Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط ستائیس

آدم خانزادہ غصے میں کھولتا سیدھے گھر آیا تھا ۔۔۔کیسے کوئی باہر کا انسان اس کی بہن کا نام کسی کے ساتھ جوڑ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔

سامنے ہی اسے آیت سب کے ساتھ بیٹھی نظر آئی ۔۔۔

آدم چلتے ہوئے اسکے پاس آیا۔۔۔۔
کیا تم بالاج شاہ کو پہلے سے جانتی ہو۔۔۔۔اس کے سوال پر وہاں ہر شخص حیرت زدہ تھا۔۔۔۔
وہ گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔عرش کی بھی نظر آیت کے چہرے پر تھی۔۔۔۔

کیا تم بالاج شاہ کو جانتی ہو۔۔۔۔اب کے آدم کی آواز اونچی تھی۔۔۔۔

ن نہیں میں نہی نہیں جانتی بھائی۔۔۔اس وقت اس کی زبان سے یہی نکلا ۔۔۔۔

آدم کے غصے سے وہاں موجود شفا بھی آیت کے ساتھ تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔

وہ ایک پولیس والا تھا آیت کا نظریں چرانا اس سے چھپا نہیں تھا مگر صرف شک کی بنیاد پر وہ کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔

وہ بنا کسی کو دیکھے لمبے لمبے ڈھگ بھرتا نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
عرش نے بھی آیت کا کانپتا وجود دیکھا تھا۔۔۔۔

آیت وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

ایک دم وہاں خاموشی چاہ گئی تھی۔۔۔۔جسے سجدہ بیگم نے توڑا۔۔۔

آدم کو ضرور کسی نے کچھ غلط بتایا ہوگا اس لئے اتنے غصے میں تھا ور نہ ہماری آیت کبھی بھی ہم سے کچھ نہیں چھپاتی۔۔۔۔

ان کے لہجے میں ایک سگی بیٹی جتنا مان تھا ۔۔۔
ہاں بھلا وہ کیوں پہلے سے اس لڑکے کو پہچانے گی اگر ایسا ہوتا تو وہ ضرور ہمیں بتاتی۔۔۔۔

فروا بیگم نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔۔
عرش بھی وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔

اس کے بعد سجدہ بیگم عیشا اور عرش کے نکاح کی بات کرنے لگی۔۔۔۔جو کہ کل ہونا تھا۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی ابھی تک تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔۔
وہ جھوٹ نہیں بولنا چاہتی تھی اور ناہی ان سب میں اس کا کوئی قصور تھا ۔۔۔

لیکن وہ کوشش کے باوجود سچ کسی کو نہیں بتا پائی تھی کل ہی تو اس نے ارادہ کیا تھا کہ وہ آدم سے بات کرے گی۔۔۔

مگر اس سے پہلے ہی آدم اس سے پوچھ چکا تھا۔۔۔

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے بیڈ تک گئی اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا لیا۔۔۔۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے نمبر ڈھونڈا جو کہ ہبی کے نام سے سیو تھا۔۔۔

شاید بالاج نے اس دن خود ہی کر دیا تھا۔۔۔

اس نے نمبر ملایا ۔۔۔جو دوسری ہی بیل پر ریسیو کر لی گئی تھی۔۔۔۔

بالاج شاہ اسپیکنگ ۔۔۔۔۔فون کے دوسری طرف سے بالاج شاہ کی گھمبیر آواز گونجی ۔۔۔۔

اس کی آواز سنتے ہی وہ زاروقطار رونے لگی۔۔۔۔
جانم ٹھیک ہو تم بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالاج تو اس کے رونے پر ہی پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔

وہ روتے ہوئے اس کو سب بتایا چلی گئی۔۔۔۔۔
آپ کی وجہ سے ہوا ہے سب مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں۔۔۔۔۔سب مجھے غلط سمجھیں گے ۔۔۔۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
شش چپ ہو جاؤ میں سب ٹھیک کردوں گا جانم ۔۔۔

اس سے آیت کا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
آیت نے فون بند کردیا وہ روتے روتے وہی سوگئی ۔۔۔

                💓💓💓💓💓💓💓💓

انہیں اسلام آباد آئے ہوئے چار دن ہو گئے تھے۔۔۔۔جزا نے ہر ممکن کوشش کی تھی اس کا جینا حرام کر ے کی اور وہ کچھ حد تک ہو بھی گیا تھا۔۔۔۔

اس لئے میٹنگ نا ہونے کے باوجود بھی اس نے زیادہ وقت باہر گزارا تھا۔۔۔۔

آج عرش کی لاسٹ میٹنگ تھی اور صبح کی فلائٹ سے انہیں نکلنا تھا ۔۔۔مگر آج وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔

وہ اسکا انتظار کر رہی تھی کیونکہ آج شام سے ہی موسم بہت خراب تھا اب تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی۔۔۔۔

اور کسی سے نا ڈرنے والی لڑکی بارش اور آسمانی بجلی کے کے معاملے میں انتہائی ڈرپوک تھی۔۔۔۔

وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگی۔۔۔۔بارش کا زور تیز ہونے لگا تھا۔۔۔۔

وہ گھبرا کر دروازے تک آئی ایک بار باہر دیکھا وہاں بھی سناٹا تھا۔۔۔۔

وہ واپس اندر چلی گئی۔۔۔۔

دل میں اللّٰہ کا ورد کثرت سے کرنے لگی۔۔۔

اچانک لائٹ چلی گئی ڈر کے مارے اس کی جان نکلنے والی ہو گئی اس نے بیڈ پر ہاتھ ٹٹولتے ہوئے موبائل ڈھونڈنے کی
کوشش کی مگر یاد آیا

وہ صبح ہی سالار کو چڑانے کے لیے اس کا فون توڑ چکی تھی۔۔۔۔

جس کے بدلے میں سالار آج میٹنگ میں جاتے ہوئے اس کا موبائل لے گیا تھا۔۔۔

دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی سردی اس کے جسم کے آر پار ہو رہی تھی۔۔۔۔

اوپر سے بجلی گرجنے کی آواز اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

جزا بے بی کو ہم لے جائیں گے آسمانوں میں اور جن سے تمہاری شادی کروا دیں گے۔۔۔۔۔ہاہاہہاہاہاہ ۔۔۔۔

ایک عجیب باریک سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔
یہی آواز تو اسکے ڈر کی وجہ تھی۔۔۔۔

وہ زور زورسے نفی میں سر ہلانے لگی
۔۔۔ڈر کی وجہ سے آواز اس کے گلے سے نکلنے سے انکاری تھی۔۔۔

آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے ۔۔۔

وقفے وقفے سے بجلی چمکنے کی آواز پر اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ جاتی۔۔۔۔۔۔

کاش وہ گھر پر ہوتی تو آج اس حال میں نا ہوتی۔۔۔۔۔

اس نے شدت سے اللّٰہ سے سالار کو بھیجنے کی دعا کی۔۔۔

وہ ہلکی ہلکی کانپ بھی رہی تھی۔۔۔۔

اچانک کوئی نرم سی چیز اس کے پاؤں کے اوپر سے گزری تھی۔۔۔۔۔

ایک دم وہ زور دار چیخ مارتے ہوئے بھاگی تھی اسے خود بھی نہیں پتہ وہ کس طرف جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔

سامنے سے آتے سالار سے بری طرح ٹکرائی تھی۔۔۔۔

سالار جو پوری کوشش کر کے جلدی آیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ بارش اور چمکتی بجلی سے بہت ڈرتی ہے۔۔۔۔

اس کی چیخ پر وہ ایک ساتھ تین چار سیڑھیاں پلانگتا اوپر آیاتھا ۔۔۔۔

سامنے سالار کو محسوس کر کے وہ پوری طرح اس پر لٹک گئی تھی۔۔۔۔
اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔سالار نے اسے اپنے مظبوط بازوؤں میں بھر لیا تھا۔۔۔۔

جزا کی چیخ سن کر جو لوگ آئے تھے وہ سالار کو اس کے ساتھ دیکھ کر مسکراتے ہوئے واپس چلے گئے۔۔۔۔
سالار اسے اٹھائے ہوئے دروازہ بند کرتا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔

کمرے میں آکر اسے بیڈ پر لٹانے کی کوشش کی مگر وہ اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھی جبکہ جزا کی گرم سانسیں اسے اپنی گردن پر محسوس ہو کر اس کے ظبط کا امتحان لے رہی تھی۔۔۔۔۔

تم میرے ظبط کا امتحان لے رہی ہو۔۔۔اگر میں اپنا ظبط کھو گیا تو مجھ سے کوئی شکایت نا کرنا وہ اسے چھوڑنے کے بجائے اسے خود میں بھینچ کر گھمبیر لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

اس کی آواز پر جزا ہوش میں آئی اور شرمندگی سے تھوڑی دور ہوگئی۔۔۔۔

م موبائل دیں میرا مجھے ٹارچ آن کرنا ہے وہ اپنے ازلی انداز میں بولی تھی۔۔۔۔

آئی ایم سوری بیٹری ڈیتھ ہوچکی ہے۔۔۔۔سالار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ اسے کھری کھوٹی سناتی اچانک زور سے بجلی چمکنے پر وہ دوبارہ اس کے گرد بازو باندھ گئی تھی۔۔۔۔

سالار اپنی سانسیں تک روک گیا ۔۔۔۔
اس نے محسوس کیا تھا وہ ٹھنڈ سے کانپ بھی رہی تھی۔۔۔
جزا کو اپنی ضد پر افسوس ہوا وہ اپنی کی وجہ سے ہی اس مصیبت میں پھنسی تھی۔۔۔۔

وہ غصے میں گھر سے گرم کپڑے نہیں لائی تھی ۔۔۔اور جب سالار نے اسے پرسو شاپنگ چلنے کہا تھا اس نے انتہائی بدتمیزی سے اسے منع کر دیا تھا۔۔۔

سب ٹھیک ہے ڈرو مت میں یہیں ہوں۔۔۔۔۔سالار نے اسے الگ کرنے کی کوشش کی۔۔

جزا نے اسے گرد بازوں کو سختی سے باندھ دیا۔۔۔۔
دیکھو تم میرے جزبات کے ساتھ کھیل رہی ہو۔۔۔۔پلیز دور ہو جاؤ ۔۔۔وہ بے بسی سے بولا تھا۔۔۔۔

لیکن وہ تو جیسے اس دنیا میں تھی ہی نہیں
ٹھنڈ اور ڈر نے اس کا دماغ مفلوج کر دیا تھا۔۔۔۔۔

اگر تم اسی طرح مجھ سے چپکی رہی تو میں اپنی تمام حدیں پار کر جاؤں گا پھر مجھ سے کوئی شکایت مت کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے جیسے وارن کیا۔۔۔

مگر جزا تو جیسے بس اس کے بانہوں میں سکون محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ خود بھی اس سے دور نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔۔

سالار اسے بانہوں میں لئے ہی بیڈ پر لیٹ چکا تھا ۔۔۔۔جزا ایسے ہی اسکے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔۔۔۔

اس نے شفا کے ہونٹوں کو اپنے لبوں میں قید کیا اور قطرہ قطرہ اس کے ہونٹوں کا جام پینے لگا ۔۔۔۔
اس کے لمس میں شدت تھی۔۔۔۔جزا نے سختی سے اس کی شرٹ اپنے ہاتھوں میں کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔

جب اس کی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تو۔۔۔۔سالار اس سے تھوڑا دور ہوا۔۔۔۔۔
آزادی پاتے ہی اس نے اندھیرے میں اس سے دور جانا چاہا۔۔۔۔

مگر سالار اس کے گردن کے گرد بازو لپیٹ کر اپنے حصار میں لیتے ہوئے اس کی گردن پر اپنے ٹھنڈے لبوں کا لمس بکھیر نے لگا۔۔۔۔
جب کہ وہ کچھ ٹھنڈ اور موسم کے ڈر اور کچھ اس کی قربت میں بے حال ہوتی خود کے اس کے سپرد کر گئی۔۔۔۔

اس کی بے باک حرکتوں پر کبھی وہ اسکے سینے میں منہ چھپا لیتی۔۔۔۔تو کبھی وہاں سے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔

اس تنہائی نے ان دونوں ایک دوسرے کے انتہا یہ قریب کر دیا تھا۔۔۔۔

سالار اس کے شرما نے گھبرائے روپ کو اپنی محبت سے سنوارتا سمیٹتا چلا گیا۔۔۔۔
باہر بارش کا زور بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔

اور اندر وہ اسے اپنی محبت کی بارش میں بھگوتا چلا گیا۔۔۔۔

اب کوئی ڈر کوئی غصہ ناتھا۔۔۔اگر یاد تھا تو بس اتنا وہ دونوں ایک دوسرے کے ہیں۔۔۔۔

           💓💓💓💓💓💓💓💓

کسی کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرکے اس کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر تک وہ بے خیالی میں خود پر جھکے سالار کو دیکھتی رہی۔۔۔۔۔
سالار اس کے خالی نظروں کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر جھکا اوراس کے ہونٹوں پر اپنے لب جما گیا۔۔۔۔۔۔
اس کی اس حرکت جزاکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔
اسے گزری رات کا ہر لمحہ یاد آتا گیا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سالار کو خود سے دور جھٹکا اور بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔

سالار نے خمار آلود نگاہوں سے اسے دیکھا جس کی حیران نگاہیں اس پر جمی تھی۔۔۔۔۔
جزا نے اس کے شرٹ لیس وجود کو دیکھا اور ایک نظر اپنے آپ کو دیکھا تو اسے ایک اور جھٹکا لگاتھا۔۔۔۔

وہ اس وقت صرف سالار کی بلیک شرٹ میں تھی جو اس نے کل پہن رکھی تھی ۔۔۔۔

وہ شرٹ اس کے وجود کو پوری طرح ڈھکنے میں ناکام ہو رہی تھی۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آنسوں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی وش روم میں گھس گئی تھی۔۔۔۔

سالار حیرانی سے بند دروازے کو دیکھتا رہا وہ تو جزا کے رات کے رویے کو اس کی رضا مندی سمجھا تھا

اسے لگا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔
مگراس کی حیران آنکھوں نے اسے بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔۔۔۔

واش روم سے اس کے رونے کی آوازیں باہر تک آرہی تھی ۔۔۔۔

سالار کافی دیر تک ظبط کرتا رہا ۔۔۔۔

مگر جب اس کا ظبط جواب دے گیا تو وہ واش روم کی طرف بڑھا اور دھڑا دھڑ دروازا بجانے لگا۔۔۔

دروازہ کھولو جزا۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا تھا مگر اندر سے رونے کی آواز میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔

میں نے کہا دروازہ کھولو ایسا بھی کوئی ظلم نہیں ہوگیا تم پر شوہر ہوں تمہارا حق رکھتا ہوں تم پر ۔۔۔۔

وہ غصے سے بولا تھا۔۔۔۔
یہاں سے جائیں آپ ۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

بکواس مت کرو۔۔۔۔۔اب اگر تمہارے رونے کی آواز آئی تو میں دروازہ توڑ دوں گا۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں وارننگ تھی۔۔۔

وہ مرر میں اپنے آپ کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

میں بھی نکلی نا ایک عام عورت اپنی بے عزتی بھول کر اس کے جھولی میں کتنی آسانی سے گر گئی۔۔۔۔
اس وقت وہ خود کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔۔۔

اس میں ہمت ہی نہیں بچی تھی کہ وہ دوبارہ اس کا سامنا کرسکے ۔۔۔۔۔

وہ اپنا ایک سوٹ بھی نہیں لائی تھی ناہی سالار سے مانگنے کی ہمت تھی ۔۔۔۔

سالار جا کر دوسرے کمرے کے واش روم سے فریش ہو کر آیا تب بھی وہ واش روم میں ہی تھی کچھ سوچ کر وہ الماری کی طرف بڑھا وہاں سے جزا کا یک سوٹ لے کر اس کر اس کا دروازے ناک کیا۔۔۔

یہ سوٹ لے لو جلدی نکلو ہمیں واپس بھی جانا ہے۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا تو۔۔۔۔

جزا نے دروازہ کھول کر اس کے ہاتھ سے سوٹ پکڑنے کی کوشش کی مگر سالار نے گھس کر اس کا جبڑا دبوچ کر دیوار سے لگا دیا۔۔۔۔

اس کی سوجھی آنکھیں دیکھ ا س کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا تھا۔۔۔۔۔
جزا نے اس کی حرکت پر آنکھیں میچ گئیں ۔۔۔۔

کیا سمجھتی ہو تم خود کو۔۔۔۔ہاں بولو کون ہوں میں جس کے چھونے پر تمہیں اتنی تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔

وہ غصے سے اس کے چہرے پر پھنکار رہا تھا۔۔۔۔۔
مگر سامنے وہ لب سئے کھڑی رہی جیسے اس سے نا بولنے کی قسم کھائی ہو۔۔۔۔

بیوی ہو تم میری اور جو کچھ ہوا وہ ہماری مرضی سے ہوا ہے۔۔۔۔

لیکن کان کھول کر سن لو آگے اگر تمہاری مرضی نہیں بھی ہوئی تب بھی میں تمہارے قریب آؤں گا اور بار بار آؤں گا۔۔۔۔۔کیونکہ یہ میرا حق ہے اور تم مجھے نہیں روک سکتی ۔۔۔
جلدی سے فریش ہو کر باہر آؤ ہمیں نکلنا ہے گھر سے کال آرہی ۔۔۔۔

وہ بھاری گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے ہونٹوں کو نرمی سے چھوتا واش روم سے نکل گیا۔۔۔

اس کے جاتے ہی اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر گہری سانس لی تھی۔۔۔۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے سامنے کمزور پڑ رہی تھی۔۔۔۔

وہ شخص اس سے محبت نہیں کرتا تھا بلکہ اسکی محبت کو ٹکرایا تھا اس نے وہ کیسے اتنی کمزور پڑ سکتی ہے اس کے سامنے۔۔۔۔
اس نے زورسے دروازہ بند کیا تھا۔۔۔۔

آدھے گھنٹے بعد وہ فریش ہو کر باہر نکلی تو کمرہ خالی تھا کوئی بھی سامان نہیں تھا۔۔۔۔۔

اس نے جلدی سے اپنے بال سکھائے اور پہلی بار شاید آج اس نے چادر لی تھی۔۔۔شاید سالار کے دئے ہوئے نشانوں کو چھپانے کے لئے ۔۔۔۔۔

اس نے سوچ لیا تھا وہ اب مر کر بھی اس کو خود کے قریب نہیں آنے دے گی۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد سالار کی آواز پر وہ بنا اس کی طرف دیکھے باہر نکل آئی تھی۔۔۔۔۔

سالار نے ائیر پورٹ کے لیے کیب بک کروائی تھی وہ بھی پیچھے جزا کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
وہ سمجھ کر دروازے کے ساتھ لگی۔۔۔۔۔
سالار نے اس کی حرکت بغور دیکھی تھی۔۔۔۔اس نے اپنا بازو جزا کی کمر پر ڈال کر اسے کھینچ کر اپنے پاس کیا تھا۔۔۔۔

اس نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا جو انجان بنا سامنے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

اسے غصہ تو بہت آیا مگر ڈرائیور کا لحاظ کر کے ظبط کر گئی۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں وہ ائیرپورٹ پہنچ گئے تھے پھر سالار نے اسے مزید تنگ نہیں کیا۔۔۔۔
کراچی پہنچنے تک اس نے مزید اسے تنگ نہیں کیا تھا۔۔۔۔

                     💓💓💓💓💓💓💓

عرش سالار کے سامنے پریشانی سے بولا۔۔۔۔
سالار خود حیران تھا کوئی لڑکی اپنے شوہر کو دوسری عورت کا کیسے ہونے دے سکتی ہے

یار ایسا نا ہو وہ مزید دور ہو جائے کیونکہ اس نے ایک بار بھی مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔۔

بھابھی کی مجھے خود سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔لیکن یہ بعد کی بات ہے لیکن ہمارے اس ڈرامے سے چھوٹی امی کی ضد تو ختم ہو جائے گی نا۔۔۔۔۔۔
باقی رہی بھابھی کی بات تو تم انہیں بعد میں بھی اپنے طریقے سے سمجھا لینا ۔۔۔۔۔

ہممم بات تو ٹھیک ہے تمہاری۔۔۔۔۔عرش کہہ کر تیار ہونے لگا۔۔۔۔

وہ دونوں تیار ہو کر نکلے تھے دونوں نے ہی وائٹ کرتا شلوار پہنا تھا۔۔۔۔

ایشا بھی اپنی فیملی کے ساتھ آ چکی تھی۔۔۔۔کیونکہ ان کا گھر فیروز مینشن جتنا نا تھا۔۔۔۔

عرش نے چاروں طرف نظر دوڑائی آج بھی وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔۔

وہ آیت کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

ماحول عجیب سوگوار سا تھا۔۔۔۔سوائے سجدہ بیگم اور ان کی بہن کی فیملی کے کوئی بھی خوش نہیں تھا۔۔۔۔

          💓💓💓💓💓💓💓💓💓

عقیدت اسے راستے میں ہی مل گئی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر وہی سے واپس مڑنے لگی مگر عرش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔۔

کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔عرش نے اسے روک کر پوچھا۔۔۔۔
کہیں نہیں میں کمرے میں جا رہی ہوں۔۔۔۔کہیں آپ کی ہونے والی بیوی مجھے دیکھ کر ناراض نا ہو جائے۔۔۔

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
مگر اس کے لہجے میں موجود جیلسی اور اس کی سرخ آنکھیں دیکھ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔

یعنی اس کی بیوی اتنی بھی سنگدل نہیں تھی ۔۔۔۔

ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واقعی میری بیوی کو برا لگ سکتا ہے۔۔۔۔

اس نے ہونٹوں پر دل جلانے والی مسکراہٹ لئے کہا۔۔۔تو عقیدت نے اسے افسوس سے دیکھا۔۔۔۔

عرش بیٹا مولوی صاحب آگئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تم بھی آجاؤ اور آدم
کو فون کر کے پوچھو وہ کہاں رہ گیا ہے۔۔۔۔۔

سجدہ بیگم کی آواز پر وہ عقیدت کو چھوڑ کر دور ہوا تھا۔۔۔۔

عقیدت نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھا اور آیت کے کمرے میں گھس گئی۔۔۔جہاں شفا اور آیت پہلے سے ہی موجود تھی۔۔۔

عقیدت آئی اور مسکراتی ہوئی وہاں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ان دونوں کے اداس چہرے دیکھ کر اسے ان پر پیار آیا تھا۔۔۔

بھابھی آپ منع کیوں نہیں کرتی بھائی کو شفا نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔

اگر ان کو مجھ سے واقع محبت ہوتی تو مجھے منع کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی وہ بس دل میں ہی سوچ سکی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

بھابھی آپ بے وجہ پریشان ہو رہی ہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔

آپ دونوں کو بڑی امی نیچے بلا رہی ہیں ۔۔۔عقیدت نے ان سے کہا اور واش روم میں گھس گئی۔۔۔۔۔
وہ دونوں بھی ایک دوسرے کو اداسی سے دیکھتی نیچے آگئ تھی۔۔۔۔

جہاں ایشا سج سنور کے لال رنگ کا شرارہ پہنے بیٹھی تھی۔۔۔۔

بیٹا جزا کہاں ہے ۔۔۔سجدہ بیگم نے شفا سے پوچھا
۔۔۔۔

امی ان کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ سو رہی ہیں ۔۔۔جواب سالار نے دیا تھا۔۔۔۔۔

مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔۔۔۔ایشا کے باپ کے کہنے پر مولوی صاحب سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔

عرش نے گھبرا کر سالار کو دیکھا جس نے اسے آنکھ کے اشارے سے تسلی دی ۔۔۔

                  💓💓💓💓💓💓💓💓

سر یہ رہا سارا ریکارڈ ۔۔۔۔الطاف نے نظریں جھکائے ایک فائل اس کے سامنے رکھی۔۔۔

اس فائل میں موجود سی سی ٹی وی فوٹیج کی سی ڈی نکال کر اس نے اپنے لیپ ٹاپ میں لگائی۔۔۔۔

اس میں جو فوٹیج اسے نظر آئی آدم خانزادہ کو لگا کسی نے پگھلا ہوا سیسہ اس پر ڈال دیا ہو۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔