Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

شاہ مینشن میں ایک خوبصورت صبح کا آغاز تھا۔۔۔۔۔
آیت بالاج کے اٹھنے سے پہلے ہی تیار ہو کر باہر آگئی تھی۔۔۔۔۔
سرخ جوڑے میں ہلکا سا میک اپ کئے کانوں میں نازک سے ٹاپس پہنے وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
اماں جان نے اسے اپنے پاس بٹھا کر نظر اتاری تھی۔۔۔۔اور اس پر سے پیسے وار کر ملازمہ کو پکڑا دیئے تھے۔۔۔۔
اللّٰہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے آباد رکھے۔۔۔۔اماں جان کی دعا پر وہ دھیمے سے مسکرائی تھی۔۔۔۔
میں بہت خوش ہوں تم اپنی مرضی سے اپنے اصل کے پاس چلی گئی۔۔۔۔۔
تمہاری اس سمجھداری کی میں قائل ہو گئی ہوں۔۔۔۔
سمجھدار بیویاں ہی گھر کو جنت بناتی ہے ۔۔۔۔۔
اماں جان اس کی تعریفیں کرنے لگی وہ بس دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
بیٹا جاؤ بالاج کو بلا کر لاؤ ناشتے کا ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔اماں جان کے کہنے پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔
وہ شرٹ لیس اوندھے منہ بیڈ پر سویا ہوا تھا۔۔۔۔اس کو اس حالت میں دیکھ کر اس کی پلکیں لرز گئیں ۔۔۔۔
سنئے اٹھیں اماں جان بلا رہی ہیں ۔۔۔اس نے دوسری طرف دیکھ کر بالاج کو پکارا۔۔۔۔
دو تین بار آواز دینے پر بھی اس کو اٹھتا نا دیکھ اسے غصہ آگیا تھا۔۔۔۔
اٹھیں ۔۔۔۔اس نے بالاج کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وہ سیدھا ہوتا اسے کھینچتے اپنے اوپر گرا چکا تھا۔۔۔۔
اس کی حرکت پر آیت گھبرا کر اس کے کندھے کو سختی سے تھام چکی تھی۔۔۔۔۔
ملائم ہاتھ معصوم چہرہ یہ خوب صورت نین اور ہونٹ۔۔۔
قتل باقی ہے بس۔۔۔۔اوزار تو سب پورے ہیں۔۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے گھمبیر لہجے میں شاعری بولتا ا سے لال کر گیا تھا۔۔۔۔
وہ خود کو چھڑا کر اٹھنے لگی ۔۔۔۔۔
ابھی کہاں جانم ابھی ہماری آنکھوں کی پیاس بجھی نہیں ۔۔۔وہ اسے مزید خود میں بھینچ گیا۔۔۔۔
پلیز چھوڑیں ۔۔۔۔اماں جان بلا رہی ہیں ۔۔۔۔شرم سے اس کا نظریں اٹھانا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اماں جان کے پوتے پر دھیان دو۔۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں کو پکڑ کر خود پر جھکاتے اس کے ہونٹوں پر لب رکھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
آیت سختی سے آنکھیں میچ کر خودکو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
شہد کی مٹھاس اپنی جگہ ۔۔۔۔
مگر ہائے تمہارے ہونٹ۔۔۔
وہ اس کے ہونٹوں کو آزادی بخشتا اسے دیکھ کر بے باکی سے بولا۔۔۔۔
اس کی گرفت ڈھیلی محسوس کر کے آیت ایک سو بیس کی اسپیڈ سے کمرے سے نکلی تھی۔۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی بالاج شاہ بھی اٹھتا اپنے کپڑے لے کر واش روم میں بند ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
امی۔۔۔۔۔۔اس نے جھجھک کر سجدہ بیگم کو پکارا تھا۔۔۔۔۔۔
سجدہ بیگم نے مڑ کر اسے دیکھا جو گلابی کلر کے لان کے سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔
بیٹا تم اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی ۔۔۔۔سجدہ بیگم اس کے پاس آئی تھی اس وقت وہ دونوں کچن میں کھڑے تھے۔۔۔۔
میں آپ کے ساتھ ناشتہ بنانے آئی ہوں۔۔۔۔عقیدت نے مسکرا کر کہا۔۔۔
بلکل نہیں کچن کے لیے میں اور بھابھی ہیں نا ہم سب کر لیں گے تم آرام کرو یہ آرام کے دن ہیں ۔۔۔۔گھوموں پھروں عرش کے ساتھ۔۔۔۔باہر جاؤ
پھر بچوں کے بعد ویسے بھی گھومنے کا وقت نہیں ملے گا۔۔۔۔
سجدہ بیگم محبت سے کہہ کر اسے باہر لے آئی تھی۔۔۔۔۔
مگر مجھے فری بیٹھنا اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔وہ معصومیت سے بولی۔۔۔۔۔
عرش سے بول کر میں تمہارے لیے کتابیں منگواتی ہوں جس میں بچوں کی کئیر کیسے کرنی چاہیے ۔۔۔۔کیسے بچوں کو اٹھانا چاہئے سب لکھا ہوتا ہے۔۔۔۔
بس وہ پڑھنا وقت گزر جائے گا۔۔۔۔باقی وقت تم گھومنے پھرنے میں گزارو ۔۔۔۔۔۔
سجدہ بیگم اسے سمجھا کر واپس کچن میں چل گئی۔۔۔۔۔۔
وہ وہاں بیٹھی رب کی بہت بار شکر گزار ہو ئیں تھی جنہوں نے اسے اتنی آزمائشوں کے بعد اس فیملی سے نوازا تھا۔۔۔۔۔۔جن کے ساتھ سکون ہی سکون تھا ۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
آہستہ آہستہ اس نے اپنی آنکھیں کھولی تو خود کو کو آدم خانزادہ کے حصار میں قید پایا۔۔۔۔۔۔
اس نے مندی مندی آنکھوں سے آدم کو دیکھا جو پر سکون سویا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ ایک مکمل مردانہ وجاہت سے بھرپور مرد تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی مونچھیں اور بئیرڈز اسے بہت پسند تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ شخص اسے اندھیرے سے روشنی میں لے آیا تھا۔۔۔۔صرف وہی نہیں بلکہ آدم بھی اس سے محبت کرنے لگا تھا۔۔۔۔یہ بات اسے بلندی پر پہنچا گیا تھا۔۔۔۔۔
کل کیسے اس نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔اس کے تمام تکلیفوں کو وہ اپنے بانہوں میں سمیٹ کر بھولنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔
اسے گزری رات پوری پوری شدت سے یاد آئی تھی اور جیسے جیسے اسے سب یاد آتا گیا اس کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہو گیا تھا۔۔۔۔
وہ اس کا بازو ہٹا کر نکلنے لگی مگر وہ نیند میں بھی اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔۔
سوجاؤ۔۔۔۔وہ سرگوشی میں بولتا اسے قریب کر گیا۔۔۔۔
صص۔صبح۔۔۔ہو۔۔وہ گئ۔۔۔۔۔۔۔۔گھبراہٹ کی وجہ سے اس کے منہ سے الفاظ نکلنے سے انکاری ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔
شش۔۔۔۔آدم کی سزنش پر وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔مگر شرم کے مارے وہ خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔۔۔
وہ چاہتی تھی آدم کے اٹھنے سے پہلے ہی کمرے سے نکل جائے وہ کیسے اس کا سامنا کرے گی۔۔۔۔۔مگر آدم اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔
ابھی بمشکل دس منٹ ہی گزرے تھے کہ دروازے کی آواز پر اس کی آنکھ کھل گئی۔۔۔
گھڑی میں ٹائم دیکھا تو صبح کے آٹھ بج رہے تھے ۔۔۔۔
شفا تو سختی سے آنکھیں میچ کر لیٹی تھی۔۔۔۔۔گزری رات اس کا ڈرنا شرمانا یاد کر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا دروازے پر کون ہو سکتا ہے اس لئے پہلے اٹھ کر وارڈروب کی طرف بڑھا وہاں سے شفا کے کپڑے لے کر اس کے پاس آیا ۔۔۔۔
اٹھیں جا کر فریش ہو جائیں ۔۔۔۔اس نے دھیرے سے شفا کو پکارا مگر اس نے تو جیسے آدم کے سامنے نظر نا اٹھانے کی قسم کھائی تھی۔۔۔۔
شفا اٹھ جائیں جاناں ہم بہت لیٹ ہو گئے ہیں ۔۔۔۔اس نے شفا کے گال پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔
اچھا آپ کے کپڑے یہاں رکھے ہیں میں دروازہ کھولنے جا رہا ہوں منت باہر کھڑی ہے آپ جا کر فریش ہو جائیں ۔۔۔۔
اسے ٹھس سے مس نا ہوتے دیکھ اس کی شرم سمجھتا اس کے کپڑے رکھ کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
اس کے قدموں کی آواز دور محسوس کر کے اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور اپنے پاس رکھے کپڑے اٹھاتی ۔۔۔۔
واش روم میں بھاگی تھی۔۔۔۔۔۔
اسے واش روم میں بند ہوتے دیکھ آدم نے دروازہ کھول کر منت کو گود میں اٹھا لیا تھا جو اسے گھور کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
کیا ہوا میرا بیٹا غشہ ہے آج اپنے پاپا سے۔۔۔۔۔آدن اس کا گال چومتا کمرے میں لے آیا ۔۔۔۔
ماما تو بلاؤ۔۔۔منت نے باپ کو جواب دینے کے بجائے ماں کی تلاش میں کمرے میں نظر دوڑائی ۔۔۔۔۔
پہلے پاپا سے تو ناراضگی ختم کرو نا۔۔۔۔۔آدم اسے اپنے سینے پر لٹا گیا۔۔۔۔
اس نے ناراضگی سے آدم کو دیکھا۔۔۔۔۔میری پرنسس غصہ کیوں ہے۔۔۔۔۔
میں آپ تے بات نہیں تلون دی(میں آپ سے بات نہیں کروں گی)
منت کی ناراضگی برقرار تھی۔۔۔آدم کا قہقہ پورے کمرے میں گونجا تھا اس کی چھوٹی پھولی سی ناک دیکھ کر۔۔۔
آکر اپنی بیٹی کو سنبھالیں ۔۔۔۔۔۔میں باہر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
شفا کو واشروم سےنا نکلتے دیکھ وہ ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی کلک کی آواز کے ساتھ وہ دروازہ کھول کر باہر آئی تھی۔۔۔۔
منت اس کو دیکھ کر لپٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
شفا نے بھی اس کے گال چوم لئے۔۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ جو اس کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا بلیک سوٹ پہنے گیلے بالوں میں نکھرے روپ میں باہر آتا دیکھ کر وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکل آیا۔۔۔۔
مجھے مکمل کرنے کا شکریہ زندگی۔۔۔۔۔اس نے پیچھے سے شفا کے گھنے بالوں والے سر پر لب رکھے تھے۔۔۔۔
شفااس اچانک افتاد پر گھبرا گئی۔۔۔۔
وہ تو سمجھی تھی وہ کمرے سے چلا گیا یے۔۔۔۔۔
شفا کا دل بے اختیار زور سے دھڑکا اسکی بوجھل سرگوشی پر ۔۔۔۔۔اس نے مڑنے کی کوشش کی مگر آدم نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا ۔۔۔۔
اس کی سرگوشی اتنی دھیمی تھی کہ وہ بھی بمشکل سن پا رہی تھی ۔۔۔۔۔
منت ان سب سے بے خبر ابھی تک شفا کی کمر میں ہاتھ باندھے اس کے پیٹ سے لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔
باپ بیٹی کے بیچ اپنی سچویشن سوچ کر اس کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ بکھر گئی تھی جسے چاہ کر بھی وہ ظبط نہیں کر پائی۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی۔مسکراہٹ میرے دل میں آپ کے لئے موجود محبت میں دن بدن اضافہ کرتی جا رہی ہے ۔۔۔۔
وہ دن دور نہیں جب میں اپنا کام دھندا چھوڑ کر آپ کے پہلو سے چپک جاؤں گا۔۔۔۔۔
آدم کی دھیمی سرگوشی پر اس کی جان ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔۔۔اسے کسمساتا دیکھ منت اس سے الگ ہوئی تھی۔۔۔۔
اور منت کے الگ ہوتے ہی آدم جھٹکے سے اس سے دور ہوا تھا۔۔۔
اور واش روم میں گھس گیا۔۔
اس کے جاتے ہی شفا نے ایک گہری سانس لی۔۔۔۔۔۔وہ محبت کی بات کر رہا تھا جبکہ شفا اس کی اچھائی کی وجہ سے اس سے عشق کر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سب ناشتے پر آدم اور شفا کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ان تینوں کو ایک ساتھ ڈائننگ ہال میں داخل ہوتے دیکھ فروا بیگم نے نظر اتاری تھی۔۔۔۔۔۔
آدم کے چہرے پر چمک ہی نرالی تھی اور شفا کا شرمایا روپ انہیں بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔۔۔۔
وہ سب کو سلام کرتے اپنی اپنی چئیر پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔
منت کو فروا بیگم اپنے ساتھ بٹھا چکی تھی۔۔۔۔۔
ہر کوئی مکمل تھا وہاں بس ایک جزا ہی تھی جو اداسی سے ناشتہ کر رہی تھی سالار آج بھی موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔
فروا بیگم ماں تھی کیسے بچوں کی خوشی اور غم کا سمجھ نہیں پاتی۔۔۔۔۔جزا کے لئے وہ اکثر پریشان رہتی تھی مگر ان کو لگتا تھا وہ صرف اپنی ہڈ دھرمی کی وجہ سے اپنا نقصان کرتی ہے۔۔۔۔۔۔
بیٹا میں چاہ رہی ہوں اب عرش کا ولیمہ کر دیا جائے۔۔۔۔
عرش کی شادی کا کسی کو علم نہیں ماشاء اللّٰہ سے اب نیا مہمان آنے والا ہے تو ہمیں اس کام میں دیری نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔۔
میں نے اور سجدہ نے تو اگلے سنڈے کا سوچا ہے اب تم لوگ دیکھ لو۔۔۔۔۔کونسا دن صحیح رہے گا۔۔۔۔۔
فروا بیگم ان دونوں کی طرف دیکھ کر بولیں ۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے امی جیسا آپ لوگوں کو بہتر لگے۔۔۔۔۔میرے خیال سے سنڈے کا دن بہتر رہے گا۔۔۔۔۔۔
جو جو تیاری کرنی ہے وہ ہم کر لیں گے آپ فکر مت کریں۔۔۔۔۔
آدم نے ان کو پُرسکون کیا۔۔۔۔۔۔اور نیچے سے شفا کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔وہ جو پہلے ہی سب کے سامنے گردن نہیں اٹھا پارہی تھی اس کی حرکت پر گڑبڑا گئی۔۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا کوئی پریشانی ہے۔۔۔۔۔سجدہ بیگم نے شفا کی پریشان صورت دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
ن۔نہیں چھوٹی امی میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔سب کی توجہ خود کی طرف دیکھ کر وہ شرمندہ ہو گئی تھی ۔۔۔۔
آدم نے اس کی حرکت دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔۔۔۔
عرش مہمانوں کی لسٹ تم بنا لینا اور سالار سے کہنا آکر مجھ سے آفس میں ملے۔۔۔۔۔
آدم ناشتے سے فارغ ہو کر اٹھ گیا۔۔۔۔۔عرش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔
اب تو غصہ چھوڑو پرنسس۔۔۔۔اب تو مان جاؤ
آدم جانے سے پہلے منت کو منانے لگا ۔۔۔۔۔
میں نئی مانوں دی(میں نہیں مانوں گی)
وہ منہ پھلا کر بولی۔۔۔۔۔۔
اچھا یہ تو بتا دو کیوں ناراض ہے میرا بیٹا۔۔۔۔۔آدم نے مسکین سی شکل بنا کر پوچھا
آپ مدے لوز ماما تے پاس تونے نئی دیتے خد تو داتے ہیں
(آپ مجھے روز ماما کے پاس سونے نہیں دیتے خود سو جاتے ہیں ۔۔۔)
سب کے سامنے اس کی بات پر آدم جی بھر کر شرمندہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
آدم کو اپنے آپ پر غصہ آیااسے پتہ ہوتا اس کی بیٹی اس بات پر ناراض ہے تو وہ اس سے سب کے سامنے پوچھتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔
شفا سے تو وہاں بیٹھنا محال ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی جھکی گردن مزید جھک گئی۔۔۔۔
سب نے اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔
منت جلدی سے ناشتہ فنش کرو ۔۔۔۔آخر بیٹے کا سرخ چہرہ دیکھ فروا بیگم کو ہی خیال آیا اور وہ منت کے منہ میں نوالہ ڈال کر اس کا منہ بند کر گئی۔۔۔۔
آدم سرخ چہرے کے ساتھ ہی وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔عرش بھی اس کے پیچھے ہی نکلا تھا ۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
بالاج بیٹا کچھ دنوں کے لئے بہو کو باہر لے جاؤ گھوم پھر لے گی ہنی مون ہو جائے گا تم لوگوں کا۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ لاؤنج میں ہی بی جان سے اپنے سر کی مالش کروا رہا تھا۔۔۔۔آیت اس کی بے باکی وجہ سے ہانیہ کے ساتھ ہی بیٹھی تھی اس کے اشارے پر بھی وہ کمرے میں نہیں آئی تو مجبوراً وہ بھی باہر آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
آج اس نے صرف آیت کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے آفس سے چھٹی کی تھی مگر وہ تھی کہ ہاتھ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے دھمکی دے کر اماں جان کی طرف پیٹھ کر کے آنکھیں بند کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
تاکہ وہ وہ اس کے سر کی مالش کر سکے۔۔۔۔
سر باہر دو لیڈیز آئی ہیں آیت میڈم سے ملنے۔۔۔۔
ملازم نے آکر انہیں اطلاع دی تو آیت جو بیٹھی ہوئی تھی جھٹکے سے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
ان کو جا کر منع کردو میڈم نہیں ملنا چاہتی ان سے۔۔۔۔بالاج نے اپنی ہی دھن میں منع کر دیا۔۔۔۔۔
ان کو اندر بھیجو منع کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔اماں جان نے آیت کی آنسوں بھری آنکھوں کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
یار اماں جان میں نہیں چاہتا کہ اس۔ خاندان سے میری بیوی کوئی تعلق رکھے۔۔۔۔۔۔
بالاج نے ناراضگی سے کہا ۔۔۔۔۔۔
پلیز مجھے ملنے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔آیت کی بھرائی ہوئی آواز پر اس نے آیت کو دیکھا۔۔۔۔۔جو التجاء کرتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ پل میں ان سمندر جیسی گہری آنکھوں میں ڈوب گیا تھا۔۔۔۔
اسےاس وقت یہ بات ماننی پڑی وہ اس سے ہر بات منوانے کا ہنر رکھتی تھی۔۔۔۔۔
جاؤ ان کو اندر بھیجو۔۔۔۔۔وہ زرا ناراضگی سے کہہ کر اٹھ کر صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔
فروا بیگم فریحہ کے ساتھ آج شاہ مینشن آئیں تھیں ۔۔۔۔ملازمہ کے ساتھ جب وہ اندر داخل ہوئیں تو سامنے ہی آیت بے صبری سے ان کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔
انکو دیکھتے ہی وہ بھاگ کر فروا بیگم کے گلے لگی تھی۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے سگی ماں کی طرح اس کا ماتھا چوما تھا۔۔۔
آخر کو سگی اولاد کی طرح خیال رکھا تھا۔۔۔۔
وہ فروا بیگم سے الگ ہو کر فریحہ سے ملی مگر اس نے فریحہ میں وہ گرمجوشی محسوس نہیں کی جو ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اپنی بہن کو دیکھا جو ناراض نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔شرمندگی سے وہ اپنی نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔
فروا بیگم اور فری نے آگے بڑھ کر اماں جان کو سلام کیا
ہانیہ سے بھی ملی۔۔۔۔مگر وہ مغرور شہزادہ بلیک ٹراؤزر ٹی شرٹ میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے لاپروا انداز میں بیٹھا موبائل یوزر رہا تھا جیسے اس کے علاوہ وہاں کوئی نا ہو۔۔۔۔۔۔۔
اس کی حرکت پر آیت بے وجہ ہی سب کے سامنے شرمندہ ہو گئی۔۔۔۔۔
اتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی وہاں خاموشی تھی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولے ہانیہ اماں جان کے اشارے پر کچن میں چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔
جب پانچ منٹ تک کوئی کچھ نہیں بولا تھا بالاج اپنا موبائل سائیڈ پر رکھتا سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
جی کہیے کیسے آنا ہوا آپ لوگوں کا۔۔۔۔بالاج نے سنجیدگی سے فری سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ جتنا بھی بد تمیز تھا مگر بڑوں سے سرد لہجے میں بات کرنا ب وہ بہت معیوب سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور فری تقریباً اس کی جتنی یا شاید ایک آدھ سال بڑی تھی ایسا اس کا ماننا تھا ۔۔۔۔۔وہ شکل سے ہی پہچان چکا تھا وہ آیت کی بہن ہے۔۔۔۔کیونکہ وہ خوبخو آیت جیسی تھی۔۔۔
فری نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔جسے بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں تھی ۔۔۔۔۔
ظاہر سی بات ہے اتنے دھوکے کھانے کے بعد یہاں ہم دعوتیں اڑانے تو آئے نہیں ہونگے۔۔۔۔۔
اگر آئے ہیں تو کسی کام سے ہی آئیں ہونگے۔۔۔۔۔اگر آپ اپنی مصروفیت سے تھوڑا وقت نکال لیں تو کچھ بات کرنا چاہیں گے۔۔۔۔
فری بھی اس کی بات کے جواب میں طنز کرنا نہیں بھولی تھی۔۔۔۔جبکہ دھوکے کا مطلب آیت اور بالاج اچھے سے سمجھ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے فری کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر اسے غصہ کرنے سے روکا تھا۔۔۔۔۔
اماں جی بچوں سے جو غلطیاں ہو گئی اسے ہم سدھار نہیں سکتے مگر ہم کوئی بہتر راستہ نکال کر اسے صحیح کر سکتے ہیں ۔۔۔۔
اب آیت اور بالاج نے اپنی مرضی سے جو بھی فیصلہ کیا وہ ان کی زندگی ہے لیکن جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں ان سب چیزوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔۔۔۔
ابھی تو کسی کو اس بارے میں پتہ نہیں لیکن جیسے ہی سب کو پتہ چلا خاندان والے باتیں بنائیں گے۔۔۔۔۔لوگ بہت کچھ کہیں گے۔۔۔۔
اس لئے میں چاہتی ہوں کہ اس سنڈے عرش کے ولیمے ساتھ آیت کی رخصتی کر دی جائے ۔۔۔۔۔۔۔
تاکہ کسی کو بھی کچھ بولنے کا موقع نہ ملے ۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے بول کر اماں جان کی طرف دیکھا جو ان کی بات سے سہمت نظر آرہی تھی۔۔۔جبکہ بالاج ابھی تک ویسے ہی اکڑ کے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔۔۔۔۔۔
مجھے منظور نہیں ۔۔۔۔۔۔بالاج نے ان کی بات کاٹی تھی سب نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔