Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haq Mehar (Last Episode)Part 1

Haq Mehar by Muntaha Chohan

لاسٹ) پارٹ ٹو

🔥🔥🔥🔥🔥🔥آخری حصہ🔥🔥🔥🔥🔥🔥

ہاں۔۔؟؟ کیا پوزیشن ہے۔۔؟؟ ابتسام نے کال اٹینڈ کی ۔

ماں بیٹی نکل چکی ہیں۔ پھپھو صاحبہ نہیں باز آٸیں۔ لیکن۔۔۔ بیٹی باز آگٸ ہے۔

احمر کی آواز سماعت سے ٹکراٸ۔

ہمممم۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔! نظر رکھو۔ میں ان پے قطعی بھروسہ نہیں کر سکتا۔۔۔ صرف ایک غلطی۔۔۔ ایک غلطی یہ کریں۔ اور اس بار ۔۔پھر بی جان بھی بیچ میں نہیں آٸیں گیں۔

ابتسام نے احمر سے کہتے کال بند کی۔ مڑا تو ابرش وہیں کھڑی تھی۔

تم۔۔کیوں آگٸ باہر۔۔۔؟ نارمل انداز میں کہا۔

آپ کس سے بات کر رہے تھے۔۔؟؟ ابرش نے آخری الفاظ سن لیے تھے۔

احمر سے۔۔۔! ابتسام نے چھپانا مناسب نہ سمجھا۔

وہ۔۔۔ کہاں ہے۔۔؟ ابرش کو کچھ صحیح نہ لگا۔

ابتسام نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا۔

دبٸ میں؟ ابرش کے لب وا ہوے۔اسے ابتسام کی خاموشی سے خود ہی جواب مل گیا۔

ابتسام نے گہرا سانس خارج کیا۔

میں۔۔ اب ہماری فیملی کے لیے کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتا۔ اور پھوپھو پے تو مجھے بالکل اعتبار نہیں۔ جو۔۔ ہماری سب کی۔۔۔جان لینے سے بھی پیچھے نہ ہٹیں۔ وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔۔۔! اور۔۔۔ میں اب مزید ۔۔ انہیں کچھ بھی برا نہیں کرنے دوں گا۔

ابتسام نے ابرش کا ہاتھ تھامے دھیمے لہجے میں کہا۔ تو ابرش نے اسکی بات سمجھتے اثبات میں سر ہلایا ۔

اندر چلیں۔۔۔؟؟ ابرش نے مسکرا کے کہا۔

ابتسام نے اسکے گرد بانہوں کا گھیرا بناتے اندر گھر کے ہال کی جانب رخ کیا۔ جہاں اس وقت رونقیں عروج پے تھیں۔ فہد ے نکاح کی رسم ادا ہونے والی تھی۔

فہد ایسے چہک رہا تھا۔ جیسے دلہا یہ نہیں کوٸ اور ہو۔۔۔

یار۔۔۔ یہ ڈھول والا۔۔کیوں چپ کھڑا ہے۔۔؟؟ اسے کیا مفت میں لاۓ ہو۔۔؟؟ فہد نے اظہر سے کہا۔ جو کہ اسکا قریبی دوست تھا۔ اور بہت ہی فرینک تھا۔

ہاں۔۔ ایک منٹ۔۔ دیکھتا ہوں۔۔ وہ فوراً اٹھا۔ اور ان کو جا کے ڈھول بجانے کا کہا۔ تو پھر ڈھولک کی تھاپ پے سب لڑکوں نے دھمال ڈالا۔ فہد خود بھی بھنگڑا۔ ڈالنے میں پیش پیش تھا۔

ابرش اور ابی جان ساتھ بیٹھیں اسے دیکھ کےمسکرا رہی تھیں۔ فہد ابتسام کو بھی کھینچ لایا۔

ابرش نے آنکھ ونک کی۔

ابتسام مسکراتا ہوا نہ کرتا وہاں سے نکلنے لگا۔ لیکن فہد اور حمزہ نے اسے واپس کھینچ لیا۔ اور زبردستی اپنے ساتھ لگایا۔ ابی جان بھی مسکراتے اپنے پاڈلے ک دیکھ رہی تھیں۔

عروش اور ارتسام ایک ساتھ بیٹھے ان لمحات کو انجواٸے کر رہے تھے۔

ارحام۔۔۔ کہاں ہیں۔۔؟؟ ابھی تک آۓ نہیں۔۔؟؟ ابی جان کو ارحام کی فکر ہوٸ۔

ابرش کا دھیان بھی اس طرف گیا۔

میں کال کرتی ہوں۔ کہتے ارحام۔کو فون ملایا۔ لیکن اس نے نہ اٹھایا۔

تو ابرش بھی پریشان ہوٸ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

گاڑی کو ساحل سمندر کے قریب روکتے وہ گہرا سانس کھینچتا باہر نکلا۔ دوسری طرف سے لمظ کو بھی باہر نکالا۔ اور اسے گاڑی کے دروازے کے ساتھ لگایا ۔

تمہیں۔ میری آنکھوں میں اپنے لیے کیا نظر آتا ہے؟

ہوا کی تیز لہروں کو اپنے ساتھ ٹکراتے وہ دونوں ہی جوش میں تھے۔

لمظ نے دانت پیسے۔ اور منہ پھیرا۔

ادھر دیکھو میری طرف۔ ۔

ارحام نے اسکا چہرے کو پکڑ کے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ انداز انتہاٸ جارحانہ تھا۔

نہیں دیکھنا۔۔۔۔! لمظ نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ دونوں ہی سیر پے سوا سیر تھے۔

وہاں اس وقت اکا دکا لوگ ہی تھے۔ اور جہاں ارحام نے گاڑی روکی تھی۔ وہاں پے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ شام کا وقت تھا۔ ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی۔

آنکھیں کھولو۔۔۔ لمظ۔۔۔!ورنہ بہت۔۔ برا پیش آٶں گا۔

اسکی ناک کے ساتھ ناک جوڑتا وہ اسکے اندر تک ڈر کی لہر دوڑا گیا ۔

دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ اتنے قریب اسے دیکھتے لمظ کا سانس رکا۔

کیا جنون تھا اسکی آنکھوں میں ۔ ۔۔

کیا شور تھا جذبوں کا۔۔۔

لمظ کا دل بے انتہا دھڑکے جا رہا تھا۔ اپنی ناراضگی کو بھلاٸے بس اس دیوانے کو دیکھ رہی تھی۔

آٸندہ نظریں پھیریں تو جان لے لوں گا۔۔۔ ! اسکے بالوں میں ہاتھ ڈالے اسکا چہرہ اوپر اٹھایا۔

مجھے۔۔۔ کبھی اگنور مت کرنا۔۔۔! لمظ نے دھیمے لہجے میں کہا۔

اسکی ایسی حالت دیکھ ارحام نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ وہ ان سکیور ہو رہی تھی ۔ اور ارحام نے اسے اپنے ہونے کا مان بخشا۔ اسے گلے سے لگایا۔ اسکا ماتھا چوما۔

اپنی سانسیں کون جدا کر سکتا ہے خود سے۔۔بھلا۔۔؟؟

ارحام کے الفاظ نےاسے کافی ڈھارس دی اور وہ مطمین ہوگٸ۔

موباٸل پے کال آرہی تھی۔ واٸبریشن پے تھا۔ اسکے بعد ایک اور بار کال آٸ تو جیب میں ہاتھ ڈالے موباٸل نکالا۔ بھابھی کالنگ لکھا تھا۔ وہ مسکرا دیا ۔

ایک ہاتھ سےلمظ کو اپنے دل کے ساتھ لگایا تھا۔ تو دوسرے ہاتھ سے موباٸل کو کان سے لگایا۔

حام ۔۔۔کہاں ہو؟ ابرش کی پریشان آواز آٸ۔

ہمممم۔۔۔ ؟؟؟ ارحام لمظ کو دیکھتا مسکرایا۔

لمظ کے ساتھ ہو؟ ابرش کا اگلا سوال۔

جی۔۔۔۔! دھیمی آواز پے ابرش نے نفی میں سر ہلایا۔

ارحام۔۔۔ جانتےہو۔۔ سب کتنے پریشان ہیں۔ بتا دیتے۔۔۔؟ خیر۔ ۔۔اب ہم نکل رہے ہیں۔ گھر ملاقات ہوتی ہے۔

ابرش نے کہتے کال بند کر دی۔

ارحام نے پھر سے لمظ کو بازوٶں کے حلقے میں لیا۔

آج تو بخش دیا۔۔ آٸندہ اگر دور جانے کی بات کی تو۔۔ ہمیشہ کے لیے اپنے پاس لے جاٶں گا۔

مجھے منظور ہے۔۔!سر اٹھاتے برجستہ جواب دیا۔ ارحام کے چہرے پے سماٸل بکھر گٸ۔

بہت جلد لے جاٶں گا ۔ ان شاء اللہ

دل سے کہتے وہ اسکا ہاتھ تھامے اب ساحل سمندر کی گیلی ریت پے چلنے لگا تھا۔

لمظ نے مسکراتے ہوۓ ایک نظر ارحام کو دیکھا ۔

اچھا۔۔۔ تمہارے اندر بھی جیلیسی کا مادہ ہے

یونہی سرسری انداز میں چلتےکہا۔

کیوں۔۔۔؟؟ ارحام پیر زادہ میں جیلس پن نہیں؟؟؟

ہممممم۔۔۔ نہیں۔۔۔۔! محبت پاش نظروں سے دیکھا۔

ممکن ہی نہیں۔۔ مرد زیادہ جیلیسی ہوتا ہے ۔۔۔۔

لمظ نے ماننے سے انکار کیا۔

میں جیلیسی نہیں۔۔ جنونی ہوں۔۔تمہیں لے کے۔

عشق۔۔۔ بہت منہ زور ہوتا ہے۔ لمظ۔۔۔! اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو ہاتھ پکڑ کے اپنے ساتھ لے جاتا۔ نہ کہ وہ کرتا جو تم نے کیا ۔

ارحام نے اسے ایک نٸ راہ دکھاٸ وہ تو منہ دیکھتی رہ گٸ۔

ہمممم۔۔۔۔۔۔ ہاں نہیں تو۔۔۔ اگلی بار ایسا ہی ہوگا۔۔۔

لمظ نے گردن ہلاتے پرسوچ انداز میں کہا۔

ارحام نے مسکرا کے اسے اپنی طرف کھینچا۔

اور اگر میں تمہاری جگہ ہوتا۔۔۔ تو پتہ ہے کیاکہتا؟

کہ جان من۔۔۔ آٸندہ ایسی نوبت ہی نہ آۓ۔

لمظ نے اسے پھر سے حیرت سے دیکھا۔

بہت چالاک ہو تم۔۔۔! لمظ نے اسکے سینے پے مکا مارا۔

کوٸ بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی ٹام اینڈ جیری کی جوڑی ہے۔ جو ہر وقت لڑتے رہتے تھے۔

خیر یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا ۔ کہ ان کے بیچ زیادہ پیار ہوتا ہے یا۔۔ جھگڑا۔۔۔؟؟

ویسے بھی۔۔ جہاں پیار ہو وہاں جھگڑا تو کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔۔۔😂😂😂

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کیا ہوا۔۔؟؟ کیا سوچنے لگی۔۔۔؟؟ ارتسام نے واپسی پے ڈراٸیونگ کرتے عروش کوخاموش پایا تو پوچھ ہی بیٹھا۔

واپسی پے ابی جان ڈراٸیور کے ساتھ جلدی گھر جا چکی تھیں ۔ جبکہ ابتسام اور ابرش نے اپنی گاڑی میں جانا تھا۔ اور ارتسام اور عروش اپنی گاڑی میں نکلے تھے۔

کچھ نہیں۔۔ بس ایسے ہی۔۔؟؟ عروش نے ٹالا۔

عروش کیا ہوا۔۔؟؟ سچ سچ بتاٶ۔ کیا ہوا۔۔؟؟ ارتسام اسے پریشان نہیں دیکھ پا رہا تھا۔ جبکہ وہ دو دن پہلے اسے اسکی امی سے بھی ملوا لایاتھا ۔

سام۔۔۔۔۔؟؟ ہمارا۔۔۔ مطلب۔۔۔؟؟ وہ ۔۔۔ہمارا۔۔۔؟؟ جیسے۔۔ بھابھی۔۔۔ کے ہاں۔۔۔؟؟ بے بی۔۔۔؟؟ عروش ہاتھ کی انگلیاں مروڑتے کہتے ہچکچاٸ۔

ارتسام نے گہرا سانس خارج کیا۔ سامنے ونڈ اسکرین پے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔

عروش۔۔۔۔! ابھی بہت وقت پڑا ہے۔۔۔ ان سب کے لیے۔۔ پہلے اپنی پریکٹس مکمل کر لیں۔

عروش سے ڈاکٹر عروش بن جاٸیں اس کے بعد سوچیں گے۔

انتہاٸ سنجیدگی سے کہتے وہ عروش کا دل بری طرح مسل گیا۔ آنکھوں میں آنسو آگۓ۔

ارتسام اسکے آنسو دیکھ زچ آگیا۔ لیکن خاموش رہا۔

گھر پہنچتے ہی وہ فوراًگھر کے اندر داخل ہوتی روم کی جانب بڑھ گٸ۔ارتسام سوچ میں ڈوب گیا۔ اسے عروش سے اس قدر حساس ہونے کی توقع نہ تھی۔

وہ بھی اندر کی جانب بڑھا۔ جہاں وہ شاور لیتی اب سونے کے لیے لیٹ رہی تھی۔ لیکن آنکھیں روٸی ہوٸیں تھیں ۔

ارتسام اس کے پاس جا بیٹھا۔ اور اسکا ہاتھ تھاما۔

عروش۔۔۔!اتنی حساس کیوں ہو رہی ہو۔۔؟؟ اولاد تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ناں۔۔۔؟؟ جسے وہ چاہے عطا کرے جب چاہے عطا کرے۔ اللہ کے کام ہیں ناں۔۔ یہ تو۔۔۔! ارتسام نے اسے بہت پیار سے سمجھایا۔

ارتسام۔۔۔۔! کیا ۔۔۔ ہم۔۔۔ کوٸ۔۔ روحانی علاج۔۔؟؟ آنسو صاف کرتے وہ لجاجت سے بولی۔ جس پے ارتسام نے حیرت سے اسے دیکھا۔

ایسا کیوں آیا زہن میں۔۔؟؟ اور۔۔کیسا روحانی علاج؟

ارتسام اسکے زہن کے آخری حصہ تک بھی پہنچنا چاہتا تھا۔

مانا۔۔۔ کہ ۔۔ساٸنس نے بہت ترقی کر لی ہے۔۔ لیکن۔۔۔ روحانی علاج بھی تو ہوتا ہے۔۔۔اور ۔۔اللہ بچے کی نعمت سے بھی نوازتا ہے۔۔ میری امی۔۔۔؟؟؟

ابھی عروش کی بات ادھوری تھی۔ کہ ارتسا م عروش کا ہاتھ جھٹکتا غصہ ضبط کرتے کھڑا ہوا۔

بس۔۔۔۔! اب اس ٹاپک پے مزید بات نہیں ہوگی۔۔۔!

کہتے وہ وہاں سے جانے لگا۔

لیکن ارتسام۔۔؟ عروش منمناٸ۔

ایک بات کی سمجھ نہیں آتی آپ کو۔۔؟؟ ارتسام مڑتے سخت غصے سے بولا۔ کہ وہ سہم کے چپ کر گٸ۔

آپ کو آپ کی امی سے ملوانے کا مطلب یہ نہیں۔۔ کہ آپ اسطرح کی باتیں کریں۔۔۔ اور وہ آپ کو۔۔؟؟ خبردار جو آٸیندہ اسطرح کی بات آپ کے زہن میں بھی آٸ۔ اور آپ نے اسطرح کی کسی بات پے عمل کا سوچا بھی۔۔۔؟؟ مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا۔۔۔

ہاتھ اٹھاتا وارن کرتا وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا ۔ عروش ہچکیوں سے روتی گالوں پے آۓ اپنے آنسو پونچھنے لگی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

روکیں۔۔ روکیں۔۔گاڑی۔۔۔روکیں۔۔۔! ابرش نے اچانک سے کہا تو ابتسام نے جھٹکے سے ایک ساٸیڈ پے گاڑی کھڑی کی۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ گھبرا گیا۔

وہ۔۔۔ دیکھیں۔۔۔! ایک ریہڑھی کی طرف اشارہ کیا۔ ابتسام کی نظریں اس طرف گٸیں۔تو گہرا سانس خارج کیا۔

کیا ہے وہاں۔۔؟؟ بھنوٸیں اچکاٸیں۔

ابتسام۔۔۔ مجھے گول گپے کھانے ہیں۔۔۔ منہ بناتے ہونٹ باہر نکالتے بہت لاڈ سے کہا۔

اس وقت۔۔؟؟ ٹاٸم دیکھا ہے؟ ابتسام کا ارادہ بالکل نہ جانے کا تھا۔

گول گپے کھانے کا کوٸ وقت نہیں ہوتا۔ آپ جاٸیں اور لے کے آٸیں۔ بلکہ ۔۔۔چلیں مل کے کھاتےہیں۔ کہتے گاڑی کا لاک کھولنے لگی۔

نہیں۔۔۔ یہیں رہو۔۔ میں لے کے آتا ہوں۔ ابتسام اسے وہیں چھوڑ۔ ایک ساٸیڈ سے ہوتا گول گپے کی پلیٹ لینے چلا گیا۔ جبکہ ایک بار بھی ابرش سے نظر نہ ہٹاٸ۔

یہ لو۔۔۔! واپس آتے پلیٹ اسے تھماٸ ۔ جسے ابرش نے فوراً ہی تھاما۔ اور چٹ کر گٸ۔

ہممممم۔۔۔ سو ٹیسٹی۔۔۔! اسکی آنکھیں چمک رہی تھیں۔

کھاٸیں گے۔۔؟؟ ابتسام کی جانب ایک گول گپہ بڑھایا۔

نہیں۔۔ تم۔۔ کھاٶ۔۔۔! ابتسام نے سہولت سے انکار کردیا۔

کھالیں۔۔ بہت مزے کا ہے گول گپہ۔۔۔! ابرش نے اصرار کیا۔

نہیں۔۔۔۔ میں۔۔ اپنا گول گپہ کھاٶں گا۔۔۔ یہ تم کھاٶ۔۔! آنکھوں میں شرارت لیے کہتا وہ ابرش کا دل دھڑکا گیا۔ دوبارہ سے اسےکہنے کی ہمت نہ ہوٸ۔

اب چلیں۔۔؟؟ ابرش نے فینش کیا تو ابتسام نے گاڑی اسٹارٹ کرتے پوچھا۔ ابرش نے اثبات میں سر ہلایا۔

ابھی تھوڑا آگے گۓ ہوں گے۔ کہ ابرش کو پھر سے کچھ کھانے کا جی چاہا۔

ابتسام۔۔۔۔؟؟ دھمیے سے منمناٸ۔

ہممم۔۔۔۔۔؟؟ ڈراٸیونگ کرتے اس نے سامنے دیکھتے کہا۔

آٸس کریم کھانی ہے۔۔۔۔! دھیرے سے کہا۔

واٹ۔۔۔؟؟ ابر۔۔۔؟؟ پاگل ہو کیا۔۔؟؟ ابھی کھٹا کھایا۔۔ اب ٹھنڈی آٸسکریم۔۔؟؟ نو۔۔۔۔ گلا خراب ہو جاۓگا۔۔۔!

ابتسام نے صاف منع کیا۔

پلیز۔۔۔۔۔۔! پلیز۔۔۔ انکار نہ کریں نہ۔۔۔! مجھے بہت دل کر رہا ہے۔۔۔ پلیز۔۔۔؟؟ ابر نے پھر سے منہ پھلایا۔

ہرگز نہیں۔۔۔! ابتسام بھی نہ مانا۔ ۔تو اب منہ بسور کے رہ گٸ۔ اسکے یوں منہ بسورنے پے ابتسام گہرا سانس خارج کرتا رہ گیا۔

آٸسکریم پارلر پے گاڑی روکتے اسکی جانب مڑا۔

کونسا فلیور کھانا ہے؟ ابر نے مڑ کے اسکی طرف دیکھا۔ اور مسکراٸ۔

کارنیٹو۔۔۔۔۔! خوشی سے چہکی ۔

کارنیٹو لیتے ہوۓ وہ اسے بچوں کی طرح کھانے لگی تھی۔ ابتسام نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ اور سپیڈ بھی تھوڑی بڑھا دی۔ کہ مزید فرماٸشیں نہ شروع ہوجاٸیں ۔

ابھی گھر سے تھوڑا سا دور تھے۔ کہ ابر کو پھر سے بے چینی ہوٸ۔

اب۔۔۔کیا چاہیے؟ ابتسام سمجھ گیا۔

پتہ نہیں۔۔ اب کیا کھانے کا دل کر رہا ہے۔۔؟؟ کھٹا کھا لیا میٹھا کھا لیا۔۔۔ اب کیا رہ گیا ہے۔۔؟إ خود سے سوال کرنے لگی۔۔ ہاں۔۔ تیکھا رہ گیا۔۔۔ابتسام کی طرف مڑی۔

ابتسام۔۔۔ مجھے ناں۔۔۔ پان کھانا ہے۔۔ ملٹھی والا پان۔۔۔ !

واٹ۔۔۔؟؟ ابتسام کو جھٹکا لگا۔

آر یو ان سینسس۔۔۔؟

ہاں۔۔ پلیز پلیز۔۔۔؟؟؟ ملٹھی والا پان بہت مزے کا ہوتا ہے۔۔میرے بابا اکثر مجھے لا کے دیا کرتے تھے۔ مجھے بہت پسند ہے۔۔ پلیز کھلا دو۔۔۔ منہ بناتی وہ باپ کا حوالہ بھی رے رہی تھی۔

ابر۔۔۔ باقی سب ٹھیک ہے۔۔ یہ پان شان نہیں۔۔ بس گھر آگیا ہے۔

ابتسام نے گاڑی گیٹ سے اندر کرتےکہا۔

آپ ناں۔۔۔ بہت۔۔۔؟؟ کہتے کہتے وہ رک گٸ اور منہ دوسری جانب موڑا۔

چلو۔۔۔۔! بہت ہوٸ یہ اموشنل بلیک میلنگ۔۔۔ اندر چلو۔ ابتسام نے نیچے اترتے کہا۔ تو ابرش نے نیچے اترتے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔ ایک سخت گھوری ابتسام پے ڈالی۔ اور پاٶں پٹختی اندر کی جانب بڑھ گٸ۔

افففف۔۔۔۔ مسز۔۔۔ اتنا ایٹی ٹیوڈ۔۔۔ ؟ بندو بست کرنا پڑے گا۔ زیرلب مسکراتا وہ بھی اندر کی جانب بڑھ گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آپ واپس کب آٸیں گے۔۔ ؟ ابتسام کو سامن پیک کرتے فیکھ وہ افسردہ تھی۔

جلد ہی۔۔۔! لیکن مجھ سے وعدہ کرو۔۔ اپنا بہت خیال رکھو گی۔۔۔!ابتسام نے بیگ کی زپ بند کرتے اسکا ہاتھ تھامتے کہا۔ تو ابر نے منہ بسورا۔

ایسے کرو گی اب۔۔؟؟ مجھے ناں۔۔ وہ پلے والی ابر واپس چاہیے۔۔ ! اسکا چہرہ تھوڈی سے اوپر اٹھایا۔

آپ کے بنا رہنے کی عادت نہیں رہی اب۔

ابر۔۔۔۔۔! ابتسام نے مسکراتے گہرا سانس خارج کیا۔ وہ تو اسے سخت سنانا چاہتا تھا۔ لیکن اسکی حالت کے پیشِ نظر درگزر کر گیا۔

ابر۔۔۔ پہلے صرف ابی جان جانتی تھیں۔ اور وہ مجھے خوشی سے رخصت کرتی تھیں۔ اب۔۔ تم بھی جانتی ہو۔ اور میں چاہتا ہوں۔ تم بھی خندہ پیشانی سے رخصت کرو۔ تھوڑا پیار اور سنجیدگی سے کہا۔

ایک شرط پے۔۔۔۔؟؟؟ ابرش نے مسکراتے کہا۔

کیا؟ ابتسام حیران ہوا۔

آتے ہوۓ ملٹھی کا پان ضورو لیتےآنا۔۔۔! ابرش کے کہنے پے ابتسام نفی میں سر ہلاتا اسے لیے باہر آیا۔ جہں ابی جان اکا ویٹ کر رہی تھیں۔ اور وہ ان کی دعاٶں میں رخصت ہوا۔

ابرش ابتسام کے جانے سے اداس تو ہوٸ تھی۔ لیکن اس نے اپنی پریکٹس دوبارہ سے اسٹارٹ کر دی تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا۔ ایک نٸے مشن کے لیے ابتسام اپنی ٹیم کے ساتھ وزیرستان جا چکا تھا ۔

لیکن وہ واقعی وزیرستان گیا تھا یا کہیں اور۔۔۔؟؟ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ سیکرٹ ایجنٹ کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔

ابرش کا لاسٹ ماہ چل رہا تھا۔

لمظ اور ارحام نے اپنی پڑھاٸ کانٹینیو رکھی تھی۔ تو وہیں دوسری طرف عروش ابھی بھی اولاد کی نعمت سے محروم تھی۔ اس کے اور ارتسام کے بیچ اب سرد مہری سی آگٸ تھی۔ اور وجہ ۔۔ عروش کی ماں تھی۔ جو چاہتی تھیں کہ جلد از جلد روش کی اولاد ہوجاۓ اور اسکا پاٶں سسرال میں مضبوط ہوجاۓ۔ اور اسکے لیے وہ عروش کو منا کے ایک بابا کے پاس لے گٸیں۔

جہاں جا کے عروش نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ وہ بابا کم اور چرسی زیادہ لگ رہا تھا۔

اس نے روش کو غلط انداز مثس چھنے کی کوشش کی۔ جس پے عروش بھڑک اٹھی۔ اور ماں کے ساتھ وہاں سے اٹھی۔ باہر نکلنے لگی۔ کہ ان لوگوں نے اسے روکا۔ عروش کا دل کانپا۔ وہ ارتسام کو بنا بتاٸے وہاں پہنچی تھی۔ اور اب پھس گٸ تھی۔

اتنی خوبصورت ۔۔۔ لڑکی کو کیا ہم۔۔ ایسے ہی جانے یں گے۔۔؟؟ وہ چرسی بابا اور اسکا چیلا راستہ روکے کھڑے تھے۔ عروش کا گال چھونا چاہا کہ عروش نے اسکا ہاتھ جھٹکا۔

خبردار جو مجھے چھونے کی بھی کوشش کی۔ میرا شوہر تمہارا کچومر بنا دے گا۔ ہمت کرتے غصے سےکانپتے بولی۔

ہاہاہاہاہاہاہ۔۔۔ وہ بابا زور سے ہنسا۔

ایک بچہ تو پیدا نہیں۔۔ کرسکتا اور ہمارا کچومر بناۓ گا۔۔؟؟

پولیس ریڈپڑتے ہی وہ سب ٹھنڈے ہوگٸے۔

پولیس کے ساتھ ارتسام کو دیکھ عروش کا خون سوکھ گیا۔ اسے اپنی موت ارتسام کی صورت آنکھوں کے سامنے نظر آٸ۔

پولیس انہیں پکڑ کے لے گٸ۔۔ عروش کی والدہ ارتسام کے غصے سے خاٸف ہوتی وہاں سے کنی کترا کے نکل گٸیں۔

عروش بنا پلک جھپکے ارتسام کو دیکھے جا رہی تھی۔

ارتسام بنا کسی تاثر کے سپاٹ انداز میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ پھر اسکے پاس آتا اسکا ہاتھ سختی سے تھامتا اسے باہر لا کےگاڑی میں پٹخا۔

گاڑی کو فل سپیڈ پے چھوڑے وہ بنا عروش کو دیکھے ڈراٸیونگ کر رہا تھا ۔ اسکے ہاتھ کی شریانیں ابھری ہوٸ تھیں۔ عروش کا دل لرزے جا رہا تھا ۔

پیرزادہ منشن پہنچتے گاڑی جھٹکے سے روکی ۔

اندر لے جا کے ہال میں ابی جان کے پاس چھوڑا۔

اور خود وہیں سے واپس مڑ گیا۔ ابی جان عروش کو روتا دیکھ نفی میں سر ہلاتی رہ گٸیں۔ جنے سے پہلےارتسام ان کو بتا کر گیا تھا۔ اور وہ جانتی تھیں۔کہ کیاہوا ہو گا۔ عروش سر جھکاۓ روتی ہوٸ اپنے روم کی جانب بھاگی۔ ابی جان نے بھی نہ روکا۔ اسکی غلطی۔۔۔معاف کرنے کے قابل نہ تھی۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ابیجان۔۔۔۔۔؟؟ ابتسام کو آلینےدیں ناں۔۔؟

ابرش ہاسپٹل میں تھی۔ اور اس کی ڈلیوری کا وقت تھا۔ لیکن وہ مان نہیں رہی تھی۔ اسے بس ابتسام کا انتظار تھا۔ جبکہ وہ ایسا کچھ کہہ کے نہیں گیا تھا۔

ابرش بیٹا۔۔۔! حوصلہ رکھیں۔ وہ بھی آجاٸیں گے۔

ابیجان نے اسکا ہاتھ تھاما۔ اور خود باہر آگٸیں۔

کچھ ہی دیر بعد بچے کی رونے کی آواز آٸ ۔ ابیجان کے لب پے ورد جاری تھا۔ بچے کے رونے کی آواز پے قدم خود بخود اس طرف بڑھے۔

بہت۔۔۔ پیاری ہے۔۔۔۔! سب سے پہلے عروش نے اس بچی کو گود میں لیا تھا۔ جو ڈلیوری کےوقت پاس تھی۔

نرم نرم روٸ جیسے گال۔۔۔ گلابی سکن۔لامبی پلکیں اور بلیو آٸیز۔۔۔جو بس اس نے ایک بار ہی کھولیں تھیں۔ روتے ہوۓ۔۔۔ عروش نے دیکھیں۔

فوراً سے اسے ڈریس اپ کیا۔ اسکے گال پے پیار کرتے اسکی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔ تبھی اسے محسوس ہوا۔ کہ ارتسام اسے ہی دیکھ رہا ہے۔ جو کہ دروازے کے باہر ہی کھڑا تھا فوراً سے آنسو پونچھے وہ بچی کو لیے ابرش کے پاس گٸ۔ جو مسکراتے ہوۓ عروش کو ہی دیکھ رہی تھی۔ نارمل ڈلیوری تھی۔ اس نے اپنی اپنی بیٹی کو گود میں لیا۔

مبارک ہو بھابھی بہت بہت۔۔رحمت آٸ ہے۔ عروش نے آنسو صاف کرتے ابرش کو گلے سےلگایا۔ اور باہر آٸ۔ جہاں ابیجان انتظار کررہی تھیں۔ انہیں بھی گلے لگا کے مبارک باد دیتی وہ وہاں سے نکلتی چلی گٸ۔ ابی جان ابرش کے پاس اندر گٸیں۔ اور ابرش کے ماتھے پے بوسہ دیا۔ ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آگۓ تھے۔ چھوٹی سی بے بے کو گود میں لیا تو۔۔ ایک بار پھر سے ان کے اندر جان بھر گٸ۔ وہ پر دادی بن گٸیں تھیں۔ انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ ابرش ان کو دیکھتے آنکھیں موند گٸ۔ ایک آنسو ٹوٹ کے گرا۔ ابتسام کی کمی اسے اس وقت بہت شدت سے محسوس ہوٸ۔

ابی جان نے صدقے کے بکرے منگواۓ۔ اور اسٕ وقت اپنی پرپوتی کا صدقہ اتارا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ آنکھیں بند کیے۔اپنے آنسو روکے بیٹھی بس سوچے جا رہی تھی۔ کہ کسے کے قدموں کی چاپ سناٸ دی۔ آنلھیس کھولیں۔ تو سامنے ارتسام تھا۔ جو انتہاٸ سنجیدہ تھا۔ اس دن کے بعد سے ارتسام نے اس سے بات کرنا بند کر دی تھی۔تو عروش نےبھی خاموشی اختیار کر لی تھی۔ اور آج ہی وہ اسکے پاس آیا تھا۔ پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھایا۔

پھر سے جیلیسی ہو رہی ہو گی ہے ناں۔۔؟ ابھی عروش نے گلاس لبوں سے لگایا ہی تھا کہ ارتسام کی طنزیہ آواز کانوں سے ٹکراٸ۔عروش نے ایک نظر اس پے ڈالی۔ پانیکا گلاس وہیں چھوڑا۔ اور خود وہاں سے اٹھتی جانے لگی۔ کہ ارتسام نے ہاتھ تھام لیا ۔

مجھے نہیں تھاپتہ۔۔۔ کہ ایک وقت ایسا بھی آۓ گا۔ کہ ہمارے بیچ صرف سرد مہری رہ جاۓ گی۔ اور محبت ختم ہوجاۓ گی۔ ارتسام کے ماتھے پے بل پڑے تھے۔ عروش نے سر جھکاۓ رکھا۔

اور ۔۔۔ مجھے کسی کواپنے ساتھ زبردستی باندھےرکھنا منظور نہیں۔۔۔! ارتسام کے اگلے الفاظ عروش کو حیرت میں ڈال گۓ ۔

ارتسام۔۔۔! پلیز۔۔۔ کچھ مت کہیے گا ۔۔۔ عروش رودی۔

مانا کہ مجھ سے غلطی ہوٸ۔۔ بہت بڑی غلطی۔ اور اسکی سزا ۔۔بھی بھگتی۔۔آپ کی ناراضگی کی صورت میں۔۔ لیکن۔۔۔ پلیز۔۔۔ سب برداشت کر لیا۔۔۔ آپ سے۔۔۔دوری برداشت نہیں کر پاٶں گی۔ عروش کے آنسو ارتسام کو بری طرح دل پے لگے۔ اور آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے سے لگالیا۔ وہ بھی کہاں اس سے دور رہ سکتا تھا۔۔؟؟ اتنے دن صرف اسے نہیں خود کو بھی سزا دی تھی اس نے۔

💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛
💛

ابرش اپنی چھوٹی سے گڑیا کو گود میں اٹھاۓ پیرزادہ منشن داخل ہوٸ تو بہت بھرپور انداز میں ویلکم کیا گیا۔ ابرش حیران ہی رہ گٸ۔

ارحام لمظ عروش ارتسام سب نے مل کے پورے منشن کو دلہن کی طرح سجایا ہوا تھا۔ اور سینٹر میں بڑے ٹیبل پے بڑا ساکیک رکھا تھا۔

آپ کے آنے سے گھر میں کتنی رونق ہے۔۔۔

آپ کو دیکھیں کبھی۔۔ اپنے گھر کو دیکھیں ہم۔۔۔

ہم خوش ہوۓ۔۔۔ ہم خوش ہوۓ۔۔۔

سب کے ساتھ مل کے ابرش نے کیک کٹ کیا۔ ایک دوسرے کو کیک کھلایا۔

ابی جان۔۔۔! ویلکم تو ہوگیا۔ لیکن۔۔۔ ہم نے پری کا نام نہیں رکھا۔۔؟ لمظ نے ابرش کی گود میں بے بی کو پیا کرتے کہا تو ابی جان نے ابرش کی گود سے اسے لے کے اسکے ماتھے پے بوسہ دیا۔ سب کی نظریں ای جان پے تھیں۔

یہ ہمارے گھر کی شان ہے۔۔۔

ہماری آن ہے۔۔۔

آنیہ ابتسام علی ہے یہ۔۔۔!

ابی جان نے ایک لمحےمیں ہی نامرکھ دیا جو سب کو بہت پسند آیا۔

اس سب میں باپ کو بھول گٸے۔۔؟؟ ابتسام کی اچانک آمد پے سبھی نے مڑ کے ابتسام کو حیرت اور خوشی سے دیکھا۔ اور دونوں بھاٸ اسکے گلے جا لگے۔

ابی جان سے بڑھ کے پیار لیا۔ اور ان کی گود سے اپنی ننھی جان کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔

ابی جان۔۔۔! یہ تو ۔۔۔بہت چھوٹی سی ہے۔۔۔! خوشی اور مسرت کے جذبات سے کہتا وہ کھویا کھویا سا اپنی بیٹی کو فیکھے جا رہا تھا۔ اسکی بات پے سبھی قہقہ مار کے ہنسے۔

ابرش نے رخ پھیر کے آنکھوں کے گوشے صاف کیے۔ اور سامنے اپنے متاع جان کو دیکھ کے مسکرا دی۔

بیٹی کے ہاتھوں کو چومتے سامنے نظر اپنی ابرش پے گٸ۔ تو دھیرے سے چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔ اور اسکے ماتھے پے بوسہ دیا۔ ابرش نے آنھیں بند کرتے اپنے اندر سکون اترتا محسوس کیا۔

تھینک یو۔۔ میری جان ۔۔! اتنا پیارا تحفہ دیا۔

ابرش ابتسام کے سینے سے لگ گٸ۔

ابتسام نے بھی اسے بانہوں کے حلقے میں لیا۔ انہیں یوں ملتے دیکھ ارتسام نے بھی عروش کو اپنے قریب کیا۔ جو انہی کو دیکھتے مسکرا رہی تھی۔

بہت جلد اللہ ہمیں بھی اولاد جیسی نعمت سے نوازے گا۔ دھیرے سے کان میں کہا۔

ان شاء اللہ۔۔۔! عروش نے دل سے کہا۔

سب ایک ساتھ آجاٸیں ۔۔۔ فیملی فوٹو ہے۔۔۔!

میری پری مجھے دو۔۔۔! ابی جان نے بچوں کی طرح فوراً سے آنیہ کو اپنی گود میں لیا۔

ارحام نے فیملی فوٹو لیا۔ جس میں پیرزادہ منشن کے سبھی افراد خوش و خرم دکھاٸ دیٸے۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

جج صاحب ۔۔! ہر دور میں یہی ہوتا آرہا ہے۔۔ عورت ہی ہمیشہ جھکتی آٸ ہے۔۔ کٹتی آٸ ہے۔۔ ہمیشہ عورت کی ہی قربانی دی گٸ ہے۔۔؟؟میرا سوال ہے آپ سے۔۔کیوں۔۔؟؟ ہمیشہ بیٹی کو ہی صبر کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ بیٹوں کوکیوں نہیں عورت کی عزت کرناسکھایا جاتا۔۔؟

اسلام کی آمد سے قبل بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔۔۔ جج صاحب کچھ بھی نہیں بدلا۔ آج کے دور میں بھی وہی سب ہو رہا ہے۔ اور اسکی مثال اس ۔۔۔ بے حس انسان نے قاٸم کی ہے۔۔ اپنی بیٹی کو زندہ جلا کے۔۔ جو۔۔۔ جو۔۔ ابھی۔۔ بولنا بھی نہیں سیکھی تھی۔۔ جو۔۔ ابھی۔۔ ایک۔۔ایک دن کی تھی۔۔۔ ابرش کا لہجہ بھیگ گیا۔ وہ اندر سے اس بچی کے لیے تڑپ ہی گٸ تھی۔

صرف۔۔۔ اس بچی کو حقِ وراثت سے محروم کرنے کے لیے۔۔ اس ۔۔اس بے حس انسان نے۔۔ بیٹی کو مار ڈالا۔

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے۔۔ کہ بیٹی کے گھر پانی پینا تو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اسے وراثت سے بے دخل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ابرش نے حقارت سے اس بے حس باپ کو دیکھا۔ جو سر جھکاۓ کھڑا تھا۔

جج صاحب۔۔ یہ انسان نہیں۔۔ جلاد ہے۔۔ اسے چوراہے پے لٹکا کے پھانسی دی جاۓ۔۔ اسے جینے ک کوٸ حق نہیں۔۔ ! ابرش نڈر ہو کے کیس لڑ رہی تھی۔

عدالت نے ابرش کے حق میں فیصلہ سنایا۔ تو عدالت ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ آج پہلی بار عدالت نے بروقت اور صحیح فیصلہ ایٹ دا سپوٹ کیا تھا۔

ابرش کیس جیت کے باہر نکلی تو سامنے ہی ابتسام تین سالہ آنیہ کو گود میں اٹھاۓ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑا تھا۔ اسے آتا دیکھا آنیہ بھاگتی ہوٸ اس کے پاس آٸ۔ ابرش نے جھک کے اسے گود میں اٹھا لیا۔

میری بیٹی۔۔ میری جان۔۔ میری آن۔۔۔! آپ کی مما کا وعدہ ہے خود سے۔۔ چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔۔ آپ کو آپ کا حقِ وراثت ضرور ملے گا۔وہ دل ہی دل میں عہد کررہی تھی۔ اور ابتسام اپنی دونوں جانوں کو دیکھ کے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔

💞💞💞💞💞ختم شد💞💞💞💞💞💞💞

ارے ٹھہریں۔۔ کہانی ختم کہاں ہوٸ ہے۔۔۔؟

جی ہاں۔۔ جہاں لگتا ہے کہانی ختم ہوگٸ ہے۔ وہیں ایک نٸ کہانی شروع ہوجاتی ہے۔

حق مہر کا یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوا۔ بلکہ ایک نٸ کہانی کے ساتھ۔۔ پھر سے آگے بڑھے گا۔

نٸ کہانی۔۔۔؟؟

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

آنیہ ابتسام علی۔۔۔ ! سیکرٹ ایجنٹ ابتسام علی اور نڈر ایڈووکیٹ ابرش کی بیٹی۔

💖💖💖💖💖بمقابلہ💖💖💖💖💖💖

میر ہادی۔۔۔۔۔! چھ ہوٹلز کا مالک یامین میر سکندراور چلبل سی شرارتی اور حد درجے ضدی ماں کشش کا بیٹا ۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہیں دوسری طرف ٹاکرا ہوگا۔۔ابتسام کی ابی جان کا

میریامین سکندر کے دادا جی کے ساتھ۔😜😜😜

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *