Rate this Novel
Episode 5
ناول لمس جنون
رائٹرزرناب چاند
قسط_پانچ
فری کے ساتھ گھبرائی ہوئی وہ ان کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
جبکہ اریب سالار کے ساتھ جا چکا تھا۔۔۔۔
اس کی عمر اور اس کے چہرے پر زخموں کے نشان دیکھ کر ان کو بہت دکھ اور افسوس ہوا۔۔۔۔لیکن انہوں نے کچھ بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔
فروا بیگم نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔فری نے اس کا سجدہ بیگم اور فروا بیگم سے تعارف کروایا ۔۔۔۔۔۔
فری آپ ان کو اوپر لے جاؤ میں کچھ کھانے کے لیے بھجوا دیتی ہوں۔۔۔سجدہ بیگم انہیں اوپر بھیج کر کچن میں چلی گئی ۔۔۔۔
فروا بیگم بھی پریشانی ان کے پچھے آئیں ۔۔۔
سجدہ تمہیں کچھ عجیب نہیں لگا ایک تو لڑکی کتنی کم عمر ہے اور تو اور اس کے چہرے پر نشان دیکھے تم نے کس طرح اس معصوم پر کسی نے تشدد کیاہوگا۔۔۔۔۔۔۔وہ پریشانی سے بولیں ۔۔۔۔
ہاں بھابھی لگ تو مجھے بھی ایساہی رہا لیکن اگر آدم نے نکاح کا سوچا ہےتو کچھ بہتر ہی سوچا ہوگا آپ پریشان نا ہوں ۔۔۔اور اچھے سے بس تیاری کریں ۔۔۔
سجدہ بیگم نے انہیں بے فکر کیا ۔۔۔۔تو وہ بھی ساری سوچوں پس پشت ڈال کر تیاری کرنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آپی مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت۔۔۔۔شفا پریشان سی فری کے پاس بیٹھی ہاتھ موں کو آپس میں مسل رہی تھی۔۔۔۔
ارے ڈرنے کی کیا بات ہے لڑکی شوہر تمہارا ایس ایچ او ہے تم بھی بہادر بنو میرے بھائی کے ساتھ کوئی کمزور لڑکی ہمیں نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔فری نے اسے جھڑکا۔۔۔۔
کہاں ہیں ہماری بھابھی ۔۔۔۔جزا اور آیت ایک لڑکی کے ساتھ سامانوں کا ڈھیر اٹھائے روم میں داخل ہوئی تو وہی تھم گئیں ۔۔۔۔۔
خود پر ان دونوں لڑکیوں کی ایکسرے کرتی نگاہیں دیکھ
وہ فری کے پیچھے چپ گئی ۔۔۔۔
کل تک وہ کتنے آرام سے نکاح کی بات کر رہی تھی آج جب دن آیا تو گھبراہٹ سے اس کی جان نکل رہی تھی ۔۔۔
یہ کون ہے آپی۔۔۔۔سب سے پہلے جزا آندر آئی اور حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔۔
آیت بھی ملازمہ سے سامان رکھوا کر ان کے پاس آگئی ۔۔۔۔۔
یہ ہے ہماری بھابھی آدم کی ہونے والی بیوی ۔۔۔۔فری نے اسے اپنے پیچھے سے نکال کر ان کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیاااااااا۔۔۔۔۔۔دونوں کی چیخ ایک ساتھ نکلی تو اس نے جلدی سے گھبرا کر اپنے چہرے کو ہاتھوں سے چھپا لیا ۔۔۔۔
کان کیوں پھاڑ رہی ہو تم دونوں فری نے ان کو گھور کر دیکھا۔۔۔۔
یہ چھوٹی سی بچی ہماری بھابھی ہیں ۔۔۔۔۔جزا کی حیرت سے بھر پور آواز سن کر اس کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسوں آگئے ۔۔۔
فری نے دونوں کو غصے سے گھورا ۔۔۔۔
آپیییییہی کتنی پیاری ہیں یار آیت نے فوراً اسکے گال چوم ڈالےوہ تو شرم سے سرخ کندھاری ہوگئ۔۔۔۔۔
شرم کرو آیت بھابھی ہیں تمہاری زرا دور رہو۔۔۔۔فری نے اسے شرم دلانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
بہت پیاری ہیں آپ جزا نے بھی اسے پیار سے گلے لگایا تو اسکے اندر کا ڈر تھوڑا سا کم ہوا۔۔۔۔
جاؤ تم دونوں اپنے روم میں اور تیار ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔مجھے شفا کو تیار کرنے دو۔۔۔۔
فری نے ان دونوں کو باہر بھیجا تاکہ وہ تھوڑی ایزی ہو جائے ۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
بھائی ویسے کافی چھوٹی نہیں ہیں آپ سے وہ لڑکی۔۔۔۔۔سالار منت کو اٹھاتے ہوئے بولا جو اسے آتے دیکھ اپنے دونوں بازوں پھیلا چکی تھی۔۔۔
آدم خانزادہ نے وارڈروب سے اپنا سوٹ نکالتے ہوئے اپنی گھورتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
میرا مطلب بھابھی۔۔۔۔۔اس نے فوراً درستگی کی۔۔۔۔
ہممم تم جاؤ منت کو امی کو دو اسے بھوک لگی ہے۔۔۔۔وہ اسے کہتا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
جی لے جاتا ہوں میں اپنی منو کو وہ منت کو اٹھائے نکل گیا۔۔۔
بھائی من۔۔۔۔۔۔اچھی وہ جملہِ مکمل کرتی کہ کمرے سے نکلتے سالار سے بری طرح ٹکرائی۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ گرتی سالار نے اس کا بازو پکڑ کر اسے گرنے سے روکا۔۔۔
وہ ریڈ کلر کے پلازو شرٹ میں ہلکا سا میک اپ کئے بالوں کو کھلا چھوڑے لائٹ سی جیولری پہنے بے انتہا حسین لگ رہی تھی۔۔۔
جیسے ہی جزا ہوش میں آئی اپنا بازو سالار کی گرفت میں دیکھ آنکھوں میں شرارے ڈور گئے ۔۔۔
غصہ سے اس نے اپنا بازو چھڑالیا ۔۔۔۔۔آئیندہ مجھے سو فٹ کی دوری میں رہیے گا۔۔۔۔انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی وہ تن فن کرتی نکل گئی۔۔۔۔
سالار نے بہت مشکل سے ظبط کیا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر ایک گہری سانس لی اور خود بھی نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
خانزادہ مینشن کو ہر طرف رنگ برنگی برقی قمقموں اور پھولوں سے سجایا گیا تھا سالار خانزادہ اور عرش خانزادہ نے کچھ ہی گھنٹوں میں اس سادہ سی نکاح کی تقریب کو بہت خوبصورتی سے سجایا تھا۔۔۔۔
بہت عرصے بعد آدم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔اوراس خوشی سب بہت دھوم دھام سے منانا چاہتے تھے۔۔۔
رات آٹھ بجے کا وقت تھا سارے مہمان آ چکے تھے مولوی صاحب بھی دلہا دلہن کے انتظار میں بیٹھے تھے۔۔۔۔
آدم خانزادہ وائٹ کلف لگے شلوار قمیض پہنے آستین کو کہنیوں تک فولڈ کئے ہاتھ پر مہنگے برانڈ کی گھڑی پہنے پیروں پر بلیک پشاوری سینڈل پہنے اپنے سرخ وسفید۔ رنگت کے ساتھ
بھورے گھنی بئیرڈ اور بکھرے بالوں کے ساتھ انتہائی پر کشش اورجاز نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔فروا بیگم اور سجدہ بیگم نے بے ساختہ اسکی نظر اتاری ۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر ایک ٹہراؤ تھا ۔۔۔
وہ آکر مولوی صاحب کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔عرش اور سالار دونوں نے بلیک شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔۔۔۔احد بھی اسکن کلر کی شلوار قمیض میں تھا۔۔۔۔۔
دلہن کو بلایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔مولوی صاحب کی آواز پر سجدہ بیگم اٹھ کر جانے لگی۔۔۔۔۔
چھوٹی امی انہیں روم میں رہنے دیں میں چاہتا ہوں ان کا نکاح وہی ہو۔۔۔۔
آدم کی گھمبیر بھاری آواز پر سجدہ بیگم اور فروا بیگم نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔۔۔پھر کچھ سوچ کر وہ اندر چلی گئی۔۔۔۔
سالار اور عرش بھی مولوی صاحب کو لئے اندر بڑھ گئے۔۔۔۔
آپی مجھے مجھے بہت ڈر لگ رہا میں نے باہر نہیں جانا پلیز وہاں بہت سارے لوگ ہونگے وہ اپنی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لئے فری سے التجاء کرنے لگی۔۔۔۔
جزا اور آیت اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
اسکن کلر کے شرارے میں بھاری زیورات پہنے میک کئے وہ اپنی معصومیت کے ساتھ بیت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔
ابھی سے ان کا یہ حال تھا شادی کے بعد یہ اتنی چھوٹی اور معصوم سی لڑکی بھائی کے ساتھ کیسے گزارا کرے گی۔۔۔۔۔
۔کیونکہ بھائی کتنے نڈر اور سنجیدہ مزاج کے ہیں اور بڑی بات وہ ایک ایس ایچ او ہیں ہر وقت مار دھاڑ انکا کام ہے یہ تو پہلے دن ہی کوچ کر جائیں گی۔۔۔۔
جزا آیت کے کان میں گھسی بولی۔۔۔۔۔
ہممم کہہ توتم ٹھیک رہی لیکن اب کیا ہی ہو سکتا ہے دونوں نے کچھ سوچ کر ہی فیصلہ کیا ہوگانا ۔۔۔۔آیت نے بھی سرگوشی کی۔۔۔۔
شفا باہر تو جانا ہوگا ورنہ نکاح کیسے ہوگا۔۔۔۔۔وہاں صرف خاندان کے کچھ لوگ ہیں بس باہر کا کوئی نہیں ۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔ابھی وہ کچھ کہتی کہ سجدہ بیگم اور فروا بیگم کچھ خاندان کی عورتوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں ۔۔۔۔
لڑکیوں جلدی سے بیٹھ جاؤ مولوی صاحب کمرے میں آرہے ہیں ۔۔۔۔سجدہ بیگم کی آواز پر فری نے شکر کی سانس لی اور اسے بیڈ پر بٹھا کر اس کے اوپر ریڈ کلر کا ایک کامدار دوپٹہ ڈال دیا۔۔۔۔۔
جو فروا بیگم کا خاندانی دوپٹہ تھا۔۔۔
اس کے ہاتھ پاؤں بری طرح کانپ رہے تھے اسے اس وقت شدت سے اپنا باپ یاد آرہا تھا جو اس کو بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے۔۔۔۔۔
مولوی صاحب بیڈ کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے ۔۔۔
فروا بیگم اور سجدہ بیگم شفا کے دائیں بائیں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔۔
کچھ عورتیں صوفے پر بیٹھ گئیں اور لڑکیاں ساری اچھے سے دوپٹہ سر پر جما کر آس پاس کھڑی ہو گئی۔۔۔
سالار نے ایک نظر اٹھا کر دوپٹے کے ہالے میں اس کا خوبصورت چہرہ دیکھا جزا کی بھی نظر اس پر پڑی تو دونوں نے نے فوراً سے نظریں پھیر لیں ۔۔۔۔۔ایک کی آنکھوں میں نفرت تھی تو دوسرے کی آنکھوں میں افسوس۔۔۔۔۔
شفا ولد اشفاق احمد آپ کا نکاح آدم خانزادہ ولد سہیل خانزادہ کے ساتھ سکہ رائج الوقت تیس لاکھ طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟؟؟
مولوی صاحب کے پوچھنے پر اس نے گھبرا کر ساتھ بیٹھی فروا بیگم کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔۔
بیٹا بولو گھبراؤ نہیں ہم سب ہیں نا آپ کے ساتھ۔۔۔۔انہوں نے پیار سے اس کا ہاتھ تھپتھپایا ۔۔۔
مولوی صاحب کے دوبارہ پوچھنے پر اس نے کپکپاتے لہجے میں قبول کہا اسی طرح تین بار قبول کہنے پر مولوی صاحب اس سے سائین کروا کر اٹھ کر آدم کے پاس چلے گئے۔۔۔۔۔
آدم خانزادہ ولد سہیل خانزادہ آپ کا نکاح شفا ولد اشفاق کے ساتھ تیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟ ۔۔۔۔
مولوی صاحب کے پوچھنے پر اس نے اپنی بیٹی کو دیکھا جو فروا بیگم کے گود میں تھی۔۔۔اور مسکراتی ہوئی اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔
قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے
قبول ہے۔۔۔۔
قبول و ایجاب کا مرحلہ طے پایا تو مبارک باد کا شور اٹھا۔۔۔۔اس کے بعد کھانے کا دور چلا تو وہ فروا بیگم سے منت کو لے کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ فلحال کچھ دیر صرف اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا۔۔۔۔
وہ مختلف سوچوں میں الجھا ہو اتھا۔۔۔۔۔سب سے زیادہ فکر اسے اس بات کی تھی کہ اس نے کہیں نا انصافی تو نہیں کردی۔۔۔۔
وہ اس کے لیے سالار یا عرش کا بھی انتخاب کر سکتا تھا ۔۔۔
اور وہ یہ بات بھی جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی اس کے فیصلے سے اختلاف نہیں کرتے۔۔۔۔اور شفا کو بھی صرف ایک مظبوط سہارا ہی چاہیے تھا چاہے وہ کوئی بھی ہوتا ۔۔۔۔
پھر کیوں اس نے شفا سےخود نکاح کیا۔۔۔۔۔
پہ پپ پپ۔۔۔۔۔وہ نا جانے کتنی دیر سوچوں میں الجھا رہتا
جب منت نے اس کی بئیرڈ کو پکڑ کر کھینچا ۔۔۔
شاید اس کے ہوتے ہوئے اس کے باپ کا کسی اور کو سوچنا اسے پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔
آدم نے مسکرا کر اپنی پرنسس کو دیکھا۔۔۔۔جو منہ بسورے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اوہ میری پرنسس ناراض ہو گئی۔۔۔۔وہ اسکو گدگدانے لگا۔۔۔۔۔
منت کی کھلکھلاہٹ پورے گارڈن میں میں گونجنے لگی۔۔۔۔۔اور ساتھ آدم کا قہقہ بھی کا شامل تھا۔۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
ایسے کھڑی ہوں بھابھی اور دوپٹہ ایسے پکڑیں ۔۔۔۔۔
آیت کب سے اس کی مختلف اینگل سے پکچرز بنا رہی تھی اب تو وہ تھک گئی تھی لیکن بولنے کی ہمت نہیں کر پائی۔۔۔۔وہ کسی کٹ پتلی کی طرح اس کے کہنے پر الگ الگ پوز دے رہی تھی۔۔۔
اور جزا مزے سے لیٹی اسکے ایکسپریشن نوٹ کر رہی تھی جو کبھی بھی رو دے گی۔۔۔۔
لڑکیوں جان چھوڑو اب اس کی اور یہ کونسا بھاگے جا رہی ہے یہی رہے گی اب سکون سے بیٹھو کھانا کھا لو تم سب ۔۔۔
فری کھانے کا ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی اور شفا کی شکل دیکھ دونوں کو اچھی خاصی ڈانٹ پلائی۔۔۔۔
وہ دونوں چپ چاپ اس پر ترس کھاتی کھانے کے لیے بیٹھ گئے ساتھ اسے بھی بٹھا لیا۔۔۔
ان کا رویہ دیکھ تھوڑا بہت اس کا ڈر بھی ختم ہو گیا۔۔۔۔
کھانے کے بعد وہ تینوں اسے آدم کے روم میں چھوڑنے آئی تھی۔۔۔۔
کمرے کا فسوں خیز ماحول دیکھ اسے اپنے ہاتھوں میں پسینہ نکلتا محسوس ہوا۔۔۔۔
باقی تینوں کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئی ۔۔۔۔۔۔
گلاب کی پتیوں سے بیڈ تک راستہ بنایا ہوا تھا اور بیڈ پر
بچی سفید چادر پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
کمرے میں جگہ جگہ کینڈل سیٹ کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔بیڈ کے چاروں طرف سفید نیٹ کی جالی تھی۔۔۔۔
وہ ایک مکمل رومینٹک سا ماحول کریئٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔
کمرے کا حال دیکھ فری تو بہت اچھے سے سمجھ گئی یہ کس کا کام ہے کیونکہ آدم سے اسے اس طرح کی کسی کی چیز کی امید نہیں تھی۔۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر لائٹ جلائی ۔۔۔۔۔تاکہ جو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے وہ ہوش میں آ جائے۔۔۔۔۔
ادھر آؤ تم یہاں بیٹھو فریحہ نے اسے تھام کر بیڈ پر بٹھایا جو گھبرا کر کمرے کی ایک ایک چیز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
آیت اور جزا قدموں کی آواز پر جلدی سے دروازے کے باہر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
دیکھو شفا نکاح بھلے تم نے جس بھی نیت سے کیا ہو یہ بات کبھی مت بھولنا کہ اب تم آدم کی بیوی ہو اور وہ تم پر ہرطرح کا حق رکھتا ہے اور تم بھی اس پر پورا حق رکھتی ہو۔۔۔۔اپنی پوری کوشش کرنا اس رشتے کو کامیاب کرنے کی انشاء اللّٰہ ایک دن تم دونوں کے دل میں اللّٰہ محبت بھی ڈال دے گا۔۔۔۔
فری اسے بہت اچھے سے سمجھا کر چلی گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
بھائی کچھ تو دیں ۔۔۔۔جزا اور آیت نے آدم کو روکا جو ان کو گیٹ کے باہر کھڑے دیکھ واپس جا رہا تھا اور اس نے صاف انکار کر دیا تھا ان کو کچھ بھی دینے سے ۔۔۔۔
منت اب بھی اس کی گود میں سوئی ہوئی تھی۔۔۔
انکی شکلیں دیکھ اسے رحم آگیا۔۔۔۔اور وہ جیب سے چند نوٹ نکال کر انکے حوالے کر گیا۔۔۔۔اور اندر جانےلگا۔۔۔۔
پیسے ملتے ہی وہ دونوں خوشی سے وہاں سے ہٹ گئیں ۔۔۔۔۔
کہاں۔۔۔۔ایک عدد بہن میں بھی ہوں تمہاری جلدی سے میرے حصے کے نکالوں پھر جانا اندر جانا فریحہ اس کا راستہ روک کے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
نکلو کوئی پیسے نہیں ۔۔۔۔۔۔ورنہ مجھے کوئی جلدی نہیں اندر جانے کی میں تو کہیں اور بھی اپنا ٹھکانہ بنا لوں گا ۔۔۔آدم نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔
اس نے گھور کر آدم کو دیکھا اور آگے بڑھ کر منت کواس کی گود سے لے لیا۔۔۔۔
بس آج کے لئے اسے میرے پاس چھوڑ جاؤ کل سے اپنے ساتھ رکھنا میں نہیں روکوں گی۔۔۔۔
آدم اس کی بات کا مطلب اچھے سے سمجھ گیا اس لیے بنا کوئی بحث کیے اندر بڑھ گیا۔۔۔۔۔
جہاں اس کی نئی نویلی دلہن اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔
کمرے کا ماحول دیکھ کچھ پل کے لیے وہ بھی فریز ہو گیا تھا ۔۔۔۔
لیکن جلد ہی اس نے خود کو سنبھال لیا وہ بیڈ کے بیچو بیچ گھونگھٹ اوڑھے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اپنے بھاری قدم اٹھاتا وارڈروب کی طرف
بڑھ گیا اور اپنا سادہ سا سوٹ نکالتا۔۔۔۔۔۔واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔
جب وہ فریش ہو کر آیا تب بھی وہ ایسے ہی بیٹھی تھی آدم کو ایک دم غصہ آیا ۔۔۔۔۔۔
جب اس رشتے کی حقیقت سے واقف تھی پھر اس طرح روایتی دلہنوں کی طرح بیٹھنے کا کیا تک بنتا تھا۔۔۔۔
وہ بیڈ پر جا کر لیٹ بیٹھ گیا اور سائیڈ ڈرار سے ایک باکس نکالا ۔۔۔۔۔
اس کے بیٹھنے پر شفا خود میں سمٹ گئی۔۔۔۔۔
یہ آپ کی منہ دکھائی۔۔۔۔۔ اس نے وہ باکس شفا کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔۔لیکن گھونگھٹ الٹنے کی ضرورت اب بھی محسوس نہیں کی۔۔۔۔۔۔
اس کی بھاری آواز پر اسنے گھونگھٹ خود ہی الٹ دیا ۔۔۔۔۔اور آدم کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
اس کے گھونگھٹ الٹتے ہی آدم کی نظر اس کے چہرے پر پڑی تو پلٹنا بھول گئیں ۔۔۔
اس کے لال رنگ سے رنگے ہونٹ اسے بری طرح اٹریکٹ کر گئے۔۔۔۔لیکن وہ بھی آدم خانزادہ تھا سوتے ہوئے بھی اپنے دماغ کو جگائے رکھنا اچھے سے جانتا تھا۔۔۔۔
مج مجھے منہ دکھائی نہ نہیں وعدہ وعدہ چاہیے ۔۔۔وہ کپکپاتے لہجے میں دھیرے سے بولی۔۔۔۔۔ تو آدم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
کیسا وعدہ۔۔۔۔۔۔اس نے ایک آئیبرو اچکائی۔۔۔۔۔
میں اپ اپنے ابو کے قاتل کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔میں ان کو سخت سے سخت سزا دلوانا چاہتی ہوں۔۔۔۔اور ان سب کےلئے مج مجھے آپ کی مدد چاہیے ۔۔۔۔۔
وہ سرخ روئی روئی امید بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
آدم کو اس پر ترس آیا اس نے شفا کا ہاتھ پورے حق سے تھاما اس کا چھوٹا سا ہاتھ آدم کے ہاتھوں میں چھپ سے گئے۔۔۔۔
آدم کا لمس اپنے ہاتھوں میں محسوس کر کے وہ عجیب کیفیت کا شکار ہوئی ۔۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں آپ کے مجرموں کو جب تک کیفر کردار تک نا پہنچا دوں میں سکون سے نہیں بیٹھوں گا ۔۔۔۔۔۔
آج سے یہ میری زمہ داری ہے آپ ہر فکر سے آزاد ہو جائیں۔۔۔۔
آپ جا کر چینج کر لیں رات بہت ہو گئی ہے۔۔۔۔
آدم اسے اپنے ہونے کا مان بخش کر سیدھا ہو کر کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
