Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط پچیس

دروازہ بجنے پر وہ لمحے میں اس سے دور ہوئی تھی۔۔۔اسے خود پر حیرت ہوئی وہ کیسے سب بھول کر اس کے قریب جاسکتی تھی۔۔۔۔۔

سالار کی نظریں ابھی تک اس کے بکھرے حلیے پر جمی تھی۔۔۔۔۔
دروازہ دوبارہ بجا تو وہ اٹھ کر دروازے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
سامنے ہی ایک لڑکا کچھ سامان لئے کھڑا تھا۔۔۔۔

اس نے وہ سامان ریسیو کیا اور ڈور بند کرتا کمرے میں چلا آیا ۔۔۔جہاں وہ کمبل منہ تک اوڑھے لیٹی تھی۔۔۔۔

وہ اس کی حالت سمجھ گیا تھا اس لیے دوسری طرف آکر بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔

وہ اسی کی طرف کروٹ لئے لیٹا تھا۔۔۔۔مگر وہ پوری طرح خود کو کمبل میں کور کئے لیٹی تھی۔۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ جاگ رہی ہے مگر اس کی ہمت نہیں ہوئی آگے بڑھ کر اس کو خود میں بھینچ لیں۔۔۔۔

اپنے آپ پر ظبط کرتا وہ آنکھیں مود گیا ۔۔۔۔

          💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ اپنا لاسٹ پیپر دے کر جیسے ہی نکلی وہ اپنی پوری شان سے بلیک جینز کے ساتھ بلیک شرٹ اور جیکٹ پہنے آنکھوں پر سن گلاسز لگائے
اپنی گاڑی پر ٹیک لگائے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

آیت کی نظر اس پر پڑی تو اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔۔۔۔
اتنے دن سے وہ سکون میں تھی اور آج وہ جن کی طرح نازل ہوگیاتھا۔۔۔۔

گھبراہٹ سے اس کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمکنے لگی۔۔۔۔

وائبریشن کی آواز پر اس نے بیگ سے موبائل نکال کر دیکھا تو یہ وہی نمبر تھا جس سے بالاج نے اسے کال کی تھی۔۔۔۔

اس نے ایک نظر سامنے دیکھا جو بہت دلچسپی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے کال اٹھا کر کان میں لگایا۔۔۔۔۔
ج جی ۔۔۔۔وہ دھیرے سے بولی۔۔۔
گاڑی میں آکر بیٹھو۔۔۔۔۔بالاج کی بھاری گھمبیر آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔
اس نے گھبرا ہر کال کاٹ دی تو اور اندر بڑھ گئی ۔۔۔۔اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس کے ساتھ کہیں بھی جانے کا آج اس نے پکا ارادہ کر لیا تھا ۔۔۔

وہ آدم کو اپنی اس مصیبت سے آگاہ کر کے رہے گی۔۔۔۔۔
میسج ٹون پر اس کے بڑھتے قدم رکھ ۔۔۔۔

اسکرین پر جگمگاتا میسج دیکھ اس کا اپنے پیروں پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا ۔۔۔۔۔
اگر تم نہیں چاہتی اندر آکر میں تماشہ کروں تو شرافت سے آکر گاڑی میں بیٹھو ورنہ دوسرا آپشن اپنانے میں مجھے کوئی پرابلم نہیں ۔۔۔۔۔

میسج پڑھ کر وہ الٹے پاؤں بھاگی مبادہ وہ سچ میں اندر نا آجائے۔۔۔۔

اسے آتا دیکھ بالاج نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔۔۔

وہ آس پاس دیکھتی خاموشی سے بیٹھ گئی چہرہ گھبراہٹ سے لال ہو رہا تھا۔۔۔۔
اس کے بیٹھتے بالاج نے سب سے پہلے اس کے ہاتھ سے فون لیا پھر اس سے فروا بیگم کو میسج کرتا اسے موبائل واپس کر کے گاڑی آگے بڑھا گیا ۔۔۔۔۔
پانچ منٹ بعد اس نے خود کو بولنے کے قابل کیا۔۔۔۔کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔اس نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔

البتہ آواز بہت دھیمی تھی جیسے وہاں بھی کسی کے سن لینے کا ڈر ہو ۔۔۔
ہمارے گھر۔۔۔۔۔اس نے جس اطمینان سے جواب دیا۔۔۔آیت نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔

میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔۔۔۔۔وہ اپنی طرف سے غصے سے چلائی مگر اس کی آوازاتنی تھی کہ بس وہ دونوں ہی سن پاتے۔۔۔۔۔

بالاج نے ناگواری سے اپنی بیوی کو دیکھا جو گرے کلر کے لان کے سوٹ میں اسے ہی غصے سے گھور رہی تھی ۔۔۔۔

بیوی کو شوہر کے ساتھ ہی ہونا چاہیے سو آج سے تم میرے ساتھ رہوگی۔۔۔۔
دوسری بات آئیندہ اونچی آواز میں میرے سامنے بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔۔۔۔۔

پہلی بات اس نے نرمی اور دوسری انتہائی سرد لہجے میں کہی تھی۔۔۔۔
آیت کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ۔۔۔۔۔
خبردار جو ایک بھی آنسو بہایا تو۔۔۔۔اس نے انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا۔۔۔
میری آنکھیں میں جو چاہیں کروں آپ ابھی کہ ابھی مجھے واپس چھوڑ کے آئیں ورنہ میں زور زورسے چلاؤنگی۔۔۔۔

اس نے اپنی طرف سے بالاج کو ڈرانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اس کی بہادری پر بالاج کے آنکھیں چمکی۔۔۔۔۔وہ گاڑی کو ایک حویلی کے آگے روک گیا۔۔۔

اس کی گاڑی دیکھ چوکیدار نے مین گیٹ کھول دیا تھا۔۔۔۔
اسے اندر گاڑی بڑھاتے دیکھ آیت نے سختی سے سیٹ تھام لی ۔۔۔

جیسے ایسا کرنے سے گاڑی رک جائے گی اس کی معصوم حرکت پر بالاج شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔

آیت نے بہت حیرت سے اس کی مسکراہٹ دیکھی تھی اگر یہ کہا جائے کہ ہنستے ہوئے دنیا کا سب سے حسین انسان لگتا ہے تو جھوٹ نا ہوگا۔۔۔۔۔

وہ کب اس کی مسکراہٹ میں اتنا کھوئی کہ وہ گاڑی روک کر اس کی طرف آکر اس کا ہاتھ پکڑ کر نکالا اسے خبر بھی نہیں ہوئی ۔۔۔

وہ جیسے ہی گاڑی سے نکلی نیا گھر دیکھ کر وہ ہوش میں آئی ۔۔۔۔
پلیز مجھے اندر نہیں جانا مجھے چھوڑ کر آئیں پلیز وہ گھبرا کر واپس گاڑی میں بیٹھنے لگی۔۔۔۔

بالاج نے اس کا بازو پکڑ کر روکا۔۔۔۔وہ آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

بالاج کو اپنا آپ ان آنکھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
اوکے میں چھوڑ کے آؤنگا۔۔۔۔۔مگر کچھ دیر کے لیے اندر آجاؤ
پھر چھوڑ کر آجاؤں گا۔۔۔

اس نے اپنی نیچر کے بر خلاف اسے پیار سے بہلانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
آیت کے پاس بھی کوئی راستہ نا تھا اس پل بس اس کے زہن میں ایک ہی بات تھی اگر گھر والوں کو ان سبکے بارے میں پتہ چلا تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔

کاش وہ جزا جتنی بہادر ہوتی ۔۔۔۔تو آج اس مصیبت میں نا پھنستی۔۔۔۔
اس کی نظریں بالاج شاہ کے بڑھتے قدموں پر تھیں ۔۔۔۔
وہ اسے لے کر ایک کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔۔
پرکشش فرنیچر سے آراستہ وہ ایک بہت کشادہ کمرہ تھا۔۔۔۔

وہ کسی روبوٹ کی طرح اس کے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔
بالاج نے اسے بیڈ پر بٹھایا تو وہ ایسے جھٹکے سے اٹھی جیسے کوئی کرنٹ لگ گیا ہو ۔۔۔۔۔

وہ جا کر کمرے میں موجود ایک شیپ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
اس کی حرکت کا مطلب سمجھتا بالاج قدم قدم چلتا اس کے پاس آکر بیٹھا ۔۔۔۔اس کے بیٹھتے ہی وہ سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
بالاج نے اس کی کمرے میں ہاتھ ڈال کر اسے کھینچ کر قریب کیا۔۔۔۔
ان دونوں کے بیچ ایک انگلی کا بھی فاصلہ نا رہا۔۔۔۔
اس نے ہڑبڑا کر اٹھنے کی کوشش کی مگر وہ اس کی کوشش کو ناکام بناتا اس کے گال پر سختی سے لب رکھ گیا۔۔۔۔
بالاج شاہ کی مونچھوں کی چھبن اسے اپنے گال پر محسوس ہوئی تو اس نے سختی سے اس کے کالر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔۔۔۔۔

بالاج شاہ کے وجود سے اٹھتی سگریٹ اور امپورٹڈ پرفیوم کی ملی جلی خوشبو نے اسے اپنی تحویل میں لیا تھا ۔۔۔۔۔

اس کا جسم اتنی بری طرح لرز رہا تھا ۔۔۔۔بالاج نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔

وہ اتنی سی قربت پر مرنے والی ہوگئی تھی ۔۔۔۔

بالاج نے ایک گہری سانس لی ۔۔۔۔اس سے تھوڑا دور ہوا۔۔۔
آزادی پاتے ہی وہ گھبرا کر بھاگنے لگی۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ جاتی بالاج نے اس کی کلائی پکڑ کر واپس بٹھا لیا۔۔۔۔

اور دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔اس کی بے باک نظریں دیکھ کر آیت کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔
آپ کو شرم نہیں آتی وہ اپنی طرف سے انتہائی غصے سے چیخی تھی۔۔۔۔

اس کے غصہ بھرا چہرہ اسے مزید مزادے رہا تھا۔۔۔۔
اس کی ڈھٹائی دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔

بالاج کے مسکراتے چہرے پر سنجیدگی چاہ گئی ناجانے کیوں اس لڑکی آنکھوں میں اسے آنسوں برداشت نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔۔

وہ اس لڑکی کے معاملے میں بہت بے اختیار ہوگیا تھا سوچتا کچھ تھا اور کر کچھ اور جاتا تھا۔۔۔۔
ایک آنسو نہیں گرنا چاہئے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔اس نے سختی سے اسے وارن کیا ۔۔۔
ورنہ کیا میں آپ سے ڈرتی نہیں ہوں ۔۔۔۔وہ بھی اپنی چھوٹی سی ناک پر ڈھیروں غصہ لئے بولی۔۔۔۔

اورنج جو میں کروں گا وہ تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔

اس نے ایک دم اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسے پاس کیا تھا ایک دوسرے کی سانسیں انہیں اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔

آیت کا دل گویا اچھل کر حلق میں آیا تھا۔۔۔
ان کے بیچ فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس کے پورے جسم میں اک برقی سی دوڑ گئی۔۔۔۔

اس نے جلدی سے بچوں کی طرح ہاتھوں کی پشت سے اپنے
گال رگڑے۔۔۔۔

اٹھو تمہیں فرجاد چھوڑ کر آئے گا۔۔۔۔
آیت نے سنتے ہی اپنا چہرہ صاف کیا۔۔۔۔اور بیگ اٹھا کر اس کے ساتھ نکل آئی ۔۔۔۔

فرجاد ان کو آتا دیکھ کر دور کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔
اس نے آیت وک گاڑی میں بٹھایا۔۔۔۔اور جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔

ناجانے کیسا سکون تھا اس کے لمس میں وہ اپنی آنکھیں موندے گئیں ۔۔۔۔۔۔

جب بھی میں فون کروں ۔۔۔۔۔تم فون اٹھاؤگی اور میرے ہر میسج کا جواب دوگی ۔۔۔ورنہ تمہارے کمرے کا راستہ مجھے اچھے سے یاد ہے۔۔۔۔

وہ اس کا گال تھپتھپاتا پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔۔
وہ جو اس کے لمس میں کھوئی ہوئی تھی اس کی بات پر ہوش میں آئی اور گاڑی کے باہر سے ہی گھور کر دیکھا اسے۔۔۔۔

جو فرجاد سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد فرجاد آکر بیٹھا اور گاڑی آگے بڑھا لے گیا اس نے ایک نظر باہر سے وہ محل دیکھا تھا جو خوبصورتی میں ان کے مینشن کی طرح ہی تھا۔۔۔۔

               💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ہلکی ہلکی سرگوشیوں پر اسکی آنکھ کھلی۔۔۔۔

وہ آج نائٹ ڈیوٹی کر کے آیاتھا اس لئے دوپہر تک سوتا رہا۔۔۔۔
اس نے نظریں موڑ کر دیکھا تو وہ منت کو گود میں بٹھائے کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔۔

پاپا سو رہے ہیں اچھے بچے پاپا کو نہیں جگاتے۔۔۔۔شفا اسے پیار سےسمجھارہی تھی
پاپا پات دانا ہے۔(پاپا کے پاس جانا ہے)منت اپنی ہی ضد پر اڑی ہوئی تھی۔۔۔
منو۔۔۔میری جان ماما آپ کو آئس کریم کھلائیں گی نا۔۔۔
چلو
وہ اسے منانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔

نو منو بت پاپا تے پات دائے دی۔۔۔(نو منو بس پاپا کے پاس جائے گی۔۔۔۔)

وہ اپنی توتلی زبان میں اپنی ہی ضد کر رہی تھی۔۔۔۔

آدم خانزادہ کو اپنی بیٹی اور بیوی پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔۔۔
منت آجاؤ پاپا کے پاس اس نے اٹھ کر بازو پھیلا دیے ۔۔۔۔

وہ دونوں جو ایک دوسرے میں مصروف تھے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔

منت تو باپ کو جاگتا دیکھ بھاگ کر اس کی گود میں بیٹھ گئی۔۔۔۔

شفا نے ان کو دیکھا اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔

آدم نےاس کا اس طرح جانا بہت محسوس کیا تھا۔۔۔۔وہ کچھ دنوں سے بہت مصروف تھا گھر ہی بہت کم آیا تھا مگر اس نے شفا کے رویے میں ایک کھنچاؤ سا محسوس کیا تھا۔۔۔۔

پندرہ منٹ بعد وہ ٹرے میں چائے کا کپ اٹھائے داخل ہوئی۔۔۔
اس کے سامنے رکھ کر وہ جانے لگی۔۔۔۔

منت اس سے باتیں کرتے کرتے سو گئی تھی ۔۔۔۔

آدم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔شفا نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
یہاں بیٹھیں ۔۔۔۔اس کے اشارے پر وہ بیڈ پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
طبیعت ٹھیک ہے آپ کی اداس لگ رہی ہیں ۔۔۔۔آدم نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔وہ جو ہر وقت چپکے چپکے اسے دیکھتی رہتی تھی۔۔۔۔۔اس کے سامنے آتے ہی جو چہرہ کھل جایا کرتا تھا وہ مرجھا گیا تھا۔۔۔۔وہ اب اس کی طرف دیکھنا ہی گوارا نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔

جی میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔شفا نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔۔
کوئی بات پریشان کر رہی ہے تو مجھے بتائیں ۔۔۔آدم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سہلایا۔۔۔

اس کی حرکت پر شفا کی پلکیں لرز گئیں ۔۔۔
ن نہیں سب ٹھیک ہے۔۔۔۔

اوکے پھر جلدی سے ریڈی ہو جائیں ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں ۔۔۔۔

وہ دور ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

لیکن میرے پاس کپڑے ہیں ۔۔۔۔وہ سادگی سے بولی۔۔۔۔

لیکن میں چاہتا ہوں میری حسین بیوی ہر جگہ سب سے نمایاں نظر آئیں ۔۔۔۔۔اس کی بھاری گھمبیر لہجہ اسے کپکپانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔

م میں آتی ہوں ۔۔۔۔وہ۔کہہ کر باہر بھاگ گئی۔۔۔۔
اس کی جلد بازی دیکھ کر آدم کا قہقہ کمرے میں گونجا۔۔۔۔
اس نے نہاتے ہوئے چائے کا کپ اٹھا کر ہونٹوں پر لگایا لیا۔۔۔

             💓💓💓💓💓💓💓💓

ایک ایک کی چمڑی ادھیر دوں گا میں تم لوگوں سے ایک لڑکی قابو نہیں آرہی ۔۔۔۔۔
پتہ لگاؤ بالاج شاہ سے اسکا رشتہ کیا ہے وہ کیوں اسے پروٹیکٹ کر رہا ہے ایک ایک خبر چاہیے مجھے اور ساتھ میں وہ لڑکی بھی ۔۔۔۔

وہ غصے سے فون پر چیخنے لگا۔۔۔۔فون بند کر کے اس نے جیسے ہی فون رکھاوہ دوبارہ بجنے لگا۔۔۔

دوسری طرف سے نا جانے کیا کہا گیا وہ جلدی سے اٹھا اور شرٹ پہنتا فون ہاتھ میں اٹھائے بھاگتے ہوئے نکلا ۔۔۔۔

ڈیم اٹ سب نکلو ابھی کہ ابھی ۔۔۔۔۔۔
پکڑے جانے پر اگر میرا نام کسی نے لیا تو اس کے خاندان کا ہر فرد اپنے ہاتھوں سے ماروں گا۔۔۔۔۔

وہ فون پر بولتے ہوئے زمین کے نیچے بنے راستے سے نکلا تھا۔۔۔۔۔
وہ جلدی جلدی ایک ایک کو انسٹرکشن دینے لگا۔۔۔۔

اسے امید نہیں تھی اس کے اس ٹھکانے کا کسی کو پتہ لگ پائے گا۔۔۔۔

وہ جیسے ہی سرنگ کا راستہ ختم ہونے پر ڈھکن ہٹا کر نکلنے لگا ۔۔۔۔چہرے پر پڑنے والی روشنی سے آنکھیں چندھیا گئی۔۔۔۔

آدم خانزادہ پولیس یونیفارم میں ہاتھ میں گن پکڑے اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔

چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی۔۔۔
مسٹر ارمان نیازی غیر قانونی کاموں کی وجہ سے آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔

اس نے اپنے ایک سپاہی کو اشارہ کیا۔۔۔۔

ارمان نیازی ابھی تک شاکڈ میں تھا اس کا یہ خفیہ راستہ کسی کو نہیں پتہ تھا۔۔۔۔۔۔ اور جلدی جلدی میں وہ گن اٹھانا بھول گیا تھا۔۔۔۔

اگر پولیس والوں کو یہ راستہ پتہ تھا تو یقیناً وہ واپس جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کیا۔۔۔۔۔اسے یقین تھا وہ ظمانت پر رہا ہوجائے گا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔