Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط تیس

آدم خانزادہ گھر میں داخل ہوا گھر میں خاموشی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کہاں ہیں ۔۔۔۔آدم نے صفائی کرتی ملازمہ سے پوچھا
صاحب منت بی بی چھوٹی بیگم صاحبہ کے کمرے میں سو رہی ہیں ۔۔۔

اور شفا بی بی بڑی بیگم صاحبہ کے کمرے میں ہیں۔۔۔۔وہ بتا کر دوبارہ سے کام کرنے لگی ۔۔۔۔

آدم فروا بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو شفا فروا بیگم کا سر دبا رہی تھی۔۔۔۔

آدم کو اندر آتا دیکھ اس کا دل زورسے دھڑکا تھا ۔۔۔۔
پورے چار دن بعد اس کو دیکھا تھا۔۔۔۔بنا پلک جھپکائے وہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
آدم کے چہرے پر اسے دیکھ کر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔
وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔فروا بیگم آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔

اس نے جھک کر ان کا ماتھا چھوا۔۔۔۔شفا نے گھبرا کر اپنا ہاتھ دور کیا۔۔۔۔اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے شفا کو کرنٹ سا لگا تھا۔۔۔۔

امی کی طبیعت ٹھیک ہے۔۔۔۔اس نے شفا کو نظروں میں رکھ کر پوچھا۔۔۔۔جو اسکے دیکھنے ہر بھی لال ہو رہی تھی ۔۔۔

ج جی ٹھیک ہیں امی بس سر میں درد تھا تو میں سر دبا رہی تھی۔۔۔۔اس نے دھیرے سے جواب دیا۔۔۔۔

شاید سو گئیں ہیں امی۔۔۔کمرے میں آئیں آپ۔۔۔۔وہ کہہ کر اٹھ کر نکل گیا۔۔۔۔۔
پیچھے وہ جھجھکتے ہوئے اٹھی۔۔۔۔اور امی کے سونے کا یقین کر کے ان پر اچھے سے کمفرٹر ڈال کر باہر آگئی۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ شرٹ لیس وارڈروب سےاپنا سوٹ نکال رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کا کسرتی جسامت دیکھ کر شفا کے قدم تھمے اس نے فوراً اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ اور یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔۔
چہرہ ایک دم لال ہو گیا تھا۔۔۔۔

میرا سوٹ نکال دیں۔۔۔۔آدم نے اسے دروازے پر جمے دیکھ کر کہا اور خود بستر پر پھیل کر لیٹ گیا ٹانگیں لٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

وہ جلدی سے وارڈروب کی طرف بڑھی اور ایک سوٹ نکال کر بنا اس کی طرف دیکھے اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔

آدم نے اس کو دیکھا جو ایک ہاتھ اسکی طرف کئے وارڈروب کی طرف منہ کئے کھڑی تھی۔۔۔۔

یلو کلر کے لان کے سوٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔
آدم نے سوٹ پکڑنے کے بجائے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور خود پر گرایا تھا۔۔۔۔

شفا اس اچانک افتاد پر گھبرا گئی۔۔۔۔اسکے ہونٹ بے دھیانی میں آدم کے سینے پر لگے تھے اس نے سختی سے اپنی آنکھیں اور لب بھینچ لئے۔۔۔۔

آدم نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر اس کو خود پر گرایا اور اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے کر اس پر اپنی سانسیں انڈھیلنے لگا۔۔۔۔۔۔

اس کے لمس میں اتنی سختی تھی کہ اس نے آدم کے سینے پر مکے برسائے۔۔۔۔
شفا کو اپنے منہ پر خون کا ذائقہ محسوس ہوا۔۔۔تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔
آدم نے اسے روتے دیکھ کر اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشی
شفا نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھا مگر اس کی خمار آلود نظروں کو دیکھ جلدی سے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔

آدم نے اس کے ہونٹ کو اپنے انگھوٹے سے مسلہ اور وہی انگھوٹا شفاکو دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔۔۔۔

شفا کو اسکی بے باکی پر ٹوٹ کر شرم آئی ۔۔۔۔۔
اس کے لرزتے وجود کو دیکھ آدم نے اسے آزادی بخشی اور مسکراتے ہوئے اپنا سوٹ اٹھا کر واش روم جانے لگا ۔۔

سالار اور عرش کو کمرے میں بھیجیئے گا۔۔۔۔۔
اسے بھاگتے دیکھ آدم نے اسے پیچھے سے آواز لگائی ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ہی وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔
اسنے سنجیدگی سے انکا بکھرا حال دیکھا تھا وہ دونوں کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔۔

آپ نے بلایا بھائی ۔۔۔۔عرش نے پہل کی
ہاں۔۔۔۔۔تمہاری تلاش کہاں تک پہنچی۔۔۔۔۔؟اس نے براہ راست عرش سے پوچھا ۔۔۔۔

ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔

ہممم تم چاہو تو پولیس کی مدد لے سکتے ہو جیسے چاہو میں مدد کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔
اس نے عرش کی حالت دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔اس گھر میں تین مردوں کے ہونے کے باوجود بھی عجیب خالی سا ہوگیا تھا ۔۔۔۔ہر کوئی اپنی مرضی سے آتا تھا۔۔۔۔

نہیں بھائی میں تلاش کر لوں گا ۔۔۔۔میں اس کام میں کسی کو بھی انولو نہیں کرنا چاہتا اب۔۔۔۔

سالار نے ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔۔جو خود سے بھی بے زار لگ رہا تھا۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے جیسا تمہیں بہتر لگے ۔۔۔۔

تم بتا سکتے ہو پچھلے پورے ہفتے تم کہاں تھے۔۔۔۔۔
اب اس کے توپوں کا رخ سالار خانزادہ کی طرف تھا۔۔۔۔جو بڑھی ہوئی داڑھی اور بالوں کے ساتھ عجیب ہی مخلوق لگ رہا تھا۔۔۔۔

میں اسلام آباد گیا تھا وہاں کام تھا مجھے۔۔۔۔اس نے روکھا ساجواب دیا۔۔۔۔

تم جانتے ہو بالاج شاہ کون ہے ۔۔۔۔۔اس کے پوچھنے پر عرش اور سالار دونوں نے اسکی طرف حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔ نا ہی میں جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔سالار نے ناگواری سے جواب دیا ۔۔۔۔

فاطمہ شاہ کا بھائی ہے وہ۔۔۔۔۔آدم خانزادہ کی بات پر اسکے سر ہر کوئی پہاڑ گرا تھا ۔۔۔۔
وہ دونوں ہی حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگے کیا کچھ یاد نا آیاتھا اس نام پر ان کو ۔۔۔۔۔۔
نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔سالار نے دھیرے سے کہا جبکہ اس کا دل بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔

کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔تمہیں یاد ہے ہم دونوں کو بھی اس کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔جب وہ رشتہ لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔اب یاد آرہا ہے مجھے وہ فاطمہ سے بہت ملتا ہے۔۔۔

عرش کی بات پر آدم نے ان دونوں کی طرف ناسمجھی سے دیکھا۔۔۔۔۔
یہ کب ہوا تھا تم لوگوں میں سے مجھے کسی نے بتانے کی زحمت نہیں کی۔۔۔۔
سالار نے غصے سے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
بھائی آپ کو گولی لگی تھی ان دنوں اور سالار نے ان کو منع کر دیا تھا کیونکہ اس کو بالاج شاہ اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔اور وہ بات وہیں ختم ہو گئی تھی
عرش نے صفائی دینی چاہی۔۔۔۔

اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا تو کم ازکم یہ سب نا ہوا ہوتا۔۔۔آدم سر ہاتھوں پر گرائے بیٹھ گیا۔۔۔۔
نا جانے اس نے آیت سے شادی کا نیت سے کی ہوگی۔۔۔۔یہ کہنے والا عرش تھا۔۔

ماضی۔۔۔۔

یار بس کچھ وقت کی بات ہے۔۔۔تم میری خاطر اتنا نہیں کر سکتی۔۔۔سالار نے منت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔

اس وقت وہ دونوں یونیورسٹی کی کینٹین میں بیٹھے تھے۔۔۔۔عرش آج چھٹی پر تھا اس لئے وہ دونوں اکیلے بیٹھے تھے۔۔۔۔

تم مجھے ایموشنل بلیک مل مت کرو۔۔۔۔سمجھے اور اگر میرے گھر میں کسی کو پتہ چل گیا نا تو میری خیر نہیں ۔۔۔۔فاطمہ نے اسے گھور کر دیکھا

کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا میں بس تمہیں بڑی امی اور چھوٹی امی سے ملواؤں گا۔۔۔۔
اور ان سے کہہ دیں گے ہم شادی کچھ سال بعد کریں گے۔۔۔اس لئے ابھی فیملی کو ملنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔

تب تک جزا خود ہی سیٹ ہو جائے گی اس کی کہیں اور شادی ہونے کے بعد ہم یہ ڈرامہ بند کر دیں گے۔۔۔

سالار نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔

تم جزا سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے کزن ہے تمہاری اور تم سے کلوز بھی بہت ہے سب سے بڑی بات خوبصورت ہے۔۔۔فاطمہ نے اسے گہری نظروں سے دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

یہی تو مسئلہ ہے کہ میں نے اسے ہمیشہ چھوٹی بہن سمجھا پتہ نہیں اس کے دماغ میں ایسی فضول سوچ آئی کیسے
میں اس کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔

سالار نے جلتی آنکھوں سے جواب دیا۔۔۔۔فاطمہ اس کی دوست تھی جس سے وہ اپنی ہر بات شئیر کرتا تھا شئیر تو وہ عرش سے بھی کرتا تھا مگر جزا وآلا مسئلہ اس نے عرش سے چھپایا تھا۔۔۔۔

اور جزا کو خود سے دور کرنے کے لئے بھی اسے فاطمہ سے مدد لینا بہتر لگا۔۔۔۔

اس بات سے انجان جس سے وہ مدد لے رہا تھا وہ خود اسکی محبت میں پور پور ڈوب چکی تھی۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں تیار ہوں لیکن بدلے میں تمہیں بھی میرے لئے وقت آنے پر کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔

اس نے سالار سے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔جس پر اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا۔۔۔

کسی نے نفرت سے ان دونوں کو دور سے دیکھا تھا۔۔۔۔

فاطمہ شاہ اپنے والدیں اور دادی کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔۔۔ اس کا ایک جڑوا بھائی بالاج شاہ تھا جو امریکہ کے ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ۔۔۔۔

فاطمہ کے والد شہزاد شاہ کا اپنا بزنس تھا ۔۔۔
وہ ایک خوشخال زندگی گزار رہے تھے۔۔۔۔۔

ایک دن سجدہ بیگم اور فروا بیگم فاطمہ سے ملی تھی۔۔۔لیکن سالار انہیں فاطمہ کے گھر لے جانے کے بجائے ریسٹورنٹ لے کر آیاتھا ۔۔۔۔

دونوں کو ہی فاطمہ اچھی لگی تھی۔۔۔۔
انہوں نے سب کچھ بچوں کی مرضی پر چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

لیکن کسی کی حسد بھری نظریں مسلسل ان دونوں پر ٹکی تھی۔۔۔۔

آج ان کی یونیورسٹی میں پارٹی تھی۔۔۔۔فاطمہ بلیو کلر کے لانگ شرٹ کے ساتھ بلیک کیپری پہنے تیار ہو کر آئی تھی۔۔۔

کہاں جا رہی ہو لگتا ہے آج تمہارا پارٹنر نہیں آیا ۔۔۔۔
ارمان نیازی جو اسی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا لیکن اس کا ڈیپارٹمنٹ الگ تھا۔۔۔۔
مگر وہ فاطمہ شاہ کو پسند کرتا تھا۔۔۔۔۔
اور فاطمہ اس سے بے انتہا چڑ کھاتی تھی۔۔۔۔
اس کی فکر کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں کیونکہ وہ ہو یا نا ہو تمہاری دال نہیں گلنے والی اسلئے دور رہو مجھ سے۔۔۔۔

فاطمہ نے اسے ناگواری سے جواب دیا اور آگے بڑھنے لگی۔۔۔ارمان نے اسے روکنے کے لئے اس کا بازو پکڑا ہی تھا کہ فاطمہ نے گھوم کر ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا تھا۔۔۔۔۔۔

آئیندہ ہاتھ لگانے کی غلطی مت کرنا وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا اور وہاں سے آگے بڑھ گئی۔۔۔

ارمان نیازی جو اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا اس کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ پر بل کھاکر رہ گیا ۔۔۔۔
اس کے دوست قہقہ لگا کر ہنسے تھے جس نے آگ پر تیل کا کام کیا تھا۔۔۔۔

اڑ لو جتنا اڑنا ہے اڑ لو آناتو تمہیں میرے پاس ہی ہوگا۔۔۔۔
وہ دل میں اس سے مخاطب تھا۔۔۔

وقت اسی طرح سے گزرنے لگا ۔۔۔۔سب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔۔۔

                    💓💓💓💓💓💓

بالاج وہ بہت اچھا ہے۔۔۔تم اس سے ملو گے تو تمہیں بھی پسند آئے گا۔۔۔۔وہ بالاج کو فون پر سالار کا بتانے لگی۔۔۔۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن خیال رکھنا وہ تمہارا دل نا توڑ دے۔۔۔
سالار کے لہجے میں اپنی بہن کے لئے فکر مندی تھی ۔۔۔۔

تم بس دعا کرنا اللّٰہ اسکے دل میں بھی میرے لئے محبت ڈال دے۔۔۔۔دیکھنا سب اچھا ہوگا ۔۔۔۔۔

انشاء اللّٰہ ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔
تم بتاؤ کب آؤگے مجھے تمہاری بہت یاد آرہی ہے۔۔۔۔فاطمہ نے محبت سے پوچھا۔۔۔۔

بس دو مہینے بعد ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس آجاؤں گا ۔۔۔۔۔جو جو چاہیے بتا دینا پھر اینڈ ٹائم پر میں تمہارے لئے شاپنگ کرتا نہیں پھروں گا۔۔۔

اس نے منہ بنا کر کہا تو فاطمہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔وہ جب بھی چھٹیوں پر آتا تھا صرف اس کی وجہ سے لاسٹ ڈے بھی اسے شاپنگ مال میں رکنا پڑتا تھا۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے ٹھیک ہے بھیج دوں گی۔۔۔۔
اس کے بعد کچھ ضروری باتوں کے بعد وہ فون بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔

ابھی اسے سوئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے ہونگے کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔۔۔۔

جس کی وجہ سے اس کی آنکھ کھل گئی اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا تو سالار کی کال تھی گھڑی پر نظر ڈالی تو رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔۔اور اسے جلدی سونے کی عادت تھی ۔۔۔۔۔

وہ کال پک کرتی کان پر لگا گئی مگر فوراً ہی کال ڈسکنیکٹ ہو گئی۔۔۔۔ابھی وہ ریٹرن کال ملانے ہی لگی تھی کہ سالار کا میسج جگمگانے لگا۔۔۔۔

میں ملنا چاہتا ہوں تم سے۔۔۔ابھی آسکتی ہو۔۔۔۔
خیریت ہے۔۔۔ ۔۔۔۔اس نے میسج لکھ کر بھیجا
ہاں خیریت ہی ہے بس ایک فیملی گیٹ ٹوگیدر ہے میں تمہیں سب سے ملوانا چاہتا ہوں اور تم سے کچھ کہنا بھی چاہتا ہوں۔۔۔۔ ساتھ میں ایک ہارٹ والا ایموجی بھی تھا۔۔۔۔

سالار کے میسج پر اس کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔۔
کہاں آنا ہے۔۔۔۔۔اس نے پوچھا۔۔۔
جواب میں ایک ایڈریس تھا جو تقریباً پندرہ منٹ کی دوری پر تھا ۔۔۔۔۔

وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اٹھی اس کا دماغ اسے منع کر رہا تھا مگر وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر تیار ہو گئی۔۔۔۔۔
اور اسے یقین تھا سالار پر خود سے بھی زیادہ کئی سالوں سے انکی دوستی تھی اس کی نظروں میں کبھی کسی لڑکی کے لئے کوئی گندگی نہیں دیکھی تھی اس نے۔۔۔۔۔

وہ پہلے بھی بہت بار اس کے ساتھ اکیلے آنا جانا کر چکی تھی۔۔۔۔

اس لئے اسے سالار سے کسی قسم کا کوئی ڈر محسوس نہیں ہوا۔۔۔۔اور ویسے بھی وہاں اتنے لوگ ہونگے تو اس کا جانا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔۔۔

مسٹر اینڈ مسز شہزاد ایک رشتے دار کی شادی میں گئے ہوئے تھے ۔۔۔۔

گھر میں ملازموں کے علاوہ صرف اماں جان ہی تھیں جو گہری نیند میں تھی وہ ایک ملازمہ کو ان کا خیال رکھنے کا کہہ کر اپنی گاڑی میں گھر سے نکل آئی ۔۔۔۔

وہ ایک فارم ہاؤس کا ایڈریس تھا پندرہ منٹ میں ہی وہ پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی چوکیدار نے گیٹ کھول دیا باہر بلکل خاموشی تھی لیکن اندر روشنی نظر آرہی تھی۔۔۔۔

اس نے سالار کو کال کرنے کے لئے موبائل نکالا اور اسے فون کرنے لگا۔۔۔مگر کال پک نہیں ہوئی۔۔۔۔موبایل کی آواز اسے اندر سے آنے لگی

وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اندر بڑھ گئیں ۔۔۔۔

جیسے ہی اس نے لاؤنج میں قدم رکھا کوئی صوفے پر بیٹھا تھا مگر اس کی طرف پیٹھ تھی۔۔۔۔پورے لاؤنج کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔موبائل بجنے کی آواز بھی وہیں سے آرہی تھی

اس کی آنکھیں چمکی تھی اس وقت اس کا دل ایک پل کو خوش فہم ہوا تھا۔۔۔۔
مگر آس پاس کسی کو نا دیکھتے اس کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔ سالار نے اس سے جھوٹ کیوں بولا یہ بات اسے سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔۔

یہی بات پوچھنے کے لئے وہ اس کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی مگر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی تھی ۔۔۔۔اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔

ارمان نیازی ہاتھ میں سالار کا فون اٹھائے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔آنکھوں سے خباثت ٹپک رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں میں موجود سالار کا فون اسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔۔۔۔۔

اس نے سیکنڈ کی بھی دیری کیے بغیر باہر دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔
مگر جیسے ہی وہ مین گیٹ تک پہنچی دروازہ باہر سے بند تھا وہ دروازہ زور زور سے پیٹنے لگی ۔۔۔۔۔
ارد گرد سناٹا تھا ۔۔۔۔کاش وہ نا آئی ہوتی وہ ایکبار فون کر کے سالار کی آوازسن لیتی ۔۔۔۔

خوف سے اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔۔
اسے قدموں کی آواز بہت قریب سے آنے لگی۔۔۔۔وہ ڈرنے والی لڑکی نہیں تھی مگر جس طرح کے حالات تھے وہ جانتی تھی ۔۔۔۔اگر وہ اسکے ہاتھ لگی تو خود کو بچا نہیں پائے گی۔۔۔
وہ بھاگنے کے لئے جیسے ہی مڑی ارمان نیازی نے اسے بالوں سے جھکڑ لیا۔۔۔۔
اور کھینچتے ہوئے اسے اندر لے جانے لگا فاطمہ نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر اسکی وحشیانہ گرفت سے خود کو چھڑانے میں ناکام رہی ۔۔۔۔۔اس نے نوٹ کیا تھا اب اس کے ہاتھوں میں گلوز پہن رکھے تھے۔۔۔۔۔اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے ۔۔۔۔میرا باپ تمہیں جان سے مار دے گا۔۔۔۔۔فاطمہ غصے سے چیخی تھی۔۔۔۔
مگر وہ اس کی آواز پر بنا کان دھرے وہ اسے کھینچتے ہوئے اندر لے آیا ۔۔۔۔۔
فاطمہ کی آنکھوں سے آنسو نکل کر گالوں پر بہنے لگے۔۔۔۔
کیا بات ہے آج تم سالار کے ساتھ اپنی رات رنگین کرنے آئی تھی مگر افسوس تمہاری یہ خواہش میں پوری کرونگا ۔۔۔۔

ارمان خباثت سے کہہ کر اس پر جھکنے لگا مگر فاطمہ نے اسے دھکا دیا اور وہاں سے بھاگنے لگی۔۔۔۔
ارمان نے اس کا پاؤں پکڑ کر کھینچا اور زمین میں پھٹکا۔۔۔

اسے اپنی کمر میں درد کی ایک شدید لہر اٹھتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
کیوں کر رہے ہو تم سالار تمہیں نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔۔وہ درد کو بمشکل برداشت کرتے روتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔

سالار کے نام پر وہ جارخانہ انداز لئے اس کی طرف بڑھا اور اپنے بھاری ہاتھ کا تھپڑ اس کے سر پر مارا تھا۔۔۔۔
فاطمہ کو لگا اس کا پورا چہرہ زائع ہوگیا ہو۔۔۔۔۔وہ کبھی ہنس بول نہیں پائے گی۔۔۔۔وہ اس وقت اپنے ماں باپ دادی بھائی سالار سب کو ایک بار یاد کر چکی تھی۔۔۔۔اسے لگا وہ اس کا آخری لمحہ ہے۔۔۔۔۔

ارمان نیازی بنا کسی چیز کا لحاظ کئے اس پر جھکا اور اس کی شرٹ سینے سے تھام کر پھاڑ دی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے ہاتھوں سے خود کا ڈھانپنے کی کوشش کی دوپٹہ اس کا بہت ہی گر چکا تھا۔۔۔۔۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر ارمان نیازی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکیلا وہ دوبارہ گر گئی۔۔۔۔
تمہیں۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے چھوڑ دو ارمان۔۔۔۔مجھے بے آبرو مت کرو۔۔۔۔۔وہ اسکے پیروں میں ہاتھ رکھ کر منتیں کرنے لگی۔۔۔

اس نے اپنے بھاری بھوٹ سے لات اس کے منہ پر ماری تھی اس کا سر جا کر فرش پر لگا تھا ۔۔۔۔
اس کے ناک اور منہ سے خون بہنے لگا اس کا ہاتھ بے ساختہ منہ پر گیا تھا ۔۔۔۔۔اس کا آدھ برہنہ وجود دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکی تھی۔۔۔۔
وہ ہمیشہ اس کے سامنے اکڑ کر چلنے والی لڑکی آج اس سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
مگر آج حاکمیت اس کی تھی اور وہ اسپر رحم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔

وہ اپنی شرٹ اتار کر لاؤنج کے ایک کونے میں پھینکتا اس پر جھک گیا تھا۔۔۔۔۔
اور اپنی درندگی اس کے وجود پر دکھانے لگا ۔۔۔۔۔۔وہ۔جتنا خود کو بچانے کی کوشش کرتی وہ اتنی ہی سختی سے پیش آتا ۔۔۔۔
وہ جتنا چیخ سختی تھی رو سکتی تھی سب کیا۔۔۔۔وہ ایک صاف دل کی ہنس مکھ لڑکی تھی جسے اس درندے نے اپنی نفرت اور ہوس کا نشانہ بنایا تھا ۔۔۔۔۔

وہ یہ وحشیانہ ظلم برداشت نا کر پاتے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔۔۔۔۔
مگر وہ ظالم اپنی ساری کسر نکال کر اس سے دور ہوا اور صوفے کا ایک کشن اٹھا کر اس کے منہ پر رکھ کر دبانے لگا
اور جب اسکی جان نکل گئی وہ کشن اٹھا کر دور پھینکا۔۔۔۔
اور موبائل اٹھا کر ایک لوکیشن کے ساتھ میسج کیا اور وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔

نظریں اس کی فاطمہ کے وجود پر تھی۔۔۔۔

عرش جو موی دیکھ رہا تھا سالار کے نمبر سے میسج دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔۔
پلیز مجھے بچا لو میں بہت مشکل میں ہوں مجھ سے غلطی ہو گئی بہت بڑی ۔۔۔۔۔ساتھ میں فاطمہ کے زخمی وجود کی پکچر بھی تھی ۔۔۔ جسے دیکھ عرش کے سر پر آسمان گرا تھا۔۔۔۔۔

وہ بھاگتے ہوئے حیران پریشان سا تھا اور سالار کے کمرے کی طرف بڑھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔

سالار اپنے بستر پر گہری نیند میں تھا اس نے جھنجھوڑ کر اسے اٹھایا ۔۔۔۔۔
تمہارا فون کہاں ہے۔۔۔وہ دعا کر رہا تھا جو اس نے دیکھا وہ جھوٹ ہو۔۔۔
پتہ نہیں جیکٹ میں رکھا ہوگا۔۔۔وہ کہہ کر دوبارہ لیٹنے لگا مگر عرش کے لفظوں نے اس کی نیند بھک سے اڑا دی تھی۔۔۔۔

فاطمہ کے ساتھ کچھ ہو گیا ہے یہ تمہارے فون سے میسج آیا ہے ہمیں جلدی چلنا چاہیے ۔۔۔۔عرش کی بات پر وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

سالار اٹھو تم سمجھ رہے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں عرش نے اسے کھینچ کر اٹھایا تھا وہ ہوش میں آتے ہی بھاگا تھا

عرش ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ آدم کو کال کرنے لگا جس کا نمبر بند تھا۔۔۔۔۔اس بات سے انجان کوئی اور وجود بھی دور سے ان کا پیچھا کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔