Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط سترہ
اس نے سالار کی پیٹھ پر ناخن گاڑھے مگر وہ پھر بھی دور نہیں ہوا ۔۔۔۔جب اپنی ہر کوشش ناکام ہوتی لگی تو اسنے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔
سالار کو جب لگا وہ سانس نہیں لے رہی۔۔۔۔تو وہ آرام اس سےدور ہوا۔۔۔۔
جزا نے اسکی طرف نہیں دیکھا اور خاموشی سے جا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔۔
آئیندہ ہمارا جو بھی مسئلہ ہو تم اس کمرے کے باہر نہیں لے کر جاؤ گی۔۔۔۔
سالار نےاس کی طرف دیکھ کر کہا جو کروٹ کے بل لیٹ کر آنکھیں موند چکی تھی۔۔۔۔
لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔
سالار نے بھی اسے تنگ نہیں کیا اور دوسری طرف آکر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔اس کے لیٹتے ہی جزا کے کب سے رکے ہوئے آنسؤں بہہ نکلے۔۔۔۔
انسان کتنا بے بس ہو جاتا ہے بس ایک فیملی کی عزت کے لیے اور اس فیملی کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے اپنی عزت نفس اور أنا کو مارنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔
اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ اپنی جان دے دینا بہتر سمجھتی سالار خانزادہ کے نکاحِ میں جانے سے پہلے۔۔۔۔
وہ کمزور تو نہیں تھی وہ کیوں اتنی بے بس ہوئی۔۔۔۔
اسے اس پل سب سے نفرت محسوس ہوئی۔۔۔۔
سالار اس کی طرف کروٹ لے کر لیٹا تھا مگر جزا کی اس کی طرف پیٹھ تھی۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے میں یہ اضافہ اسے اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔اور تھوڑی دیر پہلے جو سکون اسے ملا تھا وہ سوچ کر ہی چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اس نے جزا کے ساتھ غلط کیا تھا ۔۔۔
مگر اب تو سب ٹھیک ہوگیا تھا اب وہ کیوں سب بھول کر خود کو نارمل نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
ماضی۔۔۔۔۔
بچپن سے لے کر جوانی تک ہی جزا سب سے زیادہ سالار کے قریب رہی ۔۔۔۔
اس نے ایک بار فروا بیگم اور شاہین بیگم کو کہتے سنا تھا ۔۔۔کہ جزا سالار کی دلہن بنے گی بچپن سے ہی یہ بات اس کے کچے زہن میں بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔
اور جیسے جیسے وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی گئی۔۔۔۔
یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔۔۔۔
ایک بار اسے کچھ لڑکوں نے چھیڑا تھا جس پر سالار نے اس کے سامنے ان لڑکوں کی بہت دھلائی کی تھی اور اسے سکھایا تھا کہ اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے۔۔۔۔۔
اور یہ بھی بتایا تھا کہ بات جب عزت پر آ جائے کوئی معافی نہیں ۔۔۔۔
سالار کا اس کا خیال رکھنا۔۔۔کہیں نا کہیں اس معصوم کے دل میں یہ بات ڈالتا تھا کہ سالار بھی اسے پسند کرتا ہے۔۔۔۔
وہ اٹھارہ سال کی تھی اور سالار ستائیس سال کا ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کالج کی گرلز کے ساتھ لنچ پر آئی تھی۔۔۔۔۔
جزا تمہاری بریسلیٹ تو بہت پیاری ہے۔۔۔۔۔۔از کی دوست نے تعریف کی تو ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔۔۔۔
یہ بریسلٹ اسے سالار نے اس کی برتھڈے پر گفٹ کیا تھا۔۔۔۔
تھینک یو ریا ۔۔۔۔اس نے شکریہ ادا کیا۔۔۔۔
ابھی اس نے دوسرا نوالہ منہ میں ڈالا ہی تھا کہ پیچھے سے کسی کے کھلکھلاہٹ کی آواز آئی اس کھلکھلاہٹ میں کسی اور شخص کی آواز بھی شامل تھی۔۔۔۔
اس نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا تو وہ سالار خانزادہ تھا جو ایک لڑکی کے ساتھ کافی کلوز بیٹھا مسکرا کر بات کر رہا تھا۔۔۔
اور وہ لڑکی بات بات پر اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار رہی تھی یہ سب دیکھ اسے اپنے اندر درد کی ایک ٹھیس سی اٹھتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی جما ہو گیا۔۔۔۔
وہ غصے میں اس کے ٹیبل پر پہنچی ۔۔۔۔۔
اٹھو یہاں سے۔۔۔۔۔وہ خونخوار نظروں سے دونوں کو گھورتے ہوئے اس لڑکی سے بولی۔۔۔۔
سالار نے حیرانگی سے جزا کا لہجہ دیکھا ۔۔۔۔۔
جزا تم یہاں کس کے ساتھ آئی۔۔۔۔۔سالار نے اس سے پوچھا مگر وہ جواب دینے کے بجائے اس لڑکی کو نفرت سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
سالار تم جانتے ہو اسے کون ہے یہ کیا تمہاری بہن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ جو سالار کی یونیورسٹی فرینڈ تھی اس نے پوچھا۔۔۔۔
جزا کے تو سر پر لگی اور تلوؤں پر بجھی۔۔۔۔
وہ غصے سے ایک قدم اور قریب گئی۔۔۔۔
Stay away from Salar because he is only mine.
وہ چبا چبا کر اس لڑکی کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔۔۔۔
سالار خانزادہ تو اس کے الفاظ پر اپنے قد سے ہل گیا۔۔۔
جزا کیسے اس کے لئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرسکتی ہے۔۔۔۔۔
ضرور اس نے غلط سنا ہوگا۔۔۔۔اس نے جزا کا ہاتھ پکڑ کر
اپنے سامنے کیا۔۔۔۔۔۔
کیا کہا تم نے دوبارہ کہو۔۔۔۔۔۔اسے پوری امید تھی کہ اس نے غلط سناہوگا۔۔۔۔۔
آپ بس میرے ہیں میں آپ کے ساتھ کسی بھی لڑکی کو برداشت نہیں کرونگی ۔۔۔۔
وہ اس سے نظریں ملائے پورے اعتماد سے بولی۔۔۔۔
اپنی بکواس بند کرو دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا دو رکھ کے اس گال پر تھپڑ لگائے ۔۔۔..
اس نے سختی سے جزا کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے آیا ۔۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر پھٹکا اور گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔۔۔
اسٹیرنگ پر اس کے ہاتھ سختی سے جمے تھے۔۔۔
ہالف سلیوز ٹی شرٹ سے اس کے بازوؤں کے ابھری ہوئی نسیں واضح نظر آرہے تھے۔۔۔۔
جزا کی سمجھ میں اس کا غصہ نہیں آیا۔۔۔وہ دروازے سے لگ کر خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
اس نے گھر کے باہر گاڑی روکی اور بنا اس کی طرف دیکھے اسے گاڑی سے نکل جانے کا کہا۔۔۔۔
جزا نے موقع غنیمت جانا اور گاڑی سے اتر کر اندر بھاگ گئی۔۔۔
آج دو دن ہو گئے تھے مگر سالار گھر نہیں آیا تھا۔۔۔۔وہ ہر طرف بھولائی بھولائی پھر رہی تھی۔۔۔۔
وہ چاہ کر بھی اپنی غلطی نہیں ڈھونڈ پا رہی تھی۔۔۔
پورچ میں اس کی گاڑی رکنے کی آواز پر وہ بھاگتی ہوئی گئی۔۔۔
اس کو دیکھ کر سالار کو دوبارہ وہی سب یاد آگیا ۔۔۔۔غصے سے اس کی رگیں تن گئیں وہ اسے نظر انداز کئے آگے بڑھنے لگی ۔۔۔
سالار آپ آگئے۔۔۔۔وہ خوشی سے اس کے پاس آئی۔۔۔۔۔
بچپن سے ہی وہ اسے سالار بولتی تھی مگر پیار پیار میں کبھی کسی نے ٹوکا نہیں ۔۔۔۔
اس کی توتلی زبان سے سالار اتنا اچھا لگتا تھا کہ اکثر تو عرش بھی اس سے فرمائش کرتا تھا کہ اسے بھی نام لے کر پکارے۔۔۔۔۔۔
آج اس کے منہ سے سالار لفظ ہی اسے ہتھوڑے کی طرح لگا۔۔۔۔
آئیندہ میرے راستے میں مت آنا سمجھی ورنہ تمہارے ٹکڑے کر کے جانوروں کو کھلا دوں گا۔۔۔۔۔
وہ اسے وارن کرتا اپنے روم میں بند ہوگیا۔۔۔
پورے دو مہینے ایسے ہی گزر گئے۔۔۔وہ اس کے سامنے بہت کم آتا تھا اگر آ بھی جاتا تو اگنور کر دیتا تھا۔۔۔۔
سب نے ان کے بیچ کی رنجش محسوس کی تھی لیکن کسی نے بھی کچھ نہیں کہا۔۔۔۔سب کا ماننا تھا سالار ضرور جزا کی کسی غلطی پر ناراض ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔
بڑی امی میں شادی کرنا چاہتا ہوں اپنی کلاس فیلو سے ۔۔۔۔۔
سالار نے فروا بیگم سے کہا۔۔۔۔
پہلے تو وہ کچھ دیر خاموش رہی ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ سالار اور جزا کو ساتھ دیکھنا شاہین بیگم اور فروا بیگم دونوں کی خواہش تھی۔۔۔۔۔
مگر بچوں کی خواہش کے خلاف جا کر کچھ بھی کرنا ان کو پسند نہیں تھا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا آپ مجھے اور اپنی چھوٹی امی کو اس بچی کے گھر لے کر جانا تاکہ ہم رشتہ مانگ سکے۔۔۔۔۔وہ ایک گہری سانس لے کر بولی۔۔۔۔۔
انہیں دکھ ضرور ہوا تھا مگر زبردستی رشتے نہیں بنتے ۔۔۔۔
جزا جو امی کے کمرے میں آئی تھی دروازے سے ان کی باتیں سنتے ہی روتے ہوئے واپس بھاگ گئی۔۔۔۔
وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ تو مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ مجھے پیار دیتے ہیں ۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں اندھیرے میں بیٹھے رو رہی تھی۔۔۔۔
وہ ضرور مجھ سے ناراض ہونگے کیونکہ میں نے ریسٹورنٹ میں آسن کی فرینڈ سے بدتمیزی کی ۔۔۔۔
میں انہیں منا لوں گی۔۔۔۔وہ یہ سب مجھے جلانے کے لئے کر رہےہیں میں جانتی ہوں ۔۔۔۔مگر میں ان کو منا لوں گی۔۔۔۔۔
وہ دل میں ارادہ کئے اٹھی اور سالار کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔
دروازہ کھلا تھا وہ بنا دستک دیئے اندر چلی گئی۔۔۔۔۔
سالار جو لیپ ٹاپ پر کوئی کام کر رہا تھا ااس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا ۔۔۔۔
ہاں وہ اس سے ناراض تھا مگر اس نے کبھی آیت اور جزا میں فرق نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
اس لیے اسے روتے دیکھ اس کی سانس سینے میں اٹک گئی وہ سب بھول گیا تھا جزا کی حرکت اپنی ناراضگی سب ۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے اس کے پاس آیا۔۔۔۔اور اس کو تھام کر بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔۔۔
اور خود گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔
کیا ہوا میری گڑیا کو کیوں رو رہی ہو ۔۔۔۔۔کسی نے کچھ کہا کیا۔۔۔۔وہ بہت پریشانی سے اس سے پوچھنے لگا۔۔
جزا بتاؤگی مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔اسکی مسلسل خاموشی اور
اس قدر شدت سے رونے پر وہ غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔۔
آ ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔کی کیسے کسی اور اور سے شادی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔اس کی ہچکیاں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں ۔۔۔۔
چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔
اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔
اتنی دیر سے جو پریشانی تھی اب اس کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔۔۔۔۔
دیکھو آدم بھائی کی بھی تو شادی ہورہی ہے نا کچھ دنوں میں تو میری بھی ہو جائے گی۔۔۔۔
اس میں رونے والی کوئی بات نہیں ریلکس چلو جاؤ فریش ہو کر آرام کرو۔۔۔۔
ہم تینوں ہمیشہ تمہارا ویسے ہی خیال رکھیں گے جیسے ہمیشہ رکھا۔۔۔۔۔
سالار نے اسے بھیجنا چاہا۔۔۔۔
کیونکہ کہیں نا کہیں نہیں سالار کو لگتا تھا کہ جزا بس اس بات سے ڈر رہی ہے کہ کہ کہیں وہ کسی اور کے آنے سے اسے بھول نا جائے ۔۔۔۔۔
آپ کی کیسے کسی اور سے شادی کر سکتے۔۔۔۔اپ آپ امی سے کہ کہیں کہ آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے سالار کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔۔
اس کی باتیں سن کر سالار کو اپنے سر پر پہاڑ گرتا ہوا لگا۔۔۔۔۔۔
وہ کیسے اس طرح کی باتیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔
وہ کچھ اور سمجھ رہا تھا ۔۔۔مگر جزا کے لفظوں نے اسے خود کی نظروں میں گرا دیا تھا۔۔۔۔۔۔
ک کیا مطلب ہے تمہاری بات کا۔۔۔۔۔۔اس کی زبان لڑکھڑا گئی تھی ۔۔۔۔۔اسے اب بھی لگ رہا تھا وہ کہہ دے گی ۔۔۔میں تو مزاق کر رہی تھی ۔۔۔۔
مگر جزا کی حالت اسے چیخ چیخ کر سچائی بتا رہی تھی جسے وہ اپنے جھوٹے دلائل سے کب سے اگنور کر رہا تھا۔۔۔۔
آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں نا۔۔۔۔م میں بھی آپ سے محبت کرتی ہوں تو آپ آپ ام می سے ہماری شادی کی بات کریں۔۔۔۔۔
” وہ جس کچھ اور سننے کے انتظار میں تھا ۔۔۔۔حیرانگی س بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
وہ غم و غصے سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔جو اس کی حالت سے بے خبر اپنی بات بتاتے روئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
نکلو یہاں سے ۔۔۔۔وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ اگر آدم اور عرش گھر پر ہوتے تو ضرور وہاں آجاتے ۔۔۔
کیونکہ صرف ان تینوں کے روم ہی اوپر اس سائیڈ تھے باقی سب کے نیچے تھے۔۔۔۔
اس کی دھاڑ پر جزا نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا ۔۔۔۔۔۔
خوف سے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھی۔۔۔۔۔
مگر وہ ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلی اسے لگا وہ اس کمرے سے نکلی تو وہ اپنی دوست سے شادی کرلے گا۔۔۔۔
اور وہ سالار کو کسی قیمت پر نہیں کھونا چاہتی تھی۔۔۔۔
تمہیں میری بات سمجھ میں آرہی ہے ۔۔۔دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔سالار نے اسے ایک جگہ ٹکے دیکھ کر کہا۔۔۔۔
لیکن میں آپ سے پیار کرتی ہوں پلیز میرے ساتھ ایسا مت کریں ۔۔۔۔۔
وہ روتے روتے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
سالار کا دل کیا اس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی شوٹ کردے۔۔۔۔۔جو اس کے اور اپنے رشتے کا مزاق بنا رہی تھی۔۔۔۔
اس نے ہمیشہ اسے ایک بہن ہی سمجھا تھا۔۔۔۔
اور اس طرح کی گھٹیا سوچ اس کے زہن میں کیسے آسکتی تھی۔۔۔
اس وقت اسے شدید نفرت محسوس ہوئی جزا سے۔۔۔۔۔
میں آپ سے پیار کرتی ہوں ۔۔۔۔ پلیز مجھے شادی کر لیں۔۔۔۔وہ لڑکی اس کے سامنے دو زانوں بیٹھی اپنی محبت کی بھیک مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ بے حس بنا اسے دیکھتا رہا دو قدم چلتا اس کے پاس آیا اور جھکا اس لڑکی کا بازو پکڑ کر اٹھایا۔۔۔
تم اگر دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوئی تب بھی میں تم جیسی لڑکی سے شادی کبھی نہیں کروں گا۔۔۔اس کی آنکھوں میں سامنے موجود لڑکی کے لیے حقارت کے سوا کچھ نا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس وقت اس کا بس نا چلا وہ جزا کو آگ لگا دے۔۔۔۔
مگر میں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔چہرے پر پڑنے والے تھپڑ نے اس کی بولتی بند کردی تھی۔۔۔۔
وہ اسے کھینچتے ہوئے باہر لایا اور اس کے منہ پر دروازہ دھاڑ کی آواز سے بند کیا۔۔۔۔
وہ خالی خالی نظروں سے گال پر ہاتھ رکھے بند دروازے کو دیکھنے لگی۔۔۔
اور کسی روبوٹ کی مانند چلتی ہوئی اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر ڈھے گئی۔۔۔۔
تم اگر دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوئی تب بھی میں تم جیسی لڑکی سے شادی کبھی نہیں کروں گا۔۔۔
بار بار ایک یہی جملہ اس کے کانوں میں گونجنے لگا۔۔۔۔
آنسو آنکھوں سے نکل کر بالوں میں میں جذب ہونے لگے ۔۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد سالار نے غصے سے اپنا پورا کمرہ تہس نہس کر دیا۔۔۔۔۔
وہ کیوں ایسی باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔کیا وہ اسے پسند کرتی تھی۔۔۔گر کیوں۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ اسے چھوٹی بہن سمجھتا تھا ۔۔۔تو اس طرح کی گھٹیا سوچ اس کے زہن میں آئی کیسے۔۔۔۔
غموں غصے سے اس کا سر پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔
آج وہ اپنی ہی نظروں میں گر گیا تھا۔۔۔۔اس کا کونسا عمل جزا کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا وہ۔ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے تو ہمیشہ ایک بچی کی طرح اسے ٹریٹ کیا تھا کیونکہ وہ گھر م سب سے چھوٹی تھی۔۔۔۔
آنکھ سرخ انگارا ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
خانزادہ مینشن میں ناشتے کی اشتہا انگیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
جزا کا رویہ بھی اب گھر والوں کے ساتھ نارمل ہو گیا تھا۔۔
جزا اور سالار دونوں ایک کمرے میں رہتے ہوئے بھی اجنبی کی طرح تھے ۔۔۔۔۔سالار بھی اسے چھیڑنے سے گریز کرتا تھا کیونکہ اس کے پھٹنے پر پورا گھر متاثر ہوتا تھا۔۔۔۔
عقیدت بھی کوشش کرتی تھی کہ وہ سجدہ بیگم کے سامنے کم آئے وہ سب سے منتیں کر کے آیت کے کمرے میں شفٹ ہو گئی تھی۔۔۔۔
عرش بھی کسی میٹنگ کی وجہ سے پچھلے تین ہفتے سے آؤٹ آف کنٹری تھا۔۔۔۔
سجدہ بیگم سے اس کا سامنا نا ہونے کے برابر تھا لیکن اگر کبھی وہ دیکھ بھی لے تو چپ کر نکل جاتی تھی ۔۔۔۔
وہ اپنی وجہ سے کسی کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
اس نے اپنی ایک دوست سے رابطہ کیا تھا آیت کے فون سے وہ ایک دو دن میں یہاں سے جانے کا سوچ چکی تھی۔۔۔۔
امی دیکھیں منت نے مجھے مما کہا۔۔۔۔شفا کی پرجوش آواز سن کر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔۔
جو لاؤنج میں منت اور آیت کے ساتھ بیٹھے کھیل رہی تھی۔۔۔۔
اب ہلکا ہلکا چلنا شروع کیا تھا اس نے ۔۔۔۔
منت مما بولو۔۔۔۔۔۔شفا اسے پیار سے بہلانے لگی ۔۔۔۔۔
وہ پہلے صرف مم کہتی تھی آج اس نے صاف مما کہا تھا اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔۔
ممااا۔۔۔۔وہ کہنے کے بعد کھلکھلا کر اپنی ماں کے سینے میں سر چھپا گئی۔۔۔
جزا کو یہ منظر اتنا خوبصورت لگا اس نے جلدی سے وڈیو بنا کر آدم کے نمبر پر سینڈ کردی۔۔۔۔۔
منو۔۔۔۔۔۔۔پھپھو بولو اب ۔۔۔۔۔آیت اس کے پاس بیٹھ کر اس سے بولی۔۔۔۔
مگر منت اپنی ماں کے سینے سے سر نکالنے کو تیار ہی نہیں تھی وہ ۔۔۔ایک شرمیلی بچی تھی ۔۔۔
میری منو صرف اپنی مما کی بات مانے گی۔۔۔۔۔اس کی حرکت پر شفا نے آیت کو زبان چڑا کر کہا۔۔۔۔
سب اس کی حرکت پر مسکرا دئیے ۔۔۔۔۔
عقیدت اچھی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔۔فروا بیگم کی بات پر سجدہ نے ان کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
تم اسے قبول کرنے کی کوشش تو کرو وہ انشاء اللّٰہ وہ ایک اچھی بہو ثابت ہوگی۔۔۔۔۔
بھابھی میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں۔۔۔۔۔اس لڑکی کی وجہ سے میں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتی پلیز مجھے سمجھیں ۔۔۔۔۔
سجدہ بیگم کی بات پر وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سر کوئی تارا ملک نام کی عورت آپ سے ملنے آئی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ جزا کی بھیجی گئی ویڈیو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ جو شادی سے دور بھاگنے والا اب ہر پل اس پیاری لڑکی کے خیالوں میں رہنے لگا۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی دن بدن اسکے دل میں گھسی جا رہی تھی۔۔۔۔
اور جب وہ منت کی وجہ سے اس سے ناراض ہوتی تھی ۔۔۔۔
اس کا دل کرتا تھا بس اس کو خود میں سما لے۔۔۔۔
وہ سگی ماں سے بڑھ کر منت کو چاہتی تھی۔۔۔۔
الطاف کی بات پر اس کی طرف دیکھا اور اسے اندر بھیجنے کو کہا۔۔۔۔۔
تقریباً دس منٹ بعد لگ بس چالیس کے قریب ایک عورت اس کے آفس میں داخل ہوئی۔۔۔
جس نے سادہ سا لان کا سوٹ پہن رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
چہرے پر پریشانی واضح تھی۔۔۔۔
جی بیٹھیے آدم خانزادہ نے چیئر کی طرف اشارہ کیا تو وہ بیٹھ گئ۔۔۔۔
جی کہئیے محترمہ میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں ۔۔۔۔
جی میرا نام تارا ملک ہے ۔۔۔۔۔اور میں اپنا پارلر چلاتی ہوں۔۔۔
میری ایک بیٹی ہےجو پچھلے دو مہینے سے گم ہو گئی ہے وہ کہیں نہیں مل رہی۔۔۔۔
اس عورت نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔۔
آپ نے کسی تھانے میں کمپلین کی کوئی۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
نہیں سر جواں بیٹی ہے اگر اس کے منگیتر کو پتہ چلا تو رشتہ ختم کر دے گا۔۔۔۔۔
لوگ طعنے دیں گے میں نے اپنے طور پر ہر جگہ ڈھونڈ لیا مگر وہ مجھے نہیں ملی ۔۔۔
میں مجبور ہو کر آپ کے پاس آئی ہوں۔۔۔۔پلیز میری مدد کریں ۔۔۔۔اس عورت نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔
آدم کو افسوس ہوا۔۔۔۔
کوئی پکچر ہے ان کی آپ کے پاس۔۔۔۔آدم کے پوچھنے پر جو تصویر اس عورت نے اس کی طرف بڑھائی آدم کو لگا کوئی پہاڑ اس کے سر پر آگرا ہو۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
