Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 19
Rate this Novel
Episode 19
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط انیس
وہ اسے بیڈ پر دھکا دیتا اپنی شرٹ اتارنے لگا ۔۔۔۔۔
اس کے لیے یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ اگر وہ گھر سے نکل جاتی تو وہ کہاں ڈھونڈتا اس کو ۔۔۔۔
وہ جو اپنی ماں سے اس کے لیے لڑ رہا تھا کیا سوچتی ہو۔۔۔
کیا عزت رہ جاتی اس کی گھر میں ۔۔۔۔۔
عرش کو شرٹ اتارتے دیکھ وہ بیڈ سے اٹھ کر بھاگنے لگی۔۔۔۔
مگر عرش نے اسے کمرے سے پکڑ کر بیڈ پر پھٹکا۔۔۔۔اور اس پر جھک گیا۔۔۔۔
اس کے لمس میں اس قدر شدت تھی کہ عقیدت کو لگا وہ یہی مر جائے گی۔۔۔۔
اسے اپنے منہ میں خون کا زائقہ محسوس ہوا تو وہ اس کی سانسوں کو آزادی دیتا اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔۔
پلیز چھوڑ دیں مجھے مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔۔
چھ چھوڑیں۔۔۔۔۔
وہ ہچکیوں کے درمیان روتی ہوئی بولی۔۔۔۔
چھوڑ دوں تاکہ تم میری دی ہوئی آزادی کا فائدہ اٹھا کر میری عزت۔ دو کوڑی کا کردو ۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر چباکر بولا تھا۔۔۔
نا جانے کیوں اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو اسے اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔
م۔۔۔۔ میں۔۔۔ آپ کی زندگی نہیں خراب کرنا چاہتی م میں آپ کے لائق نہیں ہوں ۔۔۔آپ آپ اپنی منگیتر سے شادی کر لیں پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔۔وہ بے بسی سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی۔۔۔۔۔
عرش کو اس کی ایک ہی رٹ پر بہت غصہ آیا ۔۔۔۔
یہ سب تم سے کس نے کہا ۔۔۔۔۔
مجھے کسی نے نہیں کہا میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی آپ اپنی مرضی سے شادی کرلیں ۔۔۔۔۔۔وہ ابھی تک اپنی بات پر اٹکی تھی۔۔۔
عرش اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔اور عقیدت کو بٹھا لیا ۔۔۔۔
اس کے بنا دوپٹے کے سراپے کو دیکھ کر عرش نے اپنی نظریں جھکائیں ۔۔۔۔
وہی جانتا تھا اس نے کیسے خود کو روکا تھا۔۔۔۔۔
تم چاہتی ہو۔۔۔کہ۔میں کسی اور سے شادی کرلوں تو وہ میرا جب دل کرے گا میں کروں گا ۔۔۔۔اسکے لئے مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
لیکن تم نے مرنا جینا میرے ساتھ ہے اگر آج کے بعد تم اس گھر سے بنا میری اجازت کے نکلی تو تمہیں زندہ زمیں میں گھاڑ دوں گا۔۔۔۔
آج کے بعد تم اسی کمرے میں رہو گی۔۔۔۔سمجھ آئی بات۔۔۔۔
میری بیوی ہو بیوی کی طرح رہو ۔۔۔۔میرے سر پر مصیبت بن کر مت ناچو۔۔۔۔۔
اس کے سرد لہجے پر عقیدت کو اپنے جسم میں سنسنی سی دوڑتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
عرش اٹھا اور چینج کر کے بیڈ کے ایک طرف لیٹ گیا۔۔۔۔۔
اسے آنکھیں بند کئے دیکھ عقیدت وہاں سے ایک تکیہ اٹھا کر صوفے کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔۔
اگر تم نہیں چاہتی میں تمہیں اٹھا کر بیڈ پر لاؤں تو خود شرافت سے آکر یہاں لیٹ جاؤ۔۔۔۔اگر مجھے آنا پڑا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
عرش کی دھمکی پر وہ جلدی سے ایک کونے میں ہو کر لیٹ گئی۔۔۔۔
عرش لائٹ بند کرتا آنکھیں مو ند گیا۔۔۔۔
۔۔۔عقیدت کا جسم ہولے ہولے کرز رہا تھا۔۔۔۔۔اسکی گھٹی گھٹی سی سسکیاں اسے سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔
جب مزید برداشت نہ ہوا تو اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا کر خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔
ڈسٹرب مت کرو۔۔۔۔۔عرش کی سرگوشی پر وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ فریش ہو کر آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کل اس کی ایک بہت بڑی کمپنی کے ساتھ میٹنگ تھی اسے امید تھی کہ اس کی یہ میٹنگ سکسیس فل ہوگی۔۔۔۔
اس نے ایک نظر بالوں میں برش پھیرتی جزا کو دیکھا ۔۔۔۔جو براؤن کلر کے ٹراؤزر شرٹ میں لا پرواہی سے بیٹھی تھی۔۔۔۔
ایک ہی کمرے میں رہتے ہوئے اس طرح اجنبیت سے رہنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔۔
ایک ہی بیڈ پر سوتے ہوئے بھی وہ ندی کے دو کناروں کی طرح تھے۔۔۔۔
وہ لڑکی اس کے دل پر بری طرح سوار ہونے لگی تھی ۔۔۔۔
وہ اٹھی اور بیڈ پر اپنے سائیڈ آکر لیٹ گئی۔۔۔۔۔
اپنی ہی محبت سے اس طرح منہ موڑ کر رکھنا آسان تو اس کے لیے بھی نا تھا ۔۔۔۔
مگر وہ کبھی بھول نہیں پاتی تھی اسی کمرے سے سالار نے اسے بے عزت کر کے نکالا تھا۔۔۔۔
جو بے عزتی دھتکار اس نے اپنی محبت کی وجہ سے برداشت کی تھی وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔۔۔۔
وہ کب سے اسکی نظریں اپنے جسم کے آر پار ہوتے محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
سالار نے اس کا ہاتھ پکڑا تو اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔
وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔اور حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہ خمار آلود نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔۔وہ اسے خونخوار نظروں سے دیکھتے بولی۔۔۔۔۔
سالار نے اسے جواب دینے ک بجائے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود پر گرایا۔۔۔۔۔
نہ جانے کیوں اس لڑکی کے سامنے اپنا آپ اسے کمزور سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
جزا نے سٹپٹا کر اس کے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔
مگر سالار نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر اسے خود پر جھکایا اور اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں انڈھیلنے لگا۔۔۔۔۔۔
اس کے لمس میں اس قدر بے قراری تھی کہ جزا چاہ کر بھی خود کو چھڑوا نہیں پائی۔۔۔۔
اس وقت رشتے کا احساس اور حق ملکیت اس پر اس قدر چھایا ہوا تھا کہ ۔۔۔۔وہ بس اس کو پا لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
وہ ایک پل کو اس سےدور ہوا ۔۔۔
جزا نے پہلے حیرانگی سے دیکھا پھر اسکے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔
جو شخص مجھ پر تھوکنا پسند نہیں کرتا تھا آج وہ منہ لگانے کو تیار ہوگیا ۔۔۔۔۔
تو آخر تم بھی عام مردوں کی طرح ہی نکلے نا ۔۔۔۔بڑی بڑی باتیں کرنے والے آخر اندھیری رات میں تمہیں ایک لڑکی کا ہی وجود چاہیے۔۔۔۔
وہ طنزیہ مسکراہٹ میں بولتی اس کے موڈ کا بیٹا غرق کر گئی تھی۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے سب کے سامنے اچھا بننے کا درانہ کر کے تم مہان بن جاؤگے۔۔۔۔تم کیا سمجھ رہے جیسا تم چا ہوگے وہی ہوگا۔۔۔۔
ہو تو تم پہلے سے ہی ہوس کے پجاری ۔۔۔۔۔
وہ جو خود پر ظبط کئے اس کے کڑوے الفاظ برداشت کر رہا تھا۔۔۔۔۔ اسکے آخری الفاظ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔۔۔۔
اور اپنے ہاتھ کا زور دار تھپڑ اس کے منہ میں مارا تھا۔۔۔۔
جزا لہرا کر بیڈ پر گری تھی تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ کچھ پل کے لیے جزا کا پورا چہرہ سن ہوگیا۔۔۔۔۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔
اس نے اپنا وہی ہاتھ دیوار پر مارا تھا دیوار پر لگی پینٹنگ گر کر ٹوٹ گئی تھی۔۔۔
اور اس کے ہاتھ سے خون بھل بھل بہنے لگا۔۔۔۔۔
وہ جتنی مظبوط سہی مگر اس وقت سالار جس قدر غصے میں تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی سٹی گم ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
میں ہزار بار کہہ چکا ہوں تمہیں وہ سب میں نے نہیں کیا تھا ۔۔۔
اتنا ہی ہوس کا مارا ہوتا تو آج تم پچھلے دو مہینے سے میرے کمرے میں اس قدر مخفوظ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔
وہ ناچاہتے ہوئے بھی صفائی دے گیا تھا۔۔۔۔
جزا آئی ایم سوری میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا لیکن میرا یقین کرو میں نے وہ سب نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے کیا کبھی بھی تمہیں مجھ سے انکمفرٹیبل فیل ہوا ہے بتاؤ مجھے۔۔۔۔میں کیسے ایک لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیل سکتا ہوں۔۔۔۔
وہ بیٹھ کر اس کے چہرے کے گرد ہاتھ کا پیالا بنائے اس سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔آنکھیں شرمندگی سے سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔۔
جزا نے اسے نرم پڑتا دیکھ اس کے ہاتھ جھٹکے اور دور ہو کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
مجھے ۔۔۔ تمہارے ساتھ نہیں رہنا ۔۔۔۔
نا مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ ہے۔۔۔۔
مجھے فرق نہیں پڑتا کہ تم کیا ہو کیا نہیں ۔۔۔۔
میں نے یہ شادی صرف اپنی فیملی کیوجہ سے کی ہے ۔۔۔۔
اگر تم نے میرا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو سب تہس نیہس کردوں گی۔۔۔۔
وہ انتہائی بد تمیزی سے چبا چبا کر بولی تھی۔۔۔۔
آج اس نے دوسری بار اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔
وہ غصے میں اسے دھکا دے کر واش روم میں بند ہو گئی۔۔۔۔
سالار بھی کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
وہ اس پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔۔مگر وہ اس حد تک بد تمیزی کر جاتی تھی وہ خود پر کنٹرول نہیں کر پاتا تھا اس نے زور سے اپنا زخمی ہاتھ اسٹئیرنگ پر مارا۔۔۔۔
وہ پوری رات اس نے باہر آوارہ گردی میں گزاری تھی۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
تمہارے ہاتھ میں کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔عرش نے سالار کے زخمی ہاتھ کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھا ۔۔۔۔
جس نے پٹی کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔
کچھ نہیں بس زرا سی چوٹ لگی ہے۔۔۔۔۔سالار نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا۔۔۔۔۔
بکواس مت کرو مجھے دوائی لگانے دو خراب ہو جائے گا ۔۔۔۔
عرش نے اسے گھورا اور ڈرار میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اس میں دوائی لگا کر پٹی کرنے لگا۔۔۔۔
اسے ٹائم دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔
عرش کہہ کر واشروم چلا گیا ہاتھ دھونے۔۔۔۔
سالار نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔
رات کو تم اپنی بیوی کے ساتھ کہاں ہنی مون منانے جا رہے تھے۔۔۔۔
سالار نے اسے شرارتی نظروں سے دیکھ کر کہا تو اسے پھر سے وہ سب یاد آنے لگا۔۔۔۔۔
بھاگ رہی تھی گھر سے کہتی ہے میرے ساتھ نہیں رہنا۔۔۔۔
اور میں اپنی منگیتر سے شادی کرلوں اسے چھوڑ کر۔۔۔۔۔
عرش نے اس سے کچھ بھی نہیں چھپایا ۔۔۔۔
دیکھو عرش جو بھی ہے لیکن تم ان کے بجائے چھوٹی امی کو راضی کرنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔
جب اس طرح ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اسے الگ رویہ ملے گا تو ظاہر سی بات ہے انکے دماغ میں ہزار طرح کی باتیں آئیں گی۔۔۔۔۔
یار میں امی کو ہر طرح سے منانے کی کوشش کر چکا ہوں لیکن وہ میری بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں ۔۔۔۔
ان کی بس یہی ضد ہے میں ایشا سے شادی کرلوں ۔۔۔
تم جانتے ہو عقیدت کے آنے سے پہلے بھی میں ایشا سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔کیونکہ وہ لڑکی مجھے نہیں پسند اس کی حرکتیں ہم خود دیکھ چکے ہیں ۔۔۔۔۔
مگر امی اب مجھ سے ناراض ہو گئی ہیں ۔۔۔
اور میں ان کی یہ ناراضگی برداشت نہیں کر پا رہا۔۔۔۔۔
اس نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔
چک کوئی نہیں پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔
میرا پاس ایک پلان ہے ویسے۔۔۔۔۔چھوٹی امی کو منانے کا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔عرش کے پوچھنے پر جو سالار نے بولا۔۔۔۔۔
عرش نے اسے ایک زبردست گھوری سے نوازا۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
شام کا وقت تھا شفا پریشان سی اکیلی گارڈن میں بیٹھی تھی ۔۔۔
گھبراہٹ اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔۔۔جزا اسے دیکھ کر وہیں آگئی۔۔۔۔۔
کیا بات ہے پریشان ہو تم۔۔۔۔۔اس نے شفا سے پوچھا وہ اسے کبھی بھابھی تو کبھی شفا کہہ کر پکارتی تھی۔۔۔
نہیں تو میں تو ٹھیک ہوں ۔۔۔۔شفا نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔۔
لیکن تم مجھے پریشان لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔بتاؤ کیا بات ہے ۔۔۔۔ہم۔ہیں نا اکیلے کیوں پریشان ہو رہی ہو۔۔۔۔
اس نے اپنائیت سے کہا تو شفا کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ اسے آدم کی کہی باتیں بتاتی چلی گئی۔۔۔۔
تو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔بھائی ہونگے نا تمہارے ساتھ اور میں بھی چلوں گی۔۔۔۔۔
کبھی بھی ڈر کر دشمن کو ڈھیل نہیں دینی چاہیے ۔۔۔۔نہیں تو وہ اگلی بار ایسی جگہ وار کرتا ہے کہ آپ کچھ نہیں کر پاتے۔۔۔۔
اپنے لئے اسٹینڈ لینا سیکھو ۔۔۔۔۔
آج انہوں نے آپ کے پاپا کو مارا ہے اگر ایسے ہی انہیں چھوڑ دیا تو نا جانے وہ کتنے گھر اور اجھاڑ دے ۔۔۔۔۔
پھر آپ خود کو کبھی معاف نہیں کر پائیں گی۔۔۔۔کیونکہ اللّٰہ نےآپ کو موقع دیا ہے ان کو سزا دلانے کا ۔۔۔۔اور اگر آپ نے یہ نہیں کیا تو یہ بہت سارے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔۔۔۔۔
اسے جزا پرشک آیا تھا جو اتنی بہادر تھی۔۔۔۔
اتنے میں آیت بھی عقیدت کو لے کر وہی آ گئی تھی۔۔۔۔
شادی کیا ہوگئی تمہاری کمرے سے نکلنے کا دل نہیں کرتا کیا ۔۔۔۔
آیت آتے ہی جزا کو سنانے لگ گئی۔۔۔۔۔
مگر اس کے چہرے پر موجود ہلکے سے نشان کو دیکھ وہ پریشانی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
تمہارے چہرے پر یہ نشان کیسا ہے۔۔۔۔۔اس کے پوچھنے پر شفا اور عقیدت نے بھی غور سے اس کی طرف دیکھا جہاں ہلکے سے نشان تھے۔۔۔۔
یقیناً میک اپ سے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔۔۔۔
کچھ نہیں پھسل گئی تھی۔۔۔۔۔اس نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
کوئی نہیں یہ تھپڑ کا نشان ہے جزا سچ بتاؤ کس نے کیا یہ۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی ۔۔۔۔۔۔وہ ان کے گھر کی شیرنی تھی سب سے بہادر اور نڈر کوئی اس پر کیسے ہاتھ اٹھا سکتا تھا۔۔۔۔
تمہاری نظر میرے ہی گال پر کیوں پڑی۔۔۔۔تم نے بھابھی کا چہرہ دیکھا ہے ان کے ہونٹوں پر نشان نظر نہیں آرہا ؟؟؟؟
اس نے آیت کا دھیان خود پر سے ہٹا کر عقیدت کی طرف دلائی۔۔۔۔
اس کی بات پر سب اس کو چھوڑ کر عقیدت کی طرف دیکھنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
عقیدت ان کی نظروں سے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
چہرے پر سرخی اتنی تھی جیسے خون چھلک پڑے گا۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے ان کو میں عرش بھائی کے کمرے سے کے کر آرہی ہوں۔۔۔محترمہ رات ہی رات وہاں شفٹ ہوگئ اپنے میاں کے آنے پر ہمیں خبر بھی نہیں ہونے دی۔۔۔۔
آیت نے اسے چھیڑا۔۔۔۔۔
اچھااااااا میں بھی سوچوں ۔۔۔۔۔یہ ہونٹوں پر ظلم آخر ہوا کیسے۔۔۔۔جزا بھی اسے چھیڑنے سے بعض نہیں آئی۔۔۔
جبکہ جزا ان سب کی اتنی بے باک باتیں سن کر خود ہی شرمندہ ہو گئی تھی آیت کا بس نہیں چلا وہاں سے بھاگ جائے ۔۔۔۔۔
مین گیٹ کھلنے پر ایک ساتھ تین گاڑیاں پورچ میں آکر رکی تھیں ان سب نے مڑ کر حیرانگی سے دیکھا۔۔۔
کیونکہ یہ گاڑیاں خانزادہ مینشن والوں کی نہیں تھی ۔۔۔
بلیک شلوار قمیض میں پشاوری چپل پہنے آنکھوں پر بلیک گلاسس لگائے گاڑی کا دروازہ کھول کر نکلتے بالاج شاہ کو دیکھ ۔۔۔
آیت کی آنکھیں گھبراہٹ سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔۔۔
آیت نے سہارے کے لئے جزا کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔
اس کے کپکپاتے ہاتھوں کو دیکھ کر جزا نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
