Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 53

آدم شفا کے بے ہوش وجود کو اٹھا کر اندر بھاگا تھا۔۔۔۔۔جبکہ ساری خواتین اس کے پیچھے ہی اندر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔

شہریار آفندی سختی سے زرش کا ہاتھ تھامے زرا دور لے کر گیا تھا۔۔۔۔
ہمت کیسے ہوئی تمہاری یہاں آنے کی۔۔۔۔۔۔اس نے سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے ۔۔۔۔۔آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی۔۔۔۔کیونکہ مجھ سے ہر رشتہ تو آپ ختم کر چکے تھے ۔۔۔۔پھر یہاں کس حق سے آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔

زرش اپنے دونوں ہاتھ سینے میں باندھ کر اس سے سنجیدگی سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔۔

زرش تم میرے صبر کا امتحان لے رہی ہو۔۔۔۔۔جب تم اپنی مرضی سے یہ سب چھوڑ کر گئی تھی تو آج واپس آنے کا مقصد کیا ہے۔۔۔۔۔۔

شہریار کا بس نا چلا اس لڑکی کا گلا دبا دے جو تھی تو اس کی بہن لیکن اس سے بہت مختلف ۔۔۔۔۔۔

اپنے کام سے کام رکھیں آپ میرے کام میں انٹرفئر مت کریں۔۔۔۔۔زرش سنجیدگی سے جواب دے کر اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔شہریار نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بڑی مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا۔۔۔۔۔

فرجاد کو وہاں رکنا مناسب نہیں لگا تو وہ بالاج کو بتاتا اماں جان اور ہانیہ کو لے کر وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔جبکہ بالاج تنہا وہاں بیٹھا رہ گیا۔۔۔۔۔۔

                 💓💓💓💓💓💓💓

سب عورتیں اس وقت حیران پریشان کھڑی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ان میں سے کسی کو بھی امید نہیں تھی کہ زرش ایک دن واپس آجائے گی۔۔۔

شفا کو گہرا صدمہ پہنچا ہے اس لئے وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔۔۔۔۔وہ ایکسپیکٹ بھی کر رہی ہے۔۔۔۔۔اس حالت میں اس کے لئے کسی بھی قسم کا شاکڈ برداشت کرنا ٹھیک نہیں ۔۔۔

فری کی بات پر سب نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔
تم سچ کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔فروا بیگم نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
ہاں میرا تجربہ تو یہی کہتا ہے ۔۔۔۔۔کہ آپ دوبارہ دادی بننے والی ہیں ۔۔۔۔
فری نے مسکراتے ہوئے بتایا۔۔۔۔۔
سب کے چہرے کھل چکے تھے۔۔۔۔
آدم اس کے ڈرپ لگے ہاتھ کو آرام سے پکڑے بیٹھا تھا ۔۔۔۔اور منت شفا کے سینے میں منہ دئے لیٹی تھی چھوٹی سی ناک رونے کی وجہ سے شدید لال ہو چکی تھی۔۔۔
ہیل کی ٹک ٹک پر سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔زرش کو دیکھ کر سب کے چہرے پر ناگواری چھا گئی تھی۔۔۔۔

آدم مجھے آرام کرنا ہے کمرہ خالی کرواؤ۔۔۔۔۔اس نے ان سب کو اگنور کر کے آدم اور اپنی بیٹی کی طرف دیکھا جو اس کل کی آئی لڑکی سے ایسے چپکے بیٹھے تھے۔۔۔جیسے انکے علاؤہ وہاں کوئی اور نا ہو۔۔۔۔۔۔

امی گیسٹ روم صاف کروا دیں۔۔۔۔۔اس کے لئے۔۔۔۔۔آدم نے بنا اسے دیکھے سنجیدگی سے فروا بیگم سے کہا ۔۔۔

یہ میرا کمرہ ہے اور میں یہیں رہوں گی ۔۔۔۔۔۔زرش نے چبا چبا کر کہا۔۔۔۔
عالیہ عقیدت اس لڑکی کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔عالیہ یہ تو جانتی تھی کہ وہ اس کے شوہر کی بہن ہے مگر ان کے بیچ کے مسئلوں سے وہ انجان تھی۔۔۔۔۔

آدم اسے گھر سے نکالو یہ میرے گھر کی خوشیاں برباد کرنے آئی ہے۔۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے چیخ کر کہا تو زرش نے ان کو دیکھ نخوت سے سر جھٹکا ۔۔۔۔۔

آدم نے شفا کا ہاتھ آرام سے بیڈ پر رکھا اور اٹھ کر زرش کا بازو جھکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے گیا ۔۔۔۔۔
کمرے سے باہر نکل کر سیدھے گیسٹ روم میں لاکر اس نے زرش کا ہاتھ زور سے جھٹکا تھا کہ وہ بمشکل گرتے گرتے بچی۔۔۔۔۔

کیا چاہتی ہو۔۔۔۔آدم نے اس کا جبڑا دبوچ کر پوچھا۔۔۔۔۔۔
تمہیں ۔۔۔۔زرش نے بنا ڈرے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔
مجھے تم اپنی مرضی سے چھوڑ کر گئی تھی پھر کیا لینے آئی ہو ۔۔۔۔۔آدم سے اپنا غصہ ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔

واپس آنے کے لئے گئی تھی میں اس لئے واپس آگئی تم ہمیشہ سے میرے تھے اور میرے ہی رہوگے۔۔۔۔۔

مگر تم نے تو اپنا دل بہلانے کا سامان کر رکھا ہے یہاں لیکن خیر کوئی ۔۔۔۔۔۔

اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی آدم کے بھاری ہاتھ کا تھپڑ نا صرف اس کا منہ بند کروا گیا۔۔۔۔بلکہ اس کی ناک سے خون کی ایک لکیر نکلی تھی۔۔۔۔
چہرہ سن ہو گیا تھا۔۔۔۔زرش کو لگا وہ کبھی سن نہیں پائے گی۔۔۔۔۔۔
آدم نے اس کے بال مٹھی میں دبوچے تھے۔۔۔۔۔
بیوی ہی نہیں محبت بھی ہے وہل میری آئیندہ اس کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے تو تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔۔۔۔

اگر چاہتی ہو میں تمہیں طلاق نا دوں تو چپ چاپ اسی روم کو اپنا ٹھکانہ بنا لو۔۔۔۔۔کیونکہ آدم خانزادہ کے دل اور کمرے میں صرف اور صرف شفا آدم خانزادہ رہتی ہے۔۔۔۔۔۔اور وہی رہے گی۔۔۔۔۔۔۔

وہ دانت بھینچے سرد لہجے میں بولتا وہاں سے واپس اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔۔

                    💓💓💓💓💓💓

بی بی جی وہ جی صاحب آپ کو چھت پر بلا رہے ہیں ۔۔۔
ملازمہ نے آکر آیت کو طلاع دی
جو سب کے لئے چائے بنا رہی تھی۔۔۔۔۔
کون صاحب اس نے مصروف انداز میں پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
بالاج صاحب جی بڑے ہی غصے میں بھی ہیں وہ۔۔۔۔ملازمہ نے ڈرتے ہوئے بتایا تو ۔۔۔وہ پریشان ہوتی اسے چائے دیکھنے کا بولتی اوپر چھت پر چلی گئی۔۔۔۔۔

بالاج سگریٹ سلگائے کین کی کرسی پر آسمان دیکھنے میں محو تھا۔۔۔۔۔
نیوی بلیو شلوار قمیض میں پشاوری چپل پہنے آستین کہنیوں تک فولڈ کئے وہ بے انتہا ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔۔۔

بالاج اس نے دھیرے سے پکارا۔۔۔۔بالاج نے بنا مڑے اسے کھینچ کر اپنی گود میں بٹھا لیا ۔۔۔۔

آیت اس کی انہی حرکتوں سے بے انتہا پریشان تھی ۔۔۔۔۔اس نے گھبرا کر اس کا بازو پکڑا تھا۔۔۔۔۔۔
کسی دن جان نکال لیں گے آپ میری۔۔۔۔۔اس نے ناراضگی سے کہا۔۔۔۔۔۔اور اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔۔

مگر سامنے بھی بالاج تھا جو اپنی مرضی کے بغیر اسے سانس بھی نہیں لینے دیتا تھا۔۔۔اس لئے اس کی کمر میں گرفت سخت کی۔۔۔۔۔

چھوڑیں کوئی آجائے گا۔۔۔۔۔اس نے دھیرے سے کہا۔۔۔۔۔
سب کو چھوڑو مجھ پر دھیان دو۔۔۔۔۔سنا ہے تمہارا بڑا بھائی بھی دوسری بار باپ بننے والا ہے۔۔۔۔۔۔کچھ تو رحم کرو مجھ پر ۔۔۔۔

بالاج گھمبیر لہجے میں بول کر اس کے چہرے ہر انگلی پھیرنے لگا ۔۔۔۔آیت نے شرم کے مارے اسے گھور کر دیکھا تھا بہت بے شرم ہیں آپ۔۔۔۔۔اس نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔۔

صرف تمہارے لیے ۔۔۔۔۔۔۔اس نے بھی دو بدو جواب دیا۔۔۔۔۔اور اس کے گال پر لب رکھے۔۔۔۔۔

بالاج پلیز نہیں کریں ۔۔۔۔۔اس نے رونی صورت بنا کر کہا تو بالاج کو اس پر ڈھیر سارا پیار آیا۔۔۔۔۔۔

یار کیسی بیوی ہو تم یہاں میرے سالے ایک ایک کر کے نمبر لیتے جا رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ مجھے کوشش بھی نہیں کرنے دیتی۔۔۔۔۔۔

اب فرجاد کو ہی دیکھو مجھ سے چار سال چھوٹا ہے۔۔۔۔۔۔اس کا بے بی دنیا میں جب آئے گا تو کوئی تو ہونا چاہیے اس کے ساتھ کھیلنے کے لئے ۔۔۔۔۔۔ہم اس کے بڑے امی ابو ہونگے تو ہمارا حق بنتا ہے اسے سب سے اسپیشل گفٹ دیں ۔۔۔۔۔

اس لئے کہتا ہوں مجھے زیادہ پیار کرنے دو جب جب میرا دل کرے تم مجھے مت روکا کرو۔۔۔۔۔

بالاج شاہ کی بے باکی پر نا صرف آیت کا بلکہ اوپر بنے روم سے نکلتے سالار اور عرش کے چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہوئے تھے۔۔۔۔

وہ کمینہ ان کے گھر میں ان کی ہی بہن سے کس طرح کی بے ہودہ باتیں کررہا تھا۔۔۔۔
ابھی وہ اس صدمے سے نہیں نکلے تھے کہ ایک دم بالاج جھکا اور آیت کے ہونٹوں کو قید کر گیا ۔۔۔۔۔

عرش اور سالار ایک دم بھوکلا کر نیچھے بڑھ گئے۔۔۔۔

بالاج کے ہونٹوں پر ایک کمینی سی مسکراہٹ بکھر گئ۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ عرش اور سالار کے سرخ چہرے دیکھ چکا تھا۔۔۔اس لئے ان کو مزید جلانے کے لئے اس نے یہ حرکت کی۔۔۔۔۔۔

اپنی خواہش پوری کر کے وہ تھوڑا دور ہوا۔۔۔۔۔۔آیت نے گہری گہری سانس لی ۔۔۔۔۔

بالاج۔۔۔۔۔آیت نے اسے نظریں جھکائے پکارا۔۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔
آج رات میں یہاں رکوں گی۔۔۔۔۔۔آیت نے ڈرتے ڈرتے اس کا چہرہ دیکھا جو ایک دم اسپاٹ ہو گیا تھا۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔۔

پلیز میں ایک بار بھی نہیں رکی۔۔۔۔۔اور شفا بھابھی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں اور زرش بھابھی کے آنے کی وجہ سے گھر کا ماحول ہی ایک دم عجیب ہو گیا ہے اس حالت میں میرا واپس جانا ٹھیک نہیں ۔۔۔۔۔بس آج رات رکنے دیں۔۔۔۔۔

کل پکا پکا آجاؤں گی پرومس۔۔۔۔۔اس نے جلدی سے بالاج کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر کہا۔۔۔۔۔۔

تمہاری زرش بھابھی کے آنے کی وجہ سے تمہارے بھائی کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہونگے ایک ساتھ دو دو بیویاں ملی ہیں وہ بھی الگ الگ ٹیسٹ کی ۔۔۔۔۔
کتنے وہ ہیں آپ۔۔۔۔۔۔بالاج کی بے باک بات پر وہ کان کی لو تک سرخ ہوئی تھی۔۔۔۔وہ اس کے سامنے ہی اس کے بھائی کے لئے کیسی بے شرمی والی باتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

کیا وہ۔۔۔۔بالاج نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔
کچھ نہیں پلیز مجھے یہاں رہنے دیں بس آج۔۔۔۔پلیز پلیز۔۔۔۔
آیت جلدی سے اسے پیار سے منانے لگی۔۔۔۔

اوکے لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔بالاج نے اس کی بالوں کی لٹ کو کھینچا تھا۔۔۔۔
کیا۔۔۔آیت اس کے ماننے پر ہی پرجوش ہوئی۔۔۔۔
کس می۔۔۔۔۔آیت نے اس کی ہونٹوں پر نظریں جمائے خمار آلود لہجے میں کہا۔۔۔۔
۔۔۔آیت کو اس سے کسی اچھی بات کی امید تھی اس لئے گھور کر دیکھا۔۔۔

اوکے تمہاری اپنی چوائس ہے اگر یہاں رہنا ہے تو کس کرنی پڑے گی۔۔۔۔
بالاج نے اس کی گھوری کو نظر انداز کیا۔۔

میں نہیں کر رہی۔۔۔۔آیت اٹھ کر جانے لگی ۔۔۔۔
ٹھیک ہے جلدی باہر آؤ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔بالاج اپنے کپڑے ٹھیک کرتا اٹھا کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔
آیت کے قدم تھمے وہ واپس مڑی اور بالاج کے پاس آئی ۔۔۔۔۔
آپ آنکھیں بند کریں پہلے۔۔۔۔اس نے بالاج کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔
بالاج کے ہونٹ دھیرے سے مسکرائے۔۔۔۔۔
آیت زرا سا ایڑھیوں کے بل اوپر اٹھی اور اس کے گال کو ہلکے سے چھو کر دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔اس سے کوئی بعید نہیں وہ وہاں پکڑ کے دوبارہ اس کے ہونٹوں پر ظلم ڈھا دے۔۔۔۔۔۔

بالاج جو اپنے ہونٹوں پر اس کے لمس کے انتظار میں تھا۔۔۔گالوں پر ہلکے سے اس کے لمس محسوس ہوئے اور دوڑنے کی آواز پر جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو وہ غائب تھی۔۔۔۔۔

بالاج سخت بدمزہ ہوا۔۔۔۔۔دوبارہ بدلہ لینے کا سوچ وہ منہ بناتا سیڑھیاں اترتا نیچھے چل دیا۔۔۔۔۔۔

                💓💓💓💓💓💓💓

یہ بے شرم انسان ہی رہ گیا تھا اللّٰہ کے پاس ہمارا بہنوئی بنانے کے لئے ۔۔۔۔سالار کا چہرہ انتہا کا لال ہو گیا تھا۔۔۔۔

عرش بچارہ کیا جواب دیتا وہ خود شرمندہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

ابھی وہ دونوں باتیں ہی کر رہے تھے کہ بالاج شاہ ان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ان کے بیچ سے سالار کے کندھے پر کندھا مارتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔

سالار کا دل کیا اس کا سر پھاڑ دے۔۔۔۔۔۔

آدم تم پریشان مت ہو۔۔۔۔میں زرش کو لے جاتا ہوں ۔۔۔۔شہریار نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔۔
نہیں شیری تم اسے یہی چھوڑ جاؤ فلحال کیونکہ وہ نہیں جائے گی میں جانتا ہوں۔۔۔۔بعد میں دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔۔۔۔

آدم نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔۔۔
یار میری وجہ سے پہلے ہی تیری لائف برباد ہو چکی ہے میں مزید کوئی تیری خوشخال زندگی میں تماشہ نہیں چاہتا۔۔۔۔۔

شہریار نے ندامت سے کہا۔۔۔۔

بکواس مت کر جو بھی ہوا ایسا میرے نصیب میں لکھا تھا اور تو پریشان مت ہو۔۔۔یہ مسئلہ بھی بہت جلد میں ختم کردوں گا۔۔۔۔۔
شہریار کی بات پر اس نے بھڑک کر بولا۔۔۔۔

اگر تو میرے کہنے پر اس سے شادی نا کرتا تو آج یہ سب نا ہوا ہوتا۔۔۔۔شہر یار نے افسوس سے کہا۔۔۔۔

ماضی۔۔۔۔

کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔شہریار کو جلدی میں بھاگتے دیکھ کر آدم نے پوچھا وہ دونوں ایک کیس کے سلسلے میں عدالت میں آئے تھے۔۔۔۔

لیکن شہریار کال سن کر واپس جانے لگا تو آدم نے پوچھا ۔۔۔۔

یار تجھے پتہ ہے زرش آرہی ہے آج اور اس نے مجھے بتایا نہیں ابھی خالہ کی کال آئی تھی وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ وہاں سے نکل چکی ہے۔۔۔۔اور گھر کا حال ہی بہت برا ہو رہا ہے ۔۔۔۔اس لئے اس کے پہنچنے سے پہلے مجھے جانا ہوگا۔۔۔۔۔

شہریار نے جلدی سے جواب دیا اور نکل گیا۔۔۔۔۔۔

احمد آفندی کے دو بچے تھے۔۔۔۔
شہریار اور زرش ۔۔
۔زرش شہریار سے دو سال چھوٹی تھی۔۔۔۔۔

شہریار بارہ سال کا تھا جب ان کی والدہ کا ایک بیماری کی وجہ سے دیتھ ہو گئی۔۔۔۔

تب زرش کو اس کی خالہ اپنے ساتھ لاہور لے گئی کیونکہ ان کی۔کوئی اولاد نہیں تھی۔۔۔پہلے پہل تو احمد صاحب نہیں مانے پھر اپنی سالی کی خالی گود دیکھ کر مان گئے ۔۔۔۔۔

لیکن وہ اپنی بیٹی سے باقائدگی سے ملنے جاتے تھے۔۔۔۔اور شہریار بھی ان کے ساتھ ہی جاتا تھا۔۔۔۔۔۔

ایک بار احمد صاحب زرش سے ملنے لاہور گئے اس وقت زرش کی عمر اٹھارہ سال تھی لیکن شہریار اپنے پیپرز کی وجہ سے نہیں جا سکا۔۔۔تو احمد صاحب اکیلے چلے گئے۔۔۔۔۔

وہاں نا جانے کیا ہوا کہ واپس آکر احمد صاحب نے اپنی ساری پراپرٹی شہریار کے نام کردی۔۔۔۔۔

شہریار ان سب سے انجان تھا پھر وہ بیمار رہنے لگے ان کا لاہور جانا بھی بہت کم ہو گیا اور کچھ ہی سالوں بعد ہی ان کا بھی انتقال ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔

تب زرش اپنی خالہ کے ساتھ کراچی اپنے باپ کی۔میت پر آئی تھی۔۔۔۔۔وہاں جب اس نے آدم کو دیکھا تو وہ بہت بری طرح اس پر فدا ہو گئی۔۔۔۔۔
لیکن ایک مہینہ رک کر وہ آدم کا نمبر حاصل کر کے واپس لاہور چلی گئی۔۔۔۔

وہ آدم کو کال میسجز کر کے تنگ کرنے لگی ۔۔۔۔آدم بہت مشکل سے یہ سب برداشت کرتا تھا اس کے کئی نمبرز اس نے بلاک کئے لیکن وہ ہر بار نیو نمبر سے اسے تنگ کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
زرش کی ان سب حرکتوں کے بعد بھی اس نے کبھی شہریار سے اس بات کی شکایت نہیں کی۔۔۔۔

پھر کچھ ٹائم بعد اس کا میسج کال آنا بند ہوا تو اس نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔

آج پھر اتنے سالوں بعد اس کا نام سن کر آدم نے کوئی ریکشن نہیں دیا۔۔۔۔

شہریار گھر آیا اور جلدی جلدی ملازم سے کہہ کر پورا گھر صاف کروایا ۔۔۔۔۔

تب تک زرش بھی آچکی تھی۔۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔زرش کی چیخ پر وہ کان پر ہاتھ رکھے مڑا تھا جو بلیک جینز کے ساتھ گرین ٹاپ میں تھی۔۔۔۔۔۔

تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں اپنے آنے کا شہریار نے اسے گلے لگا کر پوچھا۔۔۔۔
اگر بتا دیتی تو یہ خوشی دیکھنے کو تھوڑی ملتی۔۔۔۔اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
تھوڑی دیر باتوں کے بعد دونوں نے ڈنر کیا اور دونوں اپنے اپنے کمروں میں سونے کی نیت سے چلے گئے۔۔۔۔۔۔

آدم اپنے کمرے میں آکر لیٹا ہی تھا کہ موبائل کی پیپ پر موبائل اٹھا کر دیکھا اس میں ایک نیو نمبر سے میسج جگمگا رہا تھا۔۔۔۔

کیسے ہو ۔۔۔۔۔؟آدم نے ریپلائے کیا کون؟
آدم کی زرش۔۔۔۔۔۔ریپلائے پڑھ کر آدم کا خون کھول اٹھا اس نے زرش کا نمبر بلوک کیا اور آنکھیں موند کر سو گیا۔۔۔۔۔

پھر کچھ دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔۔۔۔آدم دن بدن بے زار ہوتا جا رہا تھا اس کی حرکتوں سے اس نے شہریار سے بات کرنے کا سوچا۔۔۔۔

زرش میں چاہتا ہوں تمہاری شادی کروا دوں۔۔۔۔اگر کوئی پسند ہے تو بتاؤ۔۔۔۔وہ دونوں اس وقت کھانا کھا رہے تھے شہریار نے نرمی سے پوچھا۔۔۔۔۔کیونکہ کچھ دنوں سے اس کی موبائل میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی وہ شدت سے نوٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

زرش نے چونک کر دیکھا۔۔۔۔۔اپ۔کو میری شادی کی جلدی کیوں ہو گئی۔۔۔کہیں آپ کو تو کوئی پسند نہیں آگئی۔۔۔۔۔

زرش نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔۔
نہیں میں تمہاری زمہ داری پوری کرنے کے بعد اپنے بارے میں سوچوں گا فلحال تم مجھے بتاؤ۔۔۔۔
شہریار نے مسکرا کر کہا۔۔۔ان کی عمروں میں زیادہ فرق نہیں تھا اس لئے وہ کھل کر ایک دوسرے سے ہر بات شئیر کر لیا کرتے تھے۔۔۔۔

اگر آپ پوچھ ہی رہے ہیں ۔۔۔۔تو آپ کے دوست میں کوئی برائی نہیں ۔۔۔۔۔
زرش کی بات پر شہریار کا منہ پر جاتا نوالہ رکا تھا اس نے حیرت سے زرش کو دیکھا اور اسے سمجھنے میں بھی وقت نہیں لگا کہ وہ کس دوست کی بات کررہی کیونکہ آدم کے علاوہ اس کا کوئی دوست نہیں تھا۔۔۔۔۔

اس نے حیرانگی سے زرش کو دیکھا۔۔۔۔
۔زرش وہ تمہارے لئے ٹھیک نہیں میں تمہارے لئے اس سے اچھا کوئی رشتہ دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آدم کے حوالے سے منع کرنا چاہا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کے دوست کی پسند اور اس کی بہن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔۔۔
مجھے وہ پسند ہے بھائی میں شادی کروں گی تو اسی سے ورنہ نہیں ۔۔۔زرش نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔اور اٹھ کر کھانا ادھورا چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔وہ بچارا تو پریشان ہو گیا۔۔۔۔۔۔

اس طرح دن گزرنے لگے ۔۔۔۔لیکن زرش کا رویہ شہریار کے ساتھ عجیب ناراضگی والا تھا۔۔۔۔۔۔
آخر مجبور ہو کر وہ زرش کے کمرے میں آیا تو وہ بخار میں پھنک رہی تھی ۔۔۔۔۔

زرش یار تمہیں تو بہت تیز بخار ہے تم نے بتایا کیوں نہیں ۔۔۔۔شہریار پریشانی سے اس کا ماتھا چھونے لگا مگر زرش نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔۔

آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں مر بھی جاؤں تو آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔۔۔۔وہ سرد لہجے میں بولتی آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھ گئی۔۔۔۔۔

زرش میری جان کیوں ناراض ہو مجھ سے بتاؤ۔۔۔۔۔وہ اس کی ناراضگی کی وجہ سمجھ نہیں پایا۔۔۔۔۔

آپ۔کیسے بھائی ہیں اپنی بہن کی ایک چھوٹی سی خواہش پوری نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر چیخ پڑی تھی جبکہ بخار کی حدت سے چہرہ لال تھا۔۔۔۔

تم حکم کرو تمہاری خوشی کے لئے جان بھی حاضر ہے۔۔۔۔وہ محبت سے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر بولا۔۔۔۔۔

مجھے آدم خانزادہ چاہیے بھائی۔۔۔۔۔وہ ایسے بولی جیسے کسی انسان کی نہیں بلکہ چیز کی بات کررہی ہو۔۔۔۔

شہریار کے چہرے پر سختی چھا گئی تھی۔۔۔۔۔
ہوش میں رہ کر بات کرو زرش میں نے پہلے بھی تمہیں کہا ہے ۔۔۔وہ تمہارے ٹائپ کا انسان نہیں ہے تم اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی اس لئے یہ خیال اپنے دل سے نکال دو۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار سختی سے بول کر وہاں سے جانے لگا ۔۔۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے اپنی بہن کو بھول جائیے گا آپ کیونکہ اگر مجھے وہ نہیں ملا تو میں خود کو ختم کردوں گی۔۔۔۔

اس کی بات پر شہریار کا ہاتھ اس کے گال پر پڑتے پڑتے رکا تھا بہت مشکل سے اس نے خود پر قابو کیا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔

آدم کے میسج پر وہ اس کے پاس چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

شہریار پریشان سا اس کے آفس میں بیٹھا تھا پریشان تو آدم بھی تھا اسی لئے اس نے شہریار کو بلایا تھا ۔۔۔۔

لیکن اس کی پریشانی دیکھ کر آدم کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیسے شہریار سے بات کرے۔۔۔۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو پریشان لگ رہے۔۔۔۔آدنم نے فکر مندی سے پوچھا۔۔۔۔کیونکہ شہریار پہلے کبھی اتنا پریشان اسے نہیں لگا۔۔۔۔
ہمم ٹھیک ہوں میں تم بتاؤ کوئی ضروری بات کرنی تھی تم نے۔۔۔۔۔۔شہریار چاہ کر بھی مسکرا نہیں پایا۔۔۔۔۔

نہیں پہلے تم مجھے بتاؤ ہوا کیا ہے کیونکہ پہلے کبھی تم مجھے اتنے پریشان نہیں لگے ۔۔۔۔۔۔۔آدم سنجیدگی سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔

میری بہن نے ایسی چیز مانگ لی ہے جو دینا میرے بس میں نہیں سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔۔۔۔شہریار نے آدم کو بتانا ضروری سمجھا۔۔۔۔

آدم اس کی بات کا مطلب سمجھتا سیدھا ہو گیا تھا چہرے پر سختی چھا گئی تھی۔۔۔۔۔
ہر خواہش پوری کی جائے یہ ضروری نہیں ۔۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔۔
شہریار مزید کچھ نہیں بول پایا۔۔۔۔کیونکہ وہ بچپن سے آدم کو جانتا تھا اور اس کی پسند نا پسند سے بھی واقف تھا۔۔۔۔

ہممم۔۔۔تم بتاؤ سب خیریت ہے۔۔۔۔
ہاں سب خیریت یے۔۔۔۔۔کچھ بزنس کے حوالے سے ایڈوائس چاہیے تھی تمہاری۔۔۔۔۔وہ جو زرش کے بارے میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔بات بدل دی۔۔۔۔۔وہ شہریار کو مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔

رات کو وہ سب کے ساتھ ڈنر کر رہا تھا ۔۔۔۔کہ اچانک شہریار کی کال پر حیران ہوا کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے ہی وہ اس سے مل کر گیا تھا۔۔۔۔

کال اٹھانے پر جو اس نے بات سنی وہ کھانا چھوڑ کر اٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
بیٹا خیریت ہے سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔فروا بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
جی امی بس آپ دعا کیجئے گا ایک ضروری کام ہے وہ ان کو جواب دیتا جلدی سے نکلا تھا۔۔۔۔۔

شہریار اسپتال کے کاریڈور میں پریشانی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔۔۔۔۔
آدم کو دیکھتے ہی وہ اس کے گلے لگ گیا۔۔۔۔۔میری بہن کو بچالو۔۔۔پلیز تم جانتے ہو میرا اس کےسوا کوئی رشتہ نہیں پیز اسے بچالو۔۔۔۔۔اس سے نکاح کرلو۔۔۔۔۔۔

وہ اٹھائیس سالہ شخص اپنے دوست کے گلے لگ کر اپنی بہن کو کھونے کے ڈر سے رو دیا تھا۔۔۔۔۔۔

آدم ساکت ہو گیا تھا۔۔۔۔اس نے کبھی بھی زرش کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔
پھر کیسے وہ لڑکی اس کے لئے اس حد تک چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
شہریار کا گڑگڑانا وہ برداشت نہیں کر پایا۔۔۔۔۔ان دونوں نے کبھی بھی بچپن سے ایک دوسرے کو کبھی کسی چیز کے لئے منع نہیں کیا تھا پھر کیسے وہ اپنے دوست کو منع کر دیتا۔۔۔۔۔

پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا جیسا تم بولو گے وہی ہوگا۔۔۔۔۔اس نے کوئی سوال کوئی تنقید کچھ بھی نہیں کیا تھا۔۔۔بس خاموشی سے ہامی بھر لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے سوچا وہ اسے اپنی پسند میں ڈھال دے گا۔۔۔۔۔۔
بہت زیادہ مقدار میں نیند کی گولیاں کھا لی تھی اس نے بروقت اسپتال پہنچنے پر اس کی جان بچ گئی تھی۔۔۔۔۔اور جب اسے پتہ چلا آدم اس سے شادی کے لئے تیار ہے تو خوشی سے وہ پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔۔۔۔

تین دن اسپتال میں رہنے کے بعد وہ گھر آگئی تھی۔۔۔۔۔اس کے بعد آدم نے روایتی طریقے سے اپنی فیملی کو شہریار کے گھر رشتہ لے کر بھیجا تھا۔۔۔۔۔

سب کو ہی زرش بہت پسند آئی ۔۔۔وہ بہت اچھے طریقے سے ملی سب سے۔۔۔ ہمیشہ کے برعکس اس نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی جس میں وہ سب کو ہی پسند آئی ۔۔۔۔

پھر وہ دن بھی آگیا جب وہ آدم کے کمرے میں اس کی دلہن کے حیثیت سے سجی سنوری بیٹھی اس کا انتظار کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

آدم کو سر جھکائے بیٹھی دلہن کے روپ میں وہ پہلی بار اچھی لگی ۔۔۔۔۔
وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس بیٹھا ۔۔۔۔۔
آدم نے ہمیشہ اپنے لئے ایک سیدھی سادھی شرمیلی لڑکی چاہی تھی۔۔۔۔
لیکن شہریار کی وجہ سے وہ مجبور ہو گیا اس کے باوجود اس نے دل سے زرش کو اپنی بیوی قبول کر لیا تھا۔۔۔۔۔

آدم نے دھیرے سے سلام کیا تو زرش نے مسکرا کر جواب دیا اس کی خوشی اس کی آواز سے ظاہر ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔
آدم نے اس کا گھونگھٹ ہٹایا تو دیکھتا رہ گیا وہ تھی اتنی خوبصورت ۔۔۔۔زرش اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

آدم بھی دھیرے سے مسکرا دیا۔۔۔۔۔آدم نے اپنے جیب سے ایک
مخملی کیس نکالی اور اس میں سے ایک ڈائمنڈ کی رنگ نکال کر اس کے مخروطی انگلیوں کی زینت بنا دی۔۔۔۔۔

زرش نے مسکرا کر تھینک یو کہا۔۔۔۔
تنگ گئی ہونگی آپ چینج کر لیں آپ۔۔۔۔۔آدم اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔زرش کا ایک دم چہرہ بجھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

آدم بیس منٹ بعد جب واپس آیا وہ تب بھی یونہی بیٹھی تھی۔۔۔۔آدم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا جس کا تھوڑی دیر پہلے کھلتا چہرہ اب بجھ چکا تھا۔۔۔۔۔

آدم اپنے بال سکھاتا اس کی طرف آیا۔۔۔زرش ٹھیک ہیں آپ۔۔۔۔اس نے زرش کا چہرہ تھاما۔۔۔۔۔
زرش نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔کیا تم خوش نہیں ہو۔۔۔۔اس نے آپ جناب کے تکلف کے بغیر پوچھا۔۔۔۔

آدم اس کی بات کا مطلب سمجھتا آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا گیا۔۔۔۔ایسی بات نہیں ہے میں خوش ہوں۔۔۔۔۔۔۔تم میری بیوی ہو اور یہ رشتہ میں نے دل سے قبول کیا ہے ۔۔۔۔۔

اس کی بات پر زرش نے اپنے دونوں بازوں اس کی کمر کے گرد باندھ دیئے ۔۔۔
آدم اسے بیڈ پر لٹاتا لائٹ آف کر گیا ۔۔۔۔۔

                💓💓💓💓💓💓💓💓

کچھ مہینے تک زندگی نارمل گزرتی رہی۔۔۔۔۔ایک دن اس نے آدم سے اپنی خالہ سے ملنے جانے کی بات کی ۔۔۔۔آدم اس کے ساتھ جانا چاہتا تھا مگر زرش نے منع کر دیا۔۔۔۔۔

آدم نے اس کی فلائٹ بک کروا دی کراچی سے لاہور کی۔۔۔۔۔وہ دو ہفتے تک کر جب وہاں سے واپس آئی اس کا بیہیور بلکل چینج ہو چکا تھا وہ بات بات پر سب سے لڑنے لگی ۔۔۔لیکن آدم کے ساتھ وہ پہلے کی طرح پیار محبت سے رہنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی حرکتوں کی شکایت آدم سے کرنے کے بجائے گھر والوں نے اس سے دوری اختیار کر لی۔۔۔۔۔۔

آدم کمرے میں آیا تو وہ ریڈ نائٹی پہنے ہاتھ اور پیروں پر لوشن لگا رہی تھی۔۔۔۔۔۔آدم کو دیکھ کر وہ مسکرائی اور اپنے کام میں لگ گئی ۔۔۔۔۔

آدم کو کبھی کبھی اس کے بولڈنیس سے چڑ ہوتی تھی۔۔۔۔۔مگر اگنور کر دیتا تھا۔۔۔۔۔

وہ فریش ہو کر بیڈ پر آکر بیٹھا اور موبائل چیک کرنے لگا ۔۔۔۔۔
زرش اٹھ کر نزاکت سے چلتی اس کے پاس آئی اور اس کی گود میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔آدم ایک پل کو تھما لیکن پھر مسکرا کر موبائل رکھ کر اس کو دیکھا ۔۔۔۔

تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔زرش نے اس کے چہرے کے ہر نقوش کو چھوتے پوچھا۔۔۔۔۔۔یہ کیسا سوال ہے محبت تو محبت ہوتی ہے ۔۔۔۔آدم نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔

پھر بھی کتنی بتاؤ نا۔۔۔۔۔وہ بضد تھی۔۔۔
جتنی ایک شوہر اپنی بیوی سے کرتا ہے اتنی ہی محبت میں تم سے کرتا ہوں۔۔۔۔۔تم بتاؤ کیوں پوچھ رہی۔۔۔۔۔

آدم نے سادگی سے جواب دے کر اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
اسے آدم کا جواب پسند تو نہیں آیا مگر خاموش رہی۔۔۔۔۔۔
بولو زرش۔۔۔۔۔اس نے زرش کا پھولا ہوا چہرہ سامنے کیا۔۔۔۔

میں چاہتی ہوں ہم دونوں لاہور شفٹ ہو جائیں ۔۔۔۔۔وہاں خالہ اکیلی رہتی ہیں ۔۔۔۔وہ بیمار رہنے لگی ہیں بہت۔۔۔۔۔۔۔

آدم نے حیرانگی سے اسے دیکھا جو اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کررہی تھی جیسے حلوہ مانگ رہی ہو۔۔۔۔

دماغ ٹھیک ہے تمہارا کیا بول رہی ہو۔۔۔۔آدم اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔۔چہرہ انتہائی سرد تھا۔۔۔۔۔۔

اس میں دماغ خراب ہونے والی کیا بات ہے تم میرے شوہر ہو ظاہر سی بات ہے جہاں میں رہنا چاہوں گی تمہیں بھی وہاں رہنا پڑے گا۔۔۔۔۔زرش نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔۔

صحیح کہا میں تمہارا شوہر ہوں بیوی نہیں ۔۔۔۔۔اور دوسری بات تمہاری خالہ اتنی بیمار ہیں تو ان کو کراچی شفٹ ہونے کا کہو۔۔۔۔تمہارے ساتھ ساتھ ہم بھی ان کا خیال رکھ سکے گے۔۔۔۔۔۔
آدم سرد لہجے میں بول کر وہاں سے جانے لگا۔۔۔۔۔۔
تم کیوں میرے ساتھ لاہور شفٹ نہیں ہو سکتے آخر کیا وجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
زرش نے اس کا بازو پکڑ کر سیدھا کیا تھا آدم نے ناگواری سے اس کی یہ حرکت دیکھی۔۔۔۔۔
کیونکہ میری فیملی یہاں ہے میں ان سب کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔اس نے سرد لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔۔
تمہاری فیملی میں دو دو جوان مرد ہیں تمہارے جانے سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی ان مردوں کی نظروں سے میں انکمفرٹیبل ہوتی ہوں وہ مجھے عجیب نظروں ۔۔۔۔۔۔۔

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔۔آدم اتنی زور سے دھاڑا کہ ایک پل کو وہ بھی سہم گئی۔۔۔۔۔

آئیندہ یہ بکواس کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا تم کس کے بارے میں بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔بھائی ہیں وہ میرے۔۔۔۔۔تمہیں اپنی ماں کے برابر عزت دینے ہیں ۔۔۔۔اس لئے یہ بکواس دوبارہ نہیں وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتا کمرے سے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔

اس کے جاتے ہی زرش نے کمرے کی ہر چیز توڑ کر تہس نہس کردی تھی۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔