Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50509 Haq Mehar (Episode 22)
Rate this Novel
Haq Mehar (Episode 22)
Haq Mehar by Muntaha Chohan
ابتسام زور سے دروازہ کھولتا اندر روم میں داخل ہوا۔ ابرش نے مڑ کے اس خونخوار شیر کو دیکھا۔ جو اسے ہی بری طرح گھور رہا تھا۔
ہر بات کا جواب دینا تمہارے لیے فرض ہے کیا۔۔||
دانت پیستا وہ اسکی جانب بڑھا۔
ہمممم۔۔۔ اگر ضروری ہوتو دیتی ہوں۔۔ ورنہ اگنور بھی کر دیا کرتی ہوں۔ لٹھ مارنے والے انداز میں جواب دیا۔
باہر بھی تو اگنور کیا جاسکتا تھا ۔۔
اسی کے انداز میں پوچھا۔
ابرش نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔
اور دو قدم کا فاصلہ سمیٹتی وہ ابتسام کے قریب پہنچی۔
پہلی بات ۔۔ میں صبح سے آپ کا ویٹ کر رہی ہوں کہ آپ مجھے بابا سے ملوانے لے کے جاٸیں گے۔لنکن۔۔۔ آپ نہیں لے کے گۓ۔۔۔۔ تو یہ۔۔۔ میں نے اگنور کیا۔۔۔
آٸ برو اچکاتے کہا۔
اب آپ کی کزن ۔۔۔ مجھ پے طنز کرے ۔۔ اور میں چپ چاپ سنوں۔۔تو وہ میں اگنور نہیں کر سکتی۔۔
آنکھیں گھما کے کہتے وہ ابتسام کو خود کو بے خودی سے دیکھنے پے مجبور کر گٸ۔
اور آخری بات۔۔ اس نے کہا۔۔ ! آپ کا ٹیسٹ۔۔ خراب ہوگیا ہے۔۔ جو آپ نے میرا انتخاب کیا۔۔۔ تو ۔۔ آپ ۔۔ سوچ لیں۔۔ابھی بھی وقت ہے۔۔ اپنا ٹیسٹ چینج کرلیں۔۔ آگے جا کے۔۔ یہ نہ ہو۔۔ آپ کا پورا منہ ہی کڑوا ہوجاۓ۔۔۔
اچھا خاصا سناتی وہ منہ بنا کے پلٹی کہ ابتسام نے اسے واپس موڑتے کھینچ کے اپنے ساتھ لگایا۔ کہ اسکا دل دھک سے رہ گیا۔
اب۔۔منہ کڑوا ہو یا۔۔ میٹھا۔۔۔ ! ٹیسٹ۔۔ تو تمہیں ہی کروں گا۔۔۔ معنی خیزی سے کہتا وہ ابرش کو پہلی بار پے ہی چپ کرا گیا۔ آنکھیں پھاڑے اسکے بے باک الفاظ اور آنکھوں کو دیکھے چلی گٸ۔
ان فسوں خیز لمحات کو ابتسام کے موباٸل پے آتی کال نے توڑا۔
فون فوراًکان سے لگایا۔جبکہ نظروں کے حصار میں ابھی بھی وہی تھی۔
فون کے دوسری جانب اسکا خاص آدمی تھا۔ جس نے اسے حمزہ پے حملہ ہونے اور اس میں اسکی منکوحہ کا کار ایکسیینٹ کی خبر دی۔
کونسے ہاسپٹل میں ہیں
فوراً پریشان ہوتا وہ پوچھنے لگا۔
ٹھیک ہے۔۔ارتسام اسی ہاسپٹل میں ہے۔ ارتسام سے کہو۔وہ خود ٹریٹ کرے انہیں۔۔ میں دس منٹ میں پہنچتا ہوں۔
کہتے ساتھ فون بند کرتا وہ اپنی کبرڈ کی جانب بڑھا۔
کیا ہوا۔۔۔| کون ہے ہاسپٹل میں!
ابرش کو بے چینی ہوٸ۔ خود کونارمل کمپوز کرتی اسکے پاس آتے پوچھا۔
ابتسام نے کوٸ جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔
کبرڈ سے چابی نکالتے وہ اب دراز کی جانب بڑھتا دراز کو کھول رہاتھا۔
ابرش اسکی حرکات وسکنات ہی دیکھے جا رہی تھی۔
دراز سے گن نکالی۔اور اسے چیک کیا۔وہ لوڈڈتھی۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔کیا ۔۔?
آپ۔۔۔کہاں جا رہے ہیں۔۔||
ابرش اس کے خطرناک تیور دیکھ دہل کے رہ گٸ۔
کوشش کروں گا جلدی آجاٶں۔۔ اور تمہیں تمہارے بابا سے ملوا لاٶں ۔۔ ورنہ کل تک ویٹ کر لینا۔۔۔ اکیلی مت جانا ۔۔ میں خود لے کے جاٶں گا۔سمجھی۔۔۔
اسکی بات کو نظر انداز کرتا وہ اسے ہدایت دیتا باہر جانے لگا۔
گن اسنے اپنی ساٸیڈ پاکٹ میں رکھی۔
رکیں۔۔ مسٹر۔۔ پیرزادہ۔۔۔ آپ یوں نہیں جا سکتے۔۔۔ آپ۔۔یہ گن کہاں۔۔ لے کے جارہے ہیں۔ ???
ابرش نے اسکا راستہ دروازے کے آگے ہاتھ رکھتے روکا۔
ابتسام نے اسکا بازو پکڑکے مروڑ کے اسکی پشت اپنے سینے سے لگاٸ۔ وہ جی جان سے سلگ اٹھی۔
بہت حق نہیں جتاۓ جا رہے۔۔۔۔||
اسکی کان میں گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا وہ اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا۔
ببب۔۔۔بیو۔۔ی۔۔ ہوں۔۔۔ حق تو ہے۔۔۔۔!
ہکلاتے ہوۓ بمشکل گردن موڑ کے اسے دیکھتے کہا۔وہ نہی جانتی تھی۔ کہ یہی الفاظ اسکو کہاں لے جانے والے تھے۔ اور وہ ابتسام کے اندر سوۓ شیر کو جگا گٸ تھی۔
حق۔۔۔ بیوی۔۔۔||
پھر تو یہ بھی جانتی ہوگی۔۔۔ شوہر کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔۔۔ وہ پھر کب دے رہی ہو۔۔۔!!!!!
اسے اپنے لفظوں میں الجھا کے ایک بار پھر اسے لاجواب کر گیا۔
آپ۔۔ جاٸیں آپ کو دیر۔۔ ہو رہی ہوگی۔۔۔
۔
دانت پیستی وہ اسے گھور کے بولی۔
گڈ گرل۔۔۔ اسکا ہاتھ چھوڑتا وہ اسکا گال تھپتھپاتا باہر کی جانب بڑھا ۔ جبکہ ابرش نے گہرا سانس خارج کیا۔
اف۔۔۔۔۔ کتنا خطرناک انسان ہے۔۔ اس سےدور رہنا ہی بہتر ہے۔۔۔ !!
گہرے سانس لیتی وہ بابا کو فون ملانے لگی۔ جو بند جا رہا تھا۔ وہ مزید پریشان ہوگٸ۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھی۔ کہ اسے ان ناٶن نمبر سے کال آٸ۔ وہ حیران تو ہوٸ لیکن کال پک کر لی۔
جیسے جیسے وہ سنتی جا رہی تھی۔ اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ آنسو بہہ نکلے۔
بابا۔۔۔۔! بے اختیار باپ کو پکارا ۔













کیا ہوا۔۔۔ یہاں کیوں اکیلی بیٹھی ہو۔۔۔? میں تمہیں پوری یونی چھان آیا تم۔۔ یہاں ہو۔۔۔
گارڈن ایریا میں بیٹھی پھولوں کے پاس وہ خود بی ارحام کو ایک پھول ہی لگی۔
بس یونہی۔۔ دل اداس تھا۔۔
لمظ نے نظریں چراٸیں۔
ارحام وہیں اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔
کیا ہوا۔۔۔| کوٸ پریشانی ہے کیا?
بہت اپناٸیت سے پوچھا۔
مما۔۔۔ واپس آگٸ ہیں۔۔ دھیمے لہجے میں کہا۔
تو اس میں اداس ہونے والی کیا بات ہے۔۔
ارحام نے ہنستے ہوہۓ کہا۔
وہ۔۔۔ گاٶں میں ۔۔ میرا رشتہ طے کر آٸیں ہیں۔۔ ماموں کے بیٹے کے ساتھ۔۔۔
کہتے لمظ نے بغور اسکا جاٸزہ لیا۔
ایک سایہ سا لہرایہ تھا اس کے چہرے پے۔ لیکن اگلے ہی پل وہ نارمل ہوگیا۔
تو اس میں کونسی بڑی بات ہے۔۔ سبھی کے ماں باپ رشتہ طے کرے ہیں۔۔ تمہارا بھی ہوگیا۔۔
باٸ دا وے کانگیجولیشنز۔۔۔۔ کہتے ساتھ ہی ہاتھ آگے بڑھایا۔
لمظ نے ایک قہر کی نظر اس پے ڈالی اور بیگ سنبھالتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔
اۓ۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔???
,ارحام نے اسکا استہ روکا۔
نیکسٹ منتھ شادی کی ڈیٹ فکس کر دی ہے۔۔ کارڈ بھیجوں گی۔۔ شادی پے ضرور آنا۔۔۔!
اسکی بات نظر انداز کرتی دل پے پتھر رکھ کے کہتی وہ رکی نہیں ۔ ورنہ آنسو اسکے دل کا راز فاش کر دیتے۔
ارحام اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔
جبکہ اسکے اپنے دل کے اندر چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا۔ کہ وہ خود بھی اپنی حالت سمجھ نہ پایا۔














ہاسپٹل کے ایک بینچ پے بیٹھے وہ اپنے خون آلود ہاتھوں کو دیکھے جا رہا تھا۔ جن میں وہ حلیمہ کو اٹھا کے ہاسپٹل لایا تھا۔ ارتسام کو فیضی کال کے ابتسام کا پیغام دے چکا تھا۔ اور وہی حلیمہ کو ٹریٹ کر رہا تھا۔
سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ ابتسام ہاسپٹل میں داخل ہوا۔
حمزہ۔۔۔ پکارتے ہوۓ اسکے پاس پہنچا۔اس نے ہولے سے جھکا سر اوپر اٹھایا۔ اسکی آنکھیں ضبط کے باوجود سرخ ہو رہی تھیں۔
کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ اللہ پے بھروسہ رکھو۔۔۔
ابتسام نے اسکے کاندھے پے تھپکی دی۔
حمزہ خاموش ہی رہا۔
وہ بس حلیمہ کے ٹھیک ہونے کی دعا کر رہا تھا۔جس نے اسکی موت کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔
بھاٸ اور بھابھی بھی وہیں تھے۔ بھابھی بس روۓ جا رہی تھیں جبکہ حلیمہ کا بھاٸ حیدر اسکی سلامتی کی دعا کر رہا تھا۔
آپریشن تھیٹر سے ڈاکٹر ارتسام باہر آتا دکیھاٸ دیا۔
ڈاکٹر صاحب ۔۔ کیسی ہے میری بہن۔۔||
حیدر بے تابی سے آگے بڑھا۔
اللہ کا شکر ادا کریں۔
its a mericle .
she is out of danger.
کیا میں مل سکتا ہوں۔||
حیدر بے تاب ہوا۔
تھوڑی دیر میں انہیں ہوش آجاۓ گا تو انہیں روم میں شفٹ کر دیا جاۓ گا۔ پھر آپ مل لیجیے گا۔
ایکسکیوز می۔
حمزہ نے شکر کا کلمہ ادا کیا۔
اور ابتسام کی جانب دیکھا۔
جبکہ اسی لمحے ارتسام ابتسام کی جانب بڑھا۔
بھاٸ پولیس کیس ہے۔۔۔۔
دھیرے سے کہا۔
یہیں ۔۔ ختم کر دو۔۔۔ پولیسں بھی ہم خود ہیں۔۔ اور انصاف بھی ہم خود کریں گے۔۔۔
ابتسام نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ تو ارتسام سر اثبات می ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔
حمزہ کی سوالیہ نظریں خود پے محسوس کرتے ابتسام اسکی جانب مڑا
ا
تمہارا شک صحیح ہے۔۔ وہی ہے اسکے پیچھے۔۔۔
ابتسام نے اسکی نظروں کا مفہوم سمجھتا جواب دیا۔
مجھے یہاں فل سیکیورٹی چاہیے۔۔۔ ابتسام۔۔۔ میں حلیمہ کے لیے کوٸ رسک نہیں لے سکتا۔۔۔
لہجے میں چٹانوں جیسی مضبوطی تھی۔
ابتسام نے سر اثبات میں ہلاتے اسے یقین دلایا۔
میں اسے موت کے گھاٹ اتارے بنا حلیمہ کے پاس نہیں جاٶں گا۔
ایک جنون ایک ضد تھی۔
ایڈریس مجھے پتہ ہے۔۔ دونوں مل کے چلتے ہیں۔۔ اس گیدڑکو اس جہان فانی سے کوچ کروانے۔
سخت الفاظ ادا کرتا وہ حمزہ کو ساتھ لیے باہر نکلا ۔
جہاں ںسیکیورٹی گارڈز ان کے ساتھ تھے جہنیں وہ وہیں چھوڑتا ہدایات دیتا خود حمزہ کے ساتھ باہر نکلا۔
مطلوبہ جگہ پہنچ کے ابتسام نے گاڑی روکی۔ حمزہ نے لوڈڈگن ایک بار پھر سے چیک کی۔
تم یہیں رکو۔۔ ابتسام۔۔ میں اسکا کام تمام کر کے آیا ۔ حمزہ نے اسے وہیں روکا۔ وہ زخمی بازو کے باوجود ڈراٸیونگ کرتا اسے وہاں تک لایا تھا۔ آگے کاکام اسکے لیے پلک جھپکتے ہو جانا تھا۔ وہ فوجی تھا۔ اوردشمن پے کیسے نشانہ لینا ہے وہ اچھے سے جانتا تھا۔
all the best.
اسے
کا اشارہ کرتا وہ حمزہ کو اب اندر جاتا دیکھ رہا تھا۔
حمز اندر داخل ہوا۔ تو ہر جگہ سیکیورٹی گارڈز اورکیمرے آن تھے۔سب سے بچتا بچاتا وہ آخر کار راجہ کے کمرے تک پہنچ ہی گیا۔ دھیرے سے ناب گھمایا اور اندر داخل ہوا۔
جہاں راجہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا۔
حمزہ نے زور سے ایک لات رکھ کے اسے ماری وہ ہڑبڑاتا بستر سے نیچے جا گرا ۔
کوککو۔۔۔۔۔ن۔۔ہے۔۔۔||
وہ بری طرح ڈرتے ہکلاتے بول
ا۔
تمہاری موت۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی گن اسکی جانب کرتا حمزہ پراسرار اندازمیں بولا۔
تم۔۔۔۔ تم یہا ں کیسے آٸے۔۔۔
اسے حمزہ کو سامنے دیکھ ایسا لگا موت کا فشتہ اسکے سر پے آن کھڑا ہو۔
بات تمہاری اور میری تھی۔ تم نے۔۔ میری حلیمہ پے اٹیک کر کے اپنی موت کو دعوت دی ہے۔
پلیز۔۔پلیز۔۔۔ مجھے معاف کردو۔۔۔ غلطی ہوگٸ۔
وہ ہاتھ جوڑنے لگا۔ گڑگڑانے لگا۔ لیکن۔۔۔۔
ایک پاسرار مسکراہٹ کے ساتھ حمزہ نے گن کا ٹریگر دبایا۔ اور گولی سیدھی راجہ کے دل کے پار ہوٸ۔
ساٸلنسر لگے ہونے کی وجہ سے آواز باہرنہ جاسکی۔
وہ دل پے ہاتھ رکھے بیٹتھا چلا گیا ۔
آگے بڑھ کے حمزہ نے اسکے سینے پے زور سے ٹانگ ماری۔ اور اسے دور دھکا فیا۔ وہ گرتا اپنی آخری سانس لیتا آنکھیں بند کر گیا۔
حمزہ کی ڈکشنری میں پہلی اور آخری سزا موت ہے۔۔ معافی نہیں۔۔۔۔
جس طرح وہ اندر آیا اسی خاموشی سے اپنا کام ختم کرتا وہ وہاں سے نکل چکا تھا۔ راجہ قمر کو موت کے گھاٹ اتار کے۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی ابتسام نے گاڑی کو فل سپیڈ پے چھوڑ دیا۔
سارے راستے خاموشی رہی۔ ہاسپٹل کے قریب ابتسام نے گاڑی روکی۔
حمزہ۔۔۔ سب میری وجہ سے ہوا۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔ میری وجہ سے۔۔۔
ابتسام کو اپنے دوست کی تکلیف پے درد محسوس ہو رہا تھا۔
اس میں تیری کیا غلطی یار۔۔۔ وہ تو شکر ہے میری حلیمہ ٹھیک ہے۔ورنہ اس .**** کو اتنی آسان موت کبھی نہ دیتا۔
بس ۔۔ اب تم جاٶ۔۔ اور ۔۔ اپنی شادی کو انجواۓ کرو۔ جس میں میں رکاوٹ بن گیا۔
ابتسام مسکراتے بولا۔
حمزہ کے چہرے پے بھی مسکراہٹ آگٸ۔
شادی پے آنا ضرور بھابھی کو لے کے۔۔۔ سمجھے۔
پیار سے دونوں ایک دوسرے کو گلے لگاتے وہ ایک دوسرے کو الوداع کہتے اپنے اپنے راستے ہولیے۔
حمزہ جسکی منزل حلیمہ تھی۔
اور ابتسام جسکی منزل تو ابرش ہی تھی۔ لیکن ابھی آگاہی کا لمحہ آنا تھا۔ اور وہ بھی بہت جلد آنے والا تھا۔













اۓ۔۔ تم۔۔۔ جوس بناٶ میرے لیے۔۔۔۔۔ علیشا نے کچن میں کھڑی اپنے لیے کھانا نکالتی عروش سے کہا۔ وہ صبح سے کمرے میں بھوکی پیاسی بیٹھی تھی۔
بس صبح ارتسام سے بحث ہوگٸ۔ اسی بات پے ۔ کہ کیوں اسے یہاں لے کے آیا ہے۔ اسے طلاق چاہیے۔
اسکی فضول باتوں پے ارتسام نے اپنی عادت کے خلاف جاتے اچھا خاصا ڈانٹ دیا۔
جس پے وہ صبح سے منہ بنا کے اندر ہی بیٹھی رہی۔ ارام بھی اسے نظر انداز کرتا ہاسپٹل جانے کے لیے نکل چکا تھا۔
اور وہ منہ بسور کے لیٹی رہی۔ شام تک اسے ہلکا ہلکا بخار ہوگیا۔
ناچاہتے ہوۓ بھی کچن میں آگٸ۔ اور کھانا گرم کرتے اپنے پیچھے نسوانی آواز سنتی وہ پلٹی۔
آپ نے مجھ سے کچھ کہا۔۔۔إ
عروش نے شہادت کی انگلی اپنی طرف کرتے سوالیہ نظریں اسپے گاڑتے پوچھا۔
جبکہ اسکی شہد رنگ آنکھیں اور کھلتی سپید رنگت دیکھتے علیشا ڈگمگا گٸ۔
یس۔۔ یو۔۔۔ اور کوٸ نظر آہا ہے یہاں۔۔
ضہجہ میں نخوت پن تھا۔
اوون میں کھانا گرم ہو چکا تھا۔ عروش اسے نظر انداز کرتی کھانا لے کے باہر نکلی۔ کہ کچن کے دروازے پے علیشا نے اسے روک لیا۔
تمہیں سناٸ م دیتا ہے۔۔ جوس بنا کے دو۔
سختی سے کہتی وہ عروش کو غصہ دلا گٸ۔
اللہ نے ہاتھ یٸے ہیں ناں۔۔ خود بنا لو۔۔ نوکرنہیں ہوں تمہای۔۔۔
دھیمے لیکن پختہ انداز میں کہتی وہ آگے بڑھی کہ علیشا نے ہاتھ مار کے اسکے کھانے کی ٹرے گرا دی۔
عروش نے لب بھینچے۔ آنکھیں ایک لمحے لو موند کے کھولیں ۔ خود پے قابو کرتی سارا کھانا زمین سے اٹھایا۔ اور شیلف پے واپس رکھتی وہ کچن سے باہر جانے لگی۔ کہ ابکی بار علیشا نے اسے کلاٸ سے پکڑکے اپنے سامنے کیا۔
اتنا ایٹی ٹیوڈ کس بات کا ہے۔۔۔ زات کی ہوتو نوکرانی۔۔۔ تو نخرہ کیوں کر رہی ہو۔۔۔
وہ بولی نہیں غصے سے پھنکاری تھی۔
عروش نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔
اور سخت نظروں سے اسے دیکھا۔
نوکرانی نہیں۔۔ رانی ہوں۔ اس محل کی۔
ارتسام کی بیوی ہوں۔ سمجھی۔۔۔
اسی کے لہجے میں بات کرتی وہ علیشا کے چودہ طبق روشن کر گٸ۔
کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔ سب۔۔
ابی جان اور عذرا پھوپھو کے وہاں اچانک آجانے پے۔۔ ۔۔ علیشا کو اسے نیچا دیکھانے کا موقع مل گیا۔
دیکھیں ناں۔۔ ابی جان۔۔ کیسے مجھے سنا رہی ہے۔۔ میری انسلٹ کر رہی ہے۔۔ صرف ایک جوس کا کہہ فیا۔ مجھے تھپڑ مار دیا اس نے۔۔۔۔
علیشا نے جھوٹ کی کہانی گڑی۔
عروش تو منہ کھولے حیرت سے دیکھتی رہ گٸ۔
ہاۓ۔۔مری بچی کو تھپڑ مار دیا۔۔۔۔ عذرا پھوپھو نے واویلا مچا دیا۔
کیوں۔۔ مارا آپ نے تھپڑ۔۔۔
ابی جان کے ماتھے پے بل پڑے۔
ننن۔۔۔نہیں۔۔ یہ۔۔۔۔ عروش نے بولنا چاہا۔
اماں دیکھو تو۔۔ کہتی ہے۔۔ میں اس گھر کی مالکن ہوں۔۔ خبردار جو مجبے کوٸ کام کرنے کو بولا تو۔ ورنہ دھکے دے کے باہرنکال دوں گی۔
علیشا نے عدوش کے کچھ بولنے سے پہلے ہی روے ہوۓ اپنی داستان سناٸ۔ کہ عروش بھی گنگ رہ گٸ۔
ہاۓ۔۔ یہ دن دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔۔۔۔
ابی جان۔۔۔ بہوٸیں آپ کی ایک سے بڑھ کے ایک ہے۔۔۔ پہلے صبح اس نے بے عزت کر ڈالا۔ اب ا نے۔۔ میری بیٹی کو اتنا کچھ سنا دیا۔ ۔
مما۔۔۔ تھپڑ الگ سے مارا۔
علیشا نے روتے ہوۓ بات کو پورا کیا
عذرا پھوپھو نے بیٹی کو گلے سے لگایا۔
عروش کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔ ابی جان کی آنکھوں میں وہ اپنے لیے غصہ دیکھ چکی تھی۔
لڑکی۔۔۔ ہم نہیں جانتے آپ کون ہو۔۔ کس خاندان سے آٸ ہو۔۔ لیکن۔۔ بہتر ہوگا۔۔ یہاں اپنی لمٹ میں رہو۔ میرے پوتے نے آپ پے رحم کھاتے آپ کو خریدا ہے۔۔۔
صرف آپ کو بچانے کے لیے۔۔ حق مہر میں اچھی خاصی رقم دے کے ارتسام لاۓ ہیں۔آپ کو
۔ اس لیے۔۔ اب میں آپ کی اونچی آواز نہ سنوں۔۔
پلٹ کے روتی علیشا کو دیکھا۔
اور پھرواپس نظر عروش پے ڈالی۔
معافی مانگیں ۔۔۔ علیشا سے۔۔۔
سخت لہجے میں کہتی وہ عروش کو رلا گٸیں۔ لیکن اپنے آنسو صاف کرتی وہ دانت پیستی علیشا کی جانب بڑھی۔
ایم سوری۔۔۔۔ کہتے ساتھ ہی وہ وہاں رکی نہیں۔ اپنے روم کی جانب بڑھ گٸ۔
اپنے کمرے میں آتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
اپنی کم ماٸیگی کا احساس اندر ہی اندر اسے توڑ رہا تھا۔اور مسلسل رونے اور خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے اسکا سر درد بھی بڑھتا چلا گیا۔ اور بخار بھی۔
لیکن پھر اگلے لمحے وہ ایک دم سے چپ ہو بیٹھی۔ اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کھو سی گٸ۔.
وہ مجھے کہتے ہیں۔ اس بات کو نہ سوچو۔۔ کہ کسطرح لے کے آیا ہوں۔۔۔
جبکہ آج انہی کے گھر والوں نھ مجھے جتا دیا کہ ہ مجھے۔۔۔ خرید کے لاۓ ہیں۔۔۔
دو آنسو بے مول ہوتے آنکھوں سے بہہ نکلے۔













کیا خوب مزہ چکھایا ہے۔۔۔ ایک کو تو اسکی اوقات یاد دلا دی ہے۔۔۔ اب دوسری کی باری ہے۔۔ اسکو بھی بے عزتنہ کیا تو میرا نام علیشا فرہاد نہیں۔۔۔۔
دل ہی دل میں پلان بناتی وہ بہت خوش تھی۔
آنے والے وقت سے انجان۔۔ کہ اب جس سے وہ پنگا لینے کا سوچ رہی تھی۔ وہ کوٸ عام لڑکی نہیں۔۔ ابرش تھی۔













ابتسام گھر واپس لوٹا تو کافی تھکن کا شکار تھا۔ ابی جان نے اسے روم میں بلایا تھا۔ اورکل کے ریسپشن کے لیے ڈسکس کیا تھا۔ ارتسام پہلے سے وہاں موجود تھا۔
ریسپشن میلینم بینکوٸٹ میں ہونا طے پایا تھا۔ سارے انتظامات وہ حیدر اور فیضی کے حوالے کرتا سیکیورٹی کو اپنے انڈر کر چکا تھا۔ وہ کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ ہاں البتہ ایک دشمن تو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ لیمن۔۔ ایک دشمن ابی بھی رہتا تھا۔ اور ابتسام اس تک بھی جلد از جلزد پہنچنا چاہتا تھا۔
روممیں آیا تو بیڈ کے ایک طرف ابرش منہ سر لپیٹے نظر آٸ۔
سر جھٹکتا ہ باتھ لینے چلا گیا۔ واپس آتا وہ اپنی بینڈیج کو چینج کرنے کے ارادے سے بیڈ کے ایک طر بیٹھا۔ سامان سارا سامنے رکھتا وہ بینڈیج کھول رہا تھا۔
ابرش نے روتی آنکھوں سے پلٹ کے دیکھا تو جھٹ سے اٹھ بیٹھی وہ تو اپنے اندر کے راز کو چھپانے کی غرض سے سوتی بنی تھی۔
فوراًاٹھتی اسکے سر پے پہنچی۔
دیں مجھے میں کر دیتی ہوں
سر جھکاۓ وہ بولتی خود ہی اسکی بینڈیج کرنے لگی۔ اسکی آنکھوں کی سرخی ابتسام سے چھپی نہ رہ سکی۔
تم روٸ ہو۔۔۔
کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔?
ابتسام کو صبح والی بات یاد آٸ تو پوچھ بیٹھا۔
گردن نفی میں ہلاتی وہ ابتسام کو اپنے دل کے قریب محسوس ہوٸ۔
بینڈیج کر کے وہ پیچھے ہٹی۔ تو ابتسام نے اسکا ہاتھ تھاما۔
کوٸ بات پریشان کر رہی ہے۔۔۔
مجھے بتاٶ۔۔
ابرش نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔ کیسے وہ جان لیتا تھا۔۔ جس سے کبھی کوٸ عہد و پیمان نہیں ہوا کوٸ محبت کے بول نہیں بولے ۔۔۔
لیکن ایک احساس تھا دونوں کے بیچ۔۔۔ جو وہ دونوں محسوس کرتے تھے۔
ابرش چاہ کے بھی اسے اس فون کے متعلق نہ بتا پاٸ ۔۔ جس میں اسے دھمکی دی گٸ تھی۔ اسے اپنے باپ کو بچانا تھا۔
کوٸ پریشانی نہیں۔۔۔
دھیرے سے اپنا ہاتھ چھڑاتی وہ باتھ روم کی جانب بڑھی۔ جبکہ ابتسام سوچ میں پڑ گیا۔ وہ جانتا تھا۔ کہ ابرش کچھ چھپا رہی ہے۔۔۔ لیکن کیا۔۔
وہ سمجھ نہیں پایا۔
