Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 35
Rate this Novel
Episode 35
اسلام علیکم ۔۔۔۔رات دس بجے کے قریب وہ تینوں ایک ساتھ ہی گھر میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔۔سالار تو آتے ہی سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔مگر آدم اور عرش وہی فروا بیگم اور سجدہ بیگم کے پاس بیٹھے تھے۔۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔کہاں تھے تم تینوں کل سے۔۔۔۔فروا بیگم نے ان سے پوچھا۔۔۔۔۔
ڈیوٹی تھی امی میری ۔۔۔۔منت کہاں ہے۔۔۔۔اس نے آس پاس نظریں دوڑاتے پوچھا۔۔۔۔
منت تو جزا کے پاس ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔اس کا موڈ اچھا دیکھ کر فروا بیگم نے بات شروع کی ۔۔۔
جی امی بولیں ۔۔۔۔اس نے ملازمہ کو ہاتھ کے اشارہ سے روکا جو اس کے لیے پانی لے کر آئی تھی۔۔۔
جب سے شفا اس گھر میں آئی تھی اس کا ہر کام وہ خود کرتی تھی۔۔۔مگر آج وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔
مجھے آیت کی بہت فکر ہو رہی ہے۔۔۔بیٹا آیت بچی ہے اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اسے معاف کر دو ۔۔۔اس سے یوں منہ مت موڑو۔۔۔۔فروا بیگم اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے سمجھانے لگیں۔۔۔
امی فکر مت کریں بہت جلد یہ مسئلہ ہم حل کر لیں گے آپ فکر مت کریں۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
تو انہوں نے اطمینان کی سانس لی ۔۔۔اگر اس نے کہا تھا کہ وہ ٹھیک کر دے گا مطلب وہ ٹھیک کر دیگا۔۔۔
بیٹا عقیدت کے بارے میں بھی پتہ کرو اس کے گھر سے پتہ کرو وہ کہاں گئی ایسے کیسے ناراض ہو کر غائب ہو گئی کہیں تو ہوگی۔۔۔۔تم لوگوں کے اتنی سمجھدار ہونے کا کیا فائدہ اگر اپنے گھر کے فرد کو ہی ڈھونڈ نا سکو۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے ان کی لا پرواہی دیکھ کر زرا سختی سے کہا۔۔۔
بڑی امی عقیدت میری زمہ داری ہے اور میں اسے ڈھونڈ لوں گا آپ پریشان مت ہوں۔۔۔۔فروا بیگم کی بات پر سالار نے سنجیدگی سے ان کو جواب دیا اور اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔۔
سجدہ بیگم نے اپنے بیٹے کو نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھا تھا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
آج خلاف معمول کمرے میں اندھیرا تھا ۔۔۔۔ورنہ وہ جس بھی وقت آتا وہ اسے کبھی فروا بیگم کے ساتھ کچن میں نظر آتی یا منت کے ساتھ کھیلتی ہوئی ۔۔۔۔۔
مگر آج وہ کمرہ بند کئے سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اسے تشویش ہوئی۔۔۔۔وہ دھیمے قدموں سے اس کی طرف بڑھا جو گٹھری بنی لیٹی تھی۔۔۔اور اس کے چہرے سے کمبل ہٹا کر دیکھا۔۔۔۔
چہرہ لال ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
آدم نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا تو ایسا لگا جیسے جلتے ہوئے توے پر ہاتھ رکھ دیا ہوا۔۔۔۔بخار سے اس کا جسم بری طرح تپ رہا تھا۔۔۔۔
اس نے پریشانی سے کمرے کی لائٹ آن کی اور دوبارہ اس کے پاس آکر اس کو چیک کرنے لگا ۔۔۔۔
اتنا تیز بخار ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا اس نے فوراً جزا کو کال کر کے بلایا۔۔۔۔۔
اس کے آنے تک وہ اسے سیدھا کر کے لٹا چکا تھا ۔۔۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔وہ جب آئی آدم میڈیسن نکال رہا تھا۔۔۔۔
شفا کو کب سے بخار ہے اور انہوں نے کچھ کھایا یا نہیں ۔۔۔۔
اس نے جزا سے پوچھا تو وہ اس کا چہرہ چھو کر دیکھنے لگی۔۔۔۔
بھابھی شام تک تو ٹھیک تھی پتہ نہیں بخار کب ہو گیا اتنا تیز اور انہوں نے تو کھانا بھی نہیں کھایا آج سوئی ہوئی تھی تو کسی نے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔
وہ شرمندگی سے بتانے لگی ۔۔۔
ان کی آواز پر وہ اپنی آنکھوں کو زبردستی کھولنے کی کوشش کرنے لگی مگر آنکھوں پر اتنا وزن محسوس ہو رہا تھا کہ چاہ کر بھی وہ کھول نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
اچھا ایک کام کرو کچھ لائٹ سا بنا کر لا دو مجھے ۔۔۔اس نے جزا کو باہر بھیجا اور خود اس کے پاس آکر اسے اٹھانا لگا۔۔۔۔
شفا اٹھ کر بیٹھیں ۔۔۔۔اس نے شفا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر سہارا دے کر بٹھانا چاہا مگر وہ اسی کے کندھے پر نڈھال سی سر رکھ گئی ۔۔۔۔
اس کی گرم سانسیں اسے اپنی گردن پر محسوس ہوئی۔۔۔۔
اس کی آنکھیں بند تھی۔۔۔۔
جزا کے آنے پر وہ تھوڑا اس سے دور ہوا۔۔۔۔وہ ٹرے لا کر اس کے سامنے رکھ گئی۔۔۔۔۔
بھائی کچھ اور چاہیے ۔۔۔۔جزا نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔شفا کی حالت اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔۔
نہیں بیٹا کچھ نہیں چاہیے منت کہاں ہے۔۔۔۔آدم نے ٹرے اپنے پاس کرتے پوچھا۔۔۔
منت امی کے پاس ہے ۔۔۔۔جزا نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔
ٹھیک ہے تم بھی جا کر آرام کرو۔۔۔۔آدم کے کہنے پر وہ جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کر گئی۔۔۔
شفا اٹھیں پہلے میڈیسن لیں ۔۔۔اس نے اس کا گال تھپتھپایا۔۔۔۔
اس نے اپنی جلتی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔۔۔
آدم نے اسے پہلے تھوڑا سا سوپ پلایا جو اس بہت مشکل سے حلق سے اتارا اور منہ موڑ گئی۔۔۔۔
اچھا بس یہ ٹیبلٹ کھائیں اور کچھ نہیں آدم نے ٹیبلٹ اس کے منہ میں رکھا اور پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگا دیا۔۔۔۔۔
اسے پانی پلا کر آدم نے گلاس سائیڈ پر رکھا اور اسے لٹا کر اچھے سے کمبل ڈال کر اٹھ گیا۔۔۔۔
آدم نے جلدی سے اپنا یونیفارم چینج کیا اور واپس آکر بیڈ پر آکر اسے اپنے بازو میں لٹا کر آنکھیں موند گیا۔۔۔۔
کیا کیا خواہشات لئے وہ گھر لوٹا تھا۔۔۔۔مگر شفا کی طبیعت نے اس کی خواہشات پر پانی ڈال دیا۔۔۔۔
مگر اسے دکھ اپنی رات برباد ہونے سے زیادہ اپنی معصوم بیوی کی بیماری کا تھا ۔۔۔۔
مجھے۔۔۔ آپ ۔۔چاہیے۔۔ ہو۔۔ بس آپ کے ساتھ رہنا۔۔۔۔وہ گند گندی ہے بہہہت۔۔۔۔وہ نیند میں اس کے سینے سے لگی ہلکی ہلکی بڑبڑا رہی تھی۔۔۔۔
آدم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔پتہ نہیں وہ اتنی انسیکیور کیوں تھی۔۔۔۔اپنے اور اس کے رشتے کو لے کر۔۔۔۔
وہ ہمیشہ یہی ایک بات کہتی تھی ۔۔۔۔مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے۔۔۔۔اسے کیوں لگتا تھا وہ اسے چھوڑ دے گا۔۔۔۔
اس بات کا جواب اسے ڈھونڈنے کے بعد بھی نہیں ملتا تھا۔۔۔
اور وہ کس کی بات کر رہی تھی وہ کچھ سمجھ نہیں پایا ۔۔۔
وہ ہلکے سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہا تاکہ وہ پر سکون ہو جائے۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
صبح تقریباً آٹھ بجے کے ٹائم اس کی آنکھ دروازہ بجنے پر کھلی۔۔۔۔
شفا اس کے سینے میں منہ دیئے گہری نیند میں تھی آدم نے اس کا ماتھا چھو کر دیکھا بخار اتر چکا تھا۔۔۔
دروازہ اب بھی بج رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور باہر سے منت کی ہلکی ہلکی آواز ابھی بھی آرہی تھی جو شاید شفا کو پکار رہی تھی ۔۔۔۔اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔۔
منت آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لئے کھڑی تھی اس کے ساتھ جزا بھی تھی۔۔۔۔
ابھی وہ اس کو گود میں اٹھاتا شفا پیچھے سے آکر اسے گود میں اٹھا کر چومنے لگی۔۔۔۔
صبح ساتھ بجے سے اٹھ کر بھابھی کے لئے رو رہی تھی ۔۔۔
بہت ضد کررہی تھی اس لئے میں اسے لے آئی۔۔۔۔جزا آدم کو بتا کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔
مدے ماما تے پات رینا ہے(مجھے ماما کے پاس رہنا ہے)۔۔۔منت اس کے گردن میں منہ چھپا گئی۔۔۔۔
شفا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھ کر اس کے گال چومے۔۔۔۔میرا بچہ ماما ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی ۔۔۔۔شفا اسے لے کر بیڈ کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔آدم کو اس نے پوری طرح اگنور کیا تھا۔۔۔
یہ بات اس نے بخوبی نوٹ کی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے میں اتنے مگن ہو گئے تھے۔۔۔۔۔اس کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا۔۔۔۔وہ بھی اپنا دوسرا یونیفارم لیتا واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔
اس کے واپس آنے پر بھی شفا نے کوئی رسپانس نہیں دیا تھا اس نے ڈریسنگ کے سامنے بالوں میں برش پھیرتے ہوئے ان کو دیکھا۔۔۔۔
اس کی بیٹی تو ماں کے ملنے پر باپ کو بھول گئی تھی۔۔۔۔
اس نے زور سے برش ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔
ان دونوں نے ہی چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا جو ان دونوں کو مرر سے ہی گھورے جا رہا تھا۔۔۔
آپ رکیں میں ناشتہ لے کر آتی ہوں وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔۔۔۔
نہیں مہربانی آپ کی آپ اپنی بیٹی کے ساتھ ہی مصروف رہیں ۔۔۔۔میں اپنا ناشتہ خود کر لوں گا۔۔۔۔
آدم منہ بناتا باہر نکل گیا۔۔۔۔پہلی بار وہ اپنی ہی بیٹی سے جیلس ہوا تھا۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ خود تیار ہوتی منت کو تیار کرتی باہر نکل آئی تھی جہاں سب گھر والے بیٹھے تھے۔۔۔جزا اور سجدہ بیگم کو دیکھ اس نے نے نظریں چرائی۔۔۔۔
کیونکہ کل تارا ملک کے جانے کے بعد اسنے ان دونوں کو منع کیا تھا کہ وہ آدم سےاس بات کا زکر نا کریں کیونکہ آدم کو اس کی ماں پسند نہیں اس لئے وہ غصہ کرے گا۔۔۔۔
اس کی بات پر دونوں نے ہی ہامی بھر لی تھی کیونکہ شفا کے چہرے سے ہی لگ رہا تھا وہ بہت ڈری ہوئی ہے۔۔۔۔
انہوں نے تارا ملک کے ڈر کو آدم کا ڈر سمجھا تھااس لئے انہوں نے بھی اس معاملے میں خاموشی اختیار کر لی ۔۔۔۔
بیٹا طبیعت کیسی ہے اب جزا نے بتایا بخار تھا رات کو تمہیں امی نے اسے دیکھ فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔
جی امی ابھی میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔اس نے نظریں جھکائے جواب دیا۔۔۔۔
منت اس کی گود سے اتر کر گارڈن میں جا چکی تھی ۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
صبح سے ہی اس کی طبیعت خراب تھی ۔۔۔۔الٹی کر کر کے اسے کمزوری ہو رہی راشدہ خالہ اور ان کے شوہر رشتے دار کی میت میں گئے ہوئے تھے…وہ اکیلی بیڈ پر نیم دراز تھی۔۔۔۔
نا جانے عرش کیا کر رہے ہونگے اس وقت پتہ نہیں مجھے یاد کرتے بھی ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔اس نے دل میں سوچا۔۔۔۔
وہ مجھے کیوں یاد کریں گے بھلا اپنی پسندیدہ بیوی کے ہوتے ہوئے ۔۔۔۔اس کے دماغ نے فوراً جواب دیا۔۔۔
جب سے اسے اپنے وجود میں دوسری جان کا احساس ہوا تھا اس کا دل ہر وقت عرش کو یاد کرنے لگا تھا۔۔۔۔
اسے یاد کرتے ہوئے وہ کب گہری نیند میں چلی گئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔
رات کا تیسرا پہر تھا جب سگریٹ کی عجیب سی اسمیل سے اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
جب سانس لینا مشکل ہو گیا تو اس نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی۔۔۔۔مگر دھوئیں کی وجہ سے اسے کچھ نظر نہیں آیا۔۔۔۔
ہاتھ بڑھا کر اس نے لیمپ آن کرنے کی کوشش کی مگر اپنا ہاتھ کسی کی گرفت میں محسوس کر کے اس کی چیخ نکلی تھی جسے عرش نے ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔۔۔۔
اندھیرے میں بھی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔اس کے کلون کہ خوشبو سے وہ اسے پہچان چکی تھی۔۔۔۔۔
کیسی ہے میری پیاری بیوی۔۔۔۔وہ اس کے کان کے پاس جھکا سرگوشی کر گیا۔۔۔۔
اس کی گھمبیر سرگوشی پر عقیدت کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
د۔۔دور ہٹیں ۔۔۔۔اس نے عرش کو دور کرنے کی کوشش کی
مگر وہ کسی پہاڑ کی طرح اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا۔۔۔۔۔
کیوں کیا میری قربت اتنی ناگوار گزر رہی ہے۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولتا اس کی کان کی لو پر دانت گاڑھ گیا۔۔۔۔
عقیدت نے درد کے مارے سسکی لی تھی بے ساختہ آنکھو ں سے آنسو نکل آئے تھے۔۔۔۔۔
پلیز ۔۔۔۔۔ مجھے سانس نہیں آرہا ۔۔۔اس نے اپنے آنسو کو روکتے کہا۔۔۔۔
عرش اس کے ہونٹوں پر جھکا اور قطرہ قطرہ اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں انڈھیلنے لگا۔۔۔۔
عقیدت نے سختی سے اسکی شرٹ بھینچی تھی۔۔۔۔
وہ اس کو ہونٹوں کو آزادی بخشتا اس کی گردن پر جھک گیا اور وہاں بھی اپنے دانت گاڑے ۔۔۔۔۔
چھوڑیں درد ہو رہا ہے مجھے اپنی بیوی کے پاس جائیں۔۔۔وہ غصے سے چیخ پڑی تھی۔۔۔
عرش نے ناگواری سے اس کی چیخ سنی تھی اور اس سے تھوڑا دور ہو کر سائیڈ لیمپ آن کر دیا۔۔۔۔
کمرہ پورا روشنی میں نہا گیا تھا۔۔۔
عرش نے اسے دیکھا جس کے چہرے پر آنسو کے نشان تھے۔۔۔اور وہ شکایتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کیوں آئے ہیں آپ ۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔جبکہ دل اس کو اتنے عرصے بعد دیکھ کر بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔
یہی سوال میں تم سے پوچھتا ہوں ۔۔۔۔میرے نکاح میں ہوتے ہوئے تم میرے گھر سے نکل کر یہاں کیوں آئی۔۔۔۔
سالار کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔۔۔۔
کیونکہ میں آپ کی شادی شدہ لائف میں کوئی ڈسٹربنس نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔
اس نے عرش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔۔۔۔
نوٹ میرے پیارے پیارے ریڈرز پلیز ایک دن گیپ آنے پر ناراض مت ہوا کریں ۔۔۔۔۔پہلے میری چھٹیاں تھی اس لئے ڈیلی آتی تھی ایپیسوڈ لیکن اب میری کلاسس اسٹارٹ ہو چکی ہیں ۔۔۔تو ہفتے میں ایک دن کی چھٹی تو میرا بھی حق بنتا ہے ۔۔۔۔۔
باقی ویک میں چھ ایپیسوڈ تو آتی ہیں ۔۔۔۔
