Lams e Junoon By Zarnab Chand Readelle50043 Episode 13
Rate this Novel
Episode 13
ناول لمس جنون
رائٹر زرناب چاند
قسط تیرہ
ثمرہ ان کا مجھ پر بہت قرضہ ہےاس لئے وہ پولیس کے کر آئے ہیں پلیز مجھے چھپا دو ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے ثمرہ کا ہاتھ
پکڑ کر منتیں کرنے لگی ۔۔۔۔
جو خود حیران پریشان سی باہر کھڑے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔۔۔تائی امی پریشان سی آدم سے پوچھنے لگی ۔۔۔
مس عقیدت سے ملنا ہے ہمیں کیا ہماری بات ہو سکتی ہے ۔۔۔
مس رابیہ آدم کے اشارے پر سب سے آگے آکر پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
کیا کردیا ہے اس منحوس نے کیا اب تک جو ہمارے سروں پر سوار رہی وہ کم تھا جو اب باہر بھی مصیبتیں کھڑی کر کے آئی ہے ۔۔۔۔
تائی جان تو اس کو باہر سے ہی کوسنے لگی ۔۔۔۔احمد بھی اپنی ماں کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا۔۔۔۔
عرش اور سالار تو حیرانی سے اس عورت کے زبان کے جوہر سننے لگے۔۔۔
جبکہ آدم کا تو اکثر ایسی عورتوں سے پالا پڑتا تھا اس لیے وہ زیادہ حیران نہیں تھا۔۔۔
کیا ہم اکیلے میں بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔
آدم نے تائی امی سے کہا تو وہ بھی مصلحتاً اسے اشارہ کرتی اندر کمرے میں چلی گئی۔۔۔
پیچھے عرش کھا جانے والی نظروں سے احمد کو گھورنے لگا۔۔۔۔جو آنکھوں میں سرمہ لگائے سفید کپڑوں میں تیار کھڑا تھا ۔۔۔۔
احمد بیٹا مجھے دیر ہو رہی ہے کتنا ٹائم لگے گا نکاحِ ہوگا بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔
قاضی صاحب نکاح تو ہوگا وہ بھی تھوڑی دیر میں آپ بس تھوڑا صبر رکھیے ۔۔۔۔۔سالار نے مسکراتے ہوئے قاضی صاحب کے کندھے ہر ہاتھ رکھا اور باہر بچھی چارپائی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
وہاں موجود ہر انسان ان خانزادوں کو دیکھ دیکھ کر رشک کرنے لگے ۔۔۔۔۔
میں آپ سے گھما پھرا کر بات نہیں کروں گا بات سیدھی ہے مس عقیدت نے کمپنی کی کچھ پالیسی توڑی ہے انہوں نے آفس جوائن کرنے سے پہلے ایگریمنٹ پیپر میں سائن کیا تھا جس پر وہ پوری نہیں اتری جس کی وجہ سے ہم ان پر کیس کر سکتے ہیں اور جرمانے کے تور پر انہیں پانچ لاکھ روپیے ادا کرنے پڑیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ہم نے سنا ہے آپ کے بیٹے کے ساتھ ان کا نکاح ہونے والا ہے تو اس وجہ سے یہ سارے پیسے آپ کا بیٹا ہمیں جرمانے کے طور پر اداکرے گا۔۔۔۔۔
آدم کی باتوں نے تو ان کے سر پر بم پھوڑا تھا ان پر تو جیسے سکتہ طاری ہو گیا تھا ۔۔۔۔
میرا بیٹا اس لڑکی سے کوئی نکاح نہیں کرے گا اسے یہاں سے لے جائیں جیل میں ڈال دیں کچھ بھی کریں ہم لوگوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔
تائی امی جس طرح سے پلٹی تھی آدم افسوس ہی کر سکتا تھا بس۔۔۔۔کیونکہ اگر اس کی جگہ کوئی مرد ہوتا اب تک اس کے تھپڑ سے لال ہو چکا ہوتا۔۔۔۔
اگر آپ کے گھر سے ایک عورت کو پولیس لے گئی تو آپ کی بدنامی ہوگی اس لیے میرے پاس دوسرا اوپشن بھی ہے جس سے آپ کی عزت بچ جائے گی۔۔۔۔
آدم کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
آپ مس عقیدت کا نکاح عرش خانزادہ سے کروا دیں اس سے آپ کے خاندان کی عزت بچ جائے گی دوسری سورت میں مس عقیدت کے ساتھ آپ کا بیٹا بھی جیل جائے گا کیونکہ کچھ ثبوت تو اس کے خلاف میرے پاس بھی ہیں ۔۔۔۔
آدم خانزادہ جس لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔تائی امی کو سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی انکو اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے اگر عقیدت کو مارنا بھی پڑتا تو وہ مار دیتی۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں راضی ہو جو دل میں آئے کریں لیکن اس مصیبت کو میرے گھر سے لے جائیں ۔۔۔۔
تائی جان کہتی باہر نکل گئی۔۔
اے لڑکی اٹھ نکاح ہے تمہارا لیکن میرے بیٹے سے نہیں اسی لڑکے سے جس کا تو نے نقصان کیا۔۔۔۔
تائی امی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ایسی کوئی بات نہیں پلیز میرا یقین کریں وہ انکا ہاتھ تھامنے لگی ۔۔۔۔جسے تائی امی نے بہت بری طرح جھٹکا اور دور کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔
بڑی پارسا بنی پھرتی ہے لیکن تیرا رنگ تو سب کو دکھ گیا۔۔اس امیر زادے کو بھی تو نے اپنے جسم کی نمائش سے پھنسایا ہوگا تبھی تو تم سے نکاح کر رہا ہے…..اور ویسے بھی ایسے امیر زادے زیادہ دیر اپنےساتھ رکھتے نہیں استعمال کر کے دل بھرنے پر چھوڑ دیں گے۔۔۔۔۔
تائی امی کی بات نے اسے اندر تک زخمی کیا تھا۔۔۔۔۔مگر وہ کچھ نہیں بولی۔۔۔۔
اس کے بعد کب نکاح ہوا کب وہ اس کو وہاں سے لے کر نکلا کچھ یاد نہیں رہا۔۔۔
وہ بس کسی روبوٹ کی طرح سب کے کہے پر عمل کرتی گئی۔۔۔۔
ہوش تو اسے تب آیا جب گاڑی ایک بڑے سے بنگلے کے پورچ میں رکی ۔۔۔۔
رات کا اندھیرا ہر طرف پھیل رہا تھا۔۔۔۔
عرش نے دوسری طرف آکر عقیدت کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا ۔۔۔۔
اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
ساری خواتین تھوڑی دیر پہلے ہی شاپنگ سے لوٹی تھیں اس لیے سارا سامان پھیلائے وہی بیٹھ گئیں ۔۔۔۔فری بھی آئی ہوئی تھی۔۔۔
عرش کو کسی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آتا دیکھ سب حیرانگی سے کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔
سجدہ بیگم کی سب سے پہلی نظر عرش کے ہاتھ میں موجود اس لڑکی کے ہاتھ پر پڑی تھی۔۔۔وہ ناسمجھی سے
فروا بیگم کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔جو خود بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔
عرش آکر سجدہ بیگم کے سامنے رکا اور عقیدت کا ہاتھ چھوڑ کر ان کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔
امی پلیز میری بات دھیان سے سنیے گا پلیز مجھ سے ناراض مت ہونا۔۔۔۔۔۔۔اس نے پیر محبت سے ان کا ہاتھ تھام کر کہا جن کی نظریں عرش کے بجائے اس کے ساتھ کھڑی لڑکی پر تھیں ۔۔۔۔
عرش کون ہے یہ۔۔۔۔
امی میں نے ان سے نکاح کیا ہے ۔۔۔۔اس نےسر جھکائے اپنی ماں کو کہا۔۔۔عرش کے جواب پر وہ بے یقینی سے اس کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
عرش تم کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔تم ایسا کبھی نہیں کر سکتے یہ جو بھی ہے اسے چھوڑ کر آؤ اپنے گھر ۔۔۔۔۔
سجدہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
اس بیچ سب پریشانی اور حیرانگی سے ان تینوں کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔
عقیدت نے شرمندگی سے اپنی گردن مزید جھکا لی۔۔۔
جزا پلیز ان کو میرے کمرے میں لے کر جاؤ۔۔عرش نے سنجیدگی سے جزا کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
وہ جلدی سے آگے بڑھی اور اسے تھام کر چلنے لگی۔۔۔
عرش میں کسی شادی کو نہیں مانتی اسے ابھی کہ ابھی نکالوں کیونکہ تمہاری بیوی اور اس گھر کی بہو صرف اور
ایشا بنے گی۔۔۔۔
سجدہ بیگم نے عقیدت کی طرف نفرت سے دیکھ کر عرش سے کہا۔۔۔۔
ان کی بات پر عقیدت کے چلتے قدموں کو بریک لگی ۔۔۔۔
میری بات سمجھ نہیں آئی تم دونوں کو۔۔۔۔عرش اتنے سرد لہجے میں بولا کہ جزا جلدی سے اسے لے عرش کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
امی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔پلیز میری خاطر ۔۔۔وہ انکو صوفے پر بٹھائے خود ان کے گھٹنوں کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
عرش مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔۔انہوں نے آنکھوں میں آنسو لئے عرش کا چہرہ تھام کر کہا۔۔۔۔
امی یہ ضروری تھا میرے لیے پلیز ان کو قبول کر لیں وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔اس نے سجدہ بیگم کو سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔
نہیں اب تمہیں اپنی ماں اور اس لڑکی میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا۔۔۔۔
جب اس لڑکی کو واپس چھوڑ آؤ تو آجانا میرے پاس۔۔۔وہ عرش کا ہاتھ جھٹک کر اٹھی اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔۔۔۔
بڑی امی پلیز امی کو سمجھائیں وہ لڑکی میری پسند ہے وہ فروا بیگم کے پاس بیٹھتا ان کا ہاتھ تھام کر کہنے لگا ۔۔۔
عرش تم نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا تم جانتے تھے چھوٹی امی نے تمہارا رشتہ پہلے ہی کردیا تھا پھر کیوں ۔۔۔۔۔۔فری نے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
فری کے پوچھنے پر وہ انہیں ساری بات بتا تا گیا ۔۔۔۔آیت اور شفا بھی وہی بیٹھی تھیں ۔۔۔۔۔
سب کچھ سن کر فروا بیگم کے پاس کوئی جواب ہی نہیں رہا۔۔۔۔
اچھا پریشان مت ہو۔۔۔۔وہ ابھی ناراض ہے مگر جلدی سمجھ جائے گی تم منانے کی کوشش کرو ۔۔۔۔فروا بیگم نے اسے تسلی دی تو وہ انکے سینے سے لگ گیا۔۔۔۔
بیٹا جاؤ بھابھی کو دیکھو۔۔۔۔۔فروا بیگم نے شفا اور آیت کو عقیدت کے پاس بھیجا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
بالاج ۔۔۔۔اماں جان نے صوفے پر بیٹھی اس کے بالوں میں اوئلنگ کر تے ہوئے پکارا۔۔۔
ہممم۔۔۔وہ آنکھیں بند کیے نیچے پیٹھا تھا۔۔۔
بیٹا شادی کرلو۔۔۔میری بھوڑی ہڈیوں میں جان نہیں رہی پتہ نہیں کب چلی جاؤں ۔۔۔۔۔اماں جان نے اسے اموئشنل بلیک میل کرنے کی کوشش کی مگر سامنے بھی ان کا پوتا تھا ۔۔۔
اوہ میری پیاری بےبی اتنی جلدی نہیں جان چھوڑنے والی آپ میری۔۔۔اس لئے میری شادی کی فکر چھوڑ دیں ۔۔۔
وہ مڑ کر ان کے دونوں گالوں کو چوم کر بولا۔۔۔
اماں جان نے اسکے کندھے پر ایک تھپڑ لگایا۔۔۔۔تو وہ مسکرا کر دوبارہ ان کی گود میں سر رکھ گیا۔۔۔
💓💓💓💓💓💓
بھابھی پلیز تھوڑا سا تو کھا لیجئے آپ آیت کب سے اسے کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ بے انتہا رو رہی تھی ان کے لئے اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا ۔۔۔
اس کے ساتھ ساتھ شفا بھی رونے لگی ۔۔۔۔
شفا تم جاؤ منت اٹھ گئی ہوگی۔۔۔۔۔فری نے اسے روتے دیکھ کر وہاں سے بھیجنا ضروری سمجھا ۔۔۔۔
تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی کچھ کھالو پہلے فری نے اسے زبردستی دو تین نوالے کھلائے ۔۔۔۔
جواس نے بڑی مشکل سے نگلا ۔۔۔۔فری نے اسے نیند کی گولی دی اور سب کو اشارہ کرتی باہر نکل آئی ۔۔۔۔
ان کے نکلتے ہی وہ تکیہ دبوچے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
اور روتے روتے کب سوگئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔
وہ جب تھکا ہارا کمرے میں داخل ہوا تو وہ اسی کے بیڈ پر سوئی ہوئی تھی یہ احساس بہت خوبصورت تھا مگر جس طرح کی ٹینشن چل رہی تھی وہ چاہ کر بھی خوش نہیں ہو پارہا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی تک وہ عقیدت سے بھی بات نہیں کر پایا تھا پتہ نہیں وہ ان سب کا کیا مطلب سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر آیا اور وہی صوفے پر لیٹ کر آنکھوں پر بازو رکھ گیا۔۔۔۔۔
اس نے کبھی بھی نہیں چاہا تھا اپنی ماں کو تکلیف دے۔۔۔۔لیکن انجانے میں وہ یہ کر چکا تھا۔۔
وہ جانتا تھا اس کی ماں نے اپنی بھانجہ کو اس کے لیے پسند کیا تھا مگر اسے لگتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے مان جائے گا۔۔۔۔
پوری رات اسنے آنکھوں پر کاٹی تھی ۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
کیوں رو رہی ہیں ٹھیک ہیں نا آپ۔۔۔۔۔ وہ جب کمرے میں آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی آدم تو اس کو روتے دیکھ پریشان ہو گیا اور اس کے پاس آکر پریشانی سے پوچھنے لگا۔۔۔
شفا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا آنکھیں رونے کیوجہ سے شدید لال اور سوجھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔لیمن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔ رو کیوں رہی ہیں آپ کسی نے کچھ کہا کیا؟
آدم خانزادہ نے شفا کو روتے دیکھ اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اچانک شفا اس کے بانہوں میں سما گئی اور اسے سختی سے پکڑے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔
آدم تو تو اس کے یوں قریب آنے پر ہی تھم گیا تھا۔۔۔
مج۔۔۔ مجھے۔۔۔ اب۔۔۔ ابو کی یاد آرہی ہے۔۔۔۔ بہ بہت ۔۔
وہ بتا کر ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔
آدم نے اس کے گرد بازو باندھ لئے اور اسے مزید خود کے پاس کیا۔۔۔۔
شش روئیں مت وہ ہم سے زیادہ اچھی جگہ پر ہیں آپ کے رونے سے ان کو تکلیف ہوگی۔۔۔۔آپ بس ان کے لیے دعا کیا کریں ۔۔۔۔۔
آدم نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔
مگر مگر وہ مجھے بچاتے ہوئے قتل ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔اگر میں نہیں ہوتی تو آج یہ سب نا ہوا ہوتا آج ابو زندہ ہوتے۔۔۔۔
مجھے وہ بہت یاد آتے ہیں ۔۔۔۔
وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔
اور آدم کو اس کے آنسو اپنے سینے پر گرتے محسوس کر اپنا دل پگھلتا ہوا لگا ۔۔۔۔
ان کی زندگی اتنی ہی تھی آپ خود کو الزام مت دیں۔۔۔۔اور میں بہت قریب ہوں آپ کے مقصد کے بہت جلد ان کے قاتلوں کو ان کے کئے کی سزا دلوا کر رہوں گا۔۔۔۔
وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔۔
وہ اس کا سر اپنے سینے سے لگائے بولا۔۔۔
وہ ہچکیوں سے روتے روتے اسی کے سینے میں سوگئی۔۔۔
اس کی بھاری سانسیں محسوس کر کے آدم نے اس کا سر اپنے سینے سے نکالا۔۔۔۔
گالوں پر مٹے مٹے آنسؤں کے نشان سرخ گال گھنی مڑی ہوئی پلکیں ۔۔۔
توڑی پر پڑتا خم وہ کسی کو بھی اپنا دیوانہ بناسکتی تھی۔۔۔۔
آدم کی نظریں بھٹکتے ہوئے۔۔۔اس کے گردن سے ہوتے بیوٹی بون پر پڑی۔۔۔۔
اس نے فوراً اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ۔۔۔۔۔۔اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا جہاں منت پہلے ہی تکیوں کے بیچ لیٹی نیند میں مگن تھی۔۔۔۔ادم نے ان دونوں پر کمبل ڈالا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
وہ نیند میں تھی جب اسے اپنے چہرے پر ایک ناگوار سا لمس محسوس ہوا۔۔۔مگر وہ نیند کی اتنی پکی تھی کہ کروٹ بدل کر سو گئی۔۔۔
وہی لمس اسے دوبارہ اپنی گردن پر محسوس ہونے لگا۔۔۔۔
پچھلے دس منٹ سے اسے اپنے چہرے پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
مگر اب یہ احساس بہت بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اچانک اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو خود پر جھکے انسان کو دیکھ اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیونکہ سامنے والے نے اس کے منہ پر سختی سے ہاتھ جما دیا تھا۔۔۔۔کہ وہ پھڑپھڑا کر رہ گئی۔۔۔۔
تمہاری اس خوبصورتی نے میری راتوں کی نیندیں اڑا دی ہے ۔۔۔
جب جب آنکھیں بند کرتا ہوں تمہارا ہی چہرہ نظر آتا ہے۔۔۔
وہ خمار آلود نگاہوں سے اس کے چہرے ہر ہر نقش کو غور سے دیکھتے بولا۔۔۔
آیت نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور دھکیلنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
لیکن بالاج جیسے کسرتی جسامت والے شخص کو دور دھکیلنا اس کے بس میں نا تھا۔۔۔۔
اوکے اوکے میں ہاتھ ہٹا رہا ہوں لیکن اگر تم چیخی تو تمہارا ہی نقصان ہے۔۔۔تمہارے بھائی آدھی رات کو تمہارے ساتھ ایک غیر مرد کو دیکھ کر کیا سوچیں گے یہ تم بہتر سمجھ سکتی ہو۔۔۔
وہ مزے سے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
آیت جلدی سے اٹھ کر دیوار سے لگ کر کھڑی ہوگئی آنکھیں ڈر وہ گھبراہٹ سے خطرناک حد تک پھیل گئیں ۔۔۔۔
تت تم کون ہو ۔۔۔۔یہاں کیسے آئے ۔۔۔۔۔وہ لڑکھڑاتے لہجے میں اس سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔مگر آواز اتنی دھیمی تھی کہ باہر نا جائے۔۔
اتنی جلدی بھول گئی مجھے ۔۔۔۔۔بالاج شاہ نے اپنی بے باک نظروں سے اسے دیکھ کر کہا جو گلابی کلر کے نائٹ سوٹ میں بنا دوپٹے کے عضب ڈھا رہی تھی۔۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کی بات کا ۔۔۔اس نے بالاج کو دیکھتے کہا۔۔۔ڈر سے اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
