Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

سالار خانزادہ بارات کے شور پر باہر آیا تھا۔۔۔۔۔
جہاں بالاج شاہ اپنی وجیہہ پرسنیلٹی کے ساتھ بلیک شیروانی پہنے ۔۔۔۔۔اماں جان کا ہاتھ پکڑے اندر داخل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ہانیہ اور فرجاد بھی ان کے ساتھ ہی تھے پیچھے کچھ باراتی بھی ان کے ساتھ ہی داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔

آدم خانزادہ عرش باقی فیملی میمبر ان کے استقبال کے لئے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کی بہن کا شوہر تھا۔۔۔۔بیچ میں جو بھی غلط فہمیاں تھی وہ بہت جلد ان کو سلجھانے والا تھا۔۔۔کیونکہ وہ اپنی وجہ سے اپنی بہن کی زندگی پر برا اثر نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

ابھی اس نے بالاج کی طرف جانے کے لئے ایک قدم بڑھایا ہی تھا کہ ایک دم دھکا لگنے پر نیچھے گرا۔۔۔۔۔عین اسی وقت گولی کی آواز پر سب ساکت ہوئے تھے۔۔۔۔۔

شادی میں باہر فائرنگ عام بات تھی ۔۔۔۔۔مگر بینکوئٹ کے اندر اتنے لوگوں کے بیچ گولی کون چلا سکتا تھا۔۔۔۔۔

سالار نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو اسے لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں بھینچ لیا ہو۔۔۔۔۔دنیا تھمنا کیا ہوتا ہے۔۔۔اس وقت کوئی سالار سے پوچھتا۔۔۔۔۔
ایک دم سب کی چیخ بلند ہوئی تھی۔۔۔۔۔

جزا اپنے خون سے رنگے ہاتھوں کو اپنی بند ہوتی آنکھوں سے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

سالار ہوش میں آتا اس کی طرف بھاگا تھا اس کے گرنے سے پہلے ہی وہ اسے تھام چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے سالار کا چہرہ چھوا تھا اور آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔۔۔

ایک دم کہرام مچ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔شور اس قدر زیادہ تھا کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔۔

سالار جیسا مظبوط مرد اس وقت جزا کا بے جان وجود اپنی بانہوں میں لئے زمین پر کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھا تھا ۔۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے ۔۔۔۔

سب حیران پریشان سے سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔اتنی سیکیورٹی میں کوئی کیسے اس طرح مار کے جا سکتا تھا۔۔۔۔۔
آدم سالار کے بازوؤں سے جزا کو اٹھا کر باہر بھاگا تھا۔۔۔۔اس سے پہلے ہی بالاج شاہ اپنی گاڑی کا کر بک دروازہ کھول چکا تھا۔۔۔۔۔۔

آدم کے بیٹھتے ہی وہ گاڑی زن سے بھگا لے گیا تھا۔۔۔۔۔
فروا بیگم اپنی بیٹھی کے خون سے لے پت وجود کو دیکھ کر لہرا کر زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

عرش اور احد (فری کا شوہر)بچارے کچھ سمجھ نہیں پا رہے تھے کس کو سنبھالے۔۔۔۔۔۔۔

عورتوں کی چیخ و پکار نے ایک عجیب سا سما باندھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ہر آنکھ اشک بار تھیں ۔۔۔۔۔۔احد اور فری مل کر فروا بیگم کو اسپتال لے گئے تھے۔۔۔۔

اٹھو سالار ہوش میں آؤ۔۔۔۔۔۔عرش اسے غصے سے جھنجھوڑنے لگا۔۔۔۔۔۔ جو ابھی تک اسی جگہ ساکت بیٹھا تھا جہاں جزا گری تھی۔۔۔۔۔۔

اسے ہوش میں نا آتا دیکھ کر سالار نے کھینچ کر تھپڑ سالار کے چہرے پر مارا تھا۔۔۔۔۔۔

ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے گال پر بہہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
عرش اسے کھینچ کر اسپتال کی طرف روانہ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ان کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔

اپنے شوہر کو بچانے کے لئے وہ بچی گولی کے سامنے آگئی ۔۔۔

صحیح کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔میں نے دیکھا تھا اس نے سالار کو دھکا دیا۔۔۔۔۔اور پھر خود گولی کا شکار ہو گئی۔۔۔۔

عورتوں کی باتیں آیت سن ہوتے دماغ کے ساتھ سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دلہن بنی وہ وہیں بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔
لوگ ترحم بھری نگاہوں سے ان سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

شفا تو منت کو گلے لگائے تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔۔عقیدت سجدہ بیگم کو سنبھالنے کی کوشش کرتی خود بھی رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔اماں جان بھی ان کو سنبھال رہی تھی۔۔۔۔۔

کون جانتا تھا خوشیوں بھرے ماحول میں ایک دم صف ماتم بچھ جائے گا۔۔۔۔۔۔

کچھ مہمان جانا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔اور کچھ رشتے دار ان روتی ہوئی عورتوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔

آپ سب لوگ گھر چلیں میں یہاں کا انتظام سنبھال لیتا ہوں۔۔۔۔۔

الطاف نے آدم کے کہنے پر ان سب کو گھر جانے کو کہا۔۔۔۔۔احد بھی واپس آچکا تھا تاکہ ان کو گھر چھوڑ سکے۔۔۔۔۔۔
لیکن ان میں سے کوئی بھی گھر جانے کو تیار نہیں تھا ۔۔

ان کے ضد کرنے پر سب کو اسپتال لے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ سب آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔جزا کو آپریشن کے لیے لے جایا گیا تھا۔۔۔۔۔گولی بلکل پیٹ کے آر پار ہوئی تھی۔۔۔۔

اس وقت آدم کا سفید کرتا خون میں نہایا ہوا تھا۔۔۔۔۔

بالاج دیوار سے ٹیک لگائے ایک گھٹنا فولڈ کئے کھڑا تھا۔۔۔۔۔کبھی کبھی ایک نظر سالار پر بھی ڈال لیتا جس کی حالت قابل رحم لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

جبکہ سالار ابھی تک ویسے ہی بیٹھا اپنے ہاتھو کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

عرش فروا بیگم کے ساتھ دوسرے وارڈ میں تھا۔۔۔۔ان کا بی پی خطرناک حد تک شوٹ کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔

احد کے ساتھ ان چاروں کو آتے دیکھ کر سب سے پہلے آدم ان کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

چھوٹی امی آپ لوگ کیوں آئے ہیں پلیز گھر جائیں طبیعت خراب ہو جائے گی آپ سب کی۔۔۔۔اس نے سجدہ بیگم کو گلے لگا کر کہا ۔۔۔۔۔

وہ کس کس کو سنبھالتا سب ہی غم سے نڈھال تھے۔۔۔۔۔
میں گھر کیسے جا سکتی ہوں میری بچی زندگی موت سے لڑ رہی ہے۔۔۔۔روتے روتے ان کی آنکھیں سوجھ گئیں تھی۔۔۔۔۔۔

آپ تینوں گھر جائیں ۔۔۔۔اس نے سجدہ بیگم کو بٹھا کر ان تینوں سے کہا۔۔۔۔۔
مگر ہم۔۔۔شفا نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔۔۔۔
آنسو ابھی تک اس کی آنکھوں سے جاری تھے۔۔۔۔۔اور سوئی ہوئی منت کو گود میں اٹھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

پلیز گھر جائیں بس دعا کریں ۔۔۔۔۔مجھ میں ہمت نہیں میں مزید کسی کو سنبھال سکوں۔۔۔۔اس نے جس لہجے میں کہا۔۔۔۔۔شفا اور عقیدت کو اس پر ترس آیا تھا۔۔۔۔

آیت تو وہاں ہو کر بھی وہاں نہیں تھی اس کی نظریں بالاج پر جمی تھی۔۔۔۔۔جو خود بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی۔۔۔۔۔۔بالاج تک آئی۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ بالاج سیدھا ہوکر اس کے آنسو صاف کرتا۔۔۔۔۔

آیت کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ نے اسے شاکڈ کر دیا تھا۔۔۔۔۔

لے لیا بدلہ مل گیا سکون آپ کو ۔۔۔۔میرے بھائی سے بدلہ لینا چاہتے تھے اور آج خود ایک بے گناہ لڑکی کے قاتل بن بیٹھے۔۔۔۔کیوں کیا آپ نے کیوں۔۔۔۔میں چیختی رہی میرا بھائی بے قصور ہے انہیں پھنسایا گیا۔۔۔۔

لیکن آپ نہیں مانے آپ اپنے بدلے میں اتنے اندھے ہو گئے کہ ان کو جان سے مارنے چلے تھے۔۔۔۔۔مگر آپ نے آج ہم سب کو مار دیا مجھے نفرت ہو رہی ہے نفرت وہ غصے سے اس کا گریبان پکڑے چیخ رہی تھی۔۔۔۔

آدم ہوش میں آتا اسے کھینچ کر پیچھے کر گیا۔۔۔۔۔ہوش میں آؤ پتہ بھی ہے کیا بول رہی ہو۔۔۔۔۔آدم نے سختی سے اسے کہا تھا۔۔۔۔۔

بھائی اس نے۔۔۔۔

چپ بلکل ایک لفظ مت بولنا گھر جاؤ ابھی یہ ہسپٹل ہے۔۔۔۔۔

آدم نے سختی سے کہا تو وہ سرخ آنکھوں سے بالاج کو۔۔۔۔

گھورنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔عقیدت اسے کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گئی۔۔۔۔دلہن کے لباس میں غم میں ڈوبی ان۔ لڑکیوں کو دیکھ کر وہاں پر کوئی ترس بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

سالار خالی دماغ کے ساتھ وہاں بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

بالاج نے اپنے لئے سجی سنوری اس دلہن کو دیکھا تھا جو ایک بار پھر تھپڑ مار کر اس کی انا کو للکار گئی تھی۔۔۔۔۔

وہ اس کے نظروں سے اوجھل ہونے تک اسے سرخ آنکھوں سے گھورتا رہا۔۔۔۔

               💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اچانک منہ پر گرنے والے تھے پانی سے وہ ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔۔ہڑبڑا کر سامنے دیکھا تو فرجاد اس کے سر پر کھڑا اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ تو سالار کو مار کر بالاج کو پھنسانا چاہتا تھا تاکہ وہ سب بالاج کی جان کے دشمن بن جائیں اور اس طرح آیت اس کو مل جاتی۔۔۔۔۔۔

اور فاطمہ کے قاتل کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔۔۔۔۔۔
وہ یہ سب خود کرنا چاہتا تھا تاکہ کوئی غلطی نا ہو۔۔۔۔اس لئے خود گیا تھا ویٹر کا بھیس بدل کر۔۔۔۔

وہ بلکل چپ کر اس پر نشانہ باندھ کر کھڑا تھا ۔۔۔۔
اور وہ کامیاب بھی ہو جاتا مگر عین موقع پر اس لڑکی نے بیچ میں آکر سارا معاملہ خراب کردیا تھا۔۔۔۔۔وہ وہاں سے چپ چپاتے وہاں نکل آیا تھا مگر اچانک پیچھے سے کسی نے
اس کے منہ پر رومال رکھ کر بے ہوش کر دیا تھا۔۔۔۔

جب ہوش میں آیا اپنے سامنے فرجاد کو کھڑا دیکھ کر اس کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔

مجھے یہاں کیوں لائے ہو ۔۔۔۔۔ارمان نیازی چیختے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔
فرجاد نے ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر مارا تھا۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اسے عجیب سی چڑ تھی اس آدمی سے۔۔۔۔۔۔

مسز سالار خانزادہ کو کیوں مارنے آئے تھے۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ لوگ ابھی تک انجان تھے کہ حملہ جزا پر نہیں سالار پر ہوا ہے ۔۔۔۔۔کونکہ اس وقت سب کا دھیان باراتیوں پر تھا۔۔۔۔۔

میں نے ایسا کچھ نہیں کیا چھوڑو مجھے جان سے مار دوں گا تمہیں ۔۔۔۔ابھی کھولو مجھے ورنہ اچھا نہیں ہوگا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔ارمان نیازی دھمکی پر اتر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

تو تم سچ نہیں بتاؤگے۔۔۔۔۔فرجاد نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔

میں نے نہیں مارا کسی کو۔۔۔تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ارمان نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔

وہ یہ سوچ کر ہی پریشان تھا کہ اس نے اپنے بندوں کو آگاہ نہیں کیا تھا یہ سب کرنے سے پہلے اگر خانزادے اور بالاج شاہ مل کر اس کو دفنا بھی دیں گے تو کسی کو خبر نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔

فرجاد سنجیدگی سے مڑ گیا۔۔۔۔اور دو منٹ بعد جب آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک انجیکشن تھا ۔۔۔۔۔

دیکھو تم جو مانگوں گے میں دوں گا۔۔۔۔۔میں تمہیں بالاج شاہ سے زیادہ دوں گا ایسا مت کرو مجھے جانے دو۔۔۔۔۔

اس کی بات پر فرجاد نے وہ انجیکشن اس کی گردن پر انجیکٹ کر کے اس کا منہ بند کردیا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ اسے چھوڑتا اس طے خانے سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اسپتال کی طرف اپنی گاڑی موڑ دی۔۔۔۔۔

                 💓💓💓💓💓💓💓

گھنٹوں کے انتظار کے بعد ڈاکٹر کے باہر آتے ہی آدم اور عرش ڈاکٹر کی طرف لپکے تھے ۔۔۔۔سالار اپنی لرزتی ٹانگوں سے اٹھا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر کا چہرہ اسے خوفزدہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

بالاج شاہ سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر میری بہن کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔آدم نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔۔۔۔۔

دیکھئے مسٹر خانزادہ بلڈ بہت زیادہ بہہ گیا تھا۔۔۔اس وجہ سے آئی ایم سوری ہم بے بی کو نہیں بچا سکے۔۔۔۔۔

مگر پیشنٹ کا آپریٹ کر کے ہم گولی نکال چکے ہیں ۔۔۔۔۔
ابھی ہم کچھ کہہ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔آپ دعا کریں۔۔۔۔

ڈاکٹر کے الفاظ سے سالار خانزادہ زلزلے کی زد میں آگیا تھا۔۔۔۔کیا وہ باپ بننے والا تھا۔۔۔۔۔

عرش نے اسے تھام کر حوصلہ دیا تھا۔۔۔۔۔

بالاج نے آگے بڑھ کر آدم کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔۔بہت مشکل سے آدم ظبط کر رہا تھا ۔۔۔۔اسے سب کچھ اپنے ہاتھ سے پھسلتا ہوا لگا۔۔۔۔۔۔

سالار خود کو عرش سے الگ کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
عرش نے اس کے پیچھے جانے کی کوشش کی مگر آدم نے اسے اشارے سے روک دیا ۔۔۔۔اسے اکیلے رہنے دو کچھ وقت۔۔۔۔۔۔آدم افسوس بھرے لہجے میں بولتا بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔

                 💓💓💓💓💓💓💓

فرجاد بالاج کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

کہاں تھے تم پچھلے تین گھنٹے سے کہاں غائب ہو۔۔۔۔۔بالاج نے سختی سے پوچھا۔۔۔۔۔
بھائی تھوڑا بزی تھا میں بتاتا ہوں بعد میں آپ کو۔۔۔۔فرجاد نے سنجیدگی سے جواب دے کر عرش کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نے کیا بتایا۔۔۔۔۔اس نے بالاج سے پوچھا۔۔۔۔۔
کوئی تسلی بخش جواب نہیں ۔۔۔۔تم پتہ لگاؤ یہ حرکت کون کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔بالاج سنجیدگی سے کہہ کر گھر میں فون ملانے لگا تاکہ اماں جان کا حال جان سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں پتہ لگا چکا ہوں بھائی مجرم بھی قید میں ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بات پر بالاج نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔۔

جب گولی چلی عین اسی وقت میں نے ارمان نیازی کو ویٹر کے لباس میں بھاگتے دیکھا۔۔۔اور وہ جلدی میں اپنی گن بھی چھپا رہا تھا۔۔۔۔۔

میں اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔۔۔۔اور اسے بے ہوش کر کے اپنے ٹھکانے پر چھوڑ کے آرہا ہوں۔۔۔۔۔مجھے شروع سے ہی یہ بندہ بہت زیادہ مشکوک لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر بالاج اسے کھینچ کر سینے سے لگا چکا تھا۔۔۔۔ویلڈن میرے بھائی ۔۔۔۔۔آئی ایم پراؤڈ آف یو ۔۔۔اس نے خوشی سے فرجاد کا پیٹھ تھپتھپایا تھا۔۔۔۔

آدم جو فروا بیگم کو دیکھنے گیا تھا اس کو آتا دیکھ کر بالاج اس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
عرش کو بھی بلا لیا تھا اشارے سے۔۔۔۔۔۔
اور جیسے جیسے بالاج ان کو بتاتا گیا۔۔۔۔۔ان کا چہرہ غصے سے خطرناک حد تک لال ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ آیت کو بھی ایک بارا ارمان نیازی اغوا کر چکا تھا جہاں سے بالاج نے اسے بچایا۔۔۔۔۔۔۔

ارمان نیازی کے نام پر عرش کا دماغ ٹھٹکا تھا وہ یہ نام پہلے بھی سن چکا تھا۔۔۔۔مگر جزا کی کسی کے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی تھی۔۔۔۔۔یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔۔

میں اس کو جان سے مار دوں گا میری بہن پر گولی چلانے کی ہمت کیسے ہوئی۔۔۔۔۔۔آدم غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔

بلکل بہن کے گناہگار کو معافی کسی صورت نہیں ۔۔۔۔اور اگر مجھے سالار کو مارنا ہوگا تو سب کے سامنے ماروں گا بزدل نہیں ہوں میں اتنی ہمت رکھتا ہوں کہ اپنے مجرم کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سزا دے سکوں اور ایسا وقت آنے پر میں کروں گا بھی مگر ایک عورت کو تکلیف دینا میری تربیت میں شامل نہیں اپنی بہن کو یہ بات بتا دینا ۔۔۔۔۔بالاج سنجیدگی سے بولتا انہیں بہت کچھ جتا گیا تھا۔۔۔۔۔

تم لوگوں کا مجرم ہمارے پاس ہے جب چاہو گے تم لوگوں کے حوالے کردیں گے۔۔۔۔
بالاج سنجیدگی سے بول کر فرجاد کو اشارہ کرتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔

              💓💓💓💓💓💓💓

اس کے اندر دھواں سا بھر گیا تھا۔۔۔۔۔وہ ہسپتال سے نکل تو آیا تھا مگر سمجھ نہیں آرہا تھا کہاں جائیں ۔۔۔۔۔صبح کی روشنی آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی۔۔۔۔

وہ شکستہ حال لئے وہی رکھے ایک بھینچ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
وہ بکھرا حال۔لئے کسی فقیر کی مانند لگ رہا تھا۔۔۔۔۔خون سے سنی اس کی سفید شرٹ ۔۔۔۔بکھرے بالوں کے ساتھ وہ بہت قابلِ رحم لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے ہمیشہ اپنے لفظوں کے ساتھ ساتھ عمل سے بھی اسے تکلیف دی تھی۔۔۔۔۔
وہ تو بچپن سے ہی اس کی دیوانی تھی۔۔۔مگر آہستہ آہستہ کیسے عشق میں گرفتار ہوئی اسے بھی خبر نہیں ہوئی۔۔۔۔
وہ لڑکی اس کے حصے کی موت کو اپنی طرف موڑ چکی تھی۔۔۔۔

بالاج جو اپنی گاڑی لے کر گھر کے لئے نکلا تھا۔۔۔۔اسے اس طرح شکستہ حال میں بیٹھا دیکھ ایک پل کو رک کیا۔۔۔۔۔
اگلے ہی پل نفرت سے چہرہ موڑ کر وہ اپنی گاڑی زن سے اس کے سامنے سے بھگا لے گیا۔۔۔۔۔۔

نا جانے اسے وہاں بیٹھے کتنا وقت گزرا تھا۔۔۔۔۔۔عرش کے پکارنے پر ہوش میں آیا۔۔۔۔۔
اٹھو یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔عرش نے اسے اٹھایا۔۔۔۔۔۔

وہ ناراض ہو گئی ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔سالار کھوئے کھوئے لہجے میں بولا۔۔۔۔
تو اسے منالو کیا یہاں بیٹھنے سے وہ مان جائے گی۔۔۔۔۔عرش سے اسکی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی ایک طرف بہن تھی تو دوسری طرف ساتھی دوست بھائی۔۔۔۔سب کچھ۔۔۔

وہ نہیں مانے گی میں نے آج تک اسے کوئی خوشی دی ہی نہیں بس ازیت دی ہے۔۔۔۔سالار تکلیف سے آنکھیں میچ گیا۔۔۔۔۔
عرش نے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تم سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ تم سے زیادہ دیر ناراض رہ۔ سکے۔۔۔۔عرش نے اسے تھم کر کہا۔۔۔۔۔

وہ اسے لیے اندر آیا تو جزا کو آئی سی یو شفٹ کیا جا چکا تھا۔۔۔۔۔اس نے شیشے کے پار سے اس کو دیکھا جو مشینوں میں جھکڑی ہوئی دنیا سے بے خبر بے سدھ پڑی تھی۔۔۔۔۔

اس کی آنکھیں چھلک پڑی تھی۔۔۔۔۔۔ان لوگوں نے اسے جوان مرد کو بچوں کی طرح روتے دیکھا تھا۔۔۔۔

وہ جزا پر نظریں جمائے کسی بچے کی طرح رو رہا تھا۔۔۔۔۔

آدم آگے بڑھا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی اسے کہیں لوٹ آئے میرے پاس میں نہیں جی پاؤں گا
اسے کہے ناراضگی چھوڑ دے۔۔۔۔میں جھوٹ بولتا تھا کہ میں اس سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔۔۔لیکن میں مر رہا ہوں اسے ایسے دیکھ کر وہ کیسے میرے ساتھ ایسا کر سکتی ہے وہ کیوں میرے سامنے آئی اس نے میرے حصے کی گولی کھائی ہے بھائی اسے کہے مجھے معاف کردے ۔۔۔۔۔۔وہ اس طرح رو رہا تھا۔۔۔۔۔کہ فرجاد جو اس سے نفرت کرتا تھا اس کی بھی آنکھیں نم ہوئی تھی۔۔۔۔۔

اپنی بیوی سے اتنی محبت کرنے والا شخص کیسے کسی کی بیٹی کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کر سکتا ہے۔۔۔۔۔وہ بس سوچ ہی سکا۔۔۔۔

آس پاس سے گزرتے لوگ اس وجیہہ شخص کو روتے دیکھ حیرت زدہ تھے۔۔۔۔۔۔

اچانک اندر موجود نرس بھاگتی ہوئی باہر آئی تھی۔۔۔۔۔اور ڈاکٹر کو آواز لگا کر وہ دوبارہ اندر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔
وہاں سب پریشان ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کے ساتھ ہی سالار اور آدم اندر چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔

وہاں سالار کا پورا وجود ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔۔۔وہ اٹک اٹک کر سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔

پلیز آپ لوگ باہر جائیں پیشنٹ کی حالت کریٹیکل ہے۔۔۔۔۔۔
نرس نے آکر ان کو نکالنے کی کوشش کی۔۔۔۔

بھائی مجھے یہاں رہنے دیں پلیز۔۔۔۔۔سالار نے گھبرا کر کہا تھا۔۔۔۔جزا کی حالت دیکھ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

آپ۔لوگ جائیں باہر یہاں نہیں رک سکتے۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے سختی سے کہہ کر انکو باہر نکالا تھا۔۔۔۔۔

ان کے باہر نکلتے ہی فرجاد اور عرش پریشانی سے اس کی طرف آئے تھے۔۔۔۔۔

جزا ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔۔تم بس دعا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔سالار نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔ہاں بس دعا اللّٰہ ہی تو اس کی دعا قبول کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگتے ہوئے اسپتال میں موجود مسجد کی طرف بھاگا تھا۔۔۔۔۔اور خاموشی سے اللّٰہ کی بارگاہ میں سر جھکا دیا۔۔۔۔۔۔

کہا تو بس اتنا ۔۔۔۔۔۔اسے مجھ سے مت چھین اللّٰہ تو اسے لوٹا دے۔۔۔۔۔آنسو زارو قطار بہہ کر اس کی ہتھیلی پر گر رہے تھے۔۔۔۔

                    💓💓💓💓💓💓💓  

خانزادہ ہاؤس میں ماتم کا سماں تھا۔۔۔۔۔۔کل تک جہاں سب چہچہاتے پھر رہے تھے آج سبکی آنکھیں سوجھی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔

آیت اپنے کمرے میں بکھرے بالوں کے ساتھ ابھی تک کل والے حلیے میں بیٹھی تھی۔۔۔۔روتے روتے اسکی آنکھیں سوجھ گئیں تھی۔۔۔۔۔۔

وہ کیسے ایک قاتل سے محبت کر سکتی تھی جو اپنے انتقام میں ایک معصوم لڑکی کو نشانہ بنا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

جزا اس کی بہن تھی بچپن سے جوانی تک انہوں نے ایک ساتھ وقت گزارا تھا۔۔۔۔۔

آج اسی کی وجہ سے بالاج کو موقع ملا تھا جزا کو مار کے سالار سے بدلہ لینے کا۔۔۔۔۔۔

آیت ایسے روتے نہیں ہے اٹھو دعا کرو۔۔۔۔۔دعا سے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔دیکھنا جزا بھی ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔۔

عقیدت اسے کل والی حالت میں دیکھ کر پریشان ہو ئیں تھی۔۔۔۔۔۔ ایک سادہ سا سوٹ نکال کر آیت کے ہاتھ میں تھما کر اسے واش روم بھیجا۔۔۔۔۔وہ بھی خاموشی سے واش روم چلی گئی۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ شرمندہ سی باہر آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔

فروا بیگم ابھی تک اسپتال میں تھی۔۔۔۔فریحہ اور سجدہ بیگم ان کے ساتھ ہی تھیں ۔۔۔۔۔

گھر میں صرف شفا عقیدت اریب اور منت ہی موجود تھے۔۔۔

                   💓💓💓💓💓💓

بالاج اماں جان سے مل کر فرجاد کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔ہانیہ اماں جان کے ساتھ ہی سوئی ہوئی تھی اس لئے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔۔۔

اسے کچھ ضروری ڈاکومنٹس چاہئے تھے۔۔۔جس کے لئے اسے مجبوراً بنا بتائے فرجاد کے کمرے مث جانا پڑا ۔۔۔۔۔ویسے بھی
اس کے کمرے میں فائلز وغیرہ کا سیف الگ سے تھا۔۔۔۔۔

جس کا لاک صرف اسے اور فرجاد کو ہی پتہ تھا۔۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اندر چلا گیا اور سیف میں سے اپنی مطلوبہ فائل نکال کر جیسے ہی مڑنے لگا وہ ٹھٹک کر رکا۔۔۔۔۔

جس چیز پر اس کی نظر پڑی ایک دم وہ سناٹے میں آگیا تھا۔۔۔۔۔

وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ایسا کچھ ہوگا۔۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ کیا سوچتا رہا۔۔۔۔اور حقیقت کیا نکلی۔۔۔۔۔۔اسے اپنے پیروں پر جمے رہنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔اس نے سہارے کے لئے ٹیبل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔