Rate this Novel
Episode 2
ناول لمس جنون
رائٹرزرناب چاند
قسط_دوسری
جزا جزا جزا
چاروں طرف سے جزا کے نام کا شور تھا
بلیو جینز کے ساتھ یلو کلر کی کرتی پہنے بلیک اسٹالر کو مفلر کی طرح گلے میں لپیٹے بالوں کو پانی ٹیل کئے وائٹ جاگرز پہنے وہ ایک لڑکے کوبری طرح مار رہی تھی
چہرہ بلیک ماسک سے ڈھکا ہوا تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی لڑکی کو چھیڑنے کی تم جیسوں بے غیرتوں کی وجہ سے مائیں اپنی بیٹیوں کو اکیلے نہیں نکلنے دیتی اس نے اپنی جینز کی پاکٹ سے ایک چھوٹی سی تیز چھری نکالی جس کا سائز تین انچ کے برابر تھا
وہ ہمیشہ اپنی سیفٹی کے لیے اپنے پاس رکھتی تھی
جزا نے وہ چھری اس لڑکے کی آنکھوں کے آگے لہرائی
وہ لڑکا گھبرا کر بھاگنے لگا
لیکن اس نے ٹانگ سے پکڑ کر اسے کھینچا کے وہ دوبارہ اس کے سامنے آگیا
مجھے معاف کر دو آج کے بعد کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑوں گا پلیز مجھے معاف کر دو وہ لڑکا ہاتھ جوڑے اس سے معافی مانگنے لگا
جزا نے کالر سے پکڑ کر اس لڑکے کو ایک لڑکی کے سامنے دھکا دیا
معافی مانگنی ہے تو اس سے مانگو ۔۔۔۔وہ لڑکا اس لڑکی کے آگے ہاتھ جوڑے لگا۔۔۔۔
وہ لڑکی گھبرا کر اثبات میں سر ہلا کر پیچھے ہو گئی۔۔۔
اور یہ لاسٹ وارننگ ہے دوبارہ تم نے کسی لڑکی کو چھیڑنے کی کوشش کی تو
جزا خانزادہ دوسری بار وارننگ نہیں دیتی گوٹ اٹ۔۔۔انگلی دکھا کر اس لڑکے کو وارن کیا اور اپنے بالوں کو جھٹک کر مڑی زمین سے اپنا بیگ اٹھایا اور چل دی
لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے بھی اس پٹاخہ کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔۔۔
وہ اس لڑکی کو لئے اپنے فلیٹ پر آگیا تھا اسے ایک کمرے میں لاکر بیڈ پر لٹایا اسے لے تو آیا تھا اب وہ سمجھ نہیں پارہا تھا اسے کیا کرنا چاہیے کیونکہ جب تک وہ ہوش میں نہیں آجاتی اس کے گھر کا ایڈریس معلوم کرنا مشکل تھا
اس نے جلدی سے ایک کال ملائی ۔۔۔جو دوسری ہی بیل پر اٹھالی گئی
اس نے ایک دو باتیں کی پھر اسے آنے کا کہہ کر کال کاٹ دی
اور باہر آکر صوفے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا
پانچ منٹ ہی گزرے تھے کے دروازے پر بیل بجی اسے پتہ تھا کون ہے اس لیے دروازہ کھول دیا۔۔۔۔
تھینک گاڈ یار فری تم آگئی اپنا ایک سوٹ لائی ہو نا
اس نے دروازہ کھولنے کے ساتھ پوچھا۔۔۔
ہاں لائی ہوں کہاں ہے وہ لڑکی اور آدم تم مجھے یہ بتاؤ آج سے پہلے تو تم اس طرح کسی کو یہاں نہیں لے کر آئے آج کیوں لائے ہو ۔۔۔
فری نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھتے پوچھا۔۔
یار یہ سب میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا مجھے ابھی جانا ہے جب تک میں نہیں آ جاتا تم یہی رہنا اور اسے چینج کروا کے اس کا چیک اپ کر لینا میں چلتا ہوں بائے۔۔۔
وہ جلدی میں اسے حکم دے کر چلا گیا شاید اس کے سوالوں سے بچنے کا یہی طریقہ تھا
یہ ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ تھا جس کے دو ہی کمرے تھے چھوٹا سا ٹی وی لاؤنج تھا جہاں ایل شیپ ایک صوفہ تھا
وہ قدم قدم چلتی آدم کے بیڈروم میں آئی بیڈ پر سفید چادر میں لپٹی لڑکی کو دیکھا اس کی حالت دیکھ کر اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا اتنے زخم ایک لڑکی کے جسم پر جس کی عمر مشکل سے سترہ اٹھارہ سال سے زیادہ نہیں تھی
اسے بہت افسوس ہوا
لباس سے تو وہ پہلے ہی محروم تھی فری نے جلدی سے اسے کپڑے پہنائے اور ٹاول گیلا کر کے اس کا چہرہ صاف کیا
جلدی سے اس کا چیک اپ کر کے کال۔کر کے میڈیسن اور ڈرپ منگوائی
اسے ڈرپ لگا کر کچن میں چلی گئی تاکہ کچھ لائٹ سا بنا سکے
سوپ بنا کر جب وہ کمرے میں آئی تو وہ لڑکی آنکھیں کھولے چھت کو گھورنے میں مصروف تھی
ہیلو پیاری لڑکی فری نے اس کے پاس جا کر اسے پکارا لیکن
اس نے کوئی جواب نہیں دیا
فری کو حیرت ہوئی کیا اس نے سنا نہیں
فری نے دوبارہ پکارا تب بھی اس لڑکی میں کوئی جنبشِ نہیں ہوئی
فری کو تشویش ہوئی اس نے دھیرے سے اس بازو پر ہاتھ رکھا
چ چھوڑو چھوڑو مجھے پلیز مجھے مت مارو امی امی بچاؤ پلیز چھوڑ مجھے ہاتھ مت لگاؤ
وہ پاگلوں کی طرح خود کو چھڑانے لگی ہاتھ سے ڈرپ نکال کے پھینک دی کبھی اپنے ہاتھ صاف کرتی تو کبھی اپنے بال نوچتی وہ کوئی پاگل ہی لگ رہی تھی
فری کو چند سیکنڈ لگے تھے پورے معاملے کو سمجھنے میں
وہ ایک ڈاکٹر تھی کئی بار اس طرح کے پیشنٹ آچکے تھے اس کے پاس جو بہت برے ٹراما سے گزرے تھے
اس نے جلدی سے اس لڑکی کو پکڑ کر قابو کیا
اور نیند کا انجیکشن اسکے بازو میں انجیکٹ کیا
تھوڑی ہی دیر میں وہ غنودگی میں جانے لگی۔۔۔فری نے اسے آرام سے بیڈ پر لٹایا اور کمرے سے باہر آگئی
اور آدم کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
اسے یہ بہت پیچیدہ معاملہ لگ رہا تھا۔۔
سر معاف کر دیجیئے آئندہ میں کبھی یہ غلطی نہیں کروں گا مجھے نوکری سے مت نکالئیے وہ شخص اپنے باس کے آگے گڑگڑا رہا تھا
رشید صاحب ان کو باہر کا راستہ دکھائیں اور ان کا جو بھی حساب بنتا ہے کر دیجئے۔۔۔۔
میرے کام کے ساتھ دھوکا کرنے والو کو میں دوسرا موقع نہیں دیتا۔۔۔۔
وہ کہہ کر اپنی فائنل پر جھک گیا ۔۔
رشید صاحب اس آدمی کا ہاتھ پکڑے زبردستی باہر لے گیا
چھوڑو مجھے سر سے بات کرنے دو۔۔وہ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔
پاگل ہو گئے ہو شکر کرو انہوں نے تمہارے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کروائی صرف تمہاری عمر اور تمہارے معصوم بچوں کا سوچ کر ۔۔۔
تم نے کیسے ان کے ساتھ دھوکا کیا ۔۔۔
ان کی محنت تم صرف چند پیسوں کے لیے کسی اور کے حوالے کرنے چلے تھے شرم آنی چاہیے تمہیں رشید صاحب نے اس آدمی کواچھی خاصی جھاڑ پلائی ۔۔۔۔
تو وہ بھی شرمندہ ہو گیا۔۔۔۔
وہ میٹنگ میں مصروف تھا کہ گھر سے کال آنے لگی وہ سب کو اکسکیوز کر کے باہر نکل گیا اور سائیڈ پر ہو کر کال اٹھائی ۔۔۔
اسلام علیکم امی ۔۔۔اس نے کال اٹھاتے ہی سلامتی بھیجی۔۔
وعلیکم السلام عرش کہاں ہو تم ابھی تک گھر کیوں نہیں آئے میں کب سے تیار ہو کر تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔سجدہ بیگم نے چھوٹتے ہی سوال کیا۔۔
یار امی ایک میٹنگ میں بزی ہوں تھوڑی دیر تک آجاؤں گا آپ پلیز سالار کے ساتھ چلی جائیں نا امی پلیز ۔۔۔
آخر میں اس نے ریکوسٹ کی سجدہ بیگم نے کچھ بھی کہے بغیر کھٹاک سے فون بند کردیا۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا آج اس کی خیر نہیں ۔۔۔
اس نے ایک نظر فون کو دیکھا اور مسکرا کر کوٹ کے جیب میں ڈالا اور اندر چلا گیا
اب اسے گھر جا کر اپنی ماں کو بھی منانا تھا ۔۔۔
فیروز خانزادہ ایک جانا مانا بزنس مین تھا ۔۔۔۔
ان کے تین بیٹے تھے
سہیل راحیل اور روحیل ۔۔
سہیل کی شادی فروا بیگم سے ہوئی جن کے دو بچے ہیں بڑا بیٹا آدم جو پولیس فورس میں ہے جس کی عمر بتیس سال ہے وہ اپنی جوب کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانی بزنس کو بھی دیکھتا تھا اور بیٹی جزا جو اسٹوڈنٹ ہے جس کی عمر بیس سال ہے۔۔۔۔
ان سے چھوٹا راحیل جن کی شادی شاہین بیگم سے ہوئی جن کے تین بچے ہیں ایک بیٹی فریحہ آدم کی ہم عمر جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے اور شادی شدہ ہے اور بیٹا سالار جو بزنس مین ہے عمر انتیس سال ۔۔۔اس سے چھوٹی آیت تھی۔۔۔جو میڈیکل کالج میں تھرڈ ایئر کی اسٹوڈنٹ تھی۔۔۔۔عمر اکیس سال۔۔۔
سب سے چھوٹے روحیل جن کی شادی سجدہ بیگم سے ہوئی
ان کا صرف ایک ہی بیٹا ہے عرش۔۔۔۔
آٹھ سال پہلے ایک شادی سے آتے ہوئے فیروز خانزادہ سہیل خانزادہ راحیل خانزادہ روحیل خانزادہ اور شاہین بیگم کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ سب ہی جان کی بازی ہار گئے ۔۔۔وہ وقت حویلی والوں کے لیے کسی قیامت سے کم نا تھا وقت کا کام ہے گزرنا زخم پوری طرح بھر تو نا سکے لیکن وقت کے ساتھ مندمل ہو گئے۔۔۔۔
………………………………………………………………………………………..
میری مانو تم اس لڑکی کو اس کی فیملی کے حوالے کر دو شاید یہ جلدی اسٹیبل ہو جائیں ان کے ساتھ کیونکہ جس طرح کا بیہیو اس لڑکی نے کیا اس سے یہ بات تو صاف ہے اس پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا ہے
اس کا پورا جسم زخموں سے چور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
فری اس کے سامنے بیٹھی اسے افسوس سے بتا رہی تھی
جبکہ آدم کی آنکھوں میں وہ ایک لمحہ لہرایا
جب اس نے پہلی بار اسے دیکھا اس نے سختی سے اپنا سر جھٹکا وہ مٹھیاں بھینچ لی ۔۔۔۔
اتنی چھوٹی لڑکی نے پتہ نہیں کیسے برداشت کیا یہ سب
فری کی آواز پر وہ ہوش میں آیا
یار وہ ایک بار ہوش میں آ جائے تو پوچھتے ہیں نا لیکن تم جانتی ہو اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے اس حالت میں تم اریب کو اپنے ساتھ یہاں لے آؤ کل تک یہاں رک جاؤ مجھے گھر جانا ہوگا یار پھر کل کرتے ہیں کچھ۔۔۔۔
آدم نے اسے دیکھتے ہوئے جیسے آرڈر دیا۔۔۔۔۔
فری نے اسے گھور کر دیکھا میرا ایک عدد شوہر بھی ہے اگر تمہیں یاد ہو تو ۔۔۔
ہاں تو ۔۔۔۔۔آدم نے ناسمجھی سے پوچھا
تو ان سے پرمیشن کون لے گا اب کے فری نے سنجیدگی سے پوچھا
ہاہاہا ویری فنی جیسے مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ تم اس سے کتنا ڈرتی ہو ۔۔۔۔اس نے جیسے مزاق اڑایا اور نکل گیا پیچھے سے فری نے اسے کشن اٹھا کر مارا اور اپنے پیر پٹکے۔۔۔۔۔









فری احد سے پرمیشن لے کر اریب کو اپنے ساتھ لے آئی تھی اریب اٹھتے ہی اپنی دادی کے پاس چلا گیا تھا
فریحہ کا فلیٹ بھی اسی بلڈنگ میں تھا احد بھی اسی کی طرح ڈاکٹر تھا ان کا ایک بیٹا تھا پانچ سال کا اریب فری کے سسرال میں ایک ساس ہی تھی وہ بہت پر سکون زندگی گزار رہی تھی وہ ہاسپٹل میں جوب کرنے کے بجائے اپنا ایک پرائیویٹ کلینک چلا رہی تھی۔۔۔۔
آدم اس کا ہم عمر ہونے کے ساتھ اس کا بیسٹ فرینڈ بھی تھا انہوں نے بچپن اور جوانی کا ہر وقت ساتھ گزارا تھا
اس لیے وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت فرینک تھے۔۔۔
وہ صبح جب اٹھی تھی تب وہ لڑکی جاگ رہی تھی لیکن اس نے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
وہ اٹھی فریش ہوئی پھر اس کے کمرے میں آگئی
پیاری لڑکی جاگ گئی کیا اس نے اس کے پاس کھڑے ہو کر اسے پکارا
وہ لڑکی اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔فری اس کی نظریں سمجھ گئی اس لیے جلدی سے بولی۔۔۔
میں ڈاکٹر فریحہ ہوں تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں تم بلکل سیف ہو۔۔۔
اور تمہارا نام کیا ہے پیاری لڑکی اس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
م میں میرا نام ش شفا ہے۔۔۔۔۔اٹکتے ہوئے اس نے اپنا نام بتایا
ماشاء اللّٰہ بہت پیارا نام ہے ویسے تمہاری عمر کیا ہے شفا۔۔
فری نے شاپر سے اس کے لیے سامان نکالتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
میں میں اٹھارہ س سال کی ہوں ۔۔۔۔ میں کہاں۔۔۔ ہوں مجھے یہاں کون لایا؟
پوچھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ڈر واضح دیکھا جاسکتا تھا۔۔
فکر مت کرو شفا تم بلکل ٹھیک ہو یہاں کوئی نہیں آسکتا
پہلے تم جا کر فریش ہو جاؤ وہ ایک سادہ سا لان کا سوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی گرم پانی سے نہانا تاکہ باڈی پین کم ہو جائے۔۔۔
فری کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی ۔۔۔
کل کے مقابلے میں آج وہ نارمل نظر آرہی تھی۔۔۔
اس کے جانے کے بعد اس نے پورے کمرے میں نظر دوڑائی یہ ایک بہت خوبصورت کمرا تھا صاف ستھرا بیڈ کے بلکل سامنے ایک بڑی سی ایل سی ڈی لگی تھی لیفٹ سائیڈ پر ایک ڈریسنگ ٹیبل اور رائٹ سائیڈ پر ایک بک شیلف جہاں پر بہت ساری کتابیں سلیقے سے سیٹ تھی۔۔۔
اس نے ایک نظر اپنے حلیے پر ڈالی وہ لان کے سوٹ میں تھی شاید اس لڑکی نے اس کو چینج کروایا تھا۔۔۔۔اسے بے انتہا شرمندگی ہوئی ۔۔۔۔
وہ اٹھی اور سوٹ ہاتھ میں لے کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
کمرے کی طرح واش روم بھی بہت خوبصورت اور صاف ستھرا تھا
اس وقت اسے کوئی خوبصورتی متاثر نہیں کر رہی تھی
اسے صرف اپنا باپ یاد آرہا تھا۔۔۔۔جسے ظالموں نے اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا تھا۔۔۔
بہت دیر تک وہ واش روم میں بیٹھ کر روتی رہی ۔۔۔
کچھ دیر بعد فری اس کے لیے سوپ اور سینڈوچ لے کر کمرے میں داخل ہوئی اور انتظار کرنے لگی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ نہا کر واش روم سے باہر نکلی فریحہ کا سوٹ اسے بہت کھلا لگ رہا تھا گھبرائی گھبرائی سی وہ اس کے پاس آئی۔۔۔
فری نے اسے ہاتھ پکڑ کر بٹھایا سب سے پہلے ناشتہ کرو باقی باتیں ہم بعد میں کریں گے ۔۔۔۔
ناشتہ دیکھتے ہی شفا کی آنکھوں میں آنسوں آگئے وہ تین دن سے بھوکی تھی اس نے جلدی سے ایک سینڈوچ اٹھا لی اور جلدی جلدی کھانے لگی۔۔۔۔اس کا دل تشکر کے احساس سے بھر گیا۔۔۔۔۔
فری اس کی حالت کے پیش نظر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تاکہ وہ آرام سے کھا سکے۔۔۔اس نے پانچ منٹ میں سارہ کھانا ختم کیا اور سکون سے آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔۔
سچ کہتے بھوک انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے انسان اسی پیٹ کے لیے تو بڑے بڑے گناہ کر جاتے
میں آپ سے پیار کرتی ہوں ۔۔۔۔ پلیز مجھے شادی کر لیں۔۔۔۔وہ لڑکی اس کے سامنے دو زانوں بیٹھی اپنی محبت کی بھیک مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ بے حس بنا اسے دیکھتا رہا دو قدم چلتا اس کے پاس آیا اور جھکا اس لڑکی کا بازو پکڑ کر اٹھایا۔۔۔
تم اگر دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوئی تب بھی میں تم جیسی لڑکی سے شادی کبھی نہیں کروں گا۔۔۔اس کی آنکھوں میں سامنے موجود لڑکی کے لیے حقارت کے سوا کچھ نا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہیے سالار کیا کر رہے ہو یہاں اندھیرے میں ۔۔۔۔۔۔
پیچھے سے عرش نے آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ہوش میں آیا ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں تو سنا کہاں بزی تھا مجھے پھنسا کر ۔۔۔۔چھوٹی امی نے بہت خوار کیا مجھے مارکیٹ میں آئندہ میری توبہ جو میں کسی لیڈیز کو مارکیٹ لے کر جاؤں
اس نے عرش کو گدی سے پکڑ کر دبایا۔۔۔۔۔
ابے کمینے چھوڑ کیا بچے کی جان لے گا کیا ابھی تو مجھے دلہا بننا ہے تجھے چاچا بنانا ہے اپنی ماں کو دادی بنانا ہے اپنی بیوی۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے اس کی دہائیاں سالار کے کان پکاتی اس نے زور سے ایک تھپڑ اس کی پیٹھ پہ مارا
اور وہاں سے بھاگ گیا
سالار کے بچے میں تجھے گنجا کر دونگا تو میرے ہاتھ لگ
وہ دونوں بھاگ رہے تھے سالار آگے آگے اور عرش اس کے پیچھے تھا
دنیا کے سامنے سنجیدہ اور کھڑوس نظر آنے والے وہ دونوں جب ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے تھے تو بلکل چھوٹے بچوں کی طرح ایک دوسرے کو تنگ کرتے تھے ایک دوسرے میں جان بستی تھی ان کی اگر ایک کو ہلکا سا بخار بھی ہو جائے تو دوسرا پوری رات جاگتے گزار دیتا تھا۔۔۔
عرش خانزادہ سحر انگیز شخصیت کا مالک تھا اس کی پرسنلٹی میں ایک ٹہراؤ تھا قد کاٹھ میں سارے خانزادے ہی امیر تھے چھ فٹ ایک انچ کا قد جیل سے سیٹ کئے ہوئے بال ہلکی بئیرڈ گالوں میں پڑتا گھڑا اسے بہت منفرد بناتا تھا۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔۔۔ناجانے وہ کب تک بھاگتے آدم کی گھمبیر آواز پر دونوں کے قدم رکے دونوں نے ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظر سے دیکھا ۔۔۔۔
دونوں شرافت سے میرے کمرے میں آؤ کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
وہ ان کو حکم دیتا گھر کے اندر بڑھ گیا ۔۔۔۔وہ شاید ابھی ڈیوٹی سے لوٹا تھا۔۔۔۔
پیچھے دونوں شرافت سے اس کے پیچھے بڑھ گئے۔۔۔۔۔
کل رات تم کہاں تھے سالار۔۔۔۔۔۔۔
آدم پولیس یونیفارم میں ان کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سنجیدگی سے سالار سے پوچھ رہا تھا
عرش نے بھی سالار کی طرف دیکھا جو معصوم شکل بنائے
ان کے سامنے بیٹھا تھا
میں کل تھوڑا کلب گیا تھا بھائی بور ہو گیا تھا روز روز کی میٹنگ سے۔۔۔اس نے مسکین شکل بنا کر آدام کو جواب دیا جو اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
عرش نے مسکراہٹ دبائی کیونکہ ایک وہی تو حقیقت سے واقف تھا۔۔۔۔
فہد ملک والی ڈیل کا کیا بنا ۔۔۔۔۔اب اس کا رخ عرش کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانی بزنس کو بھی دیکھتا تھا۔۔۔۔۔
جی بھائی ساری فائنل پریزینٹیشن ریڈی ہے کل ان کے ساتھ میٹنگ ہے انشاء اللہ یہ ڈیل ہمیں ہی ملے گی عرش سنجیدگی سے اسے بتانے لگا۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔ آئی نو ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔
اب جاؤ اپنے کمرے میں آرام کرو۔۔۔
…………………………………………………………
وہ فری کے کال کرنے پر دوپہر میں فلیٹ پر گیا تھا جس طرح وہ لڑکی کھانا کھا رہی تھی دروازے سے باہر کھڑا وہ دیکھ رہا تھا اس کی حالت دیکھ آدم کا دل کٹ کر رہ گیا تھا وہ جزا اور آیت سے بھی چھوٹی تھی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد آدم خانزادہ سفید شلوار قمیض پہنے سنجیدگی سے اس کے کمرے میں موجود تھا
شفا خوفزدہ سی فری سے لگ کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔شفا بچے گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ میرا بھائی ہے یہ پولیس والا ہے یہی تمہیں لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔
اس کی بات پر شفا کی آنکھیں حیرانگی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔اس کا مطلب وہ اسے برہنہ حالت میں دیکھ چکا تھا اس کا دل کیا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے ۔۔۔۔۔شرمندگی سے اس کی آنکھوں میں آنسوں روا ہو گئے ۔۔۔۔فریحہ اس کے چہرے کا ہر اتار چڑھاؤ سمجھ رہی تھی۔۔۔
شفا اب تم اپنے گھر کا ایڈریس بتاؤ ہم تمہیں تمہارے گھر صحیح سلامت چھوڑ کر آئیں گے۔۔۔۔
فری نے اسے حوصلہ دیا لیکن گھر کے نام پر وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔ فری نے اس کا ہاتھ تھام کر دبایا
نا جانے کیوں اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسوں آدم سے برداشت نہیں ہو رہے تھے
مم میرا ک کوئی گھر ن نہیں ۔۔۔۔۔وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔۔۔
کوئی تو گھر ہوگا جہاں آپ رہتی تھی پہلے۔۔۔۔ اب کے آدم خانزادہ نے سنجیدگی سے پوچھا اس کی گہری آنکھیں اس کی ایک حرکت کو نوٹ کر رہی تھی۔۔۔
میری اب ابو کو میرے سامنے مار دیا ۔۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی میرا کوئی نہیں میں اکیلی رہ گئی میرے سوتیلے ماموں نے مجھے کھوٹے میں بیچ دیا ان ان لوگوں نے مجھ مجھے بہت مارا مجھے دد درد ہو رہا ابھی تک وہ ہچکیوں میں انہیں سب بتاتی چلی گئی ۔۔۔۔۔ آدم خانزادہ کو اچانک گھٹن کا احساس ہونے لگا اس نے زور سے آنکھیں میچی تو وہی لمحہ دوبارہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے لہراتا نظر آیا
دو دن سے تو وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا نا چاہتے ہوئے بھی وہ سب اسے یاد آرہا تھا ۔۔۔۔
فری نے تڑپ کر شفا کو سینے میں بھینچ لیا وہ خود بھی تو یتیم تھی اس نے بھی اپنے ماں باپ کو کھویا تھا۔۔۔۔
آدم خانزادہ وہاں سے اٹھ کر جانے لگا کہ ایک آواز پر اس کے قدم زنجیر ہوئے اس نے بے یقینی سے مڑ کر دیکھا۔۔۔
آپ مجھ سے نکاح کر لیں وہ نظریں جھکائے اس سے اپنے لیے پنا ہ مانگ رہی تھی۔۔۔
میں بہت اک اکیلی ہوں م میری عزت اورر جان دونوں محفوظ نہیں ہیں پلیز پلیز مجھے اپنی پناہ میں لے لیں م میں ایک کونے میں پڑی رہونگی بس مج مجھے یہاں رکھ لیں ۔۔۔۔
فری نے حیران کن نظروں سےاس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے بھی تھر تھر کانپ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
آدم بنا کچھ کہے کمرے سے کیا فلیٹ سے بھی نکلتا چلا گیا
شفا مایوسی سے وہاں بیٹھتی چلی گئی اس نے اپنے لیے پناہ مانگی تھی۔۔۔۔کیونکہ اس جہنم سے نکال کر لانے والا وہی شخص تھا۔۔۔۔اس نے پہلی بار اس شخص کو دیکھا تھا لیکن اس شخص کی آنکھوں میں اس کے لیے ہوس کے بجائے عزت دیکھی تھی اس نے ان تین دنوں میں جتنی غلاظت مردوں کی نظر میں دیکھی تھی اس کے بعد آدم اسے فرشتے سے کم نہیں لگا وہ بس ایک چھت چاہتی تھی وہ دنیا میں اکیلے سروائیو کرنے سے ڈرتی تھی وہ جانتی تھی اگر وہ اس محفوظ مقام سے نکلی تو اس کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔۔۔
فری آگے بڑھی اور اسے تھام کر بیڈ پر بٹھایا
پلیز آپی مجھے یہاں سے مت نکالیں مجھے بھی مار دینگے وہ لوگ میری عزت محفوظ نہیں ہے باہر پلیز مجھے بچا لیں میں کہیں جانا نہیں چاہتی م میں سارا کام کروں گی می ایک کونے میں پڑی رہونگی پلیز مجھے مت نکالیں ۔۔۔۔
شفا اس وقت اتنی ڈری ہوئی تھی اسے خود نہیں پتہ تھا وہ کیا کہہ رہی ہے۔۔۔
فری کو اس لڑکی پر ترس آیا اسے ساتھ لگا کر پیٹھ سہلانے لگی۔۔۔
ہم تمہیں کہیں نہیں بھیجیں گے فکر مت کرو ریلیکس بس سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔وہ اسے تسلی دینے لگی
جاری ہے۔۔۔۔
