Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 51
Rate this Novel
Episode 51
۔
آپ بالاج بھائی کی بات کیوں نہیں مان لیتے اس میں ہماری بھلائی تو ہے۔۔۔۔ہانیہ نے فرجاد کی ایک ہی ضد پر بلآخر اسے خود سمجھانا چاہا۔۔۔۔۔۔
کونسی بات۔۔۔فرجاد نے نا سمجھی سے موبائل سے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔
وہ۔۔۔وہ جو بھائی آپ کو پیپرز پر سائن کرنے کا کہہ رہے تھے۔۔۔۔اس نے جھجھکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔ان سب چیزوں پر میرا کوئی حق نہیں ۔۔۔۔وہ سب ان کا ہے۔۔۔۔۔آئیندہ یہ بات مت کرنا مجھ سے۔۔۔۔۔اس نے زرا سختی سے کہا۔۔۔۔
مگر یہ سب آپ کے ابو کا بھی ہے تو آپ کا بھی برابر کا حصہ ہے۔۔۔۔۔۔ہانیہ نے سنجیدگی سے کہا
میرا وہ باپ جنہوں نے مجھے کبھی اپنی اولاد مانا ہی نہیں ۔۔۔۔فرجاد نے ناگواری سے دیکھا تھا۔۔۔۔
مگر انہوں نے واپس جا کر آپ لوگوں کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی تو کی تھی۔۔۔۔ہانیہ کی بات پر اس نے جن نظروں سے دیکھا وہ شرمندہ ہو گئی۔۔۔۔۔
فرجاد نے ایک دم اس کا بازو جھکڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔بات سنو میری ۔۔۔۔۔تم جن خوابوں میں ہو نا وہاں سے حقیقت کی دنیا میں آجاؤ ۔۔۔۔۔۔
کیونکہ میں یہاں شہزاد شاہ کے بیٹے کے حیثیت سے نہیں صرف بالاج شاہ کے بھائی کے حیثیت سے ہوں وہ میرے محسن ہیں ۔۔۔۔۔۔انہوں نے مجھے اس وقت سہارا دیا تھا
جب مجھے ایک وقت کی روٹی کے لئے پورا دن گدھوں کی طرح کام کرنا پڑتا تھا۔۔۔۔۔۔
انہوں نے نا صرف مجھے اپنے ساتھ رکھا مجھے عزت دی۔۔۔۔مجھے اس قابل بنایا کہ آج لوگوں میں میری عزت ہے میرا ایک مقام ہے۔۔۔۔۔آج میں اپنے دم پر اپنے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کی خواہشات پوری کرنے کی ہمت رکھتا ہوں۔۔۔۔۔
امید کرتا ہوں تمہیں میری بات سمجھ آگئی ہوگی۔۔۔۔فرجاد نے سنجیدگی سے کہہ کر آخر میں اس کا گال تھپتھپایا تھا۔۔۔۔
ہانیہ بھی شرمندگی سے سر جھکا گئی۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اسے شروع سے ہی گھر کے فرد کی طرح عزت ملی تھی۔۔۔۔۔۔۔پھر کیسے اس کے دل میں لالچ آگیا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓
امی عقیدت کہاں ہے۔۔۔۔عرش شام میں گھر لوٹا تو اسے کمرے میں نا پاکر سجدہ بیگم سے پوچھا۔۔۔۔۔
آج اس کی طبیعت میں زرا سی سستی تھی اس وجہ سے وہ جلدی گھر آگیا تھا۔۔۔۔۔۔
بیٹا وہ تو اپنی کسی دوست کے پاس گئی ہے۔۔۔بتا رہی تھی دوست کی طبیعت خراب ہے تو میں نے اسلم(ڈرائیور)کے ساتھ بھیج دیا۔۔۔۔۔۔سجدہ بیگم نے سوئٹزر بھونتے مصروف انداز میں جواب دیا۔۔۔۔۔
ایسی کونسی دوست آگئی جو مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔اس نے دل میں سوچا۔۔۔اور عقیدت کو کال ملائی۔۔۔۔۔
اس نے کال نہیں اٹھائی تو اسلم کے نمبر پر کال ملائی ۔۔۔۔۔جو دوسری ہی بیل پر ریسیو کر لی گئی تھی۔۔۔۔۔
ہاں اسلم کہاں ہو۔۔۔۔۔۔اس نے کال اٹھاتے ہی پوچھا۔۔۔۔
سر میں میم کو لے کر آیا تھا ریسٹورنٹ وہ اپنی فرینڈ کے ساتھ اندر ہے۔۔۔ اُنہوں نے انتظار کا کہا ہے اس لئے میں ان کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
اسلم نے تفصیلی جواب دیا۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے خیریت سے آنا۔۔۔اس نے مزید کچھ پوچھے بغیر کال بند کر دی ۔۔۔۔۔
جب کے دماغ مختلف سوچوں میں غرق ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اگر دوست بیمار تھی تو وہ ریسٹورنٹ میں کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔اور اگر دوست سے ملنا ہی تھا تو گھر میں جھوٹ کیوں بولا۔۔۔۔۔۔
سر میں شدید درد تھا اس لئے وہ بنا فریش ہوئے بستر پر لیٹ کر سو گیا۔۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓
اسے اسپتال آئے ایک مہینہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔زخم بھی اس کے تقریباً بھر چکے تھے۔۔۔۔۔مگر وہ دشمن جان اس دن کا گیا ابھی تک لوٹ کر نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ گھر میں سب سے بات کرتا تھا مگر نا اس کو کبھی کال کی نا بات کرنے کی خواہش ظاہر کی یہی بات اس کو بہت تکلیف دیتی تھی۔۔۔۔۔
سالار کی اتنی بے رخی اور دھتکار کے باوجود بھی اس کا دل سالار کے لئے تڑپ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس دن جزبات میں آکر اس نے سالار کو جو واپس جانے کا کہا اس کا بہت پچھتاوا تھا ۔۔۔۔۔اس کا دل سالار کے مظبوط حصار کے لئے تڑپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
بے چینی سے کروٹ بدلتے بدلتے تھک گئی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ماتھے پر غصے سے بل پڑے۔۔۔۔۔کیوں وہ اس ظالم کو دیکھنے کے لیے ترس رہی تھی۔۔۔۔۔۔
پہلے بھی کبھی ان کے بیچ حالات سازگار نہیں رہے۔۔۔۔مگر وہ آس پاس تو ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ سوچ کر وہ اٹھی اور سالار کے وارڈروب کی طرف بڑھی وہاں سے سالار کی ایک شرٹ نکالی۔۔۔۔یہ سالار کی وہی شرٹ تھی
جو اسلام آباد میں سالار اسے اپنے ہاتھوں سے پہنا چکا تھا۔۔۔۔یہ سوچ کر ہی جزا کا چہرہ سرخ کندھاری ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ایک چور نظر آس پاس ڈالتی شرٹ اٹھا کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔دو آنکھوں نے مسکراتے اس کی ہر حرکت بغور دیکھی تھی۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ سالار خانزادہ کی شرٹ زیب تن کئے لہراتے سلکی بالوں کو جھوڑھے میں باندھتی باہر نکلی تھی۔۔۔۔۔۔
ناجانے کیوں اسے خود پر کسی کی نظروں کی تپش شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔مگر آس پاس کسی کو نا پاکر اپنا وہم سمجھتی کمفرٹر اوڑھ کر بستر پر لیٹ گئی۔۔۔۔۔
سالار جو کیمرے میں اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا اس کی بے چینی دیکھ کر گہرا مسکرایا ۔۔۔۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ بند کرتا موبائل جیب میں ڈال کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
رات اندھیرے وہ گھر میں داخل ہوا تو گھر میں مکمل خاموشی تھی۔۔۔۔۔۔وہ دبے پاؤں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہ جھانسی کی رانی اس کی نیند اڑائے اپنے معصوم چہرے کے ساتھ۔۔۔۔۔پر سکون نیند سو رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے جھک کر جزا کو بازوؤں میں بھر لیا۔۔۔۔اور کمرے سے نکلتا اسے پورچ میں کھڑی اپنی گاڑی کے بیک سیٹ میں لٹایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کو خانزادہ ہاؤس سے نکال کر روڈ پر ڈال گیا۔۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ نے اپنی کھڑکی سے یہ منظر سنجیدگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر اس نے جزا کو بازوؤں میں اٹھا کر گاڑی سے نکالا۔۔۔۔۔جزا مسکرا کر اس کے کندھے پر سر جما گئی۔۔۔۔وہ شاید نیند میں اسے اپنا خواب سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ اسے اٹھائے اس بنگلے کے چھت پر آیا تھا جہاں پوری چھت کو بیت خوبصورتی سے لالا گلاب اور سفید پردوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
پردوں کے بیچ میٹریس سیٹ کئے گئے تھے۔۔۔۔۔جو سفید چادر سے کور تھے ۔۔۔۔۔سالار اسے لا کر میٹریس میں آرام سے لٹا گیا۔۔۔۔۔
سالار کو اس کی اتنی پکی نیند پر حیرت ہوئی۔۔۔۔۔جو ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اس سے مزید جزا کا سکون برداشت نا ہوا تو وہ جھک کر اس کی سانسوں کو قید کر گیا۔۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ اس کے لمس میں شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔۔۔۔
جزا جو اس کا اپنے پاس ہونا خواب سمجھ رہی تھی ایک دم جھٹکے سے آنکھیں کھولی۔۔۔۔اس کو خود پر جھکے دیکھ کر جزا نے اسے خود سے دور جھٹکا۔۔۔۔
حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔جہاں کبھی سالار کے سر پر لا پرواہی سے بکھرے ہوئے خوبصورت بال ہوا کرتے تھے۔۔۔۔آج وہاں چھوٹے چھوٹے سے بال تھے۔۔۔۔وہ پرانے سالار سے بلکل مختلف لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ ہر روپ میں کمال لگتا ہے ۔۔۔۔اس وقت جزا کے دل نے یہ بات قبول کی تھی۔۔۔۔۔
ہیپی برتھڈے مائی لو۔۔۔۔۔۔سالار اس کے کان میں دھیرے سے سرگوشی کرتا اس کی کان کی لو کو چوم گیا۔۔۔۔۔
جزا نے ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر اپنا حلق تر کیا تھا۔۔۔۔۔یہ رومانوی ماحول اس کے کمرے کا تو نا تھا۔۔۔۔۔۔وہ یہاں کیسے آئی اسے سمجھنے میں وقت نہیں لگا۔۔۔۔۔۔
میں کہاں ہوں ۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
تم یہاں میرے دل میں ہو۔۔۔۔۔۔سالار نے بھاری گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔سالار کی بات پر اس کی پلکیں ایک پل کو لرزی مگر فوراً خود کو سنبھال کر بولی۔۔۔۔
وہ کوئی خوش فہمی نہیں پالنا چاہتی تھی۔۔۔۔کیا پتہ اگلے ہی پل بول دے۔۔۔۔مجھے تم سے محبت نہیں ۔۔۔۔۔۔
سالار نے کھینچ کر اسے سینے میں بھینچا تھا۔۔۔۔۔اس کی اچانک حرکت پر جزا تھم گئی۔۔۔۔۔۔
دل سینہ توڑ کر باہر آنے کو مچل رہا تھا۔۔۔۔۔۔دھڑکنوں نے الگ شور مچایا تھا۔۔۔جبکہ روح میں سکون کی ایک لہر سرایت کر گئی تھی ۔۔۔۔۔۔اتنے دنوں کی جو بے چینی غصہ چڑچڑا پن تھا ۔۔۔وہ سکون میں بدل گیا تھا۔۔۔۔
دور جانے کی بات مت کرو۔۔۔۔۔سالار کی سرگوشی پر اس نے سختی سے آنکھیں میچی تھی۔۔۔۔مگر یہ کچھ سیکنڈ کے لئے تھا۔۔۔۔اس نے جھٹکے سے سالار کو دور جھٹکا۔۔۔۔۔۔
مجھے ہاتھ مت لگانا ۔۔۔۔۔۔۔اسے غصہ الگ تھا خود کے دل پر۔۔۔۔جو اس کے پاس آنے پر پگھل رہا تھا۔۔۔۔۔
نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔تم سے دور جانے کا سوچ کر ہی دل بند ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔
سالار آج اپنے عمل سے ہی نہیں اپنے لفظوں سے بھی اسے حیران کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔۔ آپ مجھ سے محبت کر ہی نہیں سکتے۔۔۔۔اپ نے ہمیشہ مجھے دھتکارا ہے ۔۔۔۔سالار کے اظہار پر اس کا دل بھر آیا تھا۔۔۔۔۔
کیا میری محبت کے لئے یہ کافی نہیں کہ تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔۔۔۔سالار نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرکر محبت سے کہا۔۔۔۔
مجبوری کے تحت کیا گیا نکاح تھا وہ آپ کی دلی رضامندی نہیں تھی۔۔۔۔۔وہ اپنے آنسو کو روکنے کی کوشش کرتی بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔۔۔
کیسی مجبوری۔۔۔۔۔۔۔سالار نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
کیونکہ عین بارات والے دن میری بارات نہیں آئی تھی۔۔۔۔اس لئے خاندان کی عزت بچانے کے لیے آپ نے مجھ سے شادی کی۔۔۔۔۔وہ شرٹ کی آستین سے ناک پوچھتے ہوئے بولی۔۔۔
اس کو غائب کروانے والا بھی میں تھا کیونکہ میں تمہیں کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔یار۔۔۔۔اس کی سنجیدگی سے کہنے پر جزا نے گردن اٹھا کر حیران نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
ہاں عرش کے کزن کو غائب کروانے میں میرا ہاتھ تھا۔۔۔۔۔۔
مگر کیوں۔۔۔۔وہ جتنے آرام سے بولا جزا اتنی ہی زور سے چیخی تھی۔۔۔۔۔
اتنا بے غیرت ہوں کیا جو اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ رخصت ہونے دیتا۔۔۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولا تو جزا نے اس کا گریبان جھکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔
آپ کی وجہ سے میری کتنی بدنامی ہوئی بارات نا آنے پر لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں ۔۔۔۔۔۔۔پہلے آپ نے مجھے دھتکارا۔۔۔۔۔پھر آپ نے مجھے پورے خاندان کے سامنے رسوا کیا۔۔۔۔پھر نکاح کر کے مجھ پر احسان جتایا۔۔۔۔۔اور بار بار میرے منہ پر میری محبت مارتے رہے۔۔۔۔۔کیوں آخر کیوں۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر چلائی تھی۔۔۔۔
جزا میری جان چپ۔۔۔۔۔سالار نے اسے سینے سے لگانے کی کوشش کی مگر اس کا ہاتھ جھٹک کر وہاں سے اٹھی اور ان پردوں سے باہر آگئی تھی۔۔۔
جہاں اس کی برتھڈے سیلیبرٹ کرنے کے لئے بہت پیارا ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔
سالار نے پیچھے سے آکر اسے بانہوں میں بھرا تھا جو منہ پر ہاتھ رکھے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔۔
میں مانتا ہوں ہر بار میری غلطی رہی ہے۔۔۔۔۔۔مجھے بہت دیر سے اپنی محبت کا احساس ہوا۔۔۔۔اگر مجھے احساس ہوتا میں تمہارا رشتہ اس سے ہونے ہی نہیں دیتا ان دنوں میں فاطمہ کی وجہ سے گلٹ میں تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا جزا لیکن جب تمہاری مہندی ہوئی اس وقت میں برداشت نہیں کر پایا اس لئے عرش کے کزن کو میں نے کڈنیپ کروا لیا۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کردو پلیز۔۔۔۔۔
میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے لرزتے وجود کو بانہوں میں بھرے اس کے کان میں ہلکی ہلکی سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔۔۔
جزا نے کوئی مزاحمت نہیں کی ناجانے کیوں اس کا دل اس کے ساتھ بغاوت کر رہا تھا۔۔۔۔
مگر ۔۔۔آپ ۔۔۔فاطمہ سے ۔۔۔محبت۔۔۔۔وہ اپنے آنسوؤں کی وجہ سے بات مکمل نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔۔
میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں بے پناہ۔۔۔۔۔اگر کوئی سالار خانزادہ کے دل میں ہے وہ صرف جزا سالار ہے۔۔۔۔۔سالار نے اسے موڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔۔رونے کی وجہ سے آنکھیں سوجھ چکی تھی۔۔۔۔۔ پورا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔۔۔۔
تم جانتی ہو فاطمہ میری بہت اچھی دوست تھی۔۔۔۔۔۔صاف دل کی بنا کسی غرض کے لوگوں کے کام آنے والی خوبصورت دل کی مالک تھی ۔۔۔۔وہ ایک بہترین اور زندگی سے بھر پور لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔
جب مجھے اپنے لئے تمہاری فیلینگز کا پتہ چلا نا تو میں بہت ڈر گیا تھا۔۔۔۔کیونکہ میں نے پہلے کبھی تمہیں اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔پھر میں نے فاطمہ سے مدد مانگی تاکہ تم مجھ سے خود ہی دور ہو جاؤ۔۔۔۔۔
لیکن اس ۔سیاہ رات میں اسے میرا فون یوز کر کے فیملی فنکشن کے نام پر بلایا گیا۔۔۔۔اور وہ بچاری میرے نام پر بھروسہ کر کے وہاں چلی گئی۔۔۔۔۔وہ صرف میرے بھروسے آئی تھی لیکن اس جانور نے اسے بے دردی سے مار دیا۔۔۔۔۔
میں آج بھی اس معصوم لڑکی کو بھول نہیں پاتا جزا کاش وہ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتی تو آج زندہ ہوتی۔۔۔۔
سالار کی ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں کو دیکھ کر جزا اس کے سینے سے لگتی اس کے گرد بازو باندھ گئی۔۔۔۔۔۔
میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔مجھے تھام لو۔۔۔۔میں اپنی اس ادھوری زندگی سے تھک چکا ہوں۔۔۔۔
سالار نے اس کے بالوں میں چہرہ چھپاتے گھمبیر لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔
آپ مکر جائیں گے۔۔۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی۔۔۔جبکہ دل اس کی باتوں پر ایمان لے آیا تھا۔۔۔۔اگر جو مکروں تو جان لے لینا۔۔۔۔سالار نے اس کی گردن پر لبوں کا لمس چھوڑا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ جزا کا نارمل ریکشن دیکھ کر دل پر سکون ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ورنہ اسے لگا تھا وہ جزا کو منا نہیں پائے گا۔۔۔۔۔۔
میں سچی میں آپ کی جان لے لوں گی۔۔۔۔پھر خود کو بھی مار دوں گی۔۔۔۔۔وہ جنونی انداز میں بول کر اس کے گال پر ہلکے سے دانت گاڑھ گئی۔۔۔۔۔
سالار ایک دم شاکڈ ہوا تھا اسے جزا سےا س بے باکی کی امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مدہوش ہو کر اس پر جھکتا وہ کھلکھلا کر اس سے دور ہوئی تھی۔۔۔۔۔اپنے حلیے پر نظر پڑتے ہی ہونٹوں پر ایک شرمگیں مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔۔
مجھے کیک کاٹنا ہے۔۔۔۔۔جزا نے اس کی نظروں سے گھبرا کر کہا۔۔۔۔۔
بعد میں کاٹ لیں گے ادھر آؤ ۔۔۔۔۔سالار خمار آلود لہجے میں بولتا اس کی طرف قدم بڑھانے لگا۔۔۔
نہیں سالار مجھے ابھی کیک کاٹنا ہے مجھے بھوک لگی ہے ورنہ میں ناراض ہو جاؤنگی ۔۔۔۔۔۔اس نے سالار کو اپنے ارادے سے روکنے کے لیے کہا ۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد تم میری بھوک کا انتظام کروگی۔۔۔۔۔مجھے روکو گی نہیں وہ زو معنی لہجے میں بولتا
اسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔۔
سالار کیک کے اوپر سے ٹرانسپیرنٹ باکس ہٹا کر اسے پاس آنے کا شارہ کیا۔۔۔۔۔۔وہ پنک کلر کا بہت خوبصورت کیک تھا جس میں بڑے بڑے لفظوں میں ۔۔۔HBD..jaza salar لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر اس کے پاس آئی ۔۔۔۔۔سالار نے اسکے ہاتھ پر چھری پکڑا کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
جزا نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔ہیپی برتھڈے میری جان۔۔۔۔سالار نے اس کی آنکھوں پر لب رکھے تو وہ مسکرا کر کیک کاٹنے لگی۔۔۔۔۔
اس نے سالار کی طرف کیک بڑھایا تو سالار نے اس کے ہاتھ سے کیک لے کر پہلے جزا کو کھلایا ۔۔۔۔۔پھر تھوڑا سا کیک اس کے گال پر لگایا ۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا میرا گال گندا ہو گیا وہ منہ بنا کر بولی ۔۔۔سالار نے اس کا چہرا اپنی طرف کیا اور جھک کر اس کے گال اور ہونٹوں پر لگے کیک کو کھانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سا۔۔لار۔۔۔۔اس نے گھبرا کر پکارا۔۔۔۔شش سالار اسے گود میں اٹھاتا اندر بڑھنے لگا ۔۔۔۔جزا گھبرا کر اس کی شرٹ تھام چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
دل کانوں میں دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اسے سفید پردوں سے ڈھکے اس خوبصورت بستر پر لٹاتا اپنی شرٹ اتارنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل اس نرم و نازک پرکشش وجود میں خود کو گم کردینے کا تھا ۔۔۔۔۔۔
جزا اس کو شرٹ اتارتے دیکھ کانپتے وجود سے اٹھ بیٹھی تھی دل کیا وہ اس کی نظروں سے بچ کر کہیں غائب ہو جائے ۔۔۔۔۔
لیکن اس کی نظریں بہت بے باکی سے جزا کے وجود کے آر پار ہو رہی تھی۔۔۔۔۔جزا گھبرا کر ہمت کر کے اٹھی مگر سالار اسے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ بستر پر گرا چکا تھا۔۔۔۔۔
اس کے وجود سے اٹھتی مہک پوری طرح سالار کو مدہوش کررہی تھی۔۔۔۔۔۔جزا کو اس کی دھڑکنیں اپنی پیٹھ پر دھڑکتے محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا ور اس کے ہونٹوں پر جھک کر ان ہونٹوں کو قید کر گیا۔۔۔۔۔۔جزا گھبرا کر اس کے کندھوں سے تھام چکی تھی۔۔۔۔۔۔
جبکہ سالار خانزادہ اپنی بے تاب سانسیں اس کی سانسوں میں انڈھیلتا خود کو سیراب کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کو ہونٹوں کو آزادی بخشے بغیر وہ اس کی شرٹ کی بٹن پر ہاتھ رکھتا انہیں کھولنے لگا ۔۔۔۔۔۔
جزا اس سے خود کو چھڑا کر دور ہوئی۔۔۔۔دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ کہ وہ اپنی ہی دھڑکنوں سے پریشان ہوئی۔۔۔۔۔
سالار اپنے کھردری ہاتھوں کو اس کی کمر میں باندھ کر اسے بیڈ پر لٹا گیا اور بہت بے تابی سے اس کی شرٹ کے بٹن کو کھول کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔۔۔۔
سالار اس کے نچھلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لے کر بری طرح چومنے لگا۔۔۔۔۔
جبکہ دائیاں ہاتھ جزا کی گردن پر اس کی نرمی کو محسوس کررہے تھے۔۔۔۔۔
دوسرے ہاتھ کو کندھے کے حدود پار کرتا محسوس کر جزا نے گھبرا کر سالار کا ہاتھ پکڑ کے روکا تھا۔۔۔۔۔۔
سالار اس کے دونوں ہاتھوں کو قید کرتا خماری سے اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔
وہ اب اپنے لبوں کا لمس رقم کرتا وہ جزا کی سانسیں روکنے کا باعث بن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
سالار اس کے کندھے سے شرٹ کھسکاتا نیچھے کر گیا۔۔۔۔اور اس کے خوبصورت خوشبو بکھیرتے وجود میں خود کو گم کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی دھڑکنوں کا شور آسانی سے سن رہے تھے۔۔۔۔ایک وجود میں بے تابی تھی تو دوسرا وجود اپنے ہی دھڑکنوں سے خوفزدہ۔۔۔۔۔
جزا کا وجود اس کے لمس پر بری طرح لرز رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کی بے باکی پر جزا نے سسکی بھری تھی جبکہ اس کی گھبراہٹ پر وہ مزید اس کا دیوانہ ہوتا اس کے وجود پر اپنے لبوں سے مہر لگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پیٹ پر سالار کے کھردرے ہاتھ بہت بے باکی سے سفر کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں کو اپنے بدن پر رقص کرتا دیکھ جزا نے اسے دور دھکیلنے کی کوشش کی مگر وہ مزید اس کے قریب ہوتا اسے کے وجود پر اپنا لمس چھوڑتا اسے بے باکی سے خود میں گم کرتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بے تابی۔۔۔بے چینی اور محبت پر جزا خود کو بے بس محسوس کرتی اپنا آپ اس کے حوالے کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جیسے جیسے رات گزرتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔سالار خانزادہ
جزا پر اپنا گرفت سخت کرتا گیا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓
بابا۔۔۔۔۔۔منت نے آدم کی گود میں لیتے اسے پکارا جس کی نظریں شفا پر جمی تھی۔۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔آدم کی نظریں اب بھی شفا پر ہی تھی جو اپنا نم بالوں کا جوڑا بنائے منت اور اپنے کپڑے نکال رہی تھی۔۔۔۔
کیونکہ رات میں جزا کی برتھڈے پارٹی تھی۔۔۔۔۔
آپ بال بال مما تو دیت رے ہیں ۔۔۔۔مدے نئی دیت رے(آپ بار بار مما کو دیکھ رہےہیں مجھے نہیں دیکھ رہے۔۔۔۔۔منت کے منہ پھلا کر کہنے پر آدم سیدھا ہو کر بیٹھا تھا ساتھ میں اسے بھی بٹھا لیا ۔۔۔۔
شفا بھی ان کی طرف متوجہ ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
میرا بیٹا بابا تو آپ کو دیکھ رہے ہیں آپ کی مما کو تو میں نے دیکھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس نے جلدی سے جھوٹ بولا کہیں ناراض نا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔
مما تہتی ہے۔۔۔دوھٹ بولنا دنا ہے اللّٰہ نالاز ہوتا ہے
(مما کہتی ہیں جھوٹ بولنا گناہ ہے اللّٰہ ناراض ہوتا ہے)
منت نے اپنے باپ کو شرم دلانے کی کوشش کی تو شفا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اسے اپنی معصوم بچی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔۔جو اس کی سکھائی ہر بات کو نا صرف سیکھتی تھی بلکہ یاد بھی رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
شفا کے مسکرانے پر آدم نے اسے گھور کر دیکھا تھا جبکہ دل میں خوشی بھی ہوئی۔۔۔شفا کی تربیت پر۔۔۔۔۔
اچھا بابا سوری اب جھوٹ نہیں بولوں گا اور آپ کی مما کو بھی نہیں دیکھوں گا۔۔۔۔۔۔۔آدم نے اس چھوٹی دادی اماں کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
تیوں نئی دیتیں دے(کیوں نہیں دیکھیں گے)اس نے گھور کر اپنے باپ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ منت کی مما بلکل بھی پیاری نہیں ہیں وہ شرارتی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے شفا کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔۔۔
جو اپنا کام کرتے ہوئے بھی دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ ان کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔
نو میلی مم تب تے پیالی ہے پولی دنیا تے زیادہ پیالی(نو میری مما سب سے پیاری ہے پوری دنیا سے زیادہ پیاری۔۔۔۔۔)
وہ اپنے لال پھولے ہوئے گالوں کو مزید پھولا کر آدم کے پاس سے اٹھ کر شفا سے لپٹ گئی تھی۔۔۔جو صوفے پر بیٹھی کپڑے طے کررہی تھی۔۔۔۔۔
شفا نے کپڑے سائیڈ پر رکھتے اس کے گالوں کو چٹا چٹ چوم ڈالا۔تھا۔۔۔۔۔
اور فخریہ انداز میں آدم کو دیکھا۔۔۔۔
کبھی میرے گالوں پر تو یوں مہربان نہیں ہوئیں آپ۔۔۔۔آدم کی بھاری گھمبیر لہجے پر اس کی پلکیں لرزی تھی۔۔۔۔۔
میں آپ تے نالاز ہوں۔۔۔۔۔منت نے آدم کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
کیوں بھئی میں نے کیا کیا۔۔۔۔آدم نے نا سمجھی سے پوچھا
آپ نے میلی مما تو پیالی نئ بولا (آپ نے میری مما کو پیاری نہیں بولا۔۔۔۔اس نے زرا ناراضگی سے بولا۔۔۔۔۔۔
اچھا منت کی مما سب سے پیاری ہے۔۔۔۔۔اوکے اب تو ناراضگی ختم کرو۔۔۔۔آدم نے اس چھوٹی سی لڑکی سے معافی مانگی۔۔۔۔جو ماں کی موجودگی میں باپ کو بھول جاتی تھی۔۔۔۔۔۔اور اس کی ہر بات پر نقص نکال رہی تھی۔۔۔۔
آئستریم پر مانوں دی۔۔۔۔اس کی شرط پر آدم نے اسے گھورا تھا جو اتنی سی عمر میں بھی اپنا فائدہ نکال رہی تھی۔۔۔۔۔
میں بھی گول گپے کھاؤں گی منت کے ساتھ ساتھ شفا نے بھی موقع سے فائدہ اٹھانا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔
بلکل نہیں گلا خراب ہو جائے گا ۔۔۔۔آدم نے قطعی طور پر منع کیا۔۔۔۔
اوکے ہم بھی نہیں مانے گے چلو منو ہم چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس کے منع کرنے پر شفا بھی اترا کر منت کا ہاتھ تھامتی اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔جس کا مطلب تھا جب تک آئسکریم اور گول گپے نہیں کھلائیں گے ہم نہیں مانیں گے ۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے بٹ رات میں ۔۔۔۔۔برتھڈے سیلیبرشن کے بعد۔۔۔۔آدم نے ان کی ناراضگی سے بچنے کے لئے ماننا ہی ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔
آپ تب سے بیت بابا ہو( آپ سب سے بیسٹ بابا ہو) منت نے خوش ہو کر اس کے گال پر لب رکھے تھے۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
چھوڑیں مجھے ورنہ اب میں سچ میں رو دوں گی۔۔۔۔۔آیت نے اس کے سینے پر مکے برساتے کہا۔۔۔جس نے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا۔۔۔۔۔اسے اپنے اس دن کے فیصلے پر پچھتاوا ہوا تھا جب وہ اسے منانے کے لیے پاکستان سے دبئی آئی تھی۔۔۔۔۔۔پورے دو ہفتے سے وہ بچاری اپنی مرضی سے نا سو پائی نا جاگ پائی۔۔۔۔۔۔۔
دو ہفتے پہلے۔۔۔۔
اپنا بہت خیال رکھنا وہاں پہنچتے ہی مجھے کال کرنا اور یہ ڈرائیور تمہیں لینے آئے گا یہ تمہیں بالاج کے فلیٹ تک چھوڑ کے آئے گا۔۔۔۔پریشان مت ہونا۔۔۔۔۔
آدم اسے ائیرپورٹ پر چھوڑتا پیار سے سمجھانے لگا ۔۔۔ٹھیک ہے بھائی۔۔۔۔۔میں پہنچ کر آپ کو فون کردوں گی۔۔۔۔
فلائٹ کی آناؤنسمنٹ پر وہ اپنا سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئی اندر بڑھ گئی۔۔۔۔
اس کے اندر جاتے ہی سالار بھی اپنے ہاتھ میں پاسپورٹ اور ٹکٹ لئے آدم کی طرف آیا تھا ۔۔۔۔۔
اوکے اپنا اور آیت کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔آدم اس سے مل کر بولا۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ آیت کو اکیلے بھیجنے کے حق میں نہیں تھے اور آیت اکیلے جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔اس لئے سالار بنا اسے بتائے۔۔۔۔۔اس کے ساتھ جا رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بہن کواس کے اصل مقام تک پہنچا کر آنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
اس کے بعد سالار اس کے بالاج کے فلیٹ تک پہنچنے تک اس کے پیچھے رہا بعد میں وہاں سے کچھ شاپنگ کر کے پاکستان کی فلائٹ پکڑ کے واپس پاکستان روانہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔
آیت نے لرزتے دل کے ساتھ بیل پر ہاتھ رکھنا چاہا۔۔۔لیکن کھلا دروازہ دیکھ کر وہ آہستہ قدم اٹھاتی اندر بڑھی۔۔۔۔۔اس نے اپنے آنے کا شاہ مینشن میں بھی کسی کو نہیں بتایا تھا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ بالاج کو خود منا لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔فلیٹ پورا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔لیکن آدم نے کہا تھا اس کے فلیٹ میں اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا اس لئے اس نے تسلی کے ساتھ ابھی پہلا قدم اندر رکھا ہی تھا کہ اچانک کسی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر کھینچ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اندھیرے کے باوجود وہ بالاج شاہ کے لمس اور خوشبو سے اسے پہچان چکی تھی۔۔۔۔
کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں آئی ہو۔۔۔۔بالاج کی لڑکھڑاتی آواز سن کر اسے ایک جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔اسے سمجھنے میں سیکنڈ سے بھی کم وقت لگا تھا کہ اس نے شراب پی ہے۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
