Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23


لمس جنون
رائٹر زرناب چان
قسط_تئیس

بالاج شاہ کو دیکھ آیت کو لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی ۔۔۔
اس نے جیسے ہی کمرے میں آکر آیت کو اٹھایا
آیت نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا تھا۔۔۔۔

تم گھٹیا انسان تم نے مجھے اغوا کیاہے ۔۔۔دن دہاڑے کسی کی بہن بیٹی کی عزت کے ساتھ کھیلا ہے اللّٰہ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔

وہ غصے سے چیخ پڑی۔۔۔۔۔

بالاج نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا اور اس کا گلا دبوچ کر دیوار سے لگا دیا۔۔۔۔
آیت نے گھبرا کر آنکھیں میچ لیں ۔۔۔۔
You will have to pay for this slap…

وہ خون آشام نظروں سے اسے دیکھ کر ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا ۔۔۔
آیت کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔۔

وہ اس کا گلا چھوڑ کر اس کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

آیت میں اتنی ہمت نہیں بچی کہ وہ خود کو چھڑوا سکے۔۔۔۔وہ اسکے ساتھ کھینچتی ہوئی چلی گئی۔۔۔

اس نے جھٹکے سے اسے گاڑی کے اندر پھٹکا ور خود ڈرائنگ سیٹ سنبھال لی۔۔۔۔

دس منٹ بعد وہ ایک فارم ہاؤس میں تھے۔۔۔۔
وہ ایک کونے میں بیٹھی بے آواز رونے لگی۔۔۔۔اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔

وہ ہمت کر کے اٹھی اور اس کے سامنے جا کر اس کے پیروں میں بیٹھ گئی۔۔۔۔اسے بس یہی ایک راستہ نظر آیا تھا ۔۔۔وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی وہ بہت پاور فل انسان ہے۔۔۔۔

پلیز مجھے جانے دیں میرے گھر والے بہت پریشان ہو رہے ہونگے۔۔۔۔
اس نے باہر پھیلتے اندھیرے کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔
بالاج نے مسکراتی نظروں سے اس کے جڑے ہاتھوں کو دیکھا۔۔۔۔۔
جانے دوں گا مگر اس کے لیے میری ایک شرط ہے۔۔۔۔بالاج نے پراسرار مسکراہٹ سے کہا۔۔۔۔

مج مجھے مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے۔۔۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔۔۔

اوکے پھر مولوی صاحب آتے ہی ہونگے۔۔۔۔تمہیں اگر یہاں سے نکلنا ہے تو مجھ سے نکاح کرنا ہوگا ۔۔۔
وہ جس قدر سکون سے بولا تھا۔۔۔۔۔آیت کا سارا سکون برباد کر دیا تھا۔۔۔
وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو تم میں تم جیسے انسان سے کبھی نکاح نہیں کروں گی۔۔۔۔
وہ ہزیانی انداز میں چلائی ۔۔۔۔
اس کے چلانے پر بھی بالاج شاہ کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔۔
وہ اسی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھے سکون سے بیٹھا سگریٹ پیتا رہا ۔۔۔۔
آیت بنا اس کی پرواہ کئے دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔۔
بالاج اسی طرح سکون سے بیٹھا اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بعدوہ اسی طرح واپس آئی۔۔۔۔چہرے پر آنسوں کے ساتھ ساتھ مایوسی بھی تھی۔۔۔۔

اسے وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔وہ آکر پھر اسی کونے میں بیٹھ گئی۔۔۔۔

بالاج اٹھا اور وہاں سے نکلنے لگا۔۔۔۔آیت نے بھاگ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
پلیز۔مجھے جانے دیں ۔۔۔۔۔اس نے پھر التجاء کی۔۔۔

بنا نکاح کے تم یہاں سے نکل نہیں سکتی۔۔۔اس لیے میرا ٹائم ضائع مت کرو ۔۔۔۔کل تک فیصلہ کر کے مجھے بتا دینا۔۔۔۔
ابھی میں چلتا ہوں۔۔۔۔

بالاج اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولا۔۔۔
اور ویسے بھی ابھی تو تمہاری چھٹی کا ٹائم بھی ہوگیا۔۔۔

اگر گھر نہیں پہنچی تو آگے کیا ہوگا مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔
بالاج کی بات پر اس کے آنسوں بے انتہا بہنے لگے ۔۔۔۔۔

میں تیار ہوں۔۔۔۔۔۔مگر اس کے بعد آپ مجھے روکیں گے نہیں ۔۔۔۔اسنے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔

اسے بس کسی بھی طرح یہاں سے نکلنا تھا۔۔۔۔اس کے بعد اپنے بھائیوں کے زریعے اسے اچھے سے سبق سکھانے کا ارادہ کر لیا تھا ۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے تیار رہو مولوی صاحب آتے ہی ہونگے۔۔۔۔

بالاج کہہ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر حالات ایسے ہوگئے تھے کہ نا چاہتے ہوئے بھی اسے یہ سب کرنا پڑ رہا تھا۔۔۔

پہلے وہ آیت سے شادی کسی اور مقصد سے کرناچاہ رہا تھا مگر اب وجہ کچھ اور تھی۔۔۔۔

ارمان نیازی نے اپنے بندے سے اسے اغوا کروایا تھا۔۔۔۔
اور اس بات کی خبر اسی وقت اس کے اس بندے نے اسے دی تھی جس کو اس نے آیت پر نظر رکھنے کے لیے رکھا تھا۔۔۔

وہ ارمان نیازی کو بہت اچھے سے جانتا تھا وہ ایک گھٹیا انسان تھا لڑکیوں کے ساتھ کھیلنا اور انہیں آگے سپلائی کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔۔۔۔

جو لڑکے اس رات آیت کے پیچھے لگے تھے ان میں سے ایک اس کا بھائی بھی تھا اور اس بات کی خبر ارمان نیازی کو ہو گئی تھی۔۔۔۔

کہیں نا کہیں اس کے بھائی کے قتل میں وہ آیت کا ہاتھ سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اسی وقت اس فلیٹ پر پہنچ گیا تھا جہاں ارمان نیازی کے آدمی نے اسے رکھا تھا۔۔۔۔

اس انسان کو اوپر پہنچا کر وہ جیسے ہی اس کے پاس پہنچا آیت کے تھپڑ نے اسے غصہ دلا دیا تھا۔۔۔۔

اس بات سے انجان کے اگر وہ نا آتا تو وہ کہیں کی نہیں رہتی وہی اس کا مخافظ تھا۔۔۔۔وہ اسے ہی اغوا کار سمجھ رہی تھی۔۔۔

پہلے وہ آیت سے طریقے سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

اس کے بعد اس کے زریعے کسی اور کو سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔

مگر آیت نے تھپڑ مار کر خود کے ساتھ غلط کر دیا تھا۔۔۔۔
جس کی سزا اسے نکاح کے صورت میں مل رہی تھی ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب اور کچھ گواہان کے آنے پر ان کا نکاح شروع ہوا تھا۔۔۔۔

آیت خانزادہ بنت راحیل خانزادہ آپ کو بالاج شاہ ولد شہزاد شاہ کے نکاح میں سکہ رائج الوقت تیس لاکھ روپے ,دیا جاتا ہے کیا آپکو قبول ہے۔۔۔۔

الفاظ تھے یا پگھلا ھوا سیسہ جو اس کے کانوں یں انڈھیلا گیا تھا۔۔۔۔
اسکی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج ہو چکی تھی وہ بس یہاں سے نکلنا چاہتی تھی ورنہ غضب ہوجا تا۔۔۔۔

آنسو تھے کہ روکنے کے باوجود بہے جا رہے تھے۔۔۔
نا جانے کیوں وہ شخص اس کے پیچھے پڑ گیا تھا ۔۔۔اسے بے انتہا نفرت ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
اگر وہ یہ نکاح نہیں کرے گی تو وہ ظالم شخص اسے یہاں سے نکلنے نہیں دے گا۔۔۔۔

اس کے گھر نا پہنچنے پر اس کے گھر والے کیا سوچیں گے اس سے آگے وہ سوچ بھی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
سوجھی آنکھیں اور کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ وہ قابل رحم لگ رہی تھی مگر چہرے پر گھونگھٹ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی اس کی حالت نہیں دیکھ پارہا تھا۔۔۔۔

مولوی صاحب نے دوبارہ پوچھا۔۔۔۔کیا.آپکو قبول ہے؟
بالاج شاہ جو اس کے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا اس کا ہاتھ پکڑ کر دبایا۔۔۔۔۔وہ اس کا شارہ سمجھ گئی۔۔۔۔کای بے جان گڑیا کی طرح وہ گردن ہلا کر قبول کر گئی۔۔۔۔

مولوی صاحب نے تیسری بار پوچھا۔۔۔

قبو..قبول ہے۔۔۔۔۔اس نے کپکپاتے ہونٹوں سے قبول کیا۔۔۔۔
اور اپنے لرزتے ہاتھ سے بڑی مشکل سے سائین کیا۔۔۔۔۔
اس کے بعد بالاج نے کب قبول کہا کب سائین کیا اسے خبر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔

مبارک ہو. کےشور پر وہ ہوش میں ائی۔۔۔۔۔

سب بالاج کو مبارکباد دیتے ہوئے وہ باہر نکل گئے بالاج بھی ان کے ساتھ ہی باہر چلا گیا۔۔۔۔۔۔

وہ خاموشی سے آنسو بہانے لگی…

وہ مولوی کو چھوڑ کر جیسے ہی واپس آیا وہ دوپٹہ اچھے سے خود پر جمائے کھڑی تھے ۔۔۔۔

گھڑی پر ٹائم دیکھا تو ساڑھے آٹھ ہو رہے تھے۔۔۔۔
جلدی سے فیس واش کر کے آؤ باہر انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔

بالاج کے اشارہ کرنے پر وہ جلدی سے منہ دھو کر آئی اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔۔
گاڑی ان کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر روکی ۔۔۔

وہ جلدی سے اترنے لگی گھبراہٹ سے اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔۔۔۔
بالاج نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا اور پیچھے مڑ کر اس کا بیگ اٹھا کر اس کے حوالے کیا۔۔۔۔۔۔

اور اس کا گال تپتھپا کر وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اس وقت وہ کچھ بھی محسوس نہیں کر پا رہی تھی وہ جلدی سے گاڑی سے نکلی۔۔۔۔چوکیدار نے اسے آتے دیکھ کر مین گیٹ کھول دیا تھا۔۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی اندر گھس گئی تھی۔۔۔۔
اس کے اندر جاتے ہی وہ بھی زن سے اپنی گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔۔

چہرے پر کچھ فتح کرنے کی چمک تھی۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر میں داخل ہوئی تو سامنے ہی عرش بیٹھا ہواتھا اسے دیکھ اس کی گھبراہٹ مزید بڑھ گئی۔۔۔۔

آیت آج لیٹ ہوگئی تم۔۔۔۔عرش نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کر پوچھا جہاں نو بج رہے تھے۔۔۔۔

جی بھائی وہ۔۔۔۔۔ابھی وہ کوئی جواب دیتی فروا بیگم بول اٹھی۔۔۔۔
مجھے میسج کر دیا تھا آیت نے آج ان کی ایکسٹرا کلاسس تھی۔۔۔۔۔آیت جاؤ جلدی سے فریش ہو کر آؤ میں کھانا لگا رہی ہوں۔۔۔۔
فروا بیگم کے بولنے پر اس نے گہری سانس لی۔۔۔۔اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

عرش کو وہ تھوڑی گھبرائی ہوئی لگی۔۔۔۔۔

کمرے میں آکروہ جتنا رو سکتی پھوٹ پھوٹ کر روئی۔۔۔۔وہ جو ہمت کر کے آئی تھی اپنے بھائیوں کو سب بتا دے گی۔۔۔۔مگر یہاں آکر اس کی ساری ہمت جواب دے گئی تھی۔۔۔۔۔
اس کی بات پر کون یقین کرے گا اگر سب نے اسے ہی غلط سمجھ لیا تو وہ کیا کرے گی۔۔۔۔
وہ روتے روتے کب نیند کی وادیوں میں چلی گئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔

             💓💓💓💓💓💓💓💓💓

صبح آیت کے علاوہ سب ناشتے کے ٹیبل پر موجود تھے ۔۔۔عقیدت کے ساتھ اگر سجدہ بیگم کا رویہ برا نہیں تھا تو اچھا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

ایشا جب آدم اسپتال میں تھا تب ہی اپنے گھر جا چکی تھی ۔۔۔۔۔

ناشتے کی اشتہا انگیز خوشبو ہر جگہ پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
آدم خانزادہ بھی اب کافی بہتر ہوچکا تھا۔۔۔۔
اس پورے ہفتے میں آیت اسپتال نہیں گئی تھی ۔۔۔۔سب کو یہی کہا کہ پیپرز ہونے والے ہیں اس لیے گھر میں رہ کر تیاری کرے گی۔۔۔

بھابھی آدم بھی اب بہتر ہو چکا ہے میں سوچ رہی ہوں کل سنڈے بھی ہے تو کل شام ایشا اور عرش کی شادی کی تاریخ رکھنے چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

سجدہ بیگم کی بات پر سب نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا سوائے آدم عرش اور سالار کے۔۔۔۔
عقیدت نے ایک نظر عرش کو دیکھا پھر خاموشی سے ناشتہ لگانے لگی۔۔۔۔
سجدہ کیسی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔۔۔عرش کی شادی ہو چکی ہے۔۔۔تم اس کی دوسری شادی کیسے کروا سکتی ہو۔۔۔۔

فروا بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔کہیں نا کہیں ان کو لگ رہا تھا کہ سجدہ بیگم عقیدت کو قبول کر چکی ہیں مگر آج ان کی بات سن کر انہیں بہت افسوس ہوا تھا۔۔۔۔

بھابھی یہ شادی میری مرضی سے نہیں ہوا یہ ایک بے سہارا لڑکی کو سہارا دینے کے لیے کیا گیا نکاح تھا۔۔۔۔۔۔

اور ویسے بھی شروع سے ہی ایشا عرش کے نام پر بیٹھی ہے ۔۔۔۔۔شادی تو ان کی ہونی ہی ہے۔۔۔
رہی بات دوسری شادی کی آدم کی بھی تو ہوئی ہے نا دوسری شادی اور دونوں خوش بھی ہیں ۔۔۔۔۔ایشا اور عرش بھی خوش رہیں گے۔۔۔۔
ان کی بات پر عقیدت کے ساتھ ساتھ شفا کی آنکھیں بھی بھر گئیں ۔۔۔۔۔

وہ جو محبت میں بہت آگے نکل چکی تھی یہ تک بھول چکی تھی کی اس نے آدم سے اپنے لیے صرف سہارا مانگا تھا ۔۔

اور اس نے ترس کھا کر اسے سہارا دیا تھا۔۔۔

سجدہ بیگم کے کہنے پر اسے سب یاد آتا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
عقیدت خاموشی سے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔۔اس کے پیچھے ہی شفا بھی منت کے بہانے وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔۔۔

عرش اور آدم دونوں نے یہ چیز نوٹ کی تھی۔۔۔۔
لیکن سجدہ ۔۔۔۔۔
پلیز بھابھی میری خوشی کی خاطر آپ اتنا نہیں کرسکتی ۔۔۔۔
جب عرش کو ہی مسلہ نہیں میں کیا کہہ سکتی ہوں۔۔۔۔فروا بیگم نے شکایتی نظروں سے عرش کو دیکھا تو وہ نظریں چرا گیا۔۔۔۔۔

              💓💓💓💓💓💓💓💓

اس کا فون کب سے بج رہا تھا مگر انون نمبر دیکھ کر وہ اگنور کر رہی تھی ۔۔۔۔
مگر شاید دوسرا شخص انتہائی ڈھیٹ تھا۔۔۔۔۔جو فون کرنے سے بعض نہیں آرہا تھا۔۔۔
وہ بہت مشکلوں سے اپنے ذہن کو ٹینشن سے آزاد کر کے پڑھنے بیٹھی تھی ۔۔۔
آخر اس نے فون اٹھا لیا ۔۔۔۔۔
ہیلو کون بکواس کر رہا ہے ۔۔۔۔۔وہ انتہائی بدتمیزی سے بولی۔۔۔۔
آپ کا مزاجی خدا ۔۔۔۔۔بالاج کی گھمبیر آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو موبائل اس کے ہاتھ سے گر پڑا۔۔۔۔
اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔اس نے موبائل سوئچ آف کر کے دور پھینک دیا۔۔۔۔۔

اس شخص کی وجہ سے وہ مجرموں کی طرح اپنے گھر میں رہ رہی کوئی غلطی نا ہو کر بھی خود کو قصوروار سمجھ رہی تھی۔۔۔۔۔
اللّٰہ وہ بری طرح سسک پڑی ۔۔۔۔اس کی پریشانی سب نوٹ کر رہے تھے مگر پیپر کی ٹینشن کہہ کر وہ سب کو مطمئن کر دیتی۔۔۔۔۔

وہ گھٹنوں میں سر دیئے رو رہی تھی اسے اپنے آس پاس ایک مخصوص خوشبو محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔

اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا تو وہ بیڈ کے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے اپنے مخصوص انداز میں بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ ڈرتی ہوئے اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔اور جلدی سے دروازہ اچھے سے بند کردیا۔۔۔۔۔۔اور چاروں طرف دیکھنے لگی۔۔۔

اس کی حرکتیں دیکھ وہ اتنا تو سمجھ گیا وہ جتنی بہادر نظر آنے کی کوشش کرتی ہے اتنی ہے نہیں ۔۔۔۔۔اسے بے ساختہ اس پر ترس آیا۔۔۔

مگر یہ چند سیکنڈ کے لیے تھا ۔۔۔۔

ادھر آؤ۔۔۔۔اس نے آیت کو اشارہ کیا جو کمرے کے کونے میں کھڑی رو رہی تھی۔۔۔۔
چند قدموں کا ہی فاصلہ تھا جو وہ آسانی سے طے کر سکتا تھا مگر آسانی کرنا اس نے سیکھا کہاں تھا۔۔۔۔

جب اس کی پکار کا آیت پر کوئی اثر نہیں ہوا تو اس نے زرا تیز آواز میں پکارا ۔۔۔

ادھر آؤ آیت۔۔۔۔۔
اس کی آواز اتنی تیز ضرور تھی کہ اگر کوئی اس کے دروازے کے پاس ہوتا تو آرام سے سن لیتا۔۔۔
آیت گھبر کر اس کے پاس آئی۔۔۔۔بالاج سے کوئی بعید نہیں وہ اسے بدنام کرنے کے لیے پوری فیملی کو بلا لے۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہی پاس آئی۔۔۔۔بالاج نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا وہ سیدھی اس کے گود میں آ گری۔۔۔۔یہ ایک بے اختیاری عمل تھا۔۔۔۔

آیت نے اپنی سانسیں تک روک لی ۔۔۔۔آنکھیں خطرناک حد تک پھیل گئی ۔۔۔۔چہرہ ڈر و شرم سے سرخ کندھاری ہوگیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

۔۔