔۔ہاتھ میں گفٹ باکس پکڑے سہج سہج کر چلتی جزا کے پاس آئی تھی اور اس کے گالوں سے گال ٹچ کرتی مسکرا کر اسے گفٹ پکڑا گئی۔۔۔۔۔

ہیپی برتھڈے میری جان ۔۔۔۔اس نے جزا کا گال تھتھپا کر کہا۔۔۔۔۔
جبکہ آدم کا بس نا چلا اس کو اٹھا کر باہر پھینک دے۔۔۔۔۔
زرش تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔شہریار نے بمشکل خود پر ظبط کرتے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔۔

ارے بھائی یہ کیسا عجیب سوال ہے۔۔۔۔

یہ میرے شوہر کا گھر ہےتو مجھے یہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔اس نے مسکرا کر ایک ادا سے اپنے بال جھٹکے تھے۔۔۔۔اور شفا کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔۔

بالاج نے دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا اور اسے منٹ نہیں لگا بات سمجھنے میں اس نے ترحم بھری نگاہوں سے شفا کو دیکھا جو خود ابھی تک سب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔

تھیکنس بیٹا۔۔۔۔۔اس نے آدم اور شفا کی عمر پر چوٹ کی تھی۔۔۔۔۔۔
میری بیٹی کا خیال رکھنے کے لئے تھینکس اب اس کی ماں آگئی ہے تمہاری ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔زرش نے شفا کا گال تھتھپا کر تمسخر بھری مسکراہٹ سے کہا اور اس کے ہاتھ سے منت کا ہاتھ چھڑا کر اسے گود میں اٹھا نے کی کوشش کی۔۔۔۔۔جبکہ۔منت شفا کی ٹانگوں کو سختی سے تھام گئی تھی۔۔جیسے اس کو زرش کا لمس پسند نہیں آیا ہو۔۔۔۔

شفا کو لگا اس کے سر پر کوئی چھت آگری ہو۔۔۔۔۔وہ بلکل ساکت ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔کھلی جگہ پر ہونے کے باوجود اسے وہاں آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔اس نے سانس لینے کی کوشش کی مگر وہ سانس نہیں لے پارہی تھی۔۔۔۔اسے لگا کسی نے اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر دبا دیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

سب کی پریشان نظریں شفا کے چہرے پر جمی تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک آخری نظر آدم پر ڈالی جو اسی کے پاس آرہا تھا۔۔۔۔۔اسے پوری دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی وہ لہرا کر گرنے لگی تھی مگر فری اور عقیدت نے اسے زمین پر گر ے سے پہلے ہی تھام لیا ۔۔۔۔
آدم بھاگ کر اس کے پاس آیا تھا شفا اٹھیں۔۔۔۔۔فری جلدی دیکھو اسے کیا ہوا ہے وہ پریشانی سے چیخ رہا تھا۔۔۔جبکہ اپنی ماں کو سب کے بیچ پڑے دیکھ کر منت نے زور وشور سے رونا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرش نے ناگواری سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔