Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط پندرہ

جزا بنت سہیل خانزادہ آپ کا نکاح سالار خانزادہ ولد راحیل خانزادہ کے ساتھ سکہ رائج الوقت حق مہر پچاس لاکھ روپے طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔
اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے ۔۔۔۔۔وہ خالی خالی نظروں سے سب کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
مولوی صاحب نے دوبارہ وہی الفاظ دورائے۔۔۔۔
اس نے سامنے نظر اٹھا کر دیکھا تو نظریں اس ظالم شخص سے ٹکرائیں جو بہت اطمینان سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
ن نہیں ۔۔۔۔۔۔بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا…
اس کی آواز بہت دھیمی تھی جیسے خود سے بڑ بڑائی ہو۔۔۔۔
لیکن ساتھ بیٹھی فروا بیگم نے سنی تھی۔۔۔۔

سب حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے مہمانوں میں بھی ہلکی ہلکی سرگوشیاں ہو رہی تھی۔۔۔
جزا بولو بیٹا مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔فروا بیگم نے جزا کا ہاتھ کو تھاما اس نے بے یقینی سے ان کو دیکھا ۔۔۔۔
مگر امی۔۔۔۔۔جزا مولوی صاحب کو جواب دو ۔۔۔۔۔
آدم کی بھاری گھمبیر آواز پر اس نے اپنے بھائی کو دیکھا ۔۔۔
جو پہلی بار التجا کرتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

وہ کیسے اس انسان کو قبول کر لیتی جو اس کو دھتکار چکا تھا۔۔۔یہ اس کی عزت نفس کو بلکل گوارا نا تھا۔۔۔۔
مگر سوال اس کے بھائی کی عزت کا تھا وہ کیسے اپنی انا کو اپنے بھائی کی عزت سے اوپر رکھتی ۔۔۔۔

آنسوں آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے۔۔۔۔

قبول ہے۔۔۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس شخص کو قبول کر گئی۔۔۔۔
سالار جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اس کے چہرے کے ہر اتار چڑھاؤ کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔اس کے قبول ہے کہنے پر ایک گہری سانس لی۔۔۔۔اور ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اسی طرح تین بار قبول کہنے پر مولوی صاحب نے نکاح نامہ اس کے سامنے رکھا۔۔۔۔

نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے ایک باغی آنسوں آنکھ سے نکل کر نکاح نامے پر گر گیا۔۔۔۔
آدم نے اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔
جزا کے بعد مولوی صاحب سالار کی طرف آئے اور اسی طرح قبول وہ ایجاب کے مراحل طے ہوئے ۔۔۔۔۔
کچھ کے چہرے ہر اطمینان تھا تو کچھ کے چہرے پر پریشانی۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد سالار اٹھ کر جزا کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔
جس کا چہرہ اب اسپاٹ تھا۔۔۔۔۔
آیت تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی یہ اس کی بہت بڑی خواہش تھی جو بن مانگے پوری ہو گئی تھی۔۔۔۔

عقیدت نے پورے ہفتے بعد عرش کو دیکھا تھا مگر اس سے نظریں ملنے پر عرش نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا اور یہ بات عقیدت کے دل میں چھبی تھی۔۔۔
مہمانوں کو رخصت کر کے وہ بھی اپنے گھر آگئے تھے ۔۔۔۔

جزا سالار کی گاڑی میں بلکل خاموشی سے بیٹھی تھی۔۔۔اور سالار بہت سلو ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔
کیا آپ گاڑی تیز چلا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔جزا کی سنجیدگی بھری آواز پر اسنے جزا کی طرف دیکھا جس کی نظریں باہر کی مناظر پر ٹکی تھی۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔سالار کاجواب بھی اتنا ہی اطمینان بھرا تھا ۔۔
اوکے فائن۔۔۔۔۔وہ کہہ کر ابھی چلتی گاڑی کا دروازہ کھول کر کودتی کہ ۔۔۔سالار نے اسے کھینچ کر اپنے پاس کیا اور جلدی سے بریک لگائی۔۔۔۔
وہ پوری طرح اس کے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔۔
سالار کاایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا……اور دوسرا اس کے بازو پر۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔جزا نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
جب کے سالار کی نظریں تو اس کے ہونٹوں پر ٹکی تھی ۔۔۔۔
جو سرخ رنگ سے رنگے اسکے ہوش اڑا رہے تھے ۔۔۔
میں نے کہا مجھے چھوڑیں ۔۔۔۔۔اب کی بار آواز تھوڑی اونچی تھی۔۔۔۔

سالار ایک دم جھکا اور اس کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لے لیا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہونٹوں پر اپنا ستم دکھاتا ۔۔۔۔

اچانک اپنے پیٹ میں کوئی نوکیلی سی چیز چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
سالار نے اس کے ہونٹوں کو آزاد کر کے نیچے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا۔۔۔۔
جہاں ایک چھوٹی سی چھری جزا کے ہاتھ میں تھی اور اس نے وہ چھری اسے کے پیٹ سے لگا رکھی تھی۔۔۔۔کہ اگر وہ اپنی حد پار کرتا تو شاید وہ چھری اس کے پیٹ میں گھونپ دیتی۔۔۔۔
سالار کے چہرے پر مسکراہٹ اپنی چھب دکھلا کر غائب ہو گئی۔۔۔۔
اوکے پلیز مجھے ڈر لگ رہا ہے چھری دور کرو ۔۔۔۔میں گاڑی تیز چلاتا ہوں۔۔۔سالار اسے چھوڑ کر دور ہوا تو وہ بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
سالار نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔
جزا نے ایک نظر اس کو دیکھا جو ڈرنے کی ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔پھر ناگواری سے اپنا رخ موڑ لیا۔۔۔۔۔

دس منٹ بعد جب وہ گھر لوٹے تو سب ہی آچکے تھے اور ان کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
جزا بنا ان پر ایک نظر ڈالے سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔
فری شفا جاؤ بیٹا جزا کو سالار کے کمرے میں چھوڑ آؤ۔۔۔
فروا بیگم کی آواز پر وہ جھٹکے سے مڑی۔۔۔۔۔اور سب کو دیکھا جو اسی کیطرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

سالار بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا مگر اس کی طرف نہیں دیکھا۔۔۔۔
مجھے نہیں جانا کسی کے بھی کمرے میں امی۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں۔۔۔۔وہ بہت تحمل سے بولی یہ وہی جانتی تھی وہ کس طرح سےخود پر ضبط کر رہی تھی۔۔۔۔۔

جزا بیٹا اب تمہاری شادی ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔تم سالار کے کمرے میں ہی رہوگی۔۔۔۔۔
فروا بیگم اس کے پاس آئیں اور دھیرے سے بولی۔۔۔۔

امی میں اس شادی کو نہیں مانتی آپ لوگوں نے جو کرنا تھا کر لیا اب میں وہ کروں گی جو میرا دل کرے گا آپ۔لوگوں کی عزت کی وجہ سے میں خاموش رہی اس کا یہ مطلب نہیں میں اس انسان کے ساتھ ایک کمرے میں رہ لوں گی۔۔۔۔۔بہت جلد میں اس سے طلاق لے لوں گی۔۔۔۔۔

سب حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
سالار کی آنکھیں شدت ظبط سے سرخ پڑھ گئیں ۔۔۔۔
اتنا سننا تھا کہ فروا بیگم دھڑام سے زمین بوس ہوگئی۔۔۔۔۔
سب چیخ کر ان کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔
امی امی۔۔۔۔وہ بھی جلدی اس کا ہاتھ تھامنے لگی۔۔۔۔جسے آدم نے دور کر کے فروا بیگم کواپنی گود میں اٹھا لیا تھا ۔۔۔
اور ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

سب ان کے پیچھے بھاگے اور شفا وہی کھڑی رہ گئی۔۔۔۔
وہ جو کب سے ظبط کر رہی تھی وہی بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔

کسی کی قدموں کی آواز پر وہ جلدی سے اٹھی اور سالار کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
وہ کسی کے سامنے رو کر اپنے آپ کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
وہ سیدھا واش روم میں گھسی اور وہی بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔اپنا ایک ایک زیور نوچ نوچ کے اتار کے پھینک دیا۔۔۔کیوں میں ہر بار اس شخص کے سامنے بے بس ہو جاتی ہوں میں کیسے بھول جاؤں اس نے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔۔۔
مجھے اس تکلیف سے نکال لیں اللّٰہ ۔۔۔۔وہ شخص مجھے بار بار دھتکار چکا ہے ۔۔۔۔۔میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔

تم سب جاؤ آرام کرو۔۔۔۔۔بڑی امی ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔بس ٹینشن سے بے ہوش ہو گئیں ہیں میں ان کے ساتھ ہی ہوں۔۔۔۔

فری نے بڑی امی کا چیک اپ کر کے سب کو بولا۔۔۔۔
سب نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔۔
فری بیٹا تم جاؤ میں بھابھی کے ساتھ رک جاتی ہوں تم تھکی ہوئی ہو ۔۔۔۔۔۔سجدہ بیگم نے بیڈ پر بیٹھتے کہا۔۔۔۔

نہیں چھوٹی امی میں ٹھیک ہوں پلیز آپ لوگ سب جائیں روم میں آرام کریں’۔۔۔۔۔۔
فری نے سب کو روم میں بھیج دیا۔۔۔۔

تم امی کا خیال رکھنا اوکے اور ضرورت پڑنے پر مجھے بلا لینا
آدم بھی کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
کمرے میں آیا تو شفا سادہ سا سوٹ پہنے شفا کو بازو پر لٹائے خود بھی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
وہ بھی ڈریسنگ روم سے کپڑے بدل کر آیا اور صوفے پر سر پیچھے گرائے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
شفا اسکی ہر حرکت دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اسے ایک ہاتھ سے سر دباتے دیکھ وہ اٹھ کر بیٹھی۔۔۔۔۔
میں آپ کا سر دبا دوں ۔۔۔۔۔۔اس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
آدم نے اس کی طرف دیکھا اور اٹھ کر اس کے پاس آکر اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔۔۔
یہ سب اتنی جلدی ہوا تھا کہ وہ سمجھ ہی نہیں پائی اور بوکھلا کر پیچھے ہونے کی کوشش کی۔۔۔۔
مگر آدم نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے بالوں میں رکھ لیا ۔۔۔۔۔

۔اس کے اتنے قریب آنے پر شفا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
مگر وہ گھبراتے ہوئے اس کے سر کو آہستہ آہستہ دبانے لگی۔۔۔

اس کے لمس سے آدم خانزادہ کو سکون ملنے لگا۔۔۔۔۔شفا کو آدم کی گرم سانسیں اپنے پیٹ میں محسوس ہونے لگی ۔۔۔۔

سر دباتے دباتے دونوں کب نیند کی وادیوں میں اتر گئے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔۔۔

                  💓💓💓💓💓💓💓💓

سالار جب اپنے کمرے میں آیا تو واش روم سے اس کی رونے کی ہلکی ہلکی آوازیں باہر تک آرہی تھی۔۔۔۔۔

مگر وہ خود پر ظبط کرتا ادھر سے ادھر چکر لگانے لگا۔۔۔۔۔
تقریباً دس منٹ بعد جب وہ کمرے سے باہر نکلی تو اس کی حالت دیکھ سالار خانزادہ کو خود پر بہت افسوس ہوا۔۔۔۔

مٹا مٹا سا میک اپ بکھرے بال بنا دوپٹے کا اس کا سراپا۔۔۔
اس ٹھٹھکنےپر مجبور کر گیا ۔۔۔۔۔۔

جیسے ہی جزا کی نظر اس پر پڑی وہ جوالہ مکھی بنی آئی اور اس گریبان پکڑ لیا ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔۔

سالار نے ایک نظر اس کے ہاتھ پر ڈالی جو اس کے گریبان پر تھا۔۔۔۔
اور دوسری نظر اسپر ڈالی جو اسے ہی سرخ نظروں سے گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہاتھ ہٹاؤ۔۔۔۔۔۔سالار نے سرد لہجے میں کہا ۔۔۔۔
مگر سامنے بھی جزا تھی جس نے ڈرنا کب کا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔۔اس نے اپنی گرفت اس کے گریبان پر مزید سخت کی۔۔۔۔۔
مجھے طلاق چاہیے ۔۔۔۔۔ابھی کہ ابھی ۔۔۔۔۔وہ بھی اس سے زیادہ سرد لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
مگر سالار کی برداشت یہی تک تھی وہ جھکا اور سختی سے اس کے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔۔۔۔
اور اپنا تمام غصہ ان ہونٹوں پر اتارنے لگا ۔۔۔۔۔۔
جزا نے اپنی پوری کوشش کی خود کو چھڑانے کی مگر سامنے گلی کا کوئی لفنگا نہیں بلکہ سالار خانزادہ تھا ۔۔۔۔

ایک مظبوط انسان۔۔۔۔
وہ اپنا سارا غصہ اس پر نکال کر دور ہوا۔۔۔۔۔
جزا کا چہرہ شرم و غصے سے خطرناک حد تک لال ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے ہر گز سالار سے اس بے باکی کی امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔

اس نے غصے سے کمرے کی ساری چیزیں اٹھا کر پھینکنا شروع کر دی۔۔۔۔۔
سالار اسے روکے بنا اپنا نائٹ سوٹ لیتا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔